
مظفر وارثی (۱۹۳۳ء–۲۰۱۱ء) — اصل نام محمد مظفر الدین احمد صدیقی۔ میرٹھ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی؛ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی آ گیا، جہاں انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ انہوں نے تقریباً ۱۹۵۰ء میں باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا، جو تادمِ واپسی جاری رہا۔
انہوں نے نظم کی تقریباً تمام اصناف — حمد، نعت، سلام، گیت، غزل اور قطعہ — میں طبع آزمائی کی اور حمد و نعت میں خاص شہرت پائی۔ ان کی مشہور حمد "اے خدا، اے خدا" ہے۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ۱۹۸۸ء میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا، اور ان کی تمام شاعری "کلیاتِ مظفر وارثی" کی صورت میں بھی شائع ہو چکی ہے۔
Muzaffar Warsi (1933–2011) — real name Muhammad Muzaffaruddin Ahmad Siddiqui. Born in Meerut, he received his early education there; after the creation of Pakistan his family came to Karachi, where he continued his education. He began writing poetry around 1950 and kept writing for the rest of his life.
He wrote in almost every poetic form — Hamd, Naat, Salam, Geet, Ghazal and Qat'a — and won a special place for his Hamd and Naat. His famous Hamd is "Ae Khuda, Ae Khuda". The Government of Pakistan honoured his literary services with the Pride of Performance in 1988, and his complete poetry has also been published as Kulliyat-e-Muzaffar Warsi.
مرکزی خیال: شاعر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے — زمین و آسمان اور ان سے آگے ہر جگہ اس کی جھلک ہے۔ جو شخص خلوصِ دل سے اسے ڈھونڈتا ہے، اسے پا لیتا ہے۔ یہ کائنات اس کی تخلیق ہے اور ہر چیز اس کی حمد کرتی ہے۔ آخر میں شاعر کی التجا ہے کہ جہاں تو نے انسان کو اپنی خلافت عطا کی ہے، وہاں مجھے بھی شوقِ سجدہ عطا کر، تاکہ میرا سر تیری دہلیز پر جھکا رہے۔
یہ زمیں، یہ فلک، ان سے آگے تلک
جتنی دنیائیں ہیں، سب میں تیری جھلک
سب سے لیکن خدا، اے خدا، اے خدا!
ہر ستارے میں آباد ہے اک جہاں
چاند سورج تیری روشنی کے نشاں
پتھروں کو بھی تو نے عطا کی زباں
سونپ کر منصبِ آدمیت مجھے
تو نے بخشی ہے اپنی خلافت مجھے
شوقِ سجدہ بھی کر اب عنایت مجھے
کتاب کے مقاصدِ تدریس: حمد کے معنی و مفہوم سے آگاہی؛ مظفر وارثی کی حمد گوئی کی خصوصیات؛ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے متعلق معلومات؛ اصنافِ نظم (حمد، نعت، مناجات، منقبت) سے آگاہی؛ اور نظم کا مرکزی خیال لکھنے کی تربیت۔
Central idea: Allah is present everywhere — in the earth and the sky and beyond them, His reflection (jhalak) is in every world. Whoever seeks Him with a sincere heart finds Him. The whole universe is His creation, and everything in it sings His praise. The poet's prayer at the end is: where You have given man the office of Your vicegerency (khilafat), grant me too the longing for prostration (shauq-e-sajda), so that my head stays bowed at Your threshold.
یہ زمیں، یہ فلک، ان سے آگے تلک
جتنی دنیائیں ہیں، سب میں تیری جھلک
سب سے لیکن خدا، اے خدا، اے خدا!
ہر سحر پھوٹتی ہے نئے رنگ سے
سبزہ و گل کھلیں، سینۂ سنگ سے
گونجتا ہے جہاں، تیرے آہنگ سے
ہر ستارے میں آباد ہے اک جہاں
چاند سورج تیری روشنی کے نشاں
پتھروں کو بھی تو نے عطا کی زباں
سونپ کر منصبِ آدمیت مجھے
تو نے بخشی ہے اپنی خلافت مجھے
شوقِ سجدہ بھی کر اب عنایت مجھے
SLOs in the book: to know the meaning of Hamd; the special features of Warsi's Hamd-goi; Allah's attributes; the forms Nazm, Hamd, Naat, Munajat and Manqabat; and to be able to write the central idea of the poem.
فرہنگ: فلک = آسمان؛ سحر = صبح سویرے؛ سبزہ = ہریالی؛ آہنگ = آواز/ترنم؛ جستجو = تلاش؛ خلافت = نائبی؛ منصب = عہدہ؛ عنایت = مہربانی؛ دہلیز = چوکھٹ؛ التجا = گزارش۔
حمد و مناجات میں فرق : حمد ایسی نظم ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی، تعریف و ثنا بیان کی جاتی ہے۔ مناجات اس سے مختلف ہے: مناجات میں بندہ اپنے پروردگار سے کچھ طلب کرتا ہے — حمد ثنا ہے، مناجات دعا و التجا ہے۔ حمد و منقبت میں فرق: منقبت میں بزرگانِ دین کی تعریف ہوتی ہے، حمد صرف اللہ تعالیٰ کی تعریف ہے۔
Farhang: falak = sky; sehar = early morning; sabza = greenery; aahang = melody/voice; justuju = search; khilafat = vicegerency; manṣab = office/rank; inayat = favour; dehleez = threshold; iltija = request.
Hamd vs Munajat : Hamd is a poem in which Allah's greatness, praise and attributes are described. Munajat is different: in Munajat the servant asks his Lord for something — Hamd is praise, Munajat is a prayer/request. Hamd vs Manqabat: Manqabat praises saints/elders, Hamd praises only Allah.
نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
جواب: آہنگ — "گونجتا ہے جہاں تیرے آہنگ سے"
جواب: جہاں — "ہر ستارے میں آباد ہے اک جہاں"
جواب: زباں — "پتھروں کو بھی تو نے عطا کی زباں"
جواب: منصب — "سونپ کر منصبِ آدمیت مجھے"
جواب: عنایت — "شوقِ سجدہ بھی کر اب عنایت مجھے"
جواب: ہر سحر نئے رنگ سے پھوٹتی ہے — سبزہ و گل کھلتے ہیں اور جہاں اللہ کے آہنگ سے گونجتا ہے۔
جواب: اللہ تعالیٰ کے آہنگ سے۔
جواب: اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہیں — جانور، آدمی سب اس کی حمد کرتے ہیں۔
جواب: انسان کو — آدمیت کا منصب انسان کو سونپا گیا ہے۔
جواب: تاکہ اس کا سر اللہ کی دہلیز پر جھکا رہے اور اسے بندگی و سجدے کی توفیق ملے — یہی اس کی التجا ہے۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے۔ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں — الفاظ کا جوڑا وہی درست ہے جو نظم کے مصرعوں میں آیا ہے۔
جواب (اعراب کے ساتھ): فَلَک، سَحَر، جُستُجو، خِلافَت، آدمِیَّت، مَنصَب، شَوقِ سَجدَہ، سَبزَہ و گُل۔
جواب: حمد میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی، تعریف و ثنا بیان ہوتی ہے؛ مناجات میں بندہ اپنے پروردگار سے کچھ طلب کرتا ہے۔ حمد ثنا ہے، مناجات دعا ہے۔
جواب: شاعر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے اور ہر چیز میں اس کی جھلک ہے؛ جو شخص خلوصِ دل سے اسے ڈھونڈتا ہے، اسے پا لیتا ہے؛ یہ کائنات اس کی تخلیق ہے؛ اور شاعر کی التجا ہے کہ جہاں تو نے انسان کو اپنی خلافت عطا کی ہے، وہاں مجھے بھی شوقِ سجدہ عطا کر۔
اس سبق میں Muzaffar Warsi کا تعارف، Central Idea & Key Verses اور Difficult Words & Hamd vs Munajat سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: شاعر کا تعارف، مرکزی خیال اور اہم اشعار، مشکل الفاظ اور حمد و مناجات میں فرق۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔
This chapter covers the introduction of Muzaffar Warsi, Central Idea & Key Verses and Difficult Words & Hamd vs Munajat. It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).
Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 1 (Hamd) • English + Urdu • Session 2026–27