
This revised chapter is built from the existing PunjabTest library chapter for Class 10 Urdu. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here. Exercise questions and answers are carried over from the library chapter; groups marked SLO-based in the library chapter stay marked so.
یہ نظر ثانی شدہ سبق جماعت دہم اردو کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ مشق کے سوالات و جوابات لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں، اور جن گروپوں پر لائبریری چیپٹر میں SLO-based لکھا تھا، وہ ویسے ہی نشان زد ہیں۔
سید غلام مصطفیٰ نقوی (۱۹۲۲–۲۰۰۲) ۱۹۲۲ء میں مقبوضہ کشمیر کے ایک گاؤں «چکری» میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید امیر شاہ تھے۔ وہ تدریس سے وابستہ رہے اور ۱۹۸۴ء میں لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔
ان کا پہلا افسانہ «سانولی سوار» تھا۔ ان کے مشہور ناولوں میں «بھکری راج»، «کمدار» اور «شیر زمان» شامل ہیں، اور افسانوی مجموعوں میں «ایک طرف تماشا ہے» اور «سرگوشی» شامل ہیں۔
Syed Ghulam Mustafa Naqvi (1922–2002) was born in 1922 in the village of Chakri in occupied Kashmir. His father was Syed Amir Shah. He remained associated with teaching and retired in 1984 in Lahore as an Assistant Professor.
His first short story was «Sanoli Sawar». His famous novels include «Bhikri Raj», «Kamdar» and «Shair Zaman», and his story collections include «Aik Taraf Tamasha Hai» and «Sargoshi».
خلاصہ: «میرا گاؤں» ایک گاؤں کی کہانی ہے جس کی پر سکون زندگی پاک بھارت جنگ ۱۹۶۵ء سے متاثر ہوتی ہے۔ جنگ کی خبریں، فوجوں کی نقل و حرکت، اور روزمرہ کی مشکلات گاؤں والوں کو پریشان کر دیتی ہیں۔ معاہدہ تاشقند (۱۹۶۶ء) کے بعد جنگ بندی ہوتی ہے، لیکن گاؤں والے امن کی خواہش دل میں لیے رہتے ہیں۔
سبق کا پیغام، ساحر لدھیانوی کے اشعار کی روشنی میں، یہ ہے کہ جنگ خود ایک مسئلہ ہے — وہ مسئلوں کا حل نہیں دے سکتی؛ آج وہ آگ اور خون دیتی ہے اور کل بھوک اور افلاس دیتی ہے۔
Summary: «Mera Gaon» is the story of a village whose peaceful life is shaken by the Pak-India war of 1965. News of the war, movement of troops and everyday hardships worry the villagers. After the Tashkent Agreement (1966) a ceasefire comes, but the villagers keep longing for peace.
The lesson's message, in Sahir Ludhianvi's words quoted in the exercise, is that war is itself a problem — it cannot solve problems; today it gives fire and blood, and tomorrow it gives hunger and poverty.
معاہدہ تاشقند (جنوری ۱۹۶۶ء): پاکستان اور بھارت کے درمیان، سوویت یونین کی ثالثی میں طے پایا، جس سے ۱۹۶۵ء کی جنگ کا خاتمہ ہوا۔ اس سے امید پیدا ہوئی تھی کہ بات چیت سے کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا، مگر مسئلہ برقرار رہا۔
فرہنگ: گاؤں = دیہات؛ جنگ = لڑائی؛ جنگ بندی = لڑائی روکنا؛ معاہدہ = سمجھوتہ؛ عذاب = سزا؛ آزمائش = امتحان؛ امن = سکون؛ افلاس = غربت۔
Tashkent Agreement (January 1966): between Pakistan and India, mediated by the Soviet Union, ending the 1965 war. It raised hopes that the Kashmir issue would be solved through talks, but the issue remained unresolved.
Glossary: gaon = village; jang = war; jang bandi = ceasefire; mu'ahida = agreement; azaab = punishment; aazma'ish = trial; aman = peace; iflaas = poverty.
Questions and answers below are carried over from the existing PunjabTest library chapter for this lesson. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here. Of the 3 choice-form questions, 0 have a marked correct answer; 3 are left unmarked because the library chapter does not state their answers clearly — solve those yourself and check with your teacher.
نیچے دیے گئے سوالات و جوابات اس سبق کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ choice سوالات میں سے جن کے درست جوابات لائبریری چیپٹر میں واضح نہیں، ان پر ✓ نہیں لگایا گیا — انھیں خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: معاہدہ تاشقند جنوری ۱۹۶۶ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوا، اور سوویت یونین نے اس معاہدے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا — معاہدہ تاشقند (ازبکستان) میں طے پایا تھا۔
جواب: جی ہاں، معاہدے کے بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ بات چیت سے کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا، مگر عملاً یہ امید پوری نہ ہو سکی اور مسئلہ برقرار رہا۔
جواب: جنگ بندی کے باوجود کشمیر میں بے چینی اور مشکلات برقرار رہیں، اور سرحدی گاؤں کی زندگی متاثر رہی۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: عذاب اللہ کی طرف سے سزا ہے، جبکہ آزمائش امتحان ہے۔ سبق کے حوالے سے: گاؤں والوں کی مشکلات آزمائش تھیں، جن میں صبر اور حوصلہ درکار تھا۔
i. مصنف کے گاؤں کے لوگوں کا تعلق کس علاقے سے تھا؟
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
ii. چوہدری کا بیٹا کیا تھا؟
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
iii. درختوں کے تنے کیسے نظر آ رہے تھے؟
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: خلاصہ: «میرا گاؤں» ایک گاؤں کی کہانی ہے جس کی پر سکون زندگی پاک بھارت جنگ ۱۹۶۵ء سے متاثر ہوتی ہے۔ جنگ کی خبریں، فوجوں کی نقل و حرکت، اور روزمرہ کی مشکلات گاؤں والوں کو پریشان کر دیتی ہیں۔ معاہدہ تاشقند کے بعد جنگ بندی ہوتی ہے، لیکن گاؤں والے امن کی خواہش دل میں لیے رہتے ہیں۔ کہانی کا پیغام یہ ہے کہ جنگ صرف تباہی لاتی ہے، اور امن ہی انسانیت کی اصل ضرورت ہے۔
جواب: مصنف کہتا ہے کہ جنگ خود ایک مسئلہ ہے، وہ مسئلوں کا حل نہیں دے سکتی۔ ساحر لدھیانوی کے الفاظ میں: جنگ آج آگ اور خون دیتی ہے اور کل بھوک اور افلاس دیتی ہے — یعنی جنگ کا نتیجہ صرف تباہی ہے۔
جواب: اسباب: کشمیر کا تنازع اور بھارت کی جارحیت۔ اثرات: جانی و مالی نقصان، سرحدی گاؤں کی زندگی متاثر، اور آخر میں معاہدہ تاشقند (۱۹۶۶ء) کے ذریعے جنگ بندی۔
جواب: ساحر لدھیانوی کہتے ہیں کہ جنگ خود ایک مسئلہ ہے، وہ مسئلوں کا حل نہیں دے سکتی؛ جنگ آج آگ اور خون دیتی ہے اور کل بھوک اور افلاس دیتی ہے — یعنی جنگ صرف تباہی لاتی ہے۔
جواب: معاملہ → معاملات؛ تقریر → تقاریر؛ حصہ → حصے؛ اثر → آثار؛ محاورہ → محاورات؛ نقص → نقصانات۔
جواب: حِکمَت، اِستِقبال، کُنبَہ — اعراب سے الفاظ کا درست تلفظ واضح ہوتا ہے۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: (ii) صحیح — میرا دل کہہ رہا تھا کہ جنگ سے انسان پاتا کچھ نہیں، کھوتا بہت کچھ ہے۔
جواب: سید غلام مصطفیٰ نقوی ۱۹۲۲ء میں مقبوضہ کشمیر کے ایک گاؤں «چکری» میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید امیر شاہ تھے۔ وہ تدریس سے وابستہ رہے اور ۱۹۸۴ء میں لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ان کا پہلا افسانہ «سانولی سوار» تھا۔
جواب: ان کے مشہور ناولوں میں «بھکری راج»، «کمدار» اور «شیر زمان» شامل ہیں، اور افسانوی مجموعوں میں «ایک طرف تماشا ہے» اور «سرگوشی» شامل ہیں۔
یہ سبق «میرا گاؤں» کا مکمل رہنما ہے۔ اس میں مصنف کا تعارف، سبق کا خلاصہ، معاہدہ تاشقند اور مشکل الفاظ شامل ہیں۔ آخر میں مشق کے تمام 18 سوالات کے جوابات ہیں۔ choice سوالات میں سے 3 پر ✓ نہیں لگایا گیا کیونکہ لائبریری چیپٹر میں ان کے جوابات واضح نہیں۔
نظر ثانی کی رہنمائی: پہلے سبق کا خلاصہ پڑھیں، پھر مشکل الفاظ یاد کریں، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملائیں۔
This chapter is a complete guide to Mera Gaon by Syed Ghulam Mustafa Naqvi. It covers Author Introduction, Summary of the Lesson, Tashkent Agreement & Difficult Words, and ends with all 18 exercise questions answered. 3 choice questions are left unmarked because the library chapter does not state their answers.
Revision guidance: read the summary first, learn the difficult words, then try the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 10 Urdu, Chapter 9 (Mera Gaon) (Session 2026–27) • English + Urdu