
ڈپٹی نذیر احمد (۱۸۳۶ء–۱۹۱۲ء) — پورا نام مولوی نذیر احمد، ڈپٹی نذیر احمد کے نام سے مشہور — ضلع بجنور (یوپی) کے ایک چھوٹے سے گاؤں "رائے پور" میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے گھر پر حاصل کی، جو گاؤں کے بچوں کو پڑھایا کرتے تھے، پھر دہلی جا کر دہلی کالج میں داخلہ لیا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
بچپن سے ہی ان کا خواب ڈپٹی کلکٹر بننا تھا، جو پورا بھی ہوا۔ انہوں نے ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کو بہت قریب سے دیکھا اور سر سید احمد خاں کے افکار سے بہت متاثر تھے۔ اس لیے ۱۸۵۷ء کے بعد مسلمان اشراف گھرانوں کی حالت کو سدھارنے کے لیے لکھنے کا کام کیا۔ وہ اردو کے پہلے ناول نگار مانے جاتے ہیں؛ ان کے اصلاحی ناولوں میں "مراۃ العروس"، "توبۃ النصوح"، "فسانہ مبتلا"، "ابن الوقت" اور "رویاے صادقہ" شامل ہیں — یہ تمام اصلاحی ناول ہیں، جن میں خاص طور پر مسلمان اشراف گھرانوں اور ان کی عورتوں کی گھریلو زندگی کی عکاسی کی گئی ہے اور ان کی اصلاح کی کوشش کی گئی ہے۔
Deputy Nazir Ahmad (1836–1912) — full name Maulvi Nazir Ahmad, known as Deputy Nazir Ahmad — was born in a small village, Raipur, in Bijnor district (UP). He received his early education at home from his father, who taught the village children, then went to Delhi and joined Delhi College for higher education.
From childhood he wanted to become a Deputy Collector, and he achieved that rank. He saw the War of 1857 from very close quarters and was deeply influenced by Sir Syed Ahmad Khan's ideas. After 1857 he took up writing to reform the condition of Muslim noble families. He is regarded as the first Urdu novelist; his reform novels include "Mirat-ul-Uroos", "Taubat-un-Nasooh", "Fasana-e-Mubtala", "Ibn-ul-Waqt" and "Roya-e-Sadiqa" — all of them reform novels, which, through stories, especially depict the lives of Muslim noble families and their women, and try to reform them.
یہ سبق ناول "توبۃ النصوح" سے لیا گیا اقتباس ہے۔ اس کا موضوع اولاد کی تربیت ہے: والدین اپنے بچوں کی تربیت کے ذمہ دار ہیں، اور بچے گھر کے ماحول سے سیکھتے ہیں۔ کہانی کلیم کے کردار کے ذریعے دکھاتی ہے کہ بگڑی ہوئی تربیت کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
آدھی رات کو کلیم اپنے دوست مرزا ظاہر دار بیگ کے گھر آتا ہے۔ وہ لونڈیوں سے تکرار کرتا ہے، جو پہلے انکار کرتی ہیں کہ یہاں کوئی ظاہر دار بیگ نہیں رہتا، پھر بتاتی ہیں کہ مرزا بڑے مکان کے پیچھے ایک چھوٹے سے پکے مکان میں رہتے ہیں۔ مرزا کلیم کو اندر لے جاتا ہے، کھانا کھلاتا ہے اور ایک رات کے لیے مسجد میں ٹھہراتا ہے — وہ مسجد ویران و وحشت ناک ہے، نہ کوئی حافظ، نہ طالب علم، نہ مسافر۔ صبح کلیم کی چیزیں غائب ملتی ہیں، وہ مسجد کی حالت پر شکایت کرتا ہے، اور مرزا اپنی حالت کی وضاحت کرتا ہے۔ کلیم بھاگ کر گھر پہنچتا ہے، جہاں نوکر اسے پہلے نہیں پہچانتا؛ اسے اپنا تعارف کرانا پڑتا ہے: "میرا نام کلیم ہے، اور مجھ سے اور مرزا ظاہر دار بیگ سے بزرگ دوستی ہے — بلکہ شب کو میں مرزا صاحب ہی کی وجہ سے مسجد میں تھا۔"
The lesson is an excerpt from the novel "Taubat-un-Nasooh". It is about the upbringing of children: parents are responsible for their children's training, and children learn from the home environment. The story shows, through the character of Kaleem, a spoilt young man, what happens when upbringing goes wrong.
Late at night Kaleem comes to the house of his friend Mirza Zahir Dar Baig. He argues with the maidservants, who first deny that any Zahir Dar Baig lives there, and then explain that Mirza lives in a small solid house behind the main house. Mirza takes Kaleem in, gives him food and a bed, and puts him up for the night in the mosque — a desolate, ruined mosque with no caretaker, no student and no traveller in it. In the morning Kaleem's things are missing, he complains about the mosque, and Mirza explains his own condition. Kaleem runs home, where the servant does not recognise him at first; he has to introduce himself: "My name is Kaleem, and I have an old friendship with Mirza Zahir Dar Baig — indeed, last night I was in the mosque because of Mirza Sahib."
فرہنگ: اپنے تئیں = اپنی طرف سے/اپنے گروہ؛ قلبِ ماہیت = طبیعت کا بدل جانا؛ بے بت = بغیر بات؛ حقوقِ معرفت = جان پہچان کے حقوق؛ خفقان = دل کی دھڑکن/گھبراہٹ؛ احتمال = امکان؛ تشویش ناک = فکر انگیز؛ چاروناچار = بے بس ہو کر؛ سودا = معاملہ/سودا۔
روزمرہ : روزمرہ اس بول چال اور اسلوبِ بیان کو کہتے ہیں جو خاص اہلِ زبان استعمال کرتے ہیں — اس میں قیاس کو دخل نہیں ہوتا۔ مثلاً "روز روز" کی جگہ "دن دن" نہیں کہا جا سکتا۔ محاورہ : محاورہ بھی روزمرہ کی طرح زبان کا اسلوبِ بیان ہے، مگر محاورے میں الفاظ اپنے مجازی معنی میں استعمال ہوتے ہیں — مثلاً "گل کھلانا" کا مطلب پھول کھلانا نہیں ہوتا۔
Farhang: apne tees = one's own group/party; qalb-e-mahiyat = change of nature; be-bat = without talk; huqooq-e-ma'rifat = rights of acquaintance; khafqan = palpitation; ihtimal = possibility; tashweesh-naak = worrying; charo-nachar = helplessly; souda = bargain/deal.
Roz-marra : the style of speaking and writing used by the common people of a language — it does not admit qiyas (analogy). For example, you cannot say "din din" in place of "roz roz". Muhawara : like roz-marra, it is the style of a language, but in a muhawara the words are used in a figurative (majazi) sense, not the literal one — for example, "gul khilana" does not mean making a flower bloom.
نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
جواب: (د) — ویران اور وحشت ناک — کتاب: مسجد میں نہ کوئی حافظ، نہ طالب علم، نہ مسافر — فرش پر اس قدر بیٹ پڑی ہے کہ خود فرش بن گیا ہے۔
خود آزمائی (unmarked): خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
جواب: (ب) — سخت تعجب کی بات — کتاب: "آپ کو میری نسبت … کا احتمال ہونا سخت تعجب کی بات ہے"۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
خود آزمائی (unmarked): خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
جواب: (ب) — مرزا زبردست بیگ — کتاب: اندر سے آواز آئی: "مرزا زبردست بیگ!"
جواب: ناول "توبۃ النصوح" سے۔
جواب: بڑے مکان کے پیچھے ایک چھوٹا سا پکا مکان تھا، وہ اس میں رہتے تھے۔
جواب: مسجد میں — ایک ویران مسجد میں، جہاں نہ کوئی حافظ تھا، نہ طالب علم، نہ مسافر۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
جواب: کلیم بھاگ رہا تھا — ڈر کے مارے بھاگا اور گھر پہنچ کر اسے اپنا تعارف کرانا پڑا کہ وہ کلیم ہے اور مرزا ظاہر دار بیگ کا پرانا دوست ہے۔
جواب (اعراب کے ساتھ): اَپلوں، سَوندھی، شَمَّہ، مُتَصَرِّف، تَنَفُّس، خَفَقان، دَہشَت، مُتَعَرِّض، اَشہَداو، تَشَن سازی۔ (تلفظ کی مشق: اعراب لگا کر بلند آواز میں پڑھیں۔)
جواب (معانی، کتاب کے متن کے مطابق): اپنے تئیں = اپنی طرف سے؛ قلبِ ماہیت = طبیعت/حالت کا بدل جانا؛ حقوقِ معرفت = جان پہچان کے حقوق؛ چاروناچار = بے بس ہو کر؛ باقی الفاظ کے معانی کتاب کی فرہنگ اور متن سے خود تلاش کریں — یہی مشق کی اصل مہارت ہے۔
خود آزمائی: جملے یہ ہیں : (الف) ______ بہت بنائے … (ب) میں ذرا کپڑے پہن آؤں تو آپ کے ______ چلوں (ج) بندے کے گھر میں کئی دن سے طبیعت ______ ہے (د) یہ فرمائیے کہ اس وقت ______ فرمانے کی کیا وجہ ہے؟ (ہ) میں اس جاوہ دہشت کا ایک ______ بھی نہیں دیکھتا (و) آپ کو میری نسبت ______ کا احتمال ہونا سخت تعجب کی بات ہے (ز) تھوڑی دیر صبر کیجیے کہ ______ نکلا چلا آتا ہے (ح) بھونے میں بچوں کو ______ بنا دیتا ہے۔ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
جواب: روزمرہ: اہلِ زبان کا عام بول چال کا اسلوب، جس میں قیاس کو دخل نہیں (مثلاً "روز روز" کی جگہ "دن دن" نہیں کہہ سکتے)۔ محاورہ: اسلوبِ بیان جس میں الفاظ مجازی معنی میں آتے ہیں (مثلاً "گل کھلانا" کا مطلب پھول کھلانا نہیں)۔ یاد رہے کہ اردو میں روزمرہ اور محاورے کے حوالے سے ڈپٹی نذیر احمد کی زبان کو سند کی حیثیت حاصل ہے۔
مثال (یہ کتاب کا جواب نہیں، مشق کی مثال ہے): واویلا مچانا = شور مچانا؛ آنکھ لگنا = نیند آ جانا؛ چکر اجانا = حیران ہو جانا؛ استغفار کرنا = معافی مانگنا؛ تنبیہ کرنا = خبردار کرنا؛ چھپت ہونا = چھپ جانا؛ دھوم ہونا = شہرت ہو جانا۔ اپنے جملے خود بنائیں۔
اس سبق میں Deputy Nazir Ahmad کا تعارف، Story Summary اور Difficult Words & Roz-marra / Muhawara سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: مصنف کا تعارف، کہانی کا خلاصہ، مشکل الفاظ اور روزمرہ و محاورہ۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔
This chapter covers the introduction of Deputy Nazir Ahmad, Story Summary and Difficult Words & Roz-marra / Muhawara. It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).
Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 5 (Kaleem aur Mirza Zahir Dar Baig) • English + Urdu • Session 2026–27