
علامہ محمد اقبال (۱۸۷۷ء–۱۹۳۸ء) کسی تعارف کے محتاج نہیں: وہ پاکستان کے قومی شاعر، خودی کے فلسفی، اور برصغیر کے مسلمانوں کو الگ وطن کا تصور دینے والے مفکر ہیں۔ جب علامہ اقبال دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے ہوئے تھے، تو ان کے فرزند جاوید اقبال نے، جو ان دنوں کم سن تھے، علامہ اقبال کو پہلا خط لکھا اور گرم جوشی سے ان کی فرمائش کی۔ علامہ اقبال کے لیے گر اس موقع پر ان کے نام منسوب کر کے عالم اسلام کے نوجوانوں پر یہ نظم لکھی، اس لیے اس میں خودی کا پیغام ہے۔
علامہ اقبال کے اردو مجموعوں بالخصوص "بانگِ درا" کے بارے میں بتانا کہ اس مجموعے میں انہوں نے بہت سی نظمیں بچوں کے لیے لکھی ہیں اور ہر نظم میں ایک سبق پوشیدہ ہے۔ اپنے بیٹے کو — اور اسلام کے نوجوانوں کو — اقبال کا پیغام یہ ہے: دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر، نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر، خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر۔
Allama Muhammad Iqbal (1877-1938) needs no introduction: he is the national poet of Pakistan, the philosopher of Khudi (selfhood), and the thinker who gave the Muslims of the subcontinent the idea of a separate homeland. When Iqbal went to London to take part in the Second Round Table Conference, his son Javed Iqbal was with him. Iqbal wrote a letter to him, and this nazm, taken from "Bal-e-Jibril", is that letter in verse, addressed to Javed, in which Iqbal gives him the message of Khudi.
Iqbal's message to his son - and to the youth of Islam - is: create your own place in the world of love, create a new age with new mornings and evenings, do not sell your Khudi, and create a name even in poverty. His poetry is full of the message of self-respect, hard work and faith.
یہ نظم "بالِ جبریل" سے لی گئی ہے۔ اس کا مرکزی خیال خودی ہے: انسان کو دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کرنا چاہیے، نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کرنے چاہییں۔ اسے فرنگ کے شیشہ گروں کے احساس سے متاثر نہیں ہونا چاہیے؛ اسے ہند کی سفال سے مینا و جام پیدا کرنا چاہیے۔ اقبال کہتے ہیں: میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر؛ میرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر۔ میرا طریقِ امیری نہیں فقیری ہے؛ خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر۔
نظم کا متن :
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر
خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر
اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساس
سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر
میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر
میرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر
مرا طریقِ امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
The nazm is from "Bal-e-Jibril". Its central idea is Khudi (selfhood): a person must create his own place, his own age, his own morning and evening. He must not be impressed by the glass-makers of the West (sheesha-garan-e-Farang); he must make his own cup and goblet from the clay of India (sifal-e-hind). Iqbal says: I am a branch, my ghazal is my fruit; from my fruit, create the wine of the colour of the tulip. My way is not the way of richness, it is the way of faqeeri (contented poverty); do not sell your Khudi, create a name even in poverty.
Poem text :
Diyar-e-عشق میں اپنا مقام پیداکرنے کر;
Naya zamana, naye subh-o-sham paida kar.
Khuda agar dil-e-fitrat-shanas de tujh ko;
Sukoot-e-lala-o-gul se kalam paida kar.
Utha na sheesha-garan-e-Farang ke ehsas;
Sifal-e-hind se meena-o-jam paida kar.
میں شاخہ تاک ہوں, میری غزل ہے میرا samar;
Mere samar se mai-e-lala-fam paida kar.
میرا طریقِ امیری نہیں فقیری ہے;
خودی نہ baich, ghareebi میں نام پیداکرنے کر.
خط نگاری : خط ایک تحریری ملاقات ہے۔ اس لیے خط کو "نصف ملاقات" بھی کہتے ہیں۔ خط لکھتے وقت درج ذیل امور کو پیشِ نظر رکھیں: خط کے آغاز میں پیشانی پر تسمیہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) لکھیں۔ خط لکھتے وقت یہ سمجھیں کہ آپ جسے خط لکھ رہے ہیں، وہ آپ کے روبرو بیٹھا ہے اور اس کے بڑے چھوٹے ہونے کا لحاظ رکھتے ہوئے بات کریں۔ آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں، الفاظ کی بچت کرتے ہوئے، مختصر طور پر لکھیں اور صرف مطلب کی باتیں لکھیں تاکہ پڑھنے والے کا وقت ضائع نہ ہو۔ خط میں مقام و رواگی، تاریخ، القاب و آداب اور نفسِ مضمون کو ملحوظ رکھتے ہوئے خط کا اختتام کیا جاتا ہے۔
مشق میں طالب علم سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے دوست کے نام، جو کسی دوسرے شہر میں رہتا ہے، ایک خط لکھے جس میں وہ اپنی گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کی روداد بیان کرے — اس تحریری کام کا کوئی ایک جواب نہیں ہے۔
Khat-Nigari : a letter is a written conversation. There are two kinds of letters: "nasf-e-mulaqat" (formal) and "ghair-rasmi" (informal). When writing a letter, keep these points in mind: write "Bismillah-ir-Rahman-ir-Rahim" at the beginning of the letter; write the date and place; write the address of the person to whom the letter is written; write only what you want to say, briefly, and only the necessary things, so that the reader does not waste his time; in the letter, the place, date, address and manners should be kept in mind; end the letter with a proper closing.
The exercise asks the student to write a letter to a friend living in another city about how he spent his summer holidays - there is no single correct answer for this writing task.
نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
جواب: خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو۔
جواب: سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر۔
جواب: سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر۔
جواب: مرا طریقِ امیری نہیں فقیری ہے۔
جواب: میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر۔
جواب: نیا زمانہ پیدا کرنا — نئی سوچ، نئی زندگی اور نئی صبح و شام پیدا کرنا، یعنی اپنے عہد کو نیا رنگ دینا۔
جواب: اپنی مٹی سے اپنی چیز بنانا — فرنگ کی نقل کے بجائے ہند کی سفال (مٹی) سے اپنا مینا و جام پیدا کرنا، یعنی اپنی تہذیب و ثقافت سے اپنی شان پیدا کرنا۔
جواب: اقبال خود شاخِ تاک ہیں، ان کی غزل ان کا ثمر ہے، اور اس ثمر سے وہ مئے لالہ فام پیدا کرنا چاہتے ہیں — یعنی اپنی شاعری سے نوجوانوں میں جوش و جذبہ پیدا کرنا۔
جواب: فطرت کی خاموشی سے الہام لینا — لالہ و گل کے سکوت سے کلام پیدا کرنا، یعنی فطرت شناس دل سے شاعری کا الہام حاصل کرنا۔
جواب: کیونکہ ان کا طریق امیری نہیں، فقیری ہے — وہ دولت و امارت کے طریق کے بجائے فقیری (سادگی و قناعت) کو پسند کرتے ہیں، اور اسی میں خودی کی شان ہے۔
مشق: ان الفاظ کے درست تلفظ اعراب کے ساتھ خود لکھیں اور اپنے جواب استاد سے چیک کرائیں۔
جواب: دل — فطرت شناس؛ سکوت — لالہ و گل؛ شیشہ گران — فرنگ؛ سفال — ہند؛ شاخ — تاک؛ مئے — لالہ فام؛ فقیری — غریبی۔
مشق (کوئی ایک جواب نہیں): خط کے آغاز میں تسمیہ، تاریخ و مقام، مخاطب کے القاب، مختصر و ضروری باتیں، اور مناسب اختتام — ان اصولوں کے مطابق اپنا خط خود لکھیں۔
اس سبق میں Allama Muhammad Iqbal کا تعارف، Poem Text & Central Idea اور Khat-Nigari (Letter Writing) سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: شاعر کا تعارف، نظم کا متن اور مرکزی خیال، خط نگاری۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔
This chapter covers the introduction of Allama Muhammad Iqbal, Poem Text & Central Idea and Khat-Nigari (Letter Writing). It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).
Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 13 (Javed Ke Naam) • English + Urdu • Session 2026–27