
اس سبق کے مصنف کا اصل نام محمد شبلی تھا، مگر وہ شبلی نعمانی کے نام سے مشہور ہوئے۔ وہ موضع بندول، ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ حبیب اللہ وکالت کرتے تھے۔ شبلی نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں پائی، پھر اعظم گڑھ، غازی پور اور سہارن پور میں پڑھے۔ وکالت کا امتحان بھی پاس کر لیا، لیکن اس پیشے میں ان کا دل نہ لگا۔
پھر وہ علی گڑھ گئے، جہاں سر سید احمد خاں نے انھیں عربی اور فارسی کا استاد مقرر کر دیا۔ وہاں وہ سولہ برس تک پڑھاتے رہے، اور یہیں سے ان کی زندگی کا نیا دور شروع ہوا۔ علی گڑھ میں انھوں نے پروفیسر تھامس آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی اور انھیں عربی سکھائی۔ سر سید کی وفات کے بعد وہ حیدر آباد دکن چلے گئے، جہاں چار سال تک نظامِ تعلیمات کے عہدے پر فائز رہے۔ پھر لکھنؤ واپس آ کر دار العلوم ندوہ سے وابستہ ہوئے، اور آخری دور میں اختلافات کے سبب ندوہ سے علیحدہ ہو کر اعظم گڑھ میں دار المصنفین کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جہاں سے اعلیٰ درجے کی کتابیں شائع ہوئیں۔
📌 ان کی شخصیت: شبلی ایک جامع الصفات شخصیت تھے — مفکر، مورخ، ناقد، فقیہ، محدث اور واعظ ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر اور صاحبِ ذوق بھی تھے۔ ان کی اہم کتابوں میں المامون، سیرت النعمان، الفاروق، الغزالی، موازنۂ انیس و دبیر اور شعر العجم نمایاں ہیں۔ زندگی کے آخری دور میں ان کی تمام تر توجہ سیرت النبی ﷺ پر مرکوز رہی، جو اردو سیرت نگاری میں ان کا اہم ترین کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ اس کی صرف دو جلدیں ہی مکمل کر پائے تھے کہ انتقال ہو گیا، اور باقی ماندہ جلدیں ان کے شاگرد سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔ زیرِ نظر سبق اسی کتاب کی جلد دوم سے لیا گیا ہے — یہ بات مشق کے سوال ۲ (i) کا جواب بھی ہے۔
📌 طرزِ تحریر: شبلی کا اندازِ تحریر شگفتہ، رواں اور مدلل ہے۔ ان کی تحریروں میں شوخی و حسن بھی ہے اور فکر کی گہرائی بھی۔ عربی و فارسی کے الفاظ اور تراکیب کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، جو سادہ، عام فہم اور شستہ ہونے کی وجہ سے عبارت کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔
The author of this lesson is Shibli Nomani (1857–1914), whose real name was Muhammad Shibli. He was born in Bandol, district Azamgarh. His father, Sheikh Habibullah, practised law. Shibli studied first in his own village, then in Azamgarh, Ghazipur and Saharanpur, and even passed the law examination — but his heart was never in that profession.
He moved to Aligarh, where Sir Syed Ahmad Khan appointed him teacher of Arabic and Persian. He taught there for sixteen years, and this opened a new chapter of his life. At Aligarh he learnt French from Professor Thomas Arnold and taught him Arabic in return. After Sir Syed's death he went to Hyderabad Deccan, where he served four years in the education department. Returning to Lucknow, he joined Dar-ul-Uloom Nadwa, and later, after differences there, founded Dar-ul-Musannifin at Azamgarh, which published books of the highest standard.
📌 Why he matters: Shibli was a many-sided figure — thinker, historian, critic, jurist, hadith scholar, preacher, poet and a man of taste, all in one. His major books include Al-Mamoon, Seerat-un-Noman, Al-Farooq, Al-Ghazali, Mawazna-e-Anees-o-Dabeer and She'r-ul-Ajam. His life's crowning work was Seerat-un-Nabi ﷺ; he completed only its first two volumes before his death, and his student Syed Sulaiman Nadvi completed the rest. This lesson is taken from volume 2 of that book.
📌 His style: fresh, flowing and argued with reasons — light in expression, deep in thought, with Arabic and Persian words used so simply and cleanly that they add beauty instead of difficulty.
سبق ایک بڑے سوال سے شروع ہوتا ہے: اچھا اخلاق کسے کہتے ہیں؟ شبلی کا جواب سادہ نہیں، گہرا ہے۔ اخلاق کا سب سے مقدم اور ضروری پہلو یہ ہے کہ انسان جس کام کو اختیار کرے، اس پر اس قدر استقلال کے ساتھ قائم رہے کہ گویا وہ اس کی فطرتِ ثانیہ بن جائے۔ یعنی اچھائی کبھی کبھار کی بات نہ رہے، بلکہ آدمی کی دوسری فطرت بن جائے — جیسے سورج سے روشنی، درخت سے سایہ اور پھول سے خوشبو الگ نہیں ہو سکتے، ویسے ہی اچھا کام اس شخص سے الگ نہ ہو سکے۔ اس کا نام استقامتِ حال اور مداومتِ عمل ہے۔
یہاں ایک باریک نکتہ سمجھیں۔ انسان کے سوا دنیا کی تمام مخلوق صرف ایک ہی قسم کا کام کر سکتی ہے اور وہ فطرتاً اس پر مجبور ہے — سورج روشنی دینے پر مجبور ہے، اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ انسان کا کمال یہ ہے کہ وہ اختیار رکھتے ہوئے بھی کسی اچھے کام پر اس طرح قائم رہے کہ گویا وہ اس کے کرنے پر مجبور ہے، اور لوگ دیکھتے دیکھتے یہ یقین کر لیں کہ اس شخص سے اس کے سوا کوئی اور بات ہو ہی نہیں سکتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عادت، کردار بن جاتی ہے۔
📌 رسول اللہ ﷺ کی مثال: حضرت محمد ﷺ اپنے تمام کاموں میں اسی اصول کی پابندی فرماتے تھے۔ آپ ﷺ جس کام کو شروع فرماتے، اس پر برابر شدت کے ساتھ قائم رہتے تھے۔ اسی اصول سے ہماری شریعت میں سنت کا لفظ پیدا ہوا ہے — سنت وہ فعل ہے جس پر آپ ﷺ نے ہمیشہ مداومت فرمائی ہے اور بغیر کسی قوی مانع کے کبھی اس کو ترک نہیں فرمایا۔ اس پر آپ ﷺ کی زندگی کی استقامتِ حال اور مداومتِ عمل کی ناقابلِ انکار مثالیں ہیں۔ آگے پورا سبق اسی اصول کی زندہ تصویریں دکھاتا ہے: حسنِ خلق، ایثار، تواضع، بچوں پر شفقت، کرمِ طبعی اور اولاد سے محبت — ہر باب میں وہی ایک اصول کام کرتا نظر آئے گا۔
Theme of the lesson: What is good character, really? Shibli's answer is deeper than "be nice sometimes." The first and most necessary part of character is this: whatever good a person chooses, he sticks to it with such steadiness that it becomes his second nature. Goodness must stop being an occasional act and become the person's nature — like light from the sun, shade from a tree, or fragrance from a flower, which cannot be separated from them. This is called istiqamat-e-haal (steadiness of state) and mudawamat-e-amal (constancy of action).
Notice the fine point here. Every creature except humans can do only one kind of work, and is forced to it by nature — the sun has no choice but to shine. The human achievement is the opposite: having a choice, yet holding to a good deed so firmly that it looks as if he is compelled to it, until people watching him become sure that nothing else could come from him. That is the moment when a habit turns into character.
📌 The Prophet's ﷺ example: Rasoolullah ﷺ followed this principle in everything. Whatever he began, he kept up with equal intensity. From this very principle the word Sunnah was born in our Shariah: a Sunnah is an act which he always performed and never gave up without a strong reason. The rest of the lesson is a gallery of this one principle in action — good manners, selflessness, humility, love for children, a gentle nature, and love for his own children.
معمول یہ تھا کہ کسی سے ملنے کے وقت ہمیشہ پہلے خود سلام اور مصافحہ فرماتے۔ کوئی شخص جب تک آپ ﷺ کا ہاتھ نہ چھوڑتا، آپ ﷺ خود نہ چھوڑتے۔ اور جب تک وہ بات کرتا، آپ ﷺ اس کی طرف سے رخ نہ پھیرتے۔ مجلس میں بیٹھتے تو آپ ﷺ کے زانو کبھی ہم نشینوں سے آگے بڑھے ہوئے نہ ہوتے — یعنی اپنی جگہ سے آگے نکل کر دوسروں پر برتری نہ جتاتے۔ اور جو شخص آپ ﷺ کی خدمت میں پانی مانگتا، آپ ﷺ اس کے ہاتھ میں خود ڈال دیتے، تاکہ مہمان کو تکلیف نہ ہو۔ جاڑوں کے دن اور گرمی کا وقت ہوتا، تب بھی آپ ﷺ کبھی انکار نہ فرماتے۔
مجلس میں لوگوں کی ناگوار باتوں کو آپ ﷺ برداشت فرماتے اور اس کا اظہار نہ کرتے — کسی شخص کی کوئی بات ناپسند آتی تو آپ ﷺ اس کے سامنے اس کا تذکرہ نہ فرماتے۔ ایک دفعہ ایک صاحب عرب کے دستور کے مطابق زعفران لگا کر خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے کچھ نہ فرمایا۔ جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو لوگوں سے کہا کہ ان سے کہہ دو کہ یہ رنگ دھو ڈالیں۔ بات کہنی بھی تھی تو منہ پر نہیں، پیٹھ پیچھے نرمی سے کہلوائی — تاکہ آنے والے کی دل آزاری نہ ہو۔
📌 مسجد نبوی کا منظر: مسجد نبوی میں جگہ بہت کم ہوتی تھی۔ جو لوگ پہلے سے آ کر بیٹھ جاتے تھے، ان کے بعد جگہ باقی نہیں رہتی تھی۔ ایسے موقع پر اگر کوئی آ جاتا تو آپ ﷺ اپنی ردا مبارک بچھا دیتے تھے اور اسے بٹھاتے تھے۔ مجلس میں کسی کی بات بری معلوم ہوتی تو مجلس میں نام لے کر اس کا ذکر نہیں کرتے تھے، بلکہ صیغۂ غائب سے بات کرتے تھے — یعنی اس شخص کا نام لیے بغیر، عمومی انداز میں بات کرتے تھے۔ لوگ ایسا کرتے ہیں، لوگ ایسا کہتے ہیں — اس طرح نصیحت بھی ہو جاتی تھی اور اس شخص کی عزت بھی محفوظ رہتی تھی، وہ احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوتا تھا۔
His regular habit was to greet first himself — salam and a handshake before the other person could begin. He would not let go of a person's hand until that person let go first, and he would not turn his face away while someone was still speaking to him. When he sat in a gathering, his knees never stretched out ahead of his companions — no silent claim of superiority. If someone asked him for water, he poured it into the person's own hands himself. Cold days or hot days made no difference; he never refused.
In gatherings he bore unpleasant remarks patiently and never showed it. If he disliked something someone said, he did not mention it to that person's face. Once a man came to him wearing saffron, as was the Arab custom. The Prophet ﷺ said nothing to him; only after the man had left did he ask people to tell him to wash off the colour. Even a correction was delivered gently, behind the person's back, so that no heart was hurt.
📌 A scene from Masjid-e-Nabvi: space in the mosque was very limited. Those who came early took the seats, and latecomers found no room. When someone arrived late, the Prophet ﷺ would spread his own blessed sheet (rida) for him to sit on. And if something said in a gathering displeased him, he never named the person; he spoke in general terms — "people do this, people say that" — so the advice reached its target while the person's honour stayed safe. That is husn-e-khulq: manners that protect other people's dignity.
آپ ﷺ کے اخلاق و عادات میں جو وصف سب سے زیادہ نمایاں اور جس کا اثر ہر موقع پر نظر آتا تھا، وہ ایثار تھا — یعنی اپنی ضرورت کو پیچھے رکھ کر دوسرے کو ترجیح دینا۔ آپ ﷺ کو اپنی اولاد سے بے انتہا محبت تھی، اور ان میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس قدر عزیز تھیں کہ جب وہ آتیں تو آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے، ان کی پیشانی کو بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عمرت اور تنگ دستی کا یہ حال تھا کہ گھر میں کوئی خادمہ نہ تھی، خود چکی پیستیں، خود ہی پانی کی مشک بھر لاتیں۔ چکی پیستے پیستے ہتھیلیاں گھس گئی تھیں۔
ایک دن حال یہ تھا کہ وہ خود تو اس حال میں تھیں، مگر پھر بھی کسی اور کی ضرورت کو آگے رکھا گیا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں، خود تو خادمہ کے لیے عرض کرنا چاہتی تھیں، مگر جناب امیر (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے ان کی طرف سے یہ حال عرض کیا اور درخواست کی کہ غزوہ میں جو کنیزیں آئی ہیں ان میں سے ایک کنیز مل جائے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ابھی اصحابِ صفہ کا انتظام نہیں ہوا، اور جب تک ان کا بندوبست نہ ہو، میں اور طرف توجہ نہیں کر سکتا۔
📌 ایثار کہاں ہے؟ غور کریں: اپنی سب سے پیاری بیٹی کی تکلیف سامنے ہے، ہتھیلیاں گھسی ہوئی ہیں، ایک کنیز مانگی جا رہی ہے — اور جواب میں آپ ﷺ مسجد کے غریب مہمانوں، اصحابِ صفہ، کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی ایثار ہے: اپنوں کی ضرورت بھی جب دوسروں کی ضرورت سے ٹکراتی ہے، تو دوسروں کو آگے رکھنا۔ اور یہ کوئی ایک دن کا واقعہ نہیں — سبق کہتا ہے کہ ایثار کا اثر ہر موقع پر نظر آتا تھا۔ اسی لیے مشق کا سوال ۱ (ج) پوچھتا ہے کہ آپ ﷺ کے اخلاق میں سب سے نمایاں وصف کون سا تھا — جواب: ایثار۔
The trait that stood out most in the Prophet's ﷺ character, whose effect showed on every occasion, was eesaar — selflessness: putting another person's need before your own. His love for his children knew no bounds, and Hazrat Fatima (RA) was so dear to him that when she came, he would stand up, kiss her forehead, and seat her in his own place. Yet look at her hardship: in her home there was no maidservant; she ground the mill herself and fetched the water-skin herself, until her palms were worn raw from grinding.
One day she came to ask for help, and Hazrat Ali (RA) presented her case on her behalf: could she be given one maidservant from among the captives brought in a recent battle? The Prophet ﷺ replied that the companions of Suffa (Ashab-e-Suffa) had not yet been provided for, and until their arrangement was made, he could not turn his attention elsewhere.
📌 Where is the selflessness? Think about it: his dearest daughter stands before him with worn palms, asking for one servant — and he puts the poor guests of the mosque, the Suffa companions, first. That is eesaar: when even your own family's need meets another's need, the other comes first. And this was not a one-day event — the lesson says its effect was visible on every occasion. That is why exercise question 1(c) asks for his most outstanding trait, and the answer is eesaar.
