Class 9 Urdu Chapter 10 Complete Guide Book — لڑی میں پروئے ہوئے منظر | PunjabTest.com

Class 9 Urdu Chapter 10 — لڑی میں پروئے ہوئے منظر
Home > PunjabTest.com > Class 9 > Urdu — all chapters > Chapter 10: لڑی میں پروئے ہوئے منظر

اس chapter میں topics (Topics in this chapter)

ماخذ (Source): نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source: Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
1. Author Introductionمصنف کا تعارف
🏷 Tags: Raza علی Abidi, لڑی میں پروئے ہوئے منظر, Author Introduction, جرنیلی سڑک, Class 9 Urdu, Chapter 10
اردو

رضا علی عابدی (ولادت: ۳۰ نومبر ۱۹۳۵ء) ضلع ہریدوار، روڑکی (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا تعلق لکھنؤ سے تھا۔ ۱۹۵۰ء میں کراچی آ گئے۔ انہیں بچپن سے ہی پڑھنے کا شوق تھا، چنانچہ طالب علمی کے زمانے ہی میں اپنے ذوقِ مطالعہ کی مدد سے فنِ خبر نگاری سے مکمل واقف ہو چکے تھے۔ انہوں نے انیس برس کی عمر میں پہلی بار بائیں ہاتھ سے انگریزی خبر کا ترجمہ کیا۔ ۱۹۷۵ء میں بی بی سی لندن گئے، جہاں سے ۱۹۹۷ء میں ریٹائر ہوئے۔

رضا علی عابدی اردو، سندھی، عربی، فارسی اور انگریزی زبان پر خاص عبور حاصل ہے۔ انہوں نے تیس سے زیادہ کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں "جرنیلی سڑک"، "شیر دریا"، "جہازی بھائی"، "ریل کہانی"، "پہلا سفر"، "کتب خانہ"، "اردو کا حال"، "اپنی آواز"، "کتابیں اپنے آبا کی" اور "جانے پہچانے" شامل ہیں۔ ان میں سے نصف تصانیف کے مخاطب بچے ہیں۔ یوں تو رضا علی عابدی کی ہر تصنیف ہی اہم ہے، مگر اس وقت ہمارا رویہ سخن کے سفرنامے "جرنیلی سڑک" کی طرف ہے۔ یہ طویل جرنیلی سڑک جسے "جی ٹی روڈ" بھی کہا جاتا ہے اور جو موجودہ بنگلہ دیش کو افغانستان سے ملاتی ہے، پر عظیم کے حکمران شیر شاہ سوری (۱۵۴۰ء–۱۵۴۵ء) نے اپنے دورِ اقتدار میں تعمیر کرایا تھا۔ اس سڑک کی پہچان میں رضا علی عابدی نے ایک ماہ تک مسلسل سفر کیا۔ اس کتاب میں جرنیلی سڑک پر واقع تمام اہم آبادیوں، ان کی وجہ تسمیہ اور ثقافت کا تذکرہ ہے۔ مصنف کی یہ تحریر طنز و مزاح، ادا بیوں اور خوبیوں کے مختلف رنگوں سے مزین ہے۔

ENGLISH

Raza Ali Abidi (born 30 November 1935) was born in Roorkee, district Haridwar (India). His family migrated to Karachi in 1950. From childhood he was fond of reading, and in his student days he completed his studies with the help of journalism. At the age of 19 he translated English news into Urdu, and in 1975 he went to BBC London, where he remained associated with the BBC Urdu service until his retirement in 1997.

Raza علی Abidi knows Urdu, سندھی, Arabic, Persian and English, and has a special command over English. He has written more than thirty books, including "Jernaili Sarak", "Sher Darya", "Jahazi Bhai", "Rail Kahani", "Pehla Safar", "Kutb Khana", "Urdu ka Haal", "اپنی آواز", "کتابیں اپنے آبا کی" and "Jane Pehchane". His book "Jernaili Sarak" اس an important travelogue: it اس تھے story of تھے Grand Trunk Road, which شعر شاہ Suri (1540-45) built ان his reign, and which connects Afghanistan with تھے subcontinent. This lesson اس taken from that book.

