
خواجہ الطاف حسین حالی (۱۸۳۷ء–۱۹۱۴ء) آپ پانی پت (ہریانہ، انڈیا) کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام خواجہ ایزد بخش تھا، جو حافظِ قرآن تھے اور ان کی قرأت کا شہرہ تھا کہ لوگ دور و نزدیک سے ان کی تلاوت سننے کے لیے کشاں کشاں چلے آتے اور روتے جاتے تھے۔ انہوں نے لحن وادوں کی پایا تھا۔ یوں صفات مولانا حالی کی ذات میں بھی بدرجہ اتم موجود تھیں اور وہ بھی حافظِ قرآن تھے۔ مولانا حالی کم عمری ہی میں والدین کے سائے سے محروم ہو گئے۔ مزید علم حاصل کرنے کا شوق انہیں دلی لے گیا، جہاں معاشی طور پر مشکل حالات میں کتابوں کے ساتھ ساتھ مشاہیر کی صحبتوں، خصوصاً نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ اور مرزا غالب سے فیض حاصل کیا۔
مولانا حالی ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے زمانے کے کچھ عرصہ بعد لاہور آئے اور گورنمنٹ بک ڈپو میں ملازمت اختیار کر لی اور پھر سر سید احمد خاں کے ساتھ غزل کے بجائے نظم کی طرف آئے۔ انہوں نے غزل کے ساتھ ساتھ چار طویل نظمیں (مثنویاں): "برکھا رت"، "نشاطِ امید"، "حبِ وطن" اور "مناجاتِ بیوہ" لکھیں۔ مولانا حالی سر سید تحریک سے وابستہ قوم کے بہت بڑے شاعر اور نقاد تھے۔ ان کی شاعری میں سادگی اور سلاست ہے۔ اردو شاعری میں مولانا حالی کا اعلیٰ ترین کارنامہ ان کی طویل نظم "مدوجزرِ اسلام" ہے، جو عام طور پر "مسدسِ حالی" کے نام سے معروف ہے۔ یہ نظم اس قدر مقبول ہوئی کہ اس نے مقبولیت اور شہرت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ "مسدسِ حالی" کا ذکر کرتے ہوئے سر سید نے کہا تھا: "میں اس (مسدسِ حالی) کا ذکر کروں گا، وہ اس میں سے اپنے اعمالِ حسنہ سے چھپتا ہوں۔ جب خدا مجھ سے پوچھے گا کہ دنیا سے کیا لائے ہو، تو میں کہوں گا کہ مسدسِ حالی لایا ہوں اور کچھ نہیں۔" شاملِ کتاب نظم "محنت کی برکات" "مسدسِ حالی" سے مستعار اقتباس ہے اور اس نظم میں، جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے، محنت کرنے والوں کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔
Khwaja Altaf Hussain Hali (1837-1914) was born in Panipat (Haryana, India) in a respectable family. His father died when he was young, and he was deprived of his parents care in his early youth. He was a hafiz of the Quran and had a great love for learning. He went to Delhi in difficult circumstances and, along with his studies, also earned the special attention of Mirza Ghalib.
After the War of Independence of 1857, Hali came to Lahore and took up a job in the Government Book Depot. Later he became associated with Sir Syed Ahmad Khan and his Aligarh movement. He wrote, along with ghazals, four long nazms (masnavis): "Barkha Rut", "Nashaat-e-Umeed", "Hubb-e-Watan" and "Munajat-e-Bewa". Hali was a great poet and critic of his time. His poetry is marked by simplicity and sincerity. His most famous long nazm is "Madd-o-Jazr-e-Islam", commonly known as "Musaddas-e-Hali". Sir Syed said about it: "When God asks me what you have brought from the world, I will say that I have brought Musaddas-e-Hali with me." The nazm "Mehnat ki Barkat" included in this book is an excerpt from "Musaddas-e-Hali", and as its name shows, it describes the qualities of those who work hard.
یہ نظم "مسدسِ حالی" سے لی گئی ہے۔ اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ محنت ہی عزت، عظمت اور کامیابی کی کنجی ہے۔ جنہوں نے مشقت کی ذلت اٹھائی، دنیا میں انہی کو عزت بڑھائی۔ بغیر محنت کے کسی کو فضیلت، عزت اور فرمان روائی نہیں ملی۔ ہمارے اندر چھپے ہوئے جوہر خدا کی امانت ہیں، اور اگر ہم نے جیتے جی ان کی خبر نہ لی، تو وہ مٹی میں مٹی ہو جائیں گے۔ انسان کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے، اپنا کام آپ سنوارنا چاہیے، خدا کے سوا سب سہارے چھوڑ دینے چاہییں، اور وقت کو واپس مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔
اہم اشعار :
مشقت کی ذلت جنہوں نے اٹھائی
جہاں میں انہی کو عزت بڑھائی
کسی نے بغیر اس کے ہرگز نہ پائی
فضیلت، نہ عزت، نہ فرماں روائی
نہال اس گلستاں میں جتنے بڑھتے ہیں
ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھتے ہیں
بہت ہم میں اور تم میں جوہر ہیں مخفی
خبر کچھ نہ ہم کو نہ تم کو ہے جن کی
اگر جیتے جی، کچھ نہ ان کی خبر لی
تو ہو جائیں گے مل کے مٹی میں مٹی
یہ جوہر ہیں ہم میں امانت خدا کی
مبادا تلف ہو ودیعت خدا کی
نہیں سہل گر سید کا ہاتھ آنا
تو لازم ہے گھوڑوں کو سرپٹ بھگانا
نہ بیچھو جو ہے بوجھ بھاری اٹھانا
ذرا تیز بانو جو ہے دور جانا
زمانہ اگر ہم سے زور آزما ہے
تو وقت اے عزیزو! یہی زور کا ہے
بشر کو ہے لازم کہ ہمت نہ ہارے
جہاں تک ہو کام آپ اپنے سنوارے
خدا کے سوا چھوڑ دے سب سہارے
کہ ہیں عارضی زور، کمزور سارے
اٹھو وقت تم واپس بائیں نہ جھانکو
سیدھا اپنی گاڑی کو تم آپ ہانکو
تمہیں اپنی مشکل کو آساں کرو گے
تمہیں درد کا اپنے درماں کرو گے
تمہیں اپنی منزل کا ساماں کرو گے
کرو گے تمہیں کچھ اگر یاں کرو گے
چھپا دستِ ہمت میں زورِ قضا ہے
مثل ہے کہ ہمت کا حامی خدا ہے
The nazm is from "Musaddas-e-Hali". Its central idea is that hard work is the key to honour, greatness and success. Only those who bear the hardship of labour get honour in the world. Without labour, no one gets greatness, honour or authority. The jewels (jauhar) of talent hidden inside us are a trust (amanat) from God, and if we do not use them in our lifetime, they will mix with the dust. A person must not lose courage; he must do his own work himself, leave all supports except God, and keep moving forward without looking back.
Key verses :
Mashaqqat کی ذلت جنہوں نے اٹھائی, جہاں میں انہی کو عزت بڑائی;
Kisi ne baghair is ke hargiz na payi, fazeelat, na izzat, na farman-rawaai.
نہال اس گلستان میں جتنے برستے ہیں, ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھتے ہیں.
بہت ہم میں اور تم میں جوہر ہیں مفت, خبر کچھ نہ ہم کو نہ تم کو ہے جن کی;
اگر جیتے ji, کچھ نہ ان کی خبر لی, تو ہو جائیں گے مل کے مٹی میں مٹی.
یہ جوہر ہیں ہم میں امانت خدانخواستہ کی, مبدا تلف ہو wadiyat خدانخواستہ کی.
نہیں سہل گر seed کا ہاتھ آنا, تو لازم ہے گھوڑوں کو sarpat بھگانا.
زمانہ اگر ہم سے زور-آزما ہے, تو وقت ae عزیزو! یہی زور کا ہے.
Bashar کو ہے لازم کے ہمت نہ ہرے, جہاں تک ہو کام آپ اپنے سنوارے;
خدانخواستہ کے سوا چھور دے سب سہارے, کے ہیں عارضی زور, کمزور sare.
تمہیں اپنی مشکل کو آساں کرو گے, تمہیں درد کا اپنے darman کرو گے;
تمہیں اپنی منزل کا ساماں کرو گے, کرو گے تمہیں کچھ اگر یا کرو گے.
چھپا دستِ ہمت میں زورِ قضا ہے, مثال ہے کہ ہمت کا حامی خدانخواستہ ہے.
ذو معنی الفاظ : وہ الفاظ جن کے دو یا دو سے زیادہ معنی ہوں، ذو معنی الفاظ کہلاتے ہیں۔ ایسے الفاظ ایک معنوں میں ایک جگہ اور دوسرے معنوں میں دوسری جگہ استعمال ہوتے ہیں۔ بعض اوقات دونوں معنوں میں بیک وقت مراد ہوتے ہیں۔ ذو معنی الفاظ کے استعمال کے ضمن میں بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اور اس لیے کوئی اہلِ زبان کی گرفت گو (تحریر و تقریر) ہی ہے۔ چند ایک ذو معنی الفاظ اور ان کے معنی درج ذیل ہیں: آب: پانی / چمک دمک؛ اردو: لشکر / لشکر گاہ؛ اوقات: وقت کی جمع / حیثیت؛ بار: بوجھ / بارش؛ باز: ایک شکاری پرندہ / دوبارہ کھلا ہوا؛ بیت: گھر / شعر؛ ناک: ٹانگ جھمک / انگور کی بیل؛ تکرار: جھگڑا / بار بار دہرانا؛ تکیہ: سرہانہ / بھروسہ؛ طاق: محراب / بندہ جو دوسرے پر نثار ہو؛ ظرف: برتن / حوصلہ؛ عرض: گزارش / چوڑائی؛ عرض: چوڑائی / گزارش؛ فصل: فصل / فاصلہ؛ قصور: قصر کی جمع، محلات / ...؛ کان: معدنیات نکلنے کی جگہ / جسم کا حصہ۔
اصنافِ نظم : اصنافِ نظم بہت سی ہیں، جن میں سے کچھ کا یہاں بیان کیا جاتا ہے۔ قصیدہ: قصیدہ عربی کے لفظ "قصد" سے بنا ہے، جس کے لغوی معنی ارادہ کرنا کے ہیں۔ یہ وہ صنفِ نظم ہے جو امادی طور پر وجود میں آتی ہے اور شاعر کسی کی مدح و ستائش کرتا ہے۔ اس میں بعض اوقات زمین و آسمان کے قصے بھی ملا دیے جاتے ہیں۔ قصیدہ بہت پرانی صنفِ نظم ہے اور یہ عربی کے علاوہ فارسی میں بھی فراوانی سے موجود ہے۔ اردو قصیدہ گوئی میں مرزا محمد رفیع سودا اور شیخ ابراہیم ذوق کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ غزل: اصنافِ نظم میں غزل اہم ترین صنفِ شاعری ہے۔ اردو کے شعری ادب میں سب سے زیادہ سرمایہ غزل ہی کا ہے۔ یہ وہ صنفِ نظم ہے جس میں عشق و محبت کا ذکر ہوتا ہے اور شاعر اپنے فکر و خیال کا اظہار نہایت لطیف زبان میں کرتا ہے۔ مرثیہ: مرثیہ کے لغوی معنی غم و الم کے انداز میں کسی مرنے والے کا ذکر خیر اور اس کے اوصاف بیان کرنے کے ہیں۔ مرثیہ کی صنف عربی سے فارسی اور فارسی سے اردو میں آئی۔ اردو میں مرثیہ کی صنف زیادہ تر اہلِ بیت یا واقعہ کربلا کے لیے مخصوص ہے۔ اردو میں سب سے زیادہ مرثیے شہیدِ کربلا کے حوالے سے میر انیس اور مرزا دبیر نے سب سے زیادہ شہرت پائی اور لازوال مرثیے لکھے۔ مرثیے کے اجزا درج ذیل ہیں: چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، رزم / جنگ، شہادت اور بین۔ مثنوی: مثنوی اردو کی ایک مقبول صنفِ نظم ہے۔ مثنوی میں ہر شعر کے دونوں مصرعے آپس میں ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں (ردیف ضروری نہیں) اور تمام شعر دو سرے سے جداگانہ قافیہ اور ردیف رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے اس صنف میں لمبے قصے کہانیاں اور واقعات بآسانی نظم کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فارسی اور اردو میں بعض مثنویاں بڑی طویل ہیں۔ مولانا حالی کے نزدیک مثنوی سب سے آسان صنفِ نظم ہے۔ رباعی: رباعی سے مراد ایسی صنفِ شاعری ہے جس کے کل چار مصرعے ہوتے ہیں، لیکن ان چار مصرعوں میں ایک مکمل مضمون بیان کیا جاتا ہے۔ قطعہ: اصطلاحِ شعر میں دو یا دو سے زیادہ شعروں کو، جو موضوع کے لحاظ سے ایک دوسرے سے متعلق ہوں، قطعہ کہتے ہیں۔ مخمس: اصطلاح میں مخمس ایسی نظم کو کہتے ہیں جس کا ہر بند پانچ مصرعوں پر مشتمل ہو۔ مسدس: اصطلاحِ شعر میں مسدس سے مراد ایسی نظم ہے جس کا ہر بند چھے مصرعوں پر مشتمل ہو۔ اس صنف کے پہلے چار مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور آخری دو مصرعے الگ قافیہ کے حامل ہوتے ہیں۔ اردو کے تمام بڑے بڑے شاعروں نے اس صنف کو برتا ہے۔ علامہ اقبال کی معروف نظمیں: "شکوہ" اور "جوابِ شکوہ" اسی بحر میں ہیں اور مولانا حالی کی معروف نظم "مسدسِ حالی" اسی بحر میں ہے۔
Zau-Ma'ni الفاظ : those words which have two اور more meanings are called zau-ma'ni الفاظ. Such words are used ان one meaning ان one place, and ان تھے other meaning ان another place. Sometimes both meanings are intended at تھے same time. ان using zau-ma'ni الفاظ, great care اس needed ان speech and writing. Some examples from تھے book table: "aab" = پانی / چمک-دمک; "urdu" = لشکر / لشکر-gah; "auqat" = وقت کی جمع / حیثیت; "baar" = بوجھ / بارش; "baaz" = ایک شکاری پرندہ / دوبارہ کھلا ہوا; "bait" = گھر / she'r; "naak" = ٹانگ jhamak / انگور کی bail; "takrar" = جھگڑا / bar-bar دوہرانا; "takiya" = sarhana / بھروسہ; "talaq" = محراب / banda جو دوسرے پر نثار ہو; "taraf" = برتن / hawsala; "arz" = گزارش / چوڑائی; "arz" (second) = ...; "fasl" = فصل / فاصلہ; "qasr" = qasr کی جمع, mahalat / ...; "kaan" = ma'daniyat نکلنے کی جگہ / جسم کا حصہ.
Asnaf-e-Nazm : there are many asnaf of nazm, of which some are explained here. Qaseeda: from the Arabic word "qasd" (irada karna) - a poem in which a person's praise is described. It is a very old sinf of poetry, and in Arabic, besides praise, it is also used for other subjects. In Urdu qaseeda-goi, the names of Mirza Muhammad Rafi Sauda and Sheikh Ibrahim Zauq are especially worthy of mention. Ghazal: the most important sinf of nazm in Urdu, and the most popular sinf of Urdu poetry - a sinf of nazm in which love and affection are mentioned, and in which the poet expresses his thoughts and feelings in very delicate language. Marsiya: from the Arabic word "marsa" - a poem in which the sorrows of a dead person and his good qualities are described. Masnavi: a popular sinf of Urdu poetry - in every she'r of a masnavi, both misre are of the same qafia and radeef; a long story or event can be narrated in it. Rubai: a sinf of poetry in which there are four misre in total, but a complete mazmoon is stated in those four misre. Qita: in poetic terminology, two or more she'r which are connected with one subject are called qita. Mukhammas: a nazm in which every band has five misre. Musaddas: a nazm in which every band has six misre - the first four misre have one qafia, and the last two misre have a separate qafia. All the great poets of Urdu have tried this sinf - Allama Iqbal's famous nazms "Shikwa" and "Jawab-e-Shikwa" are in this bait, and Maulana Hali's famous nazm "Musaddas-e-Hali" is in this bait.
نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
جواب: نہال اس گلستاں میں جتنے بڑھتے ہیں — ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھتے ہیں۔
جواب: یہ جوہر ہیں ہم میں امانت خدا کی۔
جواب: مبادا تلف ہو ودیعت خدا کی۔
جواب: بشر کو ہے لازم کہ ہمت نہ ہارے۔
جواب: مثل ہے کہ ہمت کا حامی خدا ہے۔
جواب: جب وہ مشقت کی ذلت اٹھاتا ہے — مشقت کی ذلت جنہوں نے اٹھائی، جہاں میں انہی کو عزت بڑھائی۔
جواب: وہ مٹی میں مٹی ہو جائیں گے — اگر جیتے جی، کچھ نہ ان کی خبر لی، تو ہو جائیں گے مل کے مٹی میں مٹی۔
جواب: گھوڑوں کو سرپٹ بھگانا — نہیں سہل گر سید کا ہاتھ آنا، تو لازم ہے گھوڑوں کو سرپٹ بھگانا۔
جواب: خدا کا — خدا کے سوا چھوڑ دے سب سہارے، کہ ہیں عارضی زور، کمزور سارے۔
جواب: خدا — مثل ہے کہ ہمت کا حامی خدا ہے۔
مشق (کوئی ایک جواب نہیں): خبر لینا = حال پوچھنا/خیال رکھنا؛ مٹی ہو جانا = ضائع ہو جانا؛ ہاتھ آنا = مل جانا/حاصل ہو جانا؛ زور آزمانا = طاقت آزمانا؛ ہمت ہارنا = حوصلہ چھوڑ دینا؛ ساماں کرنا = انتظام کرنا؛ واپس بائیں نہ جھانکنا = پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا/آگے بڑھنا۔ اپنے جملے خود بنائیں۔
مشق: ان الفاظ کے درست تلفظ اعراب کے ساتھ خود لکھیں اور اپنے جواب استاد سے چیک کرائیں۔
خود آزمائی: ذو معنی الفاظ کی جدول اوپر دی گئی ہے؛ ان الفاظ کے دونوں معنی لغت سے تلاش کریں اور اپنے جواب استاد سے چیک کرائیں۔
اس سبق میں Khwaja Altaf Hussain Hali کا تعارف، Poem Text & Central Idea اور Zau-Ma'ni Alfaz & Asnaf-e-Nazm سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: شاعر کا تعارف، نظم کا متن اور مرکزی خیال، ذو معنی الفاظ اور اصنافِ نظم۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔
This chapter covers the introduction of Khwaja Altaf Hussain Hali, Poem Text & Central Idea and Zau-Ma'ni Alfaz & Asnaf-e-Nazm. It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).
Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 12 (Mehnat Ki Barkat) • English + Urdu • Session 2026–27