
حفیظ تائب کا اصل نام عبدالحفیظ منہاس تھا، مگر وہ اپنے تخلص ”حفیظ تائب“ سے اتنے مشہور ہوئے کہ لوگ ان کا اصل نام ہی بھول گئے۔ وہ ۱۹۳۰ء میں پیدا ہوئے اور ۲۰۰۶ء میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کا آبائی وطن تحصیل وزیر آباد کا قصبہ احمد نگر تھا، جہاں ان کے والد حاجی چراغ دین منہاس ایک نیکوکار، معلم اور امام و خطیب کے طور پر جانے جاتے تھے۔
حفیظ تائب نے عربی اور فارسی کی بنیادی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور اپنے قصبے کے مڈل اسکول سے روایتی تعلیم پائی۔ پھر انھوں نے زمیندار ہائی اسکول گجرات سے میٹرک پاس کیا۔ نوٹ: اسکین میں میٹرک کے سال کا آخری ہندسہ واضح نہیں، اس لیے یہاں سال نہیں لکھا گیا — اندازے سے کوئی سال گھڑا نہیں گیا۔ میٹرک کے بعد وہ گجرات میں پری انجینئرنگ کلاس میں داخل ہوئے، مگر ان کا طبعی میلان شعر و شاعری کی طرف تھا، اس لیے کالج کی تعلیم ترک کر دی۔
۱۹۴۷ء سے ۱۹۴۹ء تک وہ محکمہ برقیات اور واپڈا میں ملازم رہے۔ اسی دوران انھوں نے اردو فاضل اور ایم اے پنجابی کے امتحانات پاس کر لیے۔ بعد میں وہ جز وقتی استاد کی حیثیت سے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ پنجابی سے منسلک ہو گئے، اور یہ سلسلہ ۲۰۰۳ء تک بخیر و خوبی جاری رہا۔
پنجاب یونیورسٹی سے منسلک ہونے سے پہلے بھی حفیظ تائب ایک مشہور حمد و نعت گو کی حیثیت سے پاکستان اور بیرونِ پاکستان جانے جاتے تھے، اور ان کے مداحوں کی تعداد قابلِ رشک تھی۔ وہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں حمد، نعت اور مناجات کہتے تھے۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں ۱۹۹۳ء میں انھیں تمغہ حسنِ کارکردگی عطا کیا، اور لاہور کی ایک اہم شاہراہ کا نام بھی ان سے منسوب کیا گیا۔ ان کے اب تک گیارہ شعری مجموعے چھپ چکے ہیں، اور وہ ”کائناتِ حفیظ تائب“ کے نام سے کلیات کی صورت میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔
Hafeez Taib (1930–2006) is the pen name of Abdul Hafeez Munhas — the pen name became so famous that his real name was almost forgotten. He came from Ahmad Nagar, a town in tehsil Wazirabad, where his father Haji Chiragh Din Munhas was known as a pious man, a teacher, and an imam and khateeb.
The young Hafeez learned basic Arabic and Persian from his father and finished middle school in his own town. He then passed matric from Zamindar High School, Gujrat. Note: the last digit of the matric year is not clear in the scan, so no year is guessed here. After matric he joined a pre-engineering class in Gujrat, but his heart was in poetry, so he left college.
From 1947 to 1949 he worked in the electricity department and WAPDA, and during those years he passed Urdu Fazil and MA Punjabi. Later he joined the Punjabi Department of Punjab University as a part-time teacher, a connection that lasted until 2003.
Even before the university post, he was already famous across Pakistan and abroad as a writer of Hamd and Naat, with admirers everywhere. He wrote Hamd, Naat and Munajat in both Urdu and Punjabi. In 1993 the Government of Pakistan gave him the Tamgha-e-Husn-e-Karkardagi (Pride of Performance), and an important road in Lahore is named after him. Eleven of his poetry collections have been published, along with his complete works, Kainat-e-Hafeez Taib.
