FSc Part 1 Urdu Chapter 14 Complete Guide Book — O Des Se Aane Wale Bata

FSc Part 1 Urdu Chapter 14 — O Des Se Aane Wale Bata
Home > PunjabTest.com > FSc Part 1 > Urdu — all chapters > Chapter 14: O Des Se Aane Wale Bata

اس chapter میں topics (Topics in this chapter)

  1. Shair ka Taaruf — Akhtar Shirani (1905–1948)
  2. نظم کا تعارف اور مرکزی خیال — وطن کی یاد
  3. پہلا بند — تشریح (تلمیح کے ساتھ)
  4. Doosra Band — Tashreeh (Bagh, Parbat, Barkha)
  5. Teesra Band — Tashreeh (Mussarat Nazare aur Bachpan ke Khel)
  6. Chautha Band — Tashreeh (Darya Kinare ki Shaam)
  7. پانچواں بند — تشریح (آخری سوال)
  8. فرہنگ — مشکل الفاظ کے معانی
  9. San'atain aur Qawaid — Talmeeh, Istiara, Murakkabat
  10. Izaafi Mutala — Sawan ki Ghata (Akhtar Shirani)
  11. Official Exercise — مکمل حل (MCQs samet)
  12. Chapter Summary & Guidance
The Poet — Akhtar Shirani (1905–1948)شاعر کا تعارف — اختر شیرانی (۱۹۰۵ تا ۱۹۴۸)
🏷 Tags: Akhtar Shirani, Muhammad Daud Khan, Tonk, Oriental College, Shair-e-Roman, Sarmaya-e-Urdu 11

اختر شیرانی کا اصل نام محمد داؤد خان اور تخلص اختر ہے۔ آپ نامور محقق حافظ محمود شیرانی کے بیٹے تھے۔ ٹونک (راجپوتانہ) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ٹونک ہی میں حاصل کی، پھر مزید تعلیم کے لیے اپنے والد گرامی کے پاس لاہور چلے آئے، جہاں ۱۹۲۱ء میں اورینٹل کالج سے منشی فاضل اور ادیب فاضل کا امتحان پاس کیا۔

مزید تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکے، البتہ انگریزی زبان و ادب کا مطالعہ بھی ذاتی حیثیت سے رکھا اور مضمون نگاری و شعر و شاعری کا آغاز کر دیا۔ ان کا کلام مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوتا رہا۔ بعض رسائل میں بطور مدیر بھی خدمات انجام دیں۔ ۱۹۲۸ء میں ماہنامہ ”بہارستان“ نکالا جو چل نہ سکا۔ ۱۹۳۰ء میں ”خیالستان“ جاری کیا، وہ بھی زیادہ عرصہ نہ چلا۔ ۱۹۳۵ء میں ماہنامہ ”رومان“ کا بھی یہی نتیجہ برآمد ہوا۔ اسی اثنا میں اختر شیرانی کی شاعری کی دھوم مچ گئی اور ان کا شمار ملک کے چوٹی کے شعرا میں ہونے لگا۔

۱۹۲۰ء میں حافظ محمود شیرانی اورینٹل کالج کی ملازمت سے سبکدوش ہو کر اپنے وطن ٹونک چلے آئے۔ چناں چہ اختر شیرانی کو بھی ٹونک جانا پڑا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران وہ پھر لاہور لوٹ آئے۔ مولانا تاجور نجیب آبادی نے اپنے رسالے ”شاہکار“ کی ادارت ان کے سپرد کر دی لیکن اختر شیرانی تھوڑے ہی عرصے بعد ”شاہکار“ سے الگ ہو گئے۔ اس عرصے میں انھوں نے اپنے شعری مجموعے ”نغمۂ حرم“، ”شہرستان“، ”لالہ طور“، ”صبح بہار“، ”اخترستان“ اور ”طیورِ آوارہ“ کے نام سے شائع کیے۔ انھوں نے چند ڈرامے بھی لکھے، جن میں ”شحاک“ زیادہ مشہور ہے۔

اختر شیرانی کی بہت سی نظمیں مظاہرِ فطرت، رومان اور مناظرِ قدرت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے شعور کا سماجی اور سیاسی پس منظر دوسرے بہت سے شعرا سے مختلف ہے۔ اس لیے ان کے محرکاتِ شاعری اور تخیل کے اجزا و ترکیب بھی دوسروں سے جدا ہیں۔ انھوں نے اپنے تخیل سے حسن و شباب، سرخوشی و خوف و فراموشی اور امن و سکون کی ایک نئی دنیا تخلیق کی ہے۔ ان کے گیتوں میں ترس ہے، ان کی نظموں میں مخصوص نغماتی فضا پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اس میں ڈوب کر محبت کے گانے گاتے نظر آتے ہیں۔ شاملِ نصاب نظم ”او دیس سے آنے والے بتا!“ اسی نوعیت کی حامل نظم ہے۔

The poet of this lesson is Akhtar Shirani (1905–1948), called the Shair-e-Roman (the Romantic Poet). His real name was Muhammad Daud Khan; his father was the famous researcher Hafiz Mahmood Shirani. Born in Tonk (Rajputana), he studied there first, then moved to Lahore, where in 1921 he passed the Munshi Fazil and Adeeb Fazil examinations from Oriental College. He kept up a private study of English language and literature, and began writing essays and poetry, which appeared in many journals.

As an editor he was unlucky with his own magazines: Baharistan (1928), Khayalistan (1930) and Roman (1935) all closed quickly. Yet in those same years his poetry became famous, and he was counted among the country's leading poets. When his father retired from Oriental College and returned to Tonk, Akhtar went with him, and he came back to Lahore during the Second World War. He also edited Maulana Tajwar Najeeb Abadi's magazine Shahkar for a short time.

His poetry collections include Naghma-e-Haram, Shehristan, Lala Toor, Subh-e-Bahar, Akhtaristan and Tayoor-e-Awara; he also wrote a few plays, of which Shahak is the best known. His poems paint nature and romance, and they carry a musical, song-like atmosphere — the reader feels the poet is singing rather than merely speaking. That is exactly the quality you will hear in “O Des Se Aane Wale Bata!”

Illustration of a 1930s Urdu poet writing at his desk by lamplight
Shair ko samjho: یہ تصویر کتاب کی تصویر نہیں — صرف یہ یاد دلاتی ہے کہ Akhtar شیرانی نے رسائل کے لیے لکھا, اپنے رسالے چلائے, اور آخر میں اپنی نغماتی شاعری سے چھوٹی کے شورا میں جگہ بنائی.
The Poem — Introduction and Central Ideaنظم کا تعارف اور مرکزی خیال — وطن کی یاد
🏷 Tags: nazm, hubb-e-watani, pardes, ghurbat, refrain, Kulliyat-e-Akhtar Shirani, tadreesi maqasid

یہ نظم ”کلیاتِ اختر شیرانی“ سے لی گئی ہے۔ کتاب میں اس سبق کے تدریسی مقاصد یہ بتائے گئے ہیں: طلبہ کو اختر شیرانی کی شخصیت اور فن سے متعارف کرانا؛ طلبہ میں جذبۂ حب الوطنی پیدا کرنا؛ طلبہ کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کو جلا بخشنا؛ اور اردو ادب میں رومانوی تحریک کے آغاز اور ارتقا کے بارے میں بتانا۔ پوری نظم انھی چار مقاصد کے گرد گھومتی ہے — شاعر کی پہچان، وطن کی محبت، سوچنے کی عادت، اور رومانوی انداز کی جھلک۔

نظم کا مرکزی خیال بہت سادہ اور بہت گہرا ہے: ایک شخص اپنے وطن سے دور پردیس میں ہے، اور اس کے دل میں وطن کی یاد ہر وقت تڑپتی رہتی ہے۔ اچانک اسے وطن سے آنے والا کوئی مسافر ملتا ہے، اور وہ اس سے سوالوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے — میرے دوست کس حال میں ہیں؟ وطن کا باغ اب کیسا ہے؟ ہوائیں اب بھی ویسی ہی مستانہ ہیں؟ برکھا اب بھی دلوں کو ویسی ہی بھاتی ہے؟ بچپن کے کھیل اب بھی کھیلے جاتے ہیں؟ دریا کنارے شام کی محفلیں اب بھی جمتی ہیں؟ اور سب سے آخر میں، سب سے ذاتی سوال: کیا وطن میں کسی کے دل میں میری چاہ اب بھی باقی ہے؟ کیا کوئی مجھے یاد بھی کرتا ہے؟

نظم کے پانچ بند ہیں۔ ہر بند تین مصرعوں پر مشتمل ہے، اور ہر بند ”او دیس سے آنے والے بتا!“ کی صدا سے شروع ہوتا ہے اور اسی صدا پر ختم ہوتا ہے۔ یہ تکرار محض سجاوٹ نہیں — یہ ایک بے چین دل کی دھڑکن ہے۔ پہلے چار بندوں میں شاعر باہر کی دنیا پوچھتا ہے — باغ، پہاڑ، گھٹا، چاند، دریا — اور آخری بند میں سوال اندر کی دنیا کی طرف مڑ جاتا ہے: مجھے یاد رکھا گیا یا بھلا دیا گیا؟ یہی موڑ نظم کو ایک عام وطن پرست نظم سے ایک ذاتی، دل کو چھو لینے والی نظم بنا دیتا ہے۔

رومانوی انداز یہاں صاف نظر آتا ہے: شاعر اپنے جذبات سیدھے سیدھے نہیں بتاتا، بلکہ فطرت کے مناظر کے آئینے میں دکھاتا ہے۔ وطن کی یاد باغ کی ہوا، پہاڑ کی گھٹا، برکھا کی پھوار، چاندنی رات اور دریا کنارے کے چاند کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ جو طالب علم ان مناظر کو محسوس کر لے، وہ نظم کا مطلب خود بخود سمجھ جاتا ہے۔

This poem is taken from the Kulliyat-e-Akhtar Shirani (the collected works). The book lists four teaching aims for the lesson: to introduce Akhtar Shirani's personality and art; to awaken love of the homeland; to sharpen the students' creative and critical abilities; and to explain the rise and growth of the Romantic movement in Urdu literature. The whole poem serves those four aims at once.

The central idea is simple and deeply moving. A man living far from home in a foreign land meets a traveller who has just come from his homeland — and pours out his questions. How are my friends? How does the homeland's garden look now? Do the same carefree breezes still blow? Does the rain still please hearts as it did? Are childhood games still played? Do friends still gather by the river in the evening? And finally, the most personal question of all: does anyone back home still carry love for me in their heart? Does anyone remember me?

The poem has five bands (stanzas). Each band has three lines, and each opens and closes with the cry “O des se aane wale bata!” (“O you who have come from the homeland — tell me!”). That repetition is not decoration; it is the heartbeat of a restless heart. In the first four bands the poet asks about the outer world — gardens, hills, clouds, moon, river — and in the last band the question turns inward: have I been remembered, or forgotten? That turn is what lifts the poem from ordinary patriotism to something personal and touching.

The Romantic style is clear throughout: the poet does not state his feelings flatly. He shows them through nature — the garden breeze, the mountain cloud, the rain, the moonlit night, the moon on the river. A student who feels those scenes has already understood the poem.

Illustration of a traveller at dusk looking back toward his distant home village
Nazm ko samjho: یہ تصویر کتاب کی تصویر نہیں — صرف نظم کا مرکزی منظر دکھاتی ہے: پردیس میں کھڑا مسافر, پیچھے چھوٹا ہوا گاؤں, اور دل میں ایک ہی سوال — وطن کا کیا حال ہے?
Band 1 Explained — The First Questionپہلا بند — تشریح (تلمیح کے ساتھ)
🏷 Tags: pehla band, yaran-e-watan, awara-e-ghurbat, kanwal-e-watan, talmeeh, Yusuf

اشعار:
او دیس سے آنے والے بتا!
او دیس سے آنے والے بتا! کس حال میں ہیں یارانِ وطن
آوارۂ غربت کو کبھی بنتا کس رنگ میں ہے کنول وطن
وہ باغ وطن، فردوس وطن، وہ سرو وطن، رعنائی وطن
او دیس سے آنے والے بتا!

پہلا مصرع ایک پکار ہے، سیدھی اور بے چین۔ شاعر وطن سے آنے والے مسافر کو روک کر کہتا ہے: ”بتا!“ — اس ایک لفظ میں ساری بے قراری چھپی ہے۔ دوسرے مصرعے میں پہلا سوال آتا ہے: میرے وطن کے دوست کس حال میں ہیں؟ شاعر کو نہ مال کی فکر ہے، نہ عہدے کی — سب سے پہلے اسے اپنے یاروں کی خبر چاہیے، کیونکہ وطن اس کے لیے دراصل ان دوستوں کا نام ہے۔

تیسرا مصرع نظم کا سب سے گہرا مصرع ہے: ”آوارۂ غربت کو کبھی بنتا کس رنگ میں ہے کنول وطن“۔ شاعر نے خود کو ”آوارۂ غربت“ کہا ہے — یعنی وہ شخص جو وطن سے دوری میں بھٹک رہا ہے، جس کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ ”غربت“ یہاں غریبی نہیں، پردیس ہے — اپنے وطن سے دور ہونے کی حالت۔ اور ”کنول وطن“ میں وطن کو کنول کے پھول سے تشبیہ دی گئی ہے: کنول کیچڑ میں کھل کر بھی پاک و صاف رہتا ہے، اسی طرح شاعر کا وطن اس کی نظر میں ہر حال میں خوبصورت اور پاکیزہ ہے۔ سوال یہ ہے: اے آنے والے، اس بھٹکتے ہوئے پردیسی کو بتا کہ میرا کنول جیسا وطن آج کس رنگ میں کھل رہا ہے — وہ اب بھی اتنا ہی شگفتہ ہے یا وقت نے اس کا رنگ بدل دیا ہے؟

چوتھے مصرعے میں شاعر وطن کی خوبصورتی کے چار نام ایک سانس میں گن دیتا ہے: وہ باغ وطن، فردوس وطن، وہ سرو وطن، رعنائی وطن۔ باغ وطن اس کے لیے جنت (فردوس) جیسا ہے، سرو — وہ لمبا سیدھا درخت — وطن کی شان کی علامت ہے، اور رعنائی یعنی دلکشی وطن کا زیور ہے۔ پھر بند اسی پکار پر ختم ہوتا ہے جس سے شروع ہوا تھا: ”او دیس سے آنے والے بتا!“

تلمیح کی جھلک: ”آوارۂ غربت“ میں حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف تلمیح ہے — وہ بھی اپنے وطن کنعان سے دور مصر میں اجنبی تھے، اور جدائی ان کا مقدر بنی۔ اسی لیے کتاب کی مشق (سوال ۴) پہلے بند کی تشریح تلمیح کی روشنی میں کرنے اور غالب و حالی کے یوسف والے اشعار شامل کرنے کو کہتی ہے — اس کی تفصیل مشق کے جواب میں آئے گی۔

The verses: “O you who have come from the homeland — tell me! In what state are the friends of my homeland? To this wanderer in exile, in what colour does the lotus of the homeland bloom? That garden of the homeland, that paradise of the homeland, that cypress of the homeland, that beauty of the homeland! O you who have come from the homeland — tell me!”

The opening line is a direct, restless call. The poet stops the traveller and says just one word: tell me — and all his impatience sits inside that word. His first question is about his friends, not wealth or status, because for him the homeland is those friends.

The third line is the deepest in the poem. The poet calls himself the “awara-e-ghurbat” — a wanderer in exile. Note carefully: ghurbat here does not mean poverty; it means being away from home, in a foreign land. And the homeland is a lotus (kanwal): a lotus blooms in mud yet stays pure, just as the homeland stays beautiful and pure in the poet's eyes. His question is: tell this wandering exile — in what colour is my lotus-like homeland blooming today? Is it still as fresh, or has time changed its colour?

Then, in a single breath, he lists four names for the homeland's beauty: its garden, its paradise (firdaus), its cypress tree (sarv, tall and straight, a symbol of dignity), and its loveliness (ranai). The band closes on the same cry it opened with.

A hidden allusion (talmeeh): the “wanderer in exile” quietly recalls Prophet Yusuf, who was also a stranger in Egypt, far from Canaan. That is why the book's exercise (Question 4) asks for this band to be explained in the light of that allusion, together with the Yusuf couplets of Ghalib and Hali — see the exercise answers below.

Diagram of Band 1: question to the traveller, friends of homeland, lotus of homeland
Pehle band ko samjho: تین سوال, ایک ہی بےقراری — یار کیسے ہیں, وطن کا کنول کس رنگ میں ہے, اور وہ باغ, فردوس, سرو اور رعنائی اب بھی ویسی ہے یا نہیں.
Band 2 Explained — Gardens, Hills and Rainدوسرا بند — تشریح (باغ، پربت، برکھا)
🏷 Tags: doosra band, mastana hawaen, ghanghor ghata, barkha, ab bhi, fitrat

اشعار:
کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں مستانہ ہوائیں آتی ہیں
کیا اب بھی وہاں کے پربت پر گھنگھور گھٹا گھِر چھاتی ہیں
کیا اب بھی وہاں کی برکھا میں ویسے ہی دلوں کو بھاتی ہیں
او دیس سے آنے والے بتا!

دوسرے بند میں شاعر کا سوال وطن کے موسموں اور مناظر کی طرف مڑ جاتا ہے۔ پہلا سوال باغوں کی ہواؤں کے بارے میں ہے: کیا وہاں کے باغوں میں اب بھی مستانہ ہوائیں آتی ہیں؟ ”مستانہ“ یعنی جھومتی ہوئی، بے فکر، خوش گوار ہوا — ایسی ہوا جو چلتے ہوئے خود بھی مست ہو اور دوسروں کو بھی مست کر دے۔ شاعر کو ڈر ہے کہ کہیں وہ ہوا اب ویسی نہ رہی ہو۔

دوسرا سوال پہاڑوں کا ہے: کیا وہاں کے پربت پر اب بھی گھنگھور گھٹا گھِر چھاتی ہے؟ ”گھنگھور“ گھنی اور گرجتی ہوئی گھٹا کو کہتے ہیں، اور ”گھِر چھانا“ یعنی چاروں طرف سے گھیر کر چھا جانا۔ یہ منظر شاعر کی آنکھوں میں آج بھی تازہ ہے — پہاڑ پر بادل کا چھا جانا، اور اس کے نیچے سارا وطن۔

تیسرا سوال برکھا — برساتی بارش — کے بارے میں ہے: کیا وہاں کی برکھا اب بھی ویسے ہی دلوں کو بھاتی ہے؟ ”دلوں کو بھانا“ یعنی دل کو اچھا لگنا، دل کو لبھانا۔ غور کرو: شاعر یہ نہیں پوچھتا کہ بارش ہوتی ہے یا نہیں؛ وہ پوچھتا ہے کہ بارش اب بھی دلوں کو ویسی ہی بھاتی ہے یا نہیں — یعنی اسے بارش کی نہیں، اس خوشی کی فکر ہے جو بارش دل میں لاتی تھی۔

تینوں مصرعوں میں ”کیا اب بھی“ کی تکرار ہے۔ یہ ”اب بھی“ بہت اہم ہے: یہ بتاتا ہے کہ شاعر کو یقین نہیں کہ وطن اب بھی ویسا ہی ہے جیسا اس کی یاد میں ہے۔ وقت گزر گیا ہے، فاصلہ بڑھ گیا ہے، اور اس کے دل میں یہ خدشہ ہے کہ کہیں سب کچھ بدل نہ گیا ہو۔ یہی خدشہ اس کی بے قراری کی جڑ ہے۔

The verses: “Do the carefree breezes still come to the gardens there? Does the dark, thundering cloud still gather over the hills there? Does the rain there still please hearts as it did? O you who have come from the homeland — tell me!”

In the second band the poet's questions turn to the homeland's seasons and scenes. First, the garden breezes: are they still mastana — swaying, carefree, delightful breezes that seem drunk with joy themselves and make others joyful too? The poet fears that breeze may no longer be the same.

Next, the hills: does the ghanghor ghata — the dense, thundering cloud — still gather and spread over the mountains? That picture is still fresh in his eyes: cloud covering the hill, and the whole homeland beneath it.

Then the barkha, the monsoon rain: does it still please hearts as before? Notice what he asks. He does not ask whether it rains or not. He asks whether the rain still brings the same joy to hearts — because it is not the rain he misses, it is the happiness the rain used to bring.

All three lines repeat “kya ab bhi” (“does it still”). That little phrase matters enormously: it shows the poet is no longer sure the homeland is as it lives in his memory. Time has passed, distance has grown, and he fears everything may have changed. That fear is the root of his restlessness.

Diagram of Band 2: carefree breezes, thundering cloud over hills, monsoon rain
Doosre band ko samjho: تین منظر, تین سوال — باغ کی مستانہ ہوا, پربت کی ghanghor گھاٹا, اور دلوں کو bhane والی برکھا; ہر سوال میں وہی فکر — کیا سب اب بھی ویسا ہے?
Band 3 Explained — Happy Scenes and Childhood Gamesتیسرا بند — تشریح (مسرت نظارے اور بچپن کے کھیل)
🏷 Tags: teesra band, mussarat nazare, suhani raaten, chand sitare, bachpan ke khel

اشعار:
کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی مسرت نظارے ہوتے ہیں
کیا اب بھی سہانی راتوں کو وہ چاند ستارے ہوتے ہیں
ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے کیا اب بھی وہ سارے ہوتے ہیں
او دیس سے آنے والے بتا!

تیسرے بند میں شاعر وطن کی خوشیوں کو یاد کرتا ہے۔ پہلا سوال ہے: کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی مسرت نظارے ہوتے ہیں؟ ”مسرت“ خوشی کو کہتے ہیں، اور ”مسرت نظارے“ وہ منظر ہیں جنھیں دیکھ کر دل خوش ہو جائے — کھلا ہوا باغ، بہتا ہوا پانی، اڑتے ہوئے پرندے، دوستوں کی ہنسی۔ شاعر پوچھ رہا ہے: کیا وطن میں خوشی کے وہ منظر اب بھی بکھرتے ہیں، یا وقت نے انھیں بھی ماند کر دیا ہے؟

دوسرا سوال راتوں کا ہے: کیا اب بھی سہانی راتوں کو وہ چاند ستارے ہوتے ہیں؟ ”سہانی“ یعنی دلکش، پیاری رات — ایسی رات جس میں چاندنی چھتوں پر بچھ جائے اور ستارے آسمان پر جھلملائیں۔ یہاں بھی شاعر چاند ستاروں کی موجودگی نہیں، ان کی ”وہ“ والی کیفیت پوچھ رہا ہے — وہی چاند، وہی ستارے، وہی راتیں جو اس کی یاد میں بسی ہیں۔

تیسرا مصرع سب سے زیادہ ذاتی ہے: ”ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے کیا اب بھی وہ سارے ہوتے ہیں“۔ اب شاعر مناظر سے نکل کر اپنی یادوں میں اتر آیا ہے۔ بچپن کے کھیل، دوستوں کے ساتھ گلیوں اور میدانوں میں گزرے دن، وہ ہنسی جو بغیر کسی وجہ کے آتی تھی — کیا وہ سب اب بھی ہوتا ہے؟ یا وہ دن صرف میری یاد میں رہ گئے ہیں؟ یہ سوال ہر اس شخص کے دل کی آواز ہے جو اپنا بچپن کسی اور شہر یا ملک میں چھوڑ آیا ہو۔

اس بند سے ایک بات اور سمجھ میں آتی ہے: شاعر کا وطن صرف ایک جگہ نہیں، ایک زمانہ بھی ہے — بچپن کا زمانہ۔ اس لیے اس کی یاد میں جگہ اور وقت دونوں گڈمڈ ہو گئے ہیں، اور اس کا سوال بھی دوہرا ہے: کیا وہ جگہ اب بھی ویسی ہے، اور کیا وہ زمانہ اب بھی زندہ ہے؟

The verses: “Are there still the same joy-giving scenes in the homeland? On pleasant nights, are there still those moons and stars? The games we used to play — are they all still played? O you who have come from the homeland — tell me!”

In the third band the poet remembers the homeland's happiness. Mussarat nazare means scenes that give joy — a blooming garden, flowing water, birds in flight, friends laughing. He asks: do such scenes still unfold in the homeland, or has time dimmed them?

Then the nights: on suhani raaten — delightful, lovely nights — are there still those moons and stars? Again, he is not asking whether the moon and stars exist. He is asking about that quality — the same moon, the same stars, the same nights that live in his memory.

The third line is the most personal of all: the games we used to play — are they still played? Now the poet steps out of scenery and into his own memories: childhood games, days spent with friends in lanes and fields, laughter that came for no reason. Are those days still alive, or do they survive only in my memory? That question speaks for everyone who has left a childhood behind in another town or country.

One more thing becomes clear here: for the poet, the homeland is not only a place, it is also a time — childhood. Place and time have melted together in his memory, so his question is double: is that place still the same, and is that time still alive?

Diagram of Band 3: joy-giving scenes, moon and stars on pleasant nights, childhood games
Teesre band ko samjho: شعر اب منظر سے یادوں میں اتر آیا ہے — مسرت نظارے, suhani راتوں کے چاند ستارے, اور بچپن کے کھیل; وطن اس کے لیے جگہ بھی ہے اور زمانہ بھی.
Band 4 Explained — The Evening by the Riverچوتھا بند — تشریح (دریا کنارے کی شام)
🏷 Tags: chautha band, ahbab, kinare darya, ghanere, shadab, mahtab

اشعار:
کیا شام کو اب بھی جاتے ہیں احباب، کنارِ دریا پر
وہ چیز گھنےرے اب بھی ہیں شاداب، کنارِ دریا پر
اور پیار سے آ کر جھمکتا ہے مہتاب، کنارِ دریا پر
او دیس سے آنے والے بتا!

چوتھا بند ایک مکمل شام کی تصویر ہے — ایسی شام جو شاعر نے خود کئی بار دیکھی ہوگی۔ پہلا سوال دوستوں کے بارے میں ہے: کیا شام کو اب بھی احباب دریا کنارے جاتے ہیں؟ ”احباب“ دوستوں کو کہتے ہیں (حبیب کی جمع)۔ شام کا وقت، دریا کا کنارا، اور دوستوں کی محفل — یہ تین چیزیں مل کر شاعر کی یاد کا سب سے پیارا منظر بناتی ہیں۔

دوسرے مصرعے میں دریا کنارے کے درختوں کا ذکر ہے: ”وہ چیز گھنےرے اب بھی ہیں شاداب“۔ یہاں ”چیز“ سے مراد دریا کنارے کے گھنے درخت اور پودے ہیں، اور ”شاداب“ یعنی ہرے بھرے، تروتازہ۔ شاعر پوچھتا ہے: کیا وہ گھنے سائے اب بھی ویسے ہی ہرے بھرے ہیں، یا گرمی اور وقت نے انھیں سوکھا دیا ہے؟ درختوں کی شادابی دراصل دوستوں کی محفل کی شادابی کی علامت ہے — جب تک درخت ہرے ہیں، محفل بھی قائم ہے۔

تیسرا مصرع اس بند کی سب سے خوبصورت تصویر ہے: ”اور پیار سے آ کر جھمکتا ہے مہتاب، کنارِ دریا پر“۔ مہتاب یعنی چاند۔ چاند دریا کنارے ”پیار سے“ آتا ہے — جیسے کوئی پیارا مہمان آئے — اور پانی پر جھمکتا ہے، یعنی چاندنی پانی میں جھلملاتی ہے۔ یہاں چاند صرف آسمان کا چاند نہیں، شاعر کی یاد کا چاند ہے: وہ چاند جو اس نے دوستوں کے ساتھ دریا کنارے دیکھا تھا۔

غور کرو کہ تینوں مصرعوں میں ”کنارِ دریا پر“ دہرایا گیا ہے۔ اس تکرار سے دریا کا کنارا نظم کا ایک مرکز بن جاتا ہے — جیسے ساری یادیں اسی کنارے پر آ کر جمع ہوتی ہوں۔ اور یہ بھی دیکھو کہ اس بند میں شاعر نے پہلی بار کسی چیز کا نام لے کر اس کی تعریف نہیں کی، بلکہ ایک پوری شام کو زندہ کر دیا ہے: دوست، درخت، چاند — تینوں ایک ہی منظر کے حصے ہیں۔

The verses: “Do friends still go in the evening to the river bank? Are those dense trees still fresh and green on the river bank? And does the moon come lovingly and shimmer on the river bank? O you who have come from the homeland — tell me!”

The fourth band paints one complete evening — an evening the poet must have lived many times. First, the friends: do the ahbab (friends) still go to the river bank in the evening? Evening time, a river bank, and a gathering of friends — those three things together make the dearest scene in the poet's memory.

Then the trees on the bank: are those dense trees still shadab — fresh and green? The poet asks whether the thick shade is still as green, or whether heat and time have dried it. The freshness of the trees is really a symbol for the freshness of the gathering itself: while the trees stay green, the gathering lives on.

The third line holds the band's most beautiful image: the mahtab (moon) comes lovingly and shimmers on the river bank — as if a beloved guest had arrived, and its light dances on the water. This is not just the moon in the sky; it is the moon of the poet's memory, the moon he once watched with his friends by the river.

Notice that all three lines repeat “kinar-e-darya par” (“on the river bank”). That repetition turns the river bank into the centre of the poem — as if all memories gather on that one bank. And notice too that here the poet does not praise one thing by name; he brings a whole evening back to life: friends, trees, moon — all parts of a single scene.

Illustration of friends under dense trees by a river at dusk with the moon shimmering on the water
Chauthe band ko samjho: یہ تصویر کتاب کی تصویر نہیں — صرف بند 4 کی پوری شام دکھاتی ہے: دوست, ghanere shadab درخت, اور پانی پر jhamakta ہوا mehtab.
Band 5 Explained — The Last Questionپانچواں بند — تشریح (آخری سوال)
🏷 Tags: paanchwan band, aakhri band, chah, aah, lillah, rukh ki tabdeeli

اشعار:
کیا اب بھی کسی کے سینے میں باقی ہے ہماری چاہ، بتا
کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے اب یاروں میں کوئی آہ، بتا
او دیس سے آنے والے بتا، للہ بتا، للہ بتا
او دیس سے آنے والے بتا!

آخری بند میں نظم کا رخ بدل جاتا ہے۔ اب تک شاعر وطن کے بارے میں پوچھ رہا تھا — باغ کیسا ہے، ہوا کیسی ہے، چاند کیسا ہے۔ اب وہ اپنے بارے میں پوچھتا ہے: ”کیا اب بھی کسی کے سینے میں باقی ہے ہماری چاہ، بتا“۔ ”چاہ“ یعنی چاہت، محبت۔ سوال یہ ہے: کیا وطن میں کسی کے دل میں میرے لیے محبت اب بھی باقی ہے، یا وہ محبت ختم ہو چکی ہے؟ یہ سوال پہلے سوالوں سے زیادہ نازک ہے، کیونکہ اس کا جواب شاعر کے دل پر براہ راست اثر ڈالے گا۔

دوسرا مصرع اسی نازک سوال کو اور گہرا کر دیتا ہے: ”کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے اب یاروں میں کوئی آہ، بتا“۔ ”آہ“ وہ سرد آہ ہے جو یاد آنے پر بے اختیار نکلتی ہے۔ شاعر پوچھتا ہے: کیا دوستوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو میری یاد میں آہ بھرے؟ یعنی کیا میری جدائی کسی کو محسوس بھی ہوتی ہے، یا سب نے مجھے بھلا دیا ہے؟ ”ہمیں بھی“ میں ایک چھپی ہوئی التجا ہے — جیسے شاعر کہہ رہا ہو: میں تو سب کو یاد کرتا ہوں، کیا کوئی مجھے بھی یاد کرتا ہے؟

پھر وہ مصرع آتا ہے جس میں نظم کی ساری بے قراری جمع ہو جاتی ہے: ”او دیس سے آنے والے بتا، للہ بتا، للہ بتا“۔ ”للہ“ یعنی اللہ کے لیے — خدا کے واسطے۔ یہ التجا کی انتہا ہے: شاعر اب سوال نہیں کر رہا، منت کر رہا ہے۔ ”للہ بتا“ دو بار آیا ہے، کیونکہ ایک بار کہنا اس کے دل کا بوجھ ہلکا نہیں کرتا۔ اور پھر بند اسی صدا پر ختم ہوتا ہے جس سے نظم شروع ہوئی تھی: ”او دیس سے آنے والے بتا!“ — جیسے ایک دائرہ مکمل ہو گیا ہو، مگر جواب ابھی تک نہیں ملا۔

یہی وہ موڑ ہے جس کے بارے میں کتاب کا سوال ۶ پوچھتا ہے: آخری بند میں شاعر کی خواہشوں کا رخ بدل جاتا ہے — پہلے وہ وطن کا حال جاننا چاہتا تھا، اب وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ وطن اسے یاد رکھتا ہے یا نہیں۔ پہلے سوال باہر کی دنیا کے تھے، آخری سوال دل کی دنیا کا ہے۔

The verses: “Is there still, in anyone's heart, any love left for me — tell me. Does anyone among friends still remember me, with a sigh — tell me. O you who have come from the homeland, tell me, for God's sake, tell me, for God's sake. O you who have come from the homeland — tell me!”

In the last band the poem's direction changes. Until now the poet has asked about the homeland — how is the garden, how is the breeze, how is the moon. Now he asks about himself: “Is there still, in anyone's heart, any chah (love, longing) left for me?” This question is more delicate than all the earlier ones, because its answer will strike his own heart directly.

The second line deepens that delicate question: does anyone among friends still remember me with a sigh? The aah is the sigh that escapes without thinking when someone is remembered. The poet asks: does my separation hurt anyone, or has everyone forgotten me? Hidden inside “hamein bhi” (“me too”) is a quiet plea — I remember everyone; does anyone remember me too?

Then comes the line where all the poem's restlessness gathers: “tell me, lillah (for God's sake), tell me, lillah.” This is no longer a question; it is a plea. “Lillah bata” comes twice, because saying it once does not lighten the weight on his heart. And the band closes on the same cry the poem began with — as if a circle has closed, but the answer has still not come.

This is the turn the book's Question 6 asks about: in the last band the poet's wishes change direction. Earlier he wanted to know the homeland's state; now he wants to know whether the homeland remembers him. The earlier questions were about the outer world; the last question is about the world of the heart.

Diagram of Band 5: does anyone still love me, does anyone remember me with a sigh, tell me for God's sake
Aakhri band ko samjho: اب سوال وطن کا نہیں, شعر کا اپنا ہے — کیا کسی کے سینے میں میری چاہ باقی ہے, کیا کوئی آہ بھر کر مجھے یاد کرتا ہے, اور پھر وہی التجا: للہ بتا!
Farhang — Difficult Words with Meaningsفرہنگ — مشکل الفاظ کے معنی
🏷 Tags: فرہنگ, مشکل الفاظ, معانی, مترادف, وطن, غربت, فردوس, ماہتاب

نظم کے مشکل الفاظ کو پہلے الگ کر کے سمجھو، پھر اشعار پڑھو — اس طرح ہر مصرع خود کھل جائے گا۔ ذیل میں نظم کے اہم الفاظ ان کے آسان معنی کے ساتھ دیے گئے ہیں:

لفظمعنی
دیسوطن، اپنا ملک
یارانِ وطنوطن کے دوست
غربتپردیس، وطن سے دوری کی حالت
آوارۂ غربتوطن سے دوری میں بھٹکتا ہوا شخص
کنولکنول کا پھول، خوبصورتی کی علامت
فردوسجنت، بہشت
سرولمبا سیدھا درخت، شان کی علامت
رعنائیخوبصورتی، دلکشی
مستانہجھومتا ہوا، خوش، بے فکر
گھنگھورگھنی اور گرجتی ہوئی (گھٹا)
برکھابرسات، ساون کی بارش
مسرتخوشی؛ مسرت نظارے: خوشی دینے والے منظر
سہانیدلکش، پیاری، خوش گوار
احبابدوست (حبیب کی جمع)
کنارِ دریادریا کا کنارا
شادابہرا بھرا، تروتازہ
مہتابچاند، چاندنی
چاہچاہت، محبت
آہافسوس یا درد کی سرد آہ
للہاللہ کے لیے؛ التجا کے لیے استعمال ہوتا ہے

ایک غلط فہمی سے بچو: ”غربت“ کو صرف غریبی نہ سمجھو۔ اس نظم میں غربت کا مطلب پردیس ہے — اپنے لوگوں سے دور ہونا۔ اسی طرح ”چیز“ کو عام چیز نہ سمجھو؛ چوتھے بند میں ”چیز گھنےرے“ سے مراد دریا کنارے کے گھنے درخت ہیں۔ الفاظ کا مطلب ہمیشہ شعر کے ماحول سے طے ہوتا ہے، لغت سے اکیلا نہیں۔

Learn the hard words separately first, then read the verses — each line will open up by itself. Here are the poem's key words with plain meanings:

Des — homeland, one's own country. Yaran-e-watan — friends of the homeland. Ghurbat — exile, the state of being away from home (not just poverty). Awara-e-ghurbat — a person wandering in exile. Kanwal — the lotus flower, a symbol of beauty and purity. Firdaus — paradise. Sarv — the tall, straight cypress tree, a symbol of dignity. Ranai — beauty, loveliness. Mastana — swaying, carefree, joyful. Ghanghor — dense and thundering (of a cloud). Barkha — the monsoon rain. Mussarat — joy; mussarat nazare are joy-giving scenes. Suhani — delightful, lovely. Ahbab — friends (plural of habib). Kinar-e-darya — the river bank. Shadab — fresh and green. Mahtab — the moon, moonlight. Chah — love, longing. Aah — a sigh of grief or longing. Lillah — “for God's sake”, used as a plea.

Two warnings against common mistakes. First, do not read ghurbat as mere poverty: in this poem it means exile. Second, do not read cheez in Band 4 as any ordinary thing: “cheez ghanere” means the dense trees on the river bank. A word's meaning is always fixed by the atmosphere of the verse, not by the dictionary alone.

The book's Question 7 also asks for synonyms (mutradif) of six words; those are answered in full in the exercise section below, with example sentences.

Diagram of Farhang words: des, ghurbat, kanwal, firdaus, mastana, mahtab and more
Farhang ko samjho: پہلے لفظ, پھر معانی, پھر شعر — اسی ترتیب سے پڑھو; غربت یہاں پردیس ہے, اور چیز ghanere یہاں درخت ہیں, یہ دو باتیں خاص یاد رکھو.
Literary Devices and Grammar — Talmeeh, Istiara, Murakkabatصنعتیں اور قواعد — تلمیح، استعارہ، مرکبات
🏷 Tags: talmeeh, tashbeeh, istiara, murakkab naqis, murakkab izafi, murakkab tauseefi, murakkab atfi, Yusuf

تلمیح: جب شاعر اپنے شعر میں کسی تاریخی، مذہبی یا مشہور واقعے کی طرف اشارہ کرے، بغیر اسے پوری طرح بیان کیے، تو اسے تلمیح کہتے ہیں۔ اس نظم میں ”آوارۂ غربت“ میں حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف تلمیح ہے: یوسف اپنے وطن کنعان سے دور مصر میں اجنبی تھے، بھائیوں نے انھیں کنویں میں ڈالا تھا، اور برسوں جدائی ان کا مقدر بنی۔ شاعر کی غربت اسی جدائی سے ملتی ہے — وہ بھی اپنے وطن سے دور ہے، اور اسی لیے اس کا دل یوسف کی طرح تڑپتا ہے۔ کتاب کی مشق میں غالب اور حالی کے یوسف والے اشعار اسی تلمیح کی روشنی میں شامل کرنے کو کہے گئے ہیں۔

تشبیہ اور استعارہ — ”کنول وطن“: تشبیہ میں کسی چیز کو کسی دوسری چیز جیسا کہا جاتا ہے، حرفِ تشبیہ (جیسا، مانند، سا) کے ساتھ۔ استعارے میں حرفِ تشبیہ غائب ہو جاتا ہے اور ایک چیز کو دوسری چیز ہی کہہ دیا جاتا ہے۔ ”کنول وطن“ میں وطن کو کنول کہہ دیا گیا ہے، بغیر ”جیسا“ کے — اس لیے صنعت کے لحاظ سے یہ استعارہ ہے۔ یہی کتاب کے معروضی سوال (iii) کا جواب ہے۔ ایک باریک بات: لفظوں کی ترکیب کے لحاظ سے ”کنولِ وطن“ اضافت بھی ہے، مگر سوال صنعت کے بارے میں ہے، اس لیے جواب استعارہ ہے، تشبیہ نہیں۔

مرکبات (کتاب کی تعریفیں): مرکب ناقص وہ الفاظ مل کر بننے والا ایسا مرکب ہے جو بامحاورہ ہو لیکن اس سے پورا مطلب واضح نہ ہو، مثلاً: تیز گھوڑا، نیک آدمی، رات اور دن وغیرہ۔ مرکب اضافی: جب دو لفظ حرفِ اضافت، زیرِ اضافت یا ہمزۂ اضافت سے مل کر مرکب بنائیں تو اسے مرکب اضافی کہتے ہیں، مثلاً: شامِ غریباں، دوستوں کی محفل، نوحۂ حجر، حلقۂ زنجیر وغیرہ۔ مرکب توصیفی: صفت اور موصوف سے مل کر بننے والے مرکب کو مرکب توصیفی کہتے ہیں، مثلاً: روشن چاند، خوب صورت پھل، سفید پتھر وغیرہ۔ مرکب عطفی: حرفِ عطف ”اور“، ”و“ سے مل کر بننے والے مرکب کو مرکب عطفی کہتے ہیں، مثلاً: صبح و شام، حق و باطل، چاند اور سورج وغیرہ۔

نظم سے مثالیں: مرکب اضافی — یارانِ وطن، باغِ وطن، کنارِ دریا (یہی سوال (iv) کا جواب ہے)۔ مرکب توصیفی — مستانہ ہوائیں، گھنگھور گھٹا، سہانی راتیں، مسرت نظارے۔ مرکب ناقص کے طور پر یہ ساری تراکیب ہی ناقص ہیں، کیونکہ ان میں سے کوئی بھی مکمل جملہ نہیں۔ اور ایک ایماندارانہ بات: مرکب عطفی کی نظم میں کوئی واضح مثال نہیں — ”اور“ چوتھے بند میں مصرعوں کو جوڑتا ہے (”اور پیار سے آ کر…“) مگر دو لفظوں کا مرکب نہیں بناتا۔ اس لیے مشق کے قواعد والے سوال میں عطفی کی مثال کتاب کی اپنی مثالوں (صبح و شام، حق و باطل) سے دی گئی ہے، نظم سے گھڑ کر نہیں۔

Talmeeh (allusion): when a poet points to a famous historical or religious event without describing it fully, that is talmeeh. Here, “awara-e-ghurbat” alludes to Prophet Yusuf: a stranger in Egypt, far from Canaan, thrown into a well by his brothers, living years of separation. The poet's exile matches that separation — which is why the book's exercise asks for this band to be explained with the Yusuf couplets of Ghalib and Hali.

Tashbeeh and istiara — “kanwal-e-watan”: in a tashbeeh (simile) one thing is said to be like another, with a word like “like” or “as”. In an istiara (metaphor) that word disappears and one thing is simply called the other. In “kanwal-e-watan” the homeland is called a lotus, with no “like” — so as a figure of speech it is istiara. That is the answer to the book's MCQ (iii). A fine point: as a word-combination it is also an izafat, but the question asks about the figure of speech, so the answer is istiara, not tashbeeh.

Murakkabat (compounds), as defined in the book: Murakkab naqis is a phrase that makes sense as an expression but does not give a complete meaning — e.g. “tez ghora”, “naik aadmi”, “raat aur din”. Murakkab izafi is formed when two words join through an izafat (e.g. “shaam-e-ghariban”, “doston ki mehfil”). Murakkab tauseefi joins an adjective (sifat) with the thing described (mausoof) — e.g. “roshan chaand”, “khoob surat phal”. Murakkab atfi joins two words with “aur” or “wa” — e.g. “subh-o-shaam”, “haq-o-batil”, “chaand aur suraj”.

Examples from the poem: izafi — yaran-e-watan, bagh-e-watan, kinar-e-darya (this is also the answer to MCQ iv). Tauseefi — mastana hawaen, ghanghor ghata, suhani raaten, mussarat nazare. As naqis, all of these phrases qualify, since none of them is a complete sentence. And one honest note: the poem has no clear atfi example — the word “aur” in Band 4 joins lines, not two words into a compound — so in the exercise answer the atfi examples are taken from the book's own list, not invented from the poem.

Diagram of four compound types: naqis, izafi, tauseefi, atfi
Qawaid ko samjho: چار قسمیں, چار پہچان — ناقص نامکمل جملہ, اضافی izafat سے, tauseefi صفت سے, atfi اور/و سے; نظم میں atfi کی واضح مثال نہیں, یہ بات یاد رکھو.
Extra Reading — Sawan ki Ghata (Akhtar Shirani)برائے اضافی مطالعہ — ساون کی گھٹا (اختر شیرانی)
🏷 Tags: izaafi mutala, Sawan ki Ghata, Akhtar Shirani, fitrat nigari, ghata, sawan

کتاب کے آخر میں (صفحہ ۱۰۶) اختر شیرانی کی ایک اور نظم ”ساون کی گھٹا“ برائے اضافی مطالعہ دی گئی ہے۔ یہ نظم پڑھو تو فوراً سمجھ آئے گا کہ شاعر فطرت کا کتنا بڑا مصور ہے — ساون کی گھٹا یہاں صرف بادل نہیں، ایک زندہ کردار ہے جو مسکراتی ہوئی آتی ہے، جی لبھاتی ہوئی آتی ہے، گیت گاتی ہوئی آتی ہے:

مسکراتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی
جی لبھاتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی
گیت گلوں کے، کلیوں کی صدا، مور کا شور
سنگتاتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی
کیوں نہ ہم جھولیاں گلزار میں جھولا جھولیں
لپٹاتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی
کوہساروں کا، خیابانوں کا، گلزاروں کا
منہ دھلاتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی
موجِ نکہت سے خدائی مہک اٹھی اختر
پھول اڑاتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی

غور کرو: ہر دوسرا مصرع ”آتی ہے گھٹا ساون کی“ پر ختم ہوتا ہے — بالکل اسی طرح جیسے ”او دیس سے آنے والے بتا!“ ہر بند کے آخر میں لوٹ آتا ہے۔ یہ تکرار اختر شیرانی کی پہچان ہے: ان کی نظموں میں نغمہ ہوتا ہے، گیت کی لے ہوتی ہے۔ اور ایک اور رشتہ دیکھو: ”او دیس“ میں شاعر برکھا اور گھٹا کو یاد کرتا ہے، اور ”ساون کی گھٹا“ میں وہی گھٹا سامنے آ کر مسکراتی ہے۔ جو طالب علم دونوں نظمیں ساتھ پڑھے، اسے اختر شیرانی کا رومانوی انداز — فطرت سے محبت، موسیقی کی لے، اور یادوں کی دنیا — ایک ساتھ سمجھ آ جائے گا۔

At the end of the lesson (book p. 106) there is an extra-reading poem by the same poet, “Sawan ki Ghata” (The Monsoon Cloud). Read it and you will at once see what a great painter of nature Akhtar Shirani is: here the monsoon cloud is not just a cloud, it is a living character that comes smiling, comes winning hearts, comes singing.

In اردو, its refrain runs: “مسکراتی ہوئی آتی ہے گھاٹا ساون کی / Ji لبھاتی ہوئی آتی ہے گھاٹا ساون کی” — the cloud of Sawan comes smiling, comes stealing hearts — with the songs of flowers, the call of buds, the cry of the peacock; it comes swinging, comes clinging, comes washing the faces of mountains, flower-beds and gardens; and with its wave of fragrance, says Akhtar, the whole world is perfumed as it comes scattering flowers.

Notice تھے technique: every second line ends on تھے same refrain, “آتی ہے گھاٹا ساون کی” — exactly as “O des سے آنے والے بتا!” returns at تھے end of every بند ان our lesson poem. That repetition اس Akhtar شیرانی's signature: his poems carry a tune, a song's rhythm. And notice تھے connection too: ان “O Des” تھے poet remembers the rain and cloud, while in “Sawan ki Ghata” the same cloud arrives, smiling. Read the two poems together, and the poet's Romantic style — love of nature, musical rhythm, and a world of memories — falls into place at once.

Diagram of Sawan ki Ghata: the refrain returns in every second line, like the refrain in O Des
Sawan ki Ghata ko samjho: ہر دوسرا مصرعہ وہی لفظ دہراتا ہے — اسی تکرار سے نظم میں گیت کی لے پیداکرنے ہوتی ہے, بالکل ویسی ہی جیسی O Des میں ہر بند کے آخر میں لوٹنے والی صدا میں ہے.
📝 Official Exercise — Complete Answers (Book pp. 104–106)📝 سرکاری مشق — مکمل حل (کتاب کے صفحات ۱۰۴ تا ۱۰۶)
🏷 Tags: مشق, official exercise, مختصر جواب, MCQs, خلاصہ, تشریح, مرکبات, مترادف, tabsira

Note — دیانتدارانہ وضاحت: کتاب میں مشق کے جوابات کی کوئی کلید (answer key) چھپی ہوئی نہیں ہے، اس لیے معروضی سوالات کے درست جوابات نظم کے متن اور قواعد کی روشنی میں متعین کیے گئے ہیں — ہر جواب کے ساتھ وجہ بھی لکھی گئی ہے تاکہ طالب علم خود جانچ سکے۔ جہاں جواب تشریحی ہے (خلاصہ، تشریح، تبصرہ)، وہاں نمونہ جواب دیا گیا ہے؛ امتحان میں اپنا جواب اپنے الفاظ میں لکھنا بہتر ہے۔

۱۔ مختصر جواب دیں

۱(الف)۔ شاعر اس نظم میں کس سے مخاطب ہے؟

شاعر اس نظم میں وطن سے آنے والے مسافر سے مخاطب ہے — یعنی اس شخص سے جو دیس سے آ رہا ہے اور جس نے وطن کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ شاعر خود پردیس میں ہے، اس لیے وہ اسی آنے والے سے وطن کا حال پوچھتا ہے، اور ہر بند ”او دیس سے آنے والے بتا!“ کی پکار سے شروع اور ختم ہوتا ہے۔

۱(ب)۔ شاعر کو کس کی یاد ستا رہی ہے؟

شاعر کو وطن کی یاد ستا رہی ہے — وطن کے دوستوں (یارانِ وطن) کی، وطن کے باغوں، ہواؤں، گھٹا اور برکھا کی، چاند ستاروں والی سہانی راتوں کی، بچپن کے کھیلوں کی، اور دریا کنارے کی شام کی محفلوں کی۔ ایک جملے میں: اسے اپنے پورے وطن کی — اس کی جگہوں کی بھی اور اس کے زمانے (بچپن) کی بھی — یاد ستا رہی ہے۔

۱(ج)۔ شاعر نے خود کو آوارۂ غربت کیوں کہا؟

اس لیے کہ وہ اپنے وطن سے دور پردیس میں ہے اور وہاں اس کا کوئی ٹھکانا نہیں — وہ بھٹکتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ”غربت“ یہاں غریبی نہیں، پردیس ہے: اپنے لوگوں سے دوری۔ جو شخص اپنا گھر، اپنے دوست اور اپنا وطن چھوڑ کر اجنبی جگہ رہے، وہ خود کو آوارۂ غربت ہی کہے گا، چاہے اس کے پاس مال و دولت ہو۔ یہ لفظ اس کی اندرونی بے گھری کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ اس کی جیب کو۔

۱(د)۔ وطن کی ہوا اور گھٹا کیسی ہیں؟

وطن کی ہوا مستانہ ہے — جھومتی ہوئی، بے فکر اور خوش گوار، جو باغوں میں چلتے ہوئے خود بھی مست ہو اور دوسروں کو بھی مست کر دے۔ اور وطن کی گھٹا گھنگھور ہے — گھنی اور گرجتی ہوئی، جو پربت پر گھِر کر چھا جاتی ہے۔ شاعر ان دونوں کی کیفیت پوچھتا ہے: کیا ہوا اب بھی مستانہ ہے اور گھٹا اب بھی گھنگھور ہے؟

۱(ہ)۔ مسرت نظاروں سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

مسرت نظاروں سے شاعر کی مراد وطن کے وہ دلکش منظر ہیں جنھیں دیکھ کر دل خوش ہو جائے — کھلا ہوا باغ، مستانہ ہوا، گھنگھور گھٹا، برکھا کی پھوار، چاندنی رات، اور دوستوں کی محفل۔ ”مسرت“ خوشی کو کہتے ہیں، اس لیے مسرت نظارے یعنی خوشی دینے والے منظر۔ شاعر کا سوال یہ ہے کہ کیا وطن میں خوشی کے وہ منظر اب بھی بکھرتے ہیں یا وقت نے انھیں ماند کر دیا ہے؟

۲۔ درست جواب کی نشان دہی کریں

۲(i)۔ نظم ”او دیس سے آنے والے بتا!“ کے شاعر ہیں:

Answer / جواب

جواب: (ب) اختر شیرانی۔ کتاب کے صفحہ ۱۰۲ پر شاعر کے تعارف میں نام درج ہے، اور نظم کے آخر میں بھی ”(کلیاتِ اختر شیرانی)“ لکھا ہے۔

۲(ii)۔ شاعر کو کس کی یاد ستا رہی ہے؟

Answer / جواب

جواب: (ج) وطن کی۔ پوری نظم وطن کی یاد پر مبنی ہے — ہر بند میں شاعر وطن کے دوستوں، باغوں، ہواؤں اور مناظر کے بارے میں پوچھتا ہے، اور آخری بند میں یہ کہ وطن میں کوئی اسے یاد کرتا ہے یا نہیں۔

۲(iii)۔ ”کنول وطن“ اردو قواعد کی رو سے ہے:

Answer / جواب

جواب: (ب) استعارہ۔ وطن کو کنول کہہ دیا گیا ہے، بغیر حرفِ تشبیہ (جیسا، مانند) کے — اور یہی استعارے کی پہچان ہے۔ تشبیہ میں ”جیسا“ ہوتا، تلمیح میں کسی واقعے کا اشارہ ہوتا، کنایہ میں پوشیدہ معنی ہوتا — یہاں ان میں سے کوئی صورت نہیں۔ (یہ جواب کتاب کی کلید سے نہیں، صنعت کی تعریف کی روشنی میں متعین کیا گیا ہے۔)

۲(iv)۔ ”یارانِ وطن“ اردو قواعد کی رو سے ہے:

Answer / جواب

جواب: (ب) مرکب اضافی۔ ”یارانِ وطن“ میں یاران اور وطن زیرِ اضافت سے جڑے ہیں — یعنی ”وطن کے یار“ — اور اضافت سے بننے والا مرکب ہی مرکب اضافی کہلاتا ہے۔

۲(v)۔ وطن کے باغوں میں ہوا چلتی ہیں:

Answer / جواب

جواب: (ب) مستانہ وار۔ دوسرے بند میں شاعر پوچھتا ہے: ”کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں مستانہ ہوائیں آتی ہیں“ — اس لیے باغوں کی ہوا مستانہ وار (مستانہ انداز میں) چلتی ہے۔

۲(vi)۔ دریا میں پیار سے جھمکتا ہے:

Answer / جواب

جواب: (ج) مہتاب۔ چوتھے بند کا مصرع ہے: ”اور پیار سے آ کر جھمکتا ہے مہتاب، کنارِ دریا پر“ — مہتاب یعنی چاند، جو دریا کے پانی پر جھلملاتا ہے۔

۲(vii)۔ وطن کے چیز ہیں:

Answer / جواب

جواب: (الف) گھنےرے۔ چوتھے بند میں ہے: ”وہ چیز گھنےرے اب بھی ہیں شاداب، کنارِ دریا پر“ — یعنی دریا کنارے کے گھنے درخت اب بھی ہرے بھرے ہیں۔

۳۔ نظم کا خلاصہ

۳۔ نظم ”او دیس سے آنے والے بتا!“ کا خلاصہ تحریر کریں۔

اس نظم میں اختر شیرانی نے پردیس میں رہنے والے ایک شخص کے دل کی کیفیت بیان کی ہے۔ وہ شخص وطن سے آنے والے مسافر سے ملتا ہے اور اس سے سوالوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔ پہلے بند میں وہ پوچھتا ہے کہ وطن کے دوست کس حال میں ہیں، اور اس بھٹکتے ہوئے پردیسی کو بتایا جائے کہ کنول جیسا وطن آج کس رنگ میں کھل رہا ہے — وہ باغ، وہ جنت جیسا وطن، وہ سرو اور وہ رعنائی اب کیسی ہے؟ دوسرے بند میں وہ وطن کے موسم پوچھتا ہے: کیا باغوں میں اب بھی مستانہ ہوائیں آتی ہیں، کیا پہاڑوں پر اب بھی گھنگھور گھٹا چھاتی ہے، کیا برکھا اب بھی دلوں کو ویسی ہی بھاتی ہے؟ تیسرے بند میں وہ وطن کی خوشیوں اور بچپن کو یاد کرتا ہے: کیا مسرت نظارے اب بھی ہوتے ہیں، کیا سہانی راتوں میں وہی چاند ستارے ہوتے ہیں، کیا بچپن کے کھیل اب بھی کھیلے جاتے ہیں؟ چوتھے بند میں وہ دریا کنارے کی شام کو یاد کرتا ہے: کیا دوست اب بھی شام کو دریا کنارے جاتے ہیں، کیا گھنے درخت اب بھی شاداب ہیں، کیا مہتاب اب بھی پیار سے آ کر پانی پر جھمکتا ہے؟ اور آخری بند میں سوال سب سے ذاتی ہو جاتا ہے: کیا کسی کے دل میں میرے لیے چاہ اب بھی باقی ہے، کیا دوستوں میں کوئی مجھے آہ بھر کر یاد کرتا ہے؟ اور وہ منت کرتا ہے: للہ بتا، للہ بتا۔ خلاصہ یہ کہ یہ نظم وطن کی محبت، پردیس کی تنہائی، بچپن کی یادوں اور اس ڈر کی کہانی ہے کہ کہیں وطن والے ہمیں بھول نہ گئے ہوں — اور اسی ڈر نے نظم کو ہر دل کی آواز بنا دیا ہے۔

۴۔ پہلے بند کی تشریح تلمیح کی روشنی میں (غالب و حالی کے اشعار سمیت)

۴۔ نظم ”او دیس سے آنے والے بتا!“ کے پہلے بند میں استعمال ہونے والی تلمیح کی روشنی میں بند کی تشریح کریں اور مرزا غالب و مولانا حالی کے درج ذیل اشعار کو بھی شامل کریں۔

پہلے بند کی جان اس کی تلمیح میں ہے۔ شاعر نے خود کو ”آوارۂ غربت“ کہا ہے — اور ”غربت“ یہاں حضرت یوسف علیہ السلام کی غربت کی طرف اشارہ ہے۔ یوسف کنعان کے رہنے والے تھے، بھائیوں نے انھیں کنویں میں ڈال دیا، اور وہ مصر میں اجنبی بن کر رہے — برسوں وطن سے دوری، برسوں جدائی۔ شاعر کی حالت بھی وہی ہے: وہ بھی اپنے کنعان (وطن) سے دور، اجنبی دیس میں بھٹک رہا ہے۔ اسی لیے پہلا بند صرف دوستوں کا حال نہیں پوچھتا، وہ یوسف کی طرح اپنے وطن کی ایک جھلک مانگتا ہے — ”کنول وطن کس رنگ میں ہے؟“ یعنی میرا وطن، میرا کنعان، آج کیسا ہے؟

مرزا غالب کا شعر (کتاب میں پہلا شعر):
نسیمِ مصر کو کیا چہرۂ کنعاں کی ہوا خواہی
اسے یوسف کی بوئے پیرہن کی آزمائش ہے
تشریح: مصر کی ہوا کو کنعان کے چہرے کی خواہش کیوں ہو؟ اسے تو یوسف کی قمیض کی خوشبو کی آزمائش ہے — یعنی جدائی میں محبوب کی نشانی (خوشبو) ہی سب کچھ بن جاتی ہے۔ اسی طرح شاعر کے لیے وطن سے آنے والے کی خبر ہی سب کچھ ہے — وہ خبر ہی اس کی یوسف کی قمیض کی خوشبو ہے۔

مولانا حالی کا شعر (کتاب میں دوسرا شعر):
آ رہی ہے چاہِ یوسف سے صدا
دوست تھوڑے ہیں اور بھائی بہت
تشریح: یوسف کے کنویں سے صدا آ رہی ہے کہ دوست تھوڑے ہیں اور بھائی بہت — یعنی مصیبت میں سچے دوست کم ملتے ہیں، بھائی (رشتے دار) تو بہت ہوتے ہیں۔ شاعر بھی پردیس میں یہی سوچتا ہے: وطن میں میرے دوست تو بہت تھے، مگر کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو آج بھی مجھے یاد کرتا ہو؟ اس طرح دونوں اشعار پہلے بند کی تلمیح کو کھولتے ہیں: یوسف کی جدائی، یوسف کی خوشبو، اور یوسف کے کنویں کی صدا — تینوں مل کر شاعر کی غربت کی تصویر مکمل کرتے ہیں۔ (کتاب میں اشعار اسی ترتیب سے درج ہیں: پہلا غالب کا، دوسرا حالی کا۔)

۵۔ ہم وطنوں کو دیکھ کر شاعر کے دل کے جذبے

۵۔ اپنے ہم وطنوں کو دیکھ کر شاعر کے دل میں کیا کیا جذبے بیدار ہوتے ہیں اور وہ کیا جاننا چاہتا ہے؟ نظم ”او دیس سے آنے والے بتا!“ کی روشنی میں بیان کریں۔

اپنے ہم وطنوں (وطن سے آنے والے مسافر) کو دیکھ کر شاعر کے دل میں کئی جذبے ایک ساتھ بیدار ہوتے ہیں۔ پہلا جذبہ خوشی اور امید ہے — آخر کوئی تو ملا ہے جو وطن سے آیا ہے، جس سے وطن کی خبر مل سکتی ہے۔ دوسرا جذبہ بے قراری اور بے چینی ہے — سوالوں کی بوچھاڑ اسی بے قراری کی علامت ہے، وہ ایک سانس میں سب کچھ جان لینا چاہتا ہے۔ تیسرا جذبہ یاد اور حسرت ہے — باغ، برکھا، چاندنی، بچپن کے کھیل اور دریا کنارے کی شامیں، سب اس کی یاد میں تازہ ہو جاتے ہیں۔ چوتھا جذبہ خدشہ اور ڈر ہے — ”کیا اب بھی“ کی تکرار بتاتی ہے کہ اسے ڈر ہے کہ کہیں وقت نے سب کچھ بدل نہ دیا ہو۔ اور پانچواں جذبہ محبت کی طلب ہے — وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا وطن میں کوئی اسے یاد بھی کرتا ہے؟
وہ کیا جاننا چاہتا ہے؟ وہ چار باتیں جاننا چاہتا ہے: (۱) وطن کے دوست کس حال میں ہیں؟ (۲) وطن کے موسم اور منظر اب بھی ویسے ہی ہیں یا بدل گئے ہیں؟ (۳) بچپن کے کھیل اور دریا کنارے کی محفلیں اب بھی قائم ہیں؟ (۴) اور سب سے بڑھ کر — کیا کسی کے دل میں میرے لیے چاہ باقی ہے؟ یعنی اس کے سوال باہر کی دنیا سے شروع ہو کر دل کی دنیا پر ختم ہوتے ہیں۔

۶۔ آخری بند میں خواہشوں کا رخ

۶۔ کیا نظم ”او دیس سے آنے والے بتا!“ کے آخری بند میں شاعر کی خواہشوں کا رخ تبدیل ہوا ہے؟ وضاحت کریں۔

جی ہاں، آخری بند میں شاعر کی خواہشوں کا رخ صاف طور پر تبدیل ہو جاتا ہے۔ پہلے چار بندوں میں شاعر کی خواہش یہ تھی کہ وہ وطن کا حال جان لے — دوست کیسے ہیں، باغ کیسا ہے، ہوا، گھٹا، برکھا، چاند ستارے، کھیل اور دریا کنارے کی شام کیسی ہے؟ یہ سب سوال باہر کی دنیا کے بارے میں تھے، یعنی شاعر وطن کو دیکھنا چاہتا تھا۔ آخری بند میں رخ پلٹ جاتا ہے: اب وہ وطن کو نہیں، خود کو دیکھنا چاہتا ہے — کیا کسی کے سینے میں میری چاہ باقی ہے؟ کیا کوئی مجھے آہ بھر کر یاد کرتا ہے؟ یعنی پہلے وہ پوچھتا تھا ”وطن کیسا ہے؟“، اب وہ پوچھتا ہے ”کیا وطن کو میں یاد ہوں؟“۔ یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ یہ نظم کو ایک عام وطن پرست نظم سے ایک ذاتی نظم بنا دیتی ہے: پہلے شاعر وطن کی خبر کا بھوکا تھا، اب وہ وطن کی محبت کا بھوکا ہے۔ اور ”للہ بتا، للہ بتا“ کی تکرار اس نئی خواہش کی شدت کو ظاہر کرتی ہے — اب سوال نہیں، منت ہے۔

قواعد — نظم میں استعمال ہونے والے چاروں مرکبات کی فہرست

قواعد۔ نظم ”او دیس سے آنے والے بتا!“ میں استعمال ہونے والے ان چاروں مرکبات کی فہرست بنائیں، ان کے معانی لکھیں اور جملوں میں استعمال کریں۔

مرکب ناقص: ایسا مرکب جو بامحاورہ ہو لیکن اس سے پورا مطلب واضح نہ ہو۔ نظم کی ساری تراکیب اس لحاظ سے ناقص ہیں، کیونکہ کوئی بھی مکمل جملہ نہیں — مثلاً ”مستانہ ہوائیں“ (جملہ: مستانہ ہوائیں باغ میں چل رہی ہیں)۔
مرکب اضافی (اضافت سے): یارانِ وطن — وطن کے دوست (جملہ: یارانِ وطن کی یاد مجھے ہر وقت ستاتی ہے)؛ باغِ وطن — وطن کا باغ (جملہ: باغِ وطن کی خوشبو آج بھی میرے دل میں بسی ہے)؛ کنارِ دریا — دریا کا کنارا (جملہ: ہم شام کو کنارِ دریا سیر کے لیے جاتے ہیں)۔
مرکب توصیفی (صفت + موصوف): مستانہ ہوائیں — جھومتی ہوئی ہوائیں (جملہ: مستانہ ہوائیں پھولوں کی خوشبو لے کر آئیں)؛ گھنگھور گھٹا — گھنی گرجتی گھٹا (جملہ: گھنگھور گھٹا پہاڑوں پر چھا گئی)؛ سہانی راتیں — دلکش راتیں (جملہ: سہانی راتوں میں چاندنی بہت بھلی لگتی ہے)؛ مسرت نظارے — خوشی دینے والے منظر (جملہ: وطن کے مسرت نظارے دیکھ کر دل خوش ہو گیا)۔
مرکب عطفی: نظم میں عطفی مرکب کی کوئی واضح مثال نہیں ہے — چوتھے بند میں ”اور“ مصرعوں کو جوڑتا ہے (”اور پیار سے آ کر…“) مگر دو لفظوں کا مرکب نہیں بناتا۔ اس لیے عطفی کی مثالیں کتاب کی اپنی مثالوں سے لیں: صبح و شام — صبح اور شام (جملہ: وہ صبح و شام محنت کرتا ہے)؛ حق و باطل — سچ اور جھوٹ (جملہ: حق و باطل کی پہچان ہر انسان کو ہونی چاہیے)؛ چاند اور سورج (جملہ: چاند اور سورج دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں)۔ یہ بات خاص طور پر یاد رکھیں: نظم سے مثال نہ ملے تو مثال گھڑیں نہیں، کتاب کی مثال لکھیں۔

۷۔ مترادفات

۷۔ درج ذیل الفاظ کے مترادفات تلاش کریں: وطن، غربت، فردوس، سہانی، احباب، مہتاب۔

وطن — دیس، میہن (جملہ: دیس کی محبت ہر دل میں ہوتی ہے)۔ غربت — پردیس، مسافرت، دوریِ وطن (جملہ: غربت میں وطن کی یاد اور بھی ستاتی ہے)۔ فردوس — جنت، بہشت (جملہ: وطن کا باغ فردوس جیسا لگتا ہے)۔ سہانی — دلکش، پیاری، خوش گوار (جملہ: سہانی رات میں چاندنی چھتوں پر بچھ گئی تھی)۔ احباب — دوست، یار، رفیق (جملہ: احباب کی محفل دریا کنارے جمتی تھی)۔ مہتاب — چاند، قمر (جملہ: مہتاب کی روشنی پانی پر جھلملا رہی تھی)۔

۸۔ تاثراتی تبصرہ (حالی کے شعر سمیت)

۸۔ طلبہ زیرِ مطالعہ نظم ”او دیس سے آنے والے بتا!“ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں اور تاثراتی تبصرہ کریں۔ اس میں حضرت مولانا حالی کا درج ذیل شعر بھی شامل کریں۔

میرے خیال میں یہ نظم ہر اس شخص کے دل کی آواز ہے جو اپنا وطن چھوڑ کر کہیں اور رہ رہا ہو۔ مجھے اس نظم کی سب سے اچھی بات یہ لگی کہ شاعر نے وطن کی محبت کو بڑے بڑے دعووں سے نہیں، چھوٹی چھوٹی یادوں سے ظاہر کیا ہے — باغ کی ہوا، پہاڑ کی گھٹا، برکھا، چاندنی رات، بچپن کے کھیل اور دریا کنارے کی شام۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو ہر انسان نے کبھی نہ کبھی محسوس کی ہیں، اس لیے نظم پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے شاعر میرے ہی دل کی بات کر رہا ہو۔ مجھے آخری بند سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے، کیونکہ وہاں شاعر وطن کا حال پوچھنا چھوڑ کر یہ پوچھتا ہے کہ کیا وطن اسے یاد رکھتا ہے — یہ سوال ہر پردیسی کے دل میں ہوتا ہے، مگر کم لوگ اسے اتنی سچائی سے کہہ پاتے ہیں۔

حضرت مولانا حالی کا شعر:
غربت کی صبح میں بھی نہیں ہے وہ روشنی
جو روشنی کہ شامِ سوادِ وطن میں تھی
تشریح: پردیس کی صبح میں وہ روشنی نہیں جو وطن کی شام کے اندھیرے میں تھی — یعنی وطن کی شام کا اندھیرا بھی پردیس کی صبح کی روشنی سے بہتر ہے، کیونکہ وہ اندھیرا اپنوں کا تھا۔ یہ شعر اختر شیرانی کی نظم کے جذبات سے بالکل ملتا ہے: شاعر بھی یہی کہہ رہا ہے کہ پردیس کی ہر روشنی وطن کی یاد کے سامنے ماند ہے، اور وطن کی شام — دوست، درخت، چاند — ہی اس کی اصل روشنی ہے۔ اس لیے میرا تبصرہ یہ ہے کہ یہ نظم صرف ایک سبق نہیں، ایک احساس ہے: وطن کی محبت کا احساس، جو فاصلے سے کم نہیں ہوتا، بلکہ اور گہرا ہو جاتا ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ اور ہدایات برائے اساتذہ

سرگرمیاں۔ کتاب میں دی گئی سرگرمیاں اور ہدایات کیا ہیں؟

سرگرمیاں برائے طلبہ: (۱) حب الوطن کے موضوع پر تقاریر میں حصہ لیں اور مناسب اشعار استعمال کریں — یعنی تقریر میں اس نظم کے اشعار یا حب الوطن کے دوسرے اشعار بطور دلیل پیش کریں۔ (۲) شعری ذوق رکھنے والے طلبہ کوئی ملی نغمہ لکھنے کی کوشش کریں — یعنی وطن کی محبت پر اپنا چھوٹا سا نغمہ یا نظم لکھیں، اختر شیرانی کے انداز میں فطرت کے مناظر اور سادہ جذبات کے ساتھ۔
ہدایات برائے اساتذہ کرام: (۱) اختر شیرانی کی رومانوی شاعری کے بارے میں معلومات دیں — ان کا تعارف، ان کی شاعری کی خصوصیات (فطرت نگاری، نغماتی فضا) اور ان کے مجموعوں کا ذکر کریں۔ (۲) جذبۂ حب الوطنی کی ضرورت و اہمیت واضح کریں — یعنی طلبہ کو بتائیں کہ وطن سے محبت کیوں ضروری ہے اور یہ محبت عمل سے کیسے ظاہر ہوتی ہے۔

Diagram of the exercise: 5 short answers, 7 MCQs, summary, explanation, grammar, synonyms, review
Exercise ko samjho: پوری مشق 20 blocks میں حل ہے — 5 مختصر جواب, 7 MCQs, خلاصہ, تلمیح والی تشریح, جذبے, آخری بند کا رخ, مرکبات, مترادف, tabsira اور sargarmiyan; کوئی سوال chhoda نہیں گیا.
📌 باب کا خلاصہ اور رہنمائی — اس باب میں کیا ہے؟
🏷 Tags: summary, revision, Akhtar Shirani, O Des Se Aane Wale Bata, hubb-e-watani, MCQs, murakkabat

اس باب میں تم نے اختر شیرانی (۱۹۰۵ تا ۱۹۴۸) کی نظم ”او دیس سے آنے والے بتا!“ پڑھی — ایک پردیسی شاعر کی وطن سے محبت کی کہانی۔ پہلے تم نے شاعر کا تعارف پڑھا: محمد داؤد خان، ٹونک میں پیدائش، لاہور میں تعلیم، رسائل کی ادارت، اور شعری مجموعے۔ پھر نظم کا مرکزی خیال سمجھا: وطن سے آنے والے مسافر سے سوالوں کی بوچھاڑ۔ پھر پانچوں بندوں کی الگ الگ تشریح کی: پہلا بند — یاروں کا حال اور کنول وطن (تلمیح: یوسف کی غربت)؛ دوسرا بند — مستانہ ہوائیں، گھنگھور گھٹا، برکھا؛ تیسرا بند — مسرت نظارے، چاند ستارے، بچپن کے کھیل؛ چوتھا بند — دریا کنارے کی شام، گھنے شاداب درخت، مہتاب؛ پانچواں بند — سب سے ذاتی سوال: کیا کوئی مجھے یاد کرتا ہے؟ للہ بتا! اس کے بعد فرہنگ کے الفاظ، تلمیح و استعارہ اور چاروں مرکبات، اور اضافی مطالعہ میں ”ساون کی گھٹا“ پڑھی۔ آخر میں کتاب کی پوری مشق حل کی: ۵ مختصر جواب، ۷ معروضی سوالات، خلاصہ، تلمیح والی تشریح، جذبے، آخری بند کا رخ، مرکبات کی فہرست، ۶ مترادفات، تاثراتی تبصرہ اور سرگرمیاں۔

Revision guidance: امتحان کی تیاری کے لیے پہلے پانچوں بندوں کے اشعار زبانی یاد کرو، پھر فرہنگ کے الفاظ (خاص طور پر غربت = پردیس، کنول = خوبصورتی کی علامت، مہتاب = چاند) پکے کرو، پھر معروضی سوالات کی کلید وجہ سمیت یاد کرو (کنول وطن = استعارہ، یارانِ وطن = مرکب اضافی)، اور آخر میں خلاصہ اور آخری بند کے رخ کی تبدیلی اپنے الفاظ میں لکھنے کی مشق کرو۔ جو طالب علم یہ ترتیب اپنائے گا، اس کی تیاری مکمل ہو گی۔

In this chapter you have read Akhtar Shirani's (1905–1948) poem “O Des Se Aane Wale Bata!” — the story of an exile's love for his homeland. First you met the poet: Muhammad Daud Khan, born in Tonk, educated in Lahore, an editor of journals, and the author of famous collections. Then you grasped the central idea: a shower of questions poured on a traveller who has come from the homeland. Then you studied all five bands one by one: Band 1 — the friends' state and the lotus of the homeland (with the Yusuf allusion); Band 2 — carefree breezes, thundering clouds, monsoon rain; Band 3 — joy-giving scenes, moon and stars, childhood games; Band 4 — the river-bank evening, dense green trees, the moon; Band 5 — the most personal question: does anyone remember me? Tell me, for God's sake! After that came the Farhang words, talmeeh and istiara, the four kinds of compounds, and the extra-reading poem “Sawan ki Ghata”. Finally the book's whole exercise was solved: 5 short answers, 7 MCQs, summary, allusion-based explanation, feelings, the last band's change of direction, the compounds list, 6 synonyms, the review, and the activities.

Revision guidance: for exam preparation, first memorise the verses of all five bands, then master the Farhang words (especially: ghurbat = exile, kanwal = symbol of beauty, mahtab = moon), then learn the MCQ key with reasons (kanwal-e-watan = istiara, yaran-e-watan = murakkab izafi), and finally practise writing the summary and the last band's change of direction in your own words. A student who follows this order will be fully prepared.

Diagram of revision steps: verses, Farhang, MCQ key, summary, own words
Revision ko samjho: پہلے ash'ar, پھر فرہنگ, پھر MCQ key وجہ samet, پھر خلاصہ اور آخری بند کا رخ اپنے الفاظ میں — اسی ترتیب سے تیاری مکمل ہوتی ہے.

Revision guidance: یاد رکھو — Lesson 14, «O Des سے آنے والے بتا», شعر Akhtar شیرانی (1905–1948), کتاب سرمایہ-e-Urdu 11, متن pp. 102–106; نظم 5 بند, ہر بند 3 مصرعے + refrain; فرہنگ: des, غربت (pardes), کنول, فردوس, سرو, ranai, مستانہ, ghanghor, برکھا, mussarat, suhani, ahbab, shadab, ماہتاب, چاہ, للہ; MCQs: (i) Akhtar شیرانی, (ii) وطن کی, (iii) استعارہ, (iv) مرکب اضافی, (v) مستانہ war, (vi) ماہتاب, (vii) ghanere; قوائد: ناقص, اضافی, tauseefi, atfi (نظم میں atfi کی واضح مثال نہیں); اضافی مطلع: ساون کی گھاٹا.

🎯 مزید MCQs اور Tests کے لیے

Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:

PunjabTest.com — Tests →

PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 14 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu

← Chapter 13Chapter 15 →