PECTAA 2026–2027 · Chapter 7
Symbolic & Allegorical Balochi Short Story | بلوچی علامتی و تمثیلی افسانہ (اردو ترجمہ)
شاعر / مصنف: غوث بہار (مترجم: غنی پرواز) (Ghaus Bahar (Translated by Ghani Parwaz)) — ماخذ: بلوچی افسانوی ادب (ترجمہ: غنی پرواز)
سبق نمبر 7: محشر
Chapter 7: Mahshar (The Day of Reckoning)
PunjabTest.com Bilingual Chapter Guide Book aligned with the new 2026–2027 PECTAA / PCTB Class 12 (HSSC Part 2) Urdu curriculum. Includes complete Poet/Author Introduction (تعارف), Central Idea & Summary (مرکزی خیال و خلاصہ), Key Vocabulary (اہم الفاظ معنی), Contextual Explanations (تشریح), and Solved Board & Textbook Exercises.
1. Poet / Author & Lesson Introduction (تعارف)
1۔ شاعر / مصنف اور سبق کا تعارف
🇬🇧 English Profile & Key Facts
Ghaus Bahar (Translated by Ghani Parwaz)
- Author Name & Birth: Ghaus Bahar (غوث بہار) was born in 1952 in Turbat (Balochistan) and passed away in 2018 in Quetta. The story was translated into Urdu by renowned writer Ghani Parwaz (غنی پرواز).
- Literary Standing: A celebrated Balochi short-story writer, poet, linguist, and researcher associated with the Balochi Academy, Ghaus Bahar served as a vital literary bridge between Balochi and Urdu literature.
- Style & Major Works: His stories combine regional Balochi culture with sharp social satire and universal symbolism. Famous story collections include Zargwat (زرگواٹ) and Karkink (کرکینک), while his poetry collection is Ashkambain Billaur (اشکمبین بلور).
🇵🇰 اردو تعارف (شاعر / مصنف کا اسلوب و خدمات)
غوث بہار (مترجم: غنی پرواز)
- نام، پیدائش اور مترجم: افسانہ ’’محشر‘‘ بلوچی زبان کے نامور ادیب غوث بہار (پیدائش: 1952ء تربت، وفات: 2018ء کوئٹہ) کی تخلیق ہے جبکہ اس کا اردو ترجمہ غنی پرواز نے کیا ہے۔
- ادبی و لسانی خدمات: غوث بہار طویل عرصہ بلوچی اکیڈمی سے وابستہ رہے اور بلوچی قواعد، عروض اور افسانہ نگاری میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
- اسلوب و تصانیف: آپ کا اسلوب سادہ، بیانیہ اور علامتی و تمثیلی ہے۔ آپ کے افسانوی مجموعوں میں ’’زرگواٹ‘‘ اور ’’کرکینک‘‘ اور شعری مجموعے میں ’’اشکمبین بلور‘‘ مشہور ہیں۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Guidance): غوث باہر (1952–2018) بلوچی زبان کے مشہور افسانہ-نگار تھے اور اس افسانے کا Urdu ترجمہ گھنی پرواز نے کیا ہے. 'محشر' ایک علامتی اور تمثیلی افسانہ ہے جو قومی حسد اور نہ-اتفاقی پر گہرا طنز کرتا ہے.
2. Central Idea & Complete Chapter Summary (مرکزی خیال اور خلاصہ)
2۔ مرکزی خیال اور مکمل خلاصہ
🇬🇧 Central Idea & English Summary
🎯 Central Idea (Markazi Khayal):
The central idea of this allegorical story is that nations are defined not by appearances or claims, but by their collective character. Mutual envy, malice, and pulling one another's legs drag a nation into ruin in both worlds.
📖 Comprehensive Chapter Summary:
Set on the scorching plain of Judgment Day where the sun blazes at a spear's height over a barren expanse, 70-year-old Qaleet son of Tehlo (from Panjgur, Balochistan) wakes up late after missing the morning reckoning. Rushing to the grand gate of Paradise, he asks the angel guard to check the massive register (heavier than four camel-loads), but his name is not found. Sent onward to Al-A'raf (the intermediate heights), Qaleet struggles with the guard over Arabic vs. Balochi pronunciation of his name, and finding no entry there either, is directed eastward. Running east toward multicolored flames, he meets the terrifying black keeper of Hell—with a trunk-like nose, eyes on his forehead, and a charred staff—who tells him that Hell requires no register, only deeds, and that a nation is recognized by its character rather than its face. Inspecting four fiery wells of Hell, Qaleet rejects the first well (passive, lazy people burning silently), the second well (selfless people trying to shield one another), and the third well (cowards hiding beneath others). Finally, at the fourth well, he sees people frantically trying to climb out, only for their companions below to pull their legs and drag them back into the fire out of envy. Qaleet immediately recognizes them: 'This leg-pulling nation is my nation—throw me into this well!'
🇵🇰 مرکزی خیال اور امتحانی خلاصہ (اردو نستعلیق)
🎯 مرکزی خیال:
اس علامتی افسانے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ قومیں ظاہری شکل و صورت یا زبانی دعوؤں سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی کردار اور اعمال سے پہچانی جاتی ہیں۔ باہمی حسد، بغض، نفاق اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی بری عادت کسی بھی قوم کو دنیا اور آخرت دونوں میں ذلت اور تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔
📖 سبق / نظم کا مکمل خلاصہ:
افسانہ ’’محشر‘‘ میں قیامت کے دن کا ایک تمثیلی منظر پیش کیا گیا ہے۔ دوپہر کا وقت ہے، سورج سوا نیزے پر ہے، پوری دنیا ایک چٹیل میدان بنی ہوئی ہے اور چیونٹیوں سے لے کر ہاتھیوں تک تمام جاندار گرمی سے بے حال ہیں۔ ستر سالہ بوڑھا قلیٹ ولد ٹہلو (ساکن پنجگور، بلوچستان) صبح حساب کتاب کے وقت سویا رہ گیا تھا۔ وہ گھبرا کر پہلے جنت کے عالی شان دروازے پر پہنچتا ہے جہاں فرشتہ چار اونٹوں کے بوجھ سے بھی بھاری رجسٹر میں اس کا نام تلاش کرتا ہے مگر نام نہ ملنے پر اسے ’’اعراف‘‘ کے مکانات کی طرف بھیج دیتا ہے۔ اعراف کے دربان اور بوڑھے کے درمیان عربی اور بلوچی تلفظ کے فرق (قلیٹ ولد ٹہلو بمقابلہ کلیر ولد تہلو) کی وجہ سے الجھن پیدا ہوتی ہے، اور وہاں بھی رجسٹر میں نام نہ ملنے پر دربان اسے مشرق کی طرف بھیج دیتا ہے۔ بوڑھا قلیٹ تپتی دھوپ میں مشرق کی طرف دوڑتا ہے تو اسے سرخ، سبز اور سیاہ شعلے لپکتے نظر آتے ہیں اور دوزخ کا ہیبت ناک سیاہ فام داروغہ ملتا ہے جس کی ناک ہاتھی کی سونڈ جیسی، آنکھیں پیشانی پر اور ہاتھ میں جلا ہوا ڈنڈا ہے۔ داروغہ بتاتا ہے کہ دوزخ میں رجسٹر سے نہیں بلکہ اعمال سے داخلہ ملتا ہے اور قوم شکل سے نہیں بلکہ کردار سے پہچانی جاتی ہے۔ وہ بوڑھے کو اپنی قوم تلاش کرنے کے لیے دوزخ کے چار کنوؤں کی سیر کرواتا ہے: پہلے کنویں میں کاہل اور بے حس لوگ چپ چاپ جل رہے تھے؛ دوسرے کنویں میں ایثار کرنے والے ہمدرد لوگ ایک دوسرے کے بدلے جلنے کو تیار تھے؛ تیسرے کنویں میں بزدل لوگ روتے ہوئے دوسروں کے نیچے چھپ رہے تھے۔ قلیٹ ان تینوں کو اپنی قوم ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ چوتھے کنویں میں وہ دیکھتا ہے کہ جو بھی شخص باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے، نیچے والے لوگ حسد اور بغض کی وجہ سے اس کی ٹانگیں کھینچ کر اسے واپس آگ میں گرا دیتے ہیں۔ یہ منظر دیکھتے ہی بوڑھا قلیٹ فوراً پکار اٹھتا ہے کہ ٹانگیں کھینچنے والی یہی بدبخت قوم میری اپنی قوم ہے اور مجھے اسی کنویں میں ڈال دو!
💡 آسان الفاظ میں (اردو Key Points): خلاصہ Key Points: (1) قیامت کی دوپہر اور 70 sala بوڑھا قلیط wald Tehlo (az Panjgur) کا soya رہ جانا, (2) جنت کے دروازے پر 4 اونٹوں سے بھری register میں نام نہ ملنا, (3) A'raf کے ڈربن سے عربی اور بلوچی تلفظ (Qaleet/Kaleer) کی الجھن, (4) مشرق میں دوزخ کے داروغہ سے ملاقات ('قوم شکل سے نہیں, کردار سے پہچانی جاتی ہے'), (5) دوزخ کے 4 کنوئیں (1: کاہل, 2: ہمدرد, 3: بزدل, 4: حسد سے ٹانگ کھینچنے والے), اور (6) چوتھے کنوئیں میں قلیط کا اپنی قوم کو پہچان لینا.
3. Key Vocabulary, Idioms & Meanings (اہم الفاظ معنی)
3۔ اہم الفاظ معنی اور تراکیب
| # | لفظ / ترکیب | اردو معنی و مفہوم | English & اردو Meaning |
|---|---|---|---|
| 1 | سوا نیزے پر ہونا | سورج کا انتہائی قریب اور شدید گرم ہونا | The sun blazing overhead at a spear's height |
| 2 | چٹیل میدان | صاف، ہموار، درختوں اور سبزے سے خالی میدان | Barren, treeless plain (Chatyal maidan) |
| 3 | پاسبان | نگہبان، دربان، چوکیدار | Gatekeeper, sentinel (Pasban) |
| 4 | اعراف | جنت اور دوزخ کے درمیان کا بلند مقام (جہاں نیکی اور بدی برابر والے ٹھہریں گے) | Al-A'raf (elevated barrier between Paradise and Hell) |
| 5 | ہم پیشہ | ایک ہی پیشے یا کام سے تعلق رکھنے والے | Fellow worker / colleague |
| 6 | گوش گزار کرنا | سنانا، عرض کرنا، بتانا | To bring to someone's attention |
| 7 | مسخ ہونا | شکل و صورت کا بگڑ جانا | To be disfigured / distorted |
| 8 | بغض و عناد | کینہ، دلی دشمنی، حسد اور عداوت | Malice, spite, and animosity |
| 9 | کاہل | سست، کام چور، بے حس | Lazy, indolent (Kahil) |
| 10 | عاری | خالی، محروم | Devoid of, lacking (Aari) |
4. Detailed Explanations with Context (تشریح بحوالہ سیاق و سباق)
4۔ اشعار / اہم اقتباسات کی تشریح
Passage 1: Old Qaleet's Journey Eastward & the Keeper of Hell
اقتباس نمبر 1: بوڑھے قلیٹ کا مشرق کی طرف جانا اور دوزخ کے داروغہ کا حلیہ
’’بوڑھا مشرق کی طرف روانہ ہوا۔۔۔ وہاں ایک کالا، ہیبت ناک اور بدصورت شخص کھڑا تھا جس کی ناک ہاتھی کی سونڈ کی طرح لمبی تھی، دونوں آنکھیں پیشانی پر چڑھی ہوئی تھیں اور اس کے ہاتھ میں ایک موٹا ڈنڈا تھا جس کا سرا جلا ہوا تھا۔‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: Turned away from both Paradise and Al-A'raf after his name was not found in their registers, old Qaleet runs eastward hoping for shade, only to encounter roaring red, green, and black flames and the terrifying warden of Hell holding a charred rod. This encounter leads directly to the inspection of the four wells of Hell.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
حوالہ متن: سبق کا عنوان: محشر | مصنف: غوث بہار | مترجم: غنی پرواز | صنف: افسانہ۔
سیاق و سباق: بوڑھا قلیٹ قیامت کی تپش سے گھبرا کر پہلے جنت اور پھر اعراف کے دروازے پر گیا مگر دونوں جگہ رجسٹروں میں اس کا نام نہ ملا اور اعراف کے دربان نے بیزار ہو کر اسے مشرق کی طرف جانے کا راستہ دکھا دیا۔
تشریح: اعراف سے مایوس ہو کر بوڑھا قلیٹ سائے کی تلاش میں مشرق کی سمت بھاگا تو وہاں سورج کی تپش کے ساتھ دوزخ کے سرخ، سبز اور سیاہ شعلوں کی بھڑکتی ہوئی حدت نے اسے گھیر لیا۔ وہاں اس کا سامنا جنت اور اعراف کے خوش شکل فرشتوں کے برعکس دوزخ کے خوفناک نگران سے ہوا جس کا حلیہ ہی عذاب اور دہشت کی علامت تھا۔ اس کے بعد وہ نگران بوڑھے کو دوزخ کے چار کنوؤں کی سیر کرواتا ہے جہاں قلیٹ حسد اور ٹانگ کھینچنے کی عادت سے اپنی قوم کو پہچان لیتا ہے۔
سیاق و سباق: بوڑھا قلیٹ قیامت کی تپش سے گھبرا کر پہلے جنت اور پھر اعراف کے دروازے پر گیا مگر دونوں جگہ رجسٹروں میں اس کا نام نہ ملا اور اعراف کے دربان نے بیزار ہو کر اسے مشرق کی طرف جانے کا راستہ دکھا دیا۔
تشریح: اعراف سے مایوس ہو کر بوڑھا قلیٹ سائے کی تلاش میں مشرق کی سمت بھاگا تو وہاں سورج کی تپش کے ساتھ دوزخ کے سرخ، سبز اور سیاہ شعلوں کی بھڑکتی ہوئی حدت نے اسے گھیر لیا۔ وہاں اس کا سامنا جنت اور اعراف کے خوش شکل فرشتوں کے برعکس دوزخ کے خوفناک نگران سے ہوا جس کا حلیہ ہی عذاب اور دہشت کی علامت تھا۔ اس کے بعد وہ نگران بوڑھے کو دوزخ کے چار کنوؤں کی سیر کرواتا ہے جہاں قلیٹ حسد اور ٹانگ کھینچنے کی عادت سے اپنی قوم کو پہچان لیتا ہے۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو): جنت اور A'raf کے registeron میں نام نہ ملنے کے بعد بوڑھا قلیط مشرق کی طرف بھگا جہاں اسے دوزخ کے شعلے اور ہیبت-nak داروغہ ملا، جس نے اسے دوزخ کے charon کنوئیں دیکھائے.
Passage 2: Scene of the Fourth Well & Recognizing the Leg-Pulling Nation
اقتباس نمبر 2: چوتھے کنویں کا منظر اور ٹانگ کھینچنے والی قوم کی شناخت
’’قوم شکل سے نہیں پہچانی جاتی بلکہ اس کی پہچان اس کے کردار سے ہوتی ہے۔۔۔ جب بھی کوئی شخص کنویں سے باہر نکلنے لگتا تو باقی لوگ اس کی ٹانگیں پکڑ کر اسے واپس آگ میں گرا دیتے۔‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: When Qaleet complains that the fire has disfigured faces beyond recognition, the warden replies with a profound truth: 'A nation is recognized not by its face, but by its character.' Watching the inmates of the fourth well pull down anyone who nears the top edge so no one can escape, Qaleet instantly recognizes his own envious, leg-pulling people.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
سیاق و سباق و تشریح: جب قلیٹ نے شکایت کی کہ آگ سے جھلس کر لوگوں کی شکلیں مسخ ہو چکی ہیں اس لیے میں اپنی قوم کو کیسے پہچانوں، تو دوزخ کے نگران نے ایک آفاقی سچائی بیان کی کہ قوموں کی شناخت چہروں سے نہیں بلکہ ان کے اجتماعی رویے اور کردار سے ہوتی ہے۔ چوتھے کنویں میں جب قلیٹ نے دیکھا کہ لوگ خود نکلنے کے بجائے ہر آگے بڑھنے اور باہر نکلنے والے شخص کی ٹانگ کھینچ کر اسے دوبارہ آگ میں گرا رہے ہیں تو اس نے فوراً اپنی قوم کو پہچان لیا۔ مصنف نے اس تمثیل کے ذریعے ہمارے معاشرے کے باہمی حسد، نفاق اور ٹانگ کھینچنے کے المیے پر کاری ضرب لگائی ہے۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو): داروغہ نے تاریخی جملہ کہا کے 'قوم شکل سے نہیں بلکہ کردار سے پہچانی جاتی ہے.' چوتھے کنوئیں میں جب log ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر واپس آگ میں گرا رہے تھے تو قلیط نے فوراً اپنی قوم کو پہچان لیا.
Section A: Important Multiple Choice Questions (Interactive MCQs)
Click any option to verify your answer and view the explanation.
افسانہ ’’محشر‘‘ میں دنیا کیسی نظر آ رہی تھی؟
✅ درست جواب و وضاحت: افسانہ محشر میں پوری دنیا ایک ’’چٹیل میدان‘‘ نظر آ رہی تھی۔
جنت کے دروازے پر موجود رجسٹر کا بوجھ کتنے اونٹوں سے زیادہ تھا؟
✅ درست جواب و وضاحت: سبق کے متن کے مطابق رجسٹر کا بوجھ چار اونٹوں سے زیادہ تھا۔
اعراف کے دربان اور بوڑھے کو کن دو زبانوں کے فرق نے پریشان کر رکھا تھا؟
✅ درست جواب و وضاحت: عربی اور بلوچی زبانوں کے صوتی فرق (قلیٹ/کلیر اور ٹہلو/تہلو) نے دونوں کو پریشان کر رکھا تھا۔
پہلا کنواں دیکھ کر بوڑھے نے کہا: ’’میری قوم اتنی ___ نہیں تھی۔‘‘
✅ درست جواب و وضاحت: پہلے کنویں میں چپ چاپ جلنے والے لوگوں کو دیکھ کر بوڑھے نے کہا کہ میری قوم اتنی ’’کاہل‘‘ نہیں تھی۔
’’قوم شکل سے نہیں پہچانی جاتی بلکہ اس کی پہچان ہوتی ہے اس کے ___ سے۔‘‘
✅ درست جواب و وضاحت: درست جواب ’’کردار‘‘ ہے۔
Section B: Important Short Questions & Answers (مختصر سوالات)
Includes all PECTAA textbook exercise short questions and high-priority board exam questions.
🇬🇧 English Guidance
At midday, the blazing sun stood at a spear's height over a vast, barren plain. The heat was so fierce that every creature—from ants and birds to elephants and leopards—was restless and exhausted.
🇵🇰 اردو جواب
افسانے میں دوپہر کا وقت تھا اور سورج سوا نیزے پر کھڑا آگ برسا رہا تھا۔ پوری دنیا ایک بے آب و گیاہ چٹیل میدان بنی ہوئی تھی اور گرمی کی شدت سے چیونٹیوں اور پرندوں سے لے کر ہاتھیوں اور چیتوں تک تمام جاندار سخت بے چین اور نڈھال تھے۔
🇬🇧 English Guidance
The old man stated that his name was Qaleet son of Tehlo, aged 70, from Panjgur in Balochistan, and that he had missed the morning reckoning because he had overslept.
🇵🇰 اردو جواب
بوڑھے نے بتایا کہ اس کا نام قلیٹ اور اس کے باپ کا نام ٹہلو ہے، اس کی عمر ستر (70) سال ہے، وہ بلوچستان کے علاقے پنجگور کا رہنے والا ہے اور سویا رہ جانے کی وجہ سے صبح کے حساب کتاب سے رہ گیا تھا۔
🇬🇧 English Guidance
Al-A'raf is the elevated intermediate barrier between Paradise and Hell reserved for those whose good and bad deeds are equal, before they are eventually admitted into Paradise by Allah's mercy.
🇵🇰 اردو جواب
اعراف جنت اور دوزخ کے درمیان واقع ایک بلند درمیانی مقام ہے جہاں وہ لوگ ٹھہرائے جائیں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی، اور بعد میں اللہ کی رحمت سے انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔
🇬🇧 English Guidance
In the 1st well, lazy people burned passively; in the 2nd well, empathetic people tried to shield each other from the fire; in the 3rd well, cowards wept and hid beneath others; and in the 4th well, envious people pulled down anyone trying to climb out.
🇵🇰 اردو جواب
پہلے کنویں میں کاہل لوگ بے حس ہو کر چپ چاپ جل رہے تھے؛ دوسرے کنویں میں ہمدرد اور ایثار پیشہ لوگ ایک دوسرے کے بدلے جلنے کی کوشش کر رہے تھے؛ تیسرے کنویں میں بزدل لوگ روتے ہوئے دوسروں کے نیچے چھپ رہے تھے؛ اور چوتھے کنویں میں حاسد لوگ باہر نکلنے کی کوشش کرنے والے ہر شخص کی ٹانگ کھینچ کر اسے واپس آگ میں گرا رہے تھے۔
🇬🇧 English Guidance
Old Qaleet recognized his people by their mutual envy, disunity, and habit of pulling the legs of anyone trying to rise or escape, dragging them back into the fire.
🇵🇰 اردو جواب
بوڑھے قلیٹ نے اپنی قوم کے لوگوں کو ان کے باہمی حسد، بغض، نااتفاقی اور ترقی کرنے یا نجات پانے والے شخص کی ٹانگیں کھینچ کر واپس آگ میں گرانے کی بدترین عادت کی وجہ سے پہچانا۔
Section C: Solved Textbook Exercise, Sentence Explanations & Grammar (مشقی سوالات و قواعد)
Complete step-by-step solutions to textbook exercises and Urdu grammar rules.
Exercise Q1: Grammar — Antonyms (Alfaz Mutazad) & Auxiliary Verbs (Imdadi Afa'al)
مشقی سوال 1: متضاد الفاظ کی اقسام، جملے اور امدادی افعال
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Complete solved exercises for Antonyms (Roshni/Tareeki, Aabad/Barbad, Aaghaz/Anjam, Ghulami/Azadi, Bahar/Khizan) and Auxiliary Verbs (Chahna, Hona, Rakhna, Parna, Dalna).
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
متضاد الفاظ اور جملے:- روشنی × تاریکی: علم انسان کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔
- آباد × برباد: اتفاق سے قومیں آباد ہوتی ہیں اور نفاق سے برباد ہو جاتی ہیں۔
- آغاز × انجام: دانا انسان ہر کام کے آغاز سے پہلے اس کے انجام پر نظر رکھتا ہے۔
- غلامی × آزادی: باوقار آزادی ذلت آمیز غلامی سے ہزار درجے بہتر ہے۔
- بہار × خزاں: زندگی کے باغ میں کبھی خوشی کی بہار آتی ہے تو کبھی غم کی خزاں۔
- چاہنا: مریض اب آرام کرنا چاہتا ہے۔
- ہونا: سورج غروب ہوتے ہی قافلہ روانہ ہو گیا۔
- رکھنا: میں نے امتحان کی مکمل تیاری کر رکھی ہے۔
- پڑنا: تیز بارش کے باعث ہمیں رکنا پڑا۔
- ڈالنا: بہادر سپاہی نے دشمن کو پچھاڑ ڈالا۔
Exercise Q2: Letter Writing Structure & Formal Letter to Newspaper Editor on Load-Shedding
مشقی سوال 2: خطوط نویسی (رسمی و غیر رسمی خطوط، اجزائے خط اور مدیر کے نام خط)
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Components of Urdu letter writing (Nisf Mulaqat), distinction between formal (rasmi) and informal (ghair-rasmi) letters, and model letter to the Editor regarding unscheduled electricity load-shedding.
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
خط کے بنیادی اجزا: (1) مقامِ روانگی اور تاریخ، (2) القاب و آداب، (3) نفسِ مضمون، (4) اختتامی کلمات، (5) مکتوب نگار کا نام و پتہ۔ (خط کو ’’نصف ملاقات‘‘ کہا جاتا ہے)۔اخبار کے مدیر کے نام بجلی کی لوڈشیڈنگ پر خط کا خاکہ: بخدمت جناب مدیر روزنامہ جنگ، لاہور — محترم جناب! آپ کے مؤقر جریدے کے کالموں کے ذریعے میں واپڈا اور متعلقہ حکام کی توجہ شہر میں بجلی کی بدترین اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جس سے طلبہ کی امتحانی تیاری، مریضوں اور کاروبار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ التماس ہے کہ فوری اصلاحِ احوال کی جائے۔ والسلام، الف۔ ب۔ ج۔
