PECTAA 2026–2027 · Chapter 6
Tragic Drama (Act/Scene 6 — The Battlefield) | المیہ ڈراما (چھٹا منظر — میدانِ جنگ)
شاعر / مصنف: آغا حشر کاشمیری (Agha Hashar Kashmiri) — ماخذ: ڈراما رستم و سہراب (ماخوذ از شاہنامۂ فردوسی)
سبق نمبر 6: رستم و سہراب
Chapter 6: Rustam-o-Sohrab
PunjabTest.com Bilingual Chapter Guide Book aligned with the new 2026–2027 PECTAA / PCTB Class 12 (HSSC Part 2) Urdu curriculum. Includes complete Poet/Author Introduction (تعارف), Central Idea & Summary (مرکزی خیال و خلاصہ), Key Vocabulary (اہم الفاظ معنی), Contextual Explanations (تشریح), and Solved Board & Textbook Exercises.
1. Poet / Author & Lesson Introduction (تعارف)
1۔ شاعر / مصنف اور سبق کا تعارف
🇬🇧 English Profile & Key Facts
Agha Hashar Kashmiri
- Real Name & Birth: Agha Muhammad Shah, famously known as Agha Hashar Kashmiri (آغا حشر کاشمیری), was born in Benares (Varanasi) around 1879 / 1884 (per textbook) into a Kashmiri family.
- Shakespeare of Urdu Drama: Because of his unmatched dramatic power, thunderous dialogues, and mastery of stagecraft, he was titled the 'Shakespeare of India / Urdu' (اردو ڈرامے کا شیکسپیئر). He founded the New Alfred Theatrical Company.
- Style & Famous Plays: His dialogues feature rhythmic prose (مقفع و مسجع نثر), powerful metaphors, and intense emotional conflict between love and duty (عشق و فرض). His famous plays include Yahudi Ki Larki (یہودی کی لڑکی), Sufaid Khoon (سفید خون), Said-e-Hawas (صیدِ ہوس), Khubsurat Bala (خوبصورت بلا), and Rustam-o-Sohrab (رستم و سہراب).
- Death: He passed away in Lahore in 1935 / 1938 and was buried near Miani Sahib.
🇵🇰 اردو تعارف (شاعر / مصنف کا اسلوب و خدمات)
آغا حشر کاشمیری
- اصل نام و پیدائش: آپ کا اصل نام آغا محمد شاہ اور قلمی نام آغا حشر کاشمیری تھا۔ نصابی کتاب کے مطابق آپ 1884ء (بعض روایات میں 1879ء) میں بنارس میں پیدا ہوئے۔
- اردو کا شیکسپیئر: اردو ڈراما نگاری کو بامِ عروج پر پہنچانے اور بے مثال مکالمہ نگاری کی بدولت آپ کو ’’اردو کا شیکسپیئر‘‘ کہا جاتا ہے۔
- اسلوب اور مشہور ڈرامے: آپ کے مکالمے مسجع و مقفع، پرجوش اور استعارات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ آپ کے مشہور ڈراموں میں ’’یہودی کی لڑکی‘‘، ’’سفید خون‘‘، ’’صیدِ ہوس‘‘، ’’اسیرِ حرص‘‘ اور ’’رستم و سہراب‘‘ شامل ہیں۔
- وفات: آپ نے لاہور میں وفات پائی۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Guidance): آغا حشر Kashmiri (اصل نام آغا محمد شاہ) کو 'Urdu ڈرامے کا Shakespeare' کہا جاتا ہے. Drama 'رستم و سہراب' فردوسی کے فارسی 'شاہنامہ' کے مشہور المیہ قصے پر مبنی ہے.
2. Central Idea & Complete Chapter Summary (مرکزی خیال اور خلاصہ)
2۔ مرکزی خیال اور مکمل خلاصہ
🇬🇧 Central Idea & English Summary
🎯 Central Idea (Markazi Khayal):
The central idea of this tragedy is the destructive power of martial pride, concealed identity, and the relentless wheel of fate (taqdeer), culminating in a father unknowingly slaying his own noble son.
📖 Comprehensive Chapter Summary:
This sixth scene of Agha Hashar Kashmiri's tragedy 'Rustam-o-Sohrab' takes place on the battlefield between the legendary Persian warrior Rustam and the young Turanian champion Sohrab—father and son who do not recognize each other. At the start, aging Rustam prays to God to restore his youthful strength after having been nearly defeated by Sohrab the day before. When Sohrab enters, natural filial affection stirs his heart; he repeatedly pleads with the old warrior to spare his own life and reveal his true name, asking if he is Rustam. Blinded by martial pride and suspecting a trick, Rustam conceals his identity and provokes Sohrab into mortal combat. Rustam plunges his dagger into Sohrab's chest. As Sohrab lies dying, he warns his killer that his father Rustam will avenge his blood. Shocked, Rustam demands proof; Sohrab names his mother Tahmina and reveals the royal armlet (mohra) Rustam had left for his child. Crushed by grief and remorse, Rustam curses his own strength and weeps over his dying son. Sohrab forgives his father, whispers a final farewell for his mother ('Maa, Khuda tumhein tasalli de... Dunya rukhsat, Khuda Hafiz'), and breathes his last in Rustam's lap.
🇵🇰 مرکزی خیال اور امتحانی خلاصہ (اردو نستعلیق)
🎯 مرکزی خیال:
اس المیہ ڈرامے کا مرکزی خیال انسانی انا، جھوٹے جنگی غرور اور تقدیر کی بے رحمی کو اجاگر کرنا ہے۔ رستم کا اپنی شناخت اور نام چھپانا اور سہراب کی فطری محبت کی آواز کو نظر انداز کرنا اس ہولناک انجام پر منتج ہوتا ہے جہاں ایک باپ نادانستگی میں اپنے ہی لختِ جگر کو قتل کر بیٹھتا ہے۔
📖 سبق / نظم کا مکمل خلاصہ:
ڈراما ’’رستم و سہراب‘‘ کا یہ چھٹا منظر میدانِ جنگ میں ایران کے عظیم پہلوان رستم اور توران کی طرف سے لڑنے والے نوجوان سہراب کے درمیان فیصلہ کن مقابلے پر مبنی ہے۔ دونوں باپ بیٹا ایک دوسرے کی شناخت سے ناواقف ہیں۔ منظر کے آغاز میں بوڑھا رستم گزشتہ روز سہراب کے ہاتھوں اپنی ہزیمت پر دلگیر ہے اور خدا سے اپنی جوانی کی کھوئی ہوئی طاقت مانگتا ہے تاکہ ایران کی لاج رکھ سکے۔ جب سہراب میدان میں آتا ہے تو خون کی کشش کے باعث اس کا دل اس شیر دل بوڑھے کو قتل کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔ سہراب بار بار رستم سے التجا کرتا ہے کہ ایک غیبی آواز مجھے تجھ سے لڑنے سے روک رہی ہے، تو اپنا نام بتا دے کہ کہیں تو ہی میرا باپ رستم نہ ہو! مگر رستم اسے سہراب کی چال یا خوف سمجھ کر اپنی جنگی انا میں اپنا نام چھپاتا ہے اور سہراب کو مقابلے کے لیے للکارتا ہے۔ گھمسان کی جنگ کے بعد رستم سہراب کے سینے میں خنجر گھونپ دیتا ہے۔ زخمی سہراب تڑپ کر کہتا ہے کہ تو نے مجھے دھوکے سے مارا ہے، لیکن جب میرے باپ رستم کو میری موت کی خبر ملے گی تو وہ پاتال سے بھی تجھے نکال کر انتقام لے گا۔ یہ سن کر رستم کے پاؤں تلے زمین نکل جاتی ہے۔ سہراب اپنی ماں تہمینہ کا نام لیتا ہے اور اپنے بازو پر بندھا رستم کا خاص مہرہ (نگینہ) دکھاتا ہے۔ سچائی کھلتے ہی رستم پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے؛ وہ اپنا سر پیٹتا ہے، خود کو ظالم اور جلاد کہتا ہے اور سہراب کو سینے سے لگا لیتا ہے۔ سہراب مرتے وقت ماں کو تسلی کا پیغام دیتے ہوئے ’’دنیا رخصت۔۔۔ خدا حافظ‘‘ کہہ کر باپ کی گود میں دم توڑ دیتا ہے اور رستم دیوانہ وار ماتم کرتا ہوا غش کھا کر گر پڑتا ہے۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Key Points): خلاصہ Key Points: (1) میدانِ جنگ میں رستم کی دعا, (2) سہراب کے دل میں خون کی کشش اور رستم سے بار بار نام پوچھنا, (3) رستم کا اپنی ana کی وجہ سے نام چھپانا, (4) جنگ اور رستم کا سہراب کے سینے میں خنجر ghoompna, (5) سہراب کا والد رستم کے انتقام اور ماں تہمینہ کا ذکر کرنا, (6) بازو پر بندھا 'مہرہ' دیکھ کر رستم پر حقیقت کھلنا, اور (7) سہراب کی موت اور رستم کا دردناک پچھتاوا.
3. Key Vocabulary, Idioms & Meanings (اہم الفاظ معنی)
3۔ اہم الفاظ معنی اور تراکیب
| # | لفظ / ترکیب | اردو معنی و مفہوم | English & اردو Meaning |
|---|---|---|---|
| 1 | ہزیمت | شکست، ہار، پسپائی | Defeat, rout (Hazeemat) |
| 2 | شیر دل | بہادر، نڈر، دلیر | Lion-hearted, brave |
| 3 | عوض | بدلہ، جگہ، قائم مقام | In place of, substitute (Iwaz) |
| 4 | مہرہ | بازو پر باندھنے والا قیمتی نگینہ یا تعویذ (نشانی) | Royal signet gem / armlet (Mohra) |
| 5 | تہمینہ | سمنگان کے بادشاہ کی بیٹی، رستم کی بیوی اور سہراب کی ماں | Tahmina (mother of Sohrab) |
| 6 | لختِ جگر | جگر کا ٹکڑا، پیارا بیٹا | Piece of the heart / beloved son |
| 7 | جلاد | خونی، بے رحم قاتل | Executioner (Jallad) |
| 8 | تقدیر کا پہیہ | قسمت اور وقت کا چکر | The wheel of fate / destiny |
| 9 | المیہ (Tragedy) | ایسا ڈراما جس کا انجام غمناک ہو | Tragedy |
4. Detailed Explanations with Context (تشریح بحوالہ سیاق و سباق)
4۔ اشعار / اہم اقتباسات کی تشریح
Passage 1: Sohrab's Filial Instinct & Plea to Rustam to Avoid Combat
اقتباس نمبر 1: سہراب کی فطری محبت اور رستم کو جنگ سے باز رہنے کی التجا
’’شیر دل بوڑھے! میرا دل تیری موت دیکھنے کے لیے راضی نہیں ہوتا۔ ایک غیبی آواز بار بار مجھے اس جنگ سے روک رہی ہے۔ اگر ایران کی گود بہادر فرزندوں سے خالی نہیں ہے تو جا واپس جا اور اپنے عوض میں کسی اور ایرانی دلیر کو بھیج دے۔۔۔ کل کی اتفاقی فتح پر غرور نہ کرو، ہر نیا دن انسان کے لیے نئے انقلاب لے کر آتا ہے۔ تقدیر کا پہیہ ہمیشہ ایک ہی سمت میں نہیں گھومتا۔‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: Driven by an unspoken bond of blood, young Sohrab urges the aging warrior to withdraw and send another Persian champion in his stead, confessing that an inner voice stops him from striking him down. Proud Rustam rejects this mercy as an insult, warning Sohrab that yesterday's victory was mere chance and that the wheel of destiny never turns in one direction forever.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
حوالہ متن: سبق کا عنوان: رستم و سہراب | مصنف کا نام: آغا حشر کاشمیری | صنف: المیہ ڈراما۔
سیاق و سباق و تشریح: میدانِ جنگ میں جب رستم اور سہراب آمنے سامنے آتے ہیں تو سہراب خون کے فطری رشتے کی کشش محسوس کرتا ہے اور بوڑھے پہلوان کی جان بخشی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے باطن سے اٹھنے والی آواز مجھے تجھ پر وار کرنے سے روکتی ہے، تو اپنی جگہ کسی اور پہلوان کو بھیج دے۔ اس کے جواب میں خوددار رستم سہراب کی ہمدردی کو اپنی توہین سمجھتا ہے اور فلسفیانہ جملہ کہتا ہے کہ گزشتہ کل کی جیت پر ناز مت کر کیونکہ وقت اور نصیب کا پہیہ ہمیشہ ایک رخ پر نہیں چلتا۔
سیاق و سباق و تشریح: میدانِ جنگ میں جب رستم اور سہراب آمنے سامنے آتے ہیں تو سہراب خون کے فطری رشتے کی کشش محسوس کرتا ہے اور بوڑھے پہلوان کی جان بخشی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے باطن سے اٹھنے والی آواز مجھے تجھ پر وار کرنے سے روکتی ہے، تو اپنی جگہ کسی اور پہلوان کو بھیج دے۔ اس کے جواب میں خوددار رستم سہراب کی ہمدردی کو اپنی توہین سمجھتا ہے اور فلسفیانہ جملہ کہتا ہے کہ گزشتہ کل کی جیت پر ناز مت کر کیونکہ وقت اور نصیب کا پہیہ ہمیشہ ایک رخ پر نہیں چلتا۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو): سہراب اپنے باپ رستم کو پہچانے بغیر خون کی کشش محسوس کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ایک غیبی آواز مجھے تجھ سے لڑنے سے روک رہی ہے. جواب میں رستم کہتا ہے کہ تقدیر کا پہیہ ہمیشہ ایک سمت نہیں گھومتا.
Passage 2: Revelation of the Truth & Rustam's Heart-Wrenching Remorse
اقتباس نمبر 2: حقیقت کا انکشاف اور رستم کا دل خراش پچھتاوا
’’میں نے تیری زندگی تباہ کر کے اپنی زندگی کا ہر ایک عیش اور اپنی دنیا کی ہر ایک خوشی تباہ کر دی۔۔۔ انسان سب سے لڑ سکتا ہے، قسمت سے جنگ نہیں لڑ سکتا۔ اولاد باپ کی زندگی کا سرمایہ اور ماں کی روح کی دولت ہے۔‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: Upon seeing the royal armlet (mohra) on Sohrab's arm, Rustam realizes the horrifying truth that he has fatally wounded his own son. Shattered with grief, he laments that by destroying Sohrab's life, he has destroyed every joy of his own existence—for a human being can fight anyone in the world, but no one can win a war against fate.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
سیاق و سباق و تشریح: جب سہراب کے بازو پر بندھا مہرہ دیکھ کر رستم پر منکشف ہوتا ہے کہ اس نے اپنے ہی بیٹے کے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہے تو اس کا غرور خاک میں مل جاتا ہے۔ وہ بین کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے بیٹے! تجھے قتل کر کے میں جیتا نہیں بلکہ اپنی ساری زندگی کی خوشیاں اور بڑھاپے کا سہارا اپنے ہاتھوں اجاڑ بیٹھا ہوں۔ آغا حشر نے اس منظر میں تقدیر کی بے رحمی اور والدین کے لیے اولاد کی قدر و قیمت کو لازوال الفاظ میں سمو دیا ہے۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو): جب رستم سہراب کے بازو پر بندھا مہرہ دیکھتا ہے تو وہ فریاد کر اٹھتا ہے کہ میں نے اپنے ہی بیٹے کو قتل کر کے اپنی دنیا کی ہر خوشی تباہ کر لی. انسان سب سے lar سکتا ہے مگر قسمت سے جنگ نہیں lar سکتا.
Section A: Important Multiple Choice Questions (Interactive MCQs)
Click any option to verify your answer and view the explanation.
ڈراما ’’رستم و سہراب‘‘ میں منظر کے آغاز پر رستم اداس چہرے کے ساتھ مایوس نگاہوں سے کس طرف دیکھ رہا ہے؟
✅ درست جواب و وضاحت: منظر کے آغاز میں رستم مایوس نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھ کر دعا مانگ رہا ہے۔
سہراب رستم کو اپنے بیٹے کے رشتے کا یقین کیا دکھا کر دلاتا ہے؟
✅ درست جواب و وضاحت: سہراب اپنے بازو پر بندھا ’’رستم کا مہرہ‘‘ دکھا کر باپ بیٹے کے رشتے کا یقین دلاتا ہے۔
چھٹے منظر میں سہراب کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
✅ درست جواب و وضاحت: سہراب کا بنیادی مقصد اپنے باپ (رستم) کو تلاش کرنا تھا۔
سہراب کی موت کا اصل سبب کیا بنا؟
✅ درست جواب و وضاحت: سہراب کی موت کا سبب باپ بیٹے کے درمیان ’’پہچان نہ ہونا‘‘ (اور رستم کا نام چھپانا) بنا۔
رستم و سہراب ڈرامے کے موجودہ حصے کا مرکزی موضوع کیا ہے؟
✅ درست جواب و وضاحت: موجودہ حصے کا مرکزی موضوع باپ کے ہاتھوں بیٹے کے قتل پر شدید ’’پچھتاوا‘‘ (المیہ) ہے۔
Section B: Important Short Questions & Answers (مختصر سوالات)
Includes all PECTAA textbook exercise short questions and high-priority board exam questions.
🇬🇧 English Guidance
In Scene 6, the decisive duel takes place between Rustam and Sohrab in which Rustam conceals his name and unknowingly stabs his own son Sohrab, discovering the tragic truth only upon seeing the armlet (mohra).
🇵🇰 اردو جواب
چھٹے منظر میں رستم اور سہراب کے درمیان میدانِ جنگ میں فیصلہ کن مقابلہ ہوتا ہے جس میں رستم اپنا نام چھپاتے ہوئے نادانستگی میں اپنے ہی بیٹے سہراب کے سینے میں خنجر گھونپ دیتا ہے، اور بعد میں بازو پر بندھا مہرہ دیکھ کر حقیقت کھلتی ہے۔
🇬🇧 English Guidance
After being stabbed, when dying Sohrab warns that his father Rustam will avenge him, names his mother Tahmina, and reveals Rustam's signet armlet (mohra) on his arm, Rustam realizes Sohrab is his own son.
🇵🇰 اردو جواب
جب خنجر لگنے کے بعد زخمی سہراب کہتا ہے کہ میرا باپ رستم میرے خون کا بدلہ لے گا، اپنی ماں کا نام تہمینہ بتاتا ہے اور بازو کا کپڑا ہٹا کر رستم کا دیا ہوا خاص مہرہ (نشانی) دکھاتا ہے تو رستم کو معلوم ہو جاتا ہے کہ سہراب اسی کا بیٹا ہے۔
🇬🇧 English Guidance
As he breathed his last, Sohrab's final words were: 'Mother... may God console you... Farewell, world... Khuda Hafiz!'
🇵🇰 اردو جواب
مرتے وقت سہراب کی زبان پر یہ ٹوٹے ہوئے الفاظ تھے: ’’ماں۔۔۔ خدا تمہیں تسلی دے۔۔۔ دنیا رخصت۔۔۔ خدا حافظ!‘‘
🇬🇧 English Guidance
Upon Sohrab's death, Rustam was consumed by agony and remorse. He beat his head, called himself a ruthless executioner of his own child, called upon heaven and earth to mourn, and collapsed crying 'Sohrab, Sohrab!'
🇵🇰 اردو جواب
سہراب کی موت پر رستم شدید صدمے، یاس اور پچھتاوے کی تصویر بن گیا۔ اس نے اپنا سر پیٹا، خود کو اپنے بیٹے کا قاتل اور جلاد قرار دیا، زمین و آسمان کو ماتم کی دہائی دی اور ’’سہراب، سہراب‘‘ پکارتے ہوئے غش کھا کر گر پڑا۔
Section C: Solved Textbook Exercise, Sentence Explanations & Grammar (مشقی سوالات و قواعد)
Complete step-by-step solutions to textbook exercises and Urdu grammar rules.
Exercise Q1: Character Comparison of Rustam and Sohrab
مشقی سوال 1: رستم اور سہراب کے کرداروں کا موازنہ
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Comparative analysis of Sohrab (brave yet compassionate, guided by filial love and forgiveness) and Rustam (mighty veteran warrior whose rigid martial pride leads to tragic regret).
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
- سہراب کا کردار: سہراب ایک نڈر، بہادر مگر انتہائی رحم دل، مخلص اور باپ کی محبت کا متلاشی نوجوان ہے۔ وہ میدانِ جنگ میں بھی خون کی کشش کو محسوس کرتا ہے، بوڑھے حریف کا احترام کرتا ہے اور مرتے وقت بھی اپنے باپ کو معاف کر دیتا ہے۔
- رستم کا کردار: رستم ایران کا عظیم اور تجربہ کار پہلوان ہے مگر اس کے کردار میں جنگی انا، خودداری اور نام ظاہر نہ کرنے کی ضد نمایاں ہے جو اس عظیم المیے کا سبب بنتی ہے۔ بیٹے کی شناخت کھلنے کے بعد وہ ایک ٹوٹے ہوئے، پشیمان باپ کا دردناک روپ اختیار کر لیتا ہے۔
Exercise Q2: Grammar — Particles/Prepositions (Huroof) & Their 9 Types
مشقی سوال 2: حروف اور ان کی اقسام (جار، عطف، استفہام، نفی، علت، شرط، بیان، ندا، تحسین)
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Complete definitions and examples for all 9 grammatical categories of Urdu particles (Huroof-e-Jar, Atf, Istifham, Nafi, Illat, Shart, Bayan, Nida, Tehseen).
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
- حروفِ جار: اسم کو فعل سے ملانے والے (نے، کو، سے، پر، تک، میں — کتاب میز پر رکھو)۔
- حروفِ عطف: دو کلموں یا جملوں کو جوڑنے والے (اور، و، نیز، پھر — شام و سحر، علم اور عمل)۔
- حروفِ استفہام: سوال پوچھنے کے لیے (کیا، کون، کب، کہاں، کیوں — تمہارا نام کیا ہے؟)۔
- حروفِ نفی: انکار یا ممانعت کے لیے (نہ، نہیں، مت — غرور مت کرو)۔
- حروفِ علت: سبب یا وجہ بتانے والے (کیونکہ، اس لیے، چوں کہ، لہٰذا — وہ کامیاب ہوا کیونکہ اس نے محنت کی)۔
- حروفِ شرط و جزا: شرط بیان کرنے والے (اگر، گر، تو، ورنہ — اگر محنت کرو گے تو کامیاب ہو گے)۔
- حروفِ بیان: وضاحت کے لیے (کہ، یعنی — استاد نے کہا کہ سچ بولو)۔
- حروفِ ندا: پکارنے کے لیے (اے، ارے، او — اے شیر دل بوڑھے!)۔
- حروفِ تحسین: تعریف و داد کے لیے (شاباش، واہ واہ، مرحبا، سبحان اللہ)۔
