PECTAA 2026–2027 · Chapter 3
Seerah / Historical Prose Narrative | سیرت نگاری / تاریخی نثر
شاعر / مصنف: مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری (Maulana Safi-ur-Rehman Mubarakpuri) — ماخذ: الرحیق المختوم
سبق نمبر 3: ہجرتِ حبشہ
Chapter 3: Hijrat-e-Habsha (Migration to Abyssinia)
PunjabTest.com Bilingual Chapter Guide Book aligned with the new 2026–2027 PECTAA / PCTB Class 12 (HSSC Part 2) Urdu curriculum. Includes complete Poet/Author Introduction (تعارف), Central Idea & Summary (مرکزی خیال و خلاصہ), Key Vocabulary (اہم الفاظ معنی), Contextual Explanations (تشریح), and Solved Board & Textbook Exercises.
1. Poet / Author & Lesson Introduction (تعارف)
1۔ شاعر / مصنف اور سبق کا تعارف
🇬🇧 English Profile & Key Facts
Maulana Safi-ur-Rehman Mubarakpuri
- Birth & Education: Maulana Safi-ur-Rehman Mubarakpuri (مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری) was born on 6 June 1943 in Husainabad near Mubarakpur (District Azamgarh, India). He earned traditional degrees in Arabic and Persian from Madrasa Ehya-ul-Uloom and Madrasa Faiz-e-Aam.
- Global Recognition (Ar-Raheeq Al-Makhtum): In 1976, the Muslim World League (Rabita al-Alam al-Islami, Makkah) held the first international competition on the biography (Seerah) of the Holy Prophet (PBUH), where his book Ar-Raheeq Al-Makhtum (الرحیق المختوم) won First Prize globally.
- Style & Works: He taught for 28 years and authored over 17 authentic books in Arabic and Urdu. His prose style is scholarly, authentic, clear, and deeply moving.
- Death: He passed away on 1 December 2006.
🇵🇰 اردو تعارف (شاعر / مصنف کا اسلوب و خدمات)
مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری
- ولادت و تعلیم: مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری 6 جون 1943ء کو بھارت کے ضلع اعظم گڑھ کے قصبہ مبارک پور کے نواحی گاؤں حسین آباد میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ احیاء العلوم اور مدرسہ فیضِ عام سے عربی و فارسی میں سندِ فضیلت حاصل کی اور 28 برس تک تدریس کے فرائض انجام دیے۔
- عالمی مقابلہ سیرت و الرحیق المختوم: 1976ء میں رابطہ عالمِ اسلامی (مکہ مکرمہ) کے زیرِ اہتمام سیرتِ نبوی ﷺ پر پہلے عالمی مقابلے میں آپ کی شہرۂ آفاق کتاب ’’الرحیق المختوم‘‘ نے دنیا بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
- اسلوب و تصانیف: آپ کا طرزِ تحریر سادہ، محققانہ اور دلکش ہے۔ آپ نے اردو اور عربی میں 17 سے زائد مستند کتب تصنیف کیں۔
- وفات: علم و تحقیق کا یہ آفتاب یکم دسمبر 2006ء کو غروب ہو گیا۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Guidance): مولانا صفی-ur-Rehman مبارک پوری (1943–2006) کی مشہورِ زمانہ سیرت کی کتاب 'Ar-رحیق Al-مختوم' نے 1976 میں رابطہ Alam-e-اسلامی کے علامی مقابلے میں 1st position حاصل کی. سبق 'ہجرتِ حبشہ' اسی کتاب سے ma'khooz ہے.
2. Central Idea & Complete Chapter Summary (مرکزی خیال اور خلاصہ)
2۔ مرکزی خیال اور مکمل خلاصہ
🇬🇧 Central Idea & English Summary
🎯 Central Idea (Markazi Khayal):
The central idea of this lesson is that Islam champions truth, justice, and moral reform. When falsehood conspires against believers, truth prevails through wisdom and justice, as demonstrated by Hazrat Ja'far Tayyar's (RA) eloquent speech and the just verdict of King Negus (Najashi).
📖 Comprehensive Chapter Summary:
Escaping the brutal persecution of the Quraysh in Makkah, the companions migrated to Abyssinia (Habsha), ruled by the just Christian King Negus (Najashi). Determined to bring them back, the Quraysh dispatched two envoys—Amr bin al-Aas and Abdullah bin Abi Rabi'ah—laden withfine leather gifts. After bribing the courtiers, the envoys urged Najashi to hand over the Muslim refugees without hearing them. However, Najashi summoned the Muslims to hear their side. Hazrat Ja'far bin Abi Talib (RA) delivered a historic speech contrasting pre-Islamic ignorance (idolatry, eating carrion, immorality, oppression) with the moral transformation brought by Prophet Muhammad (PBUH) (Tawheed, truthfulness, trust, kinship ties, charity, and purity). When Najashi asked to hear the Quran, Hazrat Ja'far (RA) recited the opening verses of Surah Maryam, moving Najashi and his bishops to tears. Najashi declared that the Quran and the Gospel of Jesus (AS) emanate from the exact same lamp of light. The next day, Amr bin al-Aas tried to provoke Najashi regarding the Islamic view of Jesus (AS), but Hazrat Ja'far (RA) courageously stated the Quranic truth: Jesus (AS) is Allah's servant, Messenger, Spirit, and Word cast unto Virgin Maryam (AS). Najashi agreed completely, returned the Quraysh's gifts (refusing bribes in Allah's cause), and granted the Muslims complete security in his realm.
🇵🇰 مرکزی خیال اور امتحانی خلاصہ (اردو نستعلیق)
🎯 مرکزی خیال:
اس سبق کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دینِ اسلام سچائی، عدل اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا علمبردار ہے۔ جب باطل قوتیں (کفارِ مکہ) حق کو دبانے کی سازش کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ سچائی کی تاثیر اور عدل پسند حکمران کے ذریعے اہلِ ایمان کی غیبی مدد فرماتا ہے۔ حضرت جعفر طیارؓ کی بصیرت افروز تقریر اور شاہِ حبشہ نجاشی کا منصفانہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حق ہمیشہ غالب آتا ہے۔
📖 سبق / نظم کا مکمل خلاصہ:
جب مکہ مکرمہ میں قریش کے ظلم و ستم حد سے بڑھ گئے تو نبی کریم ﷺ کے حکم پر صحابہ کرامؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی، جہاں کا عیسائی بادشاہ نجاشی (اصحمہ) اپنے عدل و انصاف کے لیے مشہور تھا اور وہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا تھا۔ مسلمانوں کو حبشہ میں امن و سکون سے مقیم دیکھ کر مشرکینِ مکہ کو سخت تشویش ہوئی۔ انہوں نے اپنے دو چالاک سفیروں — عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ — کو قیمتی چمڑے اور دیگر بیش بہا تحائف دے کر حبشہ بھیجا۔ دونوں سفیروں نے پہلے نجاشی کے پادریوں اور درباریوں کو تحائف دے کر ہم نوا بنایا اور پھر نجاشی کو تحائف پیش کر کے مطالبہ کیا کہ ہمارے کچھ نادان نوجوان اپنے آباؤ اجداد کا دین چھوڑ کر آپ کے ملک میں آ بسے ہیں، انہیں ہمارے حوالے کیا جائے۔ نجاشی نے انصاف کا تقاضا پورا کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے دربار میں بلایا۔ مسلمانوں کے ترجمان حضرت جعفر بن ابی طالب (جعفر طیارؓ) نے دربار میں تاریخ ساز تقریر کی جس میں زمانۂ جاہلیت کی تاریکی (بت پرستی، مردار خوری، فواحش، قطع رحمی اور ظلم) اور بعثتِ نبوی ﷺ کے بعد اسلام کی پاکیزہ اخلاقی تعلیمات (توحید، سچائی، امانت داری، صلہ رحمی، نماز و زکوٰۃ اور پاکیزگی) کا واضح نقشہ کھینچا۔ نجاشی کی فرمائش پر حضرت جعفرؓ نے سورۂ مریم کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں تو نجاشی اور اس کے اسقف زار و قطار رونے لگے۔ نجاشی نے پکار کر کہا کہ یہ کلام اور حضرت عیسیٰؑ کا کلام ایک ہی شمعدان سے نکلے ہوئے نور ہیں۔ اگلے روز عمرو بن العاص نے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں مسلمانوں کے عقیدے پر نجاشی کو بھڑکانے کی کوشش کی، مگر جب حضرت جعفرؓ نے واضح کیا کہ ہم حضرت عیسیٰؑ کو اللہ کا بندہ، رسول، اس کی روح اور کلمہ مانتے ہیں جو کنواری مریم علیہا السلام کی طرف القا کیا گیا، تو نجاشی نے زمین سے تنکا اٹھا کر اس کی تائید کی۔ نجاشی نے قریش کے تمام تحائف واپس لوٹا دیے اور کہا کہ اللہ نے جب مجھے میری سلطنت واپس دی تو مجھ سے رشوت نہیں لی تھی۔ یوں قریش کے سفیر بے آبرو ہو کر لوٹ گئے اور مسلمان نجاشی کے زیرِ سایہ امن سے مقیم رہے۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Key Points): خلاصہ Key Points: (1) قریش کے ظلم سے تنگ آ کر مسلمانوں کی حبشہ ہجرت, (2) قریش کے 2 سفیر Amr بن Al-آس اور Abdullah بن ابی Rabi'ah کا تحائف لے کر نجاشی کے دربار میں جانا, (3) نجاشی کا انصاف اور مسلمانوں کو بلانا, (4) حضرت جعفر تیار (RA) کی تقریر (زمانہِ جاہلیت vs تعلیمات-e-Islam), (5) سورۂ مریم کی تلاوت سن کر نجاشی کا رونا, (6) حضرت Isa (AS) کے بڑے میں اسلامی عقیدہ, اور (7) قریش کے تحائف کی واپسی اور مسلمانوں کو مکمل امن.
3. Key Vocabulary, Idioms & Meanings (اہم الفاظ معنی)
3۔ اہم الفاظ معنی اور تراکیب
| # | لفظ / ترکیب | اردو معنی و مفہوم | English & اردو Meaning |
|---|---|---|---|
| 1 | پناہ گزین | پناہ لینے والے، مہاجرین | Refugees, asylum seekers (Panah-guzeen) |
| 2 | قلمرو | سلطنت، حکومت کا علاقہ | Realm, dominion, kingdom (Qalamro) |
| 3 | بطریق (جمع: بطارقہ) | عیسائیوں کا بڑا مذہبی پیشوا یا درباری سردار | Christian patriarch / high bishop |
| 4 | سفیر | نمائندہ، ایلچی | Ambassador, envoy (Safeer) |
| 5 | قطع رحمی | رشتہ داروں سے تعلق توڑنا | Severing ties of kinship |
| 6 | فواحش | بے حیائی اور برے کام (واحد: فاحشہ) | Immorality, shameful deeds |
| 7 | صلہ رحمی | رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا | Maintaining bonds of kinship |
| 8 | اسقف (جمع: اساقفہ) | عیسائی عالم و پادری | Bishop / Christian scholar |
| 9 | شمعدان | چراغ دان، روشنی کا سرچشمہ | Candlestick / Lampstand (Sham'adan) |
| 10 | القا کرنا | ڈالنا، نازل کرنا (کلمۃ اللہ کا حضرت مریمؑ کی طرف) | To cast / inspire divinely |
4. Detailed Explanations with Context (تشریح بحوالہ سیاق و سباق)
4۔ اشعار / اہم اقتباسات کی تشریح
Passage 1: Historic Speech of حضرت جا'far تیار (RA) ان نجاشی's Court
اقتباس نمبر 1: نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر طیارؓ کی تاریخی تقریر
’’اے بادشاہ! ہم ایک ایسی قوم تھے جو جاہلیت میں مبتلا تھی۔ ہم بت پوجتے تھے، مردار کھاتے تھے، فواحش کا ارتکاب کرتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے، پڑوسیوں سے برا سلوک کرتے تھے اور ہمارا طاقتور کمزور کو کھا جاتا تھا۔ ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ نے ہم میں خود ہم ہی میں سے ایک رسول ﷺ بھیجا جن کے نسب، سچائی، امانت اور پاک دامنی کو ہم جانتے تھے۔ انہوں نے ہمیں اللہ کی طرف بلایا کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔۔۔‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: Taken from Maulana Safi-ur-Rehman Mubarakpuri's Ar-Raheeq Al-Makhtum, this passage records Hazrat Ja'far Tayyar's (RA) address before King Najashi. Responding to the Quraysh envoys' allegations, Hazrat Ja'far (RA) vividly contrasted the darkness of pre-Islamic Arabia—idolatry, eating carrion, immorality, breaking family ties, and the strong devouring the weak—with the luminous moral revolution introduced by Prophet Muhammad (PBUH), whose noble lineage, truthfulness (Sadiq), and trustworthiness (Ameen) were known to all.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
حوالہ متن: سبق کا عنوان: ہجرتِ حبشہ | مصنف کا نام: مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری | ماخذ: الرحیق المختوم۔
سیاق و سباق: جب کفارِ مکہ کے سفیروں (عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ) نے شاہِ حبشہ نجاشی کے دربار میں تحائف پیش کر کے مہاجر مسلمانوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو عادل بادشاہ نجاشی نے یک طرفہ فیصلہ کرنے کے بجائے مسلمانوں کو اپنا مؤقف بیان کرنے کے لیے طلب کیا۔ اس موقع پر حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ فصیح و بلیغ تقریر فرمائی۔
تشریح: حضرت جعفر طیارؓ نے نہایت جامع انداز میں اسلام سے پہلے کے عرب معاشرے کی اخلاقی پستی اور بعثتِ نبوی ﷺ کے بعد آنے والے عظیم روحانی و اخلاقی انقلاب کا تقابل پیش کیا۔ آپؓ نے بتایا کہ زمانۂ جاہلیت میں عرب شرک، بت پرستی، حرام خوری، بے حیائی، رشتہ داروں اور ہمسایوں کی حق تلفی اور ظلم و جبر کا شکار تھے۔ ایسے تاریک دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا جن کی صداقت اور امانت کی گواہی دشمن بھی دیتے تھے۔ آپ ﷺ نے شرک مٹا کر توحید قائم کی اور سچائی، امانت داری، صلہ رحمی، یتیموں کی خبرگیری اور عفت و پاکیزگی پر مبنی معاشرہ تشکیل دیا۔
سیاق و سباق: جب کفارِ مکہ کے سفیروں (عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ) نے شاہِ حبشہ نجاشی کے دربار میں تحائف پیش کر کے مہاجر مسلمانوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو عادل بادشاہ نجاشی نے یک طرفہ فیصلہ کرنے کے بجائے مسلمانوں کو اپنا مؤقف بیان کرنے کے لیے طلب کیا۔ اس موقع پر حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ فصیح و بلیغ تقریر فرمائی۔
تشریح: حضرت جعفر طیارؓ نے نہایت جامع انداز میں اسلام سے پہلے کے عرب معاشرے کی اخلاقی پستی اور بعثتِ نبوی ﷺ کے بعد آنے والے عظیم روحانی و اخلاقی انقلاب کا تقابل پیش کیا۔ آپؓ نے بتایا کہ زمانۂ جاہلیت میں عرب شرک، بت پرستی، حرام خوری، بے حیائی، رشتہ داروں اور ہمسایوں کی حق تلفی اور ظلم و جبر کا شکار تھے۔ ایسے تاریک دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا جن کی صداقت اور امانت کی گواہی دشمن بھی دیتے تھے۔ آپ ﷺ نے شرک مٹا کر توحید قائم کی اور سچائی، امانت داری، صلہ رحمی، یتیموں کی خبرگیری اور عفت و پاکیزگی پر مبنی معاشرہ تشکیل دیا۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو): سیاق و سبق & تشریح: یہ اقتباس حضرت جعفر تیار (RA) کی اس تاریخی تقریر کا حصہ ہے جو انہوں نے شاہِ حبشہ نجاشی کے دربار میں کی. انہوں نے بتایا کے Islam سے پہلے ہم جاہلیت, but-پرستی اور ظلم میں ڈوبے ہوئے تھے, پھر اللہ نے حضور (SAW) کو بھیجا جنہوں نے ہمیں توحید, سچائی, امانت-داری اور صلہ-رحمی سکھائی.
Passage 2: Impact of Surah Maryam & Najashi's Just Verdict
اقتباس نمبر 2: سورۂ مریم کی تلاوت کا اثر اور نجاشی کا عادلانہ فیصلہ
’’یہ کلام اور وہ کلام جو عیسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے، دونوں ایک ہی شمعدان سے نکلے ہوئے نور ہیں۔ جاؤ! خدا کی قسم، میں انہیں تمہارے حوالے نہیں کروں گا اور نہ ان کے خلاف کوئی چال چلی جا سکتی ہے۔۔۔ خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ نے جب مجھے میرا ملک واپس دیا تھا تو مجھ سے کوئی رشوت نہیں لی تھی کہ میں اس کے بارے میں رشوت لوں۔‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: Deeply moved by the recitation of Surah Maryam and the Islamic reverence for Prophet Isa (AS) and Bibi Maryam (AS), King Najashi wept and proclaimed that the Quran and the Gospel of Jesus (AS) shine from the very same divine lampstand (Sham'adan). Rejecting the lavish bribes of the Quraysh envoys, Najashi declared that since Allah restored his kingdom to him without taking any bribe, he would never accept a bribe against innocent believers.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
سیاق و سباق و تشریح: جب حضرت جعفر طیارؓ نے سورۂ مریم کی ابتدائی آیات اور حضرت عیسیٰؑ و حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں اسلامی عقیدہ بیان کیا تو نجاشی اور اس کے پادریوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے کہ ان کی داڑھیاں اور صحیفے تر ہو گئے۔ نجاشی نے گواہی دی کہ قرآنِ مجید اور انجیل دونوں ایک ہی الٰہی سرچشمے (شمعدان) کا نور ہیں۔ پھر اس نے قریش کے تحائف کو رشوت قرار دے کر واپس لوٹا دیا اور اعلان کیا کہ چونکہ اللہ نے بغیر رشوت اور بغیر لوگوں کی بات مانے مجھے میری سلطنت واپس عطا فرمائی، اس لیے میں بھی اللہ کے دین اور مظلوم مہاجرین کے معاملے میں ہرگز رشوت قبول نہیں کروں گا۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو): سورۂ مریم سن کر نجاشی ro para اور کہا کے قرآن اور حضرت Isa (AS) کا کلام ایک ہی sham'adan (chiragh) کے نور ہیں. اس نے قریش کے تحائف واپس کر دیے اور کہا کے اللہ نے میری سلطنت واپس دیتے وقت مجھ سے رشوت نہیں لی تھی, اس لیے میں بھی رشوت نہیں لوں گا.
Section A: Important Multiple Choice Questions (Interactive MCQs)
Click any option to verify your answer and view the explanation.
سبق ’’ہجرتِ حبشہ‘‘ مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری کی کس عالمی شہرت یافتہ کتاب سے ماخوذ ہے؟
✅ درست جواب و وضاحت: یہ سبق سیرتِ نبوی ﷺ کی عالمی انعام یافتہ کتاب ’’الرحیق المختوم‘‘ سے ماخوذ ہے۔
مشرکینِ مکہ نے نجاشی کے دربار میں کتنے نمائندے (سفیر) بھیجے تھے؟
✅ درست جواب و وضاحت: مشرکینِ مکہ نے دو نمائندے (عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ) بھیجے تھے۔
نجاشی کے دربار میں مسلمانوں کی نمائندگی کس صحابیؓ نے کی؟
✅ درست جواب و وضاحت: درست جواب حضرت جعفر بن ابی طالب (جعفر طیار) رضی اللہ عنہ ہے۔
حضرت جعفر طیارؓ نے نجاشی کے دربار میں قرآنِ مجید کی کس سورۃ کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں؟
✅ درست جواب و وضاحت: حضرت جعفر طیارؓ نے سورۃ مریم کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں۔
نجاشی نے مسلمانوں کو امان دیتے ہوئے فرمایا: ’’مجھے گوارا نہیں کہ تم میں سے کسی آدمی کو ستاؤں اور اس کے بدلے مجھے مل جائے ___‘‘
✅ درست جواب و وضاحت: نجاشی نے فرمایا کہ اگر مجھے سونے کا پہاڑ بھی مل جائے تب بھی میں تم میں سے کسی کو ایذا نہیں پہنچاؤں گا۔
Section B: Important Short Questions & Answers (مختصر سوالات)
Includes all PECTAA textbook exercise short questions and high-priority board exam questions.
🇬🇧 English Guidance
The Quraysh of Makkah selected two shrewd envoys—Amr bin al-Aas and Abdullah bin Abi Rabi'ah (prior to their acceptance of Islam)—for the mission to Abyssinia.
🇵🇰 اردو جواب
مشرکینِ مکہ نے حبشہ کی سفارتی مہم کے لیے دو نہایت ہوشیار اور چالاک افراد — عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ (اپنے قبولِ اسلام سے قبل) — کو منتخب کیا۔
🇬🇧 English Guidance
They first bribed the court patriarchs with fine leather gifts so they would advise the King not to hear the Muslims. Then they presented gifts to Najashi and claimed that some foolish youths had abandoned their forefathers' religion and should be handed back immediately.
🇵🇰 اردو جواب
انہوں نے پہلے نجاشی کے تمام بطریقوں (پادریوں اور درباریوں) کو قیمتی چمڑے کے تحائف دے کر اپنے ساتھ ملایا کہ وہ بادشاہ کو مسلمانوں سے بات کیے بغیر انہیں حوالے کرنے کا مشورہ دیں۔ پھر نجاشی کو تحائف پیش کر کے کہا کہ ہمارے کچھ نادان نوجوان اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر آپ کے ملک آ گئے ہیں، انہیں ہمارے حوالے کر دیا جائے۔
🇬🇧 English Guidance
Hazrat Ja'far (RA) explained that they were once steeped in ignorance, idolatry, and oppression until Allah sent a truthful Messenger (PBUH) who taught them monotheism, honesty, kinship ties, and morality, and that they sought refuge in Abyssinia due to their people's persecution.
🇵🇰 اردو جواب
آپؓ نے فرمایا کہ اے بادشاہ! ہم جاہلیت میں ڈوبی ہوئی قوم تھے، بت پوجتے، مردار کھاتے اور ظلم کرتے تھے۔ اللہ نے ہم میں ایک صادق و امین رسول ﷺ بھیجا جنہوں نے ہمیں توحید، سچائی، امانت داری، صلہ رحمی اور پاکیزگی کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا۔ جب ہماری قوم نے ہم پر ظلم کیا تو ہم آپ کے ملک میں پناہ گزین ہوئے۔
🇬🇧 English Guidance
He stated the Islamic belief taught by the Holy Prophet (PBUH): that Prophet Isa (AS) is the servant of Allah, His Messenger, His Spirit, and His Word cast unto the chaste Virgin Maryam (AS).
🇵🇰 اردو جواب
آپؓ نے فرمایا کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو ہمارے نبی ﷺ لے کر آئے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اس کی روح اور اس کا وہ کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری اور پاک دامن حضرت مریم علیہا السلام کی طرف القا فرمایا تھا۔
Section C: Solved Textbook Exercise, Sentence Explanations & Grammar (مشقی سوالات و قواعد)
Complete step-by-step solutions to textbook exercises and Urdu grammar rules.
Exercise Q1: Grammar — Singular, Sound/Broken Plurals & Double Plurals (Jam-ul-Jama)
مشقی سوال 1: واحد، جمع (جمع سالم و جمع مکسر) اور جمع الجمع (قواعد)
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Complete grammar rules and textbook table for Jama Salim (sound plural), Jama Mukassar (broken plural), and Jam-ul-Jama (double plural: Wajoohat, Umoorat, Adwiyat, Ashjarat, Ajaibat, Jawahirat, Futoohaat).
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
تعریفات:- جمع سالم: جس میں واحد کے حروف کی ترتیب نہ بدلے بلکہ آخر میں اضافہ ہو (مثلاً احسان سے احسانات)۔
- جمع مکسر: جس میں واحد کے حروف کی ترتیب ٹوٹ جائے (مثلاً قوم سے اقوام، کتاب سے کتب، شجر سے اشجار، مضمون سے مضامین)۔
- جمع الجمع: جب عربی کی جمع کو دوبارہ جمع بنا لیا جائے۔
- وجہ ← وجوہ ← وجوہات
- امر ← امور ← امورات
- دوا ← ادویہ ← ادویات
- شجر ← اشجار ← اشجارات
- عجیب ← عجائب ← عجائبات
- جوہر ← جواہر ← جواہرات
- فتح ← فتوح ← فتوحات
Exercise Q2: Essay Writing Structure & Four Styles
مشقی سوال 2: مضمون نویسی کے اجزا اور چار اسالیب (بیانیہ، استدلالی، تفصیلی، تحقیقی)
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Three parts of an Urdu essay (Tamheed, Nafs-e-Mazmoon, Ikhtitam) and four rhetorical modes: Narrative (Bayaniya), Argumentative (Istidlali), Descriptive/Comprehensive (Tafseeli), and Research-based (Tehqeeqi).
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
مضمون کے تین بنیادی حصے: (1) تمہید / تعارف، (2) نفسِ مضمون، (3) اختتام / نتیجہ۔مضمون نویسی کے چار انداز:
- بیانیہ انداز: واقعات، آپ بیتی یا سفرنامے کو کہانی یا ترتیبِ زمانی کے ساتھ بیان کرنا۔
- استدلالی انداز: کسی موضوع کے حق یا مخالفت میں منطقی دلائل اور شواہد پیش کرنا۔
- تفصیلی انداز: موضوع کے تمام پہلوؤں کا جامع احاطہ کرنا (مثلاً پاکستان کے قدرتی وسائل)۔
- تحقیقی انداز: مستند تاریخی حوالوں، اعداد و شمار اور علمی مآخذ کی روشنی میں حقائق سامنے لانا۔
