Class 9 Urdu Chapter 14 Complete Guide Book — Payam-e-Latif | PunjabTest.com

Class 9 Urdu Chapter 14 — Payam-e-Latif
Home > PunjabTest.com > Class 9 > Urdu — all chapters > Chapter 14: Payam-e-Latif

اس chapter میں topics (Topics in this chapter)

ماخذ (Source): نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source: Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
1. Poet & Translator Introductionشاعر اور مترجم کا تعارف
🏷 Tags: Shah Abdul Latif Bhitai, Payam-e-Latif, Poet & Translator Introduction, شاہ جو رسالو, Class 9 Urdu, Chapter 14
اردو

شاہ عبد اللطیف بھٹائی (۱۶۸۹ء–۱۷۵۲ء) کا شمار سندھ کی بزرگ ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ سرزمینِ سندھ میں اپنے کردار و گفتار اور حسنِ عمل سے ایک دنیا کی فکری و روحانی تربیت اور فیوض و برکات کا باعث بنے اور اپنے کلام سے سندھ کو محبت، امن، رواداری اور بھائی چارے کا گہوارہ بنانے کی تعلیم دی۔ آپ کا آباد کردہ ریت کا ٹیلہ "بھٹ" دنیا بھر میں "بھٹ شاہ" کے نام سے مشہور ہوا۔ آپ کی سندھی شاعری کا مجموعہ "شاہ جو رسالو" کے نام سے شائع ہوا، جس کا منظوم اردو ترجمہ شیخ ایاز نے کیا۔ شاملِ کتاب اقتباس "شاہ جو رسالو" کے ایک حصے سے مستعار چند اشعار کا منظوم اردو ترجمہ ہے۔

شیخ ایاز (۱۹۲۳ء–۱۹۹۷ء) جن کا پورا نام شیخ مبارک علی ہے، شکارپور کے والد گرامی کا نام شیخ غلام حسین تھا۔ آپ سندھی، فارسی اور اردو زبانوں کے ساتھ بڑا لگاؤ رکھتے تھے۔ اس زمانے کے معروف رسائل: "ہوائی"، "ادبی دنیا" اور "نئی رنگِ خیال" وغیرہ سے وابستہ رہے۔ شیخ ایاز نے میٹرک تک کی تعلیم اپنے آبائی شہر شکارپور میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کراچی چلے گئے، لیکن نامساعد حالات کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکے اور شکارپور لوٹ آئے۔ مگر حالات سازگار ہوتے ہی از سر نو حصولِ تعلیم کا ارادہ کیا اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں اور کراچی ہی میں پریکٹس شروع کر دی، مگر اس کے ساتھ ساتھ شاعری بھی کرتے رہے۔ آپ کا پہلا ادبی کارنامہ شکارپور سے ادبی رسالے "آگی قدم" کا اجرا تھا۔ شیخ ایاز کو ان کی ادبی خدمات کی بنا پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے "ہلالِ امتیاز" کا اعزاز دیا گیا۔ آپ نے کراچی میں وفات پائی، مگر آپ کو شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے ساتھ بے پناہ عقیدت کی بنا پر ان کے مزار کے نزدیک ہی سپردِ خاک کیا گیا۔ شیخ ایاز کا شمار جدید سندھی ادب کے بانیوں میں کیا جاتا ہے۔ آپ کو مزا حمتی ادیب، ترقی پسند شاعر اور سندھی صوفی بزرگ شاعر عبد اللطیف بھٹائی کے منظوم مترجم کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔

ENGLISH

Shah Abdul Latif Bhitai (1689-1752) is counted among the greatest personalities of Sindh. He was born in the land of Sindh and spent his life there. His poetry is a treasure of spiritual and moral teachings, and he gave the message of love, peace and humanity to Sindh. He is known in the world as "Shah" - the king of poets. His collection of Sindhi poetry is called "Shah Jo Risalo". The poems included in this book are a selection from "Shah Jo Risalo", translated into Urdu verse by Sheikh Ayaz.

Sheikh Ayaz (1923-1997): his real name was Sheikh Mubarak Ali, and his father name was Sheikh Ghulam Hussain. He was a poet of Sindhi, Persian and Urdu languages, and was associated with the magazines "Hawai", "Adabi Duniya" and "Nai Rang-e-Khayal". He did his matriculation from his native town Shikarpur, and after that he went to Karachi for higher education, but due to unfavourable circumstances he could not complete his higher education, and after that he did his L.L.B. and started practicing law in Karachi, and also continued to write poetry. His first book of poetry, "Aaghi Qadam", was awarded the "Hilal-e-Imtiaz" by the Government of Pakistan. He was a great poet of Sindhi literature, and is known as the translator of Shah Abdul Latif Bhitai into Urdu verse.

شاہ جو رسالو
Shah Latif se samjho: سندھ کے سب سے بڑے shairon میں سے ہیں; ان کی شاعری روحانی اور اخلاقی تعلیم کا خزانہ ہے.
2. Poem Text & Central Ideaنظم کا متن اور مرکزی خیال
🏷 Tags: Shah Abdul Latif Bhitai, Payam-e-Latif, Poem Text & Central Idea, گوہرِ بے بہا, Class 9 Urdu, Chapter 14
اردو

یہ نظم "شاہ جو رسالو" سے مستعار چند اشعار کا منظوم اردو ترجمہ ہے۔ اس کا مرکزی خیال اللہ کی حمد اور اپنی ہستی کی پہچان ہے: اللہ ہی اول و آخر ہے، وہی قائم ہے اور وہی قدیم ہے؛ ہر تمنا اسی سے وابستہ ہے؛ وہی ہمارا آسرا ہے، ربِ کریم؛ اس کی توصیف جتنی بھی کریں، کم ہے؛ وہی اعلیٰ ہے اور وہی علیم ہے؛ وہی چھ جہتوں کا والی، واحد ذات، رازقِ کائنات، ربِ رحیم ہے۔ جس نے ایمانِ کامل کے ساتھ دل سے مانا، زبان سے جانا، اس نے اس محمد کا مرتبہ جانا جس کی خاطر یہ دنیا بنی ہے۔ جس نے اپنی ہستی کو پہچانا، اسے دوسروں پر فوقیت ملی۔ شاعر کہتا ہے کہ اس نے سنگ ریزوں سے دامن بھر لیا اور گوہرِ بے بہا کو چھوڑ دیا، اور موجِ طوفانِ مصیبت نے اس کی کشتی کے رخ کو موڑ دیا۔

نظم کا متن :
تیری ہی ذات اول و آخر
تو ہی قائم ہے اور تو ہی قدیم
تجھ سے وابستہ ہر تمنا ہے
تیرا ہی آسرا ہے، ربِ کریم
کم ہے جتنی کریں تیری توصیف
تو ہی اعلیٰ ہے اور تو ہی علیم
والی شش جہات، واحد ذات
رازقِ کائنات، ربِ رحیم
ایمانِ کامل کے ساتھ جس نے بھی
دل سے مانا، زبان سے جانا
جس کی خاطر بنی ہے یہ دنیا
اس محمد کا مرتبہ جانا
فوقیت اس کو دوسروں پہ ملی
اپنی ہستی کو اس نے پہچانا
جس نے اس قادرِ حقیقی کو
وحدہ لا شریک ہے جانا
سنگ ریزوں سے بھر لیا دامن
گوہرِ بے بہا کو چھوڑ دیا
موجِ طوفانِ مصیبت نے آدھا
میری کشتی کے رخ کو موڑ دیا
ہائے وہ عہد جس کو اے مالک!
اپنی غفلت سے میں نے توڑ دیا

ENGLISH

The nazm is a verse translation of a selection from "Shah Jo Risalo". Its central idea is the praise of Allah and the recognition of one own self: Allah alone is the First and the Last, the Everlasting and the Ancient; every wish is connected with Him; He alone is our support, the Generous Lord; He alone is the Highest and the All-Knowing; He is the Provider of the whole universe, the Merciful Lord. The person who, with perfect faith, accepts Him with his heart and tongue, knows the rank of Muhammad (SAW) for whose sake this world was made. The person who recognises his own self gets superiority over others. The poet says that he filled his lap with stones and left the priceless pearl, and the wave of the storm of troubles turned the direction of his boat.

Poem text :
Teri ہی ذات اول و آخر, تو ہی قائم ہے اور تو ہی قدیم;
تجھ سے وابستہ ہر تمنا ہے, تیرا ہی آسرا ہے, Rabb-e-کریم;
کم ہے جتنی کریں teri توصیف, تو ہی آلہ ہے اور تو ہی علیم;
Wali shash jihat, wahid zaat, raziq-e-kainat, Rabb-e-Raheem.
ایمانِ کامل کے ساتھ جس نے بھی, دل سے معنی, زبان سے جانا;
جس کی خاطر بنی ہے یہ دنیا, اس محمد کا مرتبہ جانا;
Faqeet اس کو دوسروں پر ملی, اپنی ہستی کو اس نے پہچانا;
جس نے اس قادرِ حقیقی کو, wahda la-sharik ہے جانا.
Sang-rezon se bhar liya daman, gauhar-e-be-baha ko chhor diya;
Mouj-e-tufan-e-museebat ne aada, meri kashti ke rukh ko mor diya;
Baaye وہ abd جس کو ae ملک! اپنی غفلت سے میں نے توڑ دیا.

گوہرِ بے بہا
Markazi khayal se samjho: اللہ ہی اول o آخر ہے — اپنے آپ کو پہچانو تو رب کو پہچانو گے.
3. Ilm-e-Badee & Talkhees-Nigariعلمِ بدیع اور تلخیص نگاری
🏷 Tags: Shah Abdul Latif Bhitai, Payam-e-Latif, Ilm-e-Badee & Talkhees-Nigari, علمِ بدیع, Class 9 Urdu, Chapter 14
اردو

علمِ بدیع : بدیع کے لغوی معنی تو نوکھا، نادر یا نئی چیز کے ہیں، لیکن اردو ادب کی اصطلاح میں علمِ بدیع اس علم کو کہتے ہیں جس سے تحسین و تزئینِ کلام کے طریقے معلوم ہوتے ہیں۔ علمِ بدیع کی دو قسمیں ہیں: صنائعِ لفظی اور صنائعِ معنوی۔ یہاں صرف تین اقسام کو بیان کیا گیا ہے: صنعتِ تلمیح: تلمیح کے لغوی معنی ہیں: اشارہ کرنا۔ اصطلاح میں کلام میں کسی مشہور قصے، واقعے، شخصیت، جگہ، داستان یا روایت کی طرف اشارہ کرنے کو تلمیح کہتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے: ابنِ مریم ہوا کرے کوئی / میرے دکھ کی دوا کرے کوئی — اس شعر میں "ابنِ مریم" حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے جو مردوں کو بحکمِ ربی زندہ کر دیا کرتے تھے۔ صنعتِ تکرار: تکرار کے لغوی معنی ہیں: بار بار دہرانا۔ لیکن اصطلاح میں صنعتِ تکرار میں جہاں مصرعوں یا شعروں میں ایک لفظ کو دو بار یا دو سے زیادہ بار دہرایا جائے، اسے صنعتِ تکرار کہتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے: بچا بچا بوتا بوتا حال ہمارا جانے ہے / جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے۔ صنعتِ تضاد: علمِ بدیع کی اصطلاح میں کلام میں ایسے الفاظ استعمال کرنا جو ایک دوسرے کے متضاد یا الٹ ہوں، صنعتِ تضاد کہلاتا ہے۔ مثلاً: ہزار مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سے / اگر نصیب ترے کوچے کی گدائی ہو — اس شعر میں "بادشاہی" اور "گدائی" کے الفاظ ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔

تلخیص نگاری : تلخیص نگاری سے مراد کسی اقتباس یا عبارت کا خلاصہ اس طرح بیان کرنا ہے کہ اس کا اختصار تقریباً ایک تہائی الفاظ میں ظاہر ہو جائے۔ تلخیص کرتے وقت درج ذیل امور کا خیال رکھنا ضروری ہے: تلخیص اصل جملے یا اقتباس کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو۔ تلخیص میں مترادف الفاظ کا استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ اصل جملے کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ تلخیص میں تشبیہ شامل نہیں دی کرتے۔ اگر تلخیص میں ایک یا دو اسم معرفہ قبل کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں تو وہ تلخیص میں ضرور آ جائیں گے۔ تلخیص کا عمل تشریح کا متقاضی ہوتا ہے، یعنی کم از کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ مفہوم ادا کیا جاتا ہے۔

ENGLISH

Ilm-e-Badee : Ilm-e-Badee is the science of the beauty of speech. In the terminology of Urdu literature, Ilm-e-Badee is the name of that knowledge by which the beauty of speech is known. There are two kinds of Ilm-e-Badee: Sanai-e-Lafzi (verbal arts) and Sanai-e-Manwi (semantic arts). Here only three kinds are described: Sanat-e-Talmih: in the terminology of literature, to point towards a famous event, person, place or story is called talmih - for example: "Ibn-e-Maryam hua kare koi, mere dukh ki dawa kare koi" - in this she'r, "Ibn-e-Maryam" is a talmih towards Hazrat Isa (AS), who used to bring the dead to life with the permission of Allah. Sanat-e-Takrar: ان تھے terminology of literature, تو repeat a word two اور more times ان one she'r اس called تکرار - for example: "بچہ بچہ بوتا بوتا حال ہمارا جانے ہے, جانے نہ جانے gul ہی نہ جانے, باغ تو سارا جانے ہے". Sanat-e-Tazad: ان تھے terminology of علمِ بدیع, تو use ان speech such words which are opposite تو each other ان meaning اس called تضاد - for example: "Hazar مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سے, اگر نصیب تیرے kooche کی gadaai ہو" - ان this she'r, تھے words "badshahi" and "gadaai" are opposite تو each other.

Talkhees-Nigari : talkhees means to state the summary of an excerpt or passage in such a way that its summary is about one-third of the original words. While writing a talkhees, keep these points in mind: the talkhees should not be more than one-third of the original excerpt; in a talkhees, synonyms are not used, but the words of the original are used; in a talkhees, tashbeeh is not included; if a name or a proper noun is used in the talkhees, it must be included in the talkhees; the talkhees should be a complete and coherent whole, so that more meaning is conveyed in fewer words.

علمِ بدیع
Ilm-e-Badee se samjho: کلام کی خوب صورتی کا علم — تکرار, تلمیح اور تضاد اس کی مثالیں ہیں.
📝 Exercise Questions — with Answersمشق سوالات — جوابات کے ساتھ
ماخذ

نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔

SOURCE

Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.

Fill the Misra & Short Answers۱–۲۔ مصرعے مکمل کریں اور سوالوں کے جواب لکھیں
QUESTIONS + ANSWERS
(الف) تیری ہی ذات ______

جواب: تیری ہی ذات اول و آخر۔

(ب) ______ ، ربِ رحیم

جواب: رازقِ کائنات، ربِ رحیم۔

(ج) تیرا ہی آسرا ______

جواب: تیرا ہی آسرا ہے، ربِ کریم۔

(د) ______ کے ساتھ جس نے بھی

جواب: ایمانِ کامل کے ساتھ جس نے بھی۔

(ہ) جس نے اس ______ کو

جواب: جس نے اس قادرِ حقیقی کو۔

(الف) شاعر نے کس کا آسرا ڈھونڈا ہے؟

جواب: اللہ کا آسرا — تیرا ہی آسرا ہے، ربِ کریم۔

(ب) شاعر کے نزدیک دوسروں پر فوقیت کس کو ملتی ہے؟

جواب: جس نے اپنی ہستی کو پہچانا — فوقیت اس کو دوسروں پہ ملی، اپنی ہستی کو اس نے پہچانا۔

(ج) شاعر نے "تو ہی اعلیٰ ہے اور تو ہی علیم" کیوں کہا ہے؟

جواب: اللہ کی صفات بیان کرنے کے لیے — وہی اعلیٰ ہے اور وہی علیم ہے، یعنی اللہ ہی سب سے بلند اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

(د) "شش جہات" سے کون کون سی جہت مراد ہے؟

جواب: چھ جہتیں: اوپر، نیچے، آگے، پیچھے، دائیں، بائیں — اللہ چھوں جہتوں کا والی ہے۔

(ہ) شاعر نے گوہرِ بے بہا کو چھوڑ کر کس چیز سے اپنا دامن بھر لیا ہے؟

جواب: سنگ ریزوں سے — سنگ ریزوں سے بھر لیا دامن، گوہرِ بے بہا کو چھوڑ دیا۔

(و) شاعر کی کشتی کے رخ کو کس چیز نے موڑ دیا ہے؟

جواب: موجِ طوفانِ مصیبت نے — موجِ طوفانِ مصیبت نے آدھا، میری کشتی کے رخ کو موڑ دیا۔

Matching, Sentences, Sanat & Talkhees۳–۶۔ کالم ملانا، جملے، صنعت اور تلخیص
QUESTIONS + ANSWERS
کالم (الف) کو کالم (ب) کے ساتھ اس طرح ملائیں کہ نظم "پیامِ لطیف" کے مصرعے مکمل ہو جائیں: (الف) تیرا ہی آسرا ہے / تو ہی اعلیٰ ہے / فوقیت اس کو / رازقِ کائنات / سنگ ریزوں سے / اپنی غفلت سے — (ب) اور تو ہی علیم / دوسروں پہ ملی / ربِ کریم / بھر لیا دامن / میں نے توڑ دیا / ربِ رحیم

جواب: تیرا ہی آسرا ہے — ربِ کریم؛ تو ہی اعلیٰ ہے — اور تو ہی علیم؛ فوقیت اس کو — دوسروں پہ ملی؛ رازقِ کائنات — ربِ رحیم؛ سنگ ریزوں سے — بھر لیا دامن؛ اپنی غفلت سے — میں نے توڑ دیا۔

نظم "پیامِ لطیف" کے درج ذیل الفاظ کو اپنے جملوں میں اس طرح استعمال کریں کہ ان کی تذکیر و تانیث واضح ہو جائے: آسرا، تمنا، توصیف، رازق، دنیا، موج، عہد، کشتی — مشق

مشق (کوئی ایک جواب نہیں): آسرا (مذکر)، تمنا (مونث)، توصیف (مونث)، رازق (مذکر)، دنیا (مونث)، موج (مونث)، عہد (مذکر)، کشتی (مونث) — اپنے جملے خود بنائیں اور تذکیر و تانیث کا خیال رکھیں۔

درج ذیل اشعار میں نشان دہی کریں کہ صنعتِ تلمیح، صنعتِ تکرار یا صنعتِ تضاد میں سے کون سی صنعت استعمال ہوئی ہے: (الف) مری قدر کر اے زمیں، سخن / تجھے بات میں آسماں کر دیا (ب) کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب / آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوئے طور کی (ج) دمن پر ہیں ان کے گماں کے کیسے کیسے / کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے

جواب: (ج) صنعتِ تکرار — "کیسے کیسے" دو بار دہرایا گیا ہے۔ (الف) اور (ب) Khud Azmai — ان اشعار میں صنعت کی نشان دہی کتاب کے علمِ بدیع والے حصے کی روشنی میں خود کریں اور اپنے جواب استاد سے چیک کرائیں۔

درج ذیل جملوں کی تلخیص کریں: (الف) جنابِ عالی! آپ کی ہر بات پر سرِ تسلیم خم کرتا ہوں۔ (ب) ہم نے احمد سے زیادہ عدل و انصاف، جرات و بہادری، لطف و کرم اور حلم و بردباری والا شخص نہیں دیکھا — مشق

مشق (مثال): (الف) میں آپ کی ہر بات تسلیم کرتا ہوں۔ (ب) ہم نے احمد سے زیادہ عادل و بہادر شخص نہیں دیکھا۔ تلخیص اصل جملے کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو، اس میں مترادف الفاظ استعمال نہ ہوں، اور تشبیہ شامل نہ کی جائے۔

📌 خلاصہ و رہنمائی — اس سبق میں کیا ہے؟
خلاصہ

اس سبق میں Shah Abdul Latif Bhitai کا تعارف، Poem Text & Central Idea اور Ilm-e-Badee & Talkhees-Nigari سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: شاعر اور مترجم کا تعارف، نظم کا متن اور مرکزی خیال، علمِ بدیع اور تلخیص نگاری۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔

نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔

SUMMARY

This chapter covers the introduction of Shah Abdul Latif Bhitai, Poem Text & Central Idea and Ilm-e-Badee & Talkhees-Nigari. It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).

Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.

🎯 مزید Tests کے لیے

Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.

PunjabTest.com — Tests →

PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 14 (Payam-e-Latif) • English + Urdu • Session 2026–27

← Chapter 13Chapter 15 →