FSc Part 1 Urdu Chapter 4 Complete Guide Book — فاقہ میں روزہ

FSc Part 1 Urdu Chapter 4 — فاقہ میں روزہ
Home > PunjabTest.com > FSc Part 1 > Urdu — all chapters > Chapter 4: فاقہ میں روزہ

اس chapter میں topics (Topics in this chapter)

  1. Musannif ka Taaruf — Khwaja Hasan Nizami
  2. Dilli Jab Zinda Thi — Mirza Salim Bahadur
  3. Jama Masjid ki Bahar — Quran, Fiqh aur Iftar
  4. Do Zamane — Shaan se Tabahi Tak
  5. Qila Chhorna — Mirza Shahzor ki Kahani
  6. گاؤں میں نئی زندگی — سیلاب اور موت
  7. فاقہ میں روزہ — دعا, زکوٰۃ اور غیرت
  8. Markazi Khayal, Usloob aur Mushkil Alfaaz
  9. 📝 Official Exercise Questions — with Answers
  10. 📌 Chapter Summary & Guidance
The Author — Khwaja Hasan Nizami (1878–1955)مصنف کا تعارف — خواجہ حسن نظامی
🏷 Tags: Khwaja Hasan Nizami, Syed Ali Hasan, Nizamuddin Auliya, dargah, Begumat ke Ansu
اردو

سبق شروع کرنے سے پہلے یہ جان لو کہ یہ کہانی کس نے لکھی اور کیوں۔ مصنف کا اصل نام سید علی حسن تھا۔ وہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کی نسل سے تھے اور ساری زندگی اسی درگاہ کے سائے میں گزاری — درگاہ کے متولی تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی؛ کتابوں کا شوق تھا، اپنی ہمت اور شوق سے پڑھا۔ شروع میں کتابیں بیچتے تھے، پھر کتابیں لکھنے لگے اور رسالوں کے مدیر ہوئے، اور ساری زندگی تصنیف و تالیف میں گزار دی۔

انہوں نے بے شمار مضامین، پمفلٹ اور کتابیں لکھیں۔ موضوعات کا تنوع ان کا خاصہ تھا — روحانیات اور مذہبیات سے لے کر عملی زندگی تک ہر موضوع پر لکھا — لیکن ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی اور مغلیہ خاندان کی بربادی ان کے خاص موضوعات تھے۔ ان کی اہم کتابوں میں ”بیگمات کے آنسو“، ”سی پارہ دل“، ”غدرِ دلی کے افسانے“ اور ”مضامینِ حسن نظامی“ زیادہ مشہور ہیں۔ یہی سبق ”فاقہ میں روزہ“ ان کی کتاب ”بیگمات کے آنسو“ سے لیا گیا ہے — سبق کے آخر میں بھی یہی حوالہ درج ہے۔

ان کا اسلوب سادہ، رواں اور دل میں اترنے والا ہے۔ وہ اپنے دور کی دلی کی بولی ہوئی، شستہ اور صاف زبان استعمال کرتے ہیں، جس میں بے تکلفی بھی ہے اور چستی بھی۔ معمولی چیز کو موضوع بنا لیتے ہیں اور بات سے بات پیدا کرتے چلے جاتے ہیں — ایک کھلے ذہن اور کھلے دل والے صوفی کا انداز۔ کتاب میں اس سبق کے تدریسی مقاصد بھی درج ہیں: طلبہ کے ادبی ذوق کی تربیت کرنا، ان کے سماجی، سیاسی اور اخلاقی شعور میں اضافہ کرنا، ”فاقہ میں روزہ“ جیسے مضامین میں غربت اور مسائل کی حالت بیان کرنے کا ڈھنگ اور خواجہ حسن نظامی کے مقصدِ تحریر کو سمجھنا، اور طلبہ میں ہمدردی اور دوسروں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنے کی ترغیب پیدا کرنا۔

ENGLISH

Before the story, meet the man who wrote it. The author's real name was Syed Ali Hasan. He was a descendant of Hazrat Khwaja Nizamuddin Auliya, spent his whole life in the shadow of that dargah in Delhi, and served as its mutawalli (custodian). Remarkably, he had no formal education: a love of books drove him to teach himself. He began by selling books, then went on to write them and edit magazines, spending his life in writing and compilation.

He wrote countless essays, pamphlets and books on an unusually wide range of subjects — from spirituality and religion to everyday practical life — but two subjects were closest to his heart: the War of Independence of 1857 and the ruin of the Mughal family. His best-known books are Begumat ke Ansu, Si Para Dil, Ghadar-e-Dilli ke Afsane and Mazameen-e-Hasan Nizami. This very lesson, "فاقہ میں روزہ", اس taken from Begumat ke Ansu, as the note at the end of the lesson confirms.

His style is simple, flowing and affecting: the living, polished, spoken language of Delhi of his day, informal yet brisk and balanced. He could take an ordinary thing as his subject and spin thought after thought out of it — the manner of an open-minded, open-hearted Sufi. The book lists this lesson's teaching aims too: to train the students' literary taste, to widen their social, political and moral awareness, to help them grasp how poverty and hardship are described and what Nizami's purpose in writing is, and to grow sympathy and kind dealing with others in them.

Musannif ki zindagi ka timeline
Musannif ki zindagi ka timeline samjho: یہ خاکہ دیکھو: ۱۸۷۸ء میں دلی میں پیدائش، درگاہ سے وابستگی، خود اپنی محنت سے علم، پھر وہ کتابیں جن میں مغل دلی کی بربادی کا درد محفوظ ہے۔ مصنف کو جانے بغیر سبق آدھا رہتا ہے — اب کہانی شروع کرو۔
When Delhi Was Alive — Mirza Salim Bahadurدلی جب زندہ تھی — مرزا سلیم بہادر
🏷 Tags: Old Delhi, Lal Qila, Timurids, Mirza Salim Bahadur, Bahadur Shah, music, Ramadan
اردو

کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب دلی زندہ تھی اور ہندوستان کا دل کہلانے کا حق رکھتی تھی، اور لال قلعہ پر تیموریوں کا آخری نشان لہرا رہا تھا۔ یہ ابھی دنوں کا ذکر ہے — یعنی زیادہ پرانی بات نہیں — کہ مرزا سلیم بہادر، جو ابوظفر بہادر شاہ کے بھائی تھے، اپنے مردانہ مکان میں بیٹھے ہوئے دوستوں سے بے تکلفانہ باتیں کر رہے تھے۔ بے تکلفانہ کا مطلب ہے بلا جھجک، دوستوں والی بے ساختہ بات چیت۔

اتنے میں زنان خانہ سے ایک لونڈی باہر آئی اور ادب سے عرض کیا کہ حضور! بیگم صاحبہ یہ فرماتی ہیں — اور مرزا سلیم فوراً محل میں چلے گئے، اور تھوڑی دیر میں مغموم واپس آئے، یعنی غمگین اور بجھے ہوئے۔ ایک بے تکلف ندیم نے عرض کیا: ”خیر باشد! مزاجِ عالی مکنہ رپاتا ہوں۔“ مرزا نے مسکرا کر جواب دیا: ”نہیں کچھ نہیں۔“ یہ جملہ سبق کی مشق میں بھی پوچھا گیا ہے، اس لیے اسے الگ سے سمجھو: ”خیر باشد“ یعنی خیریت ہو، اور ”مزاجِ عالی“ یعنی آپ کا مزاجِ مبارک — ندیم ادب سے پوچھ رہا ہے کہ حضور کا مزاج کیوں بجھا ہوا معلوم ہوتا ہے؟ مرزا پہلے ٹال جاتے ہیں، پھر اصل بات بتاتے ہیں۔

اصل بات یہ تھی کہ بعض اوقات انہاں حضرت — یعنی بیگم صاحبہ — خواہ مخواہ ناراض ہو جاتی ہیں۔ کل شام کو افطاری کے وقت نقشِ خان گویا گار رہا تھا اور میرِ اول بہلا رہا تھا — یعنی گانے بجانے والے گا رہے تھے اور سازندے بجا رہے تھے — اس وقت انہاں حضرت قرآن شریف پڑھا کرتی تھیں، اور ان کو یہ شوغل ناگوار معلوم ہوا۔ آج ارشاد ہوا ہے کہ رمضان میں گانے بجانے کی محفلیں بند کر دی جائیں۔ مرزا کہتے ہیں: بھلا میں اس تفریح کی عادت کو کیوں کر چھوڑ سکتا ہوں؟ ادب کے لحاظ سے قبول تو کر لیا، مگر اس پابندی سے جی اکھٹا ہے — حیران ہوں کہ یہ سلوک دن کیوں کر بسر ہوں گے۔ دیکھو، یہاں ایک شہزادے کی چھوٹی سی پریشانی کہانی کا دروازہ کھولتی ہے: وہ تفریح جو چھن گئی، اس کی جگہ ایک ایسی بہار ملے گی جس کا اسے اندازہ نہیں۔

ENGLISH

The story opens at a time when Delhi was alive and deserved to be called the heart of India, and the last banner of the Timurids still flew over the Red Fort. It is the talk of days not long past: Mirza Salim Bahadur, brother of Abu Zafar Bahadur Shah, was sitting in his men's quarters chatting informally with friends. Be-takallufana means without formality — the easy talk of friends.

Just then a maid came out from the women's quarters and respectfully said that Begum Sahiba wished something — and Mirza Salim went inside at once, returning a little later maghmoom, downcast and sad. An informal companion asked: "Khair bashad! Mizaj-e-aali maknah rapata hun" — "All is well, I hope! Your noble temper seems cast down." Mirza smiled and answered, "Nothing at all." Learn this sentence well, because the exercise asks about it: "Khair bashad" is a wish for well-being, and "mizaj-e-aali" is a respectful way of saying "your honour's mood" — the companion is politely asking why his master looks low. Mirza brushes it off first, then tells the real story.

The real story was that inhaan Hazrat — Begum Sahiba — sometimes grew angry for no good reason. The previous evening at iftar time the musicians had been singing and the players playing — while she was reciting the Holy Quran at that hour, and the music displeased her. So an order came that very day: the musical gatherings in Ramadan must stop. Mirza says: how could I possibly give up this habit of entertainment? Out of respect he accepted, but his heart sank under the restriction — he wondered how these days would ever pass. Notice how a prince's small annoyance opens the door of the story: the entertainment taken away will be replaced by a springtime he cannot yet imagine.