جرنیلی سڑک
Raza Ali Abidi se samjho: روڑکی میں پیداکرنے ہوئے, 1950 میں خاندان کے ساتھ Karachi آ گئے.
2. Travelogue Summaryسفرنامے کا خلاصہ
🏷 Tags: Raza علی Abidi, لڑی میں پروئے ہوئے منظر, Travelogue Summary, اٹک کا قلعہ, Class 9 Urdu, Chapter 10
اردو

جرنیلی سڑک ایک عجیب سڑک ہے: آپ اس پر چلتے ہیں اور منظر بدلتے جاتے ہیں — اس سڑک کے منظر لڑی میں پروئے ہوئے مناظر ہیں۔ ایک طرف سبز وادی ہے، دوسری طرف پہاڑ ہیں، اور قدم قدم پر منظر بدلتے جاتے ہیں۔

پشاور سے چلتے ہوئے مصنف کو بالا حصار کے نیچے ایک پتھر پر بڑے حرفوں میں "شاہراہِ پاکستان" لکھا نظر آیا، اور کسی وزیر کا نام بھی لکھا تھا جس نے کبھی وہ پتھر وہاں لگایا ہو گا۔ وادیٔ پشاور سرسبز نظر آتی تھی۔ پھر دریائے سندھ آیا اور اس کے کنارے اٹک کا قلعہ، جس کا نام اکبر نے اٹک رکھا۔ پھر حسن ابدال آیا، جہاں مشہور باؤلی ہے اور سکھوں کا مشہور گردوارہ پنجہ صاحب ہے، جہاں گرو نانک نے ایک چٹان کو اپنے پنجے سے روک لیا تھا، اور اس پنجے کا نشان آج تک وہاں موجود ہے۔ آگے سرائے کالا کا قصبہ ہے، اور پھر سڑک آگے بڑھتی جاتی ہے، منظر لڑی میں پروئے ہوئے، لاہور تک اور اس سے آگے۔

ENGLISH

The Grand Trunk Road is a strange road: you travel on it and scenes keep changing - the scenes of the road are like pearls strung in a thread (lari mein paroye hue manzar). On one side there is a green valley, on the other side there are mountains, and step by step the scenes keep changing.

Starting from Peshawar, the writer sees a stone below the Bala Hisar on which is written in big letters "Shahrah-e-Pakistan" and the name of a minister who once had that stone installed there. The valley of Peshawar looks green and fresh. Then comes the Indus river (Sindh) and the Attock Fort on its bank, which Akbar named Attock. Then comes Hassan Abdal, with its famous stepwell (baoli) and the Sikh Gurdwara Panja Sahib, where Guru Nanak stopped a boulder with his hand (panja), and the mark of that hand is still present there today. Further on is the town of Sarai Kala, and then the road goes on, with scenes strung together like pearls, all the way to Lahore and beyond.

اٹک کا قلعہ
Markazi khayal se samjho: Grand Trunk Road پر سفر — منظر لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح بدلتے جاتے ہیں.
مشکل الفاظ، متشابہ الفاظ اور رموزِ اوقاف
🏷 Tags: Raza علی Abidi, لڑی میں پروئے ہوئے منظر, Difficult Words, Mutashabeh الفاظ & اوقاف, متشابہ الفاظ, Class 9 Urdu, Chapter 10
اردو

فرہنگ: لڑی = دھاگا/لڑی؛ منظر = نظارہ؛ وادی = وادی؛ قلعہ = قلعہ؛ باؤلی = سیڑھیوں والا کنواں؛ گردوارہ = سکھوں کی عبادت گاہ؛ پنجہ = ہتھیلی؛ شاہراہ = بڑی سڑک؛ سرائے = مسافر خانہ؛ قصبہ = چھوٹا شہر۔

متشابہ الفاظ : متشابہ الفاظ سے مراد وہ الفاظ ہیں جو آواز یا شکل کی صورت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں، لیکن اعراب، املا یا معنی کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔ متشابہ الفاظ کی عموماً درج ذیل تین صورتیں ہیں: (الف) وہ الفاظ جن کا املا ایک جیسا ہو، لیکن وہ معنوں کے اعتبار سے مختلف ہوں — مثلاً: "ادا" بمعنی ادا کرنا اور "ادا" بمعنی طرز یا ڈھنگ؛ "بار" بمعنی بوجھ اور "بار" بمعنی دفعہ؛ "عرض" بمعنی گزارش اور "عرض" بمعنی چوڑائی؛ "کل" بمعنی آنے والا یا گزرا ہوا دن اور "کل" بمعنی تمام؛ "آب" بمعنی پانی اور "آب" بمعنی چمک؛ "دور" بمعنی زمانہ اور "دور" بمعنی فاصلہ۔ (ب) وہ الفاظ جن کا املا ایک جیسا ہو، لیکن اعراب کی تبدیلی سے ان کے معنی میں فرق پڑ جاتا ہو — مثلاً: علم اور الم، ملک اور ملک، علم اور الم، دور اور دور، بین اور بین، شیر اور شیر، سحر اور سحر۔ (ج) وہ الفاظ جن کی آواز تو یکساں ہو، لیکن ان کا املا اور معنی مختلف ہوں — مثلاً: باز، باز؛ صد، صد؛ راضی، راضی؛ اثر، عصر؛ اصل، اصل؛ لعل، لال؛ مامور، معمور؛ حضر، حذر؛ آر، ہار۔

رموزِ اوقاف : پچھلے سبق میں سکتہ، وقفہ، رابطہ، تفصیلیہ اور ختمہ کے بارے میں پڑھا ہے۔ یہاں باقی ماندہ اہم علامتوں کی وضاحت بیان کی جاتی ہے: استفہامیہ (؟) — یہ علامت کسی استفہامیہ یا سوالیہ جملے کے آخر میں لگائی جاتی ہے، مثلاً: یہ کیا ہے؟ یہ کتاب کس کی ہے؟ آج کیا تاریخ ہے؟ کون آواز دے رہا ہے؟ وغیرہ۔ ندائیہ (!) — یہ علامت دراصل لفظ "نداء" کا مخفف ہے اور لفظ "نداء" کے الف کے نیچے نون کا نقطہ لگا کر بنائی گئی ہے — یہ علامت وہاں استعمال کی جاتی ہے جہاں کسی کو ندا دینا، پکارنا، خطاب کرنا مقصود ہو، مثلاً: خدا یا! میری آرزو پوری کر دے۔ ارے بھائی! ذرا میری بات سنو۔ وغیرہ۔ فجائیہ (!) — جب تحریر میں غصہ، حقارت، تعجب، تمسخر، ادب، تعظیم، ندامت، خوف، تحسین و آفرین وغیرہ جذبات کو ظاہر کرنا مقصود ہو، تو یہ علامت استعمال کی جاتی ہے، مثلاً: وہ! وہ! اس کی امید فضول ہے۔ اف! بے چارہ پھل بھی نہیں چل سکتا۔ وغیرہ۔ واوین (" ") — اس علامت کا استعمال کسی کا قول من و عن نقل کرتے وقت یا کسی اقتباس کو اس وقت کرتے وقت کیا جاتا ہے جب اس کی ابتداء اور اس کے آخر میں کیا جاتا ہے، مثلاً: باپ نے بیٹے سے کہا: "بیٹا! محنت کرو، محنت کا پھل ضرور ملے گا"۔ قوسین ( ) — اس علامت کو انگریزی میں بریکٹس کہا جاتا ہے، کسی بات کی وضاحت کے لیے الفاظ لکھے جاتے ہیں، مثلاً: انور صاحب (مرحوم) سے ہمارے بھی دیرینہ تعلقات تھے۔ میر گھر (مکان کا وہ حصہ جس میں میری سکونت ہے) خاصا پسندیدہ ہو گیا ہے۔ خط (-) — اس علامت کو انگریزی میں ڈیش کہا جاتا ہے، جس طرح قوسین جملہ مفردہ کو تحریر سے الگ کرتی ہے، اسی طرح یہ علامت بھی نیم ختمہ کا کام دیتی ہے، مثلاً: میں بیمار ہوں — آپ سے ملنا بھی ضروری تھا۔ اب تو اسی تنخواہ میں — وہ جتنی بھی ہے — گزارا کرنا ہو گا۔

ENGLISH

Farhang: lari = thread; manzar = scene; wadi = valley; qila = fort; baoli = stepwell; girdwara = Sikh temple; panja = palm of the hand; shahrah = highway; sarai = inn; qasba = town.

Mutashabeh الفاظ : Mutashabeh alfaz are those words which are similar in pronunciation or spelling but different in meaning. There are three kinds: (a) words whose spelling is the same but whose meanings are different - for example, "ada" (style) and "ada" (payment), "bar" (time) and "bar" (burden); (b) words whose spelling is the same but whose meaning changes with a change in irab - for example, "ilm" and "alam", "malik" and "malak", "alam" and "alam"; (c) words whose pronunciation is the same but whose spelling and meaning are different - for example, "baaz" (some) and "baaz" (falcon), "sad" (hundred) and "sad" (call), "kash" and "kash".

