
This revised chapter is built from the existing PunjabTest library chapter for Class 10 Urdu. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here. Exercise questions and answers are carried over from the library chapter; groups marked SLO-based in the library chapter stay marked so.
یہ نظر ثانی شدہ سبق جماعت دہم اردو کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ مشق کے سوالات و جوابات لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں، اور جن گروپوں پر لائبریری چیپٹر میں SLO-based لکھا تھا، وہ ویسے ہی نشان زد ہیں۔
زہرہ نگاہ اردو ادب کی ایک ممتاز شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔ ان کی شاعری میں انفرادیت، نسوانی لب و لہجہ اور زبان و بیان کی لطافت کی جھلک موجود ہے۔ وہ ۱۹۳۷ء کو حیدر آباد دکن (انڈیا) میں پیدا ہوئیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ کراچی منتقل ہو گئیں۔
زہرہ نگاہ کا تعلق ایک علمی و ادبی خاندان سے ہے۔ وہ بنیادی طور پر غزل کی شاعرہ ہیں، مگر ان کی نظمیں بھی ہیں۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی ان کا سادہ و دل نشیں اسلوب ہے۔
Zehra Nigah (born 1937) is an eminent poetess and writer of Urdu literature. Her poetry shows individuality, a feminine tone, and delicacy of language and expression. She was born in 1937 in Hyderabad Deccan (India) and, after the creation of Pakistan, moved to Karachi with her family.
She belongs to a scholarly and literary family. She is primarily a ghazal poet, though she has also written nazms. Her poetry's greatest quality is its simple and charming style.
مرکزی خیال: غزل «یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے» میں زہرہ نگاہ نے اظہار کی کثرت اور اس کی حقیقت پر غور کیا ہے — کہنے کو اظہار کے بہت سے انداز ہیں، لیکن سچا اظہار وہی ہے جو دل سے نکلے۔ غزل میں آئینہ، عدل اور انصاف کے استعاروں کے ذریعے انسانی حالت اور معاشرے کی بے چینی کو بیان کیا گیا ہے۔
مشہور اشعار: «خود آئینہ گر آئینہ چھوڑے تو نظر آئے» اور «منصف کے لیے اذنِ ساعات پہ پہرے / اور عدل کی زنجیر میں جھنجھلاہٹ بہت ہے»۔
Central idea: In «Yun kehne ko piraye izhar bahut hai» Zehra Nigah reflects on the abundance of expression and its reality — there are many ways of expression, but true expression is what comes from the heart. Through metaphors of the mirror, justice and fairness, the ghazal describes the human condition and society's restlessness.
Famous verses: «خود آئینہ-گر آئینہ چھوڑے تو نظر آئے» and «منصف کے لیے اذنِ سا'at پر پہرے / اور عدل کی زنجیر میں جھنجھلاہٹ بہت ہے».
تصانیف: ان کے شعری مجموعوں میں «شام کا پہلا تارا»، «ورق» اور «فراق» شامل ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے صلے میں انھیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔
فرہنگ: پیرایۂ اظہار = اظہار کا انداز؛ وسعتِ صحرا = صحرا کی وسعت؛ حسنِ تخیل = تخیل کی خوب صورتی؛ آئینہ گر = آئینہ بنانے والا؛ منصف = انصاف کرنے والا؛ اذنِ ساعات = اوقات کی اجازت؛ عدل = انصاف؛ زنجیر = کڑی؛ جھنجھلاہٹ = بے چینی۔
Works: Her poetry collections include «Shaam ka Pehla Tara», «Waraq» and «Firaq». She has received the Presidential Medal for Performance from the Government of Pakistan for her literary services.
Glossary: piraye izhar = manner of expression; wus'at-e-sahra = expanse of the desert; husn-e-takhayyul = beauty of imagination; aaina-gar = mirror-maker; munsif = judge; izn-e-sa'at = permission of hours; adl = justice; zanjeer = chain; jhunjhlahat = restlessness.