Purani Dilli aur Lal Qila
Purani Dilli aur Lal Qila samjho: لال قلعہ، آخری تیموری نشان، اور ایک شہزادہ جس کی شام کی تفریح بند ہو گئی — یہی وہ دلی ہے جس کی بہار اگلے حصے میں جامع مسجد میں نظر آئے گی، اور جس کی بربادی بعد میں دل دہلا دے گی۔
The Springtime of Jama Masjid — Quran, Fiqh and Iftarجامع مسجد کی بہار — قرآن، فقہ اور افطار
🏷 Tags: Jama Masjid, Quran daur, fiqh, tawajjuh, muraqaba, wazaif, iftar khawan, begums, umara
اردو

مصاحب نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا: ”حضور! یہ بھی کوئی پریشان ہونے کی بات ہے — شام کو افطاری سے پہلے جامع مسجد تشریف لے چلا کیجیے — عجب بہار ہوتی ہے — رنگ برنگ کے آدمی، طرح طرح کے جنگلے دیکھنے میں آئیں گے — خدا کے دن ہیں، خدا والوں کی بہار بھی دیکھیے۔“ مرزا نے اس صلاح کو پسند کیا اور دوسرے دن مصاحبوں کو لے کر جامع مسجد پہنچے — وہاں جا کر عجب عالم دیکھا۔

ذرا اس منظر کو ٹھہر کر دیکھو، کیونکہ مشق میں یہی پوچھا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے جامع مسجد میں کیا منظر دیکھا۔ جگہ جگہ حلقہ بنائے لوگ بیٹھے ہیں — کہیں قرآن شریف کے دور ہو رہے ہیں، یعنی لوگ ایک دوسرے کو قرآن سنا رہے ہیں اور سن رہے ہیں؛ رات کے قرآن سنانے والے خطا واپس میں ایک دوسرے کو قرآن سنا رہے ہیں — کہیں مسائل پر گفت و گو ہو رہی ہے، وہ عالم کسی فقہی مسئلہ پر بحث کرتے ہیں اور نشیوں آدمی اور گرد بیٹھے مزے سے سن رہے ہیں؛ کسی جگہ توجہ اور مراقبے کا حلقہ ہے — یعنی اللہ کی طرف دل لگانے اور دھیان کی مجلس؛ کہیں کوئی صاحب وظائف میں مشغول ہیں، یعنی اذکار و اوراد پڑھ رہے ہیں۔ الغرض مسجد میں چاروں طرف اللہ والوں کا ہجوم ہے۔ ”کُل جدید لذیذ“ — ہر نئی چیز حسرت سے اور معلوم ہوتی ہے، یعنی نئی چیز ہمیشہ لذیذ لگتی ہے — یہ حاشیے کی وضاحت بھی یاد رکھو۔ مرزا کو یہ نظارہ نہایت پسند آیا اور وقت بہت لطف سے کٹ گیا — اتنے میں افطار کا وقت قریب آیا۔

پھر افطاری کا وہ منظر آتا ہے جو دلی کی شان کا ثبوت ہے: سیکڑوں خوان افطاری کے آنے لگے اور لوگوں میں افطاریاں تقسیم ہونے لگیں۔ خاص محلِ سلطانی سے متعدد خوان مختلف چیزوں سے آراستہ روزانہ جامع مسجد میں بھیجے جاتے تھے تاکہ روزہ داروں میں افطاری تقسیم کی جائے۔ اس کے علاوہ قلعہ کی تمام بیگمات اور شہر کے سب امراء علیحدہ سے افطاری کے سامان بھیجتے تھے، اس لیے ان خوانوں کی گنتی سیکڑوں تک پہنچ جاتی تھی۔ چوں کہ ہر امیر کوشش کرتا تھا کہ اس کا سامانِ افطاری دوسروں سے بڑھ کر ہو، اس لیے رنگ برنگ کے خوان پوش اور ان پر منقش جھاریاں ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر ہوتی تھیں — خوان پوش وہ کپڑا ہے جس سے کھانے کا خوان ڈھکا جاتا ہے، اور جھاری پانی کا برتن — اور مسجد میں ان کی عجب آرائش ہو جاتی تھی۔ مرزا کے دل پر اس چرچے اور شان و شوکت نے بڑا اثر ڈالا اور اب وہ برابر روزانہ مسجد میں آنے لگے — یہی اس سوال کا جواب ہے کہ مرزا صاحب روزانہ مسجد کیوں آنے لگے: اس بہار، اس چرچے اور اس شان نے ان کا دل موہ لیا تھا۔

ENGLISH

The companion, hands folded, submitted: "Sir! Is this anything to be troubled about? Just come to Jama Masjid before iftar in the evening — it is a wonderful springtime there — men of every colour, spectacles of every kind to see — these are God's days, so come and see the springtime of God's people too." Mirza liked the advice, and the next day, taking his companions, he reached Jama Masjid — and saw a wondrous world.

Pause over this scene, because the exercise asks exactly what Mirza Sahib saw in Jama Masjid. People sat in circles everywhere — somewhere daur of the Holy Quran were going on, people reciting the Quran to one another and listening; the night's reciters rehearsing with each other; somewhere a discussion of religious questions, scholars debating a point of fiqh while ordinary men sat around listening with delight; somewhere a circle of tawajjuh and muraqaba — turning the heart to God and meditation; somewhere a gentleman absorbed in wazaif, devotional recitations. In short, the mosque was crowded on all sides with people of God. "Kull-e-jadeed lazeez" — every new thing tastes delicious, as the footnote explains: a new thing always feels delightful. Mirza loved the spectacle, and his time passed most pleasantly — and then iftar time drew near.

Then comes the iftar scene that proves Delhi's grandeur: hundreds of food trays began arriving and iftaris were distributed among the people. From the royal palace itself, several trays adorned with different delicacies were sent daily to Jama Masjid to be shared among the fasting. Besides that, all the begums of the fort and all the nobles of the city sent iftar provisions separately, so the trays numbered in the hundreds. And since every noble tried to make his iftar better than the others', the colourful khawan-posh (cloth covers for the trays) and engraved water jugs outdid one another — and the mosque was marvellously decorated with them. This fame and splendour deeply affected Mirza's heart, and now he began coming to the mosque every single day — and that is the answer to why he came daily: that springtime, that fame and that splendour had won his heart.

Jama Masjid ki iftar ki bahar
Jama Masjid ki iftar ki bahar samjho: یہ تصویر اسی بہار کی ہے: غروب کے وقت مسجد کے صحن میں حلقے، قرآن کی آوازیں، اور افطار کے خوان — وہ دلی جو ابھی زندہ تھی، اور جس کی یاد بعد میں آنسو بن جائے گی۔
Two Ages — From Glory to Ruinدو زمانے — شان سے تباہی تک
🏷 Tags: 1857, ruin, mosque as stable, dates and sev, hope, masjid abad
اردو

یہاں کہانی کا راوی بدلتا ہے، اور یہ سمجھنا سب سے ضروری ہے۔ مرزا سلیم کے بھانجے مرزا شہزور — جن کی صحبت میں مصنف بے تکلف شریک ہوا کرتے تھے — ان کا بیان ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک تو وہ وقت تھا جو آج خواب و خیال کی طرح یاد آتا ہے، اور ایک وہ وقت آیا کہ دلی زیر و زبر ہو گئی — قلعہ برباد کر دیا گیا — امیروں کو پھانسیاں مل گئیں — ان کے گھر اُجڑ گئے — ان کی بیگمات ماما گیری کرنے لگیں اور مسلمانوں کی سب شان و شوکت تاراج ہو گئی۔ تاراج یعنی لوٹ مار کر برباد کر دینا۔

اس کے بعد ایک دفعہ رمضان شریف کے مہینے میں جامع مسجد جانے کا اتفاق ہوا — کیا دیکھتا ہوں کہ جگہ جگہ چٹے پڑے ہوئے ہیں — سپاہی روٹیاں پکا رہے ہیں — گھوڑوں کے دانے دے رہے ہیں — گھاس کے انبار لگے ہوئے ہیں اور شاہجہاں کی خوب صورت اور بے مثل مسجد اصطبل نظر آتی ہے، یعنی گھوڑوں کا تھان۔ اور پھر جب مسجد واگزار ہوئی — یعنی خالی کرا کر واپس دی گئی — اور سرکار نے اس کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا، تو رمضان ہی کے مہینے میں پھر جانا ہوا — دیکھا کہ چند مسلمان ملے کچیلے کپڑے پہنے بیٹھے ہیں — دو چار قرآن شریف کا دور کر رہے ہیں اور کچھ اسی پریشان حالی میں بیٹھے وظیفہ پڑھ رہے ہیں — افطاری کے وقت چند آدمیوں نے کھجوریں اور سیو بانٹ دیں — کسی نے تڑکاری کے قتلے تقسیم کر دیے — نہ وہ اگلا سامان، نہ وہ اگلی چہل پہل، نہ وہ پہلی سی شان و شوکت — یہ معلوم ہوتا تھا کہ بیچارے فلک کے مارے چند لوگ جمع ہو گئے ہیں۔

اس کے بعد آج کل کا زمانہ بھی دیکھا، جب کہ مسلمان چاروں طرف سے دب گئے ہیں — انگریزی تعلیم یافتہ مسلمان تو مسجد میں نظر ہی کم آتے ہیں — غریب غربا آتے تو ان سے روٹی کیا خاک ہو سکتی ہے — پھر بھی نعمت ہے کہ مسجد آباد ہے۔ اور ایک ڈر بھی ہے: اگر مسلمانوں کے افلاس کا یہی عالم رہا تو آئندہ خبر نہیں کیا نوبت آئے۔ یہ جملہ یاد رکھو — اس میں مایوسی نہیں، ایک تنبیہ ہے: مسجد کا آباد رہنا ہی سب سے بڑی نعمت ہے، اور اسی سے امید جڑی ہے۔

ENGLISH

Here the narrator changes, and grasping this matters most. Mirza Shahzor, Mirza Salim's nephew — in whose company the author used to join informally — gives this account. He says: there was one time that today is remembered like a dream, and then came a time when Delhi was turned upside down — the fort was ruined, the nobles were hanged, their houses were destroyed, their begums took to working as maids, and all the Muslims' pomp and glory was taraj, plundered and laid waste.

After that, once in the month of Ramadan Sharif he happened to go to Jama Masjid — what did he see? Mats spread here and there, soldiers baking bread, feeding grain to horses, stacks of hay piled up — and Shahjahan's beautiful, matchless mosque looking like a stable. And then, when the mosque was waguzar — vacated and handed back — and the government returned it to the Muslims, he went again in that same month of Ramadan — and saw a few Muslims sitting in dirty, worn clothes — two or four doing the daur of the Holy Quran, and some reciting wazaif in that same distressed state — at iftar time a few men distributed dates and sev (vermicelli), someone shared slices of vegetables — no former provisions, no former bustle, no former glory — it seemed as if a few wretches struck down by fate had gathered together.

Then he saw the present age too, when Muslims have been pressed down on every side — English-educated Muslims are hardly seen in the mosque at all — and what bread could the poor possibly provide? And yet, it is a blessing that the mosque is still inhabited. And there is a warning too: if the Muslims' poverty stays like this, who knows what turn things will take next. Remember this sentence — it is not despair, it is a warning: the mosque's being alive is itself the greatest blessing, and hope hangs from it.

