
اس سبق کا تعارف، اصل متن اور سرکاری مشق (کتاب کے صفحات 80 تا 89) دستیاب نسخے میں موجود نہیں تھے، اس لیے اس صفحے میں صرف وہ مواد شامل ہے جس کی تصدیق ہو سکی ہے — سبق کا عنوان اور مصنف کا نام کتاب کی فہرست سے، اور فرہنگ کے الفاظ (صفحات 146 تا 147) — اور اس کے ساتھ SLO طرز کے مطالعاتی سوالات۔ یہ سوالات کتاب کی سرکاری مشق نہیں ہیں؛ سرکاری مشق کے لیے اصل کتاب کا متن ضرور دیکھیں۔
Important notice: This lesson's introduction, text, and official exercise (book pp. 80–89) were missing from the available copy, so this page contains only verified material — the lesson's title and author name from the book's fehrist (contents), and the Farhang words (printed pp. 146–147) — plus clearly-labelled SLO-style study questions. These questions are NOT the book's official exercise; please consult the original book text for the official exercise.
یہ سبق گیارہویں جماعت کی اردو کتاب «سرمایہ اردو 11» کا گیارہواں سبق ہے۔ کتاب کی فہرست کے مطابق اس کا عنوان «تاریخ کا کفن» ہے اور اس کے مصنف کا نام امر جلیل درج ہے۔ فہرست میں اس سبق کا صفحہ نمبر 81 لکھا ہے۔
ایک بات صاف صاف سمجھ لو: اس سبق کا تعارف دستیاب نسخے میں موجود نہیں تھا، اس لیے یہاں مصنف کی سوانح یا سبق کا خلاصہ نہیں دیا جا رہا۔ جو بات کتاب سے دیکھی نہیں گئی، اسے اپنی طرف سے لکھنا درست نہیں ہوتا۔ اس صفحے پر صرف وہی کچھ ہے جس کی تصدیق ہو سکی ہے — عنوان، مصنف کا نام، اور آگے فرہنگ کے الفاظ۔
عنوان پر ایک لمحہ غور کرو: «تاریخ» یعنی گزرا ہوا زمانہ، اور «کفن» وہ کپڑا جس سے مردے کو ڈھانپا جاتا ہے۔ عنوان پڑھتے ہی ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا تاریخ کو بھی کبھی دفن کر دیا جاتا ہے؟ کیا گزرا ہوا زمانہ بھلا دیا جاتا ہے؟ اصل متن ملنے پر یہی سوال تمہاری رہنمائی کرے گا — مگر اس کا جواب اصل متن سے ہی ملے گا، اندازے سے نہیں۔
This is Lesson 11 of the Class 11 Urdu book Sarmaya-e-Urdu 11. According to the book's fehrist (contents), its title is Tareekh ka Kafan (The Shroud of History) and its author is named as Amar Jaleel. The fehrist gives its starting page as p. 81.
Understand one thing clearly: the lesson's author introduction was not in the available copy, so no biography of the author and no summary of the lesson are given here. Writing from guesswork about something that was never seen would not be honest. This page carries only what could be verified — the title, the author's name, and, further down, the Farhang words.
Pause on the title for a moment: tareekh means history, the time that has passed, and kafan is the cloth in which the dead are wrapped. The title at once raises a question: can history, too, ever be buried? Can the past be forgotten? That question will guide you when the original text becomes available — but its answer must come from the text itself, not from guessing.
کتاب کے آخر میں دی گئی فرہنگ میں سبق 11 کے لیے صرف چھ الفاظ درج ہیں — تین الفاظ صفحہ 146 پر اور تین صفحہ 147 پر۔ یہی چھ الفاظ اس صفحے پر پوری دیانت سے دیے جا رہے ہیں — نہ کوئی لفظ بڑھایا گیا ہے، نہ کوئی معنی گھڑا گیا ہے۔ پہلے لفظ کو دیکھو، پھر معنی کو اپنی زبان میں دہراؤ، پھر اپنا جملہ بناؤ۔ یہی طریقہ فرہنگ یاد کرنے کا سب سے پکا طریقہ ہے۔
| لفظ | معنی (فرہنگ کے مطابق) |
|---|---|
| اڑتی نگاہ | سرسری نظر |
| انواع | نوع کی جمع، اقسام |
| بن مانس | بندر جو انسان سے مشابہ ہوتا ہے |
| مقدور بھر | جہاں تک ہو سکے |
| وقیع | باوقار، بلند مرتبہ، معزز |
| ہمہ گیری | وسعت، پھیلاؤ |
📌 ایک چھوٹی سی احتیاط: «اڑتی نگاہ» کا مطلب غور سے دیکھنا نہیں، بلکہ سرسری نظر ہے؛ اور «بن مانس» کوئی عام بندر نہیں، بلکہ وہ بندر ہے جو انسان سے مشابہ ہوتا ہے۔ امتحان میں اکثر اسی فرق پر سوال بنتا ہے۔
The book's Farhang lists only six words for Lesson 11 — three on printed p. 146 and three on printed p. 147. Those same six words — nothing added, no meaning invented — are given on this page. Look at the word first, say the meaning in your own words, then make your own sentence. That three-step habit is the surest way to learn a Farhang.
| Word | Meaning (as in the Farhang) |
|---|---|
| Urti nigah | A passing, cursory glance |
| Anwaa | Plural of noo; kinds, types |
| Ban maanas | An ape that resembles a human being |
| Maqdoor bhar | As far as possible, to the extent one can |
| Waqee | Dignified, of high rank, honourable |
| Hama-geeri | Vastness, spread, comprehensiveness |
📌 A small caution: urti nigah does not mean looking carefully — it means a cursory glance; and ban maanas is not just any monkey, but an ape that resembles a human. Exams often test exactly that difference.
نیچے دیے گئے سوالات کتاب کی سرکاری مشق نہیں ہیں۔ یہ SLO طرز کے مطالعاتی سوالات ہیں — یعنی ان موضوعات پر سوالات جن کی تیاری سے آپ اس سبق کے لیے تیار رہیں گے، جب اصل متن مل جائے گا۔ ان کے جوابات بھی مطالعاتی رہنمائی ہیں، کتاب کے جوابات نہیں۔ اصل متن (صفحات 80 تا 89) ملتے ہی سرکاری مشق ضرور حل کریں۔
The questions below are NOT the book's official exercise. They are SLO-style study questions — questions on the themes of this lesson, so that you stay prepared for it until the original text becomes available. Their answers are study guidance, not book answers. As soon as you get the original text (pp. 80–89), do the official exercise as well.
عنوان کے دو لفظ الگ الگ سمجھو: “تاریخ” کا مطلب گذرا ہوا زمانہ ہے, اور “کفن” اس کپڑے کو کہتے ہیں جس سے مردے کو ڈھانپا جاتا ہے. دونوں کو ملا کر عنوان یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا تاریخ کو بھی کبھی دفن کر دیا جاتا ہے — یعنی کیا گذرا ہوا زمانہ بھلا دیا جاتا ہے, یا اسے چھپا دیا جاتا ہے? یہ صرف ایک اندازہ ہے, یقینی جواب نہیں. جب اصل متن (p. 81) ملے تو پہلے یہ دیکھو کے عنوان متن کے کس حصے سے جڑتا ہے, پھر اپنا جواب اسی سے ملاؤ.
اڑتی نگاہ کا مطلب سرسری نظر ہے — کسی چیز کو جلدی جلدی, بغیر غور کے دیکھنا. مثالی جملہ (اپنے لفظوں میں لکھنا بہتر ہے): “اس نے کتاب پر صرف اڑتی نگاہ dali اور آگے بڑھ گیا.” Note کرو: اڑتی نگاہ کا مطلب غور سے دیکھنا نہیں ہے — یہ فرق امتحان میں پوچھا جا سکتا ہے.
انواع کا مطلب اقسام ہے, یعنی طرح طرح کی چیزیں. یہ لفظ “نوع” کی جمع ہے — نوع کا مطلب قسم یا طرح ہے. مثالی جملہ: “اس باغ میں پھولوں کی انواع موجود ہیں.” اپنا جملہ بناتے وقت یہ دھیان رکھو کے انواع ہمیشہ ایک سے زیادہ قسموں کے لیے آتا ہے.
بن مانوس اس bandar کو کہتے ہیں جو انسان سے مشابہ ہوتا ہے — یعنی جس کی شکل و صورت یا حرکتیں انسان سے ملتی جلتی ہوں. مثالی جملہ: “بن مانوس کو دیکھ کر بچے حیران رہ گئے, کیوں کے وہ انسانوں جیسی حرکتیں کر رہا تھا.” یاد رکھو: ہر bandar بن مانوس نہیں کہلاتا, صرف وہ جو انسان سے مشابہ ہو.
مقدور بھر کا مطلب “جہاں تک ہو سکے” ہے — اپنی طاقت اور گنجائش کی حد تک کوشش کرنا. واقعی کا مطلب باوقار, بلند مرتبہ اور معزز ہے. مثالی جملے: “اس نے مقدور بھر کوشش کی کے وقت پر کام مکمل ہو جائے.” / “وہ ایک واقعی شخصیت کے ملک تھے, اس لیے سب ان کی عزت کرتے تھے.” اپنے جملے خود لکھو تو لفظ زیادہ دیر یاد رہتا ہے.
