Class 12 Urdu Chapter 10: بہادر خان کی سرگزشت

Top Brand Header (PunjabTest.com Format) Toast Notification Banner
PECTAA 2026–2027 · Chapter 10 Folk Tale / Narrative Story | لوک کہانی / سرگزشت
شاعر / مصنف: پروفیسر انوار رومان (Prof. Anwar Rooman) — ماخذ: بلوچستان کی لوک کہانیاں

سبق نمبر 10: بہادر خان کی سرگزشت

Chapter 10: Bahadur Khan Ki Sarguzasht

PunjabTest.com Bilingual Chapter Guide Book aligned with the new 2026–2027 PECTAA / PCTB Class 12 (HSSC Part 2) Urdu curriculum. Includes complete Poet/Author Introduction (تعارف), Central Idea & Summary (مرکزی خیال و خلاصہ), Key Vocabulary (اہم الفاظ معنی), Contextual Explanations (تشریح), and Solved Board & Textbook Exercises.

Golden wheat harvest fields, karez water channel, and threshing floor in Balochistan
Golden wheat harvest fields, karez water channel, and threshing floor in Balochistan
1. Poet / Author & Lesson Introduction (تعارف) 1۔ شاعر / مصنف اور سبق کا تعارف
🇬🇧 English Profile & Key Facts Prof. Anwar Rooman
  • Birth & Education: Professor Anwar Rooman (پروفیسر انوار رومان) was born in 1924 in Kanya Kalan (Jalandhar, East Punjab) and earned his M.A. in History from the University of the Punjab, Lahore.
  • Educational Services in Balochistan: Settling in Quetta, Balochistan, he served as Principal, Director of Colleges, and Chairman of the Balochistan Textbook Board.
  • Literary & Research Legacy: A pioneer of Urdu prose poetry (نثری نظم) in Balochistan and author of nearly 40 books on history, Brahui/Balochi folklore, and literature, he wrote with simplicity, local color, and deep social observation.
  • Death: He passed away in 2013 at the age of 89.
🇵🇰 اردو تعارف (شاعر / مصنف کا اسلوب و خدمات) پروفیسر انوار رومان
  • ولادت و تعلیم: پروفیسر انوار رومان 1924ء میں ضلع جالندھر کے قصبے کنیا کلاں میں پیدا ہوئے اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے تاریخ میں ایم اے کیا۔
  • تعلیمی و انتظامی خدمات: کوئٹہ (بلوچستان) میں مستقل سکونت اختیار کی اور ڈائریکٹر کالجز اور چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے مناصب پر فائز رہے۔
  • ادبی مقام و تصانیف: آپ نے بلوچستان کی تاریخ، ثقافت، براہوی ادب اور لوک کہانیوں پر تقریباً 40 کتب تصنیف کیں اور اردو نثری نظم کے ابتدائی علمبرداروں میں شمار ہوئے۔
  • وفات: آپ نے 2013ء میں وفات پائی۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Guidance): Professor Anwar رومان (1924–2013) بلوچستان کے نام ور محقق, شاعر اور ماہرِ تعلیم تھے. سبق 'بہادر Khan کی سرگزشت' ایک دلچسپ لوک کہانی (folk tale) ہے جو وہم اور افواہوں کے نقصانات کو uजागर کرتی ہے.
2. Central Idea & Complete Chapter Summary (مرکزی خیال اور خلاصہ) 2۔ مرکزی خیال اور مکمل خلاصہ
🇬🇧 Central Idea & English Summary
🎯 Central Idea (Markazi Khayal): The central idea of this folk tale is that superstition, ignorance, and blind belief in unverified rumors breed absurd fear and chaos in society, until verified truth dispels illusion.
📖 Comprehensive Chapter Summary: 'Bahadur Khan Ki Sarguzasht' is an engaging folk tale by Prof. Anwar Rooman. Bahadur Khan was a self-reliant, hardworking farmer who irrigated his fields with underground karez channels when rains failed. After his grand wedding, he hired a diligent servant, and that year's bumper wheat harvest made villagers call him a man of a 'high star' (blessed fortune). Leaving his servant to guard the wheat threshing floor (khalyan), Bahadur Khan put a hundred rupees in his pocket and went to a neighboring village to attend a relative's wedding. That night, the hookah-loving servant lit embers for his chillum, and a sudden whirlwind scattered sparks across the wheat stacks, burning both the harvest and the servant to ashes. In the morning, Bahadur Khan's wife and the villagers mistook the charred body for Bahadur Khan and buried him. When Bahadur Khan returned from the wedding, the terrified villagers fled indoors, mistaking him for a ghost, and the village mullah died of fright on the spot. Forced to shelter in the graveyard, Bahadur Khan encountered a sorcerer whose spell animated the dead mullah's corpse to chase him, until Bahadur Khan overpowered the sorcerer to break the spell. Finally, Bahadur Khan brought the relatives whose wedding he had attended to testify before the village chief and his wife. Once the truth came out that it was the servant who had perished in the fire, fear turned into celebration.
🇵🇰 مرکزی خیال اور امتحانی خلاصہ (اردو نستعلیق)
🎯 مرکزی خیال: اس لوک کہانی کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کم علمی، توہم پرستی اور تحقیق کے بغیر افواہوں پر یقین کر لینا معاشرے میں بے بنیاد خوف، ہراس اور سنگین غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے۔ تاہم سچائی کتنی ہی دیر تک وہم کے پردوں میں چھپی رہے، بالآخر سامنے آ کر انسان کو جھوٹے خوف سے نجات دلاتی ہے۔
📖 سبق / نظم کا مکمل خلاصہ: ’’بہادر خان کی سرگزشت‘‘ بلوچستان کے دیہی ماحول پر مبنی ایک دلچسپ لوک کہانی ہے۔ بہادر خان ایک خوددار، محنتی اور سخی کسان تھا جس کی خودداری کی بڑی وجہ اس کی معاشی آزادی تھی۔ وہ اپنی فصلوں سے اولاد کی طرح پیار کرتا تھا اور بارش نہ ہونے کی صورت میں کاریز کے پانی سے کھیتوں کو سیراب کرتا تھا۔ دھوم دھام سے شادی کے بعد اس نے کام میں ہاتھ بٹانے کے لیے ایک محنتی نوکر رکھ لیا۔ اس سال گندم کی اتنی شاندار فصل ہوئی کہ گاؤں والے رشک سے کہتے تھے کہ ’’بہادر خان تو بہت اونچے ستارے والا ہے‘‘۔ گندم کٹنے کے بعد کھلیان لگایا گیا۔ ایک شام بہادر خان جیب میں سو روپے ڈال کر قریبی گاؤں میں اپنے رشتہ داروں کی شادی میں شرکت کے لیے چلا گیا اور نوکر کو کھلیان کی رکھوالی پر چھوڑ گیا۔ نوکر حقہ پینے کا بے حد عادی تھا؛ رات کو اس نے چلم سلگانے کے لیے آگ جلائی تو اچانک ایک تیز بگولے نے انگارے اڑا کر گندم کے کھلیان پر بکھیر دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کھلیان اور سویا ہوا نوکر دونوں جل کر خاکستر ہو گئے۔ صبح جب بہادر خان کی بیوی کھانا لے کر آئی تو جلی ہوئی مسخ شدہ لاش کو بہادر خان سمجھ کر بین کرنے لگی اور گاؤں والوں نے جنازہ پڑھ کر اسے بہادر خان کے نام سے دفن کر دیا۔ شادی سے واپسی پر جب بہادر خان گاؤں لوٹا تو لوگ اسے زندہ بھوت سمجھ کر خوف کے مارے بھاگ کھڑے ہوئے اور دروازے بند کر لیے۔ گاؤں کا ملا اسے دیکھتے ہی دہشت سے موقع پر مر گیا۔ مجبوراً بہادر خان نے قبرستان کے ایک گوشے میں پناہ لی۔ وہاں ایک جادوگر نے منتر پڑھ کر مردہ ملا کو زندہ کیا جو بہادر خان کے پیچھے لگ گیا۔ تنگ آ کر بہادر خان نے جادوگر کو دبوچ لیا اور منتر رکوا کر مردہ ملا سے جان چھڑائی۔ آخر کار بہادر خان ان رشتہ داروں کے پاس گیا جن کی شادی میں وہ شریک ہوا تھا اور انہیں ساتھ لے کر گاؤں کے رئیس اور اپنی بیوی کے پاس آیا۔ رشتہ داروں کی گواہی سے جب اصل حقیقت کھلی کہ جل کر مرنے والا نوکر تھا اور بہادر خان زندہ سلامت ہے، تو گاؤں والوں کا خوف دور ہوا اور سب نے خوشی کا جشن منایا۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Key Points): خلاصہ Key Points: (1) بہادر Khan ایک خوددار کسان تھا جو کاریز سے کھیت سیراب کرتا تھا, (2) شادی کے بعد محنتی نوکر رکھنا اور گندم کی شان دار فصل ('بہادر Khan تو بہت اونچے ستارے والا ہے'), (3) بہادر Khan کا jeb میں 100 روپے رکھ کر شادی پر جانا, (4) نوکر کی چلم اور بگولے سے کھلیان اور نوکر کا جل جانا, (5) گاؤں والوں کا نوکر کی لاش کو بہادر Khan سمجھ کر دفن کرنا, (6) واپسی پر بہادر Khan کو بھوت سمجھنا, mullah کا در سے مرنا اور جادوگر کا قصہ, اور (7) رشتے داروں کی گواہی سے سچائی کھلنا.
3. Key Vocabulary, Idioms & Meanings (اہم الفاظ معنی) 3۔ اہم الفاظ معنی اور تراکیب
# لفظ / ترکیب اردو معنی و مفہوم English & اردو Meaning
1 سرگزشت بیتی ہوئی کہانی، احوال، واقعہ Account of events, story, memoir (Sarguzasht)
2 معاشی آزادی مالی طور پر خود کفیل ہونا، کسی کا محتاج نہ ہونا Economic independence / self-reliance
3 کاریز بلوچستان میں زیرِ زمین پانی کی نہر / نالی کا نظام Underground irrigation channel (Karez)
4 اونچے ستارے والا نہایت خوش قسمت، بلند اقبال Born under a lucky star / fortunate
5 کھلیان کھیت میں کٹی ہوئی فصل جمع کرنے اور گاہنے کی جگہ Threshing floor / harvest stack (Khalyan)
6 چلم حقے کا وہ پیالہ جس میں تمباکو اور انگارے رکھے جاتے ہیں Clay bowl of a hookah (Chillum)
7 بگولا گرد و غبار کا تیز چکر کھاتا ہوا طوفان، واورولا Whirlwind, dust devil (Bagola)
8 خاکستر ہونا جل کر راکھ کا ڈھیر بن جانا Reduced to ashes (Khakistar)
4. Detailed Explanations with Context (تشریح بحوالہ سیاق و سباق) 4۔ اشعار / اہم اقتباسات کی تشریح
Passage 1: Bahadur Khan's Hard Work & Deep Love for His Crops اقتباس نمبر 1: بہادر خان کی محنت اور فصلوں سے والہانہ محبت
’’بہادر خان اپنے کھیتوں اور فصلوں کی دیکھ بھال ایک شفیق باپ کی طرح کرتا تھا۔۔۔ دیہات کے باشندے رشک سے کہتے تھے کہ بہادر خان تو بہت اونچے ستارے والا ہے۔‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: Introducing the protagonist, Prof. Anwar Rooman portrays Bahadur Khan as a devoted farmer who nurtured every wheat stalk like a loving father and irrigated his fields with karez water. Seeing his abundant harvest, virtuous wife, and industrious servant, the villagers admired him as a man blessed with a lofty star.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
حوالہ متن: سبق کا عنوان: بہادر خان کی سرگزشت | مصنف: پروفیسر انوار رومان | صنف: لوک کہانی۔
سیاق و سباق و تشریح: کہانی کے آغاز میں مصنف بہادر خان کے محنت کش اور خوددار کردار کا تعارف کرواتے ہیں۔ بہادر خان اپنی زمین اور گندم کے ایک ایک خوشے سے اولاد کی طرح محبت کرتا تھا اور بارش نہ ہونے پر کاریز کے پانی سے کھیتوں کی آبیاری کرتا تھا۔ جب اس کی محنت، نیک سیرت بیوی اور محنتی نوکر کی بدولت گندم کی بے مثال فصل پک کر تیار ہوئی تو پورے علاقے کے لوگ اس کی خوش بختی پر رشک کرتے ہوئے اسے اونچے نصیب والا قرار دینے لگے۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو): بہادر Khan اپنی فصلوں کی پرورش باپ کی طرح کرتا تھا اور کاریز کے پانی سے انھیں سیراب کرتا تھا. اس کی شان دار گندم کی فصل دیکھ کر گاؤں والے اسے 'بہت اونچے ستارے والا' کہتے تھے.
Passage 2: The Villagers' Superstition & Ultimate Revelation of Truth اقتباس نمبر 2: گاؤں والوں کا توہم اور سچائی کا انکشاف
’’جب بہادر خان شادی سے واپس اپنے گاؤں پہنچا تو لوگ اسے بھوت سمجھ کر خوف کے مارے اپنے گھروں میں دبک گئے۔۔۔ بالآخر رشتہ داروں نے آ کر گواہی دی کہ بہادر خان زندہ ہے اور جل کر مرنے والا نوکر تھا۔‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: Having hastily buried the burned servant as Bahadur Khan, the superstitious villagers refused to believe their eyes when Bahadur Khan returned alive, fleeing from him as a ghost. Only when his relatives arrived from the other village to testify did rational truth triumph over collective superstition.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
سیاق و سباق و تشریح: کھلیان جلنے کے بعد گاؤں والوں نے بغیر تحقیق کیے مسخ شدہ لاش کو بہادر خان سمجھ کر دفنا دیا تھا۔ اس لیے جب جیتا جاگتا بہادر خان واپس آیا تو توہم پرستی اور خوف نے لوگوں کی عقل پر پردہ ڈال دیا اور انہوں نے اس کی بات سننے کے بجائے اسے بھوت قرار دے دیا۔ آخر کار جب دوسرے گاؤں کے رشتہ داروں نے آ کر گواہی دی تو وہم کا طلسم ٹوٹا۔ مصنف اس واقعے سے یہ اخلاقی نتیجہ نکالتے ہیں کہ سنی سنائی باتوں اور وہم کے بجائے تحقیق سے کام لینا چاہیے۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو): بنا تحقیق کے گاؤں والوں نے جلی ہوئی لاش کو بہادر Khan سمجھ لیا اور جب وہ زندہ واپس آیا تو اسے بھوت سمجھ کر بھاگ گئے. آخر رشتے داروں کی گواہی سے سچائی سامنے آئی.

Section A: Important Multiple Choice Questions (Interactive MCQs)

Click any option to verify your answer and view the explanation.

حصہ اول: اہم کثیر الانتخابی سوالات (MCQs)
بہادر خان کی خودداری کی سب سے بڑی وجہ کیا تھی؟
بہادر خان بارش نہ ہونے کی صورت میں اپنے کھیتوں کو کس چیز سے سیراب کرتا تھا؟
نوکر نے بہادر خان کے کھیتوں میں کون سی فصل بوئی تھی؟
شادی پر جاتے وقت بہادر خان کی جیب میں کتنے روپے تھے؟
کھلیان میں آگ لگنے کا سبب کیا بنا؟

Section B: Important Short Questions & Answers (مختصر سوالات)

Includes all PECTAA textbook exercise short questions and high-priority board exam questions.

حصہ دوم: اہم مختصر سوالات و جوابات
🇬🇧 English Guidance
Bahadur Khan cared for his crops like a loving father, counting each ear of wheat, praying over them, and irrigating them on time with karez water.
🇵🇰 اردو جواب
بہادر خان اپنی فصلوں کی پرورش ایک شفیق باپ کی طرح بے پناہ محبت اور محنت سے کرتا تھا۔ وہ گندم کے ایک ایک خوشے کو گنتا، ان کے لیے دعائیں مانگتا اور بروقت کاریز کے پانی سے ان کی سیرابی کرتا تھا۔
🇬🇧 English Guidance
Before marriage, Bahadur Khan never let anyone else touch his fields, but after getting married, he hired a hardworking servant to help sow, tend, and harvest the crops.
🇵🇰 اردو جواب
شادی سے پہلے بہادر خان اپنے کھیتوں میں کسی دوسرے شخص کا ہاتھ لگانا بھی پسند نہیں کرتا تھا، لیکن شادی کے بعد اس نے فصل بونے، کاٹنے اور دیکھ بھال کے لیے ایک محنتی نوکر رکھ لیا۔
🇬🇧 English Guidance
Seeing his prosperity, bumper wheat harvest, virtuous wife, and blessed, hardworking servant, the villagers remarked that Bahadur Khan was born under a very lofty star.
🇵🇰 اردو جواب
گاؤں کے لوگ بہادر خان کی خوشحالی، گندم کی شاندار فصل، سلیقہ مند اور نیک بیوی، اور محنتی و بابرکت نوکر کو دیکھ کر کہتے تھے کہ بہادر خان تو بہت اونچے ستارے (بلند نصیب) والا ہے۔
🇬🇧 English Guidance
Bahadur Khan brought the relatives from the neighboring village whose wedding he had attended that night; their testimony convinced the village chief, his wife, and the villagers that the servant had died in the fire while Bahadur Khan was alive.
🇵🇰 اردو جواب
بہادر خان دوسرے گاؤں سے اپنے ان رشتہ داروں کو ساتھ لے کر آیا جن کی شادی میں وہ اس رات شریک تھا۔ رشتہ داروں نے گاؤں کے رئیس، بہادر خان کی بیوی اور دیہاتیوں کے سامنے گواہی دی کہ مرنے والا نوکر تھا اور بہادر خان زندہ ہے۔

Section C: Solved Textbook Exercise, Sentence Explanations & Grammar (مشقی سوالات و قواعد)

Complete step-by-step solutions to textbook exercises and Urdu grammar rules.

حصہ سوم: حل شدہ مشقی سوالات اور قواعد
Exercise Q1: Grammar — Completion & Meaning of Proverbs (Zarb-ul-Amsal) مشقی سوال 1: ضرب الامثال کی تکمیل اور معنوی وضاحت (قواعد)
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Completion and explanations of the textbook proverbs (Zarb-ul-Amsal).
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
  • چور کی داڑھی میں تنکا: خطاوار شخص اپنے خوف اور مشکوک حرکتوں سے خود ہی پکڑا جاتا ہے۔
  • خدا گنجے کو ناخن نہ دے: کم ظرف انسان کو اختیار مل جائے تو وہ دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
  • ڈوبتے کو تنکے کا سہارا: مصیبت میں ذرا سی مدد بھی بہت غنیمت ہوتی ہے۔
  • رسی جل گئی پر بل نہ گیا: سب کچھ تباہ ہو جانے کے باوجود غرور اور ضد باقی رہنا۔
  • سدا ناؤ کاغذ کی بہتی نہیں: جھوٹ اور فریب ہمیشہ نہیں چلتا۔
  • بھینس کے آگے بین بجانا: ناقدرے اور بے عقل انسان کے سامنے دانائی کی بات کہنا بے سود ہے۔
  • قہرِ درویش بر جانِ درویش: غریب کا غصہ خود اسی کا نقصان کرتا ہے۔
Exercise Q2: Idiomatic Urdu Translation of the Textbook English Passage مشقی سوال 2: انگریزی اقتباس کا بامحاورہ اردو ترجمہ (زبان و ثقافت)
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Complete idiomatic Urdu translation of the textbook's English paragraph on language, culture, and the linguistic evolution of Urdu.
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
انگریزی عبارت کا مفہوم: (The collective experience of human beings is available in the form of knowledge, skills and attitudes. Language and literature are the most important factors which reflect and protect the culture of a society... Urdu language was born from a combination of Persian, Arabic, Turkish, Sanskrit and local languages...)
بامحاورہ اردو ترجمہ: ’’انسان کا اجتماعی تجربہ علم، ہنر اور رویوں کی صورت میں دستیاب ہے۔ زبان اور ادب وہ اہم ترین عناصر ہیں جو کسی معاشرے کی ثقافت کی عکاسی اور اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ اردو زبان فارسی، عربی، ترکی، سنسکرت اور مقامی زبانوں کے ملاپ سے وجود میں آئی۔ گزشتہ صدی کے دوران انگریزی نے بھی اردو کے دامن کو وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ رفتہ رفتہ اردو اس قابل ہوتی جا رہی ہے کہ وہ مشرقی اور مغربی ثقافتوں کے افکار، الفاظ اور احساسات کو اپنے اندر سمو سکے۔‘‘