گھر کا کام کاج خود کرتے، کپڑوں میں پیوند لگاتے، گھر میں خود جھاڑو دیتے، دودھ دوہ لیتے، بازار سے سودا لاتے، بوجھ اٹھاتے اور خود گٹھڑی اٹھا کر چلتے — اس میں آپ ﷺ کو کوئی عار نہ تھی۔ غلاموں اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھتے اور ان کے ساتھ کھانا کھانے سے آپ ﷺ کو کوئی عار نہ تھی۔ ایک دفعہ گھر سے باہر تشریف لائے، لوگ تعظیم کو کھڑے ہوئے، فرمایا کہ اسی طرح تعظیم کے لیے نہ کھڑے ہوا کرو — یعنی دوسروں کو اپنے لیے کھڑا کرنا بھی آپ ﷺ کو پسند نہ تھا۔
غریب سے غریب بیمار ہوتا تو عیادت کو تشریف لے جاتے۔ مفلسوں اور فقیروں کے جنازوں کے ساتھ چلتے، صحابہ کے ساتھ بیٹھتے تو اس طرح بیٹھتے کہ امتیازی حیثیت بنا کر کوئی آپ ﷺ کو پہچان نہ سکتا — کسی مجلس میں جاتے تو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے۔ ایک دفعہ ایک شخص ملنے آیا، اس قدر رعب طاری ہوا کہ کانپنے لگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ گھبراؤ نہیں، میں فرشتہ نہیں، میں بادشاہ نہیں، میں ایک قریشی عورت کا بیٹا ہوں، جو سوکھا گوشت پکا کر کھایا کرتی تھی۔ یعنی اپنی بڑائی کا کوئی پردہ نہیں، سیدھی سادی انسانیت کا اعلان۔
📌 تواضع کیا ہے؟ تواضع کا مطلب صرف جھک کر چلنا نہیں۔ تواضع یہ ہے کہ بڑا آدمی چھوٹا کام کرنے میں شرم محسوس نہ کرے، غریب کے ساتھ بیٹھنے میں عار نہ سمجھے، اور اپنے لیے خصوصی جگہ یا خصوصی تعظیم نہ مانگے۔ جس شخص کے پاس ساری دنیا کی عزت ہو، وہ اگر بازار سے خود سودا اٹھا کر لائے اور مسکین کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے، تو یہی اصل بڑائی ہے — اور یہی مداومتِ عمل کا ایک اور چہرہ ہے، کیونکہ یہ ایک دن کا دکھاوا نہیں تھا، روز کا معمول تھا۔
He did his own housework — patched his clothes, swept his own house, milked the goat himself, fetched groceries from the market himself, and carried his own bundle — and felt no shame in any of it. He sat with slaves and the poor and ate with them without embarrassment. Once, when people stood up in respect as he came out of his house, he told them not to stand for him in that way — he did not want even that special honour.
When the poorest person fell ill, he went to visit him. He walked with the funeral processions of the poor and the destitute, and when he sat with his companions, he sat so plainly that no one could pick him out by any special seat. In a gathering he sat wherever he found a place. Once a man came to meet him and trembled so much under his awe that he shook; the Prophet ﷺ said: do not tremble — I am no angel, I am no king, I am the son of a Qurayshi woman who used to cook dried meat. No curtain of greatness — just a plain statement of common humanity.
📌 What is tawazo? Humility is not walking with a bowed head. It is a great person feeling no shame in small work, no embarrassment in sitting with the poor, and asking for no special seat or special honour. When the most honoured man in the world carries his own groceries from the market and eats beside a poor man, that is true greatness — and it is mudawamat-e-amal again, because it was not a one-day show; it was his daily routine.
بچوں پر نہایت شفقت فرماتے تھے۔ معمول تھا کہ سفر سے تشریف لاتے تو راہ میں جو بچے ملتے، ان میں سے کسی کو اپنے ساتھ سواری پر آگے بٹھا لیتے۔ راستے میں بچے ملتے تو ان کو خود سلام کرتے تھے۔ یہی وہ معمول ہے جس کی طرف مشق کا سوال ۲ (iii) اشارہ کرتا ہے — جواب: بچوں کو۔
ایک دن حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ خدمتِ اقدس میں آئے — ان کی چھوٹی لڑکی بھی ساتھ تھی اور سرخ رنگ کا کرتا بدن پر تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: سندس، سندس — حبشی زبان میں حسنہ کو سندس کہتے ہیں۔ اس بچی کی پیدائش حبشہ میں ہوئی تھی، اس لیے آپ ﷺ نے اسی مناسبت سے حبشی تلفظ میں حسنہ کے بجائے سندس کہا — یعنی بچی سے اس کی اپنی مانوس زبان کے لفظ سے پیار کیا۔ یہ محبت اور شفقت مسلمان بچوں تک محدود نہ تھی، بلکہ مشرکین کے بچوں پر بھی اسی طرح لطف فرماتے تھے۔ ایک دفعہ ایک غزوہ میں چند بچے مشرکین میں آ کر مارے گئے۔ ایک صاحب نے کہا: ”یا رسول اللہ! وہ مشرکین کے بچے تھے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مشرکین کے بچے بھی تم سے بہتر ہیں۔ خبردار! بچوں کو قتل نہ کرو، ہر جان خدا ہی کی فطرت پر پیدا ہوتی ہے۔“
معمول تھا کہ جب فصل کا نیا میوہ خدمتِ اقدس میں پیش کرتا تو جو سب سے زیادہ کم عمر بچہ حاضرین میں ہوتا، اس کو عنایت فرماتے — بچوں کو چومتے اور ان کو پیار کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ ﷺ اسی طرح بچوں کو پیار کر رہے تھے کہ ایک بدو آیا، اس نے کہا: ”آپ لوگوں کو بچوں سے پیار کرتے ہیں، میرے دس بچے ہیں، مگر اب تک میں نے کسی کو پیار نہیں کیا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اگر تمھارے دل سے محبت کو چھین لے تو میں کیا کروں؟“ — یعنی محبت دل کی چیز ہے، اور جس دل سے وہ چھن جائے، اس کا علاج نصیحت سے نہیں ہوتا۔
His love for children was boundless. It was his regular habit that when he returned from a journey, whichever children he met on the way, he would seat one of them in front of him on his own ride. When he met children on the road, he greeted them himself first. (This is the habit exercise question 2(iii) points to — the answer is: children.)
One day Hazrat Khalid bin Saeed (RA) came to him with his little daughter, who was wearing a red shirt. The Prophet ﷺ said to her: "Sundus, Sundus" — in the Habshi language, "Sundus" is the word for a beautiful girl (hasna), and he used the Habshi pronunciation with her because she had been born in Habsha (Abyssinia). This love was not limited to Muslim children; he showed the same kindness to the children of the mushrikeen. Once, in a battle, some children of the mushrikeen were killed. A companion said: "O Messenger of Allah, they were children of mushrikeen!" He replied: "The children of the mushrikeen are better than you. Beware! Do not kill children — every soul is born on the nature God gave it."
It was his habit that when the season's new fruit was presented to him, he gave it to the youngest child present — he kissed children and caressed them. Once, while he was kissing children like this, a Bedouin came and said: "You kiss children; I have ten children, yet I have never kissed any of them." The Prophet ﷺ replied: "If Allah takes love away from your heart, what can I do?" — love is a matter of the heart, and no sermon can replace a heart from which it has been taken.
کبھی بھی ظرافت کی باتیں فرماتے — یعنی ہنسی مذاق بھی آپ ﷺ کے لطیف طبع کا حصہ تھا، مگر اس میں بھی کسی کی دل آزاری نہ ہوتی۔ ایک دفعہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو پکارا تو فرمایا: ”او دو کان والے!“ — حضرت انس رضی اللہ عنہ نہایت اطاعت شعار تھے اور ہر وقت آپ ﷺ کے ارشاد پر کان لگائے رکھتے تھے، اس لیے یہ پیار بھرا لقب دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بھائی کا نام ابو عمیر تھا، وہ کم سن تھے اور ایک مولا (چھوٹی چڑیا) پال رکھا تھا کہ اتفاق سے وہ مر گیا۔ ابو عمیر کو بہت رنج ہوا۔ آپ ﷺ نے ان کو غم زدہ دیکھا تو فرمایا: ”ابو عمیر! تمھارے مولا نے کیا کیا؟“ — بچے کے غم کو اتنی اہمیت دی کہ اس کی چڑیا کا حال پوچھا۔
ایک شخص نے عرض کی کہ مجھے کوئی سواری عنایت ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تم کو اونٹنی کے بچے پر سوار کراؤں گا۔“ اس نے کہا: ”یا رسول اللہ! میں اونٹنی کے بچے لے کر کیا کروں گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹنی کا بچہ ہی تو ہوتا ہے، اونٹ اور کیا ہوتا ہے؟“ — یعنی ہر اونٹ اونٹنی ہی کا بچہ ہوتا ہے، بات سچی بھی تھی اور لطیف بھی۔ ایک بڑھیا خدمتِ اقدس میں آئی کہ حضور میرے لیے دعا فرمائیں کہ مجھے بہشت نصیب ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بوڑھی عورتیں بہشت میں نہیں جائیں گی۔ اس کو بہت صدمہ ہوا اور وہ روتی ہوئی واپس چلی گئی۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ اسے بتا دو کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی، لیکن جوان ہو کر جائیں گی — پہلے جملے میں چونکا دیا، دوسرے میں خوشخبری دے دی۔
ایک بدو صحابی تھے جن کا نام حضرت زاہر رضی اللہ عنہ تھا۔ وہ بہت سی چیزیں گاؤں سے لائے کرتے تھے، آپ ﷺ ان کی چیزیں بازار میں فروخت کر دیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ وہ شہر میں آئے۔ آپ ﷺ حضرت زاہر رضی اللہ عنہ کے پیچھے جا کر ان کو گود میں دبا لیا۔ انھوں نے کہا: ”کون ہے؟ چھوڑ دو۔“ مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی اس غلام کو خریدتا ہے؟“ انھوں نے کہا: ”مجھے غلام سمجھ کر جو شخص خریدے گا، نقصان اٹھائے گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن خدا کے نزدیک تمھارے دام زیادہ ہیں۔“ — یہی وہ جملہ ہے جس کے بارے میں مشق کا سوال ۲ (iv) پوچھتا ہے: یہ الفاظ حضرت زاہر رضی اللہ عنہ کے لیے ارشاد فرمائے گئے۔ ایک شخص نے آ کر شکایت کی کہ میرے بھائی کے شکم میں گرانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شہد پلاؤ۔“ وہ دوبارہ آیا، پھر شہد پلانے کا حکم ہوا، پھر تیسری بار آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خدا سچا ہے، تمھارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، جا کر شہد پلاؤ۔“ اور جب پورا علاج ہوا تو تکلیف جاتی رہی — یعنی دوا پر قائم رہنا ہی شفا کا راستہ ہے، یہ بھی مداومت کا ایک سبق ہے۔
He also enjoyed light-hearted humour — but humour that never hurt anyone. Once he called Hazrat Anas (RA) and said: "O you with two ears!" — Anas was so obedient that he always kept his ears open for the Prophet's ﷺ command, so the nickname was pure affection. Anas's little brother was called Abu Umair; he kept a small bird (nughair) as a pet, and when it died, the boy was heartbroken. Seeing his grief, the Prophet ﷺ asked him: "Abu Umair! What did your little bird do?" — a child's sorrow taken seriously enough to ask after his bird by name.
A man asked him for a mount. He said: "I will mount you on a she-camel's child." The man protested: "O Messenger of Allah, what would I do with a she-camel's child?" He replied: "What else is a camel but a she-camel's child?" — true, and funny at the same time. An old woman came asking him to pray that she be granted Paradise. He said old women do not enter Paradise. She went away weeping in distress — until he sent word through his companions: old women will not enter Paradise as old women; they will enter it made young again. The first sentence startled her; the second brought the good news.
A Bedouin companion named Hazrat Zahir (RA) used to bring goods from his village, and the Prophet ﷺ would sell them for him in the market. Once Zahir came to town; the Prophet ﷺ came up behind him and hugged him from behind. Zahir cried: "Who is this? Let go!" He turned and saw it was Rasoolullah ﷺ, who said: "Who will buy this slave?" Zahir answered: "Whoever buys me as a slave will suffer a loss." The Prophet ﷺ said: "But before Allah, your price is high." (This is the sentence exercise question 2(iv) asks about — it was said for Hazrat Zahir.) A man once complained that his brother's stomach was upset; the Prophet ﷺ said: "Give him honey." He came again, and again the order was honey; the third time he said: "God is true; your brother's stomach is false — go and give him honey." And when the full course was completed, the ailment left — constancy in the remedy is itself a lesson in mudawamat.
اولاد سے نہایت محبت تھی۔ معمول تھا کہ جب کبھی سفر فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے اور سفر سے واپس آتے تو جو شخص سب سے پہلے بارِ یاب خدمت ہوتا وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی ہوتیں۔ ایک دفعہ کسی غزوہ میں گئے — اسی اثنا میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دونوں صاحبزادوں (حسنین کریمین رضی اللہ عنہما) کے لیے چاندی کے کنگن بنوائے اور دروازے پر پردہ لٹکائے۔ آپ ﷺ جب واپس تشریف لائے تو خلافِ معمول حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر نہیں گئے، وہ سمجھ گئیں، فوراً پردوں کو چاک کر ڈالا اور صاحبزادوں کے ہاتھ سے کنگن اتار لیے — صاحبزادے روتے ہوئے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔
آپ ﷺ نے کنگن لے کر بازار میں بیچ دیے کہ ان کے بدلے ہاتھی دانت کے کنگن لاؤ — یہی مشق کے سوال ۲ (v) کا جواب ہے: آپ ﷺ نے کنگن بازار میں بیچ کر ان کے بدلے ہاتھی دانت کے کنگن منگوائے۔ غور کریں: نہ ڈانٹ، نہ غصہ — صرف نرمی سے ایک بہتر متبادل۔ اور یہ بھی دیکھیں کہ چاندی کے کنگن بچوں کے ہاتھ میں تھے، مگر سادگی کا اصول گھر میں بھی وہی تھا جو باہر تھا۔
📌 حضرت فاطمہؓ کی آمد: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جب آپ ﷺ کی خدمت میں تشریف لاتیں تو آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے، ان کی پیشانی کو چومتے اور اپنی نشست گاہ سے ہٹ کر اپنی جگہ بٹھاتے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے تو فرماتے کہ میرے بچوں کو لانا — وہ صاحبزادوں کو لاتیں، آپ ﷺ ان کو چومتے اور سینے سے لگاتے تھے۔ ایک دفعہ مسجد میں خطبہ فرما رہے تھے، حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سرخ کرتے پہنے ہوئے آئے، کم سنی کی وجہ سے ہر قدم پر لڑکھڑا کر گرتے جاتے تھے۔ آپ ﷺ منبر سے اتر کر گئے، ان کو اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھایا، پھر فرمایا: ”خدا نے سچ کہا ہے: اِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ — تمھارے مال اور تمھاری اولاد آزمائش ہیں۔“ اور ایک دفعہ آپ ﷺ کسی دعوت میں جا رہے تھے، امام حسین رضی اللہ عنہ راستے میں ملے، آپ ﷺ نے آگے بڑھ کر ہاتھ پھیلائے، ان کو پکڑ لیا، ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی پر اور ایک سر پر رکھ کر سینے سے لگایا اور فرمایا: ”حسین میرا ہے، میں حسین کا ہوں۔ خدا یا! میں اس کو چاہتا ہوں اور اس کو بھی چاہتا ہوں جو اس کو چاہے۔“
His love for his own children was immense. It was his habit that whenever he travelled, the last person he visited before leaving was Hazrat Fatima (RA), and on his return the first person he met was also Hazrat Fatima (RA). Once, while he was away on a campaign, Hazrat Fatima (RA) had silver bangles made for her two sons (Hasnain, RA) and hung a curtain on her door. When he returned, he did not go to her house as usual. She understood at once, tore down the curtains herself, and took the bangles off her sons' hands — and the boys came to him weeping.
He took the bangles, sold them in the market, and said: bring ivory bangles in exchange. (This is the answer to exercise question 2(v).) Notice: no scolding, no anger — just a gentle replacement. And notice too that the principle of simplicity was the same inside his own home as outside it.
📌 When Hazrat Fatima (RA) came: whenever she came to him, he stood up, kissed her forehead, and gave her his own seat. When he visited her house, he would ask for his grandchildren to be brought; she brought them, and he kissed them and hugged them to his chest. Once, while he was delivering the khutba in the mosque, Hasnain (RA) came in wearing red shirts, stumbling and falling at every step because of their young age. He came down from the pulpit, lifted them up, seated them before him, and said: "God has spoken truly: your wealth and your children are a trial." And once, on his way to a feast, he met Imam Hussain (RA) on the road; he stepped forward with open arms, caught him, placed one hand on his chin and one on his head, hugged him, and said: "Hussain is mine, and I am Hussain's. O Allah! I love him, and I love whoever loves him."
سبق کے آخری صفحات رحمت کی ایک اور صورت دکھاتے ہیں — وہ رحمت جو آنسوؤں میں ظاہر ہوتی ہے۔ آپ ﷺ کے داماد، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے شوہر، جب بدر سے قید ہو کر آئے تو فدیہ کی رقم ادا نہ کر سکے تو گھر سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے گلے کا ہار بھیج دیا — یہ وہ ہار تھا جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کو دیا تھا۔ حضرت ﷺ نے ان کو دیکھا تو آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ پھر صحابہ کرام سے فرمایا کہ اگر تمھاری مرضی ہو تو زینب کا ہار واپس کر دو اور ان کے شوہر کو چھوڑ دو — سب نے برضا و رغبت منظور کیا۔ یعنی قیدی کا معاملہ بھی بیٹی کے ہار کی یاد سے نرم ہو گیا۔
آپ ﷺ کی ایک نواسی کی حالت نزع میں تھی، صاحبزادی نے بلا بھیجا۔ آپ ﷺ تشریف لے گئے تو لڑکی اسی حالت میں آغوش مبارک میں رکھ دی گئی۔ آپ ﷺ نے اس کی حالت دیکھی تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ کیا کر رہے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رحم ہے، جس کو خدا نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دیا ہے۔“ — یہی وہ جملہ ہے جس کے بارے میں مشق کا سوال ۱ (ہ) پوچھتا ہے: یہ الفاظ آپ ﷺ نے نواسی کی حالتِ نزع کے موقع پر، جب بچی آپ ﷺ کی آغوش میں تھی، ارشاد فرمائے۔
📌 غم اور صبر ساتھ ساتھ: حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات پر بھی آپ ﷺ نے آب دیدہ ہو کر فرمایا: ”آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں، دل غم زدہ ہو رہا ہے، لیکن منہ سے وہی بات کہیں گے جس کو خدا پسند کرتا ہے۔“ یہ سبق کا آخری اور سب سے نازک نکتہ ہے: رونا کمزوری نہیں — رحم دل کی نشانی ہے۔ مگر غم میں بھی زبان سے وہی نکلے جو خدا کو پسند ہو۔ یہی مداومتِ عمل کا آخری چہرہ ہے: خوشی میں بھی، غم میں بھی، اپنے اصول پر قائم رہنا۔ اسی پر سبق ختم ہوتا ہے، اور نیچے لکھا ہے: (سیرت النبی جلد دوم)۔
The last pages of the lesson show mercy in yet another form — mercy that appears as tears. The Prophet's ﷺ son-in-law, the husband of Hazrat Zainab (RA), was brought as a prisoner from Badr and could not pay his ransom. From home, Hazrat Zainab (RA) sent her own necklace — the very necklace Hazrat Khadijah (RA) had given her at her wedding. When the Prophet ﷺ saw it, tears came to his eyes. He asked his companions: if you agree, return Zainab's necklace to her and release her husband — and all of them agreed willingly. Even a prisoner's case softened at the memory of his daughter's necklace.
One of his granddaughters was in her final moments; his daughter sent for him. He came, and the child was placed in his blessed lap in that state. Seeing her condition, tears flowed from his eyes. Hazrat Saad (RA) asked: "O Messenger of Allah, what is this?" He replied: "This is mercy, which Allah has placed in the hearts of His servants." (This is the sentence exercise question 1(e) asks about — it was said when his granddaughter was dying, in his lap.)
📌 Grief and patience together: at the death of Hazrat Ibrahim (RA) too, he said with tearful eyes: "The eyes are shedding tears, the heart is grieved, but the tongue will say only what pleases Allah." This is the lesson's last and most delicate point: weeping is not weakness — it is the sign of a merciful heart. But even in grief, the tongue must speak only what Allah loves. That is mudawamat-e-amal in its final form: holding to your principles in joy and in sorrow alike. The lesson ends here, signed: (Seerat-un-Nabi, volume 2).
سبق کے مشکل الفاظ اور ان کے معنی نیچے جدول میں دیے گئے ہیں۔ انھیں یاد کر لیں تو نہ صرف سبق آسان ہو جائے گا، بلکہ مشق کے سوالات بھی آدھے حل ہو جائیں گے۔
| لفظ | معنی | سبق میں استعمال |
|---|---|---|
| مداومت | کسی کام پر برابر قائم رہنا، تسلسل | مداومتِ عمل — اخلاق کا پہلا اصول |
| استقلال | ثابت قدمی، ڈٹے رہنا | استقلال کے ساتھ قائم رہنا |
| فطرتِ ثانیہ | دوسری فطرت، عادت جو فطرت بن جائے | اچھا کام فطرتِ ثانیہ بن جائے |
| ایثار | اپنی ضرورت پر دوسرے کو ترجیح دینا | سب سے نمایاں وصف: ایثار |
| تواضع | انکساری، عاجزی | گھر کے کام اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھنا |
| مصافحہ | ملتے وقت ہاتھ ملانا | پہلے خود سلام اور مصافحہ |
| خادمہ | خدمت کرنے والی عورت، نوکرانی | حضرت فاطمہؓ کے گھر کوئی خادمہ نہ تھی |
| مشک | پانی بھرنے کی چمڑے کی تھیلی | خود پانی کی مشک بھر لاتیں |
| عسرت | تنگ دستی، غربت | عسرت اور تنگ دستی کا یہ حال تھا |
| سندس | حبشی زبان میں حسنہ، خوبصورت لڑکی | ”سندس، سندس“ — بچی سے پیار |
| اصحابِ صفہ | مسجد نبوی کے چبوترے پر رہنے والے غریب مہمان | پہلے ان کا بندوبست، پھر خادمہ |
| نزع | موت کے قریب کی حالت | نواسی کی حالتِ نزع |
| فدیہ | قیدی کی رہائی کے بدلے دی جانے والی رقم | بدر کے قیدی کا فدیہ |
📌 امتحانی مشورہ: مداومت، ایثار، تواضع، فطرتِ ثانیہ اور سندس — یہ پانچ الفاظ مختصر جوابات اور درست جواب والے سوالات میں بار بار آتے ہیں۔ ان کے معنی کے ساتھ ساتھ ان کی مثالیں بھی یاد رکھیں، کیونکہ سوال مثال کے ساتھ مانگتا ہے، صرف معنی نہیں۔
Theme in one paragraph: this lesson is not a list of separate virtues — it is one principle seen from six sides. Mudawamat-e-amal (constancy) is the root; husn-e-khulq is constancy in manners; eesaar is constancy in putting others first; tawazo is constancy in humility; love for children and for one's own children is constancy in mercy; and tears at a granddaughter's deathbed are constancy in patience. Shibli chose these scenes from volume 2 of Seerat-un-Nabi precisely because each one shows the same habit hardened into character.
How to revise: learn the six headings in order, one story under each — (1) first salam and the sheet in the mosque, (2) Fatima's worn palms and the Suffa companions, (3) the patched cloak and the Qurayshi woman's son, (4) the ride, "Sundus", and the Bedouin's ten children, (5) "two ears", the bird, the she-camel's child, and Zahir's price, (6) the silver bangles exchanged for ivory, and the words "this is mercy". If you can retell those six stories, you can answer every short question in the exercise.
📌 For the exam: five words come up again and again — mudawamat, eesaar, tawazo, fitrat-e-saniya and Sundus. Learn each with its example, because the questions ask for the example, not just the meaning.
کتاب کی مشق (کتابی صفحات ۱۶–۱۹) میں یہ حصے ہیں: ۱۔ مختصر جواب دیں (۵ سوالات)؛ ۲۔ درست جواب کی نشان دہی کریں (۵ سوالات)؛ ۳۔ سبق کے متن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے درست الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کر کے اقتباس مکمل کریں؛ ۴۔ ”اخلاق نبوی“ کے کسی ایک پہلو پر گفتگو کریں؛ ۵۔ سبق ”اخلاق نبوی“ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی بچوں اور اولاد سے محبت کے بارے میں چند باتیں چیت کریں؛ ۶۔ نیچے دی گئی عبارت کو پڑھیں اور دیے گئے سوالات کے جوابات دیں اور عبارت کا مناسب عنوان لکھیں (۶ سوالات)؛ ۷۔ فعل کی پہچان کر کے ان کے سامنے فعل لازم یا فعل متعدی لکھیں (۸ جملے)؛ سیاق و سباق (Context) اور حوالۂ متن (Reference)؛ ۸۔ سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں (۲ اقتباسات)؛ ۹۔ ”ہماری زندگی میں حسنِ خلقی کی اہمیت“ کے موضوع پر ایک پیراگراف تحریر کریں۔ نیچے ہر سوال کا جواب دیا گیا ہے — کل ۲۳ بلاک۔ ⚠️ ایک بات نوٹ کریں: اس سبق کی مشق میں کوئی الگ معروضی (MCQ) حصہ کتاب نے الگ سے نہیں بنایا — درست جواب والے پانچ سوالات بھی یہیں عام سوال و جواب کی صورت میں حل کیے گئے ہیں، تاکہ کوئی سوال رہ نہ جائے۔
مداومتِ عمل سے مراد یہ ہے کہ انسان جس کام کو اختیار کرے، اس پر اس قدر استقلال کے ساتھ قائم رہے کہ گویا وہ اس کی فطرتِ ثانیہ بن جائے۔ یعنی اچھا کام کبھی کبھار نہ ہو، بلکہ آدمی کی عادت اور پھر اس کی فطرت بن جائے — جیسے سورج سے روشنی، درخت سے سایہ اور پھول سے خوشبو الگ نہیں ہو سکتے، ویسے ہی وہ کام اس شخص سے الگ نہ ہو سکے۔ اسی کا نام استقامتِ حال اور مداومتِ عمل ہے۔
سنت کا لفظ مداومتِ عمل کے اصول سے پیدا ہوا ہے۔ سنت وہ فعل ہے جس پر حضرت محمد ﷺ نے ہمیشہ مداومت فرمائی ہے اور بغیر کسی قوی مانع کے کبھی اس کو ترک نہیں فرمایا۔ یعنی جو کام آپ ﷺ نے پابندی سے، برابر شدت کے ساتھ، ہمیشہ کیا، وہی سنت کہلایا۔ (نوٹ: سبق کے متن میں یہ بات ”سنت“ کے لفظ کے بارے میں کہی گئی ہے — یہیں سے اس سوال کا جواب ملتا ہے۔)
ایثار۔ سبق صاف کہتا ہے کہ آپ ﷺ کے اخلاق و عادات میں جو وصف سب سے زیادہ نمایاں اور جس کا اثر ہر موقع پر نظر آتا تھا، وہ ایثار تھا — یعنی اپنی ضرورت کو پیچھے رکھ کر دوسرے کو ترجیح دینا۔ اس کی سب سے بڑی مثال حضرت فاطمہؓ کا واقعہ ہے: اپنی پیاری بیٹی کی ضرورت کے سامنے بھی آپ ﷺ نے اصحابِ صفہ کی ضرورت کو آگے رکھا۔
یہ احوال حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہیں — رسول اللہ ﷺ کی سب سے پیاری صاحبزادی کے گھر کی تنگ دستی کا یہ حال تھا کہ نہ کوئی خادمہ تھی، نہ سہولت؛ چکی خود پیستیں، پانی کی مشک خود بھر کر لاتیں، یہاں تک کہ چکی پیستے پیستے ہتھیلیاں گھس گئی تھیں۔ ان احوال کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے جناب امیر، یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ، نے پیش کیا — انھوں نے عرض کیا کہ غزوہ میں آئی ہوئی کنیزوں میں سے ایک کنیز حضرت فاطمہؓ کو مل جائے۔ آپ ﷺ نے جواب میں اصحابِ صفہ کا بندوبست پہلے کرنے کی بات فرمائی۔
آپ ﷺ نے یہ الفاظ اپنی ایک نواسی کی حالتِ نزع کے موقع پر ارشاد فرمائے۔ صاحبزادی نے بلا بھیجا تھا، آپ ﷺ تشریف لے گئے تو بچی اسی حالت میں آپ ﷺ کی آغوش مبارک میں رکھ دی گئی۔ اس کی حالت دیکھ کر آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے حیرت سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ کیا کر رہے ہیں؟ تب آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ رحم ہے، جس کو خدا نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دیا ہے — یعنی آنسو کمزوری نہیں، خدا کی دی ہوئی رحمت کی نشانی ہیں۔
درست جواب: (ب) جلد دوم سے۔ سبق کے آخر میں خود لکھا ہے: ”(سیرت النبی جلد دوم)“۔ اور مصنف کے تعارف میں بھی بتایا گیا ہے کہ شبلی نعمانی اپنی زندگی میں سیرت النبی کی صرف دو جلدیں ہی مکمل کر پائے تھے — یہ سبق اسی دوسری جلد سے لیا گیا ہے۔
درست جواب: (د) فطرتِ ثانیہ۔ سبق کے شروع میں یہی تعریف دی گئی ہے: انسان جس کام کو اختیار کرے، اس پر اس قدر استقلال کے ساتھ قائم رہے کہ گویا وہ اس کی فطرتِ ثانیہ بن جائے۔ اسی کا دوسرا نام استقامتِ حال اور مداومتِ عمل ہے۔ ”عادت“ قریب ترین لفظ ہے، مگر سبق کی عبارت کے مطابق درست اصطلاح فطرتِ ثانیہ ہے۔
درست جواب: (الف) بچوں کو۔ ”بچوں پر شفقت“ والے حصے میں صاف لکھا ہے: معمول تھا کہ سفر سے تشریف لاتے تو راہ میں جو بچے ملتے، ان میں سے کسی کو اپنے ساتھ سواری پر آگے بٹھا لیتے، اور راستے میں ملنے والے بچوں کو خود سلام کرتے تھے۔
درست جواب: (ج) حضرت زاہر رضی اللہ عنہ کے لیے۔ حضرت زاہرؓ ایک بدو صحابی تھے جو گاؤں سے چیزیں لا کر بازار میں بیچا کرتے تھے، اور آپ ﷺ ان کی چیزیں فروخت کر دیا کرتے تھے۔ ایک دن آپ ﷺ نے پیچھے سے ان کو گود میں دبا لیا اور فرمایا کہ کوئی اس غلام کو خریدتا ہے؟ زاہرؓ نے کہا کہ مجھے غلام سمجھ کر جو خریدے گا، نقصان اٹھائے گا — تب آپ ﷺ نے فرمایا: لیکن خدا کے نزدیک تمھارے دام زیادہ ہیں۔
درست جواب: (د) ہاتھی دانت کے کنگن۔ حضرت فاطمہؓ نے حسنین کریمینؓ کے لیے چاندی کے کنگن بنوائے تھے اور دروازے پر پردہ لٹکایا تھا۔ آپ ﷺ نے واپسی پر خلافِ معمول ان کے گھر جانا چھوڑ دیا، حضرت فاطمہؓ سمجھ گئیں اور پردے چاک کر کے کنگن اتار دیے۔ آپ ﷺ نے وہ کنگن لے کر بازار میں بیچ دیے اور فرمایا کہ ان کے بدلے ہاتھی دانت کے کنگن لاؤ — سادگی کا اصول گھر میں بھی وہی رہا جو باہر تھا۔
”اخلاق کا ایک دقیق نکتہ یہ ہے کہ انسان اپنے لیے اخلاق کا حصہ کا جو پہلو پسند کرے اس کی شدت سے پابندی کرے اور اس طرح غیر متبدل طریقے سے اس پر عمل کرے گویا وہ اپنے اختیار کے باوجود اس کام کے کرنے پر مجبور ہے اور لوگ دیکھتے دیکھتے یہ یقین کر لیں کہ اس شخص کے علاوہ کوئی بات اور ہو ہی نہیں سکتی۔ گویا یہ اس سے یہ افعال اس طرح صادر ہوتے ہیں جیسے آفتاب سے روشنی، درخت سے سایہ، پھول سے خوشبو کہ یہ خصوصیات ان سے کسی حالت میں الگ نہیں ہو سکتیں۔ اس کا نام استقامت حال اور مداومت عمل ہے۔“ (یہ اقتباس سبق کے شروع کے ”مداومتِ عمل“ والے حصے کی عبارت ہے — اسی لیے خالی جگہیں اسی عبارت سے پر کی گئی ہیں۔)
