
This revised chapter is built from the existing PunjabTest library chapter for Class 10 Urdu. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here. Exercise questions and answers are carried over from the library chapter; groups marked SLO-based in the library chapter stay marked so.
یہ نظر ثانی شدہ سبق جماعت دہم اردو کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ مشق کے سوالات و جوابات لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں، اور جن گروپوں پر لائبریری چیپٹر میں SLO-based لکھا تھا، وہ ویسے ہی نشان زد ہیں۔
میر ببر علی انیس (۱۸۰۲–۱۸۷۴) ۱۸۰۲ء میں فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ وہ مرثیہ گوئی کے امام مانے جاتے ہیں اور «خدائے سخن» کہلاتے ہیں۔
ان کے مرثیے «مراثی انیس» کے نام سے دو ضخیم جلدوں میں شائع ہوئے۔ ان کی شاعری میں تصویری جھلکیاں نمایاں ہیں، اور «نمودِ صبح» میں انھوں نے صبح کے منظر کو نہایت تصویری زبان میں پیش کیا ہے۔
Mir Babar Ali Anis (1802–1874) was born in Faizabad in 1802. He received his early education from his father and studied Arabic and Persian. He is regarded as the master of marsiya-writing and is called «Khuda-e-Sukhan» (God of Poetry).
His marsiyas were published as «Marasi-e-Anis» in two large volumes. His poetry is marked by vivid imagery, and in «Namood-e-Subh» he paints the dawn in highly pictorial language.
مرکزی خیال: نظم میں صبح کے طلوع ہونے کا منظر بیان ہوا ہے — رات کا قافلہ رخصت ہوتا ہے، ستارے آسمان کے باغ سے رخصت ہوتے ہیں، انوار کا مطلع سارے عالم کو روشن کر دیتا ہے، اور شبنم، پھول اور نسیم کے سرد جھونکے دن کی آمد کا اعلان کرتے ہیں۔
مرکبات: مزاج شب (رات کی کیفیت)، کاروان حج (حجاج کا قافلہ)، گلشن فلک (آسمان کا باغیچہ)، مطلع انوار (نور کا طلوع)، گل بہار (بہار کے پھول)۔
Central idea: The poem describes the breaking of dawn — the night's caravan departs, the stars leave the garden of the sky, the sunrise of lights (matla-e-anwar) brightens the whole world, and dew, flowers and the cool breeze of the morning announce the arrival of the day.
Compounds used: mizaaj-e-shab (the mood of night), karwan-e-haj (the caravan of pilgrims), gulshan-e-falak (the garden of the sky), matla-e-anwar (the rising of lights), gul-e-bahar (the flower of spring).
مرثیہ: کلام کا وہ حصہ جس میں کسی کی وفات پر اظہارِ غم کیا جائے، اسے مرثیہ کہتے ہیں۔ مرثیہ نظم کی ایک صنف ہے جس میں کسی کی وفات پر غم کا اظہار اور اس کے اوصاف بیان کیے جاتے ہیں — خاص طور پر شہدائے کربلا کی شہادت اور بہادری کی داستان۔
فرہنگ: نمود = ظہور؛ صبح = سویرا؛ مزاج = کیفیت؛ کاروان = قافلہ؛ گلشن = باغ؛ فلک = آسمان؛ مطلع = طلوع؛ انوار = روشنیاں؛ شبنم = اوس؛ نسیم = صبح کی ہوا۔
Marsiya: that part of poetry in which grief is expressed at someone's death — a poetic form in which sorrow at a death is expressed and the deceased's qualities are described, especially the martyrdom and bravery of the martyrs of Karbala.
Glossary: namood = appearance; subh = morning; mizaaj = mood; karwan = caravan; gulshan = garden; falak = sky; matla = rising; anwar = lights; shabnam = dew; naseem = morning breeze.
Questions and answers below are carried over from the existing PunjabTest library chapter for this lesson. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here.
نیچے دیے گئے سوالات و جوابات اس سبق کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔
جواب: خلاصہ: نظم «نمودِ صبح» میں صبح کے طلوع ہونے کا منظر بیان ہوا ہے — رات کا قافلہ رخصت ہوتا ہے، ستارے آسمان کے باغ سے رخصت ہوتے ہیں، انوار کا مطلع روشن ہوتا ہے، شبنم، پھول اور نسیم کے سرد جھونکے صبح کی آمد کا اعلان کرتے ہیں۔ شاعر نے صبح کے منظر کو نہایت تصویری اور حسین انداز میں پیش کیا ہے۔
جواب: نظم میں صبح کی تشبیہات (رات کا قافلہ، آسمان کا باغ) اور استعارات (مطلع انوار، گلشن فلک) استعمال ہوئے ہیں — صبح کو ایک حسین منظر کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس میں روشنی، شبنم اور نسیم مل کر ایک مکمل تصویر بناتے ہیں۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: مزاج شب = رات کی کیفیت؛ کاروان حج = حجاج کا قافلہ؛ گلشن فلک = آسمان کا باغیچہ؛ مطلع انوار = نور کا طلوع؛ گل بہار = بہار کے پھول۔
جواب: (i) طرہ کا چنبل شب کا روان حج۔ (ii) عالم تمام مطلع انوار ہو گیا۔ (iii) یوں گلشن فلک سے ستارے ہوئے رواں۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: میر ببر علی انیس ۱۸۰۲ء میں فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ وہ مرثیہ گوئی کے امام مانے جاتے ہیں اور «خدائے سخن» کہلاتے ہیں۔ ان کے مرثیے «مراثی انیس» کے نام سے دو ضخیم جلدوں میں شائع ہوئے۔
جواب: مرثیہ: کلام کا وہ حصہ جس میں کسی کی وفات پر اظہارِ غم کیا جائے، اسے مرثیہ کہتے ہیں۔ مرثیہ نظم کی ایک صنف ہے جس میں کسی کی وفات پر غم کا اظہار اور اس کے اوصاف بیان کیے جاتے ہیں — خاص طور پر شہدائے کربلا کی شہادت اور بہادری کی داستان۔
یہ سبق «نمودِ صبح» کا مکمل رہنما ہے۔ اس میں شاعر کا تعارف، مرکزی خیال اور منظر کشی، مرثیہ اور مشکل الفاظ شامل ہیں۔ آخر میں مشق کے تمام 8 سوالات کے جوابات ہیں۔
نظر ثانی کی رہنمائی: پہلے سبق کا خلاصہ پڑھیں، پھر مشکل الفاظ یاد کریں، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملائیں۔
This chapter is a complete guide to Namood-e-Subh by Mir Babar Ali Anis. It covers Poet Introduction, Central Idea & Imagery, Marsiya & Difficult Words, and ends with all 8 exercise questions answered.
Revision guidance: read the summary first, learn the difficult words, then try the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 10 Urdu, Chapter 14 (Namood-e-Subh) (Session 2026–27) • English + Urdu