
مولانا ظفر علی خاں (۱۸۷۳ء–۱۹۵۶ء) وزیر آباد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں "کرم آباد" میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے ریاست جموں و کشمیر اور حیدر آباد (دکن) میں ملازمت کی، مگر جلد ہی ملازمت ترک کر کے صحافت کی طرف آ گئے۔
لاہور میں انہوں نے اردو اخبار "زمیندار" نکالا، جو بہت کم عرصے میں اس قدر مقبول ہوا کہ عوام نے انہیں "بابائے صحافت" کا لقب دیا۔ وہ بیک وقت قادر الکلام شاعر، شعلہ بیاں مقرر، بے باک صحافی، بہترین مترجم اور دلیر سیاست دان تھے۔ کتاب کے مطابق اچھی نعت وہی شعر کہلاتا ہے جس کے دل میں رسولِ کریم ﷺ کی محبت کا جذبہ موجزن ہو — اور ظفر علی خاں کی نعت گوئی خلوص، عقیدت، جوشِ طبع اور قدرتِ بیان کا حسین امتزاج ہے، اس لیے ان کی نعت زبان زدِ خاص و عام ہے۔
Maulana Zafar Ali Khan (1873–1956) was born in Karamabad, a village a few kilometres from Wazirabad. After early education he served in the states of Jammu & Kashmir and Hyderabad (Deccan), but soon left service and turned to journalism.
In Lahore he started the Urdu newspaper "Zamindar", which became so popular in a short time that the public gave him the title "Baba-e-Sahafat" (Father of Journalism). He was at once a capable poet, a fiery orator, a journalist of the first rank, a translator and a politician of rare courage. A true Naat, the book says, is the poem that is born from love of the Prophet ﷺ in the heart — and Zafar Ali Khan's Naat-goi is a fine blend of devotion, sincerity, forceful style and natural expression, which is why his Naat is on everyone's tongue.
مرکزی خیال: ساری نعت ایک ردیف — "تمہیں تو ہو" — پر گھومتی ہے۔ دل جس تمنا سے زندہ ہے، وہ رسولِ کریم ﷺ کی محبت ہے؛ جس دنیا میں ہم بس رہے ہیں، وہ انہی کی دنیا ہے۔ آپ نورِ اولیں ہیں؛ سب کچھ آپ کے واسطے پیدا کیا گیا؛ آپ سب غایتوں کی غایتِ اولیٰ ہیں۔ معراج کے اس مقام پر جہاں جبریل کے پر جلتے ہیں، وہاں کی حقیقتوں کے شناسا صرف آپ ہیں۔ آپ گرتے ہوؤں کو تھامنے والے، تاجدارِ یثرب و بطحا، اور دونوں جہانوں کے لیے رحمت ہیں — جس کی کوئی نظیر نہیں۔
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہیں تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہیں تو ہو
سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا
سب غایتوں کی غایتِ اولیٰ تمہیں تو ہو
جلتے ہیں جبریل کے پر جس مقام پر
اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہیں تو ہو
دنیا میں رحمتِ دو جہاں اور کون ہے
جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تمہیں تو ہو
Central idea: The whole poem turns on one radeef — "tumheen to ho" (it is only you). The heart lives by the desire for the Prophet ﷺ; the world we live in is his world. He is the light of the first light (noor-e-awwaleen); everything was created for his sake; he is the ultimate goal of all goals (ghayat-e-oola). At the station of the Miraj where even Jibreel's wings burn, he alone knows its realities. He lifts the fallen, he is the Tajdar-e-Yathrib o Batha, and he is the mercy for both worlds (rehmat-e-do-jahan) without parallel.