گفتگو کا موضوع میں نے ایثار چنا ہے، کیونکہ سبق اسے آپ ﷺ کا سب سے نمایاں وصف بتاتا ہے۔ پہلا نکتہ: ایثار کا مطلب ہے اپنی ضرورت پر دوسرے کو ترجیح دینا — یہ خیرات سے بڑھ کر ہے، کیونکہ خیرات بچے ہوئے مال سے ہوتی ہے، ایثار اپنی ضرورت کی چیز سے ہوتا ہے۔ دوسرا نکتہ: مثال حضرت فاطمہؓ کا واقعہ ہے — اپنی بیٹی کی گھسی ہوئی ہتھیلیاں سامنے تھیں، پھر بھی اصحابِ صفہ کو پہلے رکھا گیا۔ تیسرا نکتہ: ایثار صرف مال میں نہیں ہوتا — وقت، جگہ، آرام اور عزت میں بھی ہوتا ہے، جیسے مسجد میں اپنی ردا کسی اور کے لیے بچھا دینا۔ آخری نکتہ: آج کے دور میں ایثار کا مطلب ہے: کلاس میں کمزور ساتھی کی مدد، گھر میں چھوٹے بہن بھائیوں کی ضرورت کو اپنی خواہش پر ترجیح دینا، اور معاشرے میں غریب کی ضرورت کو اپنی آسائش پر مقدم رکھنا۔ (نوٹ: یہ گفتگو کے نمونہ نکات ہیں — طالب علم اپنے الفاظ میں اسے آگے بڑھا سکتا ہے۔)
پہلی بات: آپ ﷺ بچوں سے بے انتہا محبت کرتے تھے — سفر سے واپسی پر راہ میں ملنے والے بچوں میں سے کسی کو اپنی سواری پر آگے بٹھا لیتے اور راستے میں بچوں کو خود سلام کرتے تھے۔ دوسری بات: نئے پھل کا پہلا حصہ سب سے کم عمر بچے کو دیتے، بچوں کو چومتے اور پیار کرتے تھے — اور جب ایک بدو نے کہا کہ اس نے اپنے دس بچوں میں سے کسی کو پیار نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اللہ دل سے محبت چھین لے تو میں کیا کروں؟ تیسری بات: یہ محبت مسلمان بچوں تک محدود نہ تھی — مشرکین کے بچوں کے قتل پر بھی آپ ﷺ نے سختی سے منع فرمایا کہ ہر جان خدا ہی کی فطرت پر پیدا ہوتی ہے۔ چوتھی بات: اپنی اولاد سے محبت کا یہ حال تھا کہ سفر سے پہلے آخری ملاقات اور واپسی پر پہلی ملاقات حضرت فاطمہؓ سے ہوتی تھی، ان کے آنے پر کھڑے ہو جاتے، پیشانی چومتے اور اپنی جگہ بٹھاتے تھے۔ پانچویں بات: حسنینؓ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ خطبے کے دوران بھی ان کے لڑکھڑانے پر منبر سے اتر کر انھیں اٹھا لیا، اور فرمایا کہ حسین میرا ہے اور میں حسین کا ہوں۔ (نوٹ: یہ چند باتیں نمونے کے طور پر دی گئی ہیں — طالب علم اس میں اپنی سمجھ سے اور باتیں شامل کر سکتا ہے۔)
عبارت: ”کسی منفی رجحان کے نتیجے میں اپنے سخت رویے پر قابو پا لینا، برداشت ہے اور دلیل کے طور پر منفی رویے کے بجائے مثبت حسن سلوک کو روا رکھنا، رواداری کہلاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ اس وقت جن منفی رجحانات سے دوچار ہے، ان میں عدم برداشت سرِ فہرست ہے۔ جس کے باعث ہمارے اندر رواداری کا وصف ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں روزانہ ایسے بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو چھوٹی چھوٹی اور انتہائی معمولی باتوں پر ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم لوگ تھوڑی دیر کے لیے صبر و تحمل، برداشت اور حوصلے سے کام لیں تو بہت بڑے مالی و جانی نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ برداشت کا وصف لوگوں میں اس وقت پیدا ہو گا جب وہ رواداری اور حسن سلوک کو اپنا شعار بنائیں گے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ طیبہ ہمارے لیے اس سلسلے میں مشعلِ راہ ہے۔“
مناسب عنوان: ”برداشت اور رواداری — حسنِ سلوک کا راستہ“ (نوٹ: عنوان طالب علم کی اپنی تجویز ہو سکتی ہے — یہ ایک مناسب نمونہ عنوان ہے، جیسے ”رواداری کی اہمیت“ یا ”برداشت: معاشرے کی ضرورت“ بھی درست ہو سکتے ہیں۔)
منفی رجحان سے مراد وہ بری عادت یا برا رویہ ہے جو انسان کو غلط طرف لے جائے — جیسے غصہ، ضد، عدم برداشت اور دوسروں سے جھگڑنے کی عادت۔ عبارت کے مطابق ہمارا معاشرہ اس وقت جن منفی رجحانات سے دوچار ہے، ان میں عدم برداشت سرِ فہرست ہے، یعنی سب سے پہلے نمبر پر ہے۔
رواداری یہ ہے کہ دلیل اور منفی رویے کے بجائے مثبت حسن سلوک کو روا رکھا جائے — یعنی دوسرے کی بات، رائے یا غلطی پر غصے سے جواب دینے کے بجائے نرمی، تحمل اور اچھے سلوک سے کام لیا جائے۔ اور برداشت یہ ہے کہ اپنے سخت رویے پر قابو پا لیا جائے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں: برداشت اندر کا ضبط ہے، رواداری باہر کا اچھا سلوک ہے۔
کفارِ مکہ آپ ﷺ سے سخت اور ظالمانہ سلوک کرتے تھے — انھوں نے آپ ﷺ کو طرح طرح کی اذیتیں دیں، آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے، آپ ﷺ کی راہ میں کانٹے بچھائے گئے، اور آپ ﷺ کے ساتھیوں پر ظلم کیا گیا۔ عبارت کے الفاظ میں: آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے، طرح طرح کی اذیتوں سے دوچار کیا گیا، مگر آپ ﷺ نے ہمیشہ برداشت اور تحمل سے کام لیا اور معاف فرما دیا۔ (نوٹ: یہ جواب عبارت کے آخری حصے اور سبق کے عمومی سیاق سے لیا گیا ہے — عبارت میں کفارِ مکہ کے سلوک کا ذکر اختصار سے ہے، اس لیے جواب میں سبق کی روشنی میں وضاحت کی گئی ہے۔)
سیرتِ طیبہ کی روشنی میں ہمیں صبر، برداشت اور رواداری کا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے — چھوٹی چھوٹی باتوں پر دست و گریباں ہونے کے بجائے تھوڑی دیر کے لیے صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے، دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے، اور اپنی معاشرتی روایات کو حوصلہ مندی اور برداشت کے اصولوں پر قائم رکھنا چاہیے، تاکہ ہم آپس میں باجمی اخلاق اور رواداری کی چار دیواری کو فروغ دے سکیں۔
فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے دشمنانِ اسلام کے ساتھ عام معافی کا سلوک کیا — جن لوگوں نے برسوں ظلم کیا تھا، ان کو بھی معاف فرما دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کیا۔ یہی برداشت اور رواداری کی سب سے بڑی مثال ہے: طاقت ہونے کے باوجود انتقام نہیں لیا، بلکہ معافی کو اپنا شعار بنایا۔ (نوٹ: یہ جواب سیرتِ طیبہ کے اس واقعے سے ہے جس کی طرف عبارت کے آخری جملے میں اشارہ ہے — ”حیاتِ طیبہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے“۔)
”برداشت اور رواداری — حسنِ سلوک کا راستہ“۔ یہ عنوان اس لیے مناسب ہے کہ پوری عبارت دو ہی باتوں کے گرد گھومتی ہے: اپنے سخت رویے پر قابو پانا (برداشت) اور دوسروں سے مثبت حسن سلوک روا رکھنا (رواداری)۔ متبادل درست عنوان بھی ہو سکتے ہیں، جیسے ”رواداری کی اہمیت“ یا ”برداشت: معاشرے کی ضرورت“ — اصل بات یہ ہے کہ عنوان میں برداشت اور رواداری دونوں کا مفہوم آ جائے۔
اصول: فعل لازم وہ ہے جس کے جملے میں صرف فاعل ہو اور فاعل کا مفہوم سمجھ میں آ جائے — جیسے: اکبر آیا، عمران جاگا، سلیمان بیٹھا۔ فعل متعدی وہ ہے جس کے جملے میں فاعل کے ساتھ مفعول لگا کر مفہوم واضح کیا جائے — جیسے: اسلم کتاب پڑھ رہا ہے، بلی نے چوہے کو پکڑ لیا۔ اب جدول مکمل ہے:
| جملہ | فعل کی قسم | وجہ |
|---|---|---|
| وہ مدرسے گیا۔ | فعل لازم | صرف فاعل (وہ) ہے، کوئی مفعول نہیں |
| میں نے کتاب پڑھی۔ | فعل متعدی | مفعول موجود ہے (کتاب) |
