PECTAA 2026–2027 · Chapter 1
Devotional Poem (Hamd) | نظم (حمدیہ کلام)
شاعر / مصنف: سید صبیح الدین صبیح رحمانی (Syed Sabihuddin Sabih Rehmani) — ماخذ: کلیاتِ صبیح رحمانی / جادۂ رحمت
سبق نمبر 1: حمد (کعبے کی رونق کعبے کا منظر)
Chapter 1: Hamd (Kaabay Ki Ronaq Kaabay Ka Manzar)
PunjabTest.com Bilingual Chapter Guide Book aligned with the new 2026–2027 PECTAA / PCTB Class 12 (HSSC Part 2) Urdu curriculum. Includes complete Poet/Author Introduction (تعارف), Central Idea & Summary (مرکزی خیال و خلاصہ), Key Vocabulary (اہم الفاظ معنی), Contextual Explanations (تشریح), and Solved Board & Textbook Exercises.
1. Poet / Author & Lesson Introduction (تعارف)
1۔ شاعر / مصنف اور سبق کا تعارف
🇬🇧 English Profile & Key Facts
Syed Sabihuddin Sabih Rehmani
- Poet Name & Birth: Syed Sabihuddin Sabih Rehmani (سید صبیح الدین صبیح رحمانی, pen name Sabih) was born on 27 June 1965 in Karachi. His family hailed from an academic Sadat family of Hyderabad Deccan.
- Literary & Research Services: Deeply devoted to Hamd and Naat since childhood, he founded the globally renowned research journal Naat Rang (نعت رنگ) and established the Naat Research Centre in Karachi.
- Style & Major Works: His poetic style is simple, melodious, spiritually moving, and full of devotion. His notable books include Jada-e-Rehmat (جادۂ رحمت), Sarkar کے قدموں میں (سرکار کے قدموں میں), and Kulliyat-e-Sabih Rehmani.
- Honors: The Government of Pakistan awarded him the prestigious Tamgha-e-Imtiaz (تمغۂ امتیاز) for his outstanding services to devotional literature.
🇵🇰 اردو تعارف (شاعر / مصنف کا اسلوب و خدمات)
سید صبیح الدین صبیح رحمانی
- نام و پیدائش: سید صبیح الدین صبیح رحمانی (تخلص: صبیحؔ) 27 جون 1965ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق حیدرآباد دکن کے ایک علمی اور سادات گھرانے سے ہے اور آپ کے والد سید اسحاق الدین جامعہ کراچی میں اہم عہدے پر فائز رہے۔
- علمی و تحقیقی خدمات: آپ کو بچپن ہی سے حمد و نعت گوئی اور نعت خوانی سے گہرا لگاؤ تھا۔ آپ نے نعت کی تحقیق و تنقید کے لیے عالمی سطح پر معروف جریدہ ’’نعت رنگ‘‘ جاری کیا اور کراچی میں ’’نعت ریسرچ سینٹر‘‘ کی بنیاد رکھی۔
- اسلوبِ بیان اور تصانیف: آپ کا کلام سادہ، عام فہم، اثر انگیز اور عقیدت و محبت سے بھرپور ہے۔ آپ کی نمایاں تصانیف میں ’’جادۂ رحمت‘‘، ’’سرکار کے قدموں میں‘‘ اور ’’کلیاتِ صبیح رحمانی‘‘ شامل ہیں۔
- اعزازات: حکومتِ پاکستان نے آپ کی ادبی و نعتیہ خدمات کے اعتراف میں آپ کو ’’تمغۂ امتیاز‘‘ سے نوازا۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Guidance): سید صبیح الدین صبیح رحمانی 27 June 1965 کو Karachi میں پیداکرنے ہوئے. انہوں نے نعت کی تحقیق کے لیے مشہور رسالہ 'نعت رنگ' جاری کیا اور حکومتِ پاکستان نے انھیں 'تمغۂِ امتیاز' سے نوازا. اس حمد میں انہوں نے کھانا کعبہ کی زیارت کے روحانی منظر اور اللہ کی عظمت ('اللہ اکبر') کو bade دلکش انداز میں بیان کیا ہے.
2. Central Idea & Complete Chapter Summary (مرکزی خیال اور خلاصہ)
2۔ مرکزی خیال اور مکمل خلاصہ
🇬🇧 Central Idea & English Summary
🎯 Central Idea (Markazi Khayal):
The central idea of this Hamd is the supreme greatness of Allah Almighty (Allahu Akbar), the spiritual magnetism and sanctity of the Holy Kaaba, and the humble repentance of a believer seeking divine forgiveness.
📖 Comprehensive Chapter Summary:
In this devotional poem (Hamd), Syed Sabihuddin Sabih Rehmani captures the overwhelming spiritual ecstasy of beholding the Holy Kaaba. The poet marvels at the radiant splendor of the Kaaba, repeating 'Allahu Akbar' (Allah is the Greatest) as his eyes remain fixed on the House of Allah. In the sacred sanctuary (Haram), every pilgrim's tongue is moist with divine praise while melodious calls to prayer (Azan) fill the air with sweetness. Standing beneath the golden water spout of mercy (Mizab-e-Rehmat), the poet is certain all his prayers will be answered. Remembering his past sins, his supplications turn into tears as he clings to the Kiswah (Ghilaf-e-Kaaba) in repentance. He praises the blessed destiny of the Black Stone (Sang-e-Aswad), sent down from Paradise and kissed by the Holy Prophet Muhammad (PBUH). Drinking Zamzam water, he prays for protection from thirst on the Day of Judgment through the intercession of Saqi-e-Kausar (PBUH). In the concluding verse (Maqta), Sabih asks Allah for lifelong visits to the Haram and complete forgiveness.
🇵🇰 مرکزی خیال اور امتحانی خلاصہ (اردو نستعلیق)
🎯 مرکزی خیال:
اس حمد کا مرکزی خیال اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عظمت و کبریائی، اس کے مقدس گھر (خانہ کعبہ) کی تقدیس و کشش، اور بندے کی عاجزی و توبہ کا اظہار ہے۔ شاعر یہ پیغام دیتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے (اللہ اکبر) اور اس کی رحمت ہر گناہ پر غالب ہے؛ خانہ کعبہ وہ مرکزِ انوار ہے جہاں انسان اپنے گناہوں پر نادم ہو کر سچے دل سے توبہ کرتا ہے اور اللہ کی مغفرت کا طالب بنتا ہے۔
📖 سبق / نظم کا مکمل خلاصہ:
اس حمد میں شاعر سید صبیح الدین صبیح رحمانی نے خانہ کعبہ کی زیارت کے دوران پیدا ہونے والے قلبی جذبات اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی کو نہایت خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ کعبے کی رونق اور نورانی منظر اتنا دلکش ہے کہ نظریں وہاں سے ہٹنے کا نام نہیں لیتیں اور زبان پر بے اختیار ’’اللہ اکبر، اللہ اکبر‘‘ کا ورد جاری ہو جاتا ہے۔ حرمِ پاک میں ہر زائر کی زبان حمدِ الٰہی سے تر ہے اور اذانوں کی سریلی آوازیں کانوں میں رس گھول رہی ہیں۔ شاعر کو کامل یقین ہے کہ میزابِ رحمت کے سائے تلے مانگی گئی اس کی تمام دعائیں ضرور مقبول ہوں گی۔ جب اسے اپنے گناہ اور خطائیں یاد آتی ہیں تو اس کی التجائیں آنسوؤں میں ڈھل جاتی ہیں اور وہ غلافِ کعبہ پکڑ کر رو رو کر معافی مانگتا ہے۔ وہ جنت سے نازل شدہ سنگِ اسود کی خوش نصیبی پر رشک کرتا ہے جسے سرورِ کونین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے مبارک لبوں سے چوما۔ شاعر آبِ زمزم پی کر دعا کرتا ہے کہ روزِ محشر اسے پیاس کا ڈر نہ ہو اور ساقیِ کوثر ﷺ اس پر مہربان ہوں۔ آخر میں شاعر دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ تا عمر اسے اپنے حرم کی حاضری نصیب فرمائے اور اپنے عاجز بندے صبیحؔ کو بخشش و مغفرت عطا فرمائے۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Key Points): Exam Tip (10 Marks خلاصہ / 5 Marks مرکزی خیال): اس حمد میں شاعر نے بیت اللہ کی حاضری کے 7 روحانی مناظر بیان کیے ہیں: (1) کعبے کا نورانی منظر, (2) اذن اور ذکرِ الٰہی کی گنج, (3) میزابِ رحمت کے نیچے دعاؤں کی قبولیت کا یقین, (4) غلافِ کعبہ پکڑ کر گناہوں پر رونا, (5) Sang-e-اسود کی عظمت, (6) آبپاشیِ زمزم pee کر روزِ محشر ساقیِ کوثر (SAW) کی شفع'at کی دعا, اور (7) تا-عمر حرم کی حاضری اور مغفرت کی التجا.
3. Key Vocabulary, Idioms & Meanings (اہم الفاظ معنی)
3۔ اہم الفاظ معنی اور تراکیب
| # | لفظ / ترکیب | اردو معنی و مفہوم | English & اردو Meaning |
|---|---|---|---|
| 1 | رونق | چمک دمک، خوبصورتی، بہار | Splendor, radiance, vibrancy (Ronaq) |
| 2 | برابر | مسلسل، لگاتار، بلا ناغہ | Continuously, constantly (Barabar) |
| 3 | حمدِ خدا سے تر ہونا | کثرت سے اللہ کی تعریف و ثنا کرنا | Moist/busy with the praise of Allah |
| 4 | رس گھولنا | کانوں کو میٹھا اور بھلا محسوس ہونا (استعارہ) | To pour sweetness into the ears (Metaphor) |
| 5 | میزابِ رحمت | خانہ کعبہ کی چھت کا سنہری پرنالہ جہاں دعا قبول ہوتی ہے | Golden rainwater spout of the Holy Kaaba |
| 6 | خطائیں | گناہ، لغزشیں، قصور (واحد: خطا) | Sins, faults, transgressions (Khatayein) |
| 7 | اشکوں میں ڈھلنا | دعاؤں کا آنسوؤں کی شکل اختیار کر لینا | Turning into tears of repentance |
| 8 | غلافِ کعبہ (کسوہ) | خانہ کعبہ پر چڑھایا جانے والا سیاہ ریشمی کپڑا | The sacred black silk covering of the Kaaba |
| 9 | سنگِ اسود | کعبہ کے جنوب مشرقی کونے میں نصب جنت کا سیاہ پتھر | The Sacred Black Stone from Paradise |
| 10 | محشر | قیامت کا دن، حساب کتاب کا میدان | The Day of Resurrection / Judgment |
| 11 | ساقیِ کوثر ﷺ | حوضِ کوثر سے سیراب کرنے والے (حضرت محمد ﷺ) | Distributor of Kausar water (Prophet Muhammad PBUH) |
| 12 | مغفرت کا طالب | بخشش اور معافی مانگنے والا بندہ | Seeker of divine forgiveness (Talib-e-Maghfirat) |
4. Detailed Explanations with Context (تشریح بحوالہ سیاق و سباق)
4۔ اشعار / اہم اقتباسات کی تشریح
Stanzas 1 & 2: The Radiant View of the Kaaba & Echoes of Azan
شعر نمبر 1 اور 2: کعبے کا روح پرور منظر اور حرم کی فضائیں
کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر
دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر
حمدِ خدا سے تر ہیں زبانیں، کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں
بس اک صدا آ رہی ہے برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر
دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر
حمدِ خدا سے تر ہیں زبانیں، کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں
بس اک صدا آ رہی ہے برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Meaning & Explanation: The poet describes the breathtaking spiritual beauty of the Holy Kaaba. A pilgrim's gaze becomes transfixed upon seeing the House of Allah, spontaneously chanting 'Allahu Akbar'. Every pilgrim's tongue is busy praising Allah, and the melodious Azan pours spiritual sweetness into the ears, uniting believers of all nations under one call of Tawheed.
Poetic Devices: Radif: 'Allahu Akbar Allahu Akbar' (Sanat-e-Takrar); Qafiya: Manzar, Barabar; Istiara: 'Kanon میں ras gholna'; Muraat-un-Nazeer: Zaban, Kaan, Azan, Sada.
Poetic Devices: Radif: 'Allahu Akbar Allahu Akbar' (Sanat-e-Takrar); Qafiya: Manzar, Barabar; Istiara: 'Kanon میں ras gholna'; Muraat-un-Nazeer: Zaban, Kaan, Azan, Sada.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
مفہوم: خانہ کعبہ کی خوبصورتی اور نورانی منظر اس قدر دلکش ہے کہ انسان بے اختیار اللہ کی بڑائی (اللہ اکبر) پکار اٹھتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ پلک جھپکائے بغیر مسلسل اسے دیکھتا رہے۔ حرمِ پاک میں ہر زبان ذکرِ الٰہی میں مشغول ہے، اذانیں کانوں میں مٹھاس گھول رہی ہیں اور ہر طرف اللہ اکبر کی صدا گونج رہی ہے۔
تشریح و فنی محاسن: شاعر سید صبیح الدین رحمانی بیت اللہ کی زیارت کی وجدانی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب مومن کی نگاہ کعبۃ اللہ پر پڑتی ہے تو وہ اس کے جلال و جمال میں کھو جاتا ہے۔ ردیف ’’اللہ اکبر اللہ اکبر‘‘ کی صنعتِ تکرار نے شعر میں روحانی کیف پیدا کر دیا ہے، جبکہ ’’زبانیں، کان، اذانیں، صدا‘‘ میں صنعتِ مراعات النظیر اور ’’رس گھولنا‘‘ میں بلیغ استعارہ استعمال ہوا ہے۔
حوالے کا شعر: ترے نور کی روشنی ہر طرف ہے / ترے نور کا ہر طرف ہے اجالا
تشریح و فنی محاسن: شاعر سید صبیح الدین رحمانی بیت اللہ کی زیارت کی وجدانی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب مومن کی نگاہ کعبۃ اللہ پر پڑتی ہے تو وہ اس کے جلال و جمال میں کھو جاتا ہے۔ ردیف ’’اللہ اکبر اللہ اکبر‘‘ کی صنعتِ تکرار نے شعر میں روحانی کیف پیدا کر دیا ہے، جبکہ ’’زبانیں، کان، اذانیں، صدا‘‘ میں صنعتِ مراعات النظیر اور ’’رس گھولنا‘‘ میں بلیغ استعارہ استعمال ہوا ہے۔
حوالے کا شعر: ترے نور کی روشنی ہر طرف ہے / ترے نور کا ہر طرف ہے اجالا
💡 آسان الفاظ میں (اردو): جب شاعر پہلی بار کھانا کعبہ کو دیکھتا ہے تو اس کی آنکھیں وہاں jam کر رہ جاتی ہیں اور زبان سے بے-اختیار 'اللہ اکبر' نکلتا ہے. حرم میں ہر طرف ذکرِ الٰہی اور اذن کی میٹھی آواز روح کو سکون دیتی ہے.
Stanzas 3 & 4: Supplication Under Mizab-e-Rehmat & Repentance at Ghilaf-e-Kaaba
شعر نمبر 3 اور 4: میزابِ رحمت کے نیچے دعا اور غلافِ کعبہ پکڑ کر توبہ
مانگی ہیں میں نے جتنی دعائیں، منظور ہوں گی مقبول ہوں گی
میزابِ رحمت ہے میرے سر پر، اللہ اکبر اللہ اکبر
یاد آ گئیں جب اپنی خطائیں، اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیں
رویا غلافِ کعبہ پکڑ کر، اللہ اکبر اللہ اکبر
میزابِ رحمت ہے میرے سر پر، اللہ اکبر اللہ اکبر
یاد آ گئیں جب اپنی خطائیں، اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیں
رویا غلافِ کعبہ پکڑ کر، اللہ اکبر اللہ اکبر
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Meaning & Explanation: Standing beneath the Mizab-e-Rehmat (the golden spout of mercy), the poet expresses unwavering faith that Allah will accept every prayer. Overcome by remorse upon recalling his past sins (khatayein), his spoken prayers melt into tears (ashk), and he holds onto the Ghilaf-e-Kaaba crying for divine mercy.
Poetic Devices: Talmeeh & Istiara: Mizab-e-Rehmat; Kinaya: Ghilaf-e-Kaaba pakar kar rona (symbol of utter humility and repentance).
Poetic Devices: Talmeeh & Istiara: Mizab-e-Rehmat; Kinaya: Ghilaf-e-Kaaba pakar kar rona (symbol of utter humility and repentance).