Pehle aur baad ka farq
Pehle aur baad ka farq samjho: دائیں بائیں کا یہ فرق ہی سبق کی جان ہے: سینکڑوں خوان بمقابلہ کھجور اور سیو، شان و شوکت بمقابلہ ملے کچیلے کپڑے — اور پھر بھی مسجد آباد ہے۔ اسی فرق کے بیچ میں شہزور کی اپنی کہانی آتی ہے۔
Leaving the Fort — Mirza Shahzor's Story Beginsقلعہ چھوڑنا — مرزا شہزور کی کہانی
🏷 Tags: 1857, Bahadur Shah, raths, Shahdara, Qutb Sahab, Gujjars, Chhatarpur, mother's lament, Mew village, chopaal
اردو

مرزا شہزور کی باتوں میں بڑا درد اور اثر تھا۔ ایک دن مصنف نے ان سے ندرت کا قصہ اور تباہی کا فسانہ سننا چاہا — وہ آنکھوں میں آنسو بھر لائے اور بیان کرنے میں عذر و مجبوری ظاہر کرنے لگے، لیکن زیادہ اصرار پر اپنی دردناک کہانی اس طرح سنائی۔ یہ حصہ غور سے پڑھو، کیونکہ اسی سے سبق کا اصل دکھ اور اصل سبق نکلتا ہے۔

”جب انگریزی توپوں نے، کرچوں اور سنگینوں نے، پچھانئے توڑ جوڑ نے، ہمارے ہاتھ سے تلوار چھین لی، تاج سر سے اتار لیا، تخت پر قبضہ کر لیا، شہر میں آتش ناک گولیوں کا بیضہ برس چکا، سات پردوں میں رہنے والیاں بے چادر ہو کر بازار میں اپنے وارثوں کی ترپتی ہوئی لاشوں کو دیکھنے نکل آئیں، چھوٹے بن باپ کے بچے ابا ابا پکارتے ہوئے بے یار و مددگار پھرنے لگے، حضورِ ظلِّ سبحانی — جن پر ہم سب کا سہارا تھا، یعنی بادشاہ — قلعہ چھوڑ کر باہر نکل گئے — اس وقت میں نے بھی اپنی بوڑھی والدہ، کم سن بہن اور حاملہ بیوی کو ساتھ لے کر قلعہ چھوڑ دیا۔“ یہی مشق کے سوال (v) کا جواب ہے: قلعہ چھوڑتے وقت شہزور کے ساتھ ماں، بہن اور بیوی تھیں۔

ہم لوگ دو رتھوں میں سوار تھے — سیدھے غازی آباد کا رخ کیا، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ راستہ انگریزی لشکر کی جولان گاہ بنا ہوا ہے، اس لیے شاہدرہ سے واپس ہو کر قطب صاحب چلے اور وہاں پہنچ کر رات کو آرام کیا۔ اس کے بعد صبح آگے روانہ ہوئے — چھتر پور کے قریب گوجروں نے حملہ کیا اور سب سامان لوٹ لیا، مگر اتنی مہربانی کی کہ ہم کو زندہ چھوڑ دیا۔ وہ وقت و دق جنگل، تین عورتوں کا ساتھ — اور عورتیں بھی کیسی! ایک بڑھاپے سے لاچار، وہ قدم چلنا دو بھر — دوسری بیمار اور حاملہ — تیسری دس برس کی نادان لڑکی — عورتیں روتی تھیں اور بین کر کے روتی تھیں — میرا کلیجہ ان کے بین سے پھٹا جاتا تھا۔

والدہ کہتی تھیں: ابھی! ہم کہاں جائیں — کس کا سہارا ڈھونڈیں — ہمارا رتا وقت تو لٹ گیا، تو ٹوٹا بور؟ یا امن کی جگہ تو دے — اس بیمار بیٹی والی کو کہاں لے کر بیٹھوں؟ اس معصوم بچی کو کس کے حوالے کروں؟ جنگل کے درخت بھی ہمارے دشمن ہیں — کہیں یہ سایہ نظر نہیں آتا۔ پھر وہ فقرے آتے ہیں جو مشق کی خالی جگہ میں پوچھے گئے ہیں: والدہ صاحبہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتی تھیں اور سر پکڑ کر بیٹھ جاتی تھیں، اور جب یہ کہتیں: ”تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلواتی ہے جو تاجوں کو ٹھوکریں مارتے تھے — قسمت نے ان کو بے سروساماں کر دیا جو بے سروں کے کام آتے تھے — ہم چنگیزی نسل ہیں جس کی تلوار سے زمین کا بچہ بچہ کانپتا تھا — ہم تیموری اولاد ہیں جو ملکوں کا اور شہریاروں کا شاہ تھا — ہم شاہجہاں کے گھر والے ہیں جس نے ایک قبر پر جوہر نگار بہار دکھا دی اور دنیا میں بے نظیر مسجد دلی کے اندر بنوادی — ہم ہندوستان کے شہنشاہ کے کنبے میں ہیں — ہم عزت والے تھے، زمین میں ہمیں کیوں ٹھکانا نہیں ملتا؟ وہ کیوں سرکشی کرتی ہے؟ آج ہم پر مصیبت ہے — آج ہم پر آسمان روتا ہے —“ تو بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ آخر مجبوراً ان عورتوں کو وہاں اس وادی اور آگے چلنے کی ہمت بندھائی — گاؤں سامنے نظر آتا تھا — یہ گاؤں مسلمان میوؤں کا تھا — انہوں نے ہماری خاطر کی اور اپنی چوپاڑ میں ہم کو ٹھہرایا دیا، یعنی گاؤں کی بیٹھک اور مہمان خانہ۔

ENGLISH

There was great pain and power in Mirza Shahzor's words. One day the author wished to hear from him the tale of rarity and the story of ruin — his eyes filled with tears and he made excuses, pleading helplessness — but on insistence he told his painful story in this way. Read this part carefully, because from it comes both the lesson's real grief and its real moral.

"When the English cannons, the swords and bayonets, the breakers and joiners, snatched the sword from our hands, took the crown from our heads, seized the throne, when a rain of fiery bullets had fallen on the city, when women who lived behind seven veils came out unveiled into the bazaars to see the writhing bodies of their heirs, when little fatherless children wandered helpless crying 'Abba, Abba', when Huzoor Zill-e-Subhani — the Emperor, on whom all our support rested — left the fort and went out — then I too, taking my aged mother, my young sister and my pregnant wife, left the fort." That is the answer to exercise question (v): when leaving the fort, Shahzor had with him mother, sister and wife.

We were riding in two raths (carriages) — we headed straight for Ghaziabad, but later learned that road had become the marching ground of the English army, so turning back from Shahdara we went to Qutb Sahab and rested there for the night. Next morning we set out again — near Chhatarpur the Gujjars attacked and looted all our goods, but showed so much mercy as to leave us alive. That was a harsh, narrow jungle, with three women along — and what women! One helpless with old age, every step an effort — the second ill and pregnant — the third an innocent girl of ten — the women wept and wailed, and my heart nearly burst at their wailing.

The mother would say: my child! Where shall we go — whose support shall we seek? Our golden time has been looted — give us even a broken shelter, or a place of peace — where shall I seat this sick daughter? To whom shall I entrust this innocent child? Even the trees of the jungle are our enemies — nowhere is there any shade to be seen. Then come the lines asked in the fill-in-the-blanks: the mother stumbled at every step and sat holding her head, and whenever she said: "Fate makes those stumble who used to kick crowns aside — fortune has left destitute those who used to help the destitute — we are the Chengizid race, at whose sword every child of the earth trembled — we are Timur's descendants, who were kings of countries and emperors — we are Shahjahan's household, who showed a jewelled springtime upon a single grave and built the matchless mosque inside Delhi — we are of the family of India's emperor — we were people of honour, why does the earth give us no abode? Why does it rebel against us? Today calamity is upon us — today the sky weeps over us" — the hair on one's body stood on end. At last, of necessity, he gave the women courage to go on — the village was in sight — it was a village of Muslim Meos — they treated us kindly and lodged us in their chopaal, the village guest-house and meeting place.

Qila chhorne wala qafla
Qila chhorne wala qafla samjho: یہی وہ قافلہ ہے: دو رتھ، تین عورتیں، لوٹا ہوا سامان، اور ایک ماں جس کے فقرے تاریخ بن گئے — تاجوں کو ٹھوکر مارنے والے آج ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اسی قافلے کے ساتھ گاؤں چلو، جہاں سبق کا سب سے کٹھن حصہ انتظار کر رہا ہے۔
A New Life in the Village — Flood and Deathگاؤں میں نئی زندگی — سیلاب اور موت
🏷 Tags: chopaal, khet, sewing, Bhadon fever, flood, charpai, grain, wife's death, gor-e-ghariban, one rupee flour
اردو

کچھ روز تو ان مسلمان گنواروں نے ہمارے کھانے پینے کی خبر گیری کی اور چوپاڑ میں ہم کو ٹھہرائے رکھا، لیکن کب تک یہ بار اٹھا سکتے تھے — اکتا گئے اور ایک دن مجھ سے کہنے لگے: ”میاں جی! چوپاڑ میں برات آنے والی ہے — تو دوسرے چھپر میں چلا جا اور رات دن ٹھالی (بے کار) بیٹھے کیا کرے گا — کچھ کام کیوں نہیں کرتا؟“ میں نے کہا: ”بھائی! جہاں تم کہو گے وہیں جا پڑیں گے — ہمیں چوپاڑ میں رہنے کی ہوس نہیں ہے — جب نے فلک نے عالی شان محل چھین لیے تو اس کچے مکان پر ہم کیا ضد کریں گے — اور رہی کام کرنے کی بات، سو میرا جی تو خود گھبراتا ہے، خالی بیٹھے بیٹھے طبیعت اکتا جاتی ہے — مجھ کو کوئی کام بتاؤ، ہو سکے گا تو آنکھوں سے کروں گا۔“

ان کا چودھری بولا: ”ہم نے بیرا (ہمیں کیا خبر) کہ تم گے کام (کیا کام) کر سکے ہو —“ میں نے جواب دیا: ”میں سپاہی زادہ ہوں — تنخ و تفنگ چلانا میرا ہنر ہے، اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں جانتا —“ گنواروں نے کہنے لگے: ”نہ بابا! یہاں تو بل چلانا ہو گا — گھاس کھودنی پڑے گی — ہم نے تلوار کے بھر کیا کرنے ہیں —“ گنوار کے اس جواب سے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ مجھ کو روتا دیکھ کر گنواروں کو رحم آ گیا اور بولے: ”اچھا! تو ہماری کھیت کی رکھوالی کیا کر اور تیری عورتیں ہمارے گاؤں کے کپڑے سی دیا کریں — فصل پر تجھ کو اناج و دیا کریں گے جو تجھ کو برس دن کو کافی ہو گا۔“ چناں چہ یہی ہو کہ میں سارا دن کھیت پر جانور اڑایا کرتا تھا اور گھر میں عورتیں کپڑے سیتی تھیں۔