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہیں تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہیں تو ہو
پہچانا جو سیدِ شبِ تارت سے
اس نورِ اولیں کا اجالا تمہیں تو ہو
سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا
سب غایتوں کی غایتِ اولیٰ تمہیں تو ہو
جلتے ہیں جبریل کے پر جس مقام پر
اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہیں تو ہو
گرتے ہوؤں کو تھام لیا جس کے ہاتھ نے
اے تاجدارِ یثرب و بطحا تمہیں تو ہو
دنیا میں رحمتِ دو جہاں اور کون ہے
جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تمہیں تو ہو
فرہنگ: تمنا = آرزو؛ غایت = مقصد؛ غایتِ اولیٰ = پہلا اور سب سے بڑا مقصد؛ نورِ اولیں = پہلی روشنی؛ شناسا = جاننے والا؛ یثرب = مدینہ کا پرانا نام؛ بطحا = مکہ کا ایک علاقہ؛ نظیر = مثال؛ تنہا = یکتا/اکیلا۔
مصرع، شعر، قافیہ، ردیف : مصرع شعر کی ایک سطر ہے؛ دو مصرعے مل کر ایک خیال ظاہر کریں تو شعر بنتا ہے۔ قافیہ شعر کے آخر میں آنے والے ہم آواز الفاظ ہیں؛ ردیف وہ لفظ یا الفاظ ہیں جو قافیے کے بعد ہر شعر میں دہرائے جائیں — اس نعت میں ردیف "تمہیں تو ہو" ہے۔ نعت و منقبت میں فرق: نعت رسولِ کریم ﷺ کی تعریف ہے؛ منقبت میں صحابہ، ائمہ اور بزرگانِ دین کے اوصاف بیان کیے جاتے ہیں۔
Farhang: tammana = desire; ghayat = goal/purpose; ghayat-e-oola = the first and highest goal; noor-e-awwaleen = the first light; shanasa = one who knows; Yathrib = the old name of Madina; Batha = a locality of Makka; nazir = parallel/example; tanha = alone/unique.
Misra, Sher, Qafia, Radeef : a misra is one line of a verse; two misras with one thought make a sher. Qafia is the rhyming word at the end of a sher; radeef is the word(s) repeated after the qafia in every sher — in this Naat the radeef is "tumheen to ho". Naat vs Manqabat: Naat praises the Prophet ﷺ; Manqabat praises the Companions, Imams, saints and elders of Islam.
نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
جواب: تمنا — "دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہیں تو ہو"
جواب: اولیٰ — "سب غایتوں کی غایتِ اولیٰ تمہیں تو ہو"
جواب: پر — "جلتے ہیں جبریل کے پر جس مقام پر"
جواب: نورِ اولیں — "اس نورِ اولیں کا اجالا تمہیں تو ہو"
جواب: رحمتِ دو جہاں — "دنیا میں رحمتِ دو جہاں اور کون ہے"
خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن اور استاد کی وضاحت سے کریں۔
جواب: رسولِ کریم ﷺ کے واسطے — "سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا"۔
جواب: معراج کے سفر میں وہ مقام (سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) جہاں سے آگے جبریل علیہ السلام نہ جا سکے — ان کے پر جلتے تھے — وہاں کی حقیقتوں کے شناسا صرف رسولِ کریم ﷺ ہیں۔
جواب: گرتے ہوؤں کو — آپ ﷺ گرتے ہوؤں کو تھامنے والے اور سہارا دینے والے ہیں۔
جواب: رسولِ کریم ﷺ — جس کی کوئی نظیر نہیں، وہ تنہا (یکتا) ہستی آپ ﷺ ہیں۔
جواب: رسولِ کریم ﷺ کو — یثرب مدینہ کا پرانا نام اور بطحا مکہ کا علاقہ ہے، یعنی آپ ﷺ دونوں شہروں کے تاجدار ہیں۔
جواب (اعراب کے ساتھ): شَبِ تارَت، غایَتِ اُولیٰ، یَثرِب و بَطحا، نُورِ اَوَّلیں، رَحمَتِ دَو جَہاں۔
جواب: ردیف ہر شعر میں دہرائی جانے والی عبارت "تمہیں تو ہو" ہے۔ قافیے کی نشان دہی مشق کے طور پر کریں — ہر شعر کے آخر میں ردیف سے پہلے آنے والا ہم آواز لفظ قافیہ ہے۔
جواب: نعت رسولِ کریم ﷺ کی تعریف و توصیف ہے؛ منقبت میں صحابہ کرام، ائمہ، اولیا اور بزرگانِ دین کے اوصاف بیان کیے جاتے ہیں۔
تشریح: شاعر رسولِ کریم ﷺ سے مخاطب ہے: آپ ﷺ دنیا و آخرت دونوں جہانوں کے لیے رحمت ہیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا ہے: "وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِینَ" (اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے)۔ آپ کی ذات پاک ہے، دنیا میں آپ کی کوئی مثال یا نظیر نہیں، آپ یکتا ہیں۔ اسی مفہوم کو شاعر نے یوں کہا ہے: "بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر" — خدا کے بعد سب سے بزرگ آپ ہی ہیں۔
اس سبق میں Maulana Zafar Ali Khan کا تعارف، Central Idea & Key Verses اور Difficult Words & Literary Terms سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: شاعر کا تعارف، مرکزی خیال اور اہم اشعار، مشکل الفاظ اور شعری اصطلاحات۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔
This chapter covers the introduction of Maulana Zafar Ali Khan, Central Idea & Key Verses and Difficult Words & Literary Terms. It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).
Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 2 (Naat) • English + Urdu • Session 2026–27