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
مفہوم: شاعر کو کامل یقین ہے کہ میزابِ رحمت کے سائے میں مانگی گئی اس کی تمام دعائیں ضرور قبول ہوں گی۔ جب اسے اپنے گناہ یاد آئے تو شرمندگی سے اس کی دعائیں آنسو بن کر بہنے لگیں اور اس نے غلافِ کعبہ تھام کر رو رو کر رب سے معافی مانگی۔
تشریح و فنی محاسن: میزابِ رحمت خانہ کعبہ کی چھت کا وہ سنہری پرنالہ ہے جس کے نیچے دعا مانگنا مستجاب سمجھا جاتا ہے۔ شاعر اللہ کی رحمت پر کامل توکل کا اظہار کرتا ہے۔ چوتھے شعر میں احساسِ ندامت کی انتہا ہے جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں اور التجائیں اشکوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ ’’غلافِ کعبہ پکڑ کر رونا‘‘ مکمل عاجزی اور رب کی پناہ میں آنے کا کنایہ ہے۔
حوالے کا شعر: اک ہاتھ غلافِ کعبہ پر اک ہاتھ درِ کعبہ کے قریں / کعبہ سے لپٹنے والوں کا وہ دیدۂ پرنم کیا کہنا
تشریح و فنی محاسن: میزابِ رحمت خانہ کعبہ کی چھت کا وہ سنہری پرنالہ ہے جس کے نیچے دعا مانگنا مستجاب سمجھا جاتا ہے۔ شاعر اللہ کی رحمت پر کامل توکل کا اظہار کرتا ہے۔ چوتھے شعر میں احساسِ ندامت کی انتہا ہے جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں اور التجائیں اشکوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ ’’غلافِ کعبہ پکڑ کر رونا‘‘ مکمل عاجزی اور رب کی پناہ میں آنے کا کنایہ ہے۔
حوالے کا شعر: اک ہاتھ غلافِ کعبہ پر اک ہاتھ درِ کعبہ کے قریں / کعبہ سے لپٹنے والوں کا وہ دیدۂ پرنم کیا کہنا
💡 آسان الفاظ میں (اردو): میزابِ رحمت کے نیچے کھڑے ہو کر شاعر کو پورا یقین ہے کہ اس کی ہر دعا قبول ہوگی. اپنے گناہ یاد آنے پر شاعر شرمندگی سے غلافِ کعبہ پکڑ کر rota ہے اور سچے دل سے توبہ کرتا ہے.
Stanzas 5 & 6: Glory of Sang-e-Aswad & Prayer After Drinking Zamzam
شعر نمبر 5 اور 6: سنگِ اسود کی عظمت اور آبِ زمزم پی کر دعا
بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے، چوما ہے تجھ کو خود مصطفیٰ ﷺ نے
اے سنگِ اسود تیرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
محشر میں ہو نہ مجھے پیاس کا ڈر، ہوں مہرباں مجھ پہ ساقیِ کوثر ﷺ
رب سے دعا کی زمزم کو پی کر، اللہ اکبر اللہ اکبر
اے سنگِ اسود تیرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
محشر میں ہو نہ مجھے پیاس کا ڈر، ہوں مہرباں مجھ پہ ساقیِ کوثر ﷺ
رب سے دعا کی زمزم کو پی کر، اللہ اکبر اللہ اکبر
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Meaning & Explanation: The poet addresses the Black Stone (Sang-e-Aswad), praising its exalted fortune: sent from Paradise by Allah and kissed by the Holy Prophet (PBUH). Then, while drinking the blessed water of Zamzam (a time when prayers are accepted), he prays to be spared from the dreadful thirst of Judgment Day through the intercession of the Prophet (PBUH), the Saqi-e-Kausar.
Poetic Devices: Sanat-e-Talmeeh: Sang-e-Aswad, Mahshar, Saqi-e-Kausar, Zamzam; Sanat-e-Khitab: 'Ae Sang-e-Aswad'.
Poetic Devices: Sanat-e-Talmeeh: Sang-e-Aswad, Mahshar, Saqi-e-Kausar, Zamzam; Sanat-e-Khitab: 'Ae Sang-e-Aswad'.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
مفہوم: اے سنگِ اسود! تیرا نصیب کتنا بلند ہے کہ تجھے اللہ نے جنت سے نازل فرمایا اور خود حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے تجھے بوسہ دیا۔ میں نے آبِ زمزم پی کر رب سے دعا کی کہ قیامت کے دن مجھے پیاس کا خوف نہ ہو اور ساقیِ کوثر ﷺ مجھ پر مہربان ہوں۔
تشریح و فنی محاسن: ان اشعار میں صنعتِ تلمیح (سنگِ اسود، محشر، ساقیِ کوثر، آبِ زمزم) اور صنعتِ خطاب (اے سنگِ اسود) کا خوبصورت استعمال ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے بھی فرمایا تھا کہ اے سنگِ اسود! میں تجھے اس لیے چومتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے چومتے دیکھا ہے۔ چھٹے شعر میں ’’پیاس، ساقی، کوثر، زمزم‘‘ میں صنعتِ مراعات النظیر ہے۔
حوالے کا شعر: حجرِ اسود کی ہے یہ خوش بختی / اس کی عظمت بڑھائے شاہِ امم ﷺ
تشریح و فنی محاسن: ان اشعار میں صنعتِ تلمیح (سنگِ اسود، محشر، ساقیِ کوثر، آبِ زمزم) اور صنعتِ خطاب (اے سنگِ اسود) کا خوبصورت استعمال ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے بھی فرمایا تھا کہ اے سنگِ اسود! میں تجھے اس لیے چومتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے چومتے دیکھا ہے۔ چھٹے شعر میں ’’پیاس، ساقی، کوثر، زمزم‘‘ میں صنعتِ مراعات النظیر ہے۔
حوالے کا شعر: حجرِ اسود کی ہے یہ خوش بختی / اس کی عظمت بڑھائے شاہِ امم ﷺ
💡 آسان الفاظ میں (اردو): Sang-e-اسود جنت کا پتھر ہے جسے حضور (SAW) نے بوسہ دیا. آبپاشیِ زمزم پیتے وقت دعا قبول ہوتی ہے, اس لیے شاعر نے دعا مانگی کے قیامت کے دن اسے پیاس کا خوف نہ ہو اور حضور (SAW) حوضِ کوثر کا جام پلائیں.
Stanzas 7 & 8 (Maqta): Longing for Lifelong Visits & Final Plea for Forgiveness
شعر نمبر 7 اور 8 (مقطع): حرم کی دائمی حاضری اور مغفرت کی التجا
تیرے کرم کی کیا بات مولا، تیرے حرم کی کیا بات مولا
تا عمر کر دے آنا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مولا صبیحؔ اور کیا چاہتا ہے، بس مغفرت کی عطا چاہتا ہے
بخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر، اللہ اکبر اللہ اکبر
تا عمر کر دے آنا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مولا صبیحؔ اور کیا چاہتا ہے، بس مغفرت کی عطا چاہتا ہے
بخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر، اللہ اکبر اللہ اکبر
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Meaning & Explanation: Marveling at Allah's boundless grace and the sanctity of the Haram, the poet prays to be blessed with repeated visits throughout his life (ta-umar). In the concluding couplet (Maqta), using his pen name 'Sabih', he summarizes his ultimate desire: nothing of worldly wealth, only divine forgiveness (maghfirat) and mercy.
Poetic Devices: Maqta (use of Takhallus 'Sabih'); Qafiya: Karam, Haram / Ata; Radif: Allahu Akbar Allahu Akbar.
Poetic Devices: Maqta (use of Takhallus 'Sabih'); Qafiya: Karam, Haram / Ata; Radif: Allahu Akbar Allahu Akbar.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
مفہوم: اے میرے مولا! تیرے فضل و کرم اور تیرے مقدس حرم کی شان بے مثال ہے؛ زندگی بھر کے لیے اپنے گھر کی بار بار حاضری میرا نصیب بنا دے۔ اے مالک! تیرا بندہ صبیحؔ دنیا کی کسی چیز کا طلبگار نہیں، وہ صرف تیری مغفرت چاہتا ہے، اس بخشش کے طالب پر اپنا کرم فرما۔
تشریح و فنی محاسن: آخری شعر (مقطع) میں شاعر نے اپنا تخلص ’’صبیحؔ‘‘ استعمال کرتے ہوئے پوری حمد کا نچوڑ پیش کیا ہے کہ مومن کی سب سے بڑی کامیابی اللہ کی مغفرت اور حرمِ پاک سے دائمی وابستگی ہے۔
حوالے کا شعر: بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں / حالت اب اضطراب کی سی ہے
تشریح و فنی محاسن: آخری شعر (مقطع) میں شاعر نے اپنا تخلص ’’صبیحؔ‘‘ استعمال کرتے ہوئے پوری حمد کا نچوڑ پیش کیا ہے کہ مومن کی سب سے بڑی کامیابی اللہ کی مغفرت اور حرمِ پاک سے دائمی وابستگی ہے۔
حوالے کا شعر: بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں / حالت اب اضطراب کی سی ہے
💡 آسان الفاظ میں (اردو): مقطع میں شاعر صبیح رحمانی apنا تخلص استعمال کرتے ہوئے اللہ سے دو سب سے بدی دعائیں مانگتے ہیں: ایک یہ کے زندگی بھر حرم کی حاضری نصیب ہوتی رہے, اور دوسری یہ کے اللہ ان کی مغفرت اور بخشش فرما دے.
Section A: Important Multiple Choice Questions (Interactive MCQs)
Click any option to verify your answer and view the explanation.
نظم ’’حمد‘‘ (کعبے کی رونق کعبے کا منظر) کے شاعر کون ہیں؟
✅ درست جواب و وضاحت: بارہویں جماعت کی نئی کتاب (2026-2027) کی پہلی نظم ’’حمد‘‘ سید صبیح الدین صبیح رحمانی کی تخلیق ہے۔
حرمِ پاک میں برابر کون سی ایک صدا آ رہی ہے؟
✅ درست جواب و وضاحت: شعر کے مطابق: ’’بس اک صدا آ رہی ہے برابر / اللہ اکبر اللہ اکبر‘‘۔
شاعر کو اپنی خطائیں یاد آنے پر اس کی التجائیں کس چیز میں ڈھلنے لگیں؟
✅ درست جواب و وضاحت: شعر کے مطابق: ’’یاد آ گئیں جب اپنی خطائیں / اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیں‘‘۔
’’چوما ہے تجھ کو خود مصطفیٰ ﷺ نے‘‘ — اس مصرعے میں کس کی طرف اشارہ ہے؟
✅ درست جواب و وضاحت: اگلے مصرعے میں شاعر فرماتے ہیں: ’’اے سنگِ اسود تیرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر‘‘۔
مقطع میں شاعر صبیحؔ اللہ تعالیٰ کے حضور کس چیز کا طالب ہے؟
✅ درست جواب و وضاحت: مقطع کے مطابق: ’’بس مغفرت کی عطا چاہتا ہے / بخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر‘‘۔
سید صبیح الدین رحمانی نے نعت کی تحقیق کے لیے کون سا عالمی رسالہ جاری کیا؟
✅ درست جواب و وضاحت: آپ نے نعت کی تحقیق کے لیے عالمی سطح پر معروف رسالہ ’’نعت رنگ‘‘ جاری کیا۔
Section B: Important Short Questions & Answers (مختصر سوالات)
Includes all PECTAA textbook exercise short questions and high-priority board exam questions.
🇬🇧 English Guidance
The poet is overwhelmed with spiritual awe upon witnessing the unmatched radiance of the Holy Kaaba, its luminous atmosphere, and the manifestation of Divine Majesty, causing him to continuously chant 'Allahu Akbar'.
🇵🇰 اردو جواب
خانہ کعبہ کی بے مثال رونق، وہاں کے روح پرور اور نورانی منظر، اور اللہ تعالیٰ کی تجلیات و جلال کو دیکھ کر شاعر پر حیرت اور وجد کی کیفیت طاری ہے اور اس کی زبان سے بے اختیار ’’اللہ اکبر‘‘ کی صدائیں نکل رہی ہیں۔
🇬🇧 English Guidance
Overcome with remorse upon recalling his past sins, the poet's supplications turned into tears, and he held onto the Ghilaf-e-Kaaba weeping and begging for Allah's forgiveness.
🇵🇰 اردو جواب
اپنی خطائیں اور گناہ یاد آنے پر شاعر شرمندگی اور ندامت سے بے بس ہو گیا، اس کی تمام التجائیں آنسوؤں (اشکوں) میں ڈھل گئیں اور وہ غلافِ کعبہ پکڑ کر زار و قطار روتے ہوئے اللہ سے معافی مانگنے لگا۔
🇬🇧 English Guidance
Mizab-e-Rehmat refers to the golden rainwater spout on the roof of the Holy Kaaba emptying into the Hateem. Praying beneath it is considered highly blessed and a sign of accepted supplications.
🇵🇰 اردو جواب
میزابِ رحمت سے مراد خانہ کعبہ کی چھت پر نصب وہ سنہری پرنالہ ہے جہاں سے بارش کا پانی حطیم میں گرتا ہے۔ اس کے نیچے کھڑے ہو کر دعا مانگنا نہایت بابرکت اور قبولیتِ دعا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
🇬🇧 English Guidance
After drinking Zamzam water, the poet prayed to Allah to spare him from the fear of thirst on the Day of Judgment (Mahshar) and grant him the gracious intercession of Prophet Muhammad (PBUH), the Saqi-e-Kausar.
🇵🇰 اردو جواب
شاعر نے آبِ زمزم پی کر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی ہے کہ قیامت (محشر) کے دن اسے پیاس کا کوئی خوف نہ ہو اور سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ (ساقیِ کوثر) اس پر مہربان ہوں اور حوضِ کوثر سے سیراب فرمائیں۔
🇬🇧 English Guidance
In the Maqta, the poet Sabih expresses that his sole desire from Allah Almighty is forgiveness (maghfirat), pardon, and special divine grace.
🇵🇰 اردو جواب
شاعر (صبیحؔ) نے مقطع میں اپنی سب سے بڑی چاہت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے صرف اپنے گناہوں کی مغفرت، بخشش اور خاص کرم کا طلبگار ہے۔
Section C: Solved Textbook Exercise, Sentence Explanations & Grammar (مشقی سوالات و قواعد)
Complete step-by-step solutions to textbook exercises and Urdu grammar rules.
Exercise Q1: Allusion (Talmeeh) of Sang-e-Aswad & Saying of Hazrat Umar Farooq (RA)
مشقی سوال 1: سنگِ اسود کی تلمیح اور حضرت عمر فاروقؓ کا قول
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Explanation: Sang-e-Aswad is the sacred stone from Paradise set into the eastern corner of the Kaaba. In Sahih Bukhari, Hazrat Umar Farooq (RA) kissed the Black Stone and declared: 'I know well that you are just a stone that can neither benefit nor harm; had I not seen the Messenger of Allah (PBUH) kiss you, I would never have kissed you.'
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
وضاحت: سنگِ اسود جنت سے نازل کردہ وہ متبرک پتھر ہے جو خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی کونے میں نصب ہے۔ شاعر نے اس کی عظمت یہ بیان کی ہے کہ اسے اللہ نے جنت سے بھیجا اور رسولِ اکرم ﷺ نے خود اپنے مبارک لبوں سے اسے بوسہ دیا۔حضرت عمر فاروقؓ کا قول (صحیح بخاری و مسلم): حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے طواف کے دوران سنگِ اسود کو مخاطب کر کے فرمایا تھا: ’’بے شک میں جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے، نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان؛ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تجھے نہ چومتا۔‘‘
Exercise Q2: Technical Terms Related to Hajj & Sentence Usage
مشقی سوال 2: حجِ بیت اللہ سے متعلق اصطلاحی معانی اور جملوں میں استعمال
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Definitions and sentences for Haram (the sacred sanctuary of Makkah), Mizab-e-Rehmat (the golden rainwater spout), Ghilaf-e-Kaaba / Kiswah (the black brocade cloth covering the Kaaba), Saqi-e-Kausar (title of the Holy Prophet PBUH at the Pond of Kausar), and Sang-e-Aswad.
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
- حرم: خانہ کعبہ اور مکہ مکرمہ کے اردگرد کا وہ مقدس علاقہ جہاں شکار کرنے، درخت کاٹنے اور قتال کرنے کی ممانعت ہے۔
- میزابِ رحمت: کعبۃ اللہ کی شمالی دیوار کی چھت پر نصب سونے کا پرنالہ جہاں دعا قبول ہوتی ہے۔
- غلافِ کعبہ (کسوہ): سیاہ ریشمی کپڑا جس پر سونے اور چاندی کے تاروں سے قرآنی آیات منقش ہوتی ہیں اور جس سے خانہ کعبہ کو ڈھانپا جاتا ہے۔ (جملہ: عازمینِ حج بڑی عقیدت سے غلافِ کعبہ کو تھام کر دعائیں مانگتے ہیں۔)
- ساقیِ کوثر ﷺ: نبی اکرم ﷺ کا لقب، جو قیامت کے دن اپنی امت کو حوضِ کوثر کا پانی پلائیں گے۔ (جملہ: ہر امتی کی تمنا ہے کہ روزِ محشر اسے ساقیِ کوثر ﷺ کے ہاتھوں جامِ کوثر نصیب ہو۔)
- سنگِ اسود: (جملہ: طوافِ کعبہ کا آغاز سنگِ اسود کو بوسہ دے کر یا استلام کر کے کیا جاتا ہے۔)
Exercise Q3: Brief History of Aab-e-Zamzam
مشقی سوال 3: آبِ زمزم کی مختصر تاریخ
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
The history of Zamzam dates back to Prophet Ibrahim (AS), Bibi Hajra (AS), and infant Prophet Ismail (AS) in the barren valley of Makkah. When Bibi Hajra ran seven times between the hills of Safa and Marwah searching for water, Allah miraculously caused a spring to gush forth beneath infant Ismail's feet via Angel Jibrail (AS). Bibi Hajra contained the water saying 'Zome, Zome' (Stop, stop), giving Zamzam its name.
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
آبِ زمزم کی تاریخ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور شیر خوار حضرت اسماعیل علیہ السلام سے جڑی ہوئی ہے۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم سے بی بی ہاجرہ اور ننھے اسماعیلؑ کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑا اور پانی ختم ہو گیا تو بی بی ہاجرہ پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات بار دوڑیں (جسے سعی کہا جاتا ہے)۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیلؑ نے ایڑی ماری (اور حضرت اسماعیلؑ کے ایڑیاں رگڑنے کی جگہ سے) ایک معجزاتی چشمہ ابل پڑا۔ بی بی ہاجرہ نے پانی کو روکنے کے لیے ’’زم زم‘‘ (رک جا، ٹھہر جا) کہا جس سے اس کنویں کا نام زمزم پڑ گیا۔