ایک دفعہ ایسا ہوا کہ بھادوں کا مہینہ آیا اور گاؤں میں سب کو بخار آنے لگا — میری اہلیہ اور بہن کو بھی بخار نے آن دبایا۔ وہ گاؤں، دوا اور حکیم کا کیا ذکر، خودلوٹ پوٹ کر اچھے ہو جاتے ہیں، مگر ہم کو دواؤں کی عادت تھی — سخت تکلیف اٹھانی پڑی۔ اسی حالت میں ایک دن اس زور کی بارش ہوئی کہ جنگل کا نالہ چڑھ آیا اور گاؤں میں کمر کمر پانی ہو گیا — گاؤں والے تو اس کے عادی تھے، لیکن ہماری حالت اس طوفان کے سبب مرنے سے بدتر ہو گئی۔ بچوں کہ پانی ایک دفعہ ہی رات کے وقت گھس آیا تھا، اس لیے ہماری عورتوں کی چارپائیاں بالکل ہی غرق آب ہو گئیں اور عورتیں چیخیں مارنے لگیں — آخر بڑی مشکل سے چھپر کی بلیوں میں دو چارپائیاں بچھا کر عورتوں کو ان پر بٹھایا — پانی گھنٹا بھر میں اتر گیا، مگر غضب یہ ہوا کہ کھانے کا اناج اور اڑنے کے کپڑے تر کر گیا۔

پچھلی رات میری بیوی کے دردِ زہ شروع ہوا اور ساتھ ہی جاڑے سے بخار بھی لایا — اس وقت کی پریشانی بس بل قلم نہیں — اندھیرا گھپ، مینھی جھڑی، کپڑے سب گیلے — آگ کا سامان ناممکن — حیران تھے، الہی! کیا انتظام کیا جائے؟ درد بڑھتا شروع ہوا اور مریضہ کی حالت نہایت ابتر ہو گئی — یہاں تک کہ وہ تڑپے گلی اور تڑپتے تڑپتے جان دے دی — بچے پیٹ میں ہی رہا۔ بچوں کہ وہ ساری عمر ناز و نعمت میں پلی تھیں، بدر کی ان مصیبتوں ہی کی برکت ان کی ہلاکت کے لیے کافی تھیں — خیر اس وقت تو جان بچ گئی، مگر یہ بعد کا جھٹکا ایسا بڑا لگا کہ جان لے گیا۔ صبح ہوئی — گاؤں والوں کو خبر ہوئی تو انہوں نے کفن وغیرہ منگوا دیا اور دو پہر تک یہ مجتاج شہزادی گورِ غریباں میں ہمیشہ کے لیے جا سوئی، یعنی غریبوں کی قبرستان میں۔ اب ہم کو کھانے کی فکر ہوئی، کیوں کہ اناج سب بھیگ کر سڑ گیا تھا — گاؤں والوں سے بھی مانگتے ہوئے لحاظ آتا تھا — وہ بھی ہماری طرح اس مصیبت میں گرفتار تھے، تاہم بے چارے گاؤں کے چودھری کو خود ہی خیال ہوا اور اس نے قطب صاحب سے ایک روپے کا آٹا منگوا دیا۔

ENGLISH

For some days those simple Muslim villagers looked after our food and drink and kept us lodged in the chopaal — but how long could they bear this burden? They grew weary, and one day said to me: "Mian ji! A wedding party is coming to the chopaal — move to another hut — and what will you do sitting idle day and night? Why don't you do some work?" I said: "Brother! Wherever you tell us, there we shall lie down — we have no craving to stay in the chopaal — when fate has snatched splendid palaces from us, why should we insist on this mud house? And as for work, my own heart is troubled — sitting idle, my nature grows weary — tell me some work, and if I can, I shall do it with my eyes" — that is, gladly, with all my heart.

Their chaudhry said: "How should we know what work you can do?" I answered: "I am a soldier's son — firing the musket is my skill, I know no other work." The villagers said: "No, father! Here you will have to drive the plough — you will have to dig grass — what use have we for a sword?" At the villager's answer tears came to my eyes. Seeing me weep, the villagers took pity and said: "Very well! You guard our fields, and your women shall sew our village's clothes — at harvest we shall give you grain enough for the whole year." And so it came about that all day I scared animals off the field, and at home the women sewed clothes.

Once it happened that the month of Bhadon came and fever spread through the village — my wife and sister were also seized by fever. The villagers, what need had they of medicine or doctor — they rolled about and recovered on their own — but we were used to medicines, and suffered hard. In that very state, one day such heavy rain fell that the jungle stream rose and the village stood in waist-deep water — the villagers were used to it, but our condition in that storm became worse than death. Since the water had rushed in all at once in the night, our women's charpais were completely drowned and the women began to scream — at last, with great difficulty, two charpais were laid on the hut's beams and the women seated on them — the water went down within an hour, but the calamity was that the food grain and the clothes to wear were soaked through.

That same late night my wife's labour pains began, and with the chill, fever came too — the distress of that hour simply cannot be written — pitch darkness, driving rain, all clothes wet, fire impossible — we were bewildered: O God! What arrangement can be made? The pain kept growing and the patient's condition became extremely bad — until she writhed and, writhing, gave up her life — the child remained in the womb. She had been brought up in luxury all her life; the blessings of these very hardships were enough for her death — well, that time her life was saved, but this later shock was so great that it took her life. Morning came — when the villagers heard, they sent for a shroud and such things, and by midday this helpless princess slept for ever in the gor-e-ghariban, the graveyard of the poor. Now we worried about food, for all the grain had soaked and rotted — we felt shy even asking the villagers — they too were caught in the same calamity — yet the poor village chaudhry himself thought of it and sent for one rupee's worth of flour from Qutb Sahab.

سیلاب میں ڈوبا گاؤں
سیلاب میں ڈوبا گاؤں سمجھو: کمر کمر پانی، بھیگا ہوا اناج، اور گورِ غریباں میں سوئی ہوئی ایک شہزادی — یہ وہ مقام ہے جہاں سے سبق کا عنوان جنم لیتا ہے: اب رمضان آ رہا ہے، اور کھانے کو کچھ نہیں۔
The Fast in Hunger — Prayer, Zakat and Honourفاقہ میں روزہ — دعا، زکوٰۃ اور غیرت
🏷 Tags: Ramadan moon, tahajjud dua, water iftar, nidhaal, zakat, five rupees, ghairat, pension
اردو

وہ آٹا نصف کے قریب خرچ ہوا ہو گا کہ رمضان شریف کا چاند نظر آیا — والدہ صاحبہ کا دل بہت نازک تھا — وہ ہر وقت گزشتہ زمانے کو یاد کیا کرتی تھیں — رمضان کا چاند دیکھ کر انضوں نے ایک ٹھنڈا سانس بھر اور چپ ہو گئیں — میں سمجھ گیا کہ ان کو پچھلا زمانہ یاد آ رہا ہے — تسلی کی باتیں کرنے لگا، جس سے ان کو کچھ ڈھارس ہو گئی۔ چار پانچ دن تو آرام سے گزر گئے، مگر جب آٹا ختم ہو چکا تو بڑی مشکل درپیش ہوئی — سوال کرتے ہوئے شرم آتی تھی اور پاس ایک کوڑی نہ تھی — شام کو پانی سے روزہ کھولا — بھوک مارے کلیجہ منھ کو آتا تھا۔

والدہ صاحبہ کی عادت تھی کہ اس قسم کی تکلیف کے وقت بیان کر کے بہت رویا کرتی تھیں، مگر آج بڑے اطمینان سے خاموش تھیں — ان کی خاموشی و اطمینان سے میرے دل کو بھی سہارا ہوا اور چھوٹی بہن کو جس کے چہرے پر بھوک سے ہوائیاں اڑ رہی تھیں، ولولے سا دینے لگا — وہ معصوم بچی میرے سمجھانے پر نڈھال ہو کر چارپائی پر جا پڑی اور تھوڑی دیر میں سو گئی — بھوک میں سو گئی نیند کہاں آتی ہے، بس ایک غوطہ سا تھا — اس غوطہ اور ناتوانی کی حالت میں سحری کا وقت آ گیا — والدہ صاحبہ آٹھیں اور تہجد کی نماز کے بعد جن دردناک الفاظ میں انہوں نے دعا مانگی، ان کا نقل کرنا محال ہے — حاصل مطلب یہ ہے کہ انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا: ”ہم نے ایسا کیا قصور کیا ہے جس کی سزا یہ مل رہی ہے — رمضان کے مہینے میں ہمارے گھر سے سیکڑوں متوں کو کھانا ملتا تھا اور آج ہم خود دانے دانے کو محتاج ہیں اور روزہ پر روزہ رکھ رہے ہیں — خداوندا! اگر ہم سے قصور ہوا ہے تو اس معصوم بچی نے کیا خطا کی جس کے منھ میں کل سے ایک کھیل (لقمہ) اڑ کر نہیں گئی۔“

دوسرا دن بھی یوں ہی گزر گیا اور فاقے میں روزہ در روزہ رکھا — شام کے قریب چودھری کا آدمی دودھ اور مٹھے چاول لایا اور بولا: ”آج ہمارے ہاں نیاز تھی — یہ اس کا کھانا ہے — یہ پانچ روپے نیاز کا ہے — ہر سال بکریوں کی زکوٰۃ میں بکری دیا کرتے ہیں، مگر اب کے نقد دے دیا ہے۔“ یہ کھانا اور روپے مجھ کو ایسی نعمت معلوم ہوئے کہ خوشی خوشی والدہ کے آگے رکھا — وہ قصہ کہنا کہتا جاتا تھا اور خدا کا شکرانہ بجا لاتا جاتا تھا، مگر خبر نہ تھی کہ گردشِ فلک نے مرد کے خیال پر تو اثر ڈال دیا، لیکن عورت ذات توں اپنی قدیمی غیرت داری پر قائم ہے — چناں چہ میں نے دیکھا کہ والدہ کا رنگ متغیر ہو گیا — باوجود قتی (کمزوری) کی ناتوانی کے انھوں نے تیور بدل کر کہا: ”ٹھف ہے تیری غیرت پر — خیرات اور زکوٰۃ لے کر آیا ہے اور خوش ہوتا ہے — ارے اس سے مر جانا بہتر تھا — اگر چہ تم مٹ گئے مگر ہماری حرات نہیں مٹی — میدان میں نکل کر مر جانا یا مار ڈالنا اور تلوار کے زور سے روٹی لینا ہمارا کام ہے — صدقہ خوری ہمارا شیوہ نہیں ہے۔“

والدہ کی ان باتوں سے مجھے پسینہ آ گیا اور شرم کے مارے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے — چاہا کہ اٹھ کر یہ چیزیں واپس کر آؤں، مگر والدہ نے روکا اور کہا: ”خدا ہی کو یہ منظور ہے تو ہم کیا کریں — سب کچھ سہنا ہو گا —“ یہ کہہ کر کھانا رکھ لیا اور روزہ کھولنے کے بعد ہم سب نے مل کر کھایا — پانچ روپے کا آٹا منگوا یا گیا، جس سے رمضان خیر خوبی سے بسر ہو گیا — اس کے بعد چھے مہینے گاؤں میں رہے — پھر دلی چلے آئے — یہاں آ کر والدہ کا انتقال ہو گیا اور بہن کی شادی کر دی — انگریزی سرکار نے میری پانچ روپے ماہوار پنشن مقرر کر دی، جس پر آج کل زندگی کا انحصار ہے۔ یہی وہ اقتباس ہے جس کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح مشق کے سوال ۱۱ میں مانگی گئی ہے۔

ENGLISH

That flour must have been about half spent when the moon of Ramadan Sharif appeared — the mother's heart was very tender — she kept remembering past times — seeing the Ramadan moon she drew a cold sigh and fell silent — I understood that the old days were coming back to her — I began to speak words of comfort, which gave her some support. Four or five days passed in peace, but when the flour ran out, great hardship faced us — we felt ashamed to beg, and had not a single shell (coin) with us — in the evening we broke the fast with water — hunger brought our hearts to our mouths.

The mother's habit was to weep a great deal while describing such suffering, but today she sat silent with great composure — her silence and composure also supported my heart, and I began to encourage the little sister, on whose face hunger had made the colour fly — that innocent child, at my explaining, collapsed nidhaal (exhausted) onto the charpai and fell asleep in a little while — in hunger, where does sleep come from? It was just a swoon — and in that swoon and weakness sehri time arrived — the mother rose, and after the tahajjud prayer, in what painful words she prayed, it is impossible to reproduce — the gist is that she submitted before God: "What fault have we committed, for which this punishment is being given? In the month of Ramadan, food used to go from our house to hundreds of mouths, and today we ourselves are dependent on every single grain, and keeping fast upon fast — O God! If we have committed a fault, what fault has this innocent child committed, into whose mouth not a single morsel has gone since yesterday?"

The second day passed in the same way, and fast upon fast was kept in hunger — near evening the chaudhry's man brought milk and sweet rice and said: "Today we had a niyaz (votive offering) at our house — this is its food — these five rupees are the niyaz money — every year we used to give a goat in the zakat of goats, but this time we have given cash." This food and these rupees seemed such a blessing to me that I joyfully placed them before my mother — telling the story as I went and offering thanks to God — but I did not know that the turning of fate had affected a man's thinking, while womankind still stood firm on its ancient honour — for I saw my mother's colour change — despite the weakness of her frailty she changed her expression and said: "Shame on your sense of honour — you have brought charity and zakat and are happy — better than this would have been to die — even though you have been wiped out, our honour has not been wiped out — to go out into the field and die or kill, and to earn bread by the force of the sword, is our work — living on charity is not our way."

At my mother's words I broke into a sweat, and my hands and feet went cold with shame — I wanted to rise and return these things, but my mother stopped me and said: "If this is what God wills, what can we do? Everything must be borne." Saying this, she kept the food, and after breaking the fast we all ate together — flour worth five rupees was sent for, with which Ramadan passed in safety — after that we stayed six months in the village — then we came to Delhi — here my mother passed away and my sister was married — the English government fixed a monthly pension of five rupees for me, on which my life now depends. This is the very passage whose explanation with context is asked in exercise question 11.

Sahri ki dua wali subah
Sahri ki dua wali subah samjho: اسی تصویر میں سبق کا عنوان زندہ ہے: خالی پلیٹ، پانی کا گھڑا، چارپائی پر سوئی ہوئی بھوکی بچی، اور سحری کے وقت اٹھتی ہوئی ایک ماں کی دعا — فاقہ بھی ہے، روزہ بھی ہے، اور غیرت بھی قائم ہے۔
Theme, Style and Difficult Wordsمرکزی خیال، اسلوب اور مشکل الفاظ
🏷 Tags: theme, ghairat, sabr, frame narrative, glossary, faqa, nidhaal, chopaal, khawan-posh
اردو

اب پورا سبق ایک نظر میں سمیٹ لو۔ مرکزی خیال یہ ہے کہ عزت دولت سے نہیں، غیرت سے ہوتی ہے۔ شہزور کا خاندان تخت سے چوپاڑ تک آ گرتا ہے، بھوک میں روزے رکھتا ہے، مگر ماں کی ایک بات — ”صدقہ خوری ہمارا شیوہ نہیں ہے“ — بتا دیتی ہے کہ غربت جسم کو توڑ سکتی ہے، خاندانی وقار کو نہیں۔ دوسرا خیال یہ ہے کہ تاریخ کا پہیہ گھومتا ہے: جس دلی میں سینکڑوں خوان آتے تھے، وہی دلی کھجور اور سیو پر آ جاتی ہے — اور پھر بھی مسجد آباد رہتی ہے، یعنی امید کا چراغ بجھتا نہیں۔ تیسرا خیال ہمدردی کا ہے: گاؤں کے غریب میو مسلمان، جن کے پاس خود کچھ نہیں، وہی ان شہزادوں کو چوپاڑ، کام اور آٹا دیتے ہیں — انسانیت اونچ نیچ نہیں دیکھتی۔

اسلوب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ کہانی در کہانی ہے: خواجہ حسن نظامی سنتے ہیں، مرزا سلیم بہادر پرانی دلی سناتے ہیں، اور مرزا شہزور اپنی تباہی سناتا ہے۔ اسی لیے کہانی سچی لگتی ہے — جیسے تم کسی بزرگ سے سن رہے ہو، نہ کہ کتاب پڑھ رہے ہو۔ زبان سادہ اور بولی ہوئی دلی کی زبان ہے، مگر جگہ جگہ پرانی دلی کے لفظ — خوان پوش، چوپاڑ، رتھ، نیاز — اس میں رنگ بھرتے ہیں۔ مصنف بات سے بات پیدا کرتا ہے: ایک چھوٹی سی ناراضی (گانے کی محفل بند ہونا) مسجد کی بہار تک لے جاتی ہے، اور مسجد کی بہار بربادی کی یاد تک۔

مشکل الفاظ — آسان معانی: فاقہ = بھوک، کھانے کی کمی؛ مغموم = غمگین؛ بے تکلف = بلا جھجک؛ ندیم = ہم نشین، دوست؛ مزاجِ عالی = آپ کا مزاجِ مبارک (ادب کا جملہ)؛ انہاں حضرت = بیگم صاحبہ (ادب سے)؛ نقشِ خان = گانے والے؛ میرِ اول = سازندوں کا سردار؛ خوان = کھانے کا تھال؛ خوان پوش = خوان ڈھکنے کا کپڑا؛ منقش = نقش و نگار والا؛ جھاری = پانی کا برتن؛ چہل پہل = رونق، آمد و رفت؛ تاراج = لوٹ کر برباد کرنا؛ اصطبل = گھوڑوں کا تھان؛ واگزار = خالی کرا کر واپس دینا؛ چٹ = بچھونا، چٹائی؛ لق و دق = سنسان، ویران جنگل؛ رتھ = سواری کی گاڑی؛ جولان گاہ = فوج کے چلنے پھرنے کی جگہ؛ بین = میت پر رونا پیٹنا؛ چوپاڑ = گاؤں کی بیٹھک، مہمان خانہ؛ ٹھالی = بے کار؛ بیرا = ہمیں کیا خبر (گنواروں کی بولی)؛ بھادوں = ساون کے بعد کا مہینہ؛ غرق آب = پانی میں ڈوبا ہوا؛ دردِ زہ = بچے کی پیدائش کا درد؛ گورِ غریباں = غریبوں کا قبرستان؛ نڈھال = تھکا ہارا، بے حال؛ غوطہ = بیہوشی جیسی جھپکی؛ تہجد = رات کی نفل نماز؛ نیاز = منت کا کھانا؛ زکوٰۃ = فرض صدقہ؛ غیرت = عزت کا احساس؛ صدقہ خوری = خیرات پر گزارا کرنا؛ ماہوار پنشن = ہر مہینے ملنے والی رقم۔ ⚠️ ایک نوٹ: سبق کے تعارف میں اس تحریر کو ”مضمون“ کہا گیا ہے، مگر مشق کا سوال ۲ (ii) اسے افسانہ شمار کرتا ہے — امتحان میں مشق کا جواب لکھیں: افسانہ۔

ENGLISH

Now gather the whole lesson at a glance. The central idea is that honour does not come from wealth, it comes from ghairat (self-respect). Shahzor's family falls from the throne to the chopaal, keeps fasts in hunger — yet the mother's single sentence, "Living on charity is not our way," shows that poverty can break the body but not the family's dignity. The second idea is that history's wheel turns: the Delhi where hundreds of trays arrived comes down to dates and sev — and still the mosque stays inhabited, meaning the lamp of hope is not put out. The third idea is compassion: the poor Meo villagers of the village, who themselves have nothing, are the ones who give these princes a chopaal, work and flour — humanity does not look at high and low.

One special feature of the style is that it is a story within a story: Khwaja Hasan Nizami listens, Mirza Salim Bahadur tells of old Delhi, and Mirza Shahzor tells of his own ruin. That is why the tale feels true — as if you are hearing it from an elder, not reading a book. The language is simple, spoken Delhi Urdu, but old Delhi words here and there — khawan-posh, chopaal, rath, niyaz — colour it. The author spins thought from thought: a small annoyance (the music gathering stopped) leads to the springtime of the mosque, and the mosque's springtime leads to the memory of ruin.

Difficult words — easy meanings: faqa = hunger, lack of food; maghmoom = sad; be-takalluf = without formality; nadeem = companion, friend; mizaj-e-aali = your noble temper (a polite phrase); inhaan Hazrat = Begum Sahiba (respectfully); naqsh-khan = singers; mir-e-awwal = head of the musicians; khawan = food tray; khawan-posh = tray cover cloth; manqash = engraved, decorated; jhari = water jug; chahal-pahal = bustle, coming and going; taraj = plundered and ruined; istabal = stable; waguzar = vacated and returned; chat = mat; laq-o-daq = desolate jungle; rath = carriage; jolan-gah = army's marching ground; bain = wailing for the dead; chopaal = village meeting guest-house; thali = idle; bhadoon = the month after Sawan; gharq-aab = drowned; dard-e-zah = labour pain; gor-e-ghariban = graveyard of the poor; nidhaal = exhausted, collapsed; ghota = swoon-like doze; tahajjud = night voluntary prayer; niyaz = votive food; zakat = obligatory alms; ghairat = sense of honour; sadqa-khori = living on charity; mahwar pension = monthly allowance. ⚠️ One note: the lesson's introduction calls this writing a mazmoon (essay), but exercise question 2(ii) counts it as an afsana (short story) — in the exam, write the exercise's answer: afsana.

Kahani dar kahani ka dhancha
Kahani dar kahani ka dhancha samjho: یہ ڈھانچہ یاد رکھو: مصنف سنتا ہے، سلیم سناتا ہے، شہزور اپنی آپ بیتی سناتا ہے — تین آوازیں، ایک کہانی۔ اور اسی کہانی کے مشکل لفظ اب تمہارے اپنے ہو گئے۔
📝 Official Exercise Questions — with Answers📝 کتابی مشق کے سوالات — جوابات کے ساتھ

کتاب کی مشق (صفحات ۲۶ تا ۲۸) کے تمام حصے یہاں حل کیے گئے ہیں — ۴۲ بلاکس: ۱۔ مختصر جواب (۵)، ۲۔ درست جواب کی نشان دہی (۵)، ۳۔ خالی جگہ (۶)، ۴۔ متن سنانے کی سرگرمی (۱)، ۵۔ بہادر شاہ ظفر کے زوال کی سرگرمی (۱)، ۶۔ عبارت اور سوالات (۵)، ۷۔ مبتدا اور خبر (۱ بلاک میں ۵ جملے)، ۸۔ تراکیب (۸)، ۹۔ محاورات (۷)، ۱۰۔ خلاصہ (۱)، ۱۱۔ سیاق و سباق کی تشریح (۱)، اور آخر میں سرگرمیاں و اساتذہ کی ہدایات (۱)۔ ⚠️ نوٹ: اس مشق میں ”درست جواب کی نشان دہی“ کے ۵ سوالات بھی موجود ہیں — یہ کتاب کے اپنے سوالات ہیں، یہاں کوئی سوال ایجاد نہیں کیا گیا۔ اس سبق کی مشق میں الگ سے کوئی معروضی (MCQ) حصہ نہیں ہے، اس لیے اس کے علاوہ کوئی MCQ نہیں بنایا گیا۔

۱۔ مختصر جواب دیں

۱(الف)۔ ”جب دلی زندہ تھی“ سے کیا مراد ہے؟

اس سے مراد وہ زمانہ ہے جب دلی آباد، با رونق اور طاقتور تھی — جب وہ ہندوستان کا دل کہلاتی تھی، لال قلعہ پر تیموریوں کا نشان لہرا رہا تھا، قلعہ اور شہر میں شان و شوکت تھی، اور جامع مسجد میں رمضان کی بہار اور سیکڑوں خوانوں کی افطاری ہوتی تھی۔ یعنی ۱۸۵۷ء کی تباہی سے پہلے کی دلی، جو اب صرف خواب و خیال کی طرح یاد آتی ہے۔

۱(ب)۔ ”خیر باشد! مزاجِ عالی مکنہ رپاتا ہوں“ — اس جملے کی وضاحت کریں۔

یہ جملہ مرزا سلیم کے بے تکلف ندیم نے اس وقت کہا جب مرزا محل سے مغموم (غمگین) واپس آئے۔ ”خیر باشد“ کا مطلب ہے خیریت ہو، اور ”مزاجِ عالی“ ادب کا جملہ ہے، یعنی آپ کا مزاجِ مبارک۔ ندیم ادب سے پوچھ رہا ہے کہ حضور کا مزاج کیوں بجھا ہوا اور افسردہ معلوم ہوتا ہے؟ مرزا پہلے مسکرا کر ٹال جاتے ہیں — ”نہیں کچھ نہیں“ — اور پھر اصل وجہ بتاتے ہیں کہ بیگم صاحبہ نے رمضان میں گانے کی محفلیں بند کرا دی ہیں۔

۱(ج)۔ مرزا سلیم بہادر کون تھے؟

مرزا سلیم بہادر آخری مغل بادشاہ ابوظفر بہادر شاہ کے بھائی تھے — دلی کے ایک شہزادے، جو لال قلعہ کے دور میں اپنے مردانہ مکان میں دوستوں کے ساتھ بیٹھتے تھے، موسیقی اور تفریح کے شوقین تھے، اور جن کی کہانی کے ذریعے مصنف پرانی دلی کی بہار دکھاتا ہے۔ ان کے بھانجے مرزا شہزور نے بعد میں تباہی کی کہانی سنائی۔

۱(د)۔ جامع مسجد میں مرزا صاحب نے کیا منظر دیکھا؟

مرزا صاحب نے دیکھا کہ جگہ جگہ حلقہ بنائے لوگ بیٹھے ہیں — کہیں قرآن شریف کے دور ہو رہے ہیں اور رات کے قرآن سنانے والے ایک دوسرے کو قرآن سنا رہے ہیں، کہیں عالم کسی فقہی مسئلہ پر بحث کر رہے ہیں اور عام آدمی مزے سے سن رہے ہیں، کسی جگہ توجہ اور مراقبے کا حلقہ ہے، اور کہیں کوئی صاحب وظائف میں مشغول ہیں۔ الغرض مسجد میں چاروں طرف اللہ والوں کا ہجوم تھا، اور افطار کے وقت سیکڑوں خوان آئے — محلِ سلطانی، بیگمات اور امراء کی طرف سے رنگ برنگ کے خوان پوش اور منقش جھاریوں کے ساتھ۔

۱(ہ)۔ مرزا صاحب روزانہ مسجد کیوں آنے لگے؟

اس لیے کہ جامع مسجد کی بہار، وہاں کے چرچے اور شان و شوکت نے ان کے دل پر بڑا اثر ڈالا۔ پہلے دن کا نظارہ انہیں نہایت پسند آیا اور وقت بہت لطف سے کٹ گیا — قرآن کے حلقے، فقہ کی بحثیں، ذکر و مراقبہ، اور افطار کے خوانوں کی آرائش — اس لیے اب وہ برابر روزانہ مسجد میں آنے لگے، اور گھر کی محفلوں کی کمی کا احساس جاتا رہا۔

۲۔ درست جواب کی نشان دہی کریں

۲(i)۔ سبق ”فاقہ میں روزہ“ خواجہ حسن نظامی کی کس تصنیف سے ماخوذ ہے؟

Answer / جواب

جواب: (ج) بیگمات کے آنسو۔ سبق کے آخر میں بھی یہی حوالہ درج ہے — ”(بیگمات کے آنسو)“ — اور مصنف کے تعارف میں اس کتاب کو ان کی اہم کتابوں میں شمار کیا گیا ہے۔

۲(ii)۔ سبق ”فاقہ میں روزہ“ اصنافِ ادب کے لحاظ سے ہے:

Answer / جواب

جواب: (د) افسانہ۔ یہ ایک مختصر کہانی ہے — کردار، مکالمے، ایک مرکزی واقعہ (فاقے میں روزہ) اور ایک نتیجہ — اسی لیے اسے افسانہ شمار کیا جاتا ہے۔ ⚠️ نوٹ: سبق کے تعارف میں اس تحریر کو ”مضمون“ کہا گیا ہے، مگر مشق کا مطلوب جواب افسانہ ہے — امتحان میں یہی لکھیں۔

۲(iii)۔ مرزا شہزور رشتے میں ابوظفر بہادر شاہ کے تھے:

Answer / جواب

جواب: (ب) بھانجے۔ یہ جواب دو باتوں سے نکلتا ہے جو سبق میں درج ہیں: مرزا شہزور مرزا سلیم بہادر کے بھانجے تھے، اور مرزا سلیم بہادر شاہ کے بھائی تھے — اس لیے شہزور بہادر شاہ کے بھی بھانجے ہوئے۔ (یہ استدلال سبق کی دو تصریحات سے اخذ کیا گیا ہے، اس لیے اسے اخذ شدہ جواب سمجھیں۔)

۲(iv)۔ متن کے مطابق جامع مسجد دلی بنوائی تھی:

Answer / جواب

جواب: (الف) شاہجہاں نے۔ ماں کی زبان سے یہی آتا ہے: ”ہم شاہجہاں کے گھر والے ہیں جس نے ایک قبر پر جوہر نگار بہار دکھا دی اور دنیا میں بے نظیر مسجد دلی کے اندر بنوادی۔“

۲(v)۔ قلعہ چھوڑتے وقت مرزا شہزور کے ساتھ تھی:

Answer / جواب

جواب: (الف) ماں، بہن اور بیوی۔ شہزور خود کہتا ہے کہ اس نے اپنی بوڑھی والدہ، کم سن بہن اور حاملہ بیوی کو ساتھ لے کر قلعہ چھوڑ دیا تھا۔

۳۔ متن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مناسب لفظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں

۳(الف)۔ ہم لوگ دو ______ میں سوار تھے۔

رتھوں۔ پورا جملہ: ”ہم لوگ دو رتھوں میں سوار تھے۔“ رتھ سواری کی گاڑی کو کہتے ہیں — قلعہ چھوڑتے وقت خاندان دو رتھوں پر روانہ ہوا تھا۔

۳(ب)۔ حضور ظلِّ سبحانی جن پر ہم سب کا سہارا تھا، ______ چھوڑ کر باہر نکل گئے۔

قلعہ۔ پورا جملہ: ”حضورِ ظلِّ سبحانی جن پر ہم سب کا سہارا تھا، قلعہ چھوڑ کر باہر نکل گئے۔“ ظلِّ سبحانی بادشاہ کے لیے ادب کا لقب ہے۔

۳(ج)۔ تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلواتی ہے جو ______ کو ٹھوکریں مارتے تھے۔

تاجوں۔ پورا جملہ: ”تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلواتی ہے جو تاجوں کو ٹھوکریں مارتے تھے۔“ ماں کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ کبھی تاج و تخت کو حقیر سمجھتے تھے، آج قسمت انہیں ٹھوکریں کھلا رہی ہے۔

۳(د)۔ وہ معصوم بچی میرے سمجھانے پر ______ ہو کر چارپائی پر جا پڑی اور تھوڑی دیر میں سو گئی۔

نڈھال۔ پورا جملہ: ”وہ معصوم بچی میرے سمجھانے پر نڈھال ہو کر چارپائی پر جا پڑی۔“ نڈھال کا مطلب ہے تھکا ہارا، بے حال — بھوک سے بچی کی حالت ایسی تھی کہ وہ گرتے ہی سو گئی، حالانکہ بھوک میں نیند کہاں آتی ہے، بس ایک غوطہ سا تھا۔

۳(ہ)۔ اس غوطہ اور ناتوانی کی حالت میں ______ کا وقت آ گیا۔

سحری۔ پورا جملہ: ”اس غوطہ اور ناتوانی کی حالت میں سحری کا وقت آ گیا۔“ اسی سحری کے وقت والدہ اٹھیں اور تہجد کے بعد وہ دردناک دعا مانگی جو سبق کا سب سے اثر انگیز حصہ ہے۔

۳(و)۔ اس کے بعد چھے مہینے گاؤں میں رہے، پھر ______ چلے آئے۔

دلی۔ پورا جملہ: ”اس کے بعد چھے مہینے گاؤں میں رہے، پھر دلی چلے آئے۔“ وہاں آ کر والدہ کا انتقال ہو گیا، بہن کی شادی کر دی گئی، اور انگریزی سرکار نے شہزور کی پانچ روپے ماہوار پنشن مقرر کر دی۔

۴۔ متن سنانے کی سرگرمی

۴۔ سبق ”فاقہ میں روزہ“ کے متن کو غور سے پڑھیں اور اسے مختصر مگر جامع انداز میں ایک دوسرے کو سنائیں۔ (نمونہ خلاصہ)

نمونہ سناوا: پرانی دلی میں مرزا سلیم بہادر کی شام کی موسیقی کی محفل رمضان میں بند ہو جاتی ہے، تو مصاحب کے مشورے پر وہ جامع مسجد جانے لگتے ہیں، جہاں قرآن کے حلقے اور سیکڑوں خوانوں کی افطاری دیکھ کر ان کا دل موہ لیا جاتا ہے۔ پھر ۱۸۵۷ء کی تباہی آتی ہے — قلعہ برباد، امیر پھانسی، مسجد اصطبل — اور جب مسجد واپس ملتی ہے تو وہاں صرف کھجور اور سیو بانٹے جاتے ہیں۔ اسی پس منظر میں مرزا شہزور اپنی کہانی سناتا ہے: قلعہ چھوڑنا، گوجروں کی لوٹ، گاؤں کی چوپاڑ، سیلاب، بیوی کی موت، اور پھر رمضان میں فاقے کے روزے — یہاں تک کہ چودھری کی نیاز اور پانچ روپے کی زکوٰۃ پر ماں کی غیرت جاگتی ہے، اور آخر میں پانچ روپے کی پنشن پر زندگی کا انحصار رہ جاتا ہے۔ (یہ سرگرمی کا نمونہ ہے — کتاب میں اس کا تیار جواب نہیں دیا گیا۔)

۵۔ بہادر شاہ ظفر کے زوال کی سرگرمی

۵۔ اپنی سابقہ واقفیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بہادر شاہ ظفر کی حکومت کے زوال کے اسباب اور نتائج ایک دوسرے کو بتائیں۔ (نمونہ نکات)

اسباب (سبق کی روشنی میں): انگریزی توپوں، کرچوں اور سنگینوں کی برتری — یعنی جدید اسلحہ کے سامنے پرانی تلوار کا ٹھہر نہ سکنا؛ ۱۸۵۷ء کی جنگ میں شکست؛ قلعہ اور تخت کا چھن جانا؛ امراء کا پھانسی پانا اور گھروں کا اُجڑنا۔ نتائج: مغل خاندان کی بربادی؛ بیگمات کا ماما گیری تک پہنچنا؛ مسلمانوں کی شان و شوکت کا تاراج ہونا؛ جامع مسجد کا اصطبل بننا اور پھر واپسی کے بعد بھی غربت کا دور؛ اور عام مسلمانوں کا دب جانا۔ (یہ سرگرمی کے نمونہ نکات ہیں — کتاب میں ان کا تیار جواب نہیں دیا گیا، اس لیے انہیں اپنی جماعت کی بحث میں اپنے لفظوں میں بیان کریں۔)

۶۔ دی گئی عبارت کو پڑھیں اور پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیں

عبارت: بدعنوانی انگریزی زبان کے لفظ ”کرپشن“ کا اردو ترجمہ ہے — ہر وہ برائی جو معاشرے میں کسی بھی قسم کے فساد کا باعث بنے ”کرپشن“ کہلاتی ہے — رشوت ستانی، سفارش، وعدہ خلافی، جھوٹ، ملاوٹ، تعصب، اقربا پروری، بددیانتی، ہر طرح کی چوری اور دیگر تمام سماجی برائیاں کرپشن ہی کے ذیل میں آتی ہیں — اگر ہم ایک خوش حال، منظم اور پرامن معاشرہ چاہتے ہیں تو ان تمام برائیوں سے نجات ناگزیر ہے — دین اسلام نہ صرف تمام قسم کی کرپشن کو ختم کرنے کی تاکید کرتا ہے بلکہ حضور ﷺ کی سیرتِ اقدس ایسے تمام پہلوؤں کی حامل ہے جس کی پیروی کر کے تمام معاشرتی برائیوں سے بچا جا سکتا ہے اور معاشرے کو خوش حال اور مثالی بنایا جا سکتا ہے — انسدادِ بدعنوانی کے لیے لازم ہے کہ تعلیم کو عام کر کے معاشرتی شعور کو بیدار کیا جائے — جائز و ناجائز اور حلال و حرام کے امتیاز کو لوگوں کے اذہان و قلوب میں بسا دیا جائے — اس کے لیے میڈیا کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے — اگر ہم سچے اور پکے مسلمان بن جائیں اور حب الوطنی کے تقاضوں کو پورا کر لیں تو یقیناً ہمارا معاشرہ اور ہمارا ملک تمام برائیوں سے پاک ہو سکتا ہے۔

۶(۱)۔ بدعنوانی کے لیے انگریزی میں کون سا لفظ مستعمل ہے؟

کرپشن (Corruption)۔ عبارت کے پہلے ہی جملے میں کہا گیا ہے کہ بدعنوانی انگریزی لفظ ”کرپشن“ کا اردو ترجمہ ہے۔

۶(۲)۔ عبارت کے مطابق کون کون سی سماجی برائیاں بدعنوانی میں شامل ہیں؟

رشوت ستانی، سفارش، وعدہ خلافی، جھوٹ، ملاوٹ، تعصب، اقربا پروری، بددیانتی اور ہر طرح کی چوری — اور دیگر تمام سماجی برائیاں بھی کرپشن ہی کے ذیل میں آتی ہیں، کیونکہ ہر وہ برائی جو معاشرے میں فساد کا باعث بنے، کرپشن کہلاتی ہے۔

۶(۳)۔ اسلامی نقطۂ نظر میں معاشرے کو خوش حال اور مثالی کس طرح بنایا جا سکتا ہے؟

اس طرح کہ دین اسلام تمام قسم کی کرپشن کو ختم کرنے کی تاکید کرتا ہے، اور حضور ﷺ کی سیرتِ اقدس میں وہ تمام پہلو موجود ہیں جن کی پیروی کر کے تمام معاشرتی برائیوں سے بچا جا سکتا ہے اور معاشرے کو خوش حال اور مثالی بنایا جا سکتا ہے۔

۶(۴)۔ بدعنوانی کی روک تھام کے لیے معاشرتی شعور کیسے بیدار ہو گا؟

تعلیم کو عام کر کے؛ جائز و ناجائز اور حلال و حرام کے امتیاز کو لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں بسا کر؛ اور اس مقصد کے لیے میڈیا کا استعمال کر کے۔ عبارت کے مطابق یہ تینوں کام مل کر معاشرتی شعور بیدار کرتے ہیں۔

۶(۵)۔ اس عبارت کا مناسب عنوان تجویز کریں۔

”انسدادِ بدعنوانی“ یا ”بدعنوانی اور اس کا سدِّباب“۔ (یہ عنوان تجویز کردہ ہے — عبارت کا موضوع بدعنوانی کی تعریف، اس کی شکلیں اور اس کے خاتمے کا طریقہ ہے، اس لیے یہی عنوان سب سے مناسب ہے۔)

۷۔ جملے کے اجزا — مبتدا اور خبر

قاعدہ: جملے کے دو اجزا ہوتے ہیں — پہلے جز میں کسی شخص یا شے کا ذکر کیا جاتا ہے اور دوسرے جز میں اس شخص یا شے کے بارے میں کچھ بتایا جاتا ہے۔ قواعد کی رو سے پہلے جز کو مبتدا اور دوسرے جز کو خبر کہتے ہیں۔ کتاب کی مثالیں: (الف) بھجیر اور بھجیریا، ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں — مبتدا: بھجیر اور بھجیریا؛ خبر: ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں۔ (ب) میں اور تم مل کر جائیں گے — مبتدا: میں اور تم؛ خبر: مل کر جائیں گے۔ (ج) اچھا آدمی، اچھی بات کہے گا — مبتدا: اچھا آدمی؛ خبر: اچھی بات کہے گا۔

۷۔ اس سبق میں سے کوئی سے پانچ جملے منتخب کریں اور مبتدا اور خبر کے حوالے سے ان کے اجزا بیان کریں۔ (نمونہ)

(۱) ”مرزا سلیم بہادر اپنے مردانہ مکان میں بیٹھے ہوئے دوستوں سے بے تکلفانہ باتیں کر رہے تھے۔“ — مبتدا: مرزا سلیم بہادر؛ خبر: اپنے مردانہ مکان میں بیٹھے ہوئے دوستوں سے بے تکلفانہ باتیں کر رہے تھے۔
(۲) ”ہم لوگ دو رتھوں میں سوار تھے۔“ — مبتدا: ہم لوگ؛ خبر: دو رتھوں میں سوار تھے۔
(۳) ”گاؤں مسلمان میوؤں کا تھا۔“ — مبتدا: گاؤں؛ خبر: مسلمان میوؤں کا تھا۔
(۴) ”والدہ صاحبہ کا دل بہت نازک تھا۔“ — مبتدا: والدہ صاحبہ کا دل؛ خبر: بہت نازک تھا۔
(۵) ”مسجد آباد ہے۔“ — مبتدا: مسجد؛ خبر: آباد ہے۔
(یہ پانچ جملے سبق سے لیے گئے ہیں اور ان کی تقسیم نمونے کے طور پر کی گئی ہے — تم اپنی پسند کے کوئی سے پانچ جملے بھی لے سکتے ہو۔)

۸۔ درج ذیل تراکیب کی وضاحت جملوں میں استعمال کے ذریعے کریں

⚠️ ایک نوٹ: فہرست کی ایک ترکیب اسکین میں ”بے ہزار وقت و دشواری“ جیسی نظر آتی ہے، مگر سبق کے متن میں یہ ”ہزار وقت و دشواری“ ہے — وہی یہاں استعمال کی گئی ہے۔

۸۔ خواہ مخواہ

خواہ مخواہ: وہ خواہ مخواہ مجھ پر ناراض ہو گیا، حالانکہ میں نے کچھ کہا ہی نہیں تھا۔

۸۔ خوانِ پوش

خوانِ پوش: افطاری کے خوانوں پر رنگ برنگ کے خوان پوش ڈالے گئے تھے، جن سے مسجد میں عجب آرائش ہو گئی۔

۸۔ ابوالہول

ابوالہول: وہ ابوالہول کی طرح خاموش بیٹھا رہا اور کسی سوال کا جواب نہ دیا۔

۸۔ بے تکلف

بے تکلف: مرزا سلیم اپنے دوستوں سے بے تکلف باتیں کر رہے تھے، جیسے گھر کے آدمی ہوں۔

۸۔ بے یار و مددگار

بے یار و مددگار: قلعہ چھوڑنے کے بعد شہزور کا خاندان بے یار و مددگار جنگل میں بھٹک رہا تھا۔

۸۔ لق و دق

لق و دق: رات کے وقت لق و دق جنگل میں سوائے ہوا کی آواز کے کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔

۸۔ ہزار وقت و دشواری

ہزار وقت و دشواری: ہزار وقت و دشواری گرتے پڑتے وہ آخر گاؤں میں پہنچے۔

۸۔ ناز و نعمت

ناز و نعمت: وہ ساری عمر ناز و نعمت میں پلی تھی، اس لیے غربت کی سختی اس سے برداشت نہ ہوئی۔

۹۔ درج ذیل محاورات کو اپنے جملوں میں اس طرح استعمال کریں کہ ان کا مفہوم واضح ہو جائے

۹۔ خدا خدا کر کے

خدا خدا کر کے: خدا خدا کر کے وہ گاؤں پہنچے، یعنی بڑی مشکل سے۔

۹۔ دل میں گھر کرنا

دل میں گھر کرنا: مسجد کی بہار نے مرزا کے دل میں گھر کر لیا، یعنی وہ اس کے دل میں بس گئی۔

