Official 2026–2027 PECTAA / PCTB Punjab Curriculum Updated Tests & Solved Guide Books
Class 7 Assessment Portal SBA Punjab
Home / Guide Books / Class 7 Tarjuma-tul-Quran Guide
جماعت ہفتم · Class 7 سرکاری نصاب 2026–2027 پنجاب کمپلسری قرآن ایکٹ

کلاس 7 ترجمۃ القرآن المجید — مکمل حل شدہ گائیڈ بک و قرآنی فہم

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کی جانب سے کلاس ہفتم کے لیے لازمی قرار دیے گئے پارہ 30 کی سورتوں کے مستند تراجم، تعارف، سورت کے اہم نکات، قرآنی ذخیرہ الفاظ کے معانی اور مشقی سوالات و جوابات۔

سورت نمبر 1

سورۃ النبأ (Surah An-Naba)

اس سورت کا ٹیسٹ دیں

📖 تعارف و پس منظر

سورۃ النبأ مکی سورت ہے، اس کی 40 آیات اور 2 رکوع ہیں۔ نبأ کا معنی 'بڑی خبر' ہے۔ اس سورت کا مرکزی موضوع قیامت، حشر و نشر اور حساب و کتاب کا اثبات ہے۔

🌟 بنیادی مضامین و اہم علمی نکات

  • قیامت اور بعث بعد الموت پر کفار کے شکوک کا مدلل جواب۔
  • کائنات کے شواہد (زمین کا بچھونا، پہاڑوں کی میخیں، نیند کا آرام، دن کی معاش، سورج کی روشنی اور بارش) کے ذریعے قدرتِ خداوندی کا ثبوت۔
  • اہلِ دوزخ کا انجام اور جہنم کا احوال۔
  • اہلِ تقویٰ کے لیے باغات، انگور اور جنتی نعمتوں کا مژدہ۔

📚 قرآنی الفاظ اور اردو معانی (Vocabulary & Meanings)

النَّبَإِ الْعَظِيمِ بہت بڑی خبر (قیامت)
مِهَادًا بچھونا یا فرش
أَوْتَادًا میخیں یا سہارے
سِرَاجًا وَهَّاجًا نہایت روشن چراغ (سورج)
مَفَازًا کامیابی کا مقام

✍️ حل شدہ مشقی سوالات و جوابات

س 1: سورۃ النبأ کو یہ نام کیوں دیا گیا؟
جواب: اس سورت کی دوسری آیت میں 'النبأ العظیم' (بڑی خبر یعنی قیامت) کا ذکر آیا ہے، اسی مناسبت سے اسے سورۃ النبأ کہا جاتا ہے۔
س 2: اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے لیے کیا بنایا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے لیے 'اوتاد' یعنی میخیں بنایا ہے تاکہ زمین اپنی جگہ قائم رہے اور ڈولنے نہ پائے۔
س 3: قیامت کے دن کافر کیا حسرت کرے گا؟
جواب: کافر اپنے برے اعمال کا انجام دیکھ کر کہے گا: 'يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا' (اے کاش! میں مٹی ہوتا تاکہ عذاب سے بچ جاتا)۔

✅ حل شدہ معروضی پرچہ (MCQs)

1. سورۃ النبأ کس پارے میں ہے؟
پارہ 30 ✓ (درست)
پارہ 29
پارہ 28
پارہ 1
2. 'سباتاً' کا کیا معنی ہے؟
آرام و راحت ✓ (درست)
تھکاوٹ
بیماری
نیند کی کمی
سورت نمبر 2

سورۃ النّٰزِعٰت (Surah An-Naziat)

اس سورت کا ٹیسٹ دیں

📖 تعارف و پس منظر

سورۃ النّٰزِعٰت مکی سورت ہے، اس کی 46 آیات اور 2 رکوع ہیں۔ اس سورت میں فرشتوں کی مختلف اقسام، حضرت موسیٰؑ و فرعون کا قصہ اور قیامت کی حقیقت بیان ہوئی ہے۔

🌟 بنیادی مضامین و اہم علمی نکات

  • کافروں کی روح سختی سے اور مومنوں کی روح نرمی سے نکالنے والے فرشتوں کی قسم۔
  • فرعون کی سرکشی، اس کا انجام اور عبرت کا سامان۔
  • آسمان و زمین کی تخلیق اور انسان کی دوبارہ پیدائش کی قدرت۔
  • قیامت کا وقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہ ہونا۔

📚 قرآنی الفاظ اور اردو معانی (Vocabulary & Meanings)

النَّازِعَاتِ سختی سے کھینچنے والے فرشتے
النَّاشِطَاتِ آسانی و نرمی سے نکالنے والے فرشتے
الطَّامَّةُ الْكُبْرَى سب سے بڑی آفت (قیامت)
نَكَالَ الْآخِرَةِ آخرت کا عذاب
أَرْسَاهَا اسے جما دیا

✍️ حل شدہ مشقی سوالات و جوابات

س 1: حضرت موسیٰؑ کو فرعون کے پاس کس وادی میں نبوت عطا ہوئی؟
جواب: وادیِ مقدس 'طویٰ' میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو فرعون کی طرف تبلیغ کے لیے بھیجا۔
س 2: فرعون نے تکبر میں آ کر کیا دعویٰ کیا تھا؟
جواب: فرعون نے سرکشی کرتے ہوئے کہا تھا: 'أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى' (میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں)۔ اللہ نے اسے دنیا و آخرت کی عبرت بنا دیا۔
س 3: الطامۃ الکبریٰ سے کیا مراد ہے؟
جواب: اس سے مراد قیامت کی وہ ہولناک گھڑی ہے جو ہر بڑی مصیبت پر غالب آ جائے گی۔

✅ حل شدہ معروضی پرچہ (MCQs)

1. وادی مقدس کا نام کیا تھا؟
طویٰ ✓ (درست)
سینا
حرا
عرفات
2. فرعون کو غرق کر کے اللہ تعالیٰ نے کیا سبق دیا؟
سرکشی کا انجام ہلاکت ہے ✓ (درست)
مال کی برتری
دنیاوی بادشاہت
قوت کا غلبہ
سورت نمبر 3

سورۃ عبس (Surah Abasa)

اس سورت کا ٹیسٹ دیں

📖 تعارف و پس منظر

سورۃ عبس مکی سورت ہے، اس کی 42 آیات ہیں۔ اس سورت کا سببِ نزول صحابی رسول حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ (نابینا صحابی) کا واقعہ ہے جس میں دعوتِ دین کے آداب سکھائے گئے ہیں۔

🌟 بنیادی مضامین و اہم علمی نکات

  • دین کی ترویج میں امیر و غریب اور معذور کا یکساں حق۔
  • قرآن مجید کی عظمت اور مکرم فرشتوں کے ہاتھوں اس کا لکھا ہونا۔
  • انسان کی ناشکری اور اس کی تخلیق کے مراحل۔
  • قیامت کے دن رشتوں کی بے بسی (بھائی، ماں، باپ، بیوی اور اولاد سے فرار)۔

📚 قرآنی الفاظ اور اردو معانی (Vocabulary & Meanings)

عَبَسَ پیشانی پر بل ڈالا
الْأَعْمَى نابینا شخص
سَفَرَةٍ كِرَامٍ مکرم و محترم لکھنے والے فرشتے
الصَّاخَّةُ کان بہرا کر دینے والی چیخ
شَأْنٌ يُغْنِيهِ ایسی فکر جو اسے مشغول کر دے گی

✍️ حل شدہ مشقی سوالات و جوابات

س 1: سورۃ عبس کے پس منظر میں کس صحابی کا ذکر ہے؟
جواب: جلیل القدر نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ کا، جو رسول اللہ ﷺ سے قرآنی تعلیم حاصل کرنے حاضر ہوئے تھے۔
س 2: قیامت کے دن انسان اپنے قریبی رشتوں سے کیوں بھاگے گا؟
جواب: کیونکہ اس دن ہر انسان کو صرف اپنے اعمال اور اپنی نجات کی اتنی شدید فکر ہوگی کہ وہ دوسرے کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔
س 3: قرآن مجید کے کاتب فرشتوں کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں؟
جواب: وہ فرشتے نہایت معزز، پاکباز اور نیکوکار (کرامٍ بررۃ) ہیں۔

✅ حل شدہ معروضی پرچہ (MCQs)

1. حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ کی نمایاں صفت کیا تھی؟
نابینا صحابیؓ ✓ (درست)
تاجر
گھڑسوار
شاعر
2. 'الصاخۃ' سے کیا مراد ہے؟
قیامت کی کڑک ✓ (درست)
صبح کا وقت
رات کی تاریکی
بارش
سورت نمبر 4

سورۃ التَّکوِیر (Surah At-Takwir)

اس سورت کا ٹیسٹ دیں

📖 تعارف و پس منظر

سورۃ التکویر مکی سورت ہے، اس کی 29 آیات ہیں۔ اس سورت میں قیامت کے آغاز پر نظامِ شمسی اور کائنات کے بکھرنے کی تصویر کشی کی گئی ہے۔

🌟 بنیادی مضامین و اہم علمی نکات

  • سورج کا بے نور ہونا، ستاروں کا جھڑنا، اور سمندروں کا بھڑک اٹھنا۔
  • زندہ درگور کی جانے والی بچیوں (موؤودۃ) کا سوال۔
  • فرشتہ وحی حضرت جبرائیلؑ کی امانت و قوت کی گواہی۔
  • رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی صداقت اور شیطان کے وسوسوں کی نفی۔

