
This revised chapter is built from the existing PunjabTest library chapter for Class 10 Urdu. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here. Exercise questions and answers are carried over from the library chapter; groups marked SLO-based in the library chapter stay marked so.
یہ نظر ثانی شدہ سبق جماعت دہم اردو کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ مشق کے سوالات و جوابات لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں، اور جن گروپوں پر لائبریری چیپٹر میں SLO-based لکھا تھا، وہ ویسے ہی نشان زد ہیں۔
پطرس بخاری (۱۸۹۸–۱۹۵۸) اردو ادب کے ممتاز مزاح نگار، ادیب، مترجم اور ریڈیو پاکستان کے نامور براڈ کاسٹر تھے۔ ان کا اصل نام سید احمد شاہ تھا، لیکن «پطرس بخاری» کے قلمی نام سے مشہور ہوئے۔ وہ ۱۸۹۸ء میں پشاور میں پیدا ہوئے، گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا، اور اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے۔
لاہور میں انگریزی ادب کے پروفیسر رہے۔ ۵ دسمبر ۱۹۵۸ء کو نیویارک، امریکہ میں انتقال ہوا، جہاں وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کے مضامین کا مجموعہ «پطرس کے مضامین» اردو مزاح نگاری کا شاہکار ہے۔
Patras Bukhari (1898–1958), whose real name was Syed Ahmed Shah, was a distinguished humorist, writer, translator and broadcaster of Radio Pakistan. He was born in Peshawar in 1898, did his masters in English literature from Government College, Lahore, and studied further in England.
He taught English literature in Lahore. On 5 December 1958 he died in New York, where he was serving as Pakistan's permanent representative to the United Nations. His collection «Patras ke Mazameen» is a masterpiece of Urdu humour.
خلاصہ: یہ پطرس بخاری کا مشہور مزاحیہ مضمون ہے۔ ایک صبح سویرے آنکھ کھلنے پر مصنف صبح کی خوبصورتی، پرندوں کی آوازوں، گھر کے معمولات اور صبح کی تازگی کا مزاحیہ اور شگفتہ مشاہدہ پیش کرتے ہیں۔ ان کا انداز طنزیہ اور دلچسپ ہے — روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا۔
مضمون کا پیغام یہ ہے کہ صبح کی تازگی اور فطرت کا حسن انسان کو نئی زندگی بخشتا ہے۔
Summary: This is Patras Bukhari's famous humorous essay. One morning, when his eyes open early, the writer presents a witty and delightful observation of the morning's beauty, the voices of birds, the household routines and the freshness of dawn. His style is satirical and charming — he describes small everyday things in a way that makes the reader smile.
The message is that the freshness of morning and the beauty of nature give a person new life.
اسلوب: پطرس کی تحریروں میں ظرافت اور لطافت پائی جاتی ہے۔ وہ روزمرہ زندگی کے معمولات کو نہایت دلچسپ اور طنزیہ انداز میں پیش کرتے ہیں، اور ان کی تحریروں میں انگریزی ادب کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔
فرہنگ: ناکارہ انسان = بیکار آدمی؛ ہوش گم ہونا = حیرت سے بے ہوش ہو جانا؛ جادو بیانی = سحر انگیز بیان؛ کم خواب = کم سونے والا؛ سعادت آشنا = خوش نصیبی سے واقف؛ ہم خرم و شاداب = ہم خوش و تروتازہ۔
Style: Patras's writing is full of wit (zarafat) and delicacy (latafat). He presents everyday routines in a highly interesting and satirical manner, and the influence of English literature is visible in his essays.
Glossary: nakara insan = a useless person; hosh gum hona = to lose one's senses in amazement; jadoo bayani = magical narration; kam khwab = one who sleeps little; sa'adat aashna = acquainted with good fortune; hum khurram-o-shadab = we, happy and fresh.
Questions and answers below are carried over from the existing PunjabTest library chapter for this lesson. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here. Of the 7 choice-form questions, 1 have a marked correct answer; 6 are left unmarked because the library chapter does not state their answers clearly — solve those yourself and check with your teacher.
نیچے دیے گئے سوالات و جوابات اس سبق کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ choice سوالات میں سے جن کے درست جوابات لائبریری چیپٹر میں واضح نہیں، ان پر ✓ نہیں لگایا گیا — انھیں خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
i. «گیا» کے بارے میں درست اصطلاح کون سی ہے؟
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
ii. صراحی پر لٹکاں بجنے کا انداز کس سے ملتا ہے؟
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
iii. «اس کا اندازہ اہل ذوق ہی لگا سکتے ہیں» — اس جملے میں «اہل ذوق» سے کیا مراد ہے؟
جواب: (ج) ذوق رکھنے والے
iv. بزرگوں کے نزدیک صبح کی کیا اہمیت ہے؟
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
v. تین بجے کا کہنا کوئی کیا ہے؟
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
vi. کسی چیز کی تعداد کم تھی:
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
vii. بعد کے واقعات ہیں ذرا:
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: خلاصہ: یہ پطرس بخاری کا مشہور مزاحیہ مضمون ہے۔ ایک صبح سویرے آنکھ کھلنے پر مصنف صبح کی خوبصورتی، پرندوں کی آوازوں، گھر کے معمولات اور صبح کی تازگی کا مزاحیہ اور شگفتہ مشاہدہ پیش کرتے ہیں۔ ان کا انداز طنزیہ اور دلچسپ ہے — روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مضمون کا پیغام یہ ہے کہ صبح کی تازگی اور فطرت کا حسن انسان کو نئی زندگی بخشتا ہے۔
جواب: ہم خرم و شاداب = ہم خوش و تروتازہ؛ ناکارہ انسان = بیکار آدمی؛ ہوش گم ہونا = حیرت سے بے ہوش ہو جانا؛ جادو بیانی = سحر انگیز بیان؛ کم خواب = کم سونے والا؛ سعادت آشنا = خوش نصیبی سے واقف۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: مشاہیر سے مراد مشہور اور نامور شخصیات ہیں۔
جواب: علامہ اقبال عظیم شاعر اور مفکر تھے — «شاعرِ مشرق» کہلاتے ہیں، اور ان کی شاعری نے مسلمانوں میں بیداری اور خودی کا جذبہ پیدا کیا۔
جواب: خوشحال خان خٹک کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے — وہ پشتو کے مشہور شاعر اور بہادر سردار تھے۔
جواب: مشاہیر کی زندگیوں سے ہمیں محنت، علم، خدمت اور حب الوطنی کا سبق ملتا ہے۔
جواب: علامہ اقبال، شاہ عبداللطیف بھٹائی، غنی خان، خوشحال خان خٹک، فیض احمد فیض۔
جواب: پطرس بخاری کا اصل نام سید احمد شاہ تھا۔ وہ ۱۸۹۸ء میں پشاور میں پیدا ہوئے، گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا، اور اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے۔ ۵ دسمبر ۱۹۵۸ء کو نیویارک میں انتقال ہوا، جہاں وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب تھے۔
جواب: پطرس کے مضامین کا مجموعہ «پطرس کے مضامین» اردو مزاح نگاری کا شاہکار ہے۔ ان کی تحریروں میں ظرافت اور لطافت پائی جاتی ہے، اور وہ روزمرہ زندگی کے معمولات کو نہایت دلچسپ اور طنزیہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔
یہ سبق «سویرے جو کل آنکھ میری کھلی» کا مکمل رہنما ہے۔ اس میں مصنف کا تعارف، مضمون کا خلاصہ، اسلوب اور مشکل الفاظ شامل ہیں۔ آخر میں مشق کے تمام 19 سوالات کے جوابات ہیں۔ choice سوالات میں سے 6 پر ✓ نہیں لگایا گیا کیونکہ لائبریری چیپٹر میں ان کے جوابات واضح نہیں۔
نظر ثانی کی رہنمائی: پہلے سبق کا خلاصہ پڑھیں، پھر مشکل الفاظ یاد کریں، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملائیں۔
This chapter is a complete guide to Savere jo kal Aankh Meri Khuli by Patras Bukhari. It covers Author Introduction, Summary of the Essay, Style & Difficult Words, and ends with all 19 exercise questions answered. 6 choice questions are left unmarked because the library chapter does not state their answers.
Revision guidance: read the summary first, learn the difficult words, then try the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 10 Urdu, Chapter 7 (Savere jo kal Aankh Meri Khuli) (Session 2026–27) • English + Urdu