
سید سلیمان ندوی (۱۸۸۴ء–۱۹۵۳ء) ضلع پٹنہ (بہار) کے ایک گاؤں دیسنہ میں پیدا ہوئے۔ وہ علامہ شبلی نعمانی (۱۸۵۷ء–۱۹۱۴ء) کے خاص تلامذہ میں شامل تھے۔ جب مولانا شبلی نے اپنی مشہور تصنیف "سیرت النبی" ترتیب دینا شروع کی تو سید سلیمان ندوی ان کے مددگار بنے، اور شبلی کے انتقال کے بعد باقی ماندہ چار جلدوں کو اسی بہترین طریقے سے مکمل کیا۔
انہیں تاریخِ اسلام اور اسلامی ادب سے خاص لگاؤ تھا، اور سیرت، سوانح، تاریخِ اسلام اور اردو زبان و ادب کے موضوعات پر تحقیقی کام کیا۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں "نشانِ سپاس" سے نوازا۔ ان کا انتقال کراچی میں ہوا اور وہ اسلامیہ کالج کراچی کے احاطے میں مدفون ہیں۔ کتاب میں شامل سبق ان کی تصنیف "رحمتِ عالم" سے مستعار ہے۔
Syed Sulaiman Nadvi (1884–1953) was born in Desna, a village in Patna district (Bihar). He was a student of Allama Shibli Nomani (1857–1914) and joined his special circle of pupils. When Shibli began his famous Seerat-un-Nabi, Sulaiman Nadvi helped him, and after Shibli's death he completed the remaining four volumes in the same fine style.
He had a special attachment to the history of Islam and Islamic literature, and wrote research works on Seerat, Sawanih, history of Islam and Urdu language and literature. The Government of Pakistan honoured him with the "Nishan-e-Sipas" for his services. He died in Karachi and is buried in the courtyard of Islamia College, Karachi. The lesson in the book is taken from his "Rehmat-e-Alam".
کسی نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حضور ﷺ کے اخلاق کیسے تھے؟ انہوں نے کہا: "کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟ جو کچھ قرآن میں ہے، وہ حضور ﷺ کے اخلاق تھے" — یعنی آپ ﷺ کی ساری زندگی قرآنِ مجید کی عملی تفسیر تھی۔
پھر سبق اسے عمل میں دکھاتا ہے: انتہائی سخاوت و مہمان نوازی (دوسروں کو کھلاتے اور خود بھوکے رہتے)، گھر کے کام اپنے ہاتھوں سے کرنا اور کسی کام کو حقیر نہ سمجھنا، غریبوں اور مزدوروں کا ساتھ (خندق کھودنے اور مسجدِ نبوی کی تعمیر میں خود شریک ہوئے)، عدل میں کسی کی رعایت نہ کرنا، دشمنوں کو معاف کر دینا، بچوں سے محبت، کھانے، لباس اور رہائش میں سادگی، اور ہر وقت اللہ کی یاد۔ آپ ﷺ ساری دنیا کے لیے رحمت بن کر آئے تھے اور کسی کے ساتھ زیادتی و ناانصافی کو پسند نہ فرماتے تھے۔
Someone asked Umm-ul-Momineen Hazrat Aisha (RA) how the Prophet's ﷺ character was. She replied: "Have you not read the Quran? Whatever is in the Quran, that was his character — his whole life was the practical commentary (amali tafseer) of the Quran."
The lesson then shows this in action: extreme generosity and hospitality (he would feed others and stay hungry himself), doing household work with his own hands and never considering any work beneath him, helping the poor and the labourers (he worked with his own hands in digging the Trench and building Masjid-e-Nabvi), justice without favour (even for the powerful), forgiveness of enemies, love for children, simplicity in food, dress and living, and constant remembrance of Allah. He was a mercy for the whole world and never liked excess or injustice to anyone.
فرہنگ: حضورِ انور = روشن حضور (رسول ﷺ)؛ حسنِ اخلاق = اچھے اخلاق؛ داد و دہش = دینا اور سخاوت؛ مسکین = غریب و محتاج؛ سفارش = سفارش؛ وارث = وارث؛ ازواجِ مطہرات = پاک بیویاں (رسول ﷺ کی)؛ کنکشیاں = چھوٹے پتھر؛ مزاجِ مبارک = بابرکت طبیعت؛ تکلف = ظاہر داری و بناوٹ؛ تن پروری = بدن کو پالنا و آرام طلبی؛ نعمت = اللہ کی عطا کردہ چیز۔
تشریح : "مزاجِ مبارک میں بہت سادگی تھی" — رسولِ کریم ﷺ کی بابرکت طبیعت میں بہت سادگی تھی: جو کھانا میسر آتا، کھا لیتے؛ جو لباس پاس ہوتا، پہن لیتے؛ جہاں جگہ ملتی، بیٹھ جاتے؛ اور کسی چیز میں اپنے لیے آرام طلب نہ فرماتے تھے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی نعمتوں کے استعمال کی صرف ضروری حد تک اجازت دی اور فضول آسائش کو ناپسند فرمایا — مگر یہ اصول آپ نے اپنے لیے رکھا، عام مسلمانوں کے لیے مناسب معیارِ زندگی کی اجازت دی۔
Farhang: huzoor-e-anwar = the radiant presence (the Prophet ﷺ); husn-e-akhlaq = good character; dad-o-dahish = giving and generosity; maskeen = poor/needy; sifarish = recommendation; waris = heir; azwaj-e-mutahharat = the pure wives (of the Prophet ﷺ); kankshiyan = small stones/pebbles; mazaj-e-mubarak = blessed temperament; takalluf = formality/show; tan-parwari = pampering the body; niamat = a blessing from Allah.
Tashreeh : "Mazaj-e-Mubarak mein bahut sadgi thi" — the Prophet's ﷺ blessed temperament was full of simplicity: he ate whatever was available, wore whatever was at hand, sat wherever there was space, and never demanded comfort for himself. He allowed only the necessary use of Allah's blessings and disliked wasteful luxury — but he made this a rule for himself, while for ordinary Muslims he allowed a reasonable standard of living.
نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
جواب: (د) — عملی تفسیر — کتاب: آپ ﷺ کی ساری زندگی قرآنِ مجید کی عملی تفسیر تھی۔
خود آزمائی (unmarked): خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
جواب: (د) — شرارتوں — حدیث: وہ مومن نہیں جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
خود آزمائی (unmarked): خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
جواب: (ب) — ابو ایوب انصاریؓ — کتاب: آپ ﷺ انہیں لے کر حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر آئے، تو وہ باغ سے کھجوروں کا خوشہ توڑ لائے۔
جواب: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا، جنہوں نے فرمایا کہ جو کچھ قرآن میں ہے، وہی آپ ﷺ کے اخلاق تھے۔
جواب: آپ ﷺ گھر کے کام اپنے ہاتھوں سے کرتے تھے — اپنے کپڑے خود سیتے، جوتا خود گانٹھ لیتے — اور کسی کام کو حقیر یا باعثِ عار نہیں سمجھتے تھے۔
جواب: آپ ﷺ خندق کھودنے اور مسجدِ نبوی کی تعمیر میں سب مزدوروں کے ساتھ مل کر خود کام کرتے تھے۔
جواب: آپ ﷺ اس کا قرض ادا کرنے کی ذمہ داری لیتے تھے — جو شخص قرض چھوڑ کر مر جاتا، اس کا قرض ادا کرنا آپ ﷺ اپنے ذمے لیتے تھے۔
جواب: پڑوسی کے حقوق کی سخت تاکید فرماتے تھے: وہ مومن نہیں جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو؛ پڑوسی کی خبر گیری اور اس کے حق کی ادائیگی لازم ہے۔
جواب (معانی): حضورِ انور = روشن حضور ﷺ؛ حسنِ اخلاق = اچھے اخلاق؛ داد و دہش = سخاوت؛ مسجدِ نبوی = مدینہ کی رسول ﷺ کی مسجد؛ چہرۂ مبارک = بابرکت چہرہ؛ عزم و استقلال = پختہ ارادہ۔ (جملے خود بنائیں — یہ مشق کی اصل مہارت ہے۔)
خود آزمائی: واحد/جمع کی تبدیلی کتاب کے متن کی روشنی میں خود کریں اور اپنے جواب استاد سے چیک کرائیں — یہاں کوئی نشان زدہ جواب نہیں دیا گیا۔
خود آزمائی: واحد سے جمع بنانے کی مشق خود کریں اور اپنے جواب استاد سے چیک کرائیں — یہاں کوئی نشان زدہ جواب نہیں دیا گیا۔
تشریح: مصنف رسولِ کریم ﷺ کی طبیعت کی سادگی بیان کرتے ہیں: آپ ﷺ جو کھانا میسر آتا کھا لیتے، جو لباس پاس ہوتا پہن لیتے، جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے، اور کسی چیز میں اپنے لیے آرام طلب نہ فرماتے۔ اللہ کی نعمتوں کا صرف ضروری استعمال جائز سمجھتے اور فضول آسائش کو ناپسند فرماتے — مگر یہ سخت اصول اپنے لیے تھا، عام مسلمانوں کے لیے مناسب زندگی کی اجازت تھی۔
جواب: مصنف: سید سلیمان ندوی؛ سبق: اخلاقِ حسنہ۔ تشریح: حضور ﷺ بڑے مہمان نواز تھے — جو بھی آتا، اس کی خاطر کرتے، دوسروں کو کھلاتے اور خود بھوکے رہتے؛ اور کام میں بھی سب کے ساتھ شریک ہوتے تھے، خندق اور مسجدِ نبوی کی تعمیر میں مزدوروں کے ساتھ خود کام کیا — یہی حسنِ اخلاق ہے۔
اس سبق میں Syed Sulaiman Nadvi کا تعارف، Summary — The Prophet’s Character اور Difficult Words & Tashreeh سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: مصنف کا تعارف، خلاصہ — حضور ﷺ کے اخلاق، مشکل الفاظ اور تشریح۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔
This chapter covers the introduction of Syed Sulaiman Nadvi, Summary — The Prophet’s Character and Difficult Words & Tashreeh. It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).
Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 3 (Akhlaq-e-Hasna) • English + Urdu • Session 2026–27