
This revised chapter is built from the existing PunjabTest library chapter for Class 10 Urdu. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here. Exercise questions and answers are carried over from the library chapter; groups marked SLO-based in the library chapter stay marked so.
یہ نظر ثانی شدہ سبق جماعت دہم اردو کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ مشق کے سوالات و جوابات لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں، اور جن گروپوں پر لائبریری چیپٹر میں SLO-based لکھا تھا، وہ ویسے ہی نشان زد ہیں۔
علامہ محمد اقبال (۱۸۷۷–۱۹۳۸) ہمارے قومی اور عظیم شاعر و مفکر تھے۔ وہ ۹ نومبر ۱۸۷۷ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ سے حاصل کی، گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ایم اے کیا، اور اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ گئے جہاں سے بار ایٹ لا اور فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔
وطن واپسی پر وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ ۱۹۳۰ء میں خطبہ الہ آباد میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ مملکت کا نظریہ پیش کیا۔ ۱۹۳۸ء میں انتقال ہوا اور لاہور میں بادشاہی مسجد کے قریب دفن ہوئے۔
Allama Muhammad Iqbal (1877–1938), our national poet and thinker, was born on 9 November 1877 in Sialkot. His father's name was Sheikh Noor Muhammad. He did his MA in philosophy from Government College, Lahore, and went to Europe for higher education, where he earned a Bar-at-Law and a doctorate in philosophy.
On his return he practiced law. In 1930, in the Allahabad Address, he presented the idea of a separate state for the Muslims. He died in 1938 and is buried near the Badshahi Mosque, Lahore.
مرکزی خیال: اقبال اسلام کے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہیں: اے نوجوان مسلم! کبھی سوچا بھی ہے کہ تو کس گردوں کا ٹوٹا ہوا تارا ہے؟ تجھے اس قوم نے آغوشِ محبت میں پالا ہے جس نے پاؤں میں تاج سر دارا کچل ڈالا تھا۔ تمدن کی خالق، جہاں داری کا آئین بنانے والی وہ قوم صحرائے عرب کے شتربان تھے۔ پیغام یہ ہے کہ نوجوان اپنی عظیم تاریخ کو پہچانیں، خودی کو بیدار کریں، اور پھر سے عظمت کی طرف لوٹیں۔
مشہور اشعار: «کبھی اے نوجوان مسلم! تدبر بھی کیا تو نے / وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا» اور «تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں / کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا»۔
Central idea: Iqbal addresses the Muslim youth: have you ever reflected on what sky you are a broken star of? You were brought up in the loving lap of the nation that crushed the crowns of kings under its feet. The Arabs of the desert, the camel-drivers, created civilisation and the law of world-governance. The message is: recognise your glorious history, awaken your selfhood (khudi), and return to greatness.
Famous verses: «کبھی آئے نوجوان Muslim! تدبر بھی کیا تو نے / وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا tara» and «تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں / کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سر دارا».
استعارہ: جب لفظ اپنے حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال ہو اور حقیقی و مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق ہو، تو اسے استعارہ کہتے ہیں۔ مثال: «موتی» کا لفظ کسی قیمتی چیز کے لیے استعارے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
فرہنگ: خطاب = تقریر؛ جوانان = نوجوان؛ تدبر = غور و فکر؛ گردوں = آسمان؛ تارا = ستارہ؛ آغوش = گود؛ تاج سر دارا = بادشاہوں کا تاج؛ گہوارا = جھولا؛ تدبیر = حکمت عملی؛ منعم = احسان کرنے والا؛ خلاق = پیدا کرنے والا؛ میراث = ورثہ۔
Ista'ara (metaphor): when a word is used in a figurative sense instead of its literal sense, and there is a relation of simile between the literal and figurative meanings, it is called ista'ara. Example: the word «moti» (pearl) used for something precious.
Glossary: khitab = address; jawanan = youth; tadabbur = reflection; gardoon = sky; tara = star; aaghosh = lap; taj-e-sar daara = the crown of kings; gahwara = cradle; tadbeer = strategy; muneem = benefactor; khallaq = creator; miraas = heritage.
Questions and answers below are carried over from the existing PunjabTest library chapter for this lesson. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here.
نیچے دیے گئے سوالات و جوابات اس سبق کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔
جواب: خلاصہ: نظم «خطاب بہ جوانانِ اسلام» میں اقبال اسلام کے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: اے نوجوان مسلم! کبھی سوچا بھی ہے کہ تو کس گردوں کا ٹوٹا ہوا تارا ہے؟ تجھے اس قوم نے آغوشِ محبت میں پالا ہے جس نے پاؤں میں تاج سر دارا کچل ڈالا تھا۔ تمدن کی خالق، جہاں داری کا آئین بنانے والی وہ قوم صحرائے عرب کے شتربان تھے۔ پیغام یہ ہے کہ نوجوان اپنی عظیم تاریخ کو پہچانیں، خودی کو بیدار کریں، اور پھر سے عظمت کی طرف لوٹیں۔
جواب: «کبھی اے نوجوان مسلم! تدبر بھی کیا تو نے / وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا» — تشریح: اقبال نوجوان سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ تم کس عظیم آسمان کا ٹوٹا ہوا تارا ہو؟ یعنی تمہاری اصل ایک عظیم قوم اور روشن تاریخ ہے، تم خود کو معمولی نہ سمجھو۔
جواب: «تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں / کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا» — تشریح: تمہیں اس قوم نے محبت کی گود میں پالا ہے جس نے بڑے بڑے بادشاہوں کے تاج اپنے پاؤں تلے کچل دیے تھے — یعنی تمہاری قوم کی تاریخ بہادری اور عظمت سے بھری ہے۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: تدبیر = حکمت عملی (مثال: اس نے تدبیر سے کام لیا)؛ آغوش = گود (مثال: ماں نے بچے کو آغوش میں لے لیا)؛ گہوارا = جھولا (مثال: بچہ گہوارے میں سویا)۔
جواب: مُنعِم، خَلّاق، ثُرَیّا، مِیراث — اعراب سے الفاظ کا درست تلفظ واضح ہوتا ہے۔
جواب: علامہ محمد اقبال ۹ نومبر ۱۸۷۷ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ایم اے کیا، یورپ سے بار ایٹ لا اور فلسفے میں ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ ۱۹۳۰ء میں خطبہ الہ آباد میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ مملکت کا نظریہ پیش کیا۔ ۱۹۳۸ء میں انتقال ہوا۔
جواب: اردو شاعری کے مجموعے: «بانگِ درا»، «بالِ جبریل»، «ضربِ کلیم»۔ فارسی کے مجموعے: «اسرارِ خودی»، «رموزِ بے خودی»، «پیامِ مشرق»، «زبورِ عجم»، «جاوید نامہ»، «پس چہ باید کرد»، «ارمغانِ حجاز»۔
جواب: استعارہ: جب لفظ اپنے حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال ہو اور حقیقی و مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق ہو، تو اسے استعارہ کہتے ہیں۔ مثال: «موتی» کا لفظ کسی قیمتی چیز کے لیے استعارے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
یہ سبق «خطاب بہ جوانانِ اسلام» کا مکمل رہنما ہے۔ اس میں شاعر کا تعارف، مرکزی خیال اور اشعار، استعارہ اور مشکل الفاظ شامل ہیں۔ آخر میں مشق کے تمام 9 سوالات کے جوابات ہیں۔
نظر ثانی کی رہنمائی: پہلے سبق کا خلاصہ پڑھیں، پھر مشکل الفاظ یاد کریں، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملائیں۔
This chapter is a complete guide to Khitab ba Jawanan-e-Islam by Allama Muhammad Iqbal. It covers Poet Introduction, Central Idea & Verses, Ista'ara & Difficult Words, and ends with all 9 exercise questions answered.
Revision guidance: read the summary first, learn the difficult words, then try the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 10 Urdu, Chapter 15 (Khitab ba Jawanan-e-Islam) (Session 2026–27) • English + Urdu