FSc Part 1 Urdu Chapter 16 Complete Guide Book — Ikhlas

FSc Part 1 Urdu Chapter 16 — Ikhlas
Home > PunjabTest.com > FSc Part 1 > Urdu — all chapters > Chapter 16: Ikhlas (اخلاص)

اس chapter میں topics (Topics in this chapter)

Rahman Baba and His Translator — Professor Muhammad Rath Khanرحمان بابا اور ان کے مترجم — پروفیسر محمد رتھ خاں
🏷 Tags: Rahman Baba, Muhammad Rath Khan, Mata-e-Faqir, Sufi poetry, Pashto, translator
اردو

یہ سبق دراصل دو شخصیتوں کا تعارف ہے۔ پہلے رحمان بابا (1632ء تا 1711ء) — پشتو کے عظیم صوفی شاعر، جن کا کلام انسان دوستی، خودی کی تعلیم اور عالم گیر انسانی مساوات کا درس دیتا ہے۔ ان کی شاعری نفرت سے پاک ہے: نہ ظلم سے، نہ انصافی سے، نہ جبر و تشدد اور آمریت سے کوئی سمجھوتا۔ ان کا مجموعی طور پر پہلو اخلاقی پہلو غالب ہے، اور اسی لیے انہیں پشتو شاعری کے ”حافظ شیرازی“ کہا جاتا ہے۔

دوسرے پروفیسر محمد رتھ خاں (1931ء تا 2013ء) — ایک کثیر الجہت شخصیت، جنہوں نے علم و ادب کے میدان میں مختلف پہلوؤں سے اپنی پہچان کرائی۔ وہ ایک قابل استاد تھے اور جوانی کی بنیادی حیثیت تھی۔ اپنے فرائض منصبی کے ساتھ ساتھ انہوں نے تنقید و تحقیق، شاعری اور ترجمہ میں بھی کام کیا۔ وہ ایک براڈکاسٹر بھی تھے۔ ان کے سب ساتھیوں کے علاوہ وہ ظریف و مزاحیہ شاعری ان کی خاص پہچان ہے۔ انہوں نے عظیم پشتو شاعر رحمان بابا کے صوفیانہ کلام کا منظوم ترجمہ اردو زبان میں کیا، جو ”متاعِ فقیر“ کے نام سے چھپ چکا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے ان کی ادبی خدمات پر 2000ء میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا گیا۔

تدریسی مقاصد (کتاب کے مطابق): طلبہ کو رحمان بابا کی شخصیت اور فن سے متعارف کرانا؛ طلبہ کو پشتو ادب کی امتیازی خصوصیات کے بارے میں بتانا؛ طلبہ کو پاکستان کی علاقائی زبانوں میں صوفیانہ افکار سے آگاہ کرنا؛ طلبہ کی اخلاقی تربیت کرنا اور فکرِ رحمان بابا کے آئینے میں اپنے کردار کو سنوارنے کی ترغیب دینا۔

ENGLISH

This lesson introduces two people, and keeping them apart is half the lesson. First, Rahman Baba (1632–1711), the great Pashto Sufi poet. The book describes his poetry as a lesson in self-knowledge and universal human equality: it teaches love for all human beings and love for all creation, and it refuses any compromise with cruelty, injustice, coercion and tyranny. Its dominant note is moral, which is why he is called the Hafiz Shirazi of Pashto poetry.

Second, Professor Muhammad Rath Khan (1931–2013), a many-sided literary figure: a respected teacher, and alongside his professional duties a critic, researcher, poet and translator, as well as a broadcaster. Witty and humorous poetry is his special mark. His verse translation into Urdu of Rahman Baba's Sufi poetry was published under the title “Mata-e-Faqir”. In 2000 the Government of Pakistan awarded him the Presidential Pride of Performance for his literary services.

Teaching objectives (as printed in the book): to introduce students to Rahman Baba's personality and art; to tell them about the distinctive features of Pashto literature; to acquaint them with Sufi thought in Pakistan's regional languages; and to give them moral training, encouraging them to shape their own character in the mirror of Rahman Baba's thought.

