Class 12 Urdu Chapter 4: ماں جی

Top Brand Header (PunjabTest.com Format) Toast Notification Banner
PECTAA 2026–2027 · Chapter 4 Character Sketch / Biographical Prose | خاکہ نگاری / افسانوی و سوانحی نثر
شاعر / مصنف: قدرت اللہ شہاب (Qudrat Ullah Shahab) — ماخذ: ماں جی / شہاب نامہ

سبق نمبر 4: ماں جی

Chapter 4: Maan Jee

PunjabTest.com Bilingual Chapter Guide Book aligned with the new 2026–2027 PECTAA / PCTB Class 12 (HSSC Part 2) Urdu curriculum. Includes complete Poet/Author Introduction (تعارف), Central Idea & Summary (مرکزی خیال و خلاصہ), Key Vocabulary (اہم الفاظ معنی), Contextual Explanations (تشریح), and Solved Board & Textbook Exercises.

Maan Jee's simplicity, contentment, tasbeeh, prayer mat, and spectacles — portrait of a devoted mother
Maan Jee's simplicity, contentment, tasbeeh, prayer mat, and spectacles — portrait of a devoted mother
1. Poet / Author & Lesson Introduction (تعارف) 1۔ شاعر / مصنف اور سبق کا تعارف
🇬🇧 English Profile & Key Facts Qudrat Ullah Shahab
  • Birth & Education: Qudrat Ullah Shahab (قدرت اللہ شہاب) was born on 26 February 1917 in Gilgit. He earned his M.A. in English Literature from Government College Lahore.
  • Civil Service & Diplomatic Career: Selected for the prestigious Indian Civil Service (ICS) in 1941, he later served Pakistan as Secretary to Governor-General Ghulam Muhammad, President Iskander Mirza, and President Ayub Khan, as well as Ambassador to the Netherlands and Education Secretary.
  • Literary Style & Works: His prose uniquely blends bureaucratic observation, warm humor, human empathy, and Islamic mysticism (Tasawwuf). Famous works include his masterpiece autobiography Shahab Nama (شہاب نامہ), the Partition novella Ya Khuda (یا خدا), Nafsane (نفسانے), Surkh Feeta (سرخ فیتہ), and Maan Jee (ماں جی).
  • Honors & Death: Awarded the Adamjee Literary Award, he passed away on 24 July 1986 in Islamabad.
🇵🇰 اردو تعارف (شاعر / مصنف کا اسلوب و خدمات) قدرت اللہ شہاب
  • پیدائش و تعلیم: قدرت اللہ شہاب 26 فروری 1917ء کو گلگت میں پیدا ہوئے۔ آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
  • اعلیٰ سرکاری و سفارتی خدمات: 1941ء میں انڈین سول سروس (آئی سی ایس) کے لیے منتخب ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد تین سربراہانِ مملکت کے سیکرٹری، ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر اور سیکرٹری تعلیم رہے۔
  • اسلوب اور تصانیف: آپ کی نثر سادہ، رواں، شگفتہ اور تصوف و روحانیت کی چاشنی سے بھرپور ہے۔ آپ کی خودنوشت ’’شہاب نامہ‘‘ اردو ادب کی مقبول ترین کتاب ہے۔ دیگر کتب میں ’’یا خدا‘‘، ’’نفسانے‘‘، ’’سرخ فیتہ‘‘ اور ’’ماں جی‘‘ شامل ہیں۔
  • وفات: آپ نے 24 جولائی 1986ء کو اسلام آباد میں وفات پائی۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Guidance): قدرت اللہ شہاب (1917–1986) Urdu کے عظیم نثر-نگار اور ICS officer تھے. ان کی خود-نوشت 'شہاب نامہ' اور 'مان Jee' Urdu ادب کے شاھکار ہیں. اس سبق میں انہوں نے اپنی والدہ (Maan Jee) کی سادگی, صبر اور روحانی عظمت کا خاکہ کھینچا ہے.
2. Central Idea & Complete Chapter Summary (مرکزی خیال اور خلاصہ) 2۔ مرکزی خیال اور مکمل خلاصہ
🇬🇧 Central Idea & English Summary
🎯 Central Idea (Markazi Khayal): The central idea of this lesson is a heartfelt tribute to a mother's selfless love, simplicity, contentment (qana'at), and complete trust in Allah (tawakkul), showing that maternal prayers and humility outshine all worldly status.
📖 Comprehensive Chapter Summary: In 'Maan Jee', Qudrat Ullah Shahab paints an unforgettable portrait of his mother. When her father's ancestral lands were eroded by the river, the family migrated on Bakra Eid to the newly colonized canal region (Bar area) of Lyallpur (Faisalabad). As a child, Maan Jee received three annas as Eidi to visit a fair, of which eleven paisas were borrowed by young Abdullah Sahib (the author's father). Abdullah Sahib was a favorite student of Sir Syed Ahmad Khan at Aligarh; when awarded a government scholarship to study in England, he declined it to care for his elderly mother. Though Sir Syed was displeased, Allah rewarded his filial devotion by elevating him to Governor in Gilgit, where he took Maan Jee as a bride. Throughout her life, even when her sons became high-ranking civil servants living in grand bungalows, Maan Jee remained utterly simple. Her entire worldly possessions consisted of three cotton suits, a pair of local shoes, rubber slippers, spectacles, a turquoise ring, a prayer mat, a tasbeeh, and Allah. She never called her children 'my sons or daughters', always referring to them as 'Allah's trust (Allah ka maal)'. She bore the deaths of two daughters with silent patience and passed away peacefully, leaving behind an eternal legacy of humility and love.
🇵🇰 مرکزی خیال اور امتحانی خلاصہ (اردو نستعلیق)
🎯 مرکزی خیال: اس سبق کا مرکزی خیال ماں جیسی عظیم ہستی کی بے لوث محبت، صبر و قناعت، عاجزی اور اللہ پر کامل توکل کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔ مصنف یہ پیغام دیتے ہیں کہ دنیاوی جاہ و منصب کے مقابلے میں ماں کی دعائیں، سادگی اور روحانی تربیت ہی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔
📖 سبق / نظم کا مکمل خلاصہ: سبق ’’ماں جی‘‘ میں قدرت اللہ شہاب نے اپنی والدہ محترمہ کی سادہ، صابر اور روحانی شخصیت کا دل گداز خاکہ پیش کیا ہے۔ ماں جی کے والد (نانا جی) کی زمینیں دریا برد ہو گئیں تو وہ معاوضے کی تلاش کے بعد بکر عید کے دن اپنی بیوی، دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کا کنبہ لے کر بار کے نئے آباد ہونے والے علاقے لائل پور (فیصل آباد) روانہ ہوئے۔ ماں جی کو بچپن میں میلہ دیکھنے کے لیے نانا جی سے تین آنے عیدی ملی تھی، جن میں سے گیارہ پیسے مصنف کے والد عبداللہ صاحب (عابد صاحب) نے لے لیے تھے۔ عابد صاحب علی گڑھ میں سرسید احمد خان کے محبوب شاگرد تھے؛ جب انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے ولایت (انگلستان) جانے کا سرکاری وظیفہ ملا تو ان کی بوڑھی والدہ نے جانے سے منع کر دیا۔ عابد صاحب نے ماں کی خدمت کی خاطر وظیفہ ٹھکرا دیا جس پر سرسید احمد خان ان سے خفا ہوئے، لیکن اللہ نے ماں کی دعا سے انہیں بغیر ولایت گئے ہی گلگت میں گورنری کا عہدہ عطا فرمایا جہاں وہ بیاہ کر ماں جی کو لے گئے۔ ماں جی نے ساری عمر انتہائی سادگی اور قناعت میں گزاری۔ ان کی کل کائنات تین جوڑے سوتی کپڑے، ایک جوڑی دیسی جوتا، ایک جوڑا ربڑ کی چپل، ایک عینک، فیروزے کے نگ والی انگوٹھی، ایک جائے نماز، ایک تسبیح اور اللہ کا نام تھا۔ وہ اپنی اولاد کو کبھی ’’میرے بیٹے یا میری بیٹی‘‘ نہیں کہتی تھیں بلکہ ہمیشہ ’’اللہ کا مال‘‘ کہتی تھیں۔ بیٹوں کے اعلیٰ افسر بننے پر انہوں نے کبھی غرور نہیں کیا اور دو جوان بیٹیوں کی وفات پر بھی صبر و ضبط کا دامن نہ چھوڑا۔ عابد صاحب نے وفات سے قبل مزاحاً ان سے اپنے بچپن کے گیارہ پیسے مانگے تھے۔ ماں جی کی وفات بھی نہایت پرسکون تھی اور وہ اپنے بچوں کے لیے عقیدت و محبت کی لازوال یادیں چھوڑ گئیں۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Key Points): خلاصہ Key Points: (1) Nana Jee کی زمین دریا-burd ہونا اور Lyallpur (Bar ke ilaqay) ہجرت, (2) مان Jee کی 3 آنے Eidi اور Abid/Abdullah صاحب کے 11 پیسے, (3) والد صاحب کا اپنی بوڑھی ماں کی خاطر ولایت (England) کا وظیفہ چھوڑنا اور Sir سید کی ناراضگی, (4) Gilgit کی گورنری, (5) مان Jee کا مختصر asbab (3 سوتی جوڑے, ainak, ferozay کی angoothi, جاِ نماز, تسبیح), (6) اولاد کو 'اللہ کا مال' کہنا, اور (7) مان Jee کی pur-سکون وفات.
3. Key Vocabulary, Idioms & Meanings (اہم الفاظ معنی) 3۔ اہم الفاظ معنی اور تراکیب
# لفظ / ترکیب اردو معنی و مفہوم English & اردو Meaning
1 دریا برد ہونا دریا کے کٹاؤ یا سیلاب میں زمین کا بہہ جانا Eroded / washed away by a river
2 بار کا علاقہ پنجاب کے وہ علاقے جہاں نئی نہریں نکال کر زمینیں آباد کی گئیں (لائل پور، سرگودھا، جھنگ) Canal colony region of Punjab (Bar area)
3 کنبہ خاندان، گھر کے افراد Family, household (Kunba)
4 ولایت انگلستان (برطانیہ) یا بیرونِ ملک England / foreign land (Wilayat)
5 خفا ہونا ناراض ہونا، رنجیدہ ہونا To be displeased / angry
6 اسباب سامان، مال و متاع (واحد: سبب) Belongings, possessions (Asbab)
7 بھاگوان خوش نصیب عورت (شوہر کا بیوی کو پیار و احترام سے پکارنا) Blessed / fortunate woman (Bhagwan)
8 بے باق کرنا قرض یا حساب پورا چکانا To settle an account in full
9 عقیدت کا بیابان محبت اور احترام کی بے کراں وسعت Boundless wilderness of devotion
10 ضبط کرنا آنسو، غم یا جذبات کو روکنا اور صبر کرنا To restrain tears/emotions with patience
4. Detailed Explanations with Context (تشریح بحوالہ سیاق و سباق) 4۔ اشعار / اہم اقتباسات کی تشریح
Passage 1: Sir Syed Ahmad Khan's Displeasure & the Reward of Serving One's Mother اقتباس نمبر 1: سرسید احمد خان کی ناراضی اور ماں کی خدمت کا صلہ
’’کیا تم اپنی بوڑھی ماں کو قوم کے مفاد پر ترجیح دیتے ہو؟۔۔۔ لیکن اللہ نے اس نیکی کا صلہ انہیں یہ دیا کہ ولایت جائے بغیر ہی وہ گلگت کے گورنر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: When the author's father declined a prestigious scholarship to study in England because his aged mother did not wish to be left alone, Sir Syed Ahmad Khan scolded him, asking whether he placed his elderly mother above the collective interest of the nation. Yet the father prioritized serving his mother, and Allah blessed his filial piety so richly that he rose to the high office of Governor in Gilgit without ever needing a foreign degree.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
حوالہ متن: سبق کا عنوان: ماں جی | مصنف کا نام: قدرت اللہ شہاب۔
سیاق و سباق: مصنف اپنے والد محترم (عبداللہ صاحب) کے زمانۂ طالب علمی کا واقعہ بیان کرتے ہیں جب علی گڑھ کالج میں ان کی ذہانت کی بنا پر انہیں انگلستان جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے سرکاری وظیفہ ملا، مگر ان کی ضعیف والدہ نے تنہائی کے باعث اجازت نہ دی۔
تشریح: جب مصنف کے والد نے اپنی بوڑھی ماں کی دلجوئی اور خدمت کی خاطر انگلستان جانے سے انکار کر دیا تو سرسید احمد خان سخت خفا ہوئے اور فرمایا کہ کیا تم ایک بوڑھی ماں کی خاطر پوری قوم کے تعلیمی و ملی مفاد کو قربان کر رہے ہو؟ تاہم مصنف کے والد نے ماں کے قدموں کو ترجیح دی۔ قدرت اللہ شہاب بتاتے ہیں کہ ماں کی خدمت اور دعا میں ایسی برکت تھی کہ جو اعلیٰ منصب ولایت جا کر ملتا تھا، اللہ تعالیٰ نے بغیر ولایت گئے ہی انہیں گلگت جیسے اہم خطے میں گورنری کا باوقار عہدہ عطا فرما کر دنیا میں ہی سرخرو کر دیا۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو): مصنف کے والد نے اپنی بوڑھی ماں کی خدمت کے لیے England کا سرکاری وظیفہ چھور دیا. Sir سید احمد Khan اس بات پر ناراض ہوئے, مگر ماں کی دعا سے اللہ نے انھیں بغیر ولایت گئے ہی Gilgit میں گورنری کا آلہ عہدہ ata فرمایا.
Passage 2: Viewing Children as 'Allah's Trust' & Maan Jee's Silent Patience اقتباس نمبر 2: اولاد کو ’’اللہ کا مال‘‘ سمجھنا اور ماں جی کا صبر و ضبط
’’اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو انہوں نے اپنی زبان سے کبھی میرے بیٹے یا میری بیٹی کہنے کا دعویٰ نہیں کیا، ہمیشہ ان کو اللہ کا مال کہا کرتی تھیں۔۔۔ کیا تنہائی میں وہ چھپ چھپ کر رویا نہ کرتی ہوں گی؟‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: This passage highlights Maan Jee's extraordinary spiritual detachment and humility. She never claimed ownership over her children, calling them 'Allah's property/trust'. Because of this faith, she neither boasted when her sons attained high offices nor complained when two of her daughters passed away—though the author wonders with deep emotion how silently she must have wept in solitude.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
سیاق و سباق و تشریح: یہ اقتباس سبق کے آخری حصے سے لیا گیا ہے جس میں مصنف ماں جی کے توکل، بے نفسی اور صبر کا ذکر کرتے ہیں۔ ماں جی کے اندر اس قدر عاجزی اور خدا ترسی تھی کہ وہ اپنی اولاد پر بھی ملکیت جتلانے کو غرور سمجھتی تھیں اور ہمیشہ انہیں ’’اللہ کا مال‘‘ (اللہ کی امانت) کہتی تھیں۔ اسی عقیدے کی بنا پر جب ان کے بیٹے اعلیٰ عہدوں پر پہنچے تو انہوں نے کبھی فخر نہیں کیا، اور جب ان کی دو بیٹیاں جوانی میں وفات پا گئیں تو انہوں نے جزع فزع کرنے کے بجائے صبر کیا کہ اللہ نے اپنا مال واپس لے لیا۔ مصنف تڑپ کر سوچتے ہیں کہ ظاہر میں صبر کا پہاڑ نظر آنے والی ماں کیا رات کی تنہائیوں میں اپنی بچیوں کی یاد میں چپکے چپکے آنسو نہیں بہاتی ہوں گی؟
💡 آسان الفاظ میں (اردو): مان Jee اپنی اولاد کو کبھی 'میرے بیٹے یا میری بیٹی' نہیں کہتی تھیں بلکہ ہمیشہ 'اللہ کا مال' کہتی تھیں. جب ان کی دو بیٹیاں وفات پا گئیں تب بھی انہوں نے صبر کیا.

Section A: Important Multiple Choice Questions (Interactive MCQs)

Click any option to verify your answer and view the explanation.

حصہ اول: اہم کثیر الانتخابی سوالات (MCQs)
سبق ’’ماں جی‘‘ کے مصنف کا نام کیا ہے؟
نانا جی نے بقر عید کے موقع پر ماں جی کو میلہ دیکھنے کے لیے کتنے پیسے عیدی دی؟
نانا جی اپنا کنبہ لے کر بار کے کس نئے آباد ہونے والے شہر روانہ ہوئے؟
عابد صاحب (عبداللہ صاحب) کو ولایت جانے سے کس نے منع کیا تھا؟
ماں جی اپنی اولاد کو ہمیشہ کیا کہا کرتی تھیں؟

Section B: Important Short Questions & Answers (مختصر سوالات)

Includes all PECTAA textbook exercise short questions and high-priority board exam questions.

حصہ دوم: اہم مختصر سوالات و جوابات
🇬🇧 English Guidance
The upland regions between Punjab's rivers that were newly irrigated and colonized through canal networks (such as Lyallpur/Faisalabad, Sargodha, and Jhang) were called the 'Bar areas'.
🇵🇰 اردو جواب
پنجاب کے دو دریاؤں کے درمیان وہ اونچے اور بنجر علاقے جہاں انگریز دور میں نئی نہریں نکال کر زمینیں آباد کی گئیں، انہیں ’’بار کا علاقہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس میں لائل پور (فیصل آباد)، سرگودھا اور جھنگ کے علاقے شامل تھے۔
🇬🇧 English Guidance
Maan Jee's entire belongings consisted of three cotton suits, one pair of local shoes, one pair of rubber slippers, spectacles, a turquoise-set ring, a prayer mat, a tasbeeh, and the name of Allah.
🇵🇰 اردو جواب
ماں جی کے کل اسباب میں تین جوڑے سوتی کپڑے، ایک جوڑی دیسی جوتا، ایک جوڑا ربڑ کی چپل، ایک عینک، فیروزے کے نگ والی ایک انگوٹھی، ایک جائے نماز، ایک تسبیح اور اللہ کا نام شامل تھا۔
🇬🇧 English Guidance
After marriage, Abid Sahib took his bride (Maan Jee) to the remote mountainous region of Gilgit, where he had been appointed Governor.
🇵🇰 اردو جواب
عابد صاحب شادی کے بعد اپنی دلہن (ماں جی) کو دور افتادہ اور دشوار گزار پہاڑی علاقے گلگت لے گئے جہاں وہ گورنری کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔
🇬🇧 English Guidance
Sir Syed Ahmad Khan was displeased because Abid Sahib declined a government scholarship to study in England in order to stay behind and care for his elderly mother.
🇵🇰 اردو جواب
سرسید احمد خان اس بات پر خفا ہوئے کہ عابد صاحب نے اپنی بوڑھی والدہ کی خدمت اور دلجوئی کی خاطر سرکاری وظیفے پر اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان (ولایت) جانے سے انکار کر دیا تھا۔
🇬🇧 English Guidance
In her childhood, Maan Jee received three annas as Eidi from her father (Nana Jee) on Bakra Eid to visit the fair.
🇵🇰 اردو جواب
ماں جی کو بچپن میں بقر عید کے موقع پر نانا جی نے میلہ دیکھنے کے لیے تین آنے عیدی دی تھی۔

Section C: Solved Textbook Exercise, Sentence Explanations & Grammar (مشقی سوالات و قواعد)

Complete step-by-step solutions to textbook exercises and Urdu grammar rules.

حصہ سوم: حل شدہ مشقی سوالات اور قواعد
Exercise Q1: Explanation of Key Sentences & Social/Spiritual Dimensions مشقی سوال 1: اہم جملوں کی وضاحت اور سماجی و روحانی پہلو
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Detailed explanation of the textbook sentences and analysis of the social (migration to canal colonies, family values) and spiritual (tawakkul, contentment, selfless service) dimensions of 'Maan Jee'.
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
  • ’’بھاگوان! شادی سے پہلے میلے میں میں نے تمہیں گیارہ پیسے دیے تھے، کیا ان کو واپس کرنے کا وقت نہیں آیا؟‘‘: عابد صاحب نے وفات کے وقت مزاحیہ اور محبت بھرے انداز میں ماں جی کو بچپن کا قصہ یاد دلا کر اشارہ کیا کہ اب دنیا سے رخصت ہونے اور حساب بے باق کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
  • ’’اگر رویا جائے تو ڈر لگتا ہے کہ ان کی روح کو تکلیف نہ پہنچے اور اگر ضبط کیا جائے تو خدا کی قسم ضبط نہیں ہوتا‘‘: مصنف والدہ کی وفات کے بعد اپنے بے قابو غم کا اظہار کرتے ہیں کہ رونے سے ماں کی روح کو دکھ پہنچنے کا خوف ہے مگر ماں کی جدائی کا صدمہ اتنا گہرا ہے کہ آنسو روکنا انسانی بس میں نہیں۔
  • سماجی و روحانی پہلو: سماجی پہلو متوسط طبقے کی ہجرت، محنت اور خاندانی اقدار کی عکاسی ہے، جبکہ روحانی پہلو ماں جی کا صبر، توکل، قناعت اور بے غرض خدمتِ خلق ہے۔
Exercise Q2: Grammar — Masculine & Feminine Nouns (Tazkeer-o-Tanees) مشقی سوال 2: تذکیر و تانیث (حقیقی و غیر حقیقی مذکر اور مؤنث)
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Complete grammatical classification and sentences for masculine (Suraj, Shehr, Akhbar, Chand) and feminine (Mitti, Riyasat, Urdu) nouns, plus inanimate masculine and feminine nouns from the lesson.
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
مشقی الفاظ کی تذکیر و تانیث اور جملے:
  • سورج (مذکر): صبح سویرے مشرق سے سورج نکل آیا۔
  • مٹی (مؤنث): بارش کے بعد مٹی کی خوشبو پھیل گئی۔
  • شہر (مذکر): لائل پور ایک نیا آباد ہونے والا شہر تھا۔
  • ریاست (مؤنث): پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست ہے۔
  • اخبار (مذکر): میں نے آج کا اخبار پڑھ لیا ہے۔
  • اردو (مؤنث): اردو ہماری قومی زبان ہے۔
  • چاند (مذکر): رات کو چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔
سبق سے غیر حقیقی مذکر و مؤنث: مذکر (عہدہ، وظیفہ، میلہ، تکیہ، بازار، راستہ)؛ مؤنث (تسبیح، عینک، جائے نماز، زمین، خدمت، روح)۔