
اس غزل کا تعارف، اصل متن اور سرکاری مشق (کتاب کے صفحات 125 تا 129) دستیاب نسخے میں موجود نہیں تھے، اس لیے اس صفحے میں صرف وہ مواد شامل ہے جس کی تصدیق ہو سکی ہے — فہرست سے سبق کا عنوان اور شاعر کا نام، اور فرہنگ کے الفاظ (صفحات 143 تا 148) — اور اس کے ساتھ SLO طرز کے مطالعاتی سوالات۔ یہ سوالات کتاب کی سرکاری مشق نہیں ہیں؛ سرکاری مشق کے لیے اصل کتاب کا متن ضرور دیکھیں۔ دستیاب نسخے میں صفحہ 120 کے بعد سیدھا فرہنگ (صفحہ 143) آ جاتا ہے، یعنی کتاب کے صفحات 121 تا 142 اس نسخے سے غائب ہیں۔
Important notice: This ghazal's introduction, text, and official exercise (book pp. 125–129) were missing from the available copy, so this page contains only verified material — the title and poet name from the fehrist (contents), and the Farhang words (pp. 143–148) — plus clearly-labelled SLO-style study questions. These questions are NOT the book's official exercise; please consult the original book text for the official exercise. In the available copy, the scan jumps from printed p. 120 straight to the Farhang at p. 143, so printed pp. 121–142 are absent from that copy.
سبق 19 کا عنوان «غزل» ہے اور کتاب کی فہرست کے مطابق اس کے شاعر فراق گورکھپوری ہیں۔ فہرست میں یہ سبق صفحہ 126 پر درج ہے۔ یہی دو باتیں — عنوان اور شاعر کا نام — اس سبق کے بارے میں وہ واحد معلومات ہیں جن کی تصدیق دستیاب نسخے سے ہو سکی ہے۔
ایک بات صاف کہہ دینا ضروری ہے: اس صفحے میں شاعر کی سوانح عمری نہیں دی جا رہی، کیونکہ سبق کا تعارف (جو عام طور پر متن سے پہلے آتا ہے) دستیاب نسخے میں موجود ہی نہیں تھا۔ جو بات دیکھی نہیں گئی، اسے لکھ دینا درست نہیں ہو گا — اس لیے یہاں کوئی سوانح، کوئی خلاصہ اور غزل کا کوئی شعر گھڑ کر نہیں لکھا گیا۔
غزل کے بارے میں صرف یہ عمومی بات کہی جا سکتی ہے، جو اس سبق کی نہیں بلکہ غزل کی صنف کی پہچان ہے: غزل اشعار پر مشتمل ہوتی ہے، اس کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے، اور آخری شعر میں اکثر شاعر اپنا تخلص لاتا ہے جسے مقطع کہتے ہیں۔ جب اصل متن ملے گا، تو پہلا کام یہی ہو گا کہ مطلع اور مقطع پہچانے جائیں، اور ہر شعر کو الگ الگ سمجھا جائے — کیونکہ غزل کا ہر شعر اپنے موضوع میں مکمل ہوتا ہے۔
Lesson 19 is titled Ghazal, and according to the book's fehrist (contents) its poet is Firaq Gorakhpuri. The fehrist lists this lesson at page 126. These two facts — the title and the poet's name — are the only information about this lesson that could be verified from the available copy.
One thing must be said plainly: no poet biography is given on this page, because the lesson's introduction (which normally comes before the text) was not in the available copy at all. Writing what one has not seen would not be honest — so no biography, no summary and no verse has been invented here.
Only this general point about the ghazal as a form can be made — it is about the genre, not about this particular ghazal: a ghazal is made of couplets (ash'aar), its first couplet is called the matla, and its last couplet often carries the poet's pen-name (takhallus) and is called the maqta. When the original text becomes available, the first job will be to identify the matla and the maqta, and to understand each couplet on its own — because every couplet of a ghazal stands complete in its own theme.
کتاب کے آخر میں دی گئی فرہنگ (صفحات 143 تا 148) میں سبق 19 «غزل: فراق گورکھپوری» کے لیے سات الفاظ درج ہیں۔ یہی سات الفاظ، انہی معانی کے ساتھ، اس صفحے پر دیے جا رہے ہیں — نہ کوئی لفظ بڑھایا گیا ہے، نہ کوئی معنی گھڑا گیا ہے۔ یاد کرنے کا پکا طریقہ وہی ہے: پہلے لفظ، پھر معنی، پھر اپنا جملہ۔
| لفظ | معنی (فرہنگ کے مطابق) |
|---|---|
| انہوں کا | اس طرح کے لوگوں کا |
| ترکِ محبت | محبت سے کنارہ کشی کرنا |
| جلوہ گر | محبوب کے نظارے اور دیدار کا مقام |
| رخش | ناراضی، کدورت |
| سودا | جنون |
| شکیبا | برداشت کرنے والا، صبر کرنے والا |
| یگانہ | سچا دوست، قریبی ساتھی |
📌 ایک چھوٹی سی احتیاط: «سودا» یہاں خرید و فروخت کا سودا نہیں، بلکہ جنون کے معنی میں ہے؛ اور «شکیبا» صبر کرنے والے کو کہتے ہیں، جلد باز کو نہیں۔ امتحان میں اکثر اسی فرق پر سوال بنتا ہے۔
The book's Farhang (pp. 143–148) lists seven words for Lesson 19, Ghazal: Firaq Gorakhpuri. Those same seven words, with the same meanings, are given here — nothing added, no meaning invented. The surest way to learn them is the same three-step habit: first the word, then the meaning, then your own sentence.
| Word | Meaning (as in the Farhang) |
|---|---|
| Inhon ka | Of people of this kind |
| Tark-e-mohabbat | Turning away from love; giving up love |
| Jalwa-gar | The place of the beloved's sight and vision |
| Rakhsh | Displeasure, resentment |
| Sauda | Madness, obsession |
| Shakiiba | One who endures; a patient person |
| Yagana | A true friend, a close companion |
📌 A small caution: sauda here does not mean a bargain or a deal — it means obsession; and shakiiba means a patient person, not a hasty one. Exams often test exactly that difference.
نیچے دیے گئے سوالات کتاب کی سرکاری مشق نہیں ہیں۔ یہ SLO طرز کے مطالعاتی سوالات ہیں — یعنی غزل کی صنف اور اس سبق کی فرہنگ سے جڑے عمومی موضوعات پر سوالات، جن کی تیاری سے آپ اس سبق کے لیے تیار رہیں گے، جب اصل متن مل جائے گا۔ ان کے جوابات بھی مطالعاتی رہنمائی ہیں، کتاب کے جوابات نہیں، اور ان میں اس غزل کے کسی شعر کی تشریح کا دعویٰ نہیں کیا گیا — کیونکہ وہ اشعار دستیاب ہی نہیں تھے۔ اصل متن (صفحات 125 تا 129) ملتے ہی سرکاری مشق ضرور حل کریں۔
The questions below are NOT the book's official exercise. They are SLO-style study questions — general questions on the ghazal form and on this lesson's Farhang, so that you stay prepared for it until the original text becomes available. Their answers are study guidance, not book answers, and they make no claim to explain any couplet of this ghazal — because those couplets were not available. As soon as you get the original text (pp. 125–129), do the official exercise as well.
غزل ash'آرپار پر مشتمل ہوتی ہے — ہر شعر دو مصرعوں کا ہوتا ہے. پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے, جس کے دونوں مصرعے ہم-قافیہ ہوتے ہیں. آخری شعر اکثر مقطع ہوتا ہے, جس میں شاعر اپنا تخلص لاتا ہے. یہ غزل کی عام شکل ہے, اس lesson کی غزل کے بڑے میں کوئی دوا نہیں — جب متن ملے تو پہلے یہ دیکھو کے اس غزل کا مطلع کون سا ہے اور مقطع میں تخلص کس طرح آیا ہے.
ترکِ محبت کا مطلب محبت سے کنارہ-کشی کرنا ہے — محبت کو چھور دینا. جلوہ-گر فرہنگ کے مطابق محبوب کے نظارے اور دیدار کا مقام ہے. مثالی جملے (اپنے لفظوں میں لکھنا بہتر ہے): “اس نے دکھ سے ترکِ محبت کر لی, مگر دل سے یاد نہ گئی.” / “شام کے وقت دریا کا کنارہ جلوہ-گر تھا, ہر چیز روشن نظر آ رہی تھی.” Note کرو: پہلا لفظ ایک فیصلے یا عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے, دوسرا ایک منظر یا جگہ کی طرف.
سودا کا مطلب جنون ہے — کسی چیز کا ایسا شوق یا دیوانگی جو سر پر سوار ہو جائے. Shakiiba کا مطلب برداشت کرنے والا, صبر کرنے والا ہے. فرق یہ ہے کہ سودا جذبے کی شدت بتاتا ہے, جب کے shakiiba جذبے پر قابو اور برداشت بتاتا ہے — ایک آگ ہے, دوسرا آگ کو سہنا. مثالی جملے: “اس پر علم کا سودا سوار تھا, وہ رات دن کتابوں میں ڈوبا رہتا تھا.” / “مشکل وقت میں وہ shakiiba رہا, نہ گھبرایا نہ شکوہ کیا.”
انہوں کا کا مطلب اس طرح کے لوگوں کا ہے — جن لوگوں کی طرف پہلے اشارہ ہو چکا ہو. یگانہ کا مطلب سچا دوست, قریبی ساتھی ہے. مثالی جملے: “انہوں کا انداز ہی نرالا تھا, وہ ہر کام اپنے طریقے سے کرتے تھے.” / “مشکل میں صرف یگانہ ہی کام آیا, باقی سب دور ہو گئے.” Note کرو: انہوں کا ایک اشارے والا لفظ ہے, جب کے یگانہ ایک رشتے کا نام ہے.
رخش کا مطلب ناراضگی, کدورت ہے — دل میں بیٹھی ہوئی نہ-خوشی یا رنجش. ایسے لفظ غزل پڑھنے میں اس لیے مدد کرتے ہیں کہ وہ شعر کے لہجے اور مزاج کی طرف اشارہ کرتے ہیں: شعر خوش ہے, اداس ہے, یا ناراض ہے — یہ اکثر ایک ہی لفظ سے ظاہر ہو جاتا ہے. یہ ایک عام وضاحت ہے, اس غزل کے کسی شعر کا دوا نہیں. جب متن ملے تو یہ دیکھو کے رخش کس جملے میں آیا ہے اور اس سے شعر کا لہجہ کیا بنتا ہے.
پہلی مرتبہ غزل کو پوری, آرام سے پڑھو اور مشکل لفظ نشان-زد کرو. دوسری مرتبہ ہر شعر کو الگ الگ پڑھو — کیوں کے غزل کا ہر شعر اپنے موضوع میں مکمل ہوتا ہے, اس لیے ایک شعر کا مطلب دوسرے پر زبردستی مت تھوپو. تیسری مرتبہ مطلع اور مقطع پہچانو, قافیہ اور ردیف note کرو, اور فرہنگ کے سات لفظ متن میں ڈھونڈو کے وہ کس شعر میں آئے ہیں. آخر میں ہر شعر کی تشریح اپنے لفظوں میں لکھو, پھر book کی official exercise حل کرو.
تشریح میں پہلے شعر کا لفظی مطلب سیدھے لفظوں میں لکھو, پھر اس کا گہرا مطلب — شاعر کیا کہنا چاہتا ہے — اپنے لفظوں میں سمجھاؤ. مشکل لفظ کے معانی فرہنگ سے لو, اپنی طرف سے نیا مطلب مت گڑھو. اگر شعر میں کوئی اشارہ یا علامت ہو تو اسے نام دو, مگر یہ بھی بتاؤ کے یہ تمہاری سمجھ ہے, book کا چھپا ہوا جواب نہیں. اور سب سے اہم: جو شعر تم نے پڑھا ہی نہیں, اس کی تشریح کبھی مت لکھو — اندازے سے تشریح غلط جواب سے بھی بری ہوتی ہے.
ابھی یہ کرو: فرہنگ کے سات لفظ پکے کرو, غزل کی شکل (مطلع, مقطع, قافیہ, ردیف) سمجھو, اور اوپر والے SLO سوالوں کے جواب اپنے لفظوں میں لکھ کر دیکھو. Book ملتے ہی یہ کرو: pp. 125–129 پر غزل کو S6 والی ترتیب سے پڑھو, ہر شعر کی تشریح اپنے لفظوں میں لکھو, اور book کی official exercise حل کر کے اپنے جواب متن سے ملاؤ. یہ ترتیب اس لیے ہے کہ پہلے لفظ اور شکل, پھر متن, پھر سوال — الٹ ترتیب سے صرف رٹا لگتا ہے, سمجھ نہیں آتی.
اس صفحے میں آپ نے صرف وہی کچھ پڑھا ہے جس کی تصدیق ہو سکی ہے: سبق کا عنوان «غزل» اور شاعر کا نام فراق گورکھپوری (فہرست سے)، غزل کی صنف کی عمومی پہچان، اور فرہنگ کے سات الفاظ (صفحات 143 تا 148)۔ سبق کا تعارف، اصل متن (صفحات 125 تا 129) اور اس کی سرکاری مشق اس صفحے میں شامل نہیں، کیونکہ وہ دستیاب نسخے میں موجود ہی نہیں تھے — اور جو چیز دیکھی نہیں گئی، اسے گھڑ کر لکھنا دیانت کے خلاف ہوتا۔
آگے کی رہنمائی: پہلے فرہنگ کے سات الفاظ پکے کرو، پھر SLO سوالات کے جواب اپنے لفظوں میں لکھ کر دیکھو، اور جیسے ہی اصل کتاب کا متن ملے، صفحات 125 تا 129 پڑھ کر سرکاری مشق حل کرو۔ اس وقت اس صفحے پر واپس آ کر دیکھنا کہ تمہارے SLO جوابات اصل متن سے کتنے ملتے ہیں — یہی موازنہ تمہاری اصل تیاری ہے۔
On this page you have read only what could be verified: the lesson's title, Ghazal, and the poet's name, Firaq Gorakhpuri (from the fehrist), a general introduction to the ghazal form, and the seven Farhang words (pp. 143–148). The lesson's introduction, original text (pp. 125–129) and its official exercise are not on this page, because they were simply not in the available copy — and writing what one has not seen would be dishonest.
What to do next: first master the seven Farhang words, then write the SLO-question answers in your own words, and as soon as the original book text becomes available, read pp. 125–129 and solve the official exercise. Then come back to this page and compare your SLO answers with the real text — that comparison is your real preparation.
Revision guidance: یاد رکھو — عنوان غزل, شاعر Firaq Gorakhpuri, فہرست page 126, متن pp. 125–129 missing (scan gap pp. 121–142); فرہنگ: انہوں کا, ترکِ محبت, جلوہ-گر, رخش, سودا, shakiiba, یگانہ. اور سب سے اہم: official exercise کے لیے book کے pp. 125–129 ضرور پڑھو.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 19 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu