
میر تقی میر (۱۷۲۳ء–۱۸۱۰ء) "خدائے سخن" کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ آگرہ میں پیدا ہوئے۔ آپ اردو کے پہلے عظیم غزل گو شاعر اور دلی اسکول کے بانی ہیں۔ ان کی زندگی غموں سے بھری ہوئی تھی: انہوں نے دلی کی تباہی، نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں، اور مغل دارالحکومت کی بربادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بڑھاپے میں نواب آصف الدولہ کی دعوت پر لکھنؤ گئے، جہاں ۱۸۱۰ء میں وفات پائی۔
میر نے اردو غزلوں کے چھ دیوان، ایک فارسی دیوان، اور اپنی آپ بیتی "ذکرِ میر" لکھی۔ ان کی شاعری میں سادگی، خلوص اور گہرے جذبات پائے جاتے ہیں۔ غالب نے ان کے بارے میں کہا ہے: "ریختے کے تمہی استاد نہیں ہو غالب، کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا۔" شاملِ کتاب غزل "کلیاتِ غزلیاتِ میر" سے لی گئی ہے، جس کی ردیف "کر چلے" ہے۔
Mir Taqi Mir (1723-1810), known as "Khuda-e-Sukhan" (God of Poetry), was born in Agra. He is the first great ghazal poet of Urdu and the founder of the Delhi school of Urdu poetry. His life was full of sorrows: he saw the decline of Delhi, the invasions of Nadir Shah and Ahmad Shah Abdali, and the ruin of the Mughal capital. In his old age he went to Lucknow at the invitation of Nawab Asaf-ud-Daula, where he died in 1810.
Mir wrote six دیوان of Urdu غزلیں, a Persian دیوان, and his autobiography "ذکر-e-Mir". His poetry اس marked by simplicity, sincerity and deep feeling. غالب said about him: "ریختے کے تمہی استاد نہیں ہو غالب, کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی Mir بھی تھا." تھے غزل included ان this book اس from "کلیاتِ غزلیات-e-Mir", with تھے ردیف "کر چلے".
اس غزل کی ردیف "کر چلے" ہے اور قافیہ: صدا، دعا، وفا، دعا، جدا، ادا، دکھا، کیا ہے۔ اس کا مرکزی خیال شاعر کی فقیرانہ رخصت ہے: وہ فقیرانہ آیا، صدا کر چلا؛ دوسروں کی خوشی کی دعا دے کر چلا؛ اپنے محبت کے عہد کو وفا کر چلا؛ اپنی بندگی کا حق اس پیشانی سے ادا کر چلا جو سجدے کرتے کرتے گئی؛ اس بات کا شکر ادا کیا کہ اس نے دوستوں کا غم نہ دیکھا، اور اپنا داغ دکھا کر چلا۔ مقطع میں وہ کہتا ہے: کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر، جہاں میں تم آئے تھے، کیا کر چلے۔
غزل کا متن :
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو، ہم دعا کر چلے
جو تجھ بن نہ جینے کو جیتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے
شفا اپنی تقدیر میں نہ تھی
کہ مقدور تک تو دعا کر چلے
دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی
حقِ بندگی ہم ادا کر چلے
نہ دیکھا غمِ دوستاں، شکر ہے
ہمیں داغ اپنا دکھا کر چلے
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے، کیا کر چلے
The ghazal has the radeef "kar chale" and the qafia: sada, dua, wafa, dua, juda, ada, dikha, kya. Its central idea is the faqirana (dervish-like) departure of the poet: he came like a faqir, gave a call (sada), and went away; he leaves with a prayer for others happiness, faithful to his promise of love, and with his duty of servitude (haq-e-bandagi) fulfilled by a forehead that kept prostrating. He is thankful that he did not see the grief of friends, and he showed his own wound (dagh) and went away. In the maqta, he asks: if someone asks Mir what he did in this world, what will he say - he came and went away.
Ghazal text :
Faqirana aaye sada kar chale;
Miyan khush raho, hum dua kar chale.
Jo tujh bin na jeene ko jeete the hum;
So is ahd ko ab wafa kar chale.
شفا اپنی تقدیر میں نہ تھی;
Ke maqdoor tak to dua kar chale.
Dikhai diye yun ke be-khud kiya;
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے.
Jabeen sajda karte hi karte gayi;
Haq-e-bandagi hum ada kar chale.
نہ دیکھا غم-e-dostan, شکر ہے;
ہمیں dagh اپنا دکھا کر چلے.
Kaheen kya jo poochhe koi hum se Mir;
جہاں میں تم آئے تھے, کیا کر چلے.
مطلع: غزل کا پہلا شعر، جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف ایک جیسے ہوں — یہاں: "فقیرانہ آئے صدا کر چلے / میاں خوش رہو، ہم دعا کر چلے"۔ مقطع: غزل کا آخری شعر، جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے — یہاں: "کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر / جہاں میں تم آئے تھے، کیا کر چلے" (تخلص: میر)۔ قافیہ: ردیف سے پہلے آنے والے ہم آواز الفاظ — یہاں: صدا، دعا، وفا، دعا، جدا، ادا، دکھا، کیا۔ ردیف: ہر شعر میں قافیہ کے بعد دہرائے جانے والے الفاظ — یہاں: "کر چلے"۔
Matla: the first she'r of a ghazal, in which both misre have the same qafia and radeef - here: "Faqirana aaye sada kar chale / Miyan khush raho, hum dua kar chale". Maqta: تھے last she'r of a غزل, ان which تھے poet uses his تخلص (pen name) - here: "Kaheen کیا جو پوچھے کوئی ہم سے Mir / جہاں میں تم آئے تھے, کیا کر چلے" (takhallus: Mir). Qafia: the rhyming words before the radeef - here: sada, dua, wafa, dua, juda, ada, dikha, kya. Radeef: the word or words repeated after the qafia in every she'r - here: "kar chale".
نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
جواب: "میاں خوش رہو، ہم دعا کر چلے" — شاعر نے فقیرانہ انداز میں دوسروں کی خوشی کی دعا دی ہے۔
جواب: "سو اس عہد کو اب وفا کر چلے" — جو تجھ بن نہ جینے کو جیتے تھے ہم، سو اس عہد کو اب وفا کر چلے۔
جواب: کیونکہ شفا اس کی تقدیر میں نہ تھی — شفا اپنی تقدیر میں نہ تھی، کہ مقدور تک تو دعا کر چلے۔
جواب: جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی — حقِ بندگی ہم ادا کر چلے۔
جواب: اس بات کا کہ اس نے دوستوں کا غم نہ دیکھا — نہ دیکھا غمِ دوستاں، شکر ہے، ہمیں داغ اپنا دکھا کر چلے۔
جواب: شفا اپنی تقدیر میں نہ تھی، کہ مقدور تک تو دعا کر چلے۔
جواب: دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا، ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے۔
جواب: جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی۔
جواب: حقِ بندگی ہم ادا کر چلے۔
جواب: نہ دیکھا غمِ دوستاں، شکر ہے۔
جواب: مطلع غزل کا پہلا شعر ہے جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف ایک جیسے ہوں — "فقیرانہ آئے صدا کر چلے / میاں خوش رہو، ہم دعا کر چلے"۔ مقطع غزل کا آخری شعر ہے جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے — "کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر / جہاں میں تم آئے تھے، کیا کر چلے"۔
جواب: قافیہ ردیف سے پہلے آنے والے ہم آواز الفاظ ہیں — یہاں: صدا، دعا، وفا، دعا، جدا، ادا، دکھا، کیا۔ ردیف ہر شعر میں قافیہ کے بعد دہرائے جانے والے الفاظ ہیں — یہاں: "کر چلے"۔
مشق (کوئی ایک جواب نہیں): صدا (مونث)، عہد (مذکر)، تقدیر (مونث)، شفا (مونث)، جبیں (مونث)، سجدہ (مذکر)، غمِ دوستاں (مذکر)، داغ (مذکر) — اپنے جملے خود بنائیں۔
اس سبق میں Mir Taqi Mir کا تعارف، Ghazal Text & Central Idea اور Matla, Maqta, Qafia & Radeef سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: شاعر کا تعارف، غزل کا متن اور مرکزی خیال، مطلع، مقطع، قافیہ اور ردیف۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔
This chapter covers the introduction of Mir Taqi Mir, Ghazal Text & Central Idea and Matla, Maqta, Qafia & Radeef. It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).
Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 16 (Faqirana Aaye Sada Kar Chale) • English + Urdu • Session 2026–27