حمد اس نظم کو کہتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، ربوبیت، یکتائی اور دیگر صفات کا بیان ہو۔ یہ سبق ۱ اسی صنف کی ایک نظم ہے، جس کا عنوان ”حمد“ ہے۔ شاعر نے اس نظم میں اللہ کی ذات کو کائنات کی ہر چیز میں جلوہ گر دکھایا ہے — یعنی جو کچھ ہم دیکھتے ہیں، وہ سب اسی کی قدرت اور اسی کے جمال و جلال کی گواہی دے رہا ہے۔
کتاب میں اس سبق کے تدریسی مقاصد چار ہیں: پہلا، طلبہ کو حمد کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے آگاہ کرنا؛ دوسرا، طلبہ کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے آگاہ کرنا اور ان کی اسلامی معلومات میں اضافہ کرنا؛ تیسرا، طلبہ کی کردار سازی کرنا اور زندگی میں اخلاقی اصولوں اور نیک اعمال کی اہمیت کو اجاگر کرنا؛ چوتھا، طلبہ میں اسلامی اخوت اور محبت کے احساسات میں اضافہ کرنا۔
مرکزی خیال سمجھنے کا آسان طریقہ یہ ہے: پوری نظم ایک ہی سوال کے گرد گھومتی ہے — ”کس کا؟“ ہر مصرعے میں شاعر کسی نہ کسی نشانی کی طرف اشارہ کر کے پوچھتا ہے کہ یہ کس کی ہے؟ اور جواب ہر بار ایک ہی ہوتا ہے: اللہ کی۔ نظام بھی اس کا، دوام بھی اس کا، جلال بھی اس کا، جمال بھی اس کا۔ یہی توحید کا سب سے سادہ اور خوبصورت بیان ہے۔
A Hamd is a poem written in praise of Allah — His oneness (Tauhid), His lordship, and His attributes. Lesson 1 of the book is exactly such a poem. Through it, the poet shows Allah present in everything we see: whatever we look at in the universe is a witness to His power, His grandeur (Jalal) and His beauty (Jamal).
The book lists four teaching aims for this lesson: to make students aware of Allah's Being and attributes through the Hamd; to increase their Islamic knowledge through the teachings of the Quran and Sunnah; to build their character by stressing moral principles and good deeds in life; and to grow feelings of Islamic brotherhood and love among students.
The simplest way to hold the theme is this: the whole poem turns on one question — "Kis ka?" ("Whose?"). In every line the poet points at some sign and asks whose it is, and the answer is always the same: Allah's. The system is His, the permanence is His, the grandeur is His, the beauty is His. That is Tauhid stated in the simplest, most beautiful way.
متن (پہلے سات مصرعے):
کس کا نظامِ راہ نما ہے افق افق
کس کا دوام گونج رہا ہے افق افق
شانِ جلال کس کی عیاں ہے جھلک جھلک
رنگِ جمال کس کا جما ہے افق افق
کس کے لیے نجومِ بکف ہے روش روش
بابِ شعور کس کا کھلا ہے افق افق
کس کے لیے سرودِ صبا ہے چمن چمن
تشریح: پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ کائنات کا یہ پورا نظام — سورج کا نکلنا، چاند کا چلنا، موسموں کا بدلنا — کسی رہنما کے بغیر نہیں چل رہا؛ یہ رہنمائی کرنے والا نظام اللہ کا ہے، اور اس کی نشانی ہر افق پر ہے۔ دوسرے مصرعے میں ”دوام“ یعنی ہمیشہ رہنا: دنیا کی ہر چیز بدلتی ہے، مگر ایک ذات ایسی ہے جس کا وجود ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اسی کی گونج ہر سمت سنائی دیتی ہے۔
تیسرے اور چوتھے مصرعے ایک جوڑا ہیں: ”شانِ جلال“ اللہ کی عظمت و ہیبت ہے — پہاڑوں کی بلندی اور سمندر کی وسعت میں جو رعب نظر آتا ہے، وہ اسی کا جلال ہے، اور وہ جھلک جھلک کر ظاہر ہو رہا ہے۔ ”رنگِ جمال“ اس کا حسن ہے — پھول کا رنگ، صبح کی لالی، چہرے کی رونق — یہ سب اسی کے جمال کی جھلک ہے جو ہر افق پر جمی ہوئی ہے۔
پانچویں مصرعے میں ”نجومِ بکف“ یعنی ستارے اس کی مٹھی میں روشنی بنے ہوئے ہیں — ستارے اپنی مرضی سے نہیں چمکتے، وہ بھی اسی کے قبضے میں ہیں۔ چھٹے مصرعے میں ”بابِ شعور“ یعنی سمجھ اور عقل کا دروازہ: انسان کو سوچنے، سمجھنے اور حق پہچاننے کی جو صلاحیت ملی ہے، وہ دروازہ بھی اسی نے کھولا ہے۔ ساتویں مصرعے میں صبح کی ہوا کا گیت اور باغ کی رونق: ہوا کا چلنا اور باغ کا کھلنا بھی اسی کے لیے ہے، اسی کی حمد گا رہا ہے۔
Text (first seven lines): "Whose guiding system is this, horizon after horizon? Whose permanence echoes, horizon after horizon? Whose grandeur of majesty shines, flash after flash? Whose colour of beauty is spread, horizon after horizon? For whom are the stars a handful of light, brightness after brightness? Whose door of consciousness has opened, horizon after horizon? For whom is the morning breeze a song, garden after garden?"
Explanation: The first line says the universe runs on a guided system — the sun rising, the moon moving, the seasons changing — and that guidance belongs to Allah, visible on every horizon. The second line speaks of dawam, permanence: everything in the world changes, but one Being always was and always will be, and His echo sounds in every direction.
Lines three and four form a pair. Shan-e-Jalal is Allah's grandeur and awe — the height of mountains and the vastness of seas show His majesty, flashing into view again and again. Rang-e-Jamal is His beauty — the colour of a flower, the red of dawn, the glow of a face — all of it His beauty spread across every horizon.
In line five, the stars are light held in His palm: they do not shine by their own will; even they are in His control. Line six says the door of shaoor — human understanding, the power to think and recognise truth — was opened by Him too. Line seven adds the morning breeze's song and the garden's bloom: the wind blowing and the garden flowering are also singing His praise.
متن (آخری سات مصرعے):
کس کے لیے نمودِ ضیا ہے افق افق
مکتوم کس کی موجِ کرم ہے صدف صدف
مرقوم کس کا حرفِ وفا ہے افق افق
کس کی طلب میں اہلِ محبت ہیں داغ داغ
کس کی ادا سے حشر بپا ہے افق افق
سوزاں ہے کس کی یاد میں تائب نفس نفس
فرقت میں کس کی، شعلہ نوا ہے افق افق
تشریح: آٹھویں مصرعے میں ”نمودِ ضیا“ یعنی روشنی کا ظہور: صبح کی پہلی کرن سے لے کر دن کی پوری روشنی تک، ہر افق پر جو اجالا پھیلتا ہے، وہ اسی کے لیے ہے۔ نویں مصرعے میں شاعر کرم کی لہر کو صدف سے تشبیہ دیتا ہے — جیسے موتی سیپی کے اندر چھپا ہوتا ہے، ویسے ہی اللہ کا کرم بھی چھپا ہوا ہے، مگر ہر صدف میں موجود ہے۔ یعنی نعمتیں نظر نہ بھی آئیں، وہ ہر جگہ ہیں۔
دسویں مصرعے میں ”حرفِ وفا“ یعنی وفا کا لفظ: اللہ سے وفا کا وعدہ ہر افق پر لکھا ہوا ہے — کائنات کا ذرہ ذرہ گویا اسی عہد کی تحریر ہے۔ گیارہویں مصرعے میں اہلِ محبت کا ذکر ہے: جو لوگ اللہ سے محبت کرتے ہیں، ان کے دلوں پر اس محبت کا داغ ہے — محبت کا داغ یہاں دکھ کا نشان نہیں، بلکہ عشق کی مہر ہے۔ بارہویں مصرعے میں ”حشر بپا“ یعنی قیامت کا ہنگامہ: اس کی ایک ادا سے، ایک جلوے سے، ایسا شور اٹھتا ہے جیسے حشر کا دن آ گیا ہو۔
آخری دو مصرعوں میں شاعر خود سامنے آ جاتا ہے۔ تیرہویں مصرعے میں وہ اپنا تخلص ”تائب“ استعمال کرتا ہے: تائب اس کی یاد میں سانس سانس جل رہا ہے — یعنی اللہ کی یاد اس کے لیے ٹھنڈی بات نہیں، جلتی ہوئی حقیقت ہے۔ چودہویں مصرعے میں ”فرقت“ یعنی جدائی: اس کی جدائی میں شاعر کی آواز خود ایک شعلہ بن گئی ہے، جو افق افق پھیل رہا ہے۔ نظم اسی شعلے پر ختم ہوتی ہے — حمد عبادت بھی ہے اور عشق بھی۔
Text (last seven lines): "For whom is the appearance of light, horizon after horizon? Hidden — whose wave of grace is this, shell after shell? Written — whose word of loyalty is this, horizon after horizon? In whose longing are the people of love branded, mark after mark? By whose manner is a resurrection raised, horizon after horizon? Burning in whose memory is Taib, breath after breath? In separation from whom is (his) voice a flame, horizon after horizon?"
