
خارجہ پالیسی اصولوں اور حکمت عملیوں کا وہ مجموعہ ہے جو کسی ریاست کے دوسری ریاستوں اور بین الاقوامی اداروں سے تعلقات کی رہنمائی کرتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد: پرامن بقائے باہمی، دوسروں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، خودمختاری کا احترام، حق خودارادیت کی حمایت (کشمیر، فلسطین)، اور سب سے دوستی، خاص کر مسلم ممالک سے۔
قائد اعظم نے بنیاد رکھی: پاکستان تمام اقوام سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے، خاص کر ہمسایوں سے، اور عالمی امن میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
پاکستان اور چین نے 1951 میں سفارتی تعلقات قائم کیے — پاکستان عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں تھا۔ دوستی کی بنیاد مشترکہ مفادات ہیں: سرحدی معاہدہ (1963)، دفاع، صنعت اور انفراسٹرکچر میں چینی مدد، اور کشمیر و تائیوان پر باہمی حمایت۔
سی پیک (پاک چین اقتصادی راہداری) سب سے بڑا منصوبہ ہے: سڑکیں، ریلوے، توانائی کے منصوبے اور بلوچستان میں گوادر بندرگاہ، جو مغربی چین کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ فوائد: توانائی، روزگار، تجارت اور علاقائی رابطہ۔ قائد اعظم سولر پارک، بہاولپور مشترکہ پاک چین توانائی منصوبہ ہے۔
تقسیم کے وقت جموں و کشمیر مسلم اکثریتی ریاست تھی۔ اس کے حکمران نے اکتوبر 1947 میں بھارت سے الحاق کیا؛ پاکستان اس الحاق کو تسلیم نہیں کرتا۔ پاکستان نے معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا، اور سلامتی کونسل/انسیپ قراردادوں (1948–49) نے رائے شماری کا وعدہ کیا — کشمیری اپنا مستقبل خود چنیں گے۔ رائے شماری آج تک نہیں ہوئی۔
پاکستان کا موقف: کشمیر تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے؛ اس کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حق خودارادیت ملنا چاہیے۔ اگست 2019 میں بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل 370) ختم کی، جس کی پاکستان نے مذمت کی اور اقوام متحدہ میں اٹھایا۔
او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم): اس کا پہلا اجلاس 1969 میں رباط میں ہوا؛ پاکستان اس کا سرگرم رکن ہے اور او آئی سی اجلاسوں کی میزبانی کر چکا ہے۔ ای سی او (اقتصادی تعاون تنظیم) پاکستان، ایران، ترکیہ اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں تجارت کو فروغ دیتی ہے۔ سارک جنوبی ایشیائی ہمسایوں کو جوڑتی ہے۔
آئی ایم ایف (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ): بین الاقوامی مالی تعاون، شرح تبادلہ کے استحکام اور ادائیگیوں کے توازن میں مدد کو فروغ دیتا ہے۔ ورلڈ بینک: ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرض دیتا ہے۔ یورپی یونین: تجارت، تعلیم، انسانی حقوق اور ترقی میں پاکستان سے تعاون کرتی ہے۔
امریکہ: طویل، اتار چڑھاؤ والا تعلق — سرد جنگ کا اتحادی، افغان جنگ کا شراکت دار، اور تجارت و تعلیم میں شراکت دار؛ تفصیل طویل سوالات میں۔ برطانیہ: تاریخی تعلقات، بڑی پاکستانی برادری، دولت مشترکہ کی رکنیت۔ ترکیہ: برادرانہ تعلقات، دفاعی اور ثقافتی تعاون۔
مشرق وسطیٰ: سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خلیجی ریاستوں سے قریبی تعلقات — تجارت، ترسیلات زر، اور لاکھوں پاکستانی مزدور۔ روس: صنعت اور ٹیکنالوجی میں تعاون — سوویت یونین نے پاکستان اسٹیل ملز اور دیگر صنعتی منصوبوں میں مدد کی۔ وسطی ایشیا: پانچ مسلم جمہوریاں — قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، کرغزستان، تاجکستان — تجارت اور ای سی او سے منسلک۔
اس chapter کی official exercise میں کل 18 سوال ہیں: Section 1: Multiple Choice Questions (5 سوال); Section 2: Short Questions (6 سوال); Section 3: Long Questions (7 سوال). MCQs میں درست جواب سبز (green) میں نشان-زد ہے — پہلے خود جواب سوچو, پھر جواب سے ملاؤ.
Answer: (d) Rabat me رباط میں
Answer: (d) 1951 me 1951 میں
Answer: (a) Sabiq Soviet Union ki سابق سوویت یونین کی
Answer: (b) 1949 me (UNCIP ki rai-shumari wali qarardad, 5 January 1949) 1949 میں (انسیپ کی رائے شماری والی قرارداد، 5 جنوری 1949)
Answer: (d) 2019 me (Article 370, August 2019) 2019 میں (آرٹیکل 370، اگست 2019)
Answer: Soviet Union (Roos) ne Pakistan ki bhaari industry me madad ki — sab se bara misaal Pakistan Steel Mills (Karachi), jo Soviet taawun se bani; is ke ilawa fanni tarbiyat aur machinery me bhi madad mili. سوویت یونین (روس) نے پاکستان کی بھاری صنعت میں مدد کی — سب سے بڑی مثال پاکستان اسٹیل ملز (کراچی)، جو سوویت تعاون سے بنی؛ اس کے علاوہ فنی تربیت اور مشینری میں بھی مدد ملی۔
Answer: CPEC — China-Pakistan Economic Corridor: Gwadar Port se Kashgar tak roads, railways aur energy projects; maqsad: tijarat, tawanai, rozgar aur ilaqai rabta. سی پیک — پاک چین اقتصادی راہداری: گوادر بندرگاہ سے کاشغر تک سڑکیں، ریلوے اور توانائی کے منصوبے؛ مقصد: تجارت، توانائی، روزگار اور علاقائی رابطہ۔
Answer: Bain-ul-aqwami maali taawun, sharah-e-tabdila ka istikham, aur mumalik ko balance-of-payments ki mushkil me madad dena. بین الاقوامی مالی تعاون، شرح تبادلہ کا استحکام، اور ممالک کو ادائیگیوں کے توازن کی مشکل میں مدد دینا۔
Answer: تجارت (GSP+), تعلیم, انسانی حقوق, taraqqiati منصوبے, اور maholiyat — EU Pakistan کا بڑا tijarati partner ہے. تجارت (GSP+)، تعلیم، انسانی حقوق، ترقیاتی منصوبے، اور ماحولیات — یورپی یونین پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
Answer: خارجہ policy اصولوں اور حکمتِ عملیوں کا وہ مجموعہ ہے جو کسی ریاست کے دوسری ریاستوں اور bain-ال-ائرپورٹ اداروں سے تعلقات کی رہنمائی کرتا ہے. خارجہ پالیسی اصولوں اور حکمت عملیوں کا وہ مجموعہ ہے جو کسی ریاست کے دوسری ریاستوں اور بین الاقوامی اداروں سے تعلقات کی رہنمائی کرتا ہے۔
Answer: Kazakhstan, Uzbekistan, Turkmenistan, Kyrgyzstan, Tajikistan. قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، کرغزستان، تاجکستان۔
Answer: Usool: pur-aman baqa-e-bahami; adam-mudakhlat; khud-mukhtari ka ehtiram; haq-e-khud-aradiyat ki himayat (Kashmir, Palestine); tamam se dosti, khaas kar Muslim mumalik se; aur aqwam-e-muttahida ke charter ki pabandi. Tajziya: in usoolon ne Pakistan ko kisi aik bloc ka ghulam banne se bachaya, lekin Kashmir par maghrabi bay-hisi aur parosi tanazat ne policy ko sakht imtihan me dala. اصول: پرامن بقائے باہمی؛ عدم مداخلت؛ خودمختاری کا احترام؛ حق خودارادیت کی حمایت (کشمیر، فلسطین)؛ تمام سے دوستی، خاص کر مسلم ممالک سے؛ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پابندی۔ تجزیہ: ان اصولوں نے پاکستان کو کسی ایک بلاک کا غلام بننے سے بچایا، لیکن کشمیر پر مغربی بے حسی اور پڑوسی تنازعات نے پالیسی کو سخت امتحان میں ڈالا۔
Answer: 1950s me sard jung ka ittehad (SEATO/CENTO); 1980s me Afghan jung me shirakat; 2001 ke baad dehshat-gardi ke khilaf jung me taawun; phir adam-etmad aur imdad me kami. Jaiza: taluqat hamesha mufad-parast rahe — jab mushtarika mufad hua, qareeb aaye; jab mufad badla, faasla barha. 1950 کی دہائی میں سرد جنگ کا اتحاد (SEATO/CENTO)؛ 1980 کی دہائی میں افغان جنگ میں شراکت؛ 2001 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون؛ پھر عدم اعتماد اور امداد میں کمی۔ جائزہ: تعلقات ہمیشہ مفاد پرست رہے — جب مشترکہ مفاد ہوا، قریب آئے؛ جب مفاد بدلا، فاصلہ بڑھا۔
Answer: Saudi Arab, UAE اور khaleeji ریاستوں سے مذہبی, tijarati اور مزدوری کے گہرے تعلقات: لاکھوں Pakistani وہاں کام کرتے ہیں اور ترسیلات بھیجتے ہیں; Saudi Arab نے مشکل وقت میں مالی مدد کی; اور Pakistan نے خلیج کی سلامتی میں کردار ادا کیا. سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خلیجی ریاستوں سے مذہبی، تجارتی اور مزدوری کے گہرے تعلقات: لاکھوں پاکستانی وہاں کام کرتے ہیں اور ترسیلات بھیجتے ہیں؛ سعودی عرب نے مشکل وقت میں مالی مدد کی؛ اور پاکستان نے خلیج کی سلامتی میں کردار ادا کیا۔
Answer: Pakistan OIC کا بانی رکن ہے: 1969 کے پہلے اجلاس (Rabat) سے شرکت, OIC اجلاسوں کی میزبانی (masalan Lahore 1974), Kashmir اور Palestine پر Muslim دنیا کی آواز بلند کرنا, اور Muslim ممالک کے درمیان تجارت اور تعاون کی کوشش. پاکستان او آئی سی کا بانی رکن ہے: 1969 کے پہلے اجلاس (رباط) سے شرکت، او آئی سی اجلاسوں کی میزبانی (مثلاً لاہور 1974)، کشمیر اور فلسطین پر مسلم دنیا کی آواز بلند کرنا، اور مسلم ممالک کے درمیان تجارت اور تعاون کی کوشش۔
Answer: China ne sadkon (Karakoram Highway), bijli gharon, Gwadar Port, aur CPEC ke zariye taraqqi me madad ki; difa me taawun; aur bain-ul-aqwami forum par Kashmir par Pakistan ki himayat ki. Natija: rozgar, tawanai aur ilaqai rabte me izafa. چین نے سڑکوں (شاہراہ قراقرم)، بجلی گھروں، گوادر بندرگاہ، اور سی پیک کے ذریعے ترقی میں مدد کی؛ دفاع میں تعاون؛ اور بین الاقوامی فورم پر کشمیر پر پاکستان کی حمایت کی۔ نتیجہ: روزگار، توانائی اور علاقائی رابطے میں اضافہ۔
Answer: Piss-e-منظر: 1947 میں Hindu حکمران کا Bharat سے ilhaq, Muslim اکثریت کی مخالفت, jung, اور UN کی madakhlat. Pakistan کا mauqif: رائے-شماری کے ذریعے حقِ خود-aradiyat (UN qarardadein 1948–49). حل: گفت-o-shuneed, تیسری جانب کی ثالثی, اور Kashmiriyon کی مرضی کے مطابق حل — بغیر اس کے janubi Asia میں امن ممکن نہیں. پس منظر: 1947 میں ہندو حکمران کا بھارت سے الحاق، مسلم اکثریت کی مخالفت، جنگ، اور اقوام متحدہ کی مداخلت۔ پاکستان کا موقف: رائے شماری کے ذریعے حق خودارادیت (اقوام متحدہ کی قراردادیں 1948–49)۔ حل: گفت و شنید، تیسری جانب کی ثالثی، اور کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل — بغیر اس کے جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں۔
Answer: SAARC (1985) میں Pakistan, Bharat, Bangladesh, Nepal, Sri Lanka, Bhutan, Maldives, Afghanistan شامل ہیں. تعلقات: Bangladesh سے تجارت اور ثقافت; Sri Lanka سے دفاعی اور tijarati تعاون; Nepal, Bhutan, Maldives سے دوستی; Bharat سے Kashmir کی وجہ سے kashidgi, جو SAARC کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے. سارک (1985) میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ، افغانستان شامل ہیں۔ تعلقات: بنگلہ دیش سے تجارت اور ثقافت؛ سری لنکا سے دفاعی اور تجارتی تعاون؛ نیپال، بھوٹان، مالدیپ سے دوستی؛ بھارت سے کشمیر کی وجہ سے کشیدگی، جو سارک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
یہ باب پاکستان اور بین الاقوامی امور کا مکمل رہنما ہے۔ اس میں درج ذیل موضوعات کی تفصیلی تشریح اردو میں کی گئی ہے، اور آخر میں کتابی مشق کے تمام سوالات کے جوابات ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے خارجہ پالیسی کے اصول، پھر پاک چین دوستی اور سی پیک، پھر مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی ادارے — ہر ادارے کا نام اور کام الگ یاد کرو۔
This chapter is a complete guide to Pakistan and International Affairs. Every topic is explained in detail in Urdu, and the chapter ends with answers to every official exercise question.
Revision guidance: First the principles of foreign policy, then Pak–China friendship and CPEC, then the Kashmir issue and international organisations — learn each organisation’s name and role separately.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 2 Pakistan Studies, Chapter 6 (New Book, Session 2026–27) • Urdu-led, with English summary