۹۔ ڈٹ جانا

ڈٹ جانا: مشکل وقت میں بھی وہ اپنے اصول پر ڈٹا رہا، یعنی ثابت قدم رہا۔

۹۔ دل پاش پاش ہونا

دل پاش پاش ہونا: عورتوں کا بین سن کر شہزور کا دل پاش پاش ہو گیا، یعنی دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔

۹۔ حالت غیر ہونا

حالت غیر ہونا: خیرات کا ذکر سنتے ہی والدہ کی حالت غیر ہو گئی، یعنی ان کا رنگ اور تیور بدل گئے۔

۹۔ دل میں بدی آنا

دل میں بدی آنا: کسی کی کامیابی دیکھ کر اس کے دل میں بدی نہیں آنی چاہیے، یعنی برا خیال نہیں آنا چاہیے۔

۹۔ سناٹے میں آ جانا

سناٹے میں آ جانا: رمضان کا چاند دیکھ کر والدہ سناٹے میں آ گئیں، یعنی خاموش حیرت میں ڈوب گئیں۔

۱۰۔ سبق ”فاقہ میں روزہ“ کا خلاصہ تحریر کریں

۱۰۔ سبق ”فاقہ میں روزہ“ کا خلاصہ تحریر کریں۔ (نمونہ خلاصہ)

خواجہ حسن نظامی کا یہ سبق پرانی دلی کی بہار اور اس کی بربادی کی کہانی ہے۔ شروع میں مرزا سلیم بہادر کی شام کی موسیقی کی محفل رمضان میں بند ہو جاتی ہے، تو وہ مصاحب کے مشورے پر جامع مسجد جانے لگتے ہیں، جہاں قرآن کے حلقے، فقہ کی بحثیں اور سیکڑوں خوانوں کی افطاری دیکھ کر ان کا دل موہ لیا جاتا ہے۔ پھر ۱۸۵۷ء کی جنگ سب کچھ الٹ دیتی ہے: قلعہ برباد ہو جاتا ہے، امیر پھانسی پاتے ہیں، اور مسجد اصطبل بن جاتی ہے۔ اسی پس منظر میں مرزا شہزور اپنی آپ بیتی سناتا ہے — قلعہ چھوڑنا، دو رتھوں پر سفر، گوجروں کی لوٹ، جنگل میں ماں کا بین، گاؤں کی چوپاڑ میں پناہ، کھیت کی رکھوالی، سیلاب میں بیوی کی موت، اور پھر رمضان میں فاقے کے روزے۔ جب آٹا ختم ہو جاتا ہے تو ماں تہجد کے بعد رو کر دعا مانگتی ہے، اور اگلے دن چودھری کی نیاز اور پانچ روپے کی زکوٰۃ آتی ہے — جس پر ماں کی غیرت جاگ اٹھتی ہے: صدقہ خوری ہمارا شیوہ نہیں۔ پھر بھی خدا کی مرضی سمجھ کر کھانا رکھ لیا جاتا ہے، رمضان خیر خوبی سے گزر جاتا ہے، چھے مہینے بعد خاندان دلی لوٹتا ہے، ماں کا انتقال ہو جاتا ہے، بہن کی شادی ہو جاتی ہے، اور شہزور کی زندگی پانچ روپے کی ماہوار پنشن پر گزرتی ہے۔ سبق کا پیغام یہ ہے کہ غربت عزت نہیں چھین سکتی، اور مسجد کا آباد رہنا ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔

۱۱۔ سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح

۱۱۔ سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں اور حوالہ متن بھی درج کریں: ”والدہ کی ان باتوں سے مجھے — — — آج کل زندگی کا انحصار ہے۔“

حوالہ متن: یہ اقتباس خواجہ حسن نظامی کی کتاب ”بیگمات کے آنسو“ سے ماخوذ سبق ”فاقہ میں روزہ“ سے لیا گیا ہے۔
سیاق (پہلے کیا ہوا): فاقے کے دوسرے دن شام کو چودھری کا آدمی دودھ، مٹھے چاول اور پانچ روپے کی زکوٰۃ لاتا ہے۔ شہزور خوشی سے یہ چیزیں ماں کے آگے رکھتا ہے، مگر ماں کا رنگ بدل جاتا ہے اور وہ کہتی ہے کہ خیرات اور زکوٰۃ لانا بے غیرتی ہے — مر جانا بہتر تھا، میدان میں مر جانا یا مار ڈالنا اور تلوار کے زور سے روٹی لینا ہمارا کام ہے، صدقہ خوری ہمارا شیوہ نہیں۔
تشریح: ”والدہ کی ان باتوں سے مجھے پسینہ آ گیا“ — یعنی ماں کی غیرت بھری باتوں نے شہزور کو شرم سے پسینہ پسینہ کر دیا، اور اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ وہ چاہتا ہے کہ چیزیں واپس کر آئے، مگر ماں خود روکتی ہے: ”خدا ہی کو یہ منظور ہے تو ہم کیا کریں — سب کچھ سہنا ہو گا۔“ یہ جملہ سبق کا سب سے گہرا موڑ ہے: غیرت اپنی جگہ، مگر خدا کی رضا کے آگے سر جھکانا بھی اسی خاندان کا شیوہ ہے۔ اس لیے کھانا رکھ لیا جاتا ہے، سب مل کر روزہ کھولتے ہیں، پانچ روپے کا آٹا آتا ہے اور رمضان خیر خوبی سے گزر جاتا ہے۔
سباق (اس کے بعد کیا ہوا): اس کے بعد چھے مہینے گاؤں میں رہ کر خاندان دلی چلا آتا ہے — یہاں آ کر والدہ کا انتقال ہو جاتا ہے، بہن کی شادی کر دی جاتی ہے، اور انگریزی سرکار شہزور کی پانچ روپے ماہوار پنشن مقرر کر دیتی ہے، جس پر آج کل زندگی کا انحصار ہے۔ یعنی کہانی ایک شہزادے کی عزت سے شروع ہو کر ایک پنشن پر گزرتی ہوئی زندگی پر ختم ہوتی ہے — اور اسی تضاد میں سبق کا درد اور اس کا پیغام دونوں چھپے ہیں۔

سرگرمیاں برائے طلبہ اور ہدایات برائے اساتذہ کرام

سرگرمیاں و ہدایات۔ سبق کے آخر میں دی گئی سرگرمیاں اور اساتذہ کی ہدایات کیا ہیں؟

سرگرمیاں برائے طلبہ: (۱) خواجہ حسن نظامی کی کتاب ”بیگمات کے آنسو“ کا مطالعہ کریں۔ (۲) ”بیگمات کے آنسو“ کے مجموعے سے ”بنتِ بہادر شاہ“ کا مطالعہ کریں اور اس پر باہمی گفتگو کریں۔
ہدایات برائے اساتذہ کرام: (۱) طلبہ کو خواجہ حسن نظامی کی شخصیت اور فن سے متعارف کرائیں۔ (۲) طلبہ کو جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔ (۳) طلبہ کو مشقتی سوالات اور سرگرمیوں کے حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔

📌 باب کا خلاصہ اور رہنمائی — اس باب میں کیا ہے؟
اردو

یہ سبق پرانی دلی کی بہار اور اس کی بربادی کی کہانی ہے۔ یہ مصنف خواجہ حسن نظامی کے تعارف سے شروع ہوتا ہے، پھر مرزا سلیم بہادر کی شام کی محفل اور جامع مسجد کی بہار دکھاتا ہے، پھر ۱۸۵۷ء کے بعد کی تباہی — مسجد کا اصطبل بننا اور کھجور و سیو پر گزارا — اور پھر مرزا شہزور کی آپ بیتی: قلعہ چھوڑنا، گوجروں کی لوٹ، گاؤں کی چوپاڑ، سیلاب، بیوی کی موت، اور آخر میں فاقے کے روزے، ماں کی دعا، زکوٰۃ پر غیرت، اور پانچ روپے کی پنشن۔ ساتھ لے جانے والا پیغام یہ ہے کہ غربت عزت نہیں چھین سکتی، اور مسجد کا آباد رہنا ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔

نظرثانی کی رہنمائی: پہلے ترتیب یاد کریں — مصنف (سید علی حسن، ۱۸۷۸–۱۹۵۵، بیگمات کے آنسو)؛ سلیم بہادر (بہادر شاہ کے بھائی)؛ مسجد کا منظر (قرآن کے دور، فقہ کی بحث، توجہ و مراقبہ، وظائف، سیکڑوں خوان)؛ بربادی (قلعہ، پھانسی، مسجد اصطبل، کھجور و سیو)؛ شہزور کے ساتھی (ماں، بہن، بیوی)؛ رتھ، چھتر پور، چوپاڑ، سیلاب، گورِ غریباں، ایک روپے کا آٹا؛ فاقے کے روزے، پانی سے افطار، نڈھال بچی، سحری کی دعا، پانچ روپے کی زکوٰۃ، ماں کی غیرت، پانچ روپے کی پنشن۔ پھر مشق کی تیاری کریں: مختصر جواب، درست جواب (افسانہ، بیگمات کے آنسو، بھانجے، شاہجہاں، ماں بہن بیوی)، خالی جگہ (رتھوں، قلعہ، تاجوں، نڈھال، سحری، دلی)، اور سیاق و سباق کی تشریح (والدہ کی باتوں سے پسینہ) — کیونکہ یہی حصے امتحان میں سب سے زیادہ پوچھے جاتے ہیں۔

ENGLISH

This lesson is the story of old Delhi's springtime and its ruin. It opens with the author, Khwaja Hasan Nizami, then shows Mirza Salim Bahadur's evening gathering and the springtime of Jama Masjid, then the ruin after 1857 — the mosque turned into a stable, and life reduced to dates and sev — and then Mirza Shahzor's own tale: leaving the fort, the Gujjars' loot, the village chopaal, the flood, his wife's death, and finally the fasts in hunger, his mother's prayer, honour roused by zakat, and a pension of five rupees. The message to carry away is that poverty cannot snatch honour, and that the mosque staying inhabited is itself the greatest blessing.

Revision guidance: first fix the sequence in memory — the author (Syed Ali Hasan, 1878–1955, Begumat ke Ansu); Salim Bahadur (Bahadur Shah's brother); the mosque scene (Quran daur, fiqh debate, tawajjuh and muraqaba, wazaif, hundreds of trays); the ruin (fort, hangings, mosque as stable, dates and sev); Shahzor's companions (mother, sister, wife); raths, Chhatarpur, chopaal, flood, gor-e-ghariban, one rupee of flour; fasts in hunger, iftar with water, the exhausted child, the sehri prayer, five rupees of zakat, the mother's honour, five rupees pension. Then prepare the exercise: short answers, correct answers (afsana, Begumat ke Ansu, nephew, Shahjahan, mother-sister-wife), fill-ins (raths, fort, crowns, nidhaal, sehri, Delhi), and the context explanation (sweat at the mother's words) — because these are the parts most asked in exams.

🎯 مزید MCQs اور Tests کے لیے

Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:

PunjabTest.com — Tests dekho →

PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 4 (New Book, Session 2026–27) • Urdu + English

← Chapter 3Chapter 5 →