Explanation: Line eight speaks of namood-e-ziya, the appearing of light: from the first ray of morning to the full light of day, the brightness spreading on every horizon is for Him. Line nine compares His grace to a pearl in a shell (sadaf): just as a pearl stays hidden inside the shell, His grace is hidden (maktoom) yet present in every shell — blessings may not always be seen, but they are everywhere.
Line ten says the word of loyalty (harf-e-wafa) is written on every horizon — every particle of the universe reads like a script of that covenant. Line eleven turns to the people of love: those who love Allah carry the brand (dagh) of that love on their hearts — not a mark of pain, but the seal of devotion. Line twelve says one gesture of His raises a tumult like the Day of Resurrection (hashr).
In the last two lines the poet steps forward himself, using his pen name Taib. In line thirteen, Taib burns in His memory, breath by breath — remembering Allah is not a cool idea for him but a burning reality. In line fourteen, in separation (furqat) from Him, the poet's very voice has become a flame spreading horizon after horizon. The poem ends on that flame: Hamd here is both worship and love.
اس نظم کی سب سے پہچانی جانے والی بات اس کی تکرار ہے۔ ہر مصرعے کے آخر میں ایک لفظ دو بار آتا ہے: افق افق، جھلک جھلک، روش روش، چمن چمن، صدف صدف، داغ داغ، نفس نفس۔ یہ اتفاق نہیں ہے؛ کتاب کے تعارف میں بھی بتایا گیا ہے کہ اس حمد میں لفظوں کی تکرار اس طرح کی گئی ہے کہ یہی تکرار اس کی شان بن گئی ہے۔
تکرار یہاں تین کام کرتی ہے۔ پہلا، وہ مصرعے کو گیت جیسا بنا دیتی ہے — پڑھنے والا لفظ کی واپسی کا انتظار کرتا ہے، اور یہی انتظار نظم کو یاد رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ دوسرا، دہرایا ہوا لفظ معنی کو بڑھا دیتا ہے: ”افق افق“ کا مطلب صرف ایک افق نہیں، بلکہ ہر افق، ہر سمت، ہر جگہ ہے۔ تیسرا، ہر مصرعے کے شروع میں ”کس“ کا سوال آتا ہے، اور آخر میں تکرار جواب کو پھیلا دیتی ہے — سوال چھوٹا ہے، جواب پوری کائنات ہے۔
طالب علم کے لیے سبق یہ ہے کہ تکرار کو کمزوری نہ سمجھے۔ اچھی شاعری میں تکرار اس وقت خوبصورت ہوتی ہے جب وہ معنی کے ساتھ چلے — یہاں ہر دہرایا ہوا لفظ اسی بات پر زور دیتا ہے جو مصرعہ کہہ رہا ہے: روشنی ہر جگہ ہے، حسن ہر جگہ ہے، محبت ہر دل میں ہے۔
The most recognisable thing about this poem is its repetition. Every line ends with a word said twice: ufuq ufuq, jhalak jhalak, rosh rosh, chaman chaman, sadaf sadaf, dagh dagh, nafs nafs. This is not an accident — the book's introduction itself notes that the repetition of words in this Hamd is done in such a way that the repetition itself became its glory.
The repetition does three jobs. First, it makes the line song-like: the reader waits for the word to come back, and that waiting helps the poem stick in memory. Second, the doubled word widens the meaning: ufuq ufuq does not mean one horizon but every horizon, every direction, everywhere. Third, each line opens with the question "Kis?" (Whose?) and closes with a repetition that spreads the answer out — the question is small, the answer is the whole universe.
The lesson for a student is not to treat repetition as a weakness. In good poetry, repetition is beautiful when it walks with meaning — and here every repeated word stresses exactly what its line is saying: light is everywhere, beauty is everywhere, love is in every heart.
اس نظم کے مشکل الفاظ وہی ہیں جو مشق کے سوال ۵ میں بھی پوچھے گئے ہیں۔ انھیں ایک ساتھ یاد کر لو تو پوری نظم آسان ہو جائے گی۔ نجوم ستاروں کو کہتے ہیں — ”نجومِ بکف“ میں ستارے اللہ کی مٹھی میں روشنی بنے ہوئے ہیں۔ شعور سمجھ اور آگاہی کا نام ہے — ”بابِ شعور“ عقل و فہم کا دروازہ ہے۔ نفس کے دو معنی یہاں کام آتے ہیں: سانس اور جان — ”نفس نفس“ یعنی ہر سانس کے ساتھ۔
مکتوم چھپا ہوا، پوشیدہ — اللہ کا کرم مکتوم ہے، یعنی نظر نہیں آتا مگر موجود ہے۔ فرقت جدائی کو کہتے ہیں — محبوب سے دوری کا نام فرقت ہے، اور آخری مصرعے میں شاعر اسی فرقت میں جل رہا ہے۔ مرقوم لکھا ہوا — ”حرفِ وفا مرقوم ہے“ یعنی وفا کا لفظ لکھا ہوا ہے، مٹا ہوا نہیں۔ حشر قیامت کے دن سب کے اکٹھا ہونے کا نام ہے — ”حشر بپا ہے“ یعنی ایسا شور ہے جیسا قیامت کے دن ہو گا۔
ان سات لفظوں کے ساتھ تین اور لفظ بھی ذہن میں رکھو: افق آسمان کا وہ کنارہ جہاں زمین سے ملتا ہوا نظر آتا ہے؛ دوام ہمیشہ رہنا، کبھی ختم نہ ہونا؛ صدف سیپی، جس کے اندر موتی بنتا ہے۔ یہ دس لفظ یاد ہوں تو نظم کا کوئی مصرعہ مشکل نہیں لگے گا۔
The hard words of this poem are the same ones asked in exercise question 5, so learning them together unlocks the whole poem. Nujoom means stars — in nujoom-e-bakaf, the stars are light held in Allah's palm. Shaoor is awareness and understanding — bab-e-shaoor is the door of intellect. Nafs works in two senses here: breath and soul — nafs nafs means with every breath.
Maktoom means hidden, concealed — Allah's grace is maktoom: unseen, yet present. Furqat is separation from the beloved, and in the last line the poet burns in that separation. Marqoom means written — حرفِ وفا مرقوم ہے means the word of loyalty stands written, not erased. Hashr is the gathering of all on the Day of Judgement — حشر bapa ہے means a tumult like that Day has broken out.
Keep three more words with these seven: ufuq, the horizon where sky seems to meet earth; dawam, permanence, never ending; and sadaf, the shell in which a pearl forms. With these ten words in mind, no line of the poem will feel difficult.
کتاب نے موضوع کے اعتبار سے اصنافِ شعری کی چار قسمیں بتائی ہیں، اور انھیں پہچاننا اس سبق کا ایک مقصد ہے۔ حمد وہ نظم ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، ربوبیت، یکتائی اور دیگر صفات کا بیان ہو — یہی سبق اس کی مثال ہے۔ نعت وہ نظم ہے جس میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی شان و شوکت، اوصاف و افعال کا بیان ہو۔
منقبت وہ نظم ہے جس میں اہلِ بیت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، اولیائے عظام، بزرگانِ دین یا کسی معروف شخصیت کے اوصاف بیان کیے جائیں۔ مناجات وہ نظم ہے جس میں اللہ کے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے رقت انگیز انداز میں التجائیں اور دعائیں کی جائیں۔
فرق یاد رکھنے کا آسان طریقہ: جس کی تعریف ہو رہی ہے، اسی سے صنف کا نام بنتا ہے۔ اللہ کی تعریف ہو تو حمد، رسول ﷺ کی ہو تو نعت، کسی بزرگ یا معروف ہستی کی ہو تو منقبت، اور اللہ سے مانگنا اور گناہوں کا اعتراف ہو تو مناجات۔ اس سبق کی نظم میں اللہ ہی کی تعریف ہے، اس لیے وہ حمد ہے — نعت یا منقبت نہیں۔
The book divides religious poetry by subject into four kinds, and telling them apart is one aim of this lesson. Hamd is a poem describing Allah's oneness, lordship, uniqueness and other attributes — this very lesson is an example. Naat is a poem describing the glory, qualities and deeds of the Prophet ﷺ.
Manqabat is a poem describing the qualities of the Ahl-e-Bait, the Sahaba, great saints, elders of faith, or some other well-known personality. Munajat is a poem in which the poet, confessing his sins before Allah, makes moving, heartfelt requests and prayers.
The easy way to remember the difference: the genre takes its name from who is being addressed. Praise of Allah is Hamd; praise of the Prophet ﷺ is Naat; praise of a saint or notable person is Manqabat; and asking Allah, with confession of sins, is Munajat. This lesson's poem praises Allah alone, so it is a Hamd — not a Naat or a Manqabat.
The book's exercise (printed pp. 3–4) has: 1 — Mukhtasar jawab dein (5 questions); 2 — Hawalon ke sath tashreeh (first 4 lines); 3 — بلند آواز میں شعر پڑھنا (class activity); 4 — Durust jawab ki nishandahi (5 items); 5 — Lughat se maani aur a'rab (7 words); 6 — Asnaf-e-shaeri ki misalen talash karna; plus student activities (2) and teacher instructions (2). Note: the book has no separate MCQ section — question 4 is printed in choice form, so its correct choices are named below without an MCQ block.
حفیظ تائب کی شاعری کے بنیادی موضوعات حمد، نعت اور مناجات ہیں۔ وہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں انھی تین موضوعات پر کہتے تھے، اور اسی وجہ سے حمد و نعت گو کے طور پر مشہور ہوئے۔ یہی تین موضوعات ان کی پہچان ہیں — ان کی شاعری اللہ کی حمد، رسول ﷺ کی نعت، اور اللہ کے حضور مناجات کے گرد گھومتی ہے۔
حفیظ تائب کی وجہ شہرت حمد و نعت گوئی ہے — یعنی حمد اور نعت (اور ساتھ مناجات) وہ اصناف ہیں جن سے انھیں پاکستان اور بیرونِ پاکستان شہرت ملی۔ پنجاب یونیورسٹی سے منسلک ہونے سے پہلے بھی وہ اسی حیثیت سے جانے جاتے تھے، اور ان کے مداحوں کی تعداد قابلِ رشک تھی۔
”مرقوم کس کا حرفِ وفا ہے افق افق“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے وفا کا لفظ، یعنی وفا کا عہد، ہر افق پر لکھا ہوا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس وفا کی تحریر ہے — یہ وعدہ کہیں ایک جگہ نہیں، ہر سمت، ہر افق پر ثبت ہے، اور مٹنے والا نہیں۔
”شانِ جلال“ سے مراد اللہ کی عظمت، ہیبت اور قدرت ہے — پہاڑوں کی بلندی اور سمندر کی وسعت میں جو رعب ہے، وہ اسی کا جلال ہے، جو جھلک جھلک کر ظاہر ہو رہا ہے۔ ”رنگِ جمال“ سے مراد اللہ کا حسن ہے — پھول کا رنگ، صبح کی لالی اور کائنات کی رونق اسی کے جمال کی جھلک ہے، جو ہر افق پر جمی ہوئی ہے۔ دونوں مل کر بتاتے ہیں کہ اللہ بیک وقت صاحبِ جلال بھی ہے اور صاحبِ جمال بھی۔
⚠️ یہ جواب نظم کی صورت سے اخذ کیا گیا ہے؛ کتاب میں ہیئت پر کوئی الگ نوٹ نہیں دیا گیا۔ یہ نظم چودہ مصرعوں پر مشتمل ایک حمدیہ نظم ہے جس میں کوئی روایتی غزل کی طرح مطلع و مقطع کا بندوبست نہیں، بلکہ ہر مصرعہ ”کس“ کے سوالیہ انداز سے شروع ہوتا ہے اور آخر میں ایک لفظ کی تکرار (افق افق، جھلک جھلک وغیرہ) پر ختم ہوتا ہے۔ شاعر نے آخری حصے میں اپنا تخلص ”تائب“ بھی استعمال کیا ہے۔ یہی سوالیہ لہجہ اور تکرار اس نظم کی ہیئت کی پہچان ہے۔
حوالہ: یہ چاروں مصرعے سبق ۱ ”حمد“ (حفیظ تائب) کے ابتدائی مصرعے ہیں۔ (i) نظامِ راہ نما: کائنات کا پورا نظام — سورج، چاند، موسم — کسی رہنما کے بغیر نہیں چلتا؛ یہ رہنمائی اللہ کی ہے اور ہر افق پر نظر آتی ہے۔ (ii) دوام: دنیا کی ہر چیز فانی ہے، مگر اللہ کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے؛ اسی دوام کی گونج ہر سمت سنائی دیتی ہے۔ (iii) شانِ جلال: اللہ کی عظمت و ہیبت جھلک جھلک کر ظاہر ہو رہی ہے — پہاڑ اور سمندر اس کے جلال کی گواہی دیتے ہیں۔ (iv) رنگِ جمال: کائنات کا حسن، پھولوں کا رنگ اور صبح کی رونق اسی کے جمال کی جھلک ہے جو ہر افق پر جمی ہوئی ہے۔ چاروں مصرعوں کا خلاصہ ایک ہی ہے: نظام، دوام، جلال اور جمال — سب اللہ کے ہیں۔
یہ کلاس کی سرگرمی ہے، اس کا جواب پڑھ کر نہیں، پڑھ کر سننے سے بنتا ہے۔ طریقہ یہ ہے: پہلے ہر شعر کو آہستہ آواز میں دو بار پڑھو تاکہ ”افق، نجوم، صدف، مرقوم“ جیسے لفظوں کا تلفظ درست ہو جائے، پھر بلند آواز میں ترنم کے ساتھ پڑھو۔ تبصرے میں ہر شعر کی نشانی الگ بتاؤ — مثلاً پہلے شعر میں نظام، پانچویں میں ستارے، ساتویں میں صبح کی ہوا اور باغ، نویں میں صدف میں چھپا موتی — اور ہر نشانی پر یہ جملہ دہراؤ کہ یہ اللہ کی قدرت کی دلیل ہے۔ جو طالب علم نشانی اور اس کا مطلب دونوں بتا دے، اس کا تبصرہ مکمل ہے۔
درست جواب: (الف) نظام — پہلا مصرعہ ہے ”کس کا نظامِ راہ نما ہے افق افق“، یعنی افق افق راہ نما نظام ہے، دوام یا نام نہیں۔
درست جواب: (ج) جلال — تیسرا مصرعہ ہے ”شانِ جلال کس کی عیاں ہے جھلک جھلک“، یعنی جھلک جھلک عیاں شانِ جلال ہے، جمال نہیں (جمال اگلے مصرعے میں آتا ہے)۔
درست جواب: (د) حرفِ وفا — دسواں مصرعہ ہے ”مرقوم کس کا حرفِ وفا ہے افق افق“، یعنی افق افق مرقوم حرفِ وفا ہے، صرف ”وفا“ نہیں، پورا مرکب ”حرفِ وفا“ ہے۔
درست جواب: (ب) اہلِ محبت — گیارہواں مصرعہ ہے ”کس کی طلب میں اہلِ محبت ہیں داغ داغ“، یعنی اللہ کی طلب میں اہلِ محبت داغ داغ ہیں۔
درست جواب: (ج) فرقت — آخری مصرعہ ہے ”فرقت میں کس کی، شعلہ نوا ہے افق افق“، یعنی شاعر کی آواز کے شعلہ بننے کا سبب فرقت (جدائی) ہے، وصال یا دیدار نہیں۔
⚠️ اعراب اور تلفظ کی یہ رہنمائی لغت کے معانی سے مرتب کی گئی ہے؛ کتاب میں ان لفظوں پر اعراب چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ نُجوم (نُ۔جُوم): ستارے۔ شُعُور (شُ۔عُور): سمجھ، آگاہی۔ نَفْس (نَفْس): سانس؛ جان۔ مَکْتُوم (مَکْ۔تُوم): چھپا ہوا، پوشیدہ۔ فُرْقَت (فُرْ۔قَت): جدائی، دوری۔ مَرْقُوم (مَرْ۔قُوم): لکھا ہوا، ثبت شدہ۔ حَشْر (حَشْر): قیامت کے دن سب کا اکٹھا ہونا؛ نظم میں ”حشر بپا“ سے مراد قیامت جیسا ہنگامہ ہے۔ تلفظ کی مشق کے لیے ہر لفظ کو توڑ کر (جیسے مَکْ۔تُوم) تین بار آہستہ پڑھو، پھر پورا لفظ ایک ساتھ بولو۔
⚠️ کتاب نے یہ سوال مثالوں کی تلاش کے لیے دیا ہے، اس لیے نیچے دی گئی مثالیں کتاب میں چھپی ہوئی نہیں ہیں — وہ تلاش کا طریقہ اور نمونے ہیں۔ حمد کی مثال: یہی سبق — حفیظ تائب کی ”حمد“، جس میں صرف اللہ کی تعریف ہے۔ نعت کی مثال: رسول ﷺ کی مدح میں کہی گئی کوئی نظم تلاش کرو — پہچان یہ ہے کہ اس میں رسول ﷺ کی شان، اوصاف یا افعال کا بیان ہو۔ منقبت کی مثال: کسی صحابی، اہلِ بیت کے فرد یا بزرگ کی تعریف میں کہی گئی نظم — پہچان یہ ہے کہ موضوع کوئی معروف ہستی ہو، اللہ یا رسول ﷺ نہ ہوں۔ مناجات کی مثال: وہ نظم جس میں شاعر اللہ کے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے دعا مانگ رہا ہو۔ تلاش کا طریقہ: اپنی اردو کتاب کے فہرست میں ہر نظم کا موضوع دیکھو اور اوپر والی پہچان سے ملا کر صنف لکھو۔
طلبہ کے لیے: (۱) حمد کا ترنم سے پڑھنے کے مقابلے میں حصہ لیں — یعنی حمد کو خوش الحانی اور درست تلفظ کے ساتھ پڑھنے کی مشق کریں اور مقابلے میں شریک ہوں۔ (۲) حمد کے اشعار پر مبنی چارٹ بنائیں — ہر شعر کے ساتھ اس کی نشانی (مثلاً ستارے، باغ، صدف) کی تصویر یا خاکہ لگائیں۔ اساتذہ کے لیے: (۱) طلبہ کو اردو شاعری میں حمد نگاری کی تاریخ اور روایت سے آگاہ کریں — حمد اردو کی پرانی صنف ہے، اس کی روایت بتائیں۔ (۲) حفیظ تائب کی شاعرانہ خصوصیات اور انفرادیت کے بارے میں بتائیں — خاص طور پر تکرار کا حسن اور سادہ مگر گہرا انداز۔
یہ باب حفیظ تائب کی حمد کا مکمل رہنما ہے۔ پہلے شاعر کا تعارف ہے — اصل نام، وطن، تعلیم، ملازمت اور اعزاز۔ پھر حمد کی تعریف اور اس کے چار تدریسی مقاصد ہیں۔ اس کے بعد نظم کے چودہ مصرعوں کی دو حصوں میں تشریح ہے، پھر تکرار کے حسن، مشکل الفاظ کی لغت، اور اصنافِ شعری کی چار قسمیں ہیں۔ آخر میں کتابی مشق کے تمام سوالات کے جوابات ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے شاعر کے پانچ حقائق یاد کرو — اصل نام، وطن احمد نگر، تمغہ ۱۹۹۳ء، گیارہ مجموعے، وفات ۲۰۰۶ء۔ پھر چودہ مصرعوں کو دو حصوں میں یاد کرو اور ہر مصرعے کا ایک لفظی نشان ذہن میں رکھو (نظام، دوام، جلال، جمال، نجوم، شعور، صبا، ضیا، صدف، وفا، داغ، حشر، نفس، فرقت)۔ آخر میں چار اصناف کا فرق ایک جملے میں دہراؤ: اللہ کی تعریف حمد، رسول ﷺ کی نعت، بزرگ کی منقبت، دعا مناجات۔
This chapter is a complete guide to Hafeez Taib's Hamd. It starts with the poet — his real name, home town, education, career and award — then defines Hamd and its four teaching aims. Next come the fourteen lines explained in two halves, then the beauty of repetition, a glossary of hard words, and the four genres of religious poetry. It ends with answers to every official exercise question.
Revision guidance: first learn five facts about the poet — real name, home town Ahmad Nagar, award in 1993, eleven collections, death in 2006. Then learn the fourteen lines in two halves, holding one key word per line (system, permanence, grandeur, beauty, stars, consciousness, breeze, light, shell, loyalty, brand, resurrection, breath, separation). Finally repeat the four genres in one sentence: praise of Allah is Hamd, of the Prophet (SAW) is Naat, of a saint is Manqabat, and prayer to Allah is Munajat.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 1 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu