
This revised chapter is built from the existing PunjabTest library chapter for Class 10 Urdu. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here. Exercise questions and answers are carried over from the library chapter; groups marked SLO-based in the library chapter stay marked so.
یہ نظر ثانی شدہ سبق جماعت دہم اردو کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ مشق کے سوالات و جوابات لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں، اور جن گروپوں پر لائبریری چیپٹر میں SLO-based لکھا تھا، وہ ویسے ہی نشان زد ہیں۔
اشفاق احمد (۱۹۲۵–۲۰۰۴) ۱۹۲۵ء میں مکتسر (ضلع فیروز پور، ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۴۷ء میں پاکستان آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے اردو میں ایم اے کیا۔ وہ ریڈیو پاکستان اور تدریس سے وابستہ رہے۔
ان کی مشہور تصانیف میں «زاویہ»، «گڈریا»، «تو تا کہانی» اور «ایک محبت سو افسانے» شامل ہیں۔ ۱۹۷۹ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا گیا۔ ان کا اسلوب نہایت سادہ، پر اثر اور دل میں اتر جانے والا ہے — وہ عام فہم زبان میں صوفیانہ اور اخلاقی نکات بیان کرتے ہیں، اور ان کے جملے مختصر مگر معنی خیز ہوتے ہیں۔
Ashfaq Ahmed (1925–2004) was born in 1925 in Muktsar (Ferozepur, India). He migrated to Pakistan in 1947 and did his MA in Urdu from Government College, Lahore. He served in Radio Pakistan and as a teacher.
His famous works include «Zaviya», «Gadaria», «Tota Kahani» and «Aik Mohabbat Sau Afsanay». In 1979 the Government of Pakistan awarded him the Presidential Medal for Performance. His style is simple, effective and touching — he explains Sufi and moral points in everyday language, in short but meaningful sentences.
خلاصہ: «محسن محلہ» ایک محلے اور اس کے سیدھے سادھے رہائشی امر صاحب کی کہانی ہے۔ امر صاحب زمانے کے ڈھنگ سے ناواقف ہیں، سچے ہیں، شیخی نہیں مارتے، اور ان کی شکل دیکھ کر لوگوں کے دل میں ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ محلے کے لوگ ان کی خبر گیری کرتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں، اور امر صاحب بھی اپنے انداز میں سب کے کام آتے ہیں۔
افسانے کا پیغام یہ ہے کہ جب محلے کے لوگ بے لوث ایک دوسرے کا خیال رکھیں تو پورا محلہ ایک «محسن» بن جاتا ہے۔
Summary: «Mohsin Mohalla» is the story of a neighbourhood and its simple-hearted resident, Amar Sahib. Amar Sahib does not know the ways of the world; he is truthful, never boasts, and his very appearance fills people with sympathy. The people of the mohalla look after him, help him, and share his troubles — and he, in his own way, is there for everyone.
The story's message is that a mohalla becomes a «mohsin» (benefactor) when its people care for one another without selfishness.
امر صاحب: سیدھے سادھے، سچے، زمانے کے ڈھنگ سے ناواقف، شیخی سے پاک — ایک ایسے انسان جن کی سادگی خود ہمدردی اور مدد کو کھینچ لاتی ہے۔
فرہنگ: کوٹھڑی = چھوٹا کمرہ؛ جذبہ = احساس، ولولہ؛ کیفیت = حالت؛ دلبر = محبوب؛ گزر بسر کرنا = زندگی گزارنا؛ مبالغہ = بڑھا چڑھا کر بیان کرنا؛ سادہ لوح = بھولا بھالا۔
Amar Sahib: simple, truthful, unworldly, without boast — a man whose simplicity itself draws sympathy and help.
Glossary: kothri = a small room; jazba = feeling, passion; kaifiyat = condition; dilbar = beloved; guzar basar karna = to make a living; mubalgha = exaggeration; saada loh = simple-hearted.
Questions and answers below are carried over from the existing PunjabTest library chapter for this lesson. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here. Of the 2 choice-form questions, 0 have a marked correct answer; 2 are left unmarked because the library chapter does not state their answers clearly — solve those yourself and check with your teacher.
نیچے دیے گئے سوالات و جوابات اس سبق کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ choice سوالات میں سے جن کے درست جوابات لائبریری چیپٹر میں واضح نہیں، ان پر ✓ نہیں لگایا گیا — انھیں خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: خلاصہ: افسانے میں ایک محلے کی کہانی ہے، جہاں سیدھے سادھے امر صاحب رہتے ہیں۔ امر صاحب زمانے کے ڈھنگ سے ناواقف، سچے اور شیخی سے پاک انسان ہیں۔ محلے کے لوگ ان کی خبر گیری کرتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں، اور امر صاحب بھی سب کے کام آتے ہیں۔ یوں پورا محلہ ایک دوسرے کا محسن بن جاتا ہے — اسی لیے افسانے کا نام «محسن محلہ» ہے۔
جواب: مرکزی خیال: انسانیت، ہمدردی اور ایک دوسرے کی بے لوث مدد ہی اصل محسن ہونا ہے۔ محلے کی اجتماعی محبت اور خبر گیری سے ایک عام سا محلہ بھی «محسن محلہ» بن جاتا ہے۔
جواب: افسانے کا عنوان اس لیے «محسن محلہ» ہے کہ اس محلے کے لوگ ایک دوسرے کے محسن ہیں — ہر شخص دوسرے کی مدد کرتا ہے، اور محلہ خود ایک محسن کی طرح سب کی خبر گیری کرتا ہے۔
جواب: امر صاحب سیدھے سادھے تھے اور ان کو زمانے کے ساتھ چلنے کا ڈھنگ نہیں آتا تھا۔ وہ سچے تھے، جھوٹ نہیں بولتے تھے، شیخی نہیں مارتے تھے، اور ان کی شکل دیکھ کر لوگوں کے دل میں ہمدردی پیدا ہوتی تھی۔ یہی سادگی اور سچائی ان کی شخصیت کی پہچان تھی۔
جواب: کوٹھڑی = چھوٹا کمرہ؛ جذبہ = احساس، ولولہ؛ تگی و ترشی = تنگی اور کڑواہٹ؛ کیفیت = حالت؛ آب خوردہ = پانی پینے کا چھوٹا برتن۔
جواب: دلبر = دل کو لبھانے والا، محبوب؛ گزر بسر کرنا = زندگی گزارنا؛ مبالغہ سے کام لینا = بڑھا چڑھا کر بیان کرنا؛ سادہ لوح = بھولا بھالا۔ مثال: «وہ سادہ لوح انسان تھا، اس لیے سب اس کی بات مان لیتے تھے۔»
جواب: اُبالا، اَلسَّلامُ عَلَیکُم، مَرِنجاں مَرِنج، توشَک، عَرق، راز، اَحمَق — اعراب سے الفاظ کا درست تلفظ واضح ہوتا ہے۔
i. امر صاحب نے وعدہ و عید کس سے کیا تھا؟
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
ii. امر صاحب اپنی رضائی اوڑھ کر چارپائی پر کتنے دن بیٹھے رہے؟
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: اشفاق احمد ۱۹۲۵ء میں پیدا ہوئے، ۱۹۴۷ء میں پاکستان آئے، اور ۱۹۷۹ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی حاصل کیا۔ ان کی مشہور کتب میں «زاویہ»، «گڈریا»، «تو تا کہانی» اور «ایک محبت سو افسانے» شامل ہیں۔
جواب: اشفاق احمد کا اسلوب نہایت سادہ، پر اثر اور دل میں اتر جانے والا ہے۔ وہ عام فہم زبان میں صوفیانہ اور اخلاقی نکات بیان کرتے ہیں، اور ان کے جملے مختصر مگر معنی خیز ہوتے ہیں۔
یہ سبق «محسن محلہ» کا مکمل رہنما ہے۔ اس میں مصنف کا تعارف، افسانے کا خلاصہ، کردار اور مشکل الفاظ شامل ہیں۔ آخر میں مشق کے تمام 12 سوالات کے جوابات ہیں۔ choice سوالات میں سے 2 پر ✓ نہیں لگایا گیا کیونکہ لائبریری چیپٹر میں ان کے جوابات واضح نہیں۔
نظر ثانی کی رہنمائی: پہلے سبق کا خلاصہ پڑھیں، پھر مشکل الفاظ یاد کریں، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملائیں۔
This chapter is a complete guide to Mohsin Mohalla by Ashfaq Ahmed. It covers Author Introduction, Summary of the Story, Character & Difficult Words, and ends with all 12 exercise questions answered. 2 choice questions are left unmarked because the library chapter does not state their answers.
Revision guidance: read the summary first, learn the difficult words, then try the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 10 Urdu, Chapter 5 (Mohsin Mohalla) (Session 2026–27) • English + Urdu