
غلام عباس (۱۹۰۹ء–۱۹۸۲ء) امرتسر (مشرقی پنجاب، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ ڈسٹرکٹ اسکول لاہور سے میٹرک پاس کیا۔ لکھنے کا شوق انہیں بچپن سے ہی تھا۔ ابتدائی عمر میں غیر ملکی افسانوں کے ترجمے کیے۔ بچوں کے رسالے "پھول" اور خواتین کے رسالے "تہذیبِ نسواں" کے مدیر رہے۔ ۱۹۳۸ء میں "آل انڈیا ریڈیو" سے منسلک ہو گئے۔ ۱۹۴۷ء میں قیامِ پاکستان کے بعد غلام عباس پاکستان آ گئے۔ کچھ عرصے بعد پنجاب ایڈوائزری بورڈ نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر نقد انعام سے نوازا اور حکومتِ پاکستان نے انہیں "ستارہ امتیاز" کا اعزاز پیش کیا۔
غلام عباس اردو افسانہ نگاری میں منفرد اور اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کی اہم تصانیف میں تین افسانوی مجموعے: "آنندی"، "گنڈاس" اور "جاذ کی چاندنی" جب کہ تین ناول شامل ہیں۔ انہوں نے فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کی کتاب "Friends, not Masters" کا اردو ترجمہ "دوست نہ آقا" کے نام سے کیا۔ افسانہ "کتبہ" ان کے افسانوں کے مجموعے "آنندی" سے مستعار ہے، جو ان کے فن کی عمدہ مثال ہے — اس میں ایک چھوٹے آدمی کے خواب کی کہانی ہے، جو اس کی زندگی میں پورا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی موت کے بعد پورا ہوتا ہے۔
Ghulam Abbas (1909–1982) was born in Amritsar (East Punjab, India). He passed his matriculation from a school in Lahore and later passed the examination in ... He had a love for writing from childhood; in his early age he translated foreign stories, and remained the editor of the children journal "Phool" and the women journal "Tehzeeb-e-Niswan". In 1938 he joined All India Radio. After the creation of Pakistan in 1947, Ghulam Abbas came to Pakistan, and after some time he became the Punjab Advisory Board. In recognition of his literary services he was offered the "Sitara-e-Imtiaz" by the Government of Pakistan, which he declined.
Ghulam Abbas holds a high and unique place in Urdu short-story writing. His important works include three collections of stories: "Anandi", "Gandras" and "Jaze ki Chandi", and three novels. He also translated Field Marshal Ayub Khan book "Friends, not Masters" into Urdu. The story "Kutba" is taken from his collection "Anandi" and is a fine example of his art: it shows how a small man dreams of a name-plate, and how that dream is fulfilled only after his death.
شریف حسین ایک شہر سے دو میل کے فاصلے پر واقع ایک بڑے دفتر میں ایک غریب کلرک تھا۔ وہ روز پیدل دفتر جاتا تھا، اور کبھی کبھی تانگے میں سوار ہونے کا لطف اٹھاتا تھا۔ اس کی زندگی چھوٹے چھوٹے خوابوں کی زندگی تھی: ایک دن شہر کے دروازے کے قریب ایک دکان کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے سنگِ مرمر کا ایک خوبصورت ٹکڑا دیکھا — ایک "کتبہ" (کندہ شدہ پتھر کی تختی)۔ دکاندار نے اس کی قیمت تین روپے بتائی؛ شریف حسین نے بھاؤ تاؤ کر کے اسے ایک روپے میں خرید لیا، اور اس پر اپنا نام کندہ کرا لیا۔
وہ کتبے کو گھر لے آیا اور اسے اپنی الماری میں رکھ دیا، اور اس دن کا خواب دیکھنے لگا جب وہ اسے اپنے مکان کے صدر دروازے پر لگائے گا۔ سال پر سال گزرتے گئے: اسے چھوٹی چھوٹی ترقیاں ملیں، بچے بڑے ہوئے، بیٹی کی شادی ہوئی، اور آخر میں وہ تھوڑی سی پنشن پر ریٹائر ہو گیا۔ کتبہ الماری میں ہی پڑا رہا، اور اس کا خواب اس کی زندگی میں کبھی پورا نہ ہوا۔
اس کی موت کے بعد اس کے بڑے بیٹے نے کتبے کو ایک سنگ تراش کے پاس لے جا کر اس کی عبارت میں تھوڑی سی ترمیم کرائی، اور پھر اسی شام اسے اپنے باپ کی قبر پر نصب کر دیا۔ وہ پتھر جو شریف حسین اپنی زندگی میں اپنے گھر کے دروازے پر لگانا چاہتا تھا، اس کی موت کے بعد اس کی قبر کا کتبہ بن گیا۔ یہی اس کہانی کا طنز اور حسن ہے: ایک چھوٹے آدمی کا چھوٹا سا خواب، جو اس طریقے سے پورا ہوا جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا۔
Sharif Husain is a poor clerk in a big office in a city about two miles from the town. He walks to the office every day, and only rarely gets the pleasure of riding in a tonga. His life is a life of small dreams: one day, passing by a shop near the city gate, he sees a beautiful piece of white marble - a "kutba" (an inscribed stone tablet). The shopkeeper asks three rupees for it; Sharif Husain bargains and buys it for one rupee, and gets his own name engraved on it.
He takes the kutba home and keeps it in his box, dreaming of the day when he will put it up at the main door of his house. Years pass: he gets small promotions, his children grow up, his daughter is married, and finally he retires on a small pension. The kutba stays in the box, and his dream of putting it on his door is never fulfilled in his lifetime.
After his death, his elder son takes the kutba to a stone-carver, gets a small change made in its inscription, and that very evening installs it on his father grave. The stone that Sharif Husain wanted for the door of his house in life becomes the gravestone of his grave after his death. This is the irony and the beauty of the story: a small man small dream, fulfilled in a way he never imagined.
فرہنگ: کتبہ = کندہ شدہ پتھر کی تختی؛ سنگِ مرمر = سفید چمکدار پتھر؛ ترمیم = تبدیلی/درستگی؛ نقش و نگار = کندہ کاری اور ڈیزائن؛ خس و خاشاک = تنکے اور کوڑا کرکٹ؛ کنگلا = مفلس/غریب؛ آکاس = عکس/پرچھائیں۔
اصنافِ نثر : نثر کی معروف اقسام میں داستان، ناول، افسانہ، ڈراما، سیرت نگاری، سوانح عمری، خود نوشت، سفر نامہ، کتبہ، مضمون نگاری اور غیر نویسی شامل ہیں۔ یہاں ہم صرف داستان، ناول، افسانہ اور ڈراما کے بارے میں مختصراً بتاتے ہیں۔ داستان: کہنے کی چیز کو کہانی کہتے ہیں، اور داستان کہانی کی قدیم ترین قسم ہے۔ ناول: ناول (Novel) انگریزی کا لفظ ہے، جس کے معنی "نیا" یا "انوکھا" کے ہیں؛ ادب کی اصطلاح میں ناول سے مراد وہ قصہ ہے جس میں واقعات خلافِ قیاس نہ ہوں، بلکہ ناول کی بنیاد حقیقت اور فطرت پر اٹھائی جاتی ہے اور مافوق الفطرت باتوں سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ افسانہ: افسانہ جس کو انگریزی میں (Short Story) کہا جاتا ہے، ایک ایسی مختصر تحریر کا نام ہے جس میں کسی واقعے کو مختصر انداز میں دکھایا جاتا ہے۔ ڈراما: ڈراما (Drama) انگریزی زبان کا لفظ ہے، جس کے لغوی معنی تماشا یا کھیل کے ہیں؛ یہ نثر کی وہ صنف ہے جس میں ایک مکمل کہانی ہوتی ہے اور اسے کرداروں کی حرکات و سکنات اور مکالموں کے ذریعے سٹیج پر پیش کیا جاتا ہے۔
Farhang: kutba = an inscribed stone tablet; sang-e-marmar = marble; tarmeem = alteration; naqsh-o-nigar = engraving and design; khas-o-khashak = straw and rubbish; kangla = poor; aakas = reflection.
Asnaf-e-Nasr : the well-known forms of prose are: dastan, novel, afsana, drama, seerat-nigari, sawaneh-umri, khud-nawisht, safar-nama, kutba, mazmoon-nigari and ghair-nigari. Here we discuss briefly dastan, novel, afsana and drama. Dastan: telling a story is called dastan; it is the oldest form of story-telling. Novel: the English word "Novel" means "new" or "strange"; in literary terminology it means a long story in which events contrary to facts are not included, and it is based on truth and nature, avoiding supernatural things. Afsana: in English it is called "Short Story" - a short prose piece in which an event is shown in a brief way. Drama: the English word "Drama" means a play; it is a prose form in which a complete story is presented through the movements and dialogues of characters.
نوٹ — ماخذ: یہ صفحہ Class 9 Urdu کے لائبریری ماسٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب اس وقت ڈسک پر موجود نہیں، اس لیے کتاب کے صفحہ نمبروں کا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ جو جواب ماسٹر میں یقینی طور پر دیا گیا تھا وہ نشان زد ہے، باقی 'خود آزمائی' کے طور پر بغیر نشان کے دیے گئے ہیں تاکہ غلط جواب نہ سکھایا جائے۔
Source note: This page is derived from the Class 9 Urdu library master. No official book is on disk, so no official-book page numbers are claimed. Answers given with certainty in the master are marked; the rest are left as 'Khud Azmai' (unmarked self-test) so that no answer is invented.
خود آزمائی (unmarked): خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
خود آزمائی (unmarked): خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
جواب: (د) — ہر عمر کے — کتاب: ان کلرکوں میں ہر عمر کے لوگ تھے۔
جواب: (ب) — صدر دروازے پر لگایا جائے — کتاب: وہ اسے اپنے مکان کے صدر دروازے پر لگانا چاہتا تھا۔
جواب: (د) — اس کی قبر کا کتبہ بنا — کتاب: اس کے بیٹے نے کتبے کی عبارت میں ترمیم کرا کر اسے اپنے باپ کی قبر پر نصب کر دیا۔
جواب: ایک معمولی کلرک کی حیثیت سے — ایک بڑے دفتر میں چھوٹے درجے کا کلرک۔
جواب: ہر عمر کے لوگ — نئے بھرتی ہونے والے بھی، ادھیڑ عمر بھی اور عمر رسیدہ بھی۔
جواب: اس پر اپنا نام کندہ کرا کر اسے اپنے مکان کے صدر دروازے پر لگانا۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب یہاں نشان زدہ نہیں کیا گیا ہے؛ اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
جواب: اس نے کتبے کو ایک سنگ تراش کے پاس لے جا کر اس کی عبارت میں تھوڑی سی ترمیم کرائی، اور پھر اسی شام اسے اپنے باپ کی قبر پر نصب کر دیا۔
جواب: (د) درست (✓) — "ان کلرکوں میں ہر عمر کے لوگ تھے"۔ (ہ) غلط (✗) — وہ اسے سنگ تراش کے پاس لے گیا تھا، آہنگر کے پاس نہیں۔ باقی بیانات خود آزمائی کے طور پر کریں — اپنے جواب کا موازنہ کتاب کے متن سے کریں۔
جواب (خلاصہ): (ب) دفتر کے قریب بازار میں دنیا بھر کی چیزیں اور ہر قسم کے لوگ ملتے تھے — یہ اس جگہ کی رونق اور تنوع کی تصویر ہے۔ باقی جملوں کی وضاحت خود کریں — ان کا حوالہ کتاب کے متن سے تلاش کریں۔
خود آزمائی: اعراب لگا کر بلند آواز میں پڑھیں اور اپنے جواب استاد سے چیک کرائیں۔
خود آزمائی: اقتباس کی تشریح کتاب کے متن کی روشنی میں خود لکھیں؛ مصنف: غلام عباس، سبق: کتبہ۔
جواب: (الف) تہواروں کو — تہوار کسی بھی قوم کی ثقافت اور روایات کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ (ب) عید الفطر، عید الاضحیٰ، یومِ آزادی، یومِ دفاع، یومِ تکبیر۔ (ج) تہوار لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں، محبت اور بھائی چارے کے جذبات کو فروغ دیتے ہیں، اور معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لاتے ہیں۔ (د) یومِ آزادی (۱۴ اگست)، یومِ دفاع (۶ ستمبر)، یومِ تکبیر (۲۸ مئی)، عیدین۔ (ہ) موزوں عنوان: "قومی اور علاقائی تہوار"۔
اس سبق میں Ghulam Abbas کا تعارف، Story Summary اور Difficult Words & Asnaf-e-Nasr سمجھائے گئے ہیں۔ موضوعات یہ ہیں: مصنف کا تعارف، کہانی کا خلاصہ، مشکل الفاظ اور اصنافِ نثر۔ آخر میں مشق کے تمام سوالات جوابات کے ساتھ دیے گئے ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر/مصنف کے نام اور دو حقائق یاد کرو، پھر مرکزی خیال اپنے لفظوں میں لکھو، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملاؤ۔
This chapter covers the introduction of Ghulam Abbas, Story Summary and Difficult Words & Asnaf-e-Nasr. It ends with every exercise question answered (or left as unmarked self-test where the master gave no certain answer).
Revision guidance: first learn the poet/author's name and two facts, then write the central idea in your own words, and finally solve the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو — اس صفحے پر صرف مشق اور خلاصہ دیا گیا ہے.
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 9 Urdu, Chapter 8 (Kutba) • English + Urdu • Session 2026–27