📚 قرآنی الفاظ اور اردو معانی (Vocabulary & Meanings)

كُوِّرَتْ بے نور یا لپیٹ دیا گیا
انكَدَرَتْ بے رونق ہو کر جھڑ پڑے
الْمَوْءُودَةُ زندہ دفن کی گئی معصوم بچی
سُجِّرَتْ بھڑکا دیے گئے
ذِي قُوَّةٍ بڑی قوت و طاقت والا

✍️ حل شدہ مشقی سوالات و جوابات

س 1: زمانہ جاہلیت کی کس قبیح رسم کی مذمت سورۃ التکویر میں کی گئی ہے؟
جواب: نومولود بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی ظالمانہ رسم کی سخت مذمت کی گئی اور فرمایا گیا کہ قیامت کے دن ان بچیوں سے پوچھا جائے گا کہ کس گناہ پر انہیں قتل کیا گیا؟
س 2: حضرت جبرائیلؑ کی کیا صفات بیان کی گئی ہیں؟
جواب: وہ اللہ کے نزدیک معزز قاصد، زبردست قوت والے، عرش والے کے پاس صاحبِ منزلت اور اطاعت کیے جانے والے امانت دار ہیں۔
س 3: قرآن مجید تمام جہانوں کے لیے کیا ہے؟
جواب: قرآن تمام جہانوں کے لیے ایک نصیحت اور سیدھی راہ دکھانے والی کتاب ہے۔

✅ حل شدہ معروضی پرچہ (MCQs)

1. 'الموءودۃ' کا کیا معنی ہے؟
زندہ دفن کی جانے والی لڑکی ✓ (درست)
یتیم بچہ
مسافر
قیدی
2. سورۃ التکویر میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کیا وضاحت فرمائی گئی؟
آپ ﷺ مجنون (دیوانے) نہیں ہیں ✓ (درست)
شاعر ہیں
کاہن ہیں
جادوگر ہیں
سورت نمبر 5

سورۃ البُرُوج (Surah Al-Burooj)

اس سورت کا ٹیسٹ دیں

📖 تعارف و پس منظر

سورۃ البروج مکی سورت ہے، اس کی 22 آیات ہیں۔ اس میں توحید پر ثابت قدم رہنے والے اہلِ ایمان (اصحاب الاخدود) کا واقعہ اور ظالموں کے لیے جہنم کے عذاب کا بیان ہے۔

🌟 بنیادی مضامین و اہم علمی نکات

  • بروج (ستاروں کی منزلوں) والے آسمان اور یومِ موعود کی قسم۔
  • اصحاب الاخدود کا تاریخی واقعہ: ظالم بادشاہ نے مومنین کو صرف اس لیے خندق کی آگ میں جلا دیا کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے۔
  • اللہ تعالیٰ کی پکڑ نہایت سخت ہے اور وہی دوبارہ زندہ کرنے والا ہے۔
  • قرآنِ مجید لوحِ محفوظ میں محفوظ ہے۔

📚 قرآنی الفاظ اور اردو معانی (Vocabulary & Meanings)

الْبُرُوجِ قلعے یا برج (ستاروں کے مدار)
الْأُخْدُودِ خندق یا گڑھا
الْوَقُودِ ایندھن والی آگ
بَطْشَ رَبِّكَ تیرے رب کی پکڑ
لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ محفوظ تختی (لوحِ محفوظ)

✍️ حل شدہ مشقی سوالات و جوابات

س 1: اصحاب الاخدود کا کیا قصور تھا جس پر انہیں آگ میں ڈالا گیا؟
جواب: ان کا کوئی قصور نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ غالب اور قابلِ تعریف اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تھے۔
س 2: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے 'الغفور الودود' کا کیا مفہوم ہے؟
جواب: الغفور کا معنی ہے گناہوں کو معاف فرمانے والا اور الودود کا معنی ہے اپنے نیک بندوں سے بے پناہ محبت کرنے والا۔
س 3: لوحِ محفوظ کی کیا فضیلت ہے؟
جواب: یہ وہ آسمانی تختی ہے جس پر کائنات کا تمام علم اور قرآنِ حکیم کسی بھی رد و بدل سے محفوظ رکھا گیا ہے۔

✅ حل شدہ معروضی پرچہ (MCQs)

1. 'الاخدود' سے کیا مراد ہے؟
آگ سے بھری خندق ✓ (درست)
پہاڑ
دریا
محل
2. سورۃ البروج کے مطابق ظالموں پر اللہ کی پکڑ کیسی ہے؟
نہایت سخت (شدید) ✓ (درست)
آسان
معمولی
غیر یقینی