Rumooze-Auqaf : in addition to the marks studied in the previous lesson (sakta, waqfa, rabta, tafseeliya, khatma), the following marks are explained here: Istifhamiya (?) - this mark is used at the end of a question; Nidaiya (!) - this mark is used where an exclamation, surprise, grief or joy is to be shown; Wawain (" ") - this mark is used when quoting someone words; Qauseen ( ) - this mark is used in English as brackets, for explaining something; Khat (-) - this mark is used to separate words, and also to show a sudden change in a sentence.

متشابہ الفاظ
Mutashabeh الفاظ سے سمجھو: جو الفاظ لکھنے یا بولنے میں ایک جیسے لگیں مگر معانی الگ ہوں, ان سے ہوشیار رہو.
📝 Exercise Questions — with Answersمشق سوالات — جوابات کے ساتھ
ماخذ

نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔

SOURCE

Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.

MCQs۱۔ درست جواب پر (✓) کا نشان لگائیں
QUESTIONS + ANSWERS
(i) مصنف کو بالا حصار سے نیچے آنے کے بعد ایک پتھر پر لکھا نظر آیا:
  • (الف) شاہراہِ اعظم
  • (ب) شاہراہِ پاکستان ✓
  • (ج) شاہراہِ قدیم
  • (د) شاہراہِ جرنیل

جواب: (ب) — شاہراہِ پاکستان — کتاب: بالا حصار کے نیچے ایک پتھر پر بڑے حرفوں میں "شاہراہِ پاکستان" لکھا تھا۔

(ii) وادیٔ پشاور نظر آتی تھی:
  • (الف) ریگ زار
  • (ب) مرغزار
  • (ج) ویران
  • (د) سرسبز ✓

جواب: (د) — سرسبز — کتاب: وادیٔ پشاور سرسبز نظر آتی تھی۔

(iii) مورخوں نے ہندوستان کا دروازہ کہا تھا:
  • (الف) لنڈی کوتل کو
  • (ب) پشاور کو
  • (ج) ہندو کو
  • (د) نوشہرہ کو

خود آزمائی (unmarked): خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔

(iv) اٹک کا نام رکھا تھا:
  • (الف) محمود غزنوی نے
  • (ب) شہاب الدین غوری نے
  • (ج) اکبرِ اعظم نے ✓
  • (د) شیر شاہ سوری نے

جواب: (ج) — اکبرِ اعظم نے — کتاب: اکبر نے اس مقام کا نام اٹک رکھا۔

(v) سکھوں کا مشہور گردوارہ واقع ہے:
  • (الف) نوشہرہ میں
  • (ب) اٹک میں
  • (ج) حسن ابدال میں ✓
  • (د) وادی میں

جواب: (ج) — حسن ابدال میں — کتاب: حسن ابدال کے قریب سکھوں کا مشہور گردوارہ پنجہ صاحب ہے۔

(vi) نوشہرہ کے قریب آنے کی پہچان تھی:
  • (الف) دریائے سندھ
  • (ب) دریائے کابل ✓
  • (ج) دریائے ہرو
  • (د) دریائے سون

جواب: (ب) — دریائے کابل — کتاب: نوشہرہ کے قریب دریائے کابل آتا ہے۔

Short Answers۲۔ سبق "لڑی میں پروئے ہوئے منظر" کے متن کے مطابق سوالوں کے جواب لکھیں
QUESTIONS + ANSWERS
(الف) مصنف کو (دور سے) وادیٔ پشاور کیسی نظر آتی تھی؟

جواب: سرسبز نظر آتی تھی — وادیٔ پشاور کی سرسبز وادی دور سے نظر آتی تھی۔

(ب) محمود غزنوی نے راجہ جے پال کو کس جگہ شکست دی تھی؟ — Khud Azmai

خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔

(ج) اٹک کا قلعہ کس دریا کے کنارے بنایا گیا تھا؟

جواب: دریائے سندھ کے کنارے — اٹک کا قلعہ دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔

(د) وہ کون سا بادشاہ تھا جسے جگہوں کے نام رکھنے کا بڑا شوق تھا؟

جواب: اکبرِ اعظم — اکبر کو جگہوں کے نام رکھنے کا بڑا شوق تھا، اور اسی نے اس مقام کا نام اٹک رکھا۔

(ہ) معظم کے نزدیک لاہور سے کابل جانے والی شاہراہ پر حسین ترین منزل کون سی ہے؟ — Khud Azmai

خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔

Synonyms, Antonyms, Tazkeer/Tanees & Tafheem۳–۸۔ مترادف، متضاد، تذکیر و تانیث، تفہیم
QUESTIONS + ANSWERS
درج ذیل الفاظ کے مترادف الفاظ لکھیں: پتھر، حیرت، دلچسپ، شوق، آبادیاں، حدود — Khud Azmai

خود آزمائی: مترادف الفاظ لغت سے تلاش کریں اور اپنے جواب استاد سے چیک کرائیں۔

درج ذیل الفاظ کے متضاد الفاظ لکھیں: تمازت، گم نام، شبانہ، اول الذکر، قدیم، داخل — Khud Azmai

خود آزمائی: متضاد الفاظ لغت سے تلاش کریں اور اپنے جواب استاد سے چیک کرائیں۔

درج ذیل الفاظ میں سے مذکر اور مونث الگ الگ کریں: زمین، وادی، سڑک، بستیاں، دریا، گاؤں، سرائے، قلعہ، شکست، دروازہ — Khud Azmai

خود آزمائی: تذکیر و تانیث کا قاعدہ اوپر دیا گیا ہے؛ ان اسموں کی جنس اہلِ زبان کے استعمال کے مطابق خود الگ کریں اور اپنے جواب استاد سے چیک کرائیں۔

متشابہ الفاظ میں جزو (الف) اور جزو (ب) کے الفاظ کے معنی لکھیں — Khud Azmai

خود آزمائی: متشابہ الفاظ کی تین صورتیں اوپر دی گئی ہیں؛ ان کی روشنی میں الفاظ کے معنی خود لکھیں۔

رموزِ اوقاف کی علامتوں: استفہامیہ، ندائیہ، فجائیہ، واوین، قوسین اور خط کا استعمال کرتے ہوئے ہر علامت کی دو دو مثالیں مزید دیں — مشق

مشق (کوئی ایک جواب نہیں): استفہامیہ (؟) سوالیہ جملے کے آخر میں؛ ندائیہ (!) پکارنے کے لیے؛ فجائیہ (!) جذبات ظاہر کرنے کے لیے؛ واوین (" ") کسی کا قول نقل کرنے کے لیے؛ قوسین ( ) وضاحت کے لیے؛ خط (-) جملے میں اچانک تبدیلی یا وقفہ ظاہر کرنے کے لیے۔ اپنی مثالیں خود بنائیں۔

تفہیمِ عبارت — فورٹ منرو کے بارے میں عبارت پڑھیں اور سوالوں کے جواب تحریر کریں: (الف) فورٹ منرو کہاں واقع ہے اور اس کی وجہ شہرت کیا ہے؟ (ب) فورٹ منرو کا موسم کیسا ہے؟ (ج) فورٹ منرو کی تاریخی حیثیت کیا ہے؟ (د) فورٹ منرو اپنی ثقافت اور مقامی دست کاریوں کے حوالے سے کیسی شہرت رکھتا ہے؟ (ہ) اس عبارت کا مناسب عنوان تجویز کریں

جواب: (الف) فورٹ منرو پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں واقع ایک حسین پہاڑی مقام ہے، جو اپنی قدرتی خوب صورتی اور دل کش مناظر کے باعث سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام ہے — یہ سطح سمندر سے تقریباً ۶۴۷۰ فٹ بلند ہے۔ (ب) گرمیوں میں اس کا موسم خوش گوار اور ٹھنڈا ہوتا ہے۔ (ج) فورٹ منرو کو تاریخی اہمیت بھی حاصل ہے، کیونکہ یہ علاقہ ماضی میں برطانوی فوج کے لیے ایک دفاعی چوکی کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ (د) یہاں کی مخصوص ثقافت، روایتی طرزِ زندگی اور مقامی دست کاریوں کی وجہ سے یہ سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ (ہ) مناسب عنوان: "فورٹ منرو"۔

📌 خلاصہ و رہنمائی — اس سبق میں کیا ہے؟
خلاصہ

اس سبق میں Raza Ali Abidi کا تعارف، Travelogue Summary اور Difficult Words, Mutashabeh Alfaz & Auqaf سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: مصنف کا تعارف، سفرنامے کا خلاصہ، مشکل الفاظ، متشابہ الفاظ اور رموزِ اوقاف۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔

نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔

SUMMARY

This chapter covers the introduction of Raza Ali Abidi, Travelogue Summary and Difficult Words, Mutashabeh Alfaz & Auqaf. It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).

Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.

🎯 مزید Tests کے لیے

Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.

PunjabTest.com — Tests →

PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 10 (لڑی میں پروئے ہوئے منظر) • English + Urdu • Session 2026–27

← Chapter 9Chapter 11 →