Class 9 Urdu Chapter 7 Complete Guide Book — Aram-o-Sukoon | PunjabTest.com

Class 9 Urdu Chapter 7 — Aram-o-Sukoon
Home > PunjabTest.com > Class 9 > Urdu — all chapters > Chapter 7: Aram-o-Sukoon

اس chapter میں topics (Topics in this chapter)

ماخذ (Source): نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source: Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
1. Author Introductionمصنف کا تعارف
🏷 Tags: Imtiaz Ali Taj, Aram-o-Sukoon, Author Introduction, آرام و سکون, Class 9 Urdu, Chapter 7
اردو

امتیاز علی تاج (۱۹۰۰ء–۱۹۷۰ء) اردو کے ڈراما نگاروں کی فہرست میں بڑا نام ہے۔ ان کی جائے ولادت لاہور ہے، مگر ان کے والد، سید ممتاز علی، جو ایک بلند پایہ مصنف اور مجلہ "تہذیبِ نسواں" کے بانی مدیر تھے، ضلع سہارن پور (یوپی) کے رہنے والے تھے۔

امتیاز علی تاج نے سنٹرل ماڈل اسکول لاہور سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے پاس کیا۔ زمانہ طالب علمی سے ہی انہیں لکھنے کا شوق تھا — ابھی تعلیم بھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے ایک ادبی رسالہ "کہکشاں" نکالنا شروع کر دیا۔ ڈراما نگاری کا شوق کالج کے زمانے میں پیدا ہوا، جہاں وہ کالج کے ڈرامیٹک کلب کے سرگرم رکن تھے، اور اس فن میں انہوں نے اتنی ترقی کی کہ بائیس سال کی عمر میں ڈراما "انارکلی" لکھا، جو ڈراما نگاری کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے بہت سے ریڈیائی اور سٹیج ڈرامے لکھے۔ انہوں نے انگریزی اور فرانسیسی زبان کے ڈراموں کا اس تمدن سے اردو ترجمہ کیا کہ ان کے کرداروں کو اپنے ماحول کے مطابق ڈھال لیا۔

امتیاز علی تاج مزاح نگار بھی تھے — مزاح نگاری کے ضمن میں ان کا تخلیق کردہ ڈراما کردار "چچا چھکن" ہے۔ انہوں نے بچوں کے لیے بھی متعدد ڈرامے لکھے، جن میں شامل کتاب "آرام و سکون" بھی ہے۔ یہ سبق "آرام و سکون" اسی کتاب سے لیا گیا ہے — اس کا لبِ لباب یہ ہے کہ جن گھروں میں شور و غل ہوتا ہے، ان کا سکون برباد ہو جاتا ہے، اور ایسے گھروں کے وکیل، جو دفتروں میں ملازم ہیں مگر ان کو گھروں میں آرام و سکون میسر نہیں ہوتا، تو وہ اپنے گھر پر دفتر کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔

ENGLISH

Imtiaz Ali Taj (1900–1970) is a great name in Urdu drama. He was born in Lahore; his father, Syed Mumtaz Ali, the founder-editor of the journal "Tehzeeb-e-Niswan", belonged to district Saharanpur (UP).

Imtiaz Ali Taj studied at Central Model School, Lahore, and did his B.A. from Government College, Lahore. From his school days he was fond of writing; while still a student he started a literary journal, "Kehkashan". At the age of 22 he wrote the play "Anarkali", which holds a special place in the history of drama. Besides this, he wrote many radio plays and dramas, and translated English and French plays into Urdu, adapting them to local conditions. He was also a humorous writer and created the famous character "Chacha Chhakkan". For children he wrote several plays, collected in the book "Aram-o-Sukoon" — and this lesson, "Aram-o-Sukoon", is taken from that book: it shows that in homes where there is constant noise, peace is destroyed, and people who work in offices but do not find peace at home begin to prefer their office over their home.

آرام و سکون
Imtiaz Ali Taj se samjho: Lahore میں پیداکرنے ہوئے; Urdu drama میں ان کا نام سب سے بڑا ہے.
2. Play Summaryڈرامے کا خلاصہ
🏷 Tags: Imtiaz Ali Taj, Aram-o-Sukoon, Play Summary, ڈراما, Class 9 Urdu, Chapter 7
اردو

ڈرامے کا آغاز ڈاکٹر کے مطب سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب مریض میاں اشفاق کا معائنہ کر رہے ہیں، جب کہ بیوی (بیگم اشفاق) شکایت کرتی ہے کہ ان کے شوہر کبھی گھر نہیں آتے — ہمیشہ دفتر میں رہتے ہیں، اور شام کو بھی وقت پر واپس نہیں آتے۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ کوئی خاص بات نہیں: "میرے خیال میں دوا سے زیادہ آرام و سکون کی ضرورت ہے — روز آرام و سکون سے گزرا تو طبیعت ان شاء اللہ بحال ہو جائے گی۔" بیوی کہتی ہے کہ اس کے شوہر کبھی نصیحت پر عمل نہیں کرتے؛ ڈاکٹر کہتا ہے کہ ہر روز تھوڑا تھوڑا وقت آرام و سکون کے لیے نکالنا چاہیے، اور خاموشی اعصاب کو ایک طرح کی تقویت بخشتی ہے۔

دوسرا حصہ گھر میں ہے، جہاں مزاحیہ صورتِ حال پیدا ہوتی ہے: نوکر للو چیزیں توڑتا اور شور مچاتا ہے، بیوی ڈانٹتی رہتی ہے، ہمسائے کا شور گھر میں آتا ہے، اور فقیر کی آواز بھی شامل ہو جاتی ہے — یہاں تک کہ میاں کو گھر میں بالکل آرام نہیں ملتا۔ آخر میں میاں باہر جانے کے لیے تیار ہو کر کہتا ہے کہ وہ دفتر جا رہا ہے۔ بیوی کے پوچھنے پر کہ کیوں، وہ ڈرامے کا آخری جملہ کہتا ہے: "آرام و سکون کے لیے!" مزاح اسی تضاد میں ہے: جس شخص کو گھر میں آرام کرنے کی نصیحت کی گئی ہے، اسے آرام صرف دفتر میں ملتا ہے، کیونکہ اس کا گھر ہی سب سے زیادہ شور والی جگہ ہے۔

ENGLISH

The play opens in a doctor's clinic. Doctor Sahib is examining Mian Ishfaq, while Biwi (Begum Ishfaq) complains that her husband is never home — he is always at the office, and even in the evening he does not return on time. The doctor says there is nothing seriously wrong: "In my opinion, he needs rest and peace more than medicine — if he passes his days in rest and peace, his health will, God willing, be restored." Biwi replies that her husband never follows advice; the doctor says that every day he should take out some time for rest and peace, and that silence gives strength to the nerves.

The second part is set in the home, where the comedy unfolds: the servant Lallu keeps breaking things and making noise, Biwi keeps scolding, the neighbour's noise disturbs the house, and a beggar's voice joins in — so much so that Mian gets no peace at home at all. In the end Mian, dressed to go out, says he is going to the office. When Biwi asks why, he answers with the play's punch line: "آرام و سکون کے لیے" — for rest and peace! The humour lies in this irony: the man who is told to rest at home finds his only rest at the office, because his home itself is the noisiest place of all.

ڈراما
Markazi khayal se samjho: Doctor کہتا ہے مریض کو دوا سے زیادہ آرام o سکون کی ضرورت ہے — گھر کا شور ہی بیماری ہے.
3. Difficult Words, Harf & Sabiqa/Lahiqaمشکل الفاظ، حروف اور سابقے و لاحقے
🏷 Tags: Imtiaz Ali Taj, Aram-o-Sukoon, Difficult Words, Harf & Sabiqa/Lahiqa, حروف کی اقسام, Class 9 Urdu, Chapter 7
اردو

حرف : حرف وہ کلمہ ہے جو نہ تو کسی شخص یا چیز کا نام ہو، نہ کسی کام کے کرنے یا ہونے کو ظاہر کرے اور نہ ہی اپنے الگ کوئی معنی رکھتا ہو، بلکہ مختلف کلموں کو آپس میں ملاتا اور ان کے ساتھ مل کر معنی بتاتا ہے — جیسے: "نمازی مسجد میں ہے"۔ اس جملے میں لفظوں کا تعلق "میں" کی وجہ سے ہے۔ اردو میں حروف کی بہت سی اقسام ہیں، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں: حروفِ جار (میں، سے، پر، تک، ساتھ، اوپر، نیچے، لیے، واسطے، آگے، پیچھے، اندر، باہر، پاس، درمیان وغیرہ)؛ حروفِ اضافت (کا، کی، کے)؛ حروفِ عطف (اور، پھر)؛ حروفِ استفہام (کب، کیوں، کیا، کون، کیسا، کس لیے، کس طرح، کتنا، کیوں کر، کدھر، کہاں)؛ حروفِ تشبیہ (مانند، کی، طرح، جیسا، سا، مثل، صورت، بعینہ، ہو بہو، کاسا، سی وغیرہ)؛ حروفِ علت (کیونکہ، اس لیے، بوجہ، بسبب، تاکہ، اس لیے کہ، چنانچہ، اس واسطے، اسی باعث، لہٰذا)؛ حروفِ شرط و جزا (اگر، جب، تو، تب)؛ حروفِ اضراب (بلکہ)؛ حروفِ تردید (یا، خواہ، چاہے)؛ حروفِ بیان (کہ)۔

سابقہ / لاحقہ : سابقہ وہ مرادف علامت ہے جو کسی لفظ کی ترکیب بنانے کے لیے اس کے شروع میں لگائی جائے — مثلاً: خود غرض، خوش مزاج میں "خود" اور "خوش" سابقے ہیں۔ لاحقہ وہ مرادف علامت ہے جو کسی لفظ کے آخر میں لگائی جائے — مثلاً: خطرناک، غم ناک میں "ناک" لاحقہ ہے۔

ENGLISH

Harf : a harf is a word which, by itself, has no complete meaning, but shows its meaning when joined with other words — for example, "mein" in "mein" (as in "namazi masjid mein hai"). Urdu has many kinds of harf: harf-e-jarr (میں, سے, پر, تک, ساتھ, اوپر, نیچے, لیے, waste, آگے, پیچھے, اندر, باہر, پاس, درمیان, وغیرہ); harf-e-izafat (ka, ki, ke); harf-e-atf (aur, phir); harf-e-istifham (کب, kyon, کیا, کون, کیسا, کس لیے, کس طرح, کتنا, kyon کر, کدھر, کہاں); harf-e-tashbeeh (maanind, ki, tarah, jaisa, sa, ...); harf-e-illat (کیوں کے, اس لیے, ba-وجہ, ba-سبب, تاکہ, اس لیے کے, chunaanche, اس waste, اسی ba-اس, لی-ہذا); harf-e-shart-o-jaza (agar, jab, to, tab); harf-e-izrab (balke); harf-e-tardeeb (ya, khwah, chahe); harf-e-bayan (ke, for explanation).

Sabiqa / Lahiqa : a sabiqa is a prefix added to the beginning of a word to make a new word (for example, "khud" in "khud-gharz", "khush" in "khush-mizaj"); a lahiqa is a suffix added to the end of a word (for example, "naak" in "khatar-naak", "gham-naak").

حروف کی اقسام
Harf se samjho: حرف اکیلے پورا معانی نہیں دیتا, دوسرے لفظ کے ساتھ مل کر معانی بناتا ہے.
📝 Exercise Questions — with Answersمشق سوالات — جوابات کے ساتھ
ماخذ

نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔

SOURCE

Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.

MCQs۱۔ ڈراما "آرام و سکون" کے متن کے حوالے سے درست جواب پر (✓) کا نشان لگائیں
QUESTIONS + ANSWERS
(i) ڈاکٹر کے خیال میں مریض کو دوا سے زیادہ ضرورت تھی:
  • (الف) نیند کی
  • (ب) تنہائی کی
  • (ج) آرام و سکون کی ✓
  • (د) گپ شپ کی

جواب: (ج) — آرام و سکون کی — کتاب: "میرے خیال میں دوا سے زیادہ آرام و سکون کی ضرورت ہے"۔

(ii) میاں صاحب کا نام ہے:
  • (الف) اسحاق
  • (ب) اشفاق ✓
  • (ج) عدنان
  • (د) اشتیاق

جواب: (ب) — اشفاق — ڈرامے کے کردار: ڈاکٹر، بیوی (بیگم اشفاق)، میاں اشفاق، لّو (گھر کا ملازم)۔

(iii) ملازم گودام میں ڈھونڈ رہا تھا:
  • (الف) ہلدی
  • (ب) ریتھے
  • (ج) نمک
  • (د) مرچیں

خود آزمائی (unmarked): خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔

(iv) گھنٹی میز پر ______ نے رکھی تھی — Khud Azmai

خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔

(v) میاں دفتر جانے کے لیے طلب کرتا ہے:
  • (الف) ٹوپی اور شیروانی ✓
  • (ب) ٹوپی اور جوتا
  • (ج) ٹوپی اور مفلر
  • (د) ٹوپی اور چھڑی

جواب: (الف) — جواب: (الف) ٹوپی اور شیروانی — کتاب: "میاں: ٹوپی اور شیروانی!"

Short Answers۲۔ سبق "آرام و سکون" کے متن کے مطابق سوالوں کے جواب لکھیں
QUESTIONS + ANSWERS
(الف) ڈاکٹر نے مریض (میاں) کو دوا کے بجائے کیا تجویز کیا؟

جواب: آرام و سکون — ڈاکٹر نے کہا کہ دوا سے زیادہ آرام و سکون کی ضرورت ہے، اور ہر روز تھوڑا تھوڑا وقت آرام و سکون کے لیے نکالنا چاہیے۔

(ب) گھر میں خدمت سے زیادہ شور و غل ہو تو اس سے انسانی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟

جواب: شور و غل سے اعصاب خراب ہوتے ہیں اور صحت بگڑتی ہے — اس کے برعکس خاموشی اعصاب کو ایک طرح کی تقویت بخشتی ہے۔

(ج) صحت مند رہنے کے لیے اچھی خوراک کے علاوہ کیا چیز درکار ہے؟

جواب: آرام و سکون — اور خاموشی بھی، کیونکہ خاموشی اعصاب کو تقویت دیتی ہے۔

(د) ہمسائے کی کون سی حرکت سے میاں کے آرام میں خلل واقع ہوا تھا؟ — Khud Azmai

خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔

(ہ) میاں نے گھر میں آرام و سکون نہ ملنے پر کہاں جانے کو ترجیح دی؟

جواب: دفتر جانے کو — آخر میں میاں کہتا ہے: "ہاں میں دفتر جا رہا ہوں" اور بیوی کے پوچھنے پر کہ کیوں، جواب دیتا ہے: "آرام و سکون کے لیے"۔

Fill in the Blanks, Harf, Sabiqa/Lahiqa & Makalma۳–۶۔ جملے، حروف، سابقے و لاحقے، مکالمہ نگاری
QUESTIONS + ANSWERS
سبق "آرام و سکون" کے متن کے مطابق خالی جگہیں پر کریں: (الف) میرے خیال میں دوا سے زیادہ ______ کی ضرورت ہے

جواب: (الف) آرام و سکون۔

(ب) بیویوں مرتبہ کہہ چکی ہوں کہ اتنا کام نہ کرو ______ صحت سے ہاتھ دھو بیٹھو گے — Khud Azmai

خود آزمائی: اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔

(ج) جی نہیں! دوا کی ______ ضرورت نہیں — Khud Azmai

خود آزمائی: اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔

(د) خاموشی اعصاب کو ایک طرح کی ______ بخشتی ہے

جواب: (د) تقویت — "خاموشی اعصاب کو ایک طرح کی تقویت بخشتی ہے"۔

(ہ) ______ کو ایسا خیال بھی تو نہیں آتا کہ اس گھر میں کوئی بیمار پڑا ہے — Khud Azmai

خود آزمائی: اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔

مندرجہ ذیل حروف کی اقسام کی تعریف بیان کریں اور دو دو مثالیں دیں: (الف) حروفِ استفہام (ب) حروفِ تشبیہ (ج) حروفِ شرط و جزا (د) حروفِ بیان (ہ) حروفِ تردید

جواب : (الف) استفہام: وہ حروف جو پوچھنے یا سوال کرنے کے موقع پر بولے جاتے ہیں، مثلاً: کب، کیوں، کیا، کون۔ (ب) تشبیہ: وہ حروف جو کسی ایک چیز کو کسی دوسری چیز کے مشابہ یا مانند قرار دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، مثلاً: مانند، کی، طرح، جیسا۔ (ج) شرط و جزا: وہ حروف جو شرط کے موقع پر بولے جاتے ہیں، مثلاً: اگر، جب، تو، تب — ان جملوں میں "اگر" اور "جب" حروفِ شرط اور "تو" اور "تب" حروفِ جزا ہیں۔ (د) بیان: وہ حرف جو کسی وضاحت کے لیے استعمال کیا جائے اور وہ حرف "کہ" ہے، مثلاً: "جب استاد نے شاگرد سے کہا کہ سبق پڑھو"۔ (ہ) تردید: وہ حروف جو دو باتوں میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے موقع پر بولے جاتے ہیں، مثلاً: یا، خواہ، چاہے۔

سابقوں: "با، پیش، کم، ہم" اور لاحقوں: "آرا، پن، دار، ستان" کی مدد سے تین تین الفاظ بنائیں — مثال

مثال (یہ کتاب کا جواب نہیں، مشق کی مثال ہے): با: باادب، باصلاحیت، باہمت؛ پیش: پیش قدم، پیش کش، پیش گوئی؛ کم: کمزور، کم عقل، کم بخت؛ ہم: ہم جماعت، ہم سفر، ہم وطن؛ آرا: صف آرا، دل آرا، جاں آرا؛ پن: بچپن، لڑکپن، دیوانہ پن؛ دار: دکاندار، ذمہ دار، وفادار؛ ستان: ہندوستان، پاکستان، گلستان۔ اپنے الفاظ خود بنائیں۔

مکالمہ نگاری : ڈراما "آرام و سکون" مکالمہ نگاری کی ایک عمدہ مثال ہے — اس کے انداز کو ملحوظ رکھتے ہوئے "ٹریفک کے قوانین کیوں ضروری ہیں؟" کے موضوع پر ایک مکالمہ تحریر کریں

یہ تحریری مشق ہے (کوئی ایک جواب نہیں): مکالمہ لکھتے وقت یہ باتیں یاد رکھیں — گفت گو کرتے وقت مخاطب اور مخاطب الیہ کے مقام و مرتبہ کا خیال رکھا جائے؛ مکالمہ لکھتے وقت وقت، زبانی اور مکانی ترتیب و تنظیم کا خیال رکھنا ضروری ہے؛ مکالمہ نگاری میں رموز و اوقاف کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے؛ مکالمے میں تصنع اور بناوٹ کے بجائے فطری بے ساختگی سے کام لیا جائے؛ گفت گو کے ساتھ ساتھ جسمانی حرکات و سکنات اور اشارات کا بھی خیال رکھا جائے؛ اور مکالمے کا اختتام فطری انداز میں ہونا چاہیے۔

📌 خلاصہ و رہنمائی — اس سبق میں کیا ہے؟
خلاصہ

اس سبق میں Imtiaz Ali Taj کا تعارف، Play Summary اور Difficult Words, Harf & Sabiqa/Lahiqa سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: مصنف کا تعارف، ڈرامے کا خلاصہ، مشکل الفاظ، حروف اور سابقے و لاحقے۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔

نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔

SUMMARY

This chapter covers the introduction of Imtiaz Ali Taj, Play Summary and Difficult Words, Harf & Sabiqa/Lahiqa. It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).

Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.

🎯 مزید Tests کے لیے

Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.

PunjabTest.com — Tests →

PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 7 (Aram-o-Sukoon) • English + Urdu • Session 2026–27

← Chapter 6Chapter 8 →