FSc Part 1 Urdu Chapter 17 Complete Guide Book — Khara Dinner

FSc Part 1 Urdu Chapter 17 — Khara Dinner
Home > PunjabTest.com > FSc Part 1 > Urdu — all chapters > Chapter 17: Khara Dinner

اس chapter میں topics (Topics in this chapter)

  1. The Poet — Syed Muhammad Jafari
  2. What Is a Khara Dinner? The Central Idea
  3. First Band — Tashreeh
  4. Second Band — Tashreeh
  5. Third Band — Tashreeh
  6. Fourth Band — Tashreeh
  7. Difficult Words and Ra'ayat-e-Lafzi
  8. 📝 Official Exercise — Solved
  9. 📌 Chapter Summary & Guidance
The Poet — Syed Muhammad Jafari (1905–1976)شاعر — سید محمد جعفری (۱۹۰۵ء تا ۱۹۷۶ء)
🏷 Tags: Syed Muhammad Jafari, humour, Tanz-o-Mazah, Shohi Tahrir, Teer-e-Nimkash
اردو

طنز و مزاح کی شاعری میں سید محمد جعفری کا نام بہت نمایاں ہے۔ وہ بھرت پور (ہندوستان) کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کی تعلیم کے زیادہ مراحل لاہور میں طے ہوئے، اور ان کے والد سید محمد علی جعفری اسلامک کالج، ریلوے روڈ، لاہور سے وابستہ تھے۔ جعفری صاحب تاریخ و فلسفہ کے عالم تھے، صحافت سے بھی ان کا تعلق رہا، اور قیامِ پاکستان کے بعد وہ پاکستان آ گئے جہاں محکمہ اطلاعات سے وابستہ رہے اور ۱۹۶۷ء میں ریٹائر ہوئے۔

ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ معاشرے کی خرابیوں پر ہنستے بھی ہیں اور سوچنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔ ان کے یہاں مزاح کا مطلب محض ہنسی نہیں، بلکہ شگفتگی اور لطافت ہے — یعنی بات ہلکی پھلکی لگے مگر اس کے پیچھے ایک سنجیدہ سچائی چھپی ہو۔ ان کے شعری مجموعے ”شوخیِ تحریر“ اور ”تیرِ نیم کش“ ہیں، اور ان کے انتقال کے بعد ان کا تمام کلام ”کلیاتِ سید محمد جعفری“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

”کھرا ڈنر“ ان کی اسی طنزیہ نظم کا نام ہے جس میں انہوں نے ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ کے موقعوں پر کھڑے ہو کر کھانا کھانے کے نظام — اور مغرب کی دیکھا دیکھی اپنائی گئی رسموں — پر لطیف طنز کیا ہے۔

English

Syed Muhammad Jafari (1905–1976) is one of Urdu's best-known humour poets. Born into a scholarly family in Bharatpur (India) and largely educated in Lahore, he was a scholar of history and philosophy, worked in journalism, and after Partition served in Pakistan's Information Department until his retirement in 1967.

His humour is never empty laughter. It is gentle, graceful wit with a serious truth hiding behind it: he laughs at society's faults in a way that also makes the reader think. His collections are Shohi Tahrir and Teer-e-Nimkash, and his complete works were published after his death as Kulliyat-e-Syed Muhammad Jafari.

Khara Dinner is his satirical poem about the standing-dinner culture at weddings — and about copying Western customs without thinking.

A quill and an open book — the poet's tools
Shair ko samjho: جعفری صرف ہنساتے نہیں — ان کی ہنسی کے پیچھے ایک سچ چھپا ہوتا ہے. اس نظم میں بھی ہنسی کے پیچھے ایک سوال ہے: کیا ہم نے کھانا کھانے کی تہذیب کو دکھاوا بنا دیا ہے?
What Is a Khara Dinner? The Central Ideaکھرا ڈنر کیا ہے؟ نظم کا مرکزی خیال
🏷 Tags: Khara Dinner, standing dinner, wedding customs, Western imitation, satire
اردو

کھرا ڈنر وہ دعوت ہے جس میں مہمانوں کے بیٹھنے کا انتظام نہیں ہوتا — سب کھڑے کھڑے، پلیٹ ہاتھ میں پکڑ کر کھانا کھاتے ہیں۔ شاعر کے نزدیک یہ مغرب کی نقل ہے: ہم نے اپنی بیٹھ کر، سکون سے کھانے کی تہذیب چھوڑ کر ایک ایسی رسم اپنا لی ہے جس میں نہ کھانے کا لطف ہے، نہ مہمان نوازی کی عزت۔

نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کھڑے ڈنر میں غریب پردیسی (غریب الدیار) اور بنے ٹھنے لوگ سب ایک جیسے بے حال نظر آتے ہیں — کوئی پلیٹ سنبھال رہا ہے، کوئی کھانا لپیٹ رہا ہے، کوئی خالی میز کو دیکھ رہا ہے۔ شاعر اس منظر کو مبالغے اور ہلکی پھلکی طنز کے ساتھ دکھاتا ہے تاکہ پڑھنے والا پہلے ہنسے، پھر سوچے کہ کیا یہ رسم واقعی مہمان نوازی کہلانے کی حقدار ہے؟

تدریسی مقاصد (کتاب کے مطابق): طلبہ کو مزاحیہ ادب، بالخصوص مزاحیہ شاعری کے بارے میں آگاہ کرنا؛ سید محمد جعفری کے مزاحیہ کلام کا جائزہ لینا؛ نظم ”کھرا ڈنر“ میں پیش کردہ منظر کی وضاحت کرنا؛ اور طلبہ کو بتانا کہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نے ہمارے رنگ ڈھنگ، نشست و برخاست اور اطعام و اکرام کو کیسے متاثر کیا ہے۔

English

A khara dinner is a standing dinner: there are no seats, and guests eat standing up, plates in hand. The poet treats it as a blind copy of the West — we gave up our own calm, seated way of eating and adopted a custom that has neither the pleasure of food nor the honour of hospitality.

The central idea is the comedy of that scene: poor travellers far from home and well-dressed guests all look equally helpless — one is guarding his plate, another is wrapping food away, another is staring at an empty table. The poet exaggerates gently so the reader laughs first and then asks: does this custom really deserve to be called hospitality?

Teaching objectives (from the book): to introduce students to humorous literature, especially humorous poetry; to review Jafari's humorous verse; to explain the scene presented in Khara Dinner; and to show how blind imitation of Western culture has changed our manners, our sitting and standing, and our hospitality.

Guests standing around a long buffet table at a dinner party
Scene ko samjho: کوئی کرسی نہیں, سب کھرے ہیں — اسی ایک فرق سے پوری نظم کی comedy پیداکرنے ہوتی ہے. جب بیٹھنا ہی نہ ہو تو کھانا بھی دور بن جاتا ہے, اور تہذیب بھی تماشا.
First Band — Tashreehپہلا بند — تشریح
🏷 Tags: First band, Ghareeb-ul-Diyar, fauji parade, first aid, tashreeh
اردو

شعر: کھرا ڈنر ہے غریب الدیار کھاتے ہیں / بنے ہوئے ششتر بے بہار کھاتے ہیں / اور اپنی میز پر ہو کر سوار کھاتے ہیں / کچھ ایسی شان سے جیسے ادھار کھاتے ہیں / شکم غریب کی یوں فرسٹ ایڈ ہوتی ہے / ڈنر کے سامنے میں فوجی پریڈ ہوتی ہے

تشریح: شاعر کہتا ہے کہ کھرا ڈنر دراصل پردیسی غریبوں کا کھانا ہے — جو لوگ اپنے گھر سے دور ہیں، وہی اس طرح کھڑے ہو کر کھاتے ہیں۔ پھر وہ بنے ٹھنے، سجے دھجے مگر بے رونق لوگوں کا ذکر کرتا ہے جو اپنی ہی میز پر یوں سوار ہو جاتے ہیں جیسے کھانا نہیں، کوئی قرض وصول کر رہے ہوں — ایسی شان سے کھاتے ہیں جیسے یہ کھانا ادھار کا ہو اور جلدی جلدی ختم کرنا ہو۔

آخری دو مصرعوں میں طنز اپنے عروج پر ہے: غریب کے پیٹ کی یہ ”فرسٹ ایڈ“ ہو رہی ہے — یعنی کھانا علاج کی طرح جلدی جلدی ٹھونسا جا رہا ہے — اور ڈنر کے سامنے کھڑے لوگوں کی قطار ایسی لگتی ہے جیسے فوجی پریڈ ہو رہی ہو۔ یہاں مبالغہ ہی مزاح پیدا کرتا ہے: کھانا کھانے والوں کو فوجیوں سے تشبیہ دے کر شاعر نے پورے منظر کو مضحکہ خیز بنا دیا ہے۔

English

Verses: The standing dinner is eaten by poor travellers far from home; by dressed-up but dull-looking people; people climb onto their own tables and eat with such grandeur as if eating on credit. The poor stomach gets its 'first aid' this way, and before the dinner there is a military parade.

Explanation: The poet opens with a joke that is also a judgment: this dinner belongs to homeless strangers, not to honoured guests. The well-dressed guests look just as desperate — eating as if they must finish a loan quickly. Then comes the masterstroke of exaggeration: food shoved in like emergency first aid, and a queue of standing guests compared to a military parade. The comparison is the comedy: an ordinary dinner turned into a drill.

Key words: Ghareeb-ul-Diyar — a poor person far from home; udhaar — on credit; shikam — stomach; first aid — emergency treatment, used here as a joke.

A dinner plate with no chairs around it
Band ko samjho: پہلا بند صرف منظر نہیں بناتا — وہ فیصلہ بھی سناتا ہے: یہ دعوت مہمان-نوازی نہیں, ایک parade ہے. فوج کی مثال پڑھ کر ہنسنا, پھر رک کر سوچنا.
Second Band — Tashreehدوسرا بند — تشریح
🏷 Tags: Second band, koftay, plate, fatiha, tazmeen, tashreeh
اردو

شعر: کھڑے ہیں میز کنارے جو ایک پیٹ لیے / (ایک صاحب نے) کوفتے اپنے لیے لپیٹ لیے / ادھر ادھر کے جو کھانے تھے سب سمیٹ لیے / کھڑا تھا پیچھے سو میں نے گیا پلیٹ لیے / یہ میز ہو گئی خالی اب اور کیا ہو گا / ”پلاؤ کھا گئیں گے احباب فاتحہ ہو گا“

تشریح: اب منظر اور قریب آ جاتا ہے۔ ایک صاحب میز کے کنارے کھڑے ہیں، پیٹ بھرنے کی فکر میں ہیں؛ کوئی کوفتے لپیٹ کر اپنے لیے رکھ لیتا ہے؛ کوئی ادھر ادھر کا سب کھانا سمیٹ لیتا ہے۔ شاعر خود بھی اس دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے اور خالی پلیٹ لیے کھڑا رہتا ہے — یہاں شاعر نے خود کو بھی طنز سے باہر نہیں رکھا، بلکہ اپنی بے بسی کو بھی ہنسی کا حصہ بنا دیا ہے۔

آخری مصرع واوین میں ہے، یعنی یہ تضمین ہے — کسی دوسرے شاعر کا مصرع اپنے کلام میں شامل کرنا۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اب میز خالی ہو چکی ہے، تو دوست پلاؤ کھا کر (میزبان کی) فاتحہ پڑھیں گے — گویا میزبان اس خرچے کے بعد مر ہی گیا ہو! یہ ایک تیز مگر لطیف طنز ہے: دعوت کا انجام یہ ہوا کہ کھانا ختم اور میزبان کی خیر خبر بھی ختم۔

⚠️ نوٹ: اسکین میں کوفتے والی سطر کا ایک لفظ واضح نہیں ہے، اس لیے اس صفحے پر اس مصرعے کا صرف مفہوم دیا گیا ہے، لفظ بہ لفظ نقل نہیں کی گئی۔

English

Verses: People stand at the table's edge with one stomach to fill; someone wraps the koftas for himself; someone gathers up all the food from here and there; the poet himself is left behind, holding an empty plate. The table is now empty — what else will happen? 'Friends will eat the pulao and then read the fatiha.'

Explanation: The camera moves closer: this is now a race, not a meal. Everyone is grabbing and wrapping. The poet includes himself in the joke — he too is left standing with a plate, which makes the satire warmer and fairer. The last quoted line is a tazmeen (a borrowed line woven into one's own poem): after eating the pulao, the friends will read the fatiha, as if the host had died of the expense. The dinner ends not with thanks, but with an empty table.

⚠️ Note: one word of the kofta line is unclear in the scan, so only its meaning is given here, not a word-for-word quotation.

An almost empty buffet table with one guest holding an empty plate
Band ko samjho: دوسرا بند دور ہے — جو تیز, وہ کامیاب; جو پیچھے, وہ خالی plate کے ساتھ. اور آخری مصرعہ پوری دعوت کا انجام ایک جملے میں سنا دیتا ہے.
Third Band — Tashreehتیسرا بند — تشریح
🏷 Tags: Third band, murgh ki tang, Raqeeb, kabab, dhaga, Haqeeqat, Afsanay
اردو

شعر: تھی ایک مرغ کی ٹانگ اور رقیب لے بھاگا / مرا نصیب بھی جاگا، پہ دیر میں جاگا / کباب اٹھایا تو اس میں لپیٹ گیا دھاگا / ڈنر یہ کیا کہ نہ پیچھا ہے جس کا نے آگا / یہ کیا خبر تھی میں آیا تھا جب ڈنر کھانے / ”حقیقتوں کو سنبھالے ہوئے ہیں افسانے“

تشریح: اس بند میں قسمت کی ستم ظریفی ہے۔ مرغ کی اکلوتی ٹانگ تھی اور وہ بھی رقیب (مقابل) لے بھاگا — یعنی شاعر کی قسمت اس وقت جاگی جب دیر ہو چکی تھی۔ پھر کباب اٹھایا تو اس میں دھاگا لپٹا ہوا نکلا — کھانے کی چیز بھی پوری نہ ملی۔ ”ڈنر یہ کیا کہ نہ پیچھا ہے جس کا نے آگا“ کا مطلب ہے کہ اس ڈنر میں نہ کوئی ترتیب ہے، نہ کوئی سرا — سب کچھ بے ترتیبی کا شکار ہے۔

آخری مصرع بھی واوین میں ہے، یعنی تضمین ہے: شاعر کہتا ہے کہ مجھے کیا خبر تھی کہ میں ڈنر کھانے آیا تھا مگر یہاں تو حقیقتیں افسانے اٹھائے ہوئے ہیں — یعنی یہاں سچائی بھی کہانی بن گئی ہے، ہر چیز دکھاوا اور فسانہ ہے۔ یہ بند نظم کے طنز کو گہرا کر دیتا ہے: پہلے ہنسی تھی، اب حیرت اور افسوس بھی شامل ہو گیا ہے۔

English

Verses: There was one chicken leg, and the rival ran off with it. My fortune woke up too, but woke up late. I picked up a kabab and a thread was wrapped around it. What kind of dinner is this, with neither a beginning nor an end? Who knew, when I came to eat this dinner, that 'realities are carrying tales on their shoulders'?

Explanation: This band is about bad luck played for laughs: the single chicken leg goes to the rival, fortune wakes too late, even the kabab comes with a thread in it. The line about 'neither a front nor a back' paints a dinner with no order at all. The closing quoted line (a tazmeen) lifts the joke into something deeper: here even reality has become a story — everything is show and pretence. The laughter now carries a touch of regret.

Key words: Raqeeb — a rival; naseeb — fortune; haqeeqat — reality; afsanay — tales, stories.

A kabab on a plate with a thread wrapped around it
Band ko samjho: تیسرا بند قسمت کا مذاق ہے — تنگ گئی, کباب میں دھاگہ نکلا, اور آخر میں پتہ چلا کے یہاں سچ بھی کہانی بن چکا ہے.
Fourth Band — Tashreehچوتھا بند — تشریح
🏷 Tags: Fourth band, Khawateen, Saf-Aara, Guftugu, Kam-Nigahi, Shaheed-e-Sitam
اردو

شعر: وہ ایک میز خواتین گروہ صف آرا / لبوں سے ان کے رواں گفت گو کا فوارہ / میں ایک گوشے میں سہما کھڑا ہوں بے چارہ / کہ یہ نہیں تو اٹھاؤں میں نان کا پارہ / امیر حلقہ خوباں جو مرغ و ماہی ہیں / تو ہم شہیدِ ستم ہائے کم نگاہی ہیں

تشریح: آخری بند میں منظر بدلتا ہے: ایک میز پر خواتین کا گروہ صف باندھے کھڑا ہے اور ان کے لبوں سے گفتگو کا فوارہ جاری ہے — یعنی باتیں اس قدر رواں ہیں کہ فوارے کی طرح بہہ رہی ہیں۔ اس کے مقابلے میں شاعر ایک گوشے میں سہما ہوا کھڑا ہے، بے چارہ، اور سوچ رہا ہے کہ اگر یہ بھی نہ ملا تو روٹی کا ایک ٹکڑا ہی اٹھا لوں۔

آخری دو مصرعوں میں طنز اپنے سب سے لطیف اور کاٹ دار روپ میں آتا ہے: امیر لوگ، جو خوبصورتوں کی محفل میں مرغ و ماہی (مرغ اور مچھلی) کھا رہے ہیں، ان کے مقابلے میں ہم جیسے لوگ ”شہیدِ ستم ہائے کم نگاہی“ ہیں — یعنی ہماری کم نصیبی اور لوگوں کی بے قدری کے ستم کا شکار ہیں۔ شاعر نے اپنی محرومی کو شہادت کا درجہ دے کر مزاح کو ایک سنجیدہ شکوے میں بدل دیا ہے، اور نظم اسی کڑوی مسکراہٹ پر ختم ہوتی ہے۔

English

Verses: At one table a group of ladies stands in a row, and a fountain of conversation flows from their lips. In a corner stands the poet, timid and helpless, thinking: if not this, then let me at least pick up a piece of bread. The rich, who enjoy chicken and fish in the circle of the beautiful, are on one side — and we are the martyrs of the cruelty of being overlooked.

Explanation: The final band contrasts two worlds at the same party: the ladies' table, buzzing with a fountain of talk, and the poet alone in a corner, hoping for even a piece of bread. The closing lines turn personal loss into a grand joke — the poet calls himself a 'martyr of low regard', giving his small hunger the language of great sacrifice. The poem ends on that bitter smile: laughter that has quietly become a complaint.

Key words: Saf-Aara — arranged in a row; guftugu ka fawwara — a fountain of conversation; kam-nigahi — being overlooked, not valued; shaheed-e-sitam — a martyr of cruelty (used here as a joke).

A group of women chatting at a party table while a man stands alone in a corner
Band ko samjho: آخری بند میں دو دنیا آمنے سامنے ہیں — ایک طرف گفتگو کا فوارہ, دوسری طرف کونے میں کھڑا شعر. اور شعر اپنی بھوک کو شہادت کہہ کر پوری نظم کا سب سے بڑا مذاق اڑا دیتا ہے.
Difficult Words and Ra'ayat-e-Lafziمشکل الفاظ اور رعایتِ لفظی
🏷 Tags: Glossary, Raayat-e-Lafzi, Akbar Allahabadi, Muhawra, Mutazad
اردو

مشکل الفاظ: غریب الدیار — وطن سے دور پردیسی غریب؛ ششتر بے بہار — بنے ٹھنے مگر بے رونق لوگ (یہ لفظ نادر ہے، اس کا مفہوم سیاق و سباق سے لیا گیا ہے)؛ رقیب — مقابل، مدِ مقابل؛ حقیقت — سچائی، اصل بات؛ صف آرا — قطار میں سجے ہوئے، صف باندھے ہوئے؛ کم نگاہی — کسی کی قدر نہ پہچاننا، بے قدری؛ شکم — پیٹ؛ نصیب — قسمت؛ فوارہ — پانی کا چشمہ، یہاں باتوں کی روانی کی تشبیہ۔

رعایتِ لفظی کیا ہے؟ عبارت یا شعر میں کسی لفظ کو اس طریقے سے استعمال کرنا کہ پڑھنے یا سننے والے کو اس لفظ کے دو مختلف مطلب و مفہوم کا احساس ہو اور اس سے مزاح کا تاثر بھی پیدا ہو، رعایتِ لفظی کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر اکبر الہ آبادی نے کہا ہے: ”عاشقی کا ہو برا اس نے بگاڑے سارے کام / ہم تو اے بی میں رہے اختیار بی اے ہو گئے“ — یہاں ”بی اے“ سے مراد ڈگری بھی ہے اور محبوبہ کا نام بھی، اسی دوہرے مفہوم سے مزاح پیدا ہوا ہے۔

اردو اور پنجابی کے ممتاز مزاحیہ شاعر انور مسعود نے اپنے بہت سے قطعوں میں رعایتِ لفظی سے خوب کام لیا ہے۔ اس کی ایک مشہور مثال وہ قطعہ ہے جو ہمارے موجودہ حالات سے مطابقت بھی رکھتا ہے: ”جو ضرب بھی لگی ہے وہ پہلے سے بڑھ کے تھی / ہر ضرب کرب ناک پہ میں بلبلا اٹھا / پانی کا، سوئی گیس کا، بجلی کا، فون کا / بل اتنے آگے کہ میں بلبلا اٹھا“ — یہاں ”بل“ سے مراد بجلی وغیرہ کا بل بھی ہے اور بلبلا اٹھنا (چیخنا) بھی، اور اسی مناسبت سے پورا قطعہ بنتا ہے۔

قواعد کی جھلک: ”ادھار کھانا“ محاورہ ہے؛ ”آگے، پیچھے“ متضاد الفاظ ہیں؛ اور ”ڈنر کے سامنے میں فوجی پریڈ ہوتی ہے“ نظم کا اپنا مصرع ہے جو پہلے بند کی طنزیہ تشبیہ کو ظاہر کرتا ہے۔

English

Glossary: Ghareeb-ul-Diyar — a poor traveller far from home; Shashtar-e-be-bahar — dressed-up but dull, charmless people (a rare word; its meaning here is taken from context); Raqeeb — a rival; Haqeeqat — reality, truth; Saf-Aara — arranged in a row; Kam-Nigahi — being overlooked, not valued; Shikam — stomach; Naseeb — fortune; Fawwara — a fountain, used here for flowing talk.

What is Ra'ayat-e-Lafzi? It is using a word in a verse or sentence in such a way that the reader feels two different meanings of the same word, and that double meaning creates humour. Akbar Allahabadi's famous example plays on 'B.A.' — both a degree and the beloved's name. Anwar Masood's well-known stanza plays on 'bill' — the utility bill and 'bilbila uthna' (to cry out) — building a whole joke on words that belong to one family of meaning.

Grammar notes: 'udhaar khana' (eating on credit) is a muhawra (idiom); 'aagay, peechay' are mutazad (opposite) words; and the 'fauji parade' line is the poem's own comic comparison from the first band.

Four word tiles with difficult words from the poem
الفاظ کو سمجھو: ہر مشکل لفظ کا مطلب پہلے سمجھو, پھر مصرعہ پڑھو — جب لفظ کھل جائے تو مذاق خود کھل جاتا ہے. رعایاتِ لفظی کا اصول بھی یہی ہے: ایک لفظ, دو مطلب, اور ہنسی اسی دہرا pan سے.
📝 Official Exercise — Solved (Book pp. 118–119)📝 مشق — حل شدہ (کتاب صفحہ ۱۱۸ تا ۱۱۹)

Every question of تھے printed exercise اس answered below — 25 blocks ان total: short answers (5), correct-choice MCQs (5), a detailed question (1), words with sentences (6), fill-ان-تھے-blanks (5), تشریح of a بند (1), خلاصہ (1), and ردیف/قوافی (1). تھے book's Ra'آیتہِ لفظی note (p. 119) اس explained ان Section 7 above, and تھے two coloured boxes at تھے end of تھے printed exercise (students' activity: find humorous poems of other poets, e.g. Dilaawar Figar and سید ضمیر جعفری, from تھے library اور internet and present them ان class; teachers' guidance: introduce students تو جعفری's personality and humorous poetry ان detail, and explain Ra'آیتہِ لفظی with prose and verse examples) are also given here ان short.

1 — Mukhtasar Jawab Dein (Short Answers)

1 (الف) ”کھرا ڈنر“ کون کھاتے ہیں؟

غریب الدیار کھاتے ہیں — یعنی وہ پردیسی غریب لوگ جو اپنے وطن اور گھر سے دور ہیں اور جن کے لیے بیٹھ کر کھانے کا اہتمام نہیں ہوتا۔ نظم کا پہلا مصرع یہی ہے: ”کھرا ڈنر ہے غریب الدیار کھاتے ہیں“۔

1 (ب) ”پلاؤ کھا گئیں گے احباب، فاتحہ ہو گا“ کس شاعر کے کلام سے تضمین کی گئی ہے؟

⚠️ انتباہ: یہ مصرع نظم میں واوین میں تضمین کے طور پر آیا ہے، لیکن سبق کے صفحات ۱۱۶ تا ۱۱۹ میں اس کے اصل شاعر کا نام درج نہیں ہے۔ اس لیے اس صفحے پر کوئی نام گھڑ کر نہیں لکھا جا رہا — طالب علم اپنے استاد سے اس کی تصدیق کر لے۔ تضمین کا مطلب یہ ہے کہ شاعر نے کسی دوسرے شاعر کا مصرع اپنے کلام میں شامل کر لیا ہے۔

1 (ج) مرغ کی ٹانگ کون لے بھاگا؟

رقیب لے بھاگا۔ نظم میں ہے: ”تھی ایک مرغ کی ٹانگ اور رقیب لے بھاگا“ — یعنی مرغ کی اکلوتی ٹانگ شاعر کے مقابل کے ہاتھ لگ گئی اور شاعر کی قسمت دیر سے جاگی۔

1 (د) ”ششتر بے بہار“ سے کیا مراد ہے؟

بنے ٹھنے مگر بے رونق لوگ — یعنی وہ مہمان جو سج دھج کے ساتھ آئے ہیں مگر ان میں کوئی بہار، کوئی رونق نہیں۔ یہ مفہوم سیاق و سباق سے لیا گیا ہے، کیونکہ ”ششتر“ ایک نادر لفظ ہے اور نظم میں یہ ”بنے ہوئے“ لوگوں کے لیے آیا ہے۔

1 (ہ) گفت گو کا فوارہ کن کے لبوں سے رواں تھا؟

خواتین کے لبوں سے۔ نظم میں ہے: ”وہ ایک میز خواتین گروہ صف آرا / لبوں سے ان کے رواں گفت گو کا فوارہ“ — یعنی خواتین کی محفل میں باتیں فوارے کی طرح رواں تھیں۔

2 — درست جواب کی نشان-دہی کریں (Correct-Choice MCQs)

2 (i) ”ادھار کھانا“ اردو قواعد کی رو سے ہے:

Durust jawab: محاورہ — کیونکہ یہ الفاظ اپنے لفظی معنی سے ہٹ کر ایک خاص مفہوم (قرض پر کھانا) دیتے ہیں، جو محاورے کی پہچان ہے۔

2 (ii) فوجی پریڈ ہوتی ہے:

Durust jawab: ڈنر کے سامنے میں — نظم کا مصرع ہے: ”ڈنر کے سامنے میں فوجی پریڈ ہوتی ہے“، یعنی کھڑے مہمانوں کی قطار فوجی پریڈ جیسی لگتی ہے۔

2 (iii) مرغ کی ٹانگ لے بھاگا:

Durust jawab: رقیب — نظم میں ہے: ”تھی ایک مرغ کی ٹانگ اور رقیب لے بھاگا“۔

2 (iv) ”آگے، پیچھے“ اردو قواعد کی رو سے ہیں:

Durust jawab: متضاد الفاظ — کیونکہ آگے اور پیچھے ایک دوسرے کی ضد ہیں، یعنی مخالف سمتوں کے نام ہیں۔

2 (v) ”حقیقتوں کو سنبھالے ہوئے ہیں افسانے“ کے شاعر کا نام ہے:

⚠️ انتباہ — سوال میں خرابی: یہ مصرع نظم میں واوین میں تضمین کے طور پر آیا ہے، اور سبق کے صفحات ۱۱۶ تا ۱۱۹ میں اس تضمین کے اصل شاعر کا نام درج نہیں ہے۔ دیے گئے چاروں ناموں میں سے کسی کی بھی سبق کی روشنی میں تصدیق نہیں ہوتی، اس لیے اس صفحے پر کسی بھی آپشن کو درست قرار دے کر نشان زد نہیں کیا گیا ہے۔ طالب علم اس سوال کا جواب اپنے استاد سے تصدیق کر کے لکھے۔

3 — تفصیلی سوال

3 — نظم ”کھرا ڈنر“ میں شاعر نے کس طرح مزاحیہ کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے؟

شاعر نے مزاحیہ کیفیت کئی طریقوں سے پیدا کی ہے۔ پہلا، مبالغہ: کھڑے مہمانوں کی قطار کو فوجی پریڈ کہنا اور جلدی جلدی کھانے کو پیٹ کی ”فرسٹ ایڈ“ کہنا مبالغہ ہے جو فوراً ہنساتا ہے۔ دوسرا، تضاد: ایک طرف بنے ٹھنے مہمانوں کی شان، دوسری طرف ان کی بے حالی — ادھار کھانے والوں جیسی جلدی — یہ تضاد ہی مزاح ہے۔ تیسرا، منظر کشی: کوفتے لپیٹنا، سب کھانا سمیٹ لینا، خالی پلیٹ لیے کھڑا رہنا، کباب میں دھاگا نکلنا، مرغ کی ٹانگ کا رقیب لے بھاگنا — یہ سب چھوٹے چھوٹے منظر قاری کے سامنے ایک فلم کی طرح چلتے ہیں۔ چوتھا، تضمین: ”پلاؤ کھا گئیں گے احباب فاتحہ ہو گا“ اور ”حقیقتوں کو سنبھالے ہوئے ہیں افسانے“ جیسے مصرعے دوسرے کلام سے لا کر نظم میں لگانا مزاح کو تیز کرتا ہے۔ پانچواں، خود پر طنز: شاعر خود کو بھی نہیں بخشتا — وہ خود خالی پلیٹ لیے کھڑا ہے اور آخر میں خود کو ”شہیدِ ستم ہائے کم نگاہی“ کہتا ہے۔ یہی خود پر ہنسنا نظم کے مزاح کو لطیف اور بے ضرر بنا دیتا ہے، اور اس کے پیچھے ایک سنجیدہ پیغام بھی ہے: مغرب کی اندھی نقل نے ہماری مہمان نوازی کو تماشا بنا دیا ہے۔

4 — الفاظ-o-Tarakeeb کے Ma'انی اور جملوں میں استعمال

4 — غریب الدیار: معانی اور جملہ

معنی: وطن سے دور پردیسی غریب۔ جملہ: غریب الدیار مسافر نے اسٹیشن پر بیٹھ کر سوکھی روٹی کھائی۔

4 — ششتر: معانی اور جملہ

معنی: بنے ٹھنے مگر بے رونق لوگ (مفہوم سیاق و سباق سے لیا گیا ہے، کیونکہ یہ لفظ نادر ہے)۔ جملہ: محفل میں کچھ ششتر بے بہار مہمان صرف دکھاوے کے لیے آئے تھے۔

4 — رقیب: معانی اور جملہ

معنی: مقابل، مدِ مقابل، عشق میں حریف۔ جملہ: مرغ کی ٹانگ رقیب لے بھاگا اور شاعر حسرت سے دیکھتا رہ گیا۔

4 — حقیقت: معانی اور جملہ

معنی: سچائی، اصل بات، وہ بات جو واقعی ہو۔ جملہ: اس ڈنر کی حقیقت یہ تھی کہ کھانا ختم ہو چکا تھا اور میز خالی تھی۔

4 — صف آرا: معانی اور جملہ

معنی: قطار میں سجے ہوئے، صف باندھے ہوئے۔ جملہ: خواتین کا گروہ میز پر صف آرا کھڑا گفتگو میں مصروف تھا۔

4 — کم نگاہی: معانی اور جملہ

معنی: کسی کی قدر نہ پہچاننا، بے قدری، نظر انداز کرنا۔ جملہ: شاعر نے اپنی محرومی کو کم نگاہی کا ستم کہہ کر طنز کا نشانہ بنایا۔

5 — نظم کے متن کے مطابق مصرعے مکمل کریں

5 (الف) کھرا ڈنر ہے ______ کھاتے ہیں

کھرا ڈنر ہے غریب الدیار کھاتے ہیں۔

5 (ب) ______ غریب کی یوں فرسٹ ایڈ ہوتی ہے

شکم غریب کی یوں فرسٹ ایڈ ہوتی ہے۔

5 (ج) کھڑے ہیں میز ______ جو ایک پیٹ لیے

کھڑے ہیں میز کنارے جو ایک پیٹ لیے۔

5 (د) کباب اٹھایا تو اس میں ______ گیا دھاگا

کباب اٹھایا تو اس میں لپیٹ گیا دھاگا۔

5 (ہ) ______ کو سنبھالے ہوئے ہیں افسانے

حقیقتوں کو سنبھالے ہوئے ہیں افسانے۔

6 — Tashreeh

6 — نظم ”کھرا ڈنر“ کے درج ذیل بند کی تشریح کریں: کھرا ڈنر ہے غریب الدیار کھاتے ہیں / بنے ہوئے ششتر بے بہار کھاتے ہیں / اور اپنی میز پر ہو کر سوار کھاتے ہیں / کچھ ایسی شان سے جیسے ادھار کھاتے ہیں / شکم غریب کی یوں فرسٹ ایڈ ہوتی ہے / ڈنر کے سامنے میں فوجی پریڈ ہوتی ہے

اس بند میں شاعر کھڑے ڈنر کا پورا منظر ایک جھلک میں دکھاتا ہے۔ پہلے وہ بتاتا ہے کہ یہ کھانا دراصل پردیسی غریبوں کا ہے، پھر بنے ٹھنے مگر بے رونق لوگوں کا ذکر کرتا ہے جو اپنی ہی میز پر سوار ہو کر ایسی شان سے کھاتے ہیں جیسے کھانا ادھار کا ہو۔ یہاں طنز دوہرا ہے: ایک طرف مہمانوں کی بے حالی، دوسری طرف ان کی بناوٹی شان۔ آخری دو مصرعوں میں شاعر مبالغے کی انتہا کر دیتا ہے — غریب کے پیٹ کی ”فرسٹ ایڈ“ ہو رہی ہے اور ڈنر کے سامنے ”فوجی پریڈ“ ہو رہی ہے۔ یہ تشبیہیں قاری کو ہنساتی ہیں، لیکن ساتھ ہی ایک سوال بھی چھوڑ جاتی ہیں: کیا یہی ہماری مہمان نوازی رہ گئی ہے؟ یہی اس بند کی تشریح کا خلاصہ ہے — ہنسی کے پردے میں معاشرے کی ایک رسم پر تنقید۔

7 — خلاصہ

7 — نظم ”کھرا ڈنر“ کا خلاصہ لکھیں

سید محمد جعفری کی نظم ”کھرا ڈنر“ مغرب کی نقل میں اپنائی گئی کھڑے ہو کر کھانا کھانے کی رسم پر طنز ہے۔ نظم میں شاعر ایک شادی کے ڈنر کا منظر دکھاتا ہے جہاں کوئی بیٹھنے کی جگہ نہیں: پردیسی غریب اور بنے ٹھنے مہمان سب کھڑے کھڑے کھانا کھاتے ہیں، کوئی اپنی میز پر سوار ہے، کوئی ادھار کھانے والوں جیسی جلدی میں ہے، اور کھڑے لوگوں کی قطار فوجی پریڈ لگتی ہے۔ پھر دوڑ شروع ہوتی ہے — کوئی کوفتے لپیٹ لیتا ہے، کوئی سب کھانا سمیٹ لیتا ہے، شاعر خود خالی پلیٹ لیے رہ جاتا ہے، اور آخر میں میز خالی ہو جاتی ہے تو تضمین کا مصرع آتا ہے کہ اب دوست پلاؤ کھا کر فاتحہ پڑھیں گے۔ تیسرے بند میں شاعر کی قسمت کا رونا ہے: مرغ کی اکلوتی ٹانگ رقیب لے بھاگا، کباب میں دھاگا نکل آیا، اور اس ڈنر کا نہ کوئی سرا ہے نہ انجام — یہاں سچائی بھی افسانہ بن گئی ہے۔ آخری بند میں ایک میز پر خواتین کی محفل گفتگو کے فوارے میں مصروف ہے اور شاعر ایک گوشے میں سہما کھڑا روٹی کے ٹکڑے کی امید میں ہے، اور نظم اس کڑوی مسکراہٹ پر ختم ہوتی ہے کہ امیر لوگ مرغ و ماہی کھا رہے ہیں اور ہم کم نگاہی کے ستم کے شہید ہیں۔ خلاصہ یہ کہ یہ نظم ہنساتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اندھی تقلید نے ہماری تہذیب اور مہمان نوازی کو کیا سے کیا بنا دیا ہے۔

8 — Radeef aur Qawafi (Pehle Do Band)

8 — شاملِ نصاب نظم ”کھرا ڈنر“ چار بندوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے پہلے دو بندوں کی ردیف کیا ہے؟ قوافی کی فہرست بھی مرتب کریں

⚠️ نوٹ: کتاب میں بندوں کی حد بندی چھپی ہوئی نہیں ہے، اس لیے یہ جواب نظم کی ترتیب سے اخذ کیا گیا ہے۔ پہلا بند (ابتدائی چھ مصرعے): پہلے چار مصرعوں کی ردیف ”کھاتے ہیں“ ہے اور قوافی یہ ہیں: الدیار، بہار، سوار، ادھار۔ اس کے بعد کے دو مصرعوں کی ردیف ”ہوتی ہے“ ہے اور قوافی یہ ہیں: ایڈ، پریڈ۔ دوسرا بند (اگلے مصرعے تا ”فاتحہ ہو گا“): درمیانی مصرعوں کی ردیف ”لیے“ ہے اور قوافی یہ ہیں: پیٹ، لیپیٹ، سمیٹ، پلیٹ۔ آخری دو مصرعوں کی ردیف ”ہو گا“ ہے اور قوافی یہ ہیں: کیا، فاتحہ۔ یعنی پہلے دو بندوں میں ایک ہی ردیف آخر تک نہیں چلتی، بلکہ ہر حصے کی اپنی ردیف اور اپنے قوافی ہیں — اور یہی اس نظم کی فنی خصوصیت ہے جسے طالب علم کو امتحان میں اسی وضاحت کے ساتھ لکھنا چاہیے۔

📌 باب کا خلاصہ و رہنمائی — اس باب میں کیا ہے؟
اردو

اس باب میں آپ نے سید محمد جعفری (۱۹۰۵ء تا ۱۹۷۶ء) کا تعارف پڑھا، کھرا ڈنر کی رسم کو سمجھا، اور نظم کے چاروں بندوں کی الگ الگ تشریح کی — پہلا بند منظر اور فوجی پریڈ کی تشبیہ، دوسرا بند کھانے کی دوڑ اور خالی میز، تیسرا بند مرغ کی ٹانگ اور کباب کا دھاگا، چوتھا بند خواتین کی محفل اور گوشے میں کھڑا شاعر۔ ساتھ ہی مشکل الفاظ، رعایتِ لفظی، اور مشق کے تمام ۲۵ سوالات حل کیے۔

دہرائی کی رہنمائی: پہلے نظم کے چار بند زبانی پڑھیں، پھر ہر بند کی تشریح اپنے الفاظ میں سنائیں، پھر مشکل الفاظ کے جملے خود بنائیں، اور آخر میں مشق کے مختصر جوابات اور درست جواب والے سوالات کی مشق کریں۔ ⚠️ دو انتباہات ضرور یاد رکھیں: تضمین والے دو مصرعوں کے اصل شعرا کے نام سبق میں درج نہیں ہیں، اور پہلے دو بندوں کی ردیف ایک نہیں بلکہ حصوں میں بدلتی ہے — امتحان میں یہی وضاحت لکھیں، کوئی نام یا ردیف گھڑ کر نہ لکھیں۔

English

In this chapter you met Syed Muhammad Jafari (1905–1976), understood what a standing dinner is, and worked through all four bands of the poem — the parade-like first scene, the race for food and the empty table, the chicken leg and the threaded kabab, and the ladies' table versus the poet in the corner — plus difficult words, Ra'ayat-e-Lafzi, and all 25 exercise items solved.

Revision guidance: read the four bands aloud first, retell each band's tashreeh in your own words, make your own sentences with the difficult words, and finish by practising the short answers and the correct-choice questions. ⚠️ Remember the two warnings: the poets of the two tazmeen lines are not named in the lesson, and the radeef of the first two bands changes by section — write that explanation in the exam, never an invented name or radeef.

🎯 مزید MCQs اور Tests کے لیے

Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:

PunjabTest.com — Tests →

PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 17 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu

← Chapter 16Chapter 18 →