Timeline of Rahman Baba and Professor Muhammad Rath Khan
Do shakhsiyaton se samjho: اوپر رحمان بابا ہیں, نیچے ان کے کلام کے Urdu مترجم — دونوں کے نام اور کام الگ الگ یاد رکھو, ورنہ امتحان میں الجھ جاؤ گے.
What the Nazm Is About — Ikhlas, the Central Ideaنظم کس بارے میں ہے — اخلاص، مرکزی خیال
🏷 Tags: Ikhlas, sincerity, theme, Sufi thought, nazm, translation
اردو

اخلاص کا سیدھا مطلب ہے کھرا پن، سچائی اور بے غرضی — کوئی کام صرف اس لیے کرنا کہ وہ درست ہے، نہ اس لیے کہ لوگ دیکھیں یا صلہ ملے۔ یہ نظم اسی ایک لفظ کے گرد گھومتی ہے، اور ہر بند اخلاص کی ایک نئی شان دکھاتا ہے: کبھی اس کا مقام آسمان کے ستاروں کے برابر بتایا جاتا ہے، کبھی اس کی طاقت کہ ایک قدم زمین سے آسمان تک پہنچا دیتا ہے، کبھی اس کی بقا کہ دنیا کی ہر چیز فانی ہے مگر اخلاص باقی رہتا ہے، اور آخر میں اس کا رشتہ اسلام سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

یاد رکھو کہ یہ نظم اصل میں پشتو میں تھی۔ پروفیسر محمد رتھ خاں نے اس کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا ہے، اس لیے ہر شعر کے آخر میں ”اخلاص“ کا لفظ بار بار آتا ہے — یہ تکرار سجاوٹ نہیں، بلکہ شاعر کا طریقہ ہے کہ قاری کے دل میں ایک ہی بات بیٹھ جائے: اخلاص ہی وہ دولت ہے جو نہ گھٹتی ہے، نہ مرتی ہے۔

نظم کے کل چھ بند ہیں، ہر بند دو مصرعوں کا۔ آگے ہم ان سب کو ایک ایک کر کے کھول کر سمجھیں گے، تاکہ کوئی مصرع رٹا ہوا نہ رہے بلکہ سمجھ میں آ جائے۔

ENGLISH

Ikhlas means sincerity in its plainest sense: doing a thing purely, honestly and without selfish motive — doing it because it is right, not because people are watching or a reward is coming. The whole nazm circles round this one word, and each couplet shows a new face of it: its station is set beside the stars, its power carries one step from earth to heaven, its life outlasts everything else in the world, and finally it is joined to Islam itself.

Remember that the poem was originally in Pashto. Professor Rath Khan translated it into Urdu verse, which is why the word “Ikhlas” returns at the end of almost every couplet. That repetition is not decoration; it is the poet's way of planting one idea firmly in the reader's heart: sincerity is the one wealth that neither shrinks nor dies.

The nazm has six couplets, two lines each. We will open them one by one below, so that no line stays a memorised sound — each one should make sense to you.

Starry night sky with a bright cluster of stars
Surayya ke taron se samjho: رات کے آسمان میں سات چمکتے تارے — شعر کہتا ہے, اخلاص کا مقام انہی بلند تاروں کے برابر ہے, نیچے gली-کوچے کی چیز نہیں.
First Two Couplets — A Station as High as the Pleiadesپہلے دو بند — ثریا کے برابر مقام
🏷 Tags: Surayya, hum-dosh, ghulam, farsh, arsh, janbish, gam
اردو

ہم دوشِ ثریا ہے مقامِ اخلاص / جو ملتا ہے، ملتا ہے غلامِ اخلاص — ”ہم دوش“ کا مطلب ہے کندھے سے کندھا ملا ہوا، یعنی برابر۔ ”ثریا“ سات ستاروں کا وہ جھرمٹ ہے جسے لوگ آسمان کی بلندی کی علامت سمجھتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے: اخلاص کا مقام اتنا بلند ہے کہ وہ ثریا کے برابر کھڑا ہے۔ دوسرا مصرع اس سے بھی تیز ہے: جو شخص اخلاص سے ملتا ہے، وہ اس کا غلام ہو جاتا ہے — یعنی اخلاص کی سچائی ایسی گرفت کرتی ہے کہ انسان اس کا اسیر ہو کر رہتا ہے، زبردستی سے نہیں، محبت سے۔

گو فرش سے تا عرش سفر ہے دشوار / طے کرتی ہے یہ ایک جنبشِ گامِ اخلاص — فرش یعنی زمین، عرش یعنی آسمان کی انتہا۔ زمین سے آسمان تک کا سفر سب سے مشکل سفر ہے، مگر اخلاص کا ایک قدم — صرف ایک جنبش، ایک ہلکی سی حرکت — یہ پورا فاصلہ طے کر دیتی ہے۔ مطلب یہ نہیں کہ محنت کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ کہ نیت خالص ہو تو وہ رکاوٹ جو برسوں میں بھی عبور نہ ہو، ایک سچے قدم سے عبور ہو جاتی ہے۔

ENGLISH

“ہم-dosh-e-ثریا ہے مقامِ اخلاص / جو ملتا ہے, ملتا ہے غلامِ اخلاص.” Hum-dosh means shoulder to shoulder, that is, equal in height. Surayya is the Pleiades, the cluster of seven stars people take as a symbol of the sky's height. So the poet says: the station of sincerity stands as high as the Pleiades. The second line is sharper still: whoever meets sincerity becomes its slave — not by force, but because truth grips a person so completely that he willingly belongs to it.

“Go فرش سے تا عرش سفر ہے دشوار / طے کرتی ہے یہ ایک جنبشِ گامِ اخلاص.” Farsh is the earth, arsh the highest heaven. The journey from earth to heaven is the hardest journey of all — yet a single step of sincerity, just one movement, one stirring of the foot, covers the whole distance. The point is not that effort is unnecessary, but that when the intention is pure, a barrier that years could not cross is crossed by one true step.

Diagram of Ikhlas standing as high as the Pleiades
Tarazu se samjho: ایک پلڑے میں ثریا کے تارے, دوسرے میں اخلاص — دونوں برابر. جو چیز اتنی بلند ہو, اسے معمولی سمجھنا ہی سب سے بڑی غلطی ہے.
Next Two Couplets — From Earth to Heaven, and What Lastsاگلے دو بند — زمین سے آسمان تک، اور جو باقی رہتا ہے
🏷 Tags: fani, dawam, Islam, pabandi, rawaj, rasam
اردو

فانی ہے ہر اک چیز، ہر اک رسم و رواج / باقی ہے مگر ایک، دوامِ اخلاص — دنیا کی ہر چیز فانی ہے، یعنی مٹ جانے والی: دولت، شہرت، رسم و رواج، سب وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں۔ مگر ایک چیز باقی رہتی ہے — اخلاص کا دوام، اس کا ہمیشہ رہنا۔ شاعر کا اشارہ یہ ہے کہ جو کام خلوص سے کیا جائے، اس کا اثر انسان کے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے، جبکہ دکھاوے کے کام اپنے کرنے والے کے ساتھ ہی دفن ہو جاتے ہیں۔

اسلام ہے پابندیِ اخلاص کا نام / اور نام ہے اسلام کا نامِ اخلاص — یہ دونوں مصرعے ایک ہی بات کو آگے پیچھے کر کے کہتے ہیں، اور یہی ان کی خوبصورتی ہے۔ اسلام کا مطلب ہی اخلاص کی پابندی ہے — اللہ کے سامنے جھکنا، اور اس جھکنے میں کوئی ملاوٹ نہ ہونا۔ اور پھر پلٹ کر: اسلام کا دوسرا نام ہی اخلاص ہے۔ اگر دین میں خلوص نہ ہو تو صرف رسم رہ جاتی ہے، اور رسم تو پچھلے بند میں فانی بتائی جا چکی ہے۔

ENGLISH

“فنی ہے ہر ایک چیز, ہر ایک رسم و رواج / باقی ہے مگر ایک, دوامِ اخلاص.” Everything in the world is fani, passing away: wealth, fame, customs and rituals all change with time and end. But one thing remains — the dawam, the permanence, of sincerity. The poet's hint is plain: work done with sincerity outlives the worker, while work done for show is buried with the one who did it.

“Islam ہے پابندیِ اخلاص کا نام / اور نام ہے Islam کا نامِ اخلاص.” These two lines say the same thing forwards and backwards, and that is their beauty. Islam is the name of binding oneself to sincerity — bowing before Allah with no mixture in the bowing. And turning it round: the other name of Islam is sincerity itself. If religion has no sincerity in it, only ritual is left — and ritual, as the last couplet said, is passing away.