ہما-گیری کا مطلب وسعت اور پھیلاؤ ہے — کسی چیز کا ہر طرف پھیلنا یا سب کچھ اپنی لپیٹ میں لینا. یہ لفظ اس موقعے پر استعمال ہوتا ہے جب کوئی چیز محدود نہ ہو, بلکہ وسیع ہو. مثالی جملہ: “تاریخ کی ہما-گیری کا اندازہ اس سے لگاؤ کے وہ ہر قوم کی کہانی اپنے اندر samet لیتی ہے.” اپنا جملہ لکھتے وقت “وسعت” کا تصور ذہن میں رکھو.
تین کام ابھی سے ہو سکتے ہیں. پہلا: فرہنگ کے چھاؤں لفظ پکے کرو — لفظ, معانی, اپنا جملہ. دوسرا: عنوان پر غور کرو اور اپنے سوال note کرو, مثلاً تاریخ کو دفن کرنے سے کیا مراد ہو سکتی ہے. تیسرا: جب متن ملے تو اسے ایک مرتبہ پورا پڑھو, پھر فرہنگ کے لفظ متن میں ڈھونڈو. جو کام متن کے بغیر نہیں ہو سکتا — مثلاً کسی خاص عبارات کی تشریح — اس کا اندازہ مت لگاؤ; وہ متن ملنے پر ہی ہوگا.
پہلی مرتبہ متن کو پورا, آرام سے پڑھو اور مشکل لفظ نشان-زد کرو. دوسری مرتبہ فرہنگ کے چھاؤں لفظ متن میں ڈھونڈو اور دیکھو کے وہ کس جملے میں آئے ہیں. تیسری مرتبہ lesson کے اہم نکات اپنے لفظوں میں note کرو. آخر میں book کی official exercise حل کرو اور اپنے جواب متن سے ملاؤ. یہ ترتیب اس لیے ہے کہ پہلے سمجھ, پھر لفظ, پھر سوال — الٹ ترتیب سے صرف رٹا لگتا ہے, سمجھ نہیں آتی.
اس صفحے میں آپ نے صرف وہی کچھ پڑھا ہے جس کی تصدیق ہو سکی ہے: سبق کا عنوان «تاریخ کا کفن» اور مصنف کا نام امر جلیل (کتاب کی فہرست سے)، اور فرہنگ کے چھ الفاظ (صفحات 146 تا 147)۔ سبق کا تعارف، اصل متن (صفحات 80 تا 89) اور اس کی سرکاری مشق اس صفحے میں شامل نہیں، کیونکہ وہ دستیاب نسخے میں موجود ہی نہیں تھے — اور جو چیز دیکھی نہیں گئی، اسے گھڑ کر لکھنا دیانت کے خلاف ہوتا۔
آگے کی رہنمائی: پہلے فرہنگ کے چھ الفاظ پکے کرو، پھر SLO سوالات کے جواب اپنے لفظوں میں لکھ کر دیکھو، اور جیسے ہی اصل کتاب کا متن ملے، صفحات 80 تا 89 پڑھ کر سرکاری مشق حل کرو۔ اس وقت اس صفحے پر واپس آ کر دیکھنا کہ تمہارے SLO جوابات اصل متن سے کتنے ملتے ہیں — یہی موازنہ تمہاری اصل تیاری ہے۔
On this page you have read only what could be verified: the lesson's title, Tareekh ka Kafan, and the author's name, Amar Jaleel (from the book's fehrist), and the six Farhang words (printed pp. 146–147). The lesson's introduction, original text (pp. 80–89) and its official exercise are not on this page, because they were simply not in the available copy — and writing what one has not seen would be dishonest.
What to do next: first master the six Farhang words, then write the SLO-question answers in your own words, and as soon as the original book text becomes available, read pp. 80–89 and solve the official exercise. Then come back to this page and compare your SLO answers with the real text — that comparison is your real preparation.
Revision guidance: یاد رکھو — سرمایہ-e-Urdu 11, Lesson 11, تاریخ کا کفن, مصنف Amar Jaleel (fehrist, p. 81), متن pp. 80–89 missing; فرہنگ: اڑتی نگاہ (sarsari nazar), انواع (نوع کی جمع, اقسام), بن مانوس (bandar جو انسان سے مشابہ ہوتا ہے), مقدور بھر (جہاں تک ہو سکے), واقعی (bawaqar, buland martaba, moazzaz), ہما-گیری (wusat, phailao). اور سب سے اہم: official exercise کے لیے book کے pp. 80–89 ضرور پڑھو.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 11 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu