
⚠️ اہم نوٹ: اس سبق کی غزل کا تعارف، مکمل متن اور سرکاری مشق کتاب کے دستیاب نسخے میں موجود نہیں تھے (کتاب کے صفحات 139 تا 142 اس نقل سے غائب ہیں)۔ اس لیے اس صفحے میں صرف وہ مواد دیا گیا ہے جو کتاب سے تصدیق شدہ ہے — فہرست سے سبق کا نام اور شاعر کا نام، اور فرہنگ کے مشکل الفاظ — اور اس کے ساتھ SLO طرز کے مطالعاتی سوالات۔ یہ سوالات کتاب کی سرکاری مشق نہیں ہیں؛ سرکاری مشق کے لیے کتاب کا اصل متن دیکھیں۔
Important note: this ghazal's introduction, full text and official exercise were missing from the available copy of the book (book pp. 139–142 are absent from that copy). This page therefore contains only verified material — the lesson title and poet's name from the book's contents list (fehrist) and the Farhang difficult words — plus clearly labelled SLO-style study questions. These questions are NOT the book's official exercise; consult the original book text for the official exercise.
یہ کتاب کا آخری سبق ہے — سبق 22۔ کتاب کا نام سرمایہ اردو 11 ہے (PECTAA، NCP 2022)۔ فہرست کے مطابق اس سبق کا شاعر پروین شاکر ہیں اور یہ سبق کتاب کے صفحہ 140 پر درج ہے۔
ایک بات صاف صاف سمجھ لیں: اس سبق کا تعارف، غزل کا متن اور سرکاری مشق دستیاب نسخے میں نہیں ملے، اس لیے اس صفحے پر شاعر کی سوانح یا غزل کا خلاصہ نہیں دیا گیا۔ جو کچھ تصدیق شدہ ہے، وہی اس صفحے پر ہے — نام، فہرست کا اندراج اور فرہنگ کے الفاظ۔ جو بات تصدیق شدہ نہیں، اسے اندازے سے نہیں لکھا گیا۔
This is the last lesson of the book — Lesson 22. The book is Sarmaya-e-Urdu 11 (PECTAA, NCP 2022). According to the contents list, the poet of this lesson is Parveen Shakir and the lesson is listed on book page 140.
One thing must be clear from the start: the lesson's introduction, ghazal text and official exercise were not found in the available copy, so this page gives no poet biography and no summary of the ghazal. Only what is verified appears here — the name, the contents-list entry and the Farhang words. Nothing has been filled in by guesswork.
کتاب کی فہرست (حصہ نظم) میں سبق 22 کے سامنے شاعر کا نام پروین شاکر اور صفحہ نمبر 140 درج ہے۔ اسی فہرست میں اس سبق کے لیے یہ الفاظ درج ہیں: ”بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا“۔
یہ الفاظ یہاں فہرست کے اندراج کے طور پر دیے جا رہے ہیں — اس سے زیادہ غزل کے متن کا کوئی دعویٰ اس صفحے پر نہیں کیا جا رہا، کیونکہ مکمل متن دستیاب نہیں۔ فہرست کے بعد کتاب میں فرہنگ صفحہ 143 سے شروع ہوتی ہے، اور اسی فرہنگ سے اس سبق کے مشکل الفاظ لیے گئے ہیں۔
In the book's contents list (the nazm section), lesson 22 is entered with the poet's name Parveen Shakir and page number 140. The same contents list carries these words for this lesson: “Baadban khulne se pehle ka ishara dekhna”.
These words are given here as a contents-list entry — no further claim about the ghazal's text is made on this page, because the full text is not available. After the contents list, the book's Farhang begins on page 143, and this lesson's difficult words are taken from that Farhang.
غزل شاعری کی ایک مشہور صنف ہے۔ اس کی بنیادی اکائی شعر ہے، اور ہر شعر میں دو مصرعے ہوتے ہیں۔ غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے، جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ ہوتا ہے۔ آخری شعر مقطع کہلاتا ہے، جس میں اکثر شاعر اپنا تخلص لاتا ہے۔
قافیہ ان الفاظ کو کہتے ہیں جن کی آواز آپس میں ملتی ہو، اور ردیف وہ لفظ یا الفاظ ہیں جو قافیے کے بعد ہر شعر میں دہرائے جاتے ہیں۔ یہ سب عام معلومات ہیں — اس غزل کے اشعار کی تعداد، اس کا قافیہ یا ردیف اس صفحے پر دعویٰ نہیں کیا گیا، کیونکہ اس غزل کا متن دستیاب نہیں۔ جب متن ملے تو انہی باتوں کو اس پر پرکھنا۔
A ghazal is a well-known form of poetry. Its basic unit is the she'r (couplet), and every she'r has two misre (lines). The first she'r of a ghazal is the matla, in which both lines rhyme. The last she'r is the maqta, in which the poet often uses their takhallus (pen-name).
Qafiya means the rhyming words, and radeef is the word or phrase repeated after the qafiya in every she'r. All of this is general knowledge — the number of couplets, the qafiya or the radeef of this ghazal are not claimed on this page, because its text is not available. When you get the text, test these very points against it.
یہ الفاظ کتاب کی فرہنگ (صفحات 143 تا 148) سے لیے گئے ہیں، جہاں اس سبق کا اندراج ”(22) غزل: پروین شاکر“ کے عنوان سے درج ہے۔ یہی اس سبق کے تصدیق شدہ مشکل الفاظ ہیں — انہیں پہلے یاد کرو، پھر غزل پڑھنا آسان ہو گا۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| استعارہ | علمِ بیان کی ایک اصطلاح؛ لفظی معنی: مستعار لینا، قرض لینا، عارضی طور سے مانگ لینا |
| بادباں | وہ پردہ جو ہوا بھرنے یا ہوا کا رخ بدلنے کے لیے کشتی یا جہاز پر لگاتے ہیں |
| بنامِ دل | دل کے نام پر |
| بے بسی | لاچاری |
| پسا ہونا | شکست کھانا، پیچھے ہٹنا |
| خسارہ | نقصان |
| زد میں | نشانے پر |
| زیاں | نقصان اٹھانا |
| شبہت | ملتی جلتی صورت |
| شبِ ہجراں | جدائی کی رات |
| صف آرا ہونا | جنگ کے لیے صفیں درست کرنا |
| مُشتِ خاک | مٹھی بھر خاک، بے حقیقت چیز، مراد: انسان |
یاد رکھنے کا طریقہ: ہر لفظ کو ایک جملے میں استعمال کرو — مثلاً ”بادباں“ کو کشتی کے ساتھ، اور ”شبِ ہجراں“ کو جدائی کی رات کے ساتھ جوڑ کر یاد کرو۔ رٹا لگانے سے بہتر ہے کہ لفظ کی تصویر ذہن میں بناؤ۔
These words are taken from the book's Farhang (pages 143–148), where this lesson's entry is headed “(22) Ghazal: Parveen Shakir”. These are this lesson's verified difficult words — learn them first, and reading the ghazal will become much easier.
In English, briefly: استعارہ = a figure of speech (metaphor); بادبان = a sail; بنامِ دل = ان تھے name of تھے heart; بے-basi = helplessness; pasa ہونا = تو بے defeated, تو retreat; خسارہ = loss; زد میں = ان تھے line of fire, on target; زیان = تو suffer loss; شباہت = resemblance; شبِ ہجراں = تھے night of separation; صف-آڑا ہونا = تو draw up ranks for battle; musht-e-khak = a handful of dust, meaning: a human being.
How to memorise them: use each word in one sentence of your own — pair “badban” with a boat, and “shab-e-hijran” with a night of separation. Picturing the word in your mind beats rote repetition.
جب تمہیں کتاب کا اصل متن مل جائے تو اس ترتیب سے پڑھو۔ پہلے فرہنگ کے بارہ الفاظ دہراؤ۔ پھر مطلع غور سے پڑھو اور سوچو کہ شاعر کس منظر یا کیفیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ پھر ہر شعر الگ الگ پڑھو — ایک شعر کو سمجھے بغیر اگلے پر مت جاؤ۔
ہر شعر کی تشریح اپنے لفظوں میں لکھو، اور جو لفظ سمجھ نہ آئے اس پر نشان لگاؤ۔ آخر میں پوری غزل ایک بار پھر پڑھو اور سوچو: اس غزل کا مرکزی خیال کیا ہے؟ یہ طریقہ کسی بھی غزل پر کام کرتا ہے، اور اس غزل پر بھی جب اس کا متن تمہارے پاس ہو گا۔
When you get the original book text, read it in this order. First, revise the twelve Farhang words. Then, read the matla carefully and think about what scene or feeling the poet is pointing to. Then, take one she'r at a time — do not move on until you understand the one in front of you.
Write the tashreeh of each she'r in your own words, and mark any word you do not understand. Finally, read the whole ghazal once more and ask yourself: what is its central idea? This method works for any ghazal, and for this one too, once its text is in your hands.
Note: The questions below are SLO-style study questions prepared for practice. They are NOT the book's official exercise — the official exercise was part of the missing pages (pp. 139–142). Answers are given as study guidance only.
نوٹ: نیچے دیے گئے سوالات SLO طرز کے مطالعاتی سوالات ہیں۔ یہ کتاب کی سرکاری مشق نہیں ہیں — سرکاری مشق غائب صفحات (139 تا 142) کا حصہ تھی۔ جوابات صرف رہنمائی کے لیے دیے گئے ہیں۔
فہرست کے مطابق سبق 22 کی شاعر پروین شاکر ہیں۔ یہ نام کتاب کی فہرست سے تصدیق شدہ ہے، اس لیے اسے اسی طرح یاد رکھو۔
فہرست میں سبق 22 صفحہ 140 پر درج ہے۔ اس کے بعد فرہنگ صفحہ 143 سے شروع ہوتی ہے۔
کیونکہ غزل کا تعارف، متن اور مشق دستیاب نسخے میں موجود نہیں تھے — کتاب کے صفحات 139 تا 142 اس نقل سے غائب ہیں۔ اس لیے متن کا دعویٰ کیے بغیر صرف تصدیق شدہ مواد دیا گیا ہے۔
استعارہ علمِ بیان کی ایک اصطلاح ہے؛ اس کے لفظی معنی ہیں: مستعار لینا، قرض لینا، عارضی طور سے مانگ لینا — یعنی کسی لفظ کو اس کے اصل معنی کی بجائے مجازی معنوں میں استعمال کرنا۔
بادباں وہ پردہ ہے جو ہوا بھرنے یا ہوا کا رخ بدلنے کے لیے کشتی یا جہاز پر لگاتے ہیں — عام زبان میں کشتی کا پال۔
مشتِ خاک کا مطلب ہے مٹھی بھر خاک — بے حقیقت چیز، اور اس سے مراد انسان ہے۔ یعنی انسان خاک کا ایک مٹھی بھر ذرہ ہے۔
شبِ ہجراں = جدائی کی رات۔ زد میں = نشانے پر، یعنی کسی چیز کی زد یا نشانے کی جگہ پر ہونا۔
غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ اس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ ہوتا ہے۔ یہ عام معلومات ہیں، اس غزل کے مطلع کا دعویٰ یہاں نہیں کیا جا رہا۔
کیونکہ غزل کے مشکل الفاظ پہلے سے معلوم ہوں تو شعر پڑھتے وقت معنی اٹکنے نہیں دیتے۔ اس سبق کے بارہ فرہنگ الفاظ اسی لیے پہلے دیے گئے ہیں — انہیں یاد کر کے غزل پڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔
سب سے پہلے فرہنگ کے الفاظ دہراؤ، پھر مطلع غور سے پڑھو، پھر ہر شعر الگ الگ سمجھو اور اس کی تشریح اپنے لفظوں میں لکھو۔ رٹا لگانے کی بجائے سمجھ کر پڑھنا ہی اصل تیاری ہے۔
اس باب میں ہم نے کتاب کے آخری سبق (سبق 22) کے بارے میں وہی کچھ پڑھا جو تصدیق شدہ تھا: شاعر کا نام پروین شاکر، فہرست کا اندراج (صفحہ 140)، اور فرہنگ کے بارہ مشکل الفاظ۔ غزل کا تعارف، متن اور سرکاری مشق دستیاب نسخے میں نہیں تھے، اس لیے ان کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔
اس باب کے موضوعات: سبق ایک نظر میں • فہرست کا اندراج • غزل کی ساخت • فرہنگ کے الفاظ • متن ملنے پر پڑھنے کا طریقہ • SLO طرز کے سوالات
دہرائی کی رہنمائی: پہلے بارہ فرہنگ الفاظ زبانی یاد کرو، پھر غزل کی ساخت (مطلع، مقطع، قافیہ، ردیف) دہراؤ، پھر مطالعاتی سوالات کے جواب بغیر دیکھے لکھنے کی مشق کرو۔ جب اصل متن مل جائے تو اسی ترتیب سے غزل پڑھو اور ہر شعر کی تشریح اپنے لفظوں میں لکھو۔
In this chapter we studied only what is verified about the book's last lesson (Lesson 22): the poet's name Parveen Shakir, the contents-list entry (page 140), and the twelve Farhang difficult words. The ghazal's introduction, text and official exercise were not in the available copy, so none of them has been claimed here.
Topics in this chapter: Lesson at a Glance • The Fehrist Entry • Ghazal Structure • Farhang Words • How to Read the Text • SLO-Style Questions
Revision guidance: first memorise the twelve Farhang words, then revise ghazal structure (matla, maqta, qafiya, radeef), then practise writing the study-question answers without looking. When the original text becomes available, read the ghazal in the same order and write each she'r's tashreeh in your own words.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 22 (Ghazal — Parveen Shakir) (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu