
سر سید احمد خاں (۱۸۱۷ء–۱۸۹۸ء) دہلی میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر حاصل کی، جس سے ان کا ذہن وسیع اور روشن خیال ہوا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے انگریزی عدلیہ میں ملازمت اختیار کی اور ترقی کر کے صدر الصدور اور منصفِ اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے۔
ان کی زندگی کا اہم ترین دور ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد شروع ہوا۔ مسلمانوں کے زوال کو دیکھ کر انہوں نے محسوس کیا کہ اس کی اصل وجہ جدید تعلیم کی کمی ہے، اور جب تک قوم جدید علوم و فنون، خصوصاً سائنس میں مہارت حاصل نہ کرے، ترقی نہیں کر سکتی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے علی گڑھ میں انگریزی طرز پر ایک اسکول کی بنیاد رکھی، جو ۱۸۷۵ء میں کالج بنا اور بعد میں مسلمانوں کے لیے علوم و فنون کے احیا کا مرکز قرار پایا۔ ۱۸۷۰ء میں انہوں نے رسالہ "تہذیب الاخلاق" جاری کیا، اور ان کی تصانیف میں "آثار الصنادید"، "خطباتِ احمدیہ" اور "مقالاتِ سر سید" شامل ہیں۔ وہ صرف جدید اردو نثر کے بانی ہی نہیں، تحریکِ علی گڑھ کے بانی بھی تھے۔
Sir Syed Ahmad Khan (1817–1898) was born in Delhi and received his early education and training at home, where he developed a broad, enlightened outlook. After completing his education he entered the British judicial service and rose to the post of Sadr-us-Sudur (Chief Justice) and later Munif-e-Aala.
The most important part of his life began after the War of 1857. Seeing the decline of the Muslims, he concluded that the real cause was the lack of modern education, and that until the community acquired modern sciences and arts — especially science — it could not progress. For this purpose he founded a school in Aligarh on the English pattern, which in 1875 became a college and later the centre of Muslim revival in learning. In 1870 he started the journal "Tahzeeb-ul-Akhlaq", and his writings include "Asar-us-Sanadid", "Khutbat-e-Ahmadiya" and "Maqalat-e-Sir Syed". He was not only the founder of modern Urdu prose but also the pioneer of the Aligarh movement.
یہ سبق "مقالاتِ سر سید" کی جلد پنجم سے لیا گیا ہے، اور اس کا مرکزی خیال یہ آزمودہ مقولہ ہے: "خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں"۔ یہ انسانوں، قوموں اور نسلوں کا نچوڑا ہوا تجربہ ہے۔
قومی ترقی شخصی ترقی کا مجموعہ ہے — شخصی محنت، شخصی عزت، شخصی ایمان داری اور شخصی ہمدردی۔ جو قوم اپنی مدد آپ نہیں کرتی، وہ کسی دوسرے کے انتظار میں یا اس امید میں ترقی نہیں کر سکتی کہ کوئی خضر آ کر اس کی حالت بدل دے گا۔ سر سید دو مثالیں دیتے ہیں: جس طرح پانی خود اپنی سطح پر آ جاتا ہے، اسی طرح قوم کا قانون اور اس کی حالت اس کے لوگوں کے چال چلن کے مجموعے کے مطابق ہوتی ہے؛ اور جس طرح ایک عمارت بہت سے ہاتھوں کی محنت پر کھڑی ہوتی ہے، اسی طرح قوم کی تہذیب اس کے مردوں اور عورتوں کی اپنی مدد پر کھڑی ہوتی ہے۔ عمدہ چال چلن خود ایک عملی تعلیم ہے — یہ آدمی کو معزز اور قابلِ ادب بناتا ہے۔
The lesson is taken from Maqalat-e-Sir Syed (volume 5) and its central thought is the tested saying: "خدانخواستہ ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں" (God helps those who help themselves). This is the collected experience of men, nations and generations.
National progress is the sum of individual progress — individual effort, individual honour, individual honesty and individual sympathy. A nation whose individuals do not help themselves cannot progress by waiting for someone else, or by hoping that some Khizr will come and change its fate. Sir Syed uses two analogies: just as water finds its own level, a nation's law and condition follow the sum of its people's conduct; and just as a building stands on the labour of many hands, a nation's civilisation stands on the self-help of its men and women. Good conduct (umda chal-chalan) is itself a practical education — it makes a man respected and honourable.
فرہنگ: مقولہ = آزمودہ قول؛ آزمودہ = آزمایا ہوا؛ نینجر = (کتاب کے لفظ کے مطابق قدرت کا قاعدہ)؛ مجموعہ = کل/جمع؛ چال چلن = رویہ؛ عمدہ = بہترین؛ خضر = مشہور رہنما (معجزاتی مددگار کے طور پر استعمال)؛ بھروسا = اعتماد/انحصار؛ بیروی = ایک بیل (برائیوں کو ختم کرنے کی مثال میں)۔
الف بائی ترتیب (حروفِ تہجی): الفاظ کو پہلے حرف، پھر دوسرے حرف کی ترتیب سے لگایا جاتا ہے — لغت میں الفاظ اسی ترتیب سے ملتے ہیں۔ متلازم/گروہی الفاظ: وہ الفاظ جو کسی لفظ کے ساتھ ذہن میں آ جائیں (مثلاً "چمن" کے ساتھ پھول، خوشبو، مالی) — یہ مترادف نہیں، ہم خیال الفاظ کا گروہ ہے۔
Farhang: maqola = a tested saying; aazmooda = tested/tried; nanjar = (the book's word for the rule/law of nature); majmooa = sum/total; chal-chalan = conduct; umda = excellent; Khizr = the legendary guide (used for a miraculous helper); bharosa = trust/dependence; beerwi = a creeper/weed (used in the analogy of removing evils).
Alphabetical order (huruf-e-tahajji): words are arranged by the first letter in the order of the Urdu alphabet, then by the second letter, and so on — this is how words are found in a dictionary (lughat). Mutlazim/garohi الفاظ: words that come to mind together with a word (for example, with "chaman" we think of flowers, fragrance, gardener) — these are word-groups, not synonyms.
نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
جواب: (ب) — مقولہ — کتاب: "یہ ایک نہایت آزمودہ مقولہ ہے"۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
جواب: (د) — نینجر کا — کتاب کے لفظ کے مطابق یہ "نینجر کا قاعدہ" ہے۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
جواب: (الف) — جواب: (الف) بالکل مخالف — کتاب: یہ دونوں اصول ایک دوسرے کے بالکل مخالف ہیں۔
جواب: "خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں" — یہی وہ مقولہ ہے۔
جواب: وہ قوم جو اپنی مدد آپ نہیں کرتی اور دوسروں پر بھروسا کر کے بیٹھ جاتی ہے — ایسی قوم کی حالت نہیں بدلتی۔
جواب: جیسا مجموعہ قوم کی چال چلن کا ہوتا ہے، یقینی اسی کے موافق اس کا قانون اور اسی کے مناسب حال حالت ہوتی ہے — قوم کی حالت اس کے لوگوں کے چال چلن کا عکس ہوتی ہے۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
جواب: اپنی مدد آپ کرنے کی بنا پر — یہی وہ بڑا مسئلہ اور نہایت مضبوط اصول ہے جس سے دنیا کی معزز قوموں نے عزت پائی ہے۔
جواب: (الف) مدد آپ — "خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں"۔ باقی جملے (ب–ہ) خود آزمائی کے طور پر کریں: اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
جواب (الف بائی ترتیب): آزمودہ، آئندہ، پرستش، پرکھوں، پنسال، تجربہ، تہذیب، خضر، خیر خواہی، فضا، معمار، نینجر۔ (ترتیب حروفِ تہجی کے مطابق: ا، پ، ت، خ، ف، م، ن — اور ہر حرف کے اندر دوسرے حرف کی ترتیب سے۔)
مثال (یہ کتاب کا جواب نہیں، مشق کی مثال ہے): چمن — پھول، خوشبو، مالی، بہار؛ گھر — کمرہ، صحن، چھت، خاندان؛ مدرسہ — استاد، طالب علم، کتاب، سبق؛ دفتر — کرسی، میز، فائل، افسر؛ سمندر — لہر، کشتی، مچھلی، ساحل؛ ویگن — ڈرائیور، مسافر، سڑک، اسٹاپ۔ اپنے الفاظ خود سوچیں — یہی اصل مشق ہے۔
جواب (خلاصہ): خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں — یہ انسانوں، قوموں اور نسلوں کا آزمودہ تجربہ ہے۔ قومی ترقی شخصی ترقی کا مجموعہ ہے؛ جو قوم اپنی مدد آپ نہیں کرتی، وہ دوسروں کے انتظار میں ترقی نہیں کر سکتی۔ قوم کی حالت اس کے لوگوں کے چال چلن کے مطابق ہوتی ہے، اور عمدہ چال چلن خود ایک عملی تعلیم ہے۔
تشریح: (الف) قومی ترقی کسی ایک شخص کی نہیں، ہر فرد کی محنت، عزت، ایمان داری اور ہمدردی کا مجموعہ ہے۔ (ب) دنیا کی معزز قوموں نے عزت اسی اصول سے پائی ہے کہ وہ اپنی مدد آپ کرتی ہیں — یہی سب سے مضبوط اصول ہے، اور اس کے برعکس اوروں پر بھروسا انسان کو برباد کرتا ہے۔
اس سبق میں Sir Syed Ahmad Khan کا تعارف، Summary — Self-Help اور Difficult Words & Key Terms سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: مصنف کا تعارف، خلاصہ — اپنی مدد آپ، مشکل الفاظ اور اہم اصطلاحات۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔
This chapter covers the introduction of Sir Syed Ahmad Khan, Summary — Self-Help and Difficult Words & Key Terms. It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).
Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 4 (اپنی مدد آپ) • English + Urdu • Session 2026–27