Glowing steps rising from a village to bright clouds
Seedhiyon se samjho: نیچے گاؤں کی مٹی, اوپر روشن بدل — بیچ میں سیڑھیاں. ہر سیدھی ایک سچا قدم ہے, اور منزل اتنی دور نہیں جتنی پہلے لگتی تھی.
The Hunter Couplet — A Net Spread with Loveصیاد والا بند — محبت سے پھیلایا ہوا دام
🏷 Tags: sayyad, dam, mohabbat, shikar, kamyabi
اردو

صیاد کو ممکن ہے نما ہاتھ لگے / پھیلائے محبت سے جو دامِ اخلاص — صیاد یعنی شکاری، دام یعنی جال۔ عام شکاری جال چھپا کر بچھاتا ہے اور فریب سے شکار پکڑتا ہے، مگر یہاں معاملہ الٹ ہے: جو شخص محبت سے اخلاص کا جال پھیلائے، اسے شکار ہاتھ لگ سکتا ہے — یعنی اسے کامیابی مل سکتی ہے۔ فرق صرف ہتھیار کا ہے: فریب کا جال پکڑتا ہے مگر دل نہیں جیتتا، محبت کا جال دل جیتتا ہے، اور دل جیتنا ہی اصل کامیابی ہے۔

⚠️ نوٹ (سکین کے بارے میں): اس بند کا پہلا مصرع سکین میں کچھ دھندلا ہے — ”نما“ کا لفظ پوری طرح واضح نہیں۔ اس لیے یہاں مصرع کتاب میں چھپی صورت کے قریب ترین پڑھا گیا ہے، اور اس کی تشریح مصرعے کے مجموعی مفہوم (شکاری اور جال) پر مبنی ہے، کسی ایک لفظ کے اندازے پر نہیں۔

ENGLISH

“صیاد کو ممکن ہے نامہ ہاتھ لگے / پھیلائے محبت سے جو dam-e-اخلاص.” Sayyad is a hunter, dam a net. An ordinary hunter hides his net and catches his prey by deceit — but here the matter is reversed: the one who spreads the net of sincerity with love may yet lay hands on his prize, that is, may succeed. The only difference is the weapon: a net of deceit catches but never wins a heart, while a net of love wins the heart — and winning the heart is the real success.

⚠️ Note (about the scan): the first line of this couplet is slightly blurred in the scan — the word “nama” is not fully clear. The line is therefore given here in the form closest to the printed text, and its explanation rests on the couplet's overall sense (hunter and net), not on a guess about a single word.

Diagram showing Islam and Ikhlas as two names of one thing
Do naamon se samjho: ایک دائرہ Islam, دوسرا اخلاص — دونوں کا مرکز ایک ہی ہے. ایک کو نکل دو تو دوسرا کھوکھلا رہ جاتا ہے.
The Closing Couplet — Sweet Speech and Rahman's Wordآخری بند — شیرینیِ گفتار اور گفتۂ رحمان
🏷 Tags: sherini, guftar, gufta, kalaam, maqta, takhallus
اردو

شیرینیِ گفتار پہ حیرت کیسی / ہے گفتۂ رحمان، کلامِ اخلاص — شیرینی یعنی مٹھاس، گفتار یعنی بات چیت۔ لوگ رحمان بابا کی باتوں کی مٹھاس پر حیران ہوتے ہیں — اتنی میٹھی باتیں کہاں سے آتی ہیں؟ شاعر جواب دیتا ہے: حیرت کیسی؟ یہ رحمان کا کہا ہوا کلام ہے، اور یہ کلام ہی اخلاص کا کلام ہے۔ یعنی مٹھاس کی وجہ کوئی بناوٹی فن نہیں، بلکہ دل کا خلوص ہے؛ خلوص سے نکلی ہوئی بات خود بخود میٹھی لگتی ہے۔

یہ نظم کا مقطع بھی ہے، کیونکہ اس میں شاعر کا نام ”رحمان“ آ گیا ہے — پرانی شاعری میں آخری شعر میں اپنا نام لانا روایت تھی۔ اور یہیں نظم کا پورا پیغام سمٹ آتا ہے: اخلاص نہ صرف عمل میں ہونا چاہیے، بلکہ بات میں بھی، کیونکہ بات ہی وہ پہلی چیز ہے جس سے انسان دوسرے کے دل تک پہنچتا ہے۔

ENGLISH

“شیرینی-e-guftar پر حیرت کیسی / ہے گفتہِ رحمان, کلامِ اخلاص.” Sherini is sweetness, guftar speech. People wonder at the sweetness of Rahman Baba's words — where does such sweetness come from? The poet answers: what is there to wonder at? This is Rahman's spoken word, and this word is itself the word of sincerity. The sweetness comes from no artificial art; it comes from a sincere heart, and words that come from a sincere heart sound sweet on their own.

This is also the poem's maqta, its closing couplet, because the poet's own name, “Rahman”, appears in it — it was the old custom to bring one's name into the final couplet. And here the whole message of the nazm gathers itself: sincerity must live not only in deeds but in speech too, because speech is the first thing by which one person reaches another's heart.

