
📚 Provenance note: یہ chapter library master سے بنایا گیا ہے. Official Class 9 اسلامیات کتاب disk پر موجود نہیں, اس لیے اس page پر کتاب کے page-number کا کوئی claim نہیں کیا جا رہا. آیات و احادیث master کے مطابق دی گئی ہیں; جہاں master نے Arabic نہیں دی, وہاں صرف ترجمہ دیا گیا ہے — کوئی آیتہ یا Arabic متن دوبارہ نہیں بنایا گیا. اس chapter میں کسی نبی یا صحابی کی تصویر نہیں — صرف نام اور صفت کے diagrams ہیں.
In 8 Hijri, the Quraish broke the Treaty of Hudaibiya by helping Banu Bakr attack Banu Khuza'a, the allies of the Muslims. The Holy Prophet ﷺ marched to Makkah with about 10,000 companions and entered the city on 20 Ramazan, 8 Hijri, almost without bloodshed.
The conquest is remembered for general forgiveness (Aam Muafi): the Prophet ﷺ announced, today there is no blame on you, and freed even his old enemies. The idols of the Kaaba were removed and Makkah became the centre of Tauheed. Soon after, at Hunain, the Muslims faced the Hawazin and Thaqeef; after an early setback, Allah gave them victory, and the Prophet's ﷺ patience and steadfastness turned defeat into triumph.
8 ہجری میں قریش نے بنو بکر کی مدد کر کے بنو خزاعہ پر حملہ کرا کے صلح حدیبیہ توڑ دی۔ نبی کریم ﷺ تقریباً دس ہزار صحابہ کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھے اور 20 رمضان 8 ہجری کو تقریباً بغیر خون خرابے کے مکہ میں داخل ہوئے۔
فتح مکہ عام معافی کے لیے یاد کی جاتی ہے: نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا، آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اور پرانے دشمنوں کو بھی آزاد کر دیا۔ کعبہ کے بت ہٹا دیے گئے اور مکہ توحید کا مرکز بن گیا۔ اس کے فوراً بعد حنین میں مسلمانوں کا ہوازن اور ثقیف سے مقابلہ ہوا؛ ابتدائی پسپائی کے بعد اللہ نے فتح عطا کی اور نبی کریم ﷺ کے صبر و استقامت نے شکست کو فتح میں بدل دیا۔
9 Hijri is called Aam al-Wufood (the Year of Delegations), because tribes from all over Arabia came to Madinah, accepted Islam and pledged obedience. Islam spread across the peninsula without further major wars.
In the same year came Ghazwa Tabook, a long and hard march in extreme heat towards the Roman frontier. Though no battle took place, it showed the Muslims' discipline and sacrifice. In 10 Hijri, the Prophet ﷺ performed his only Hajj — Hajjatul Wida — and in the plain of Arafat gave the Farewell Sermon: equality of all human beings, sanctity of life, property and honour, rights of women, and holding fast to the Quran and Sunnah.
9 ہجری کو عام الوفود (وفود کا سال) کہتے ہیں کیونکہ عرب کے قبائل مدینہ آئے، اسلام قبول کیا اور اطاعت کا عہد کیا۔ اس طرح اسلام پورے جزیرہ عرب میں بغیر بڑی جنگوں کے پھیل گیا۔
اسی سال غزوہ تبوک ہوا — سخت گرمی میں رومی سرحد کی طرف طویل اور کٹھن سفر۔ اگرچہ جنگ نہ ہوئی لیکن اس نے مسلمانوں کے نظم و ضبط اور قربانی کو ظاہر کیا۔ 10 ہجری میں نبی کریم ﷺ نے اپنا واحد حج — حجۃ الوداع — ادا کیا اور میدان عرفات میں خطبہ دیا: تمام انسانوں کی برابری، جان، مال اور عزت کی حرمت، عورتوں کے حقوق اور قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنا۔
The Prophet's ﷺ last illness began in Safar, 11 Hijri. Even in illness he cared for his Ummah: his last advice was about Namaz and the rights of slaves and women. Before passing away he gave away his remaining wealth in charity and freed his slaves.
He passed away on Monday, at Chasht (forenoon), 12 Rabi-ul-Awwal, 11 Hijri, at the age of 63, in the house of Hazrat Ayesha, and was buried there. His passing ended revelation forever, but his message — the Quran and Sunnah — remains complete guidance for all time. The chapter also teaches the blessings of sending Durood-o-Salam upon him.
نبی کریم ﷺ کی آخری بیماری صفر 11 ہجری میں شروع ہوئی۔ بیماری میں بھی آپ ﷺ کو امت کی فکر رہی: آپ ﷺ کی آخری وصیت نماز اور غلاموں و عورتوں کے حقوق کے بارے میں تھی۔ وصال سے پہلے آپ ﷺ نے اپنا باقی مال صدقہ کیا اور غلام آزاد کیے۔
آپ ﷺ کا وصال پیر کے دن، چاشت کے وقت، 12 ربیع الاول 11 ہجری کو 63 سال کی عمر میں حضرت عائشہ کے حجرے میں ہوا اور وہیں تدفین ہوئی۔ آپ ﷺ کے وصال سے وحی کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا، لیکن آپ ﷺ کا پیغام — قرآن و سنت — ہمیشہ کے لیے مکمل ہدایت ہے۔ باب میں آپ ﷺ پر درود و سلام کی فضیلت بھی سکھائی گئی ہے۔
The Prophet's ﷺ childhood and youth were pure: he was known as As-Sadiq (the Truthful) and Al-Ameen (the Trustworthy). He never worshipped idols, never drank, and people trusted him with their valuables. His youth teaches students that good character is built early.
His Zauq-e-Ibadat (passion for worship) was unique: he said Namaz was the coolness of his eyes. He prayed Tahajjud at night, fasted often besides Ramazan, and in Ramazan his worship increased even more. Worship for him was not a burden but love and closeness to Allah.
نبی کریم ﷺ کا بچپن اور جوانی پاکیزہ تھی: آپ ﷺ صادق (سچے) اور امین (امانت دار) کے نام سے مشہور تھے۔ آپ ﷺ نے کبھی بتوں کی پوجا نہ کی، کبھی شراب نہ پی اور لوگ اپنی قیمتی چیزیں آپ ﷺ کے پاس امانت رکھتے تھے۔ آپ ﷺ کی جوانی طلبہ کو سکھاتی ہے کہ اچھا کردار بچپن سے بنتا ہے۔
آپ ﷺ کا ذوقِ عبادت بے مثال تھا: آپ ﷺ نے فرمایا نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ آپ ﷺ رات کو تہجد پڑھتے، رمضان کے علاوہ بھی اکثر روزے رکھتے اور رمضان میں عبادت اور بڑھ جاتی۔ آپ ﷺ کے لیے عبادت بوجھ نہیں بلکہ اللہ سے محبت اور قربت تھی۔
Sakhawat (generosity) was the Prophet's ﷺ habit: he never refused a beggar and gave even when he himself needed something. Isaar means preferring others over oneself — the Ansar's welcome of the Muhajireen is its greatest example.
Sila Rehmi means keeping good relations with relatives: visiting them, helping them, and forgiving their faults. The Prophet ﷺ said that cutting ties of kinship is a great sin, while joining them brings blessing in provision and life. A Muslim keeps relations even with relatives who break them.
سخاوت نبی کریم ﷺ کی عادت تھی: آپ ﷺ کسی سائل کو خالی نہ لوٹاتے اور خود ضرورت مند ہو کر بھی دے دیتے۔ ایثار کا مطلب ہے دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینا — انصار کا مہاجرین کا استقبال اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔
صلہ رحمی کا مطلب ہے رشتے داروں سے اچھا تعلق رکھنا: ان کی خبر گیری، مدد اور خطاؤں کو معاف کرنا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ رشتہ توڑنا بڑا گناہ ہے جبکہ رشتہ جوڑنے سے رزق اور عمر میں برکت ہوتی ہے۔ مسلمان اس رشتے دار سے بھی تعلق رکھتا ہے جو اس سے توڑ لے۔
The Prophet ﷺ raised the status of women: in the Farewell Sermon he commanded good treatment of women, and he himself was gentle and kind with his wives, daughters and all women. He said the best of you are those best to their families.
His Amanat wa Diyanat (trustworthiness and honesty) was famous even before prophethood: the people of Makkah called him Al-Ameen and kept their valuables with him. At the Hijrah, he left Hazrat Ali behind to return the trusts of the Quraish. Honesty in dealings, keeping promises and returning trusts are the practical lessons of this part.
نبی کریم ﷺ نے عورتوں کا مقام بلند کیا: حجۃ الوداع میں آپ ﷺ نے عورتوں سے اچھے سلوک کا حکم دیا اور خود اپنی بیویوں، بیٹیوں اور تمام عورتوں سے نرمی اور مہربانی سے پیش آتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔
آپ ﷺ کی امانت و دیانت نبوت سے پہلے ہی مشہور تھی: مکہ کے لوگ آپ ﷺ کو امین کہتے اور اپنی قیمتی چیزیں آپ ﷺ کے پاس رکھتے۔ ہجرت کے وقت آپ ﷺ نے حضرت علی کو قریش کی امانتیں واپس کرنے کے لیے پیچھے چھوڑا۔ معاملات میں سچائی، وعدے کی پابندی اور امانت کی واپسی اس حصے کے عملی سبق ہیں۔
یہ سوال library کے Class 9 اسلامیات Chapter 3 کی مشق سے لیے گئے ہیں, جواب کے ساتھ. جواب library masters کے مطابق دیے گئے ہیں. Official کتاب disk پر موجود نہیں, اس لیے page-number کا کوئی claim نہیں کیا جا رہا. MCQ کے درست جواب پر ✓ کا نشان ہے. سیرت مشق کا ایک MCQ اور اسوہ مشق کے دو MCQs master میں غیر-واضح ہونے کی وجہ سے چھوڑے گئے ہیں — ان کے gap notes نیچے موجود ہیں.
MCQ 1. Jis maah me Nabi Kareem ﷺ ki aakhri bimari ka aaghaz hua:
Answer: (a) Safar. Aakhri bimari Safar 11 Hijri me shuru hui. جواب: (الف) صفر۔
MCQ 2. Nabi Kareem ﷺ ki aakhri wasiyat ka talluq tha:
Answer: (a) Aurton, ghulamon aur Namaz se. آخری الفاظ میں نماز کی پابندی اور کمزوروں کے حقوق کی تاکید تھی. جواب: (الف) عورتوں، غلاموں اور نماز سے۔
MCQ 3. Wisal se aik din qabl Nabi Kareem ﷺ ne kaun sa kaam anjam diya:
Answer: (a) Tamam ghulam azaad kar diye. آخری دنوں میں آپ ﷺ نے اپنا مال صدقہ کیا اور غلام آزاد کیے. جواب: (الف) تمام غلام آزاد کر دیے۔
MCQ 4. Nabi Kareem ﷺ ka Wisal kis waqt hua:
Answer: (b) Chasht ke waqt. Peer ke din, chasht ke waqt, 12 Rabi-ul-Awwal 11 Hijri. جواب: (ب) چاشت کے وقت۔
⚠️ Gap note: NOTE — Gap: سیرت مشق کا ایک MCQ (حضرت فاطمہ سے متعلق) اس page پر شامل نہیں کیا گیا, کیونکہ اس کی سوالیہ عبارات scan میں watermark کے نیچے چھپ گئی تھی. Revise تھے وصال lesson for this question.
Short 1. نبی کریم ﷺ کی زندگی کے آخری lamhat اپنے الفاظ میں بیان کریں.
Answer: سفر 11 ھجری میں بیماری شروع ہوئی; آپ ﷺ نے نماز اور کمزوروں کے حقوق کی وصیت کی, مال صدقہ کیا, غلام آزاد کیے, اور Peer کے دن چاشت کے وقت حضرت Ayesha کے حجرے میں وفات pai.
Short 2. نبی کریم ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کی فضیلت بیان کریں.
Answer: جو شخص نبی ﷺ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے, اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتا ہے; درود گناہوں کی بخشش اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہے, اور قیامت کے دن آپ ﷺ کی شفع'at کا سبب بنتا ہے.
Long 1. وصالِ نبوی پر جامعہ note تحریر کریں.
Answer: وصال سے پہلے بیماری, آخری وصیت (نماز, غلام, عورتوں کے حقوق), مال کا صدقہ, غلاموں کی آذادی, 12 Rabi-ال-اول 11 ھجری کو Peer کے دن چاشت کے وقت وفات, حضرت Ayesha کے حجرے میں تدفین — اور یہ سبق کے نبی ﷺ کے بعد ہدایت کا سرچشمہ قرآن و سنت ہے.
MCQ 1. Nabi Kareem ﷺ ki das saal khidmat ki:
Answer: (a) Hazrat Anas bin Malik ne. حضرت انس نے بچپن سے 10 سال تک آپ ﷺ کی خدمت کی اور آپ ﷺ نے انہیں کبھی جھڑکا نہیں. جواب: (الف) حضرت انس بن مالک نے۔
MCQ 2. Nabi Kareem ﷺ ne Hazrat Muaz bin Jabal ko kis taraf bheja:
Answer: (b) Yemen. حضرت Muaz کو Yemen میں دین کی تعلیم اور قضا کے لیے بھیجا گیا. جواب: (ب) یمن۔
MCQ 3. Nabi Kareem ﷺ apne khadimon aur mazdooron se kis tarah pesh aate the:
Answer: (a) مزدوری کرنے والوں کے ساتھ شفقت سے. آپ ﷺ نے کبھی کسی خادم کو mara نہیں, نہ 'uff' کہا; مزدور کی اجرت پسینہ خشک ہونے سے پہلے دینے کا حکم دیا. جواب: (الف) مزدوری کرنے والوں کے ساتھ شفقت سے۔
⚠️ Gap note: NOTE — Gap: اسوہ مشق کے دو MCQs (ایک شخص کے سوالات سے متعلق, ایک تربیت کے اصول سے متعلق) اس page پر شامل نہیں کیے گئے, کیونکہ ان کی سوالیہ عبارات scan میں watermark کے نیچے چھپ گئی تھی. Revise تھے اسوہ lessons for these questions.
Short 1. نبی کریم ﷺ مخاطب کے جذبات و ehsaasat اور مزاج کا کس طرح خیال رکھتے تھے? مثال دے کر واضح کریں.
Answer: آپ ﷺ ہر شخص سے اس کے مزاج کے مطابق نرمی سے بات کرتے; بچوں سے پیار, baron سے عزت اور غلطی پر بھی سختی کے بجائے نصیحت سے اصلاح کرتے — جیسے حضرت انس کی 10 سال کی خدمت میں کبھی دانت-ڈپٹ نہیں کی.
Short 2. نبی کریم ﷺ اصلاح و تربیت کے لیے کس طرح گفتگو farmate تھے?
Answer: نرمی, حکمت اور مثالوں سے; غلطی کو چھپ کر سمجھاتے, شخص کی عزتِ نفس majrooh نہیں کرتے, اور اچھے کام پر حوصلہ افزائی farmate.
Short 3. نبی کریم ﷺ اپنے اصحاب کی کس طرح حوصلہ افزائی farmate تھے? مثال دے کر واضح کریں.
Answer: آپ ﷺ صحابہ کے اچھے کام کی تعریف farmate, انہیں ذمہ داریاں دیتے (جیسے حضرت Muaz کو Yemen بھیجنا) اور دعاؤں سے ان کا حوصلہ بڑھاتے.
Long 1. نبی کریم ﷺ کی امانت و دیانت پر جامعہ note تحریر کریں.
Answer: آپ ﷺ بچپن سے Ameen کہلائے; log امانتیں آپ کے پاس رکھتے; ہجرت کے وقت حضرت علی کو امانتیں واپس کرنے پر مقرر کیا; تجارت, وعدہ اور فیصلوں میں ہمیشہ سچائی اور دیانت کا مظاہرہ کیا — اسی لیے آپ کی سیرت امانت کا بہترین نمونہ ہے.
اس باب میں نبی کریم ﷺ کی سیرت کے آخری مدنی سال — فتح مکہ اور غزوہ حنین، عام الوفود، غزوہ تبوک اور حجۃ الوداع — پھر وصال نبوی، اور اس کے بعد اسوہ رسول: بچپن اور جوانی، ذوق عبادت، سخاوت، ایثار، صلہ رحمی، خواتین سے حسن سلوک اور امانت۔ مشق دو حصوں میں ہے: سیرت اور اسوہ رسول۔
اس chapter میں نبی کریم ﷺ کی سیرت کے آخری Madani سال — Fath-e-مکہ اور غزوہ حنین, عام al-وفود, غزوہ تبوک اور حجۃ وداع — پھر وصال نبوی, اور اس کے بعد اسوہِ رسول: بچپن اور جوانی, zauq-e-عبادت, سخاوت, isaar, صلہ رحمی, خواتین سے حسنِ سلوک اور امانت. Exercise دو حصوں میں ہے: سیرت اور اسوہِ رسول.
Revision guidance: تاریخیں یاد رکھو (8 ھجری Fath-e-مکہ, 9 ھجری وفود/تبوک, 10 ھجری حجۃ وداع, 11 ھجری وصال), پھر اسوہ کے ہر سبق کی ایک مثال. وصال پر جامعہ note اور امانت پر note — دونوں امتحان کے اہم سوال ہیں.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Islamiat, Chapter 3 (Session 2026–27) • English + Urdu