PECTAA 2026–2027 · Chapter 11
Historical Novel Excerpt / Character Portrait | تاریخی ناول کا باب / کردار نگاری
شاعر / مصنف: شمس الرحمٰن فاروقی (Shamsur Rahman Faruqi) — ماخذ: کئی چاند تھے سرِ آسماں (2006ء)
سبق نمبر 11: حکیم احسن اللہ خان
Chapter 11: Hakeem Ahsanullah Khan
PunjabTest.com Bilingual Chapter Guide Book aligned with the new 2026–2027 PECTAA / PCTB Class 12 (HSSC Part 2) Urdu curriculum. Includes complete Poet/Author Introduction (تعارف), Central Idea & Summary (مرکزی خیال و خلاصہ), Key Vocabulary (اہم الفاظ معنی), Contextual Explanations (تشریح), and Solved Board & Textbook Exercises.
1. Poet / Author & Lesson Introduction (تعارف)
1۔ شاعر / مصنف اور سبق کا تعارف
🇬🇧 English Profile & Key Facts
Shamsur Rahman Faruqi
- Birth & Education: Shamsur Rahman Faruqi (شمس الرحمٰن فاروقی) was born on 30 September 1935 in Pratapgarh (Uttar Pradesh, India) and earned his M.A. in English Literature from Allahabad University in 1955.
- Literary Criticism & Shabkhoon: One of the foremost theorists of Modernism (جدیدیت) in Urdu literature, he edited the landmark literary journal Shabkhoon (شب خون) from Allahabad for 40 years while serving in top positions in the Indian Postal Service.
- Masterpieces: His monumental historical novel Kai Chand Thay Sar-e-Aasman (کئی چاند تھے سرِ آسماں — source of this chapter) recreates 18th- and 19th-century Indo-Muslim culture. His four-volume study of Mir Taqi Mir, Sher-e-Shor Angez (شعرِ شور انگیز), won the Saraswati Samman (1996). He also received the Padma Shri (2009) and an honorary D.Litt. from Aligarh Muslim University.
- Death: Known as Shams-e-Urdu, he passed away on 25 December 2020 in Allahabad.
🇵🇰 اردو تعارف (شاعر / مصنف کا اسلوب و خدمات)
شمس الرحمٰن فاروقی
- ولادت و تعلیم: شمس الرحمٰن فاروقی 30 ستمبر 1935ء کو پرتاپ گڑھ (یو پی، بھارت) میں پیدا ہوئے اور 1955ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔
- جدیدیت اور مجلہ شب خون: آپ اردو تنقید میں جدیدیت کے سب سے بڑے علمبردار تھے اور الہ آباد سے چالیس برس تک مؤقر ادبی جریدے ’’شب خون‘‘ کی ادارت کرتے رہے۔
- شاہکار تصانیف و اعزازات: آپ کا تاریخی ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ (زیرِ نصاب سبق کا ماخذ) اور میر تقی میر پر چار جلدوں کی تصنیف ’’شعرِ شور انگیز‘‘ (سرسوتی سمان ایوارڈ یافتہ) اردو ادب کے شاہکار ہیں۔ آپ کو پدم شری اور ’’شمسِ اردو‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔
- وفات: آپ نے 25 دسمبر 2020ء کو الہ آباد میں وفات پائی۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Guidance): Shamsur رحمان Faruqi (1935–2020) Urdu کے عظیم نقاد، محقق اور ناول نگار تھے. سبق 'حکیم احسن اللہ Khan' ان کے شاھکار تاریخی novel 'کئی چاند تھے سرِ آسمان' سے ma'khooz ہے.
2. Central Idea & Complete Chapter Summary (مرکزی خیال اور خلاصہ)
2۔ مرکزی خیال اور مکمل خلاصہ
🇬🇧 Central Idea & English Summary
🎯 Central Idea (Markazi Khayal):
Set in late Mughal Delhi, the chapter contrasts the growing arrogance and domestic interference of British East India Company officials with the professional integrity, selfless public service, and unshakeable self-respect (khuddari) of Hakeem Ahsanullah Khan.
📖 Comprehensive Chapter Summary:
Taken from Shamsur Rahman Faruqi's acclaimed historical novel Kai Chand Thay Sar-e-Aasman, this chapter portrays the towering character of Hakeem Ahsanullah Khan, the beloved royal physician of 19th-century Mughal Delhi. Seated on a carpeted wooden takht in his clinic (matab) flanked by prescription scribes (nuskha-navees), Hakeem Sahib diagnosed illnesses instantly by feeling the patient's right pulse, charging no consultation fee and providing free medicine to the poor. One afternoon, British Resident William Fraser sent his attendants to summon Hakeem Sahib immediately. Refusing to abandon his waiting patients for a British official, Hakeem Sahib calmly finished treating every patient and offered Zuhr prayers before going to Fraser's residence. Fraser—who arrogantly meddled in the private affairs of Indian nobles—demanded that Hakeem Sahib warn Nawab Shamsuddin Ahmad Khan (of Ferozepur Jhirka) to sever ties with Wazir Khanam (Chhoti Begum). Hakeem Sahib firmly refused to interfere in his patron's domestic affairs. When Fraser invoked loyalty to the East India Company and belittled the Mughal Emperor Akbar Shah II, Hakeem Sahib boldly replied that he was loyal to the Crown of Delhi, not the Company, and walked out of Fraser's chamber without asking leave to depart (izn-e-rukhsat). He then informed the Mughal Emperor at Diwan-e-Khas and Nawab Shamsuddin of Fraser's arrogance, brooding over the ominous threat British imperialism posed to India's future.
🇵🇰 مرکزی خیال اور امتحانی خلاصہ (اردو نستعلیق)
🎯 مرکزی خیال:
اس سبق کا مرکزی خیال زوال پذیر مغلیہ دور میں انگریز سامراج (ایسٹ انڈیا کمپنی) کے بڑھتے ہوئے تکبر اور ہندوستانی امرا کے نجی معاملات میں بے جا مداخلت کے مقابلے میں حکیم احسن اللہ خان کی پیشہ ورانہ دیانت، خدمتِ خلق، خودداری اور قومی و تہذیبی وقار کو اجاگر کرنا ہے۔
📖 سبق / نظم کا مکمل خلاصہ:
سبق ’’حکیم احسن اللہ خان‘‘ شمس الرحمٰن فاروقی کے شہرۂ آفاق تاریخی ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کا ایک منتخب باب ہے۔ حکیم احسن اللہ خان دلی کے مایہ ناز طبیب اور دلی والوں کی آنکھ کا تارا تھے۔ اپنے کشادہ مطب میں وہ سفید چاندنی اور ریشمی قالین سے سجے تخت پر دو زانو بیٹھتے، ان کے دونوں طرف نسخہ نویس بیٹھے ہوتے اور سامنے چوکیوں پر مریض براجمان ہوتے۔ حکیم صاحب مریض کی دائیں نبض (اور ضرورت پڑنے پر دونوں نبضیں) چھو کر فوراً مرض کی درست تشخیص کر لیتے تھے۔ نبض دکھانے کی کوئی فیس نہ تھی اور نادار مریضوں کو مفت دوا بھی ملتی تھی۔ وہ فیروز پور جھرکہ کے نواب احمد بخش خان اور ان کے بیٹے نواب شمس الدین احمد خان کے ذاتی معالج بھی تھے۔ ایک دوپہر برطانوی ریزیڈنٹ ولیم فریزر نے اپنے چوبدار اور ہرکارے بھیج کر حکیم صاحب کو فوری کوٹھی پر طلب کیا۔ حکیم صاحب نے انگریز افسر کے بلاوے پر مریضوں کو بے آسرا چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا اور تمام مریضوں کو دیکھنے اور نمازِ ظہر ادا کرنے کے بعد اطمینان سے پالکی میں روانہ ہوئے۔ فریزر کے کمرے میں پہنچ کر انہوں نے خود اعتمادی سے صندلی پر نشست سنبھالی۔ فریزر ہندوستانی شرفا کو مغرور اور بے تمیز سمجھتا تھا اور نواب احمد بخش خان کا پرانا دوست ہونے کے ناطے نواب شمس الدین کے نجی معاملات میں دخل دیتا تھا۔ فریزر نے تحکمانہ انداز میں حکیم صاحب سے کہا کہ وہ نواب شمس الدین احمد کو وزیر خانم (چھوٹی بیگم) سے تعلق ختم کرنے کی تنبیہ کریں۔ حکیم صاحب نے دو ٹوک جواب دیا کہ میں طبیب ہوں، امرا کے نجی و خانگی معاملات میں دخل دینا میرے منصب کے خلاف ہے۔ جب فریزر نے کمپنی بہادر کی وفاداری کا رعب جمانا چاہا اور مغل بادشاہ اکبر شاہ ثانی کی بے اختیاری پر طنز کیا تو غیور حکیم صاحب نے جرات سے کہا کہ ہم شاہِ دلی کے نمک خوار ہیں نہ کہ کمپنی کے! یہ کہہ کر حکیم صاحب فریزر سے اذنِ رخصت (اجازت) لیے بغیر سلام کر کے دربار سے اٹھ آئے اور موتی مسجد میں مغرب کی اذان کے وقت قلعۂ معلیٰ کے دیوانِ خاص میں بادشاہ کو اور بعد میں نواب شمس الدین کو فریزر کی بدنیتی سے آگاہ کیا۔ اس واقعے کے بعد انگریز ریزیڈنٹوں کے دل میں حکیم صاحب کے خلاف دائمی گرہ پڑ گئی مگر حکیم صاحب نے اپنی خودداری پر کبھی آنچ نہ آنے دی۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Key Points): خلاصہ Key Points: (1) حکیم احسن اللہ Khan دلی والوں کی آنکھ کا tara اور بے-مثال نبض-شناس تھے (fais کوئی نہیں تھی), (2) مطب کا نقشہ (دونوں طرف نسخہ-نویس), (3) British Resident William Fraser کا بلوا اور حکیم صاحب کا پہلے مریض دیکھنا اور ظہر پڑھ کر جانا, (4) Fraser کا نواب شمس الدین اور چھوٹی بیگم (Wazir Khanam) کے نجی معاملے میں مداخلت کا مطالبہ, (5) حکیم صاحب کا انکار ('ہم شاہِ دلی کے نمک-خوار ہیں, Company کے نہیں') اور بغیر اجازت اٹھ آنا, اور (6) بادشاہ اکبر شاہ Sani اور نواب شمس الدین کو آگاہ کرنا.
3. Key Vocabulary, Idioms & Meanings (اہم الفاظ معنی)
3۔ اہم الفاظ معنی اور تراکیب
| # | لفظ / ترکیب | اردو معنی و مفہوم | English & اردو Meaning |
|---|---|---|---|
| 1 | مطب | حکیم کے بیٹھنے اور مریضوں کے علاج کی جگہ، شفا خانہ | Physician's clinic / dispensary (Matab) |
| 2 | نسخہ نویس | حکیم کے بولے ہوئے نسخے کاغذ پر لکھنے والا کاتب | Prescription scribe (Nuskha-navees) |
| 3 | چوبدار | دربار یا امرا کا عصا بردار ملازم جو اطلاع دیتا ہے | Mace-bearer / court attendant (Chobdar) |
| 4 | صندلی | کپڑوں سے منڈھی ہوئی چوکی یا کرسی | Upholstered seat / stool (Sandali) |
| 5 | رعونت | غرور، تکبر، گھمنڈ | Arrogance, haughtiness (Ru'oonat) |
| 6 | استحقاق | حق جتانا، اختیار سمجھنا | Entitlement, claim of right (Istihqaq) |
| 7 | چشم پوشی | درگزر کرنا، نظر انداز کرنا | Turning a blind eye / overlooking |
| 8 | اذنِ رخصت | جانے کی رسمی اجازت | Formal permission to depart (Izn-e-Rukhsat) |
| 9 | پہلو تہی کرنا | کترا کر نکلنا، بے رخی برتنا | To evade / give the cold shoulder |
4. Detailed Explanations with Context (تشریح بحوالہ سیاق و سباق)
4۔ اشعار / اہم اقتباسات کی تشریح
Passage 1: William Fraser's Arrogance & British Colonial Intrusion
اقتباس نمبر 1: ولیم فریزر کی رعونت اور فرنگی مزاج کا جابرانہ گھمنڈ
’’فریزر کی رعونت اور اس کا یہ اعتماد کہ وہ خود کو ملکِ ہند کے رؤسا اور زعما کے گھریلو معاملات اور نجی کردار و اطوار میں مدخل ہونے کا استحقاق رکھتا تھا، یہ باتیں ملکِ ہند اور اہلِ ہند کے لیے کسی خوش آئند مستقبل کی خبر نہ دیتی تھیں۔۔۔ یہ رعونت اور جابرانہ گھمنڈ فرنگی مزاج کا خاصہ تھا۔‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: Reflecting after his confrontation with Resident William Fraser, Hakeem Ahsanullah Khan perceives the dark future awaiting India under British colonial rule. Even though Fraser had been a family friend of Nawab Ahmad Bakhsh Khan, his presumptuous meddling in the private household affairs of Indian nobility reflected the despotic arrogance ingrained in the colonial mindset.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
حوالہ متن: سبق کا عنوان: حکیم احسن اللہ خان | مصنف: شمس الرحمٰن فاروقی | ماخذ: ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘۔
سیاق و سباق و تشریح: برطانوی ریزیڈنٹ ولیم فریزر کے دربار سے اٹھ کر آنے اور مغل بادشاہ سے ملاقات کے بعد حکیم احسن اللہ خان واپسی پر انگریز سامراج کے بڑھتے ہوئے تکبر پر غور کر رہے ہیں۔ مصنف بتاتے ہیں کہ فریزر کا ہندوستانی نوابوں اور شرفا کے نجی اور خاندانی معاملات میں تھانیدار بن کر دخل دینا آنےپہلے وقت کے سیاسی طوفان (غلامی اور 1857ء کے زوال) کا پیش خیمہ تھا۔ اگرچہ فریزر نواب احمد بخش خان کا دوست تھا اور نواب شمس الدین اسے چچا کہتے تھے، مگر شرفا کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نجی معاملات سے چشم پوشی کرتے ہیں؛ تاہم حاکمانہ گھمنڈ اور فرعونیت فرنگی سامراج کی فطرت بن چکی تھی۔
سیاق و سباق و تشریح: برطانوی ریزیڈنٹ ولیم فریزر کے دربار سے اٹھ کر آنے اور مغل بادشاہ سے ملاقات کے بعد حکیم احسن اللہ خان واپسی پر انگریز سامراج کے بڑھتے ہوئے تکبر پر غور کر رہے ہیں۔ مصنف بتاتے ہیں کہ فریزر کا ہندوستانی نوابوں اور شرفا کے نجی اور خاندانی معاملات میں تھانیدار بن کر دخل دینا آنےپہلے وقت کے سیاسی طوفان (غلامی اور 1857ء کے زوال) کا پیش خیمہ تھا۔ اگرچہ فریزر نواب احمد بخش خان کا دوست تھا اور نواب شمس الدین اسے چچا کہتے تھے، مگر شرفا کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نجی معاملات سے چشم پوشی کرتے ہیں؛ تاہم حاکمانہ گھمنڈ اور فرعونیت فرنگی سامراج کی فطرت بن چکی تھی۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو): William Fraser کا ہندوستانی نوابوں کے گھریلو معاملات میں دخل دینا فرنگی تکبر کی علامت تھی. حکیم صاحب نے بھانپ لیا تھا کے انگریزوں کی یہ ru'اونٹ Hindustan کے مستقبل کے لیے خطرناک ہے.
Passage 2: Leaving Without Permission & the Silent Cold War with the British
اقتباس نمبر 2: اذنِ رخصت کے بغیر دربار سے نکل آنا اور انگریزوں سے خاموش جنگ
’’اذنِ رخصت کے بغیر دربار کمرے سے باہر نکل جانا فریزر کی سخت توہین تھی۔ اس وقت تو وہ سب کچھ برداشت کر گیا کہ اسے اپنی بھی عزت کا خیال تھا، لیکن اس دن سے کمپنی بہادر اور حکیم احسن اللہ خان کے درمیان خاموش جنگ چھڑ گئی۔‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: Walking out of the British Resident's chamber without asking formal permission to leave (izn-e-rukhsat) was an unprecedented blow to Fraser's colonial pride. From that day onward, an unspoken cold war began between the East India Company and Hakeem Ahsanullah Khan, with successive British Residents maintaining hostility toward the self-respecting physician.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
سیاق و سباق و تشریح: جب فریزر نے مغل بادشاہ کی بے اختیاری پر طنز کیا تو خوددار حکیم احسن اللہ خان نے ایک لمحہ مزید وہاں بیٹھنا گوارا نہ کیا اور رسمی اجازت لیے بغیر سلام کر کے کمرے سے باہر نکل آئے۔ برطانوی ریزیڈنٹ کے دربار سے یوں بے خوف ہو کر نکل آنا انگریز افسر کے غرور پر کاری ضرب تھا۔ اس دن سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے سرکاری ریکارڈ اور آنے والے تمام ریزیڈنٹوں کے دلوں میں حکیم صاحب کے خلاف دائمی کدورت اور بے رخی پیدا ہو گئی، جو بہادر شاہ ظفر کے دور میں بھی برقرار رہی، مگر حکیم صاحب نے اپنی قومی غیرت کا سودا نہ کیا۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو): جب Fraser نے مغل Taj کی توہین کی تو حکیم صاحب بغیر اجازت لیے دربار سے باہر نکل آئے. اس واقعے کے بعد East India Company اور حکیم صاحب کے درمیان ہمیشہ کے لیے خاموش جنگ چھر گئی.
Section A: Important Multiple Choice Questions (Interactive MCQs)
Click any option to verify your answer and view the explanation.
حکیم احسن اللہ خان کن کی آنکھ کا تارا تھے؟
✅ درست جواب و وضاحت: سبق کے مطابق حکیم احسن اللہ خان ’’دلی والوں کی‘‘ آنکھ کا تارا تھے۔
مطب میں حکیم صاحب کے دونوں جانب کون بیٹھے ہوتے تھے؟
✅ درست جواب و وضاحت: حکیم صاحب کے دونوں جانب ’’نسخہ نویس‘‘ بیٹھے ہوتے تھے جو زیرِ لب بولا گیا نسخہ لکھتے تھے۔
حکیم صاحب کو نبض دکھانے کی فیس کتنی تھی؟
✅ درست جواب و وضاحت: حکیم صاحب کو نبض دکھانے کی فیس ’’کوئی نہیں‘‘ تھی (علاج بالکل مفت تھا)۔
بادشاہ اور گورنر جنرل میں کس مغل بادشاہ کے زمانے تک براہِ راست مراسلت ہوتی تھی؟
✅ درست جواب و وضاحت: اکبر شاہ ثانی کے زمانے تک بادشاہ اور گورنر جنرل میں براہِ راست مراسلت ہوتی تھی۔
حکیم احسن اللہ خان دیوانِ خاص سے باہر آئے تو مغرب کی اذان کہاں ہو رہی تھی؟
✅ درست جواب و وضاحت: جب وہ دیوانِ خاص سے باہر آئے تو قلعے کی ’’موتی مسجد‘‘ میں مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔
Section B: Important Short Questions & Answers (مختصر سوالات)
Includes all PECTAA textbook exercise short questions and high-priority board exam questions.
🇬🇧 English Guidance
Hakeem Ahsanullah Khan was a tall, well-built, dignified figure with bright eyes and a full rounded beard, embodying humility, medical mastery, dutifulness, and unyielding self-respect.
🇵🇰 اردو جواب
حکیم احسن اللہ خان طویل القامت، دوہرے بدن، روشن آنکھوں اور گول بھری ہوئی داڑھی کے حامل متین اور بارعب بزرگ تھے۔ وہ حسنِ اخلاق، انکسار، اعلیٰ طبی مہارت، فرض شناسی اور قومی غیرت و خودداری کا پیکر تھے۔
🇬🇧 English Guidance
He diagnosed illnesses accurately and immediately by feeling the patient's right pulse (or both pulses in complex cases) without needing lengthy explanations, quietly dictating the prescription to his scribes.
🇵🇰 اردو جواب
وہ مریض کی دائیں نبض (اور غیر متوقع شکایت پر دونوں نبضیں) دیکھ کر مرض کی فوری اور درست تشخیص کر لیتے تھے۔ انہیں مریض سے تفصیلی حال سننے کی حاجت نہ ہوتی تھی اور وہ زیرِ لب نسخہ نویس کو دوا لکھوا دیتے تھے۔
🇬🇧 English Guidance
British Resident William Fraser summoned him urgently via his mace-bearer, but Hakeem Sahib refused to leave his patients unattended and went only after examining all patients and offering Zuhr prayers.
🇵🇰 اردو جواب
مطب سے حکیم صاحب کو برطانوی ریزیڈنٹ ولیم فریزر نے اپنے چوبدار کے ذریعے فوری طلب کیا تھا، مگر حکیم صاحب نے مریضوں کو چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا اور تمام مریض دیکھنے اور نمازِ ظہر ادا کرنے کے بعد اطمینان سے گئے۔
🇬🇧 English Guidance
Hearing of Fraser's intrusive threats, Nawab Shamsuddin Ahmad became furious and openly expressed fierce anger and resentment against Fraser.
🇵🇰 اردو جواب
فریزر کی بے جا مداخلت اور دھمکی آمیز باتیں سن کر نواب شمس الدین احمد سخت برہم اور بیزار ہوئے اور انہوں نے فریزر کے خلاف کھلم کھلا شدید غصے اور نفرت کا اظہار کیا۔
Section C: Solved Textbook Exercise, Sentence Explanations & Grammar (مشقی سوالات و قواعد)
Complete step-by-step solutions to textbook exercises and Urdu grammar rules.
Exercise Q1: Description of Hakeem Sahib's Clinic & Portrait of His Self-Respect
مشقی سوال 1: حکیم احسن اللہ خان کے مطب کا نقشہ اور خوددار شخصیت کا مرقع
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Detailed sketch of Hakeem Sahib's dispensary (Matab) and character analysis of his fearless self-respect before British Resident William Fraser.
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
- مطب کا نقشہ: کشادہ کمرے میں سفید چاندنی اور ریشمی قالین سے سجے چوبی تخت پوش پر حکیم صاحب دو زانو بیٹھتے، دونوں طرف نسخہ نویس قلم دوات لیے بیٹھے ہوتے اور سامنے چوکیوں پر بلا تفریق امیر و غریب مریض بیٹھتے جن کا مفت علاج ہوتا تھا۔
- غیور و خوددار شخصیت: ولیم فریزر کے روبرو صندلی پر بیٹھنا، نواب کے نجی معاملے میں سفارت کاری سے انکار کرنا، خود کو کمپنی کے بجائے شاہِ دلی کا نمک خوار کہنا اور بغیر اذنِ رخصت دربار سے نکل آنا ان کی بے مثال خودداری کا ثبوت ہے۔
Exercise Q2: Grammar — Singular to Plural & Plural to Singular
مشقی سوال 2: واحد کے جمع اور جمع کے واحد (قواعد)
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Complete textbook exercise converting singulars and plurals (Khitabat/Khitab, Khas/Khawas, Iktisabat/Iktisab, Kamalat/Kamal, Rabt/Rawabit, Madrasa/Madaris, Shurafa/Shareef, Ulama/Aalim, Atibba/Tabeeb, Nuskha/Nuskhajat, Taba/Tabaye).
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
- خطابات (جمع) ← واحد: خطاب
- خاص (واحد) ← جمع: خواص
- اکتسابات (جمع) ← واحد: اکتساب
- کمالات (جمع) ← واحد: کمال
- ربط (واحد) ← جمع: روابط
- مدرسہ (واحد) ← جمع: مدارس
- شرفا (جمع) ← واحد: شریف
- علما (جمع) ← واحد: عالم
- اطبا (جمع) ← واحد: طبیب
- نسخہ (واحد) ← جمع: نسخہ جات / نسخے
- طبع (واحد) ← جمع: طبائع