A bird flying free above an open net on grass
Khule jaal se samjho: جال بچھا ہے مگر چھپا ہوا نہیں, اور پرندہ آزاد ur رہا ہے. محبت کا جال قید نہیں کرتا — وہ دل جیت کر اپنا بنا لیتا ہے.
Glossary — Difficult Words Made Easyمشکل الفاظ آسان — لغت
🏷 Tags: glossary, hum-dosh, Surayya, arsh, dawam, sayyad, gufta
اردو

ہم دوش — کندھے سے کندھا ملا ہوا، برابر۔ ثریا — سات ستاروں کا جھرمٹ، بلندی کی علامت۔ غلام — اسیر، تابع، کسی کا ہو کر رہنے والا۔ فرش — زمین۔ عرش — آسمان کی انتہا، اللہ کا عرش۔ دشوار — مشکل۔ جنبش — حرکت، ہلنا۔ گام — قدم۔ فانی — مٹ جانے والا۔ رسم و رواج — چلے آتے ہوئے طور طریقے۔ دوام — ہمیشہ رہنا، بقا۔ پابندی — کسی بات پر قائم رہنا۔ صیاد — شکاری۔ دام — جال۔ شیرینی — مٹھاس۔ گفتار — بات چیت، کلام۔ گفتہ — کہا ہوا۔ کلام — شاعری، بات۔

ان الفاظ کو یوں یاد کرو: ہر لفظ کو اس کے مصرعے کے ساتھ جوڑ دو۔ ”ہم دوشِ ثریا“ کہو تو ثریا کے تارے آنکھوں کے سامنے آ جائیں، ”دامِ اخلاص“ کہو تو محبت سے بچھا ہوا جال یاد آ جائے۔ الگ الگ رٹنے سے لفظ بھول جاتا ہے، مصرعے کے ساتھ وہ کہانی بن جاتا ہے۔

ENGLISH

Hum-dosh — shoulder to shoulder, equal. Surayya — the Pleiades, a cluster of seven stars, a symbol of height. Ghulam — a slave, one who belongs wholly to another. Farsh — the earth. Arsh — the highest heaven. Dushwar — difficult. Janbish — movement, a stirring. Gam — a step. Fani — passing away. Rasm-o-rawaj — customs and conventions. Dawam — permanence, lastingness. Pabandi — holding fast to something. Sayyad — a hunter. Dam — a net. Sherini — sweetness. Guftar — speech. Gufta — spoken, said. Kalam — poetry, discourse.

Learn these words by tying each one to its line: say “hum-dosh-e-Surayya” and the stars should come before your eyes; say “dam-e-Ikhlas” and the net spread with love should come to mind. A word memorised alone is forgotten; a word tied to its line becomes a story.

Word web of the difficult words of the nazm
الفاظ کے جال سے سمجھو: ہر لفظ اکیلا نہیں — سب ایک ہی دھاگے سے بندھے ہیں, اور وہ دھاگہ اخلاص ہے. جو لفظ بھولے, اس کا مصرعہ یاد کرو.
📝 Official Exercise Questions — with Answers📝 کتابی مشق کے سوالات — جوابات کے ساتھ
🏷 Tags: official exercise, مختصر جواب, مصرعے مکمل, MCQ, خلاصہ, مرکبات

The book's exercise (printed pages 114–115) has these parts: 1 — Mukhtasar jawab dijiye (5); 2 — نظم کے متن کے مطابق مصرعے مکمل کیجیے (5); 3 — Durust jawab ki nishandahi kijiye — MCQs (5); 4 — Punjab ke kisi buzurg Sufi shair ka taaruf (activity); 5 — صیاد والے شعر کی روشنی میں اخلاص کی وضاحت (1); 6 — نظم “اخلاص” کا خلاصہ (1); 7 — مرکبات کے معانی اور جملوں میں استعمال (1). Every item اس answered below — 19 blocks ان total. تھے two coloured boxes at تھے end of تھے printed exercise (students activity and teachers guidance) are also given.

1 (الف) نظم “اخلاص” میں انسانی کردار کے کس آلہ وصف کا ذکر کیا گیا ہے?

اخلاص کا — خلوصِ نیت, بے-غرض سچائی کا. پوری نظم اسی ایک وصف کی تعریف ہے: اس کا بلند مقام, اس کی طاقت, اس کا دوام, اور Islam سے اس کا رشتہ.

1 (ب) “ہم-dosh-e-ثریا” کا مطلب و مفہوم کیا ہے?

ہم-dosh کا مطلب ہے کاندھے سے کندھا ملا ہوا, یعنی برابر. ثریا سات ستاروں کا جھرمٹ ہے جو بلندی کی علامت ہے. مفہوم یہ ہے کہ اخلاص کا مقام اتنا بلند ہے کہ وہ آسمان کے بلند ترین ستاروں کے برابر کھڑا ہے — یہ کوئی معمولی خوبی نہیں, سب سے اونچی خوبی ہے.

1 (ج) اخلاص کا ایک قدم انسان کو کس مقام اور مرتبے تک پہنچا دیتا ہے?

فرش سے عرش تک — زمین سے آسمان کی بلندی تک. شعر کہتا ہے کہ یہ سفر چاہے کتنا ہی دشوار ہو, اخلاص کا ایک قدم (ایک جنبشِ گام) اسے طے کر دیتا ہے, یعنی خالص نیت انسان کو آلہ ترین مرتبے تک پہنچا دیتی ہے.

1 (د) شعر نے صیاد کو کس کامیابی کی نوید سنائی ہے?

یہ کے جو شخص محبت سے اخلاص کا جال پھیلائے, اسے شکار ہاتھ lag سکتا ہے — یعنی use کامیابی مل سکتی ہے. فریب سے نہیں, محبت اور خلوص سے دل جیتے جاتے ہیں, اور دل جیتنا ہی اصل کامیابی ہے.

1 (ہ) “گفتہِ رحمان” کا مطلب کیا ہے?

رحمان بابا کا کہا ہوا کلام. آخری بند میں شعر اپنے نام کے ساتھ کہتا ہے کہ اس کی باتوں کی شیرینی کی وجہ یہ ہے کہ یہ کلام خلوص سے نکلا ہے — یہی گفتہِ رحمان ہے, اور یہی کلامِ اخلاص ہے.

2 (الف) مصرعہ مکمل کیجیے: “Go فرش سے تا عرش ______ ہے دشوار”

مکمل مصرعہ: Go فرش سے تا عرش سفر ہے دشوار — خالی جگہ میں “سفر” آئے گا.

2 (ب) مصرعہ مکمل کیجیے: “طے کرتی ہے ______ گامِ اخلاص”

مکمل مصرعہ: طے کرتی ہے یہ ایک جنبشِ گامِ اخلاص — خالی جگہ میں “یہ ایک جنبش-e” آئے گا.

2 (ج) مصرعہ مکمل کیجیے: “Islam ہے پابندی ______ کا نام”

مکمل مصرعہ: Islam ہے پابندیِ اخلاص کا نام — خالی جگہ میں “اخلاص” آئے گا.

2 (د) مصرعہ مکمل کیجیے: “اور نام ہے ______ کا نامِ اخلاص”

مکمل مصرعہ: اور نام ہے Islam کا نامِ اخلاص — خالی جگہ میں “Islam” آئے گا.

2 (ہ) مصرعہ مکمل کیجیے: “صیاد کو ممکن ہے ______ ہاتھ لگے”

مکمل مصرعہ (کتاب میں چھاپی صورت کے مطابق): صیاد کو ممکن ہے نامہ ہاتھ لگے — خالی جگہ میں “نامہ” آئے گا. ⚠️ Scan میں یہ لفظ dhandhla ہے; اگر آپ کی کتاب میں یہ لفظ مختلف چھپا ہو تو اپنی کتاب والی صورت کو ترجیح دیں.

3 (i) نظم “اخلاص” ترجمہ کی گئی ہے:

Durust jawab: Pashto zaban se

3 (ii) ہر کوئی غلام ہے:

Durust jawab: Ikhlas ka

3 (iii) دنیا میں دوام حاصل ہے:

Durust jawab: Ikhlas ko

3 (iv) پابندیِ اخلاص نام ہے:

Durust jawab: Islam ka

3 (v) اس نظم کی بیت / ہیئت ہے:

Durust jawab: Ghazal — ⚠️ WARNING (derived, flag کیا جا رہا ہے): scan میں اس سوال کا لفظ (“ہیئت” یا “بیت”) پوری طرح واضح نہیں, اور کتاب اس تخلیق کو “نظم” کہتی ہے. اس لیے یہ جواب نظم کی بناوٹ سے اخذ کیا گیا ہے, کتاب کے کسی واضح بیان سے نہیں: پہلا بند مطلع کی طرح ہے (دونوں مصرعے ایک ہی ردیف پر) اور آخری بند مقطع کی طرح ہے (اس میں شعر کا تخلص “رحمان” آتا ہے) — یہ غزل کی پہچان ہے. اگر آپ کے teacher نے اسے کسی اور sinf میں بتایا ہو تو teacher کا جواب ترجیح رکھتا ہے; سوال کو امتحان میں اپنی class کی تعلیم کے مطابق حل کریں.

4. Pakistan کی علاقائی زبانوں میں صوفیانہ کلام کا بڑا ذخیرہ موجود ہے — Punjab کے کسی بزرگ صوفی شعر کے چاند اشعار کے حوالے سے ان کا تعارف کرائیں. (Activity)

یہ سوال کوئی ایک جواب نہیں مانگتا, یہ ایک کام (activity) ہے. اس کا طریقہ یہ ہے: Punjab کے کسی بزرگ صوفی شعر — مثلاً بابا Bulleh شاہ یا Sultan Bahu — کا نام chuniye, ان کی زندگی کے بارے میں دو-تین satrein لکھیے (dour, ilaqa, paigham), پھر ان کے دو-تین اشعار نقل کیجیے اور ہر شعر کا ایک جملے میں مفہوم لکھیے. آخر میں ایک جملہ یہ لکھیے کے ان کا پیغام رحمان بابا کے پیغام سے کس بات میں ملتا ہے — مثلاً انسان سے محبت اور خلوص. ⚠️ Note: کتاب اس حصے میں کسی مخصوص شعر کا نام نہیں لیتی; اوپر دیے گئے نام صرف مثال کے توڑ پر ہیں, کتاب کے جواب کے توڑ پر نہیں.

5. درج ذیل شعر کی روشنی میں اخلاص کی وضاحت کیجیے: “صیاد کو ممکن ہے نامہ ہاتھ لگے / پھیلائے محبت سے جو dam-e-اخلاص”

اس شعر میں اخلاص کو ایک جال سے تشبیہ دی گئی ہے, مگر فریب والے جال سے نہیں. عام شکاری چھپ کر جال bichhata ہے; یہاں شکاری محبت سے جال bichhata ہے. وضاحت یہ ہے کہ اخلاص کا مطلب صرف سچ بولنا نہیں, بلکہ محبت کے ساتھ سچ پر قائم رہنا ہے — جو شخص لوگوں سے محبت اور خلوص سے پیش آتا ہے, وہ ان کے دل جیت لیتا ہے, اور دل جیتنا ہی اس شعر میں “ہاتھ لگنا” (kamyabi) ہے.

6. نظم “اخلاص” کا خلاصہ تحریر کیجیے.

خلاصہ: رحمان بابا کی اس نظم (Urdu ترجمہ: Professor محمد Rath Khan) کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اخلاص انسانی کردار کی سب سے آلہ خوبی ہے. اس کا مقام ثریا کے ستاروں کے برابر بلند ہے اور جو اس سے ملتا ہے وہ اس کا غلام بن جاتا ہے. زمین سے آسمان تک کا مشکل سفر اخلاص کا ایک قدم طے کر دیتا ہے. دنیا کی ہر چیز اور ہر رسم فنی ہے, مگر اخلاص کو دوام حاصل ہے. Islam دراصل پابندیِ اخلاص کا نام ہے اور Islam کا دوسرا نام اخلاص ہے. جو محبت سے اخلاص کا جال پھیلائے use کامیابی مل سکتی ہے, اور رحمان بابا کی باتوں کی شیرینی کی وجہ یہی ہے کہ ان کا کلام خلوص سے نکلا ہوا کلام ہے.

7. نظم “اخلاص” میں استعمال ہونے والے مرکبات کے معانی لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے.

⚠️ Note: کتاب اس حصے میں مرکبات کی کوئی الگ فہرست نہیں دیتی; اس لیے نیچے نظم کے متن سے لیے گئے اہم مرکبات دیے جا رہے ہیں (derived selection, کتاب کی فہرست نہیں). Hum-dosh-e-Surayya (sitaron ke barabar) — “Us ki mehnat ka maqam hum-dosh-e-Surayya tha.” Ghulam-e-Ikhlas (khuloos ka asir) — “وہ غلامِ اخلاص تھا, اس لیے کوئی لالچ use خرید نہ سکا.” Janbish-e-gam (qadam ki harkat) — “Sirf aik janbish-e-gam ne use manzil tak pahuncha diya.” Dawam-e-Ikhlas (khuloos ki baqa) — “دوامِ اخلاص ہی انسان کو زندہ رکھتا ہے.” Pabandi-e-Ikhlas (خلوص پر قائم رہنا) — “پابندیِ اخلاص کے بغیر عبادت رسم بن جاتی ہے.” Dam-e-Ikhlas (khuloos ka jaal) — “اس نے محبت سے dam-e-اخلاص پھیلایا اور سب کے دل جیت لیے.” Gufta-e-Rahman (رحمان کا کہا ہوا) — “گفتہِ رحمان میں محبت اور خلوص کی خوشبو ہے.” Kalam-e-Ikhlas (khuloos ka kalaam) — “کلامِ اخلاص دلوں کو نرم کر دیتا ہے.”

✏️ سرگرمی برائے طلبہ (Students activity — کتاب کے مطابق)

Talaba nazm “Ikhlas” ke qawafi ki pehchan karte hue un ki fehrist tarteeb dein — یعنی ہر بند کے آخری الفاظ دیکھ کر بتائیں کے کون سے الفاظ ہم-قافیہ ہیں اور “اخلاص” کس طرح ردیف کے توڑ پر bar bar آ رہا ہے.

👩‍🏫 ہدایت برائے asatza (Teachers guidance — کتاب کے مطابق)

Talaba ko is nazm ke posheeda paigham se roshnaas karayein aur Sufiana afkar ke haamil chand Urdu shora se mutaarif karayein, تاکہ طلبہ سمجھ سکیں کے خلوص کا پیغام صرف ایک زبان یا ایک شعر تک محدود نہیں.

Diagram of the 19 exercise blocks
Exercise ko samjho: 19 blocks — 5 مختصر, 5 مصرعے, 5 MCQ, اور 4 تفصیلی کام. جو block چھوت جائے, وہی امتحان میں پوچھا جاتا ہے, اس لیے سب کو ایک دفعہ خود لکھ کر دیکھو.
📌 باب کا خلاصہ اور رہنمائی — اس باب میں کیا ہے؟
🏷 Tags: summary, revision, Rahman Baba, Ikhlas, official exercise, guidance
اردو

اس باب میں آپ نے رحمان بابا اور ان کے مترجم پروفیسر محمد رتھ خاں کا تعارف پڑھا، پھر نظم ”اخلاص“ کے چھ بندوں کی تشریح سمجھی: اخلاص کا ثریا کے برابر مقام، زمین سے آسمان تک کا ایک قدم، فانی دنیا میں اخلاص کا دوام، اسلام اور اخلاص کا دوہرا رشتہ، محبت سے پھیلایا ہوا دام، اور آخر میں گفتۂ رحمان کی شیرینی۔ اس کے بعد مشکل الفاظ کی لغت اور کتابی مشق کے تمام 19 سوالات کے جوابات آئے۔

موضوعات کی فہرست:

نظرثانی کی رہنمائی: پہلے نظم زبانی پڑھو، پھر ہر بند کی تشریح اپنے الفاظ میں سناؤ۔ مشکل الفاظ کے جملے خود بناؤ، اور آخر میں مشق کے 19 بلاک بغیر دیکھے لکھو۔ صیاد والے مصرعے کی دھندلی عبارت اور MCQ (v) کی وارننگ کو دوبارہ پڑھنا نہ بھولو — یہی دو جگہیں ہیں جہاں جلد بازی میں نمبر کٹتے ہیں۔

ENGLISH

In this chapter you met Rahman Baba and his translator Professor Muhammad Rath Khan, then worked through all six couplets of “Ikhlas”: sincerity's station beside the Pleiades, its single step from earth to heaven, its permanence in a passing world, its two-way bond with Islam, the net spread with love, and finally the sweetness of Rahman's word. Then came the glossary and all 19 official exercise answers.

How to revise: first read the nazm aloud, then explain each couplet in your own words. Make your own sentences with the difficult words, and finally write out all 19 exercise blocks without looking. Re-read the two flagged spots — the blurred hunter line and the MCQ (v) warning — because those are exactly the places where careless marks are lost.

Four revision steps for this chapter
Revision ko samjho: پہلے نظم, پھر تشریح, پھر الفاظ, پھر exercise — اسی ترتیب میں دہراؤ, الٹا نہیں. آخر میں دو warnings پھر سے پڑھ لو.

🎯 مزید MCQs اور Tests کے لیے

Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:

PunjabTest.com — Tests →

PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 16 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu

← Chapter 15Chapter 17 →