Class 9 Urdu Chapter 18 Complete Guide Book — غم ہے یا خوشی ہے تو | PunjabTest.com

Class 9 Urdu Chapter 18 — غم ہے یا خوشی ہے تو
Home > PunjabTest.com > Class 9 > Urdu — all chapters > Chapter 18: غم ہے یا خوشی ہے تو

اس chapter میں topics (Topics in this chapter)

ماخذ (Source): نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source: Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
1. Poet Introductionشاعر کا تعارف
🏷 Tags: ناصر کاظمی, غم ہے یا خوشی ہے تو, Poet Introduction, ناصر کاظمی, Class 9 Urdu, Chapter 18
اردو

ناصر کاظمی (۱۹۲۵ء–۱۹۷۲ء) انبالہ (مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ۱۹۴۷ء میں لاہور آ گئے، جہاں انہوں نے اپنی باقی زندگی گزاری۔ وہ رسالے "ہمایوں" کے مدیر رہے اور ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ رہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں "برگِ نئے"، "دیوان"، "پہلی بارش"، "نشاطِ فرید" اور "ہجر کی رات کا ستارہ" شامل ہیں۔ ان کی کلیات "کلیاتِ ناصر کاظمی" کے نام سے شائع ہوئی ہے۔

ناصر کاظمی کا شمار جدید غزل کے شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری سادہ، موسیقیت سے بھرپور اور ہجر و فراق کے غم سے لبریز ہے۔ ان کی غزلیں بظاہر آسان نظر آتی ہیں، لیکن ان کا کہنا بہت مشکل ہوتا ہے، اور مثال کے طور پر ناصر کاظمی کی یہ غزل سہلِ ممتنع کی خوب صورت مثال ہے۔ شاملِ کتاب غزل "کلیاتِ ناصر کاظمی" سے لی گئی ہے، جس کی ردیف "ہے تو" ہے۔

ENGLISH

Nasir Kazmi (1925-1972) was born in Ambala (East Punjab). After the Partition in 1947, he migrated to Lahore, where he spent the rest of his life. He worked as an editor of the magazine "Humayun" and in Radio Pakistan. His poetry collections include "Barg-e-Nai", "Deewan", "Pehli Barish", "Nash-e-Faryad" and "Hijr ki Raat ka Sitara". His complete works are collected in "Kulliyat-e-Nasir Kazmi".

ناصر کاظمی اس counted among تھے modern poets of Urdu غزل. His poetry اس simple, musical and full of تھے sorrows of separation (hijr) and تھے pain of migration. His غزلیں look easy تو understand, but they are very difficult تو write - as تھے book says, a she'r which looks easy اس actually very difficult تو compose, and this غزل اس a good example of that simple-looking غزل. تھے غزل included ان this book اس from "کلیاتِ ناصر کاظمی", with تھے ردیف "ہے تو".

ناصر کاظمی
Nasir Kazmi se samjho: Ambala میں پیداکرنے ہوئے, 1947 کے بعد Lahore آ گئے اور ہمایوں کے editor رہے.
2. Ghazal Text & Central Ideaغزل کا متن اور مرکزی خیال
🏷 Tags: ناصر کاظمی, غم ہے یا خوشی ہے تو, غزل Text & Central Idea, غزل, Class 9 Urdu, Chapter 18
اردو

اس غزل کی ردیف "ہے تو" ہے اور قافیہ: خوشی، زندگی، گھڑی، چراغ، شام، بہار، دوستی، کمی، وہی، اجنبی ہے۔ اس کا مرکزی خیال محبوب کی حیثیت ہے: غم ہے یا خوشی ہے تو، میری زندگی ہے تو۔ آفتوں کے دور میں چین کی گھڑی ہے تو۔ شاعر خزاں کی شام ہے، اور محبوب رتِ بہار ہے۔ دوستوں کے درمیاں وجہِ دوستی ہے تو۔ میری ساری عمر میں ایک ہی کمی ہے تو۔ میں تو وہ نہیں رہا، ہاں مگر وہی ہے تو۔ ناصر اس دیار میں کتنا اجنبی ہے تو۔

غزل کا متن :
غم ہے یا خوشی ہے تو
میری زندگی ہے تو
آفتوں کے دور میں
چین کی گھڑی ہے تو
میری رات کا چراغ
میری نیند بھی ہے تو
میں خزاں کی شام ہوں
رت بہار کی ہے تو
دوستوں کے درمیاں
وجہ دوستی ہے تو
میری ساری عمر میں
ایک ہی کمی ہے تو
میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ہے تو
ناصر اس دیار میں
کتنا اجنبی ہے تو

ENGLISH

تھے غزل has تھے ردیف "ہے تو" and تھے قافیہ: خوشی, زندگی, گھڑی, چراغ, شام, bahaar, دوستی, کمی, وہی, اجنبی. Its central idea اس تھے beloved as تھے whole life of تھے poet: whether it اس grief اور happiness, it اس you; you are my life. ان تھے time of troubles, you are تھے moment of peace. تھے poet اس تھے evening of autumn (خزاں کی شام), and تھے beloved اس تھے season of spring (rut-e-باہر). Among friends, you are تھے reason for friendship. ان my whole life, you are تھے only lack. I am not تھے same as I was, but you are still تھے same. ناصر, ان this land, how strange (ajnabi) you are.

Ghazal text :
غم ہے یا خوشی ہے تو;
میری زندگی ہے تو.
Aafton کے دور میں;
Chain کی گھڑی ہے تو.
Meri raat ka chiragh;
میری نیند بھی ہے تو.
Main khizan ki shaam hun;
Rut bahaar کی ہے تو.
Doston ke darmiyan;
وجہِ دوستی ہے تو.
میری ساری عمر میں;
ایک ہی کمی ہے تو.
میں تو وہ نہیں رہا;
ہاں مگر وہی ہے تو.
ناصر اس dayar میں;
کتنا اجنبی ہے تو.

غزل
Markazi khayal se samjho: محبوب ہی شعر کی زندگی ہے — غم ہو یا خوشی, وہی ہے.
3. Matla, Sanat & Tashreehمطلع، صنعت اور تشریح
🏷 Tags: ناصر کاظمی, غم ہے یا خوشی ہے تو, مطلع, صنعت & تشریح, صنعتِ تضاد, Class 9 Urdu, Chapter 18
اردو

مطلع: "غم ہے یا خوشی ہے تو / میری زندگی ہے تو" — دونوں مصرعوں میں قافیہ (خوشی، زندگی) اور ردیف (ہے تو) ایک جیسے ہیں۔ مطلع میں صنعت: "غم" اور "خوشی" ایک دوسرے کے متضاد ہیں، اس لیے مطلع میں صنعتِ تضاد استعمال ہوئی ہے۔

شعر کی تشریح : "میں خزاں کی شام ہوں / رت بہار کی ہے تو" — شاعر کہتا ہے کہ وہ خود خزاں کی شام کی طرح ہے (زوال، اداسی اور جدائی کا وقت)، جب کہ محبوب رتِ بہار کی طرح ہے (تازگی، خوشی اور زندگی کا موسم)۔ خزاں اور بہار کا تضاد شاعر کی حالت اور محبوب کی حالت کے فرق کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ بھی صنعتِ تضاد کی مثال ہے۔

ENGLISH

Matla: "غم ہے یا خوشی ہے تو / میری زندگی ہے تو" - both مصرعے have تھے same قافیہ (خوشی, زندگی) and ردیف (ہے تو). Sanat in the matla: the words "gham" and "khushi" are opposite to each other, so the matla uses Sanat-e-Tazad (the art of using opposite words together).

Tashreeh of the she'r : "میں خزاں کی شام ہوں / Rut bahaar کی ہے تو" - تھے poet says that he himself اس like تھے evening of autumn (a time of decline, sadness and parting), while تھے beloved اس like تھے season of spring (a time of freshness, happiness and life). تھے contrast between خزاں (autumn) and bahaar (spring) shows تھے difference between تھے poet state and تھے beloved state, and it اس also an example of صنعتِ تضاد.

صنعتِ تضاد
Sanat-e-Tazad se samjho: غم اور خوشی جیسے متضاد لفظ ایک شعر میں آئیں تو تضاد کی صنعت بنتی ہے.
📝 Exercise Questions — with Answersمشق سوالات — جوابات کے ساتھ
ماخذ

نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔

SOURCE

Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.

Short Answers & Matching۱–۲۔ سوالوں کے جواب اور کالم ملانا
QUESTIONS + ANSWERS
(الف) "غم ہے یا خوشی" شاعر نے ہر حال میں زندگی کو کیسے قرار دیا ہے؟

جواب: میری زندگی ہے تو — غم ہے یا خوشی ہے تو، میری زندگی ہے تو۔ شاعر کے نزدیک محبوب ہی اس کی زندگی ہے، چاہے غم ہو یا خوشی۔

(ب) شاعر نے آفتوں کے دور میں چین کی گھڑی کسے کہا ہے؟

جواب: محبوب کو — آفتوں کے دور میں چین کی گھڑی ہے تو۔

(ج) شاعر نے اپنے آپ کو خزاں کی شام کیوں کہا ہے؟

جواب: کیونکہ وہ خود خزاں کی شام ہے اور محبوب رتِ بہار ہے — میں خزاں کی شام ہوں، رت بہار کی ہے تو۔ شاعر اپنی اداسی اور زوال کو خزاں کی شام سے تشبیہ دیتا ہے۔

(د) شاعر نے اپنے آپ کو دوستوں کے درمیاں وجہِ دوستی کیوں قرار دیا ہے؟ — Khud Azmai

خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔

(ہ) شاعر نے اس دیار میں اپنے آپ کو اجنبی کیوں کہا ہے؟

جواب: کیونکہ وہ اس دیار میں اجنبی ہے — ناصر اس دیار میں کتنا اجنبی ہے تو۔ شاعر اس دیار میں اپنے آپ کو اجنبی محسوس کرتا ہے۔

کالم (الف) کے مصرعِ اول کو کالم (ب) کے مصرعِ ثانی کے ساتھ اس طرح ملائیں کہ شعر مکمل ہو جائے: (الف) غم ہے یا خوشی ہے تو / آفتوں کے دور میں / میری رات کا چراغ / میں خزاں کی شام ہوں / میں تو وہ نہیں رہا — (ب) چین کی گھڑی ہے تو / رت بہار کی ہے تو / ہاں مگر وہی ہے تو / میری زندگی ہے تو / میری نیند بھی ہے تو

جواب: غم ہے یا خوشی ہے تو — میری زندگی ہے تو؛ آفتوں کے دور میں — چین کی گھڑی ہے تو؛ میری رات کا چراغ — میری نیند بھی ہے تو؛ میں خزاں کی شام ہوں — رت بہار کی ہے تو؛ میں تو وہ نہیں رہا — ہاں مگر وہی ہے تو۔

Sentences, Sanat & Tashreeh۳–۵۔ جملے، صنعت اور تشریح
QUESTIONS + ANSWERS
درج ذیل الفاظ و تراکیب کو اپنے جملوں میں اس طرح استعمال کریں کہ ان کا مفہوم واضح ہو جائے: چین کی گھڑی، خزاں، رت، وجہِ دوستی، دیار، اجنبی — مشق

مشق (کوئی ایک جواب نہیں): چین کی گھڑی = سکون کا لمحہ؛ خزاں = پت جھڑ کا موسم؛ رت = موسم؛ وجہِ دوستی = دوستی کی وجہ؛ دیار = علاقہ/وطن؛ اجنبی = غیر/نامانوس۔ اپنے جملے خود بنائیں۔

شاعر نے اپنی غزل کے مطلع میں کون سی صنعت استعمال کی ہے؟ نشان دہی کریں

جواب: صنعتِ تضاد — مطلع میں "غم" اور "خوشی" ایک دوسرے کے متضاد الفاظ ایک ساتھ استعمال ہوئے ہیں۔

درج ذیل شعر کی تشریح کریں: میں خزاں کی شام ہوں / رت بہار کی ہے تو

جواب: شاعر کہتا ہے کہ وہ خود خزاں کی شام کی طرح ہے (اداسی، زوال اور جدائی)، جب کہ محبوب رتِ بہار کی طرح ہے (تازگی، خوشی اور زندگی)۔ خزاں اور بہار کا تضاد شاعر کی حالت اور محبوب کی حالت کے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

📌 خلاصہ و رہنمائی — اس سبق میں کیا ہے؟
خلاصہ

اس سبق میں Nasir Kazmi کا تعارف، Ghazal Text & Central Idea اور Matla, Sanat & Tashreeh سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: شاعر کا تعارف، غزل کا متن اور مرکزی خیال، مطلع، صنعت اور تشریح۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔

نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔

SUMMARY

This chapter covers the introduction of Nasir Kazmi, Ghazal Text & Central Idea and Matla, Sanat & Tashreeh. It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).

Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.

🎯 مزید Tests کے لیے

Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.

PunjabTest.com — Tests →

PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 18 (غم ہے یا خوشی ہے تو) • English + Urdu • Session 2026–27

← Chapter 17Chapter 19 →