| تم نے کھانا کھایا۔ | فعل متعدی | مفعول موجود ہے (کھانا) |
| تم نے پانی پیا۔ | فعل متعدی | مفعول موجود ہے (پانی) |
| وہ دیر سے جاگا۔ | فعل لازم | صرف فاعل (وہ) ہے، کوئی مفعول نہیں |
| ناراضگی ابھی آئی ہے۔ | فعل لازم | صرف فاعل (ناراضگی) ہے، کوئی مفعول نہیں |
| امجد نے خط لکھا۔ | فعل متعدی | مفعول موجود ہے (خط) |
| قصاب نے بکرا خریدا۔ | فعل متعدی | مفعول موجود ہے (بکرا) |
سیاق و سباق: کسی بھی بیان، واقعہ، عمل یا تحریر کے وہ متعلقہ حالات و واقعات، ماحول یا پس منظر کو کہتے ہیں جو اس کے درست مفہوم کو سمجھنے میں مدد دیں۔ سیاق و سباق کے بغیر کسی بات کا درست مفہوم سمجھنا دشوار ہو سکتا ہے۔ حوالۂ متن: جب کسی عبارت کی تشریح کرنی ہو تو پہلے اس کا حوالہ دیا جاتا ہے، یعنی یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ عبارت کس کتاب اور کس مصنف کی ہے — مثلاً: سبق کا عنوان: اخلاق نبوی؛ مصنف کا نام: مولانا شبلی نعمانی؛ ماخذ: سیرت النبی (جلد دوم)۔ اس کے بعد سیاق و سباق بیان کر کے اقتباس کی تشریح کی جاتی ہے۔
حوالۂ متن: یہ اقتباس سبق ”اخلاق نبوی“ سے لیا گیا ہے، جس کے مصنف مولانا شبلی نعمانی ہیں اور جو کتاب ”سیرت النبی“ (جلد دوم) سے ماخوذ ہے۔ سیاق و سباق: یہ سبق کے شروع کا جملہ ہے، جہاں مصنف اخلاق کی تعریف کرنے سے پہلے یہ بتاتا ہے کہ اخلاق کا سب سے پہلا اور سب سے ضروری پہلو کیا ہے۔ تشریح: اس جملے میں مصنف کہتا ہے کہ اچھا اخلاق یہ نہیں کہ انسان کبھی کبھار کوئی اچھا کام کر لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ جس اچھے کام کو اپنائے، اس پر اتنی ثابت قدمی سے قائم رہے کہ وہ کام اس کی دوسری فطرت بن جائے۔ جیسے سورج کی فطرت روشنی دینا ہے اور وہ اس سے الگ نہیں ہو سکتا، ویسے ہی اس شخص سے وہ اچھا کام الگ نہ ہو سکے۔ اسی ثابت قدمی کا نام استقامتِ حال اور مداومتِ عمل ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس کی سب سے بڑی مثال ہے — آپ ﷺ جس کام کو شروع فرماتے، اس پر برابر قائم رہتے تھے۔
حوالۂ متن: یہ اقتباس بھی سبق ”اخلاق نبوی“ سے لیا گیا ہے، جس کے مصنف مولانا شبلی نعمانی ہیں اور جو کتاب ”سیرت النبی“ (جلد دوم) سے ماخوذ ہے۔ سیاق و سباق: یہ جملہ سبق کے ”تواضع“ والے حصے سے ہے، جہاں مصنف بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی عاجزی اور انکساری کیسی تھی۔ تشریح: اس جملے میں مصنف گنواتا ہے کہ آپ ﷺ اپنے گھر کے چھوٹے سے چھوٹے کام خود کرتے تھے — کپڑوں میں پیوند لگانا، جھاڑو دینا، دودھ دوہنا، بازار سے سودا لانا اور اپنا بوجھ خود اٹھانا۔ ان کاموں میں آپ ﷺ کو کوئی شرم یا عار محسوس نہ ہوتی تھی، حالانکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول اور امت کے سردار تھے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اصل بڑائی یہ نہیں کہ آدمی چھوٹے کاموں سے بچے، بلکہ یہ ہے کہ وہ چھوٹے کام کرنے میں بھی کوئی عار نہ سمجھے، اور غریبوں و مسکینوں کے ساتھ بیٹھنے اور کھانے میں بھی کوئی جھجک محسوس نہ کرے۔ یہی تواضع ہے، اور یہی مداومتِ عمل کا ایک چہرہ ہے — کیونکہ یہ ایک دن کا دکھاوا نہیں تھا، روز کا معمول تھا۔
ہماری زندگی میں حسنِ خلق کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ ہے کہ انسان کا اصل تعارف اس کے اخلاق سے ہوتا ہے، نہ کہ اس کی دولت یا عہدے سے۔ جس شخص کا اخلاق اچھا ہو، لوگ اس سے محبت کرتے ہیں، اس پر اعتماد کرتے ہیں اور اس کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں؛ اور جس کا اخلاق برا ہو، لوگ اس سے دور بھاگتے ہیں، چاہے وہ کتنا ہی امیر یا طاقتور کیوں نہ ہو۔ حسنِ خلق کا مطلب ہے: ملتے وقت پہلے سلام کرنا، دوسرے کی بات پوری توجہ سے سننا، کسی کی دل آزاری نہ کرنا، غصے پر قابو پانا، اور چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں سے ادب سے پیش آنا۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس کی سب سے بڑی مثال ہے — آپ ﷺ نے حسنِ خلق سے دشمنوں کو بھی دوست بنا لیا، اور اسی اخلاق کی وجہ سے لوگ آپ ﷺ کے قریب آئے۔ آج بھی اگر ہم اپنے گھر، اسکول اور معاشرے میں حسنِ خلق کو اپنا لیں — یعنی نرمی سے بات کریں، دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیں، اور غصے کے بجائے برداشت سے کام لیں — تو ہمارے تعلقات مضبوط ہوں گے، جھگڑے کم ہوں گے، اور معاشرہ امن و محبت کا گہوارہ بن جائے گا۔ اسی لیے حسنِ خلق صرف ایک خوبی نہیں، بلکہ کامیاب زندگی کی بنیاد ہے۔ (نوٹ: یہ نمونہ پیراگراف ہے — طالب علم اسے اپنے الفاظ میں لکھ سکتا ہے، اصل بات یہ ہے کہ حسنِ خلق کی اہمیت مثالوں کے ساتھ واضح ہو۔)
یہ سبق شبلی نعمانی کی کتاب سیرت النبی (جلد دوم) سے لیا گیا ایک اخلاقی مضمون ہے۔ اس کا مرکزی خیال مداومتِ عمل ہے: اچھا کام اختیار کر کے اس پر اس قدر قائم رہنا کہ وہ فطرتِ ثانیہ بن جائے۔ اسی ایک اصول کی چھ تصویریں سبق میں دکھائی گئی ہیں:
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے چھ عنوانات کی ترتیب یاد کریں — مداومت، حسنِ خلق، ایثار، تواضع، بچوں پر شفقت، کرمِ طبعی، اولاد سے محبت۔ پھر ہر عنوان کے نیچے ایک کہانی یاد کریں: مسجد میں ردا بچھانا، فاطمہؓ کی گھسی ہتھیلیاں، قریشی عورت کا بیٹا، سواری پر بچہ، زاہرؓ کے دام، اور ہاتھی دانت کے کنگن۔ پھر مشق کے جوابات پڑھیں — خاص طور پر سوال ۱ کے پانچ جواب اور سوال ۲ کے پانچ درست جواب۔ آخر میں فعل لازم و متعدی کا جدول اور سیاق و سباق والی دونوں تشریحیں ایک بار خود لکھ کر دیکھیں۔
This lesson, taken from volume 2 of Shibli Nomani's Seerat-un-Nabi, is one moral essay built on a single idea: mudawamat-e-amal — holding to a chosen good deed so steadily that it becomes second nature. The lesson shows that one idea in six pictures:
Revision guidance: first learn the six headings in order — mudawamat, husn-e-khulq, eesaar, tawazo, love for children, karam-e-tabee, love for one's own children. Then attach one story to each: the sheet spread in the mosque, Fatima's worn palms, the Qurayshi woman's son, the child on the ride, Zahir's price, and the ivory bangles. Then read the exercise answers — especially the five short answers and the five correct-choice answers. Finally, write out the lazim/muta'addi table and both context-based explanations once by hand.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 3 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu