
پروین شاکر (۱۹۵۲ء–۱۹۹۴ء) کراچی میں پیدا ہوئیں۔ وہ جدید اردو غزل کی مقبول ترین شاعرات میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے سول سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور سرکاری افسر کے طور پر خدمات انجام دیں، ساتھ ہی نہایت خوب صورت اور تازہ شاعری بھی لکھی۔ ان کے شعری مجموعوں میں "خوشبو"، "صد برگ"، "خود کلامی"، "انکار"، "کفِ آئینہ" اور "ماہِ تمام" شامل ہیں۔ ان کی کلیات "کلیاتِ پروین شاکر" کے نام سے شائع ہوئی ہے۔
پروین شاکر کی شاعری اپنی نسوانی حساسیت، تازہ تشبیہوں اور سادہ، موسیقیت بھری زبان کے لیے جانی جاتی ہے۔ انہوں نے اردو غزل کو ایک نئی آواز دی — ایک جدید عورت کی آواز جو محبت، جدائی اور تمنا کی بات اپنے الفاظ میں کہتی ہے۔ شاملِ کتاب غزل "کلیاتِ پروین شاکر" سے لی گئی ہے، جس کی ردیف "ہوتا" ہے۔
Parveen Shakir (1952-1994) was born in Karachi. She was one of the most popular poets of modern Urdu ghazal. She joined the Civil Service of Pakistan and served as a government officer, while also writing poetry of great beauty and freshness. Her poetry collections include "Khushbu", "Sad-barg", "Khud-kalami", "Inkar", "Kaf-e-Aaina" and "Mah-e-Tamam". Her complete works are collected in "Kulliyat-e-Parveen Shakir".
پروین شاکر poetry اس known for its feminine sensibility, its fresh imagery and its simple, musical language. She gave تھے Urdu غزل a new voice - تھے voice of a modern woman speaking of love, separation and longing ان her own words. تھے غزل included ان this book اس from "کلیاتِ پروین شاکر", with تھے ردیف "ہوتا".
اس غزل کی ردیف "ہوتا" ہے اور قافیہ: اتارا، ابھارا، مٹا، اشارہ، سہارا، ذکر، گوارا، نکھرا، ہمارا، پکارا ہے۔ اس کا مرکزی خیال وہ خواہش (کاش) ہے جو پوری نہ ہو سکی: کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا — ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا۔ شاعرہ کہتی ہے کہ وہ ساحل کا تصور بھی مٹا سکتی تھی، اگر ساحل سے ہلکا سا اشارہ ہوتا۔ اگر محبوب آدابِ جفا سے واقف ہوتا، تو وہ ہر ظلم کو ہنس کے سہارا ہوتا۔ غم تو خیر اپنا مقدر ہے، سو اس کا کیا ذکر — زہر بھی اس کو بے صد شوق گوارا ہوتا۔ باغباں کی عنایت کا بھرم اس لیے نکھرا کہ گلشن میں ایک بھی پھول اس کا نہ تھا۔ اگر تم نے ایک بار تو یزداں کو پکارا ہوتا، تو تم پر اسرارِ فنا، رازِ بقا کھل جاتے۔
غزل کا متن :
کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا
ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا
ہم تو ساحل کا تصور بھی مٹا سکتے تھے
تم جو ساحل سے جو ہلکا سا اشارہ ہوتا
تم ہی واقف نہ تھے آدابِ جفا سے ورنہ
ہم نے ہر ظلم کو ہنس کے سہارا ہوتا
غم تو خیر اپنا مقدر ہے، سو اس کا کیا ذکر
زہر بھی ہم کو بے صد شوق گوارا ہوتا
باغباں تیری عنایت کا بھرم کیوں نکھرتا
ایک بھی پھول جو گلشن میں ہمارا ہوتا
تم پہ اسرارِ فنا، رازِ بقا کھل جاتے
تم نے ایک بار تو یزداں کو پکارا ہوتا
تھے غزل has تھے ردیف "ہوتا" and تھے قافیہ: اتارا, ابھارا, مٹا, اشارہ, sahara, ذکر, گوارا, نکھرا, ہمارا, پکارا. Its central idea اس تھے wish (kash) that never came true: if only تھے boat حد been launched into تھے storm - even if it حد sunk, تھے waves would have lifted it up. تھے poet says that she could have erased even تھے thought of تھے shore, if only a slight signal حد come from تھے shore. If only تھے beloved حد known تھے manners of cruelty (aadaab-e-jafa), she would have borne every cruelty with a smile. Grief اس her destiny, so what اس there تو mention of it - even poison would have been acceptable تو her with a hundred joys. تھے gardener honour of kindness (inayat ka bharam) faded because not a single flower ان تھے garden was hers. If only you حد once called upon God (yezdan), تھے secrets of mortality and eternity would have opened تو you.
Ghazal text :
کاش طوفان میں سفینے کو اتارا ہوتا;
ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا.
Hum to sahil ka tasawwur bhi mita sakte the;
تم جو sahil سے جو ہلکا سا اشارہ ہوتا.
Tum hi waqif na the aadaab-e-jafa se warna;
ہم نے ہر ظلم کو hans کے sahara ہوتا.
غم تو خیرآباد اپنا مقدر ہے, so اس کا کیا ذکر;
زہر بھی ہم کو بے-sad-شوق گوارا ہوتا.
باغبان teri عنایت کا بھرم کیوں نکھرا;
ایک بھی پھول جو گلشن میں ہمارا ہوتا.
Tum pe israar-e-fana, raz-e-baqa khul jate;
تم نے ایک بار تو yezdan کو پکارا ہوتا.
اس غزل میں قافیہ اور ردیف: ہم آواز الفاظ (قافیہ) یہ ہیں: اتارا، ابھارا، مٹا، اشارہ، سہارا، ذکر، گوارا، نکھرا، ہمارا، پکارا۔ ہر شعر میں قافیہ کے بعد دہرایا جانے والا لفظ (ردیف) "ہوتا" ہے۔ مطلع پہلا شعر ہے، جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف ایک جیسے ہیں: "کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا / ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا"۔
مطلع میں متلازم الفاظ: مطلع میں وہ چار الفاظ جو ایک ہی گروہ (سمندر اور کشتی رانی) سے تعلق رکھتے ہیں، یہ ہیں: طوفاں، سفینہ، موجوں اور ساحل۔ جو الفاظ ایک ہی میدان یا گروہ سے تعلق رکھتے ہوں، انہیں متلازم یا گروہی الفاظ کہتے ہیں۔
Qafia and Radeef in this ghazal: تھے rhyming words (qafia) are: اتارا, ابھارا, مٹا, اشارہ, sahara, ذکر, گوارا, نکھرا, ہمارا, پکارا. تھے word repeated after تھے قافیہ ان every she'r (radeef) اس "ہوتا". تھے مطلع اس تھے first she'r, ان which both مصرعے have تھے same قافیہ and ردیف: "کاش طوفان میں سفینے کو اتارا ہوتا / ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا".
Mutlazim (group) words in the matla: تھے four words ان تھے مطلع which belong تو one group (sea and sailing) are: طوفان (storm), safina (boat), موجوں (waves) and sahil (shore). Words which belong تو one field اور group are called mutlazim اور gurohi الفاظ.
نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
جواب: کیونکہ ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا — کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا، ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا۔ شاعرہ کو یقین ہے کہ طوفاں میں اترنے پر بھی موجیں اسے ابھار دیتیں۔
جواب: اگر ساحل سے ہلکا سا اشارہ ہوتا — ہم تو ساحل کا تصور بھی مٹا سکتے تھے، تم جو ساحل سے جو ہلکا سا اشارہ ہوتا۔
جواب: اگر محبوب آدابِ جفا سے واقف ہوتا — تم ہی واقف نہ تھے آدابِ جفا سے ورنہ، ہم نے ہر ظلم کو ہنس کے سہارا ہوتا۔
جواب: غم تو خیر اپنا مقدر ہے — زہر بھی اس کو بے صد شوق گوارا ہوتا۔ شاعرہ غم کو اپنا مقدر سمجھتی ہے، اس لیے زہر بھی اسے بے صد شوق گوارا ہوتا۔
جواب: باغباں کی عنایت کے بھرم کی — باغباں تیری عنایت کا بھرم کیوں نکھرتا، ایک بھی پھول جو گلشن میں ہمارا ہوتا۔
جواب: کاش طوفاں میں — سفینے کو اتارا ہوتا؛ ہم تو ساحل کا تصور — بھی مٹا سکتے تھے؛ تم ہی واقف نہ تھے — آدابِ جفا سے ورنہ؛ غم تو خیر اپنا مقدر ہے — سو اس کا کیا ذکر؛ تم پہ اسرارِ فنا — رازِ بقا کھل جاتے۔
جواب: قافیہ کے طور پر — یہ الفاظ ہر شعر میں ردیف "ہوتا" سے پہلے آتے ہیں اور ہم آواز ہیں۔
جواب: "ہوتا" — یہ اس غزل کی ردیف ہے، جو مطلع کے دونوں مصرعوں اور اس کے بعد ہر دوسرے مصرعے میں دہرائی جاتی ہے۔
مشق (کوئی ایک جواب نہیں): ساحل = سمندر کا کنارہ؛ تصور = خیال؛ طوفاں = سمندری طوفان؛ سفینہ = کشتی؛ موجوں = لہروں۔ اپنے جملے خود بنائیں۔
مشق (کوئی ایک جواب نہیں): آدابِ جفا = ظلم کے آداب؛ بے صد شوق = سو گنا شوق؛ عنایت کا بھرم = مہربانی کا بھرم؛ اسرارِ فنا = فنا کے راز؛ رازِ بقا = بقا کے راز۔ اپنے جملے خود بنائیں۔
جواب: طوفاں، سفینہ، موجوں اور ساحل — یہ چاروں الفاظ سمندر اور کشتی رانی کے ایک ہی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے متلازم یا گروہی الفاظ کہلاتے ہیں۔
جواب: (الف) موجوں؛ (ب) ہنس؛ (ج) بے صد شوق؛ (د) گلشن؛ (ہ) یزداں۔
جواب: تشریح: باغباں کی عنایت کا بھرم اس لیے نکھرا کہ گلشن میں شاعرہ کا ایک بھی پھول نہ تھا — اگر گلشن میں اس کا کوئی پھول ہوتا، تو باغباں کی عنایت کا بھرم قائم رہتا۔ اگر تم نے ایک بار تو یزداں کو پکارا ہوتا، تو تم پر اسرارِ فنا اور رازِ بقا کھل جاتے — یعنی خدا کو پکارنے سے فنا اور بقا کے راز کھل جاتے ہیں۔ یہ دونوں شعر "کاش" کی خواہش پر مبنی ہیں — جو کچھ نہ ہو سکا، اس کی حسرت۔
اس سبق میں Parveen Shakir کا تعارف، Ghazal Text & Central Idea اور Qafia, Radeef & Mutlazim Alfaz سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: شاعرہ کا تعارف، غزل کا متن اور مرکزی خیال، قافیہ، ردیف اور متلازم الفاظ۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔
This chapter covers the introduction of Parveen Shakir, Ghazal Text & Central Idea and Qafia, Radeef & Mutlazim Alfaz. It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).
Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 19 (کاش طوفان میں سفینے کو اتارا ہوتا) • English + Urdu • Session 2026–27