Questions and answers below are carried over from the existing PunjabTest library chapter for this lesson. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here.
نیچے دیے گئے سوالات و جوابات اس سبق کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔
جواب: خلاصہ: غزل «یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے» میں زہرہ نگاہ نے اظہار کی کثرت اور اس کی حقیقت پر غور کیا ہے — کہنے کو اظہار کے بہت سے انداز ہیں، لیکن سچا اظہار وہی ہے جو دل سے نکلے۔ غزل میں آئینہ، عدل اور انصاف کے استعاروں کے ذریعے انسانی حالت اور معاشرے کی بے چینی کو بیان کیا گیا ہے۔
جواب: «خود آئینہ گر آئینہ چھوڑے تو نظر آئے» — تشریح: جب آئینہ بنانے والا خود آئینہ چھوڑ دے تو اس کی حقیقت نظر آتی ہے — یعنی اپنی ذات کی نفی اور خود فراموشی سے ہی سچائی سامنے آتی ہے۔
جواب: «منصف کے لیے اذنِ ساعات پہ پہرے / اور عدل کی زنجیر میں جھنجھلاہٹ بہت ہے» — تشریح: انصاف کرنے والے کے لیے اجازت کے اوقات پر پہرے ہیں، اور عدل کی زنجیر میں جھنجھلاہٹ بہت ہے — یعنی انصاف کے راستے میں رکاوٹیں اور بے چینی ہے؛ شاعرہ عدل کی ناپائیداری اور انصاف کی راہ میں حائل مشکلات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: پیرایۂ اظہار = اظہار کا انداز؛ وسعتِ صحرا = صحرا کی وسعت؛ حسنِ تخیل = تخیل کی خوب صورتی؛ آئینہ گر = آئینہ بنانے والا۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: ردیف: «بہت ہے»۔ مطلع: غزل کا پہلا شعر (عنوان والا شعر «یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے») مطلع ہے، جس کے دونوں مصرعے «بہت ہے» پر ختم ہوتے ہیں۔
جواب: زہرہ نگاہ اردو ادب کی ایک ممتاز شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔ ان کی شاعری میں انفرادیت، نسوانی لب و لہجہ اور زبان و بیان کی لطافت کی جھلک موجود ہے۔ وہ ۱۹۳۷ء کو حیدر آباد دکن (انڈیا) میں پیدا ہوئیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ کراچی منتقل ہو گئیں۔
جواب: ان کے شعری مجموعوں میں «شام کا پہلا تارا»، «ورق» اور «فراق» شامل ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے صلے میں انھیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔
جواب: وہ بنیادی طور پر غزل کی شاعرہ ہیں، مگر ان کی نظمیں بھی ہیں۔ ان کی شاعری میں نسوانی لب و لہجہ، مشرقی روایات اور معاشرتی شعور کی جھلک ملتی ہے، اور ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی ان کا سادہ و دل نشیں اسلوب ہے۔
یہ سبق «یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے» کا مکمل رہنما ہے۔ اس میں شاعرہ کا تعارف، مرکزی خیال اور اشعار، تصانیف اور مشکل الفاظ شامل ہیں۔ آخر میں مشق کے تمام 12 سوالات کے جوابات ہیں۔
نظر ثانی کی رہنمائی: پہلے سبق کا خلاصہ پڑھیں، پھر مشکل الفاظ یاد کریں، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملائیں۔
This chapter is a complete guide to Yun Kehne ko Piraye Izhar Bahut Hai by Zehra Nigah. It covers Poet Introduction, Central Idea & Verses, Works & Difficult Words, and ends with all 12 exercise questions answered.
Revision guidance: read the summary first, learn the difficult words, then try the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 10 Urdu, Chapter 20 (Yun Kehne کو پیرائے اظہار بہت ہے) (Session 2026–27) • English + Urdu