PECTAA 2026–2027 · Chapter 9
Classical Urdu Dastan (Romance / Tale) | کلاسیکی داستان
شاعر / مصنف: میر امن دہلوی (Mir Amman Dehlavi) — ماخذ: باغ و بہار (فورٹ ولیم کالج کلکتہ، 1803ء)
سبق نمبر 9: سیر دوسرے درویش کی
Chapter 9: Sair Doosray Darvesh Ki (Travels of the Second Dervish)
PunjabTest.com Bilingual Chapter Guide Book aligned with the new 2026–2027 PECTAA / PCTB Class 12 (HSSC Part 2) Urdu curriculum. Includes complete Poet/Author Introduction (تعارف), Central Idea & Summary (مرکزی خیال و خلاصہ), Key Vocabulary (اہم الفاظ معنی), Contextual Explanations (تشریح), and Solved Board & Textbook Exercises.
1. Poet / Author & Lesson Introduction (تعارف)
1۔ شاعر / مصنف اور سبق کا تعارف
🇬🇧 English Profile & Key Facts
Mir Amman Dehlavi
- Name & Background: Mir Amman Dehlavi (میر امن دہلوی, pen name Lutf) was born around 1748 in Delhi. His ancestors served with distinction in the Mughal court until Delhi was ravaged during political upheavals, forcing him to migrate first to Patna (Azimabad) and then to Calcutta.
- Fort William College (1801): In 1801, Dr. John Gilchrist appointed Mir Amman to the translation department of Fort William College, Calcutta.
- Masterpieces & Prose Style: Mir Amman wrote Bagh-o-Bahar (باغ و بہار, an adaptation of the Persian tale Qissa Chahar Darvesh / Nau Tarz-e-Murassa) and Ganj-e-Khubi (گنجِ خوبی, translation of Husayn Wa'iz Kashifi's Akhlaq-e-Mohsini). Rejecting artificial rhyming prose, he pioneered simple, natural, idiomatic Delhi Urdu (Dilli ka rozmarra), earning Bagh-o-Bahar immortal status as the cornerstone of modern Urdu prose.
- Death: He passed away around 1806 / 1808.
🇵🇰 اردو تعارف (شاعر / مصنف کا اسلوب و خدمات)
میر امن دہلوی
- نام و پس منظر: آپ کا نام میر امان اور تخلص لطفؔ تھا، مگر ادبی دنیا میں میر امن دہلوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ تقریباً 1748ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ دہلی کی بربادی کے بعد پٹنہ اور پھر کلکتہ تشریف لے گئے۔
- فورٹ ولیم کالج سے وابستگی: 1801ء میں ڈاکٹر جان گلکرسٹ کے توسط سے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں منشی مقرر ہوئے۔
- اسلوب اور تصانیف: میر امن نے پرتکلف اور مقفع عبارت آرائی کے بجائے دہلی کے ٹھیٹھ روزمرہ، محاورے اور سلیس و فطری زبان میں ’’باغ و بہار‘‘ (قصہ چہار درویش کا ترجمہ) اور ’’گنجِ خوبی‘‘ (اخلاقِ محسنی کا ترجمہ) تصنیف کیں۔
- وفات: آپ نے قیاساً 1806ء کے لگ بھگ وفات پائی۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Guidance): Mir Amman دہلوی (1748–1806) نے 1801 میں Fort William College Calcutta میں Dr. John Gilchrist کی فرمائش پر مشہور داستاں 'باغ و باہر' لکھی. ان کی صدا اور ba-محاورہ زبان نے جدید Urdu نثر کی بنیاد رکھی.
2. Central Idea & Complete Chapter Summary (مرکزی خیال اور خلاصہ)
2۔ مرکزی خیال اور مکمل خلاصہ
🇬🇧 Central Idea & English Summary
🎯 Central Idea (Markazi Khayal):
The central idea is that true generosity (sakhawat) is not ostentatious wealth distribution, but selfless sacrifice, forbearance (sama'i), fear of God (khauf-e-Ilahi), and mindfulness of the Hereafter—exemplified by Hatim Tai risking his own life for a poor woodcutter.
📖 Comprehensive Chapter Summary:
Sitting cross-legged (char-zano), the Second Dervish narrates his tale after reciting two couplets. Born a prince of Persia (whose capital Isfahan is famed as 'Half the World'), he mastered all sciences by age fourteen. One day, a wise courtier told him the story of Hatim Tai: When the Arab king Naufal attacked Hatim out of jealousy, Hatim hid in a mountain cave so innocent blood would not be shed. Naufal announced a reward of 500 gold ashrafis for Hatim's capture. Hearing an elderly woodcutter and his wife outside the cave wishing they could find Hatim to escape poverty, Hatim stepped out and told the old man to hand him over to Naufal for the reward. At Naufal's court, when greedy neighbors falsely claimed credit, Hatim revealed the truth to protect the old woodcutter. Moved by Hatim's supreme self-sacrifice, Naufal rewarded the woodcutter with 500 ashrafis, punished the liars, and restored Hatim's lands with honor. Inspired to emulate Hatim, the Persian prince built a pavilion with forty doors, distributing gold coins at each entrance daily. One day, a dervish in a patched cloak took one ashrafi from each of the forty doors and returned to the first door for a forty-first coin. When the prince rebuked him as greedy, the dervish flung all forty gold coins on the ground and explained the true meanings of 'Faqr' (Faqa, Qana'at, Riyazat) and 'Sakhi' (Sama'i/forbearance, Khauf-e-Ilahi, Yaad of origin and death), declaring that the only true generous soul was the Princess of Basra.Humbled, the prince donned a dervish's cloak and set out for Basra.
🇵🇰 مرکزی خیال اور امتحانی خلاصہ (اردو نستعلیق)
🎯 مرکزی خیال:
اس داستانوی سبق کا مرکزی خیال یہ ہے کہ حقیقی سخاوت محض دولت لٹانے یا ناموری حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ بے غرض ایثار، وسعتِ قلبی (سمائی)، خوفِ الٰہی اور اپنی عاقبت و موت کو یاد رکھنے کا نام ہے۔ حاتم طائی کا غریب لکڑہارے کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالنا سچے ایثار کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔
📖 سبق / نظم کا مکمل خلاصہ:
جب دوسرے درویش کے کہنے کی نوبت پہنچی تو وہ چار زانو ہو کر بیٹھا اور دو اشعار پڑھ کر اپنی سرگزشت سنانے لگا۔ وہ ملکِ فارس (جس کا دارالحکومت اصفہان ’نصفِ جہاں‘ مشہور ہے) کا شہزادہ تھا۔ اس کے والد نے بچپن سے نامور اتالیق مقرر کر کے چودہ برس کی عمر تک اسے تمام علوم و فنون میں ماہر بنا دیا۔ ایک روز ایک دانا اور تواریخ داں مصاحب نے شہزادے کو حاتم طائی کی سخاوت کا قصہ سنایا: عرب کے بادشاہ نوفل نے حاتم طائی کی شہرت سے جل کر اس پر چڑھائی کر دی۔ حاتم نے بے گناہ مخلوقِ خدا کو خون ریزی سے بچانے کے لیے اپنا مال و ملک چھوڑ کر جنگل کے ایک غار میں پناہ لے لی۔ نوفل نے اعلان کروایا کہ جو حاتم کو پکڑ کر لائے گا اسے پانچ سو اشرفیاں انعام ملیں گی۔ ایک روز غار کے باہر ایک بوڑھا لکڑہارا اور اس کی بیوی لکڑیاں چنتے ہوئے حسرت کر رہے تھے کہ کاش ہمیں حاتم مل جائے تو پانچ سو اشرفیاں لے کر غربت سے نجات پائیں۔ حاتم نے یہ سن کر سوچا کہ اپنی جان چھپانا اور ان غریبوں کو محروم رکھنا جواں مردی اور مروت کے خلاف ہے۔ چنانچہ وہ خود غار سے نکل آیا اور بوڑھے سے کہا کہ مجھے نوفل کے پاس لے چل اور انعام لے لے۔ راستے میں لکڑہارے کے لالچی ہمسائے بھی انعام کے طمع میں ساتھ لگ لیے اور دربار میں جھوٹے دعوے کرنے لگے۔ جب حاتم نے اصل حقیقت بیان کی تو بادشاہ نوفل حاتم کے بے لوث ایثار پر دنگ رہ گیا۔ نوفل نے جھوٹے مدعیوں کو جوتیاں لگوائیں، لکڑہارے کو پانچ سو اشرفیاں دیں اور حاتم سے معافی مانگ کر اس کا تمام ملک و اسباب واپس کر دیا۔ حاتم کا قصہ سن کر فارس کے شہزادے کو بھی سخاوت کا شوق چڑھا۔ اس نے چالیس دروازوں والا ایک عالیشان مکان بنوایا جہاں صبح سے شام تک ہر دروازے سے سائلوں کو اشرفیاں بانٹتا۔ ایک دن ایک دلق پوش فقیر نے چالیسوں دروازوں سے ایک ایک اشرفی لی اور اکیسالیسویں بار پھر پہلے دروازے پر آ کر سوال کیا۔ شہزادے نے جھنجھلا کر اسے طمع کا طعنہ دیا۔ فقیر نے فوراً چالیسوں اشرفیاں زمین پر پھینک دیں اور ’’فقر‘‘ (ف سے فاقہ، ق سے قناعت، ر سے ریاضت) اور ’’سخی‘‘ (س سے سمائی، خ سے خوفِ الٰہی، ی سے یادِ پیدائش و عاقبت) کی حرف بحرف حقیقت بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے تو تیرا حوصلہ آزمایا تھا، سچی سخی تو صرف بصرے کی شہزادی ہے! شہزادے نے ندامت سے معافی مانگی مگر فقیر چلا گیا، اور شہزادہ درویش کا بھیس بدل کر بصرے کی شہزادی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو Key Points): خلاصہ Key Points: (1) دوسرا درویش فرس (Isfahan) کا shahzada تھا, (2) مصاحب کا حاتم Tai اور بادشاہ نوفل کا قصہ سنانا (500 اشرفیاں ان'am اور لکڑہارے کی خاطر حاتم کا خود کو پیش کرنا), (3) Shahzaday کا 40 دروازوں والا مکاں banwana, (4) ایک فقیر کا 40 دروازوں سے اشرفیاں لے کر 41वीं بار مانگنا اور shahzaday کا ٹوکنا, (5) فقیر کا 'Faqr' (ف، ق، ر) اور 'سخی' (س، خ، ی) کی وضاحت کرنا اور Basray کی Shahzadi کا پتہ دینا.
3. Key Vocabulary, Idioms & Meanings (اہم الفاظ معنی)
3۔ اہم الفاظ معنی اور تراکیب
| # | لفظ / ترکیب | اردو معنی و مفہوم | English & اردو Meaning |
|---|---|---|---|
| 1 | چار زانو بیٹھنا | دونوں گھٹنے موڑ کر ادب یا آلتی پالتی مار کر بیٹھنا | Sitting cross-legged with dignity |
| 2 | دلق پوش | گدڑی یا پیوند لگے کپڑے پہننے والا درویش | Clad in a patched dervish cloak (Dalq-posh) |
| 3 | ہفت اقلیم | دنیا کے سات خطے (پوری دنیا) | The Seven Climes / the whole world |
| 4 | کواکب | ستارے، سیارے (واحد: کوکب) | Stars, celestial bodies (Kawakib) |
| 5 | اولو العزم | بلند ہمت، پختہ ارادے والے | Resolute, high-minded (Ulul-Azm) |
| 6 | قرق کرنا | ضبط کرنا، سرکاری تحویل میں لے لینا | To confiscate / seize property |
| 7 | طمع | لالچ، حرص، ہوس | Greed, avarice (Tama) |
| 8 | تفاوت | فرق، فاصلہ، دوری | Difference, disparity (Tafawut) |
| 9 | مروت و مردمی | انسانیت، لحاظ اور جواں مردی | Chivalry, humanity, and magnanimity |
4. Detailed Explanations with Context (تشریح بحوالہ سیاق و سباق)
4۔ اشعار / اہم اقتباسات کی تشریح
Passage 1: Cultural & Geographical Excellence of Persia and Isfahan
اقتباس نمبر 1: ملکِ فارس اور اصفہان کی تہذیبی و جغرافیائی خوبی
’’ہفت اقلیم میں اس اقلیم کے برابر کوئی ولایت نہیں کہ وہاں کا ستارہ آفتاب ہے اور وہ ساتوں کواکب میں نیرِ اعظم ہے۔ آب و ہوا وہاں کی خوش اور لوگ روشن طبع اور صاحبِ سلیقہ ہوتے ہیں۔‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: Introducing his homeland of Persia and its capital Isfahan ('Half the World'), the Second Dervish praises it as unmatched among the Seven Climes (Haft Iqleem), ruled by the Sun (Nayyar-e-Azam), blessed with a pleasant climate, and inhabited by intelligent, cultured, and refined people.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
حوالہ متن: سبق کا عنوان: سیر دوسرے درویش کی | مصنف: میر امن دہلوی | ماخذ: باغ و بہار۔
سیاق و سباق و تشریح: دوسرا درویش درویشوں کی محفل میں اپنے آبائی وطن ملکِ فارس اور دارالحکومت اصفہان (جسے ’اصفہان نصفِ جہاں‘ کہا جاتا ہے) کی تعریف بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ قدیم جغرافیے کے سات خطوں (ہفت اقلیم) میں فارس جیسا کوئی ملک نہیں کیونکہ اس کا ستارہ سورج (نیرِ اعظم) ہے۔ وہاں کا موسم نہایت معتدل اور فرحت بخش ہے اور وہاں کے باشندے ذہین، روشن دماغ، بااخلاق اور اعلیٰ تہذیب و سلیقے کے مالک ہیں۔ دراصل میر امن نے اصفہان کے پردے میں اپنی محبوب دلی (شاہجہان آباد) کی تہذیبی نفاست کی جھلک دکھائی ہے۔
سیاق و سباق و تشریح: دوسرا درویش درویشوں کی محفل میں اپنے آبائی وطن ملکِ فارس اور دارالحکومت اصفہان (جسے ’اصفہان نصفِ جہاں‘ کہا جاتا ہے) کی تعریف بیان کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ قدیم جغرافیے کے سات خطوں (ہفت اقلیم) میں فارس جیسا کوئی ملک نہیں کیونکہ اس کا ستارہ سورج (نیرِ اعظم) ہے۔ وہاں کا موسم نہایت معتدل اور فرحت بخش ہے اور وہاں کے باشندے ذہین، روشن دماغ، بااخلاق اور اعلیٰ تہذیب و سلیقے کے مالک ہیں۔ دراصل میر امن نے اصفہان کے پردے میں اپنی محبوب دلی (شاہجہان آباد) کی تہذیبی نفاست کی جھلک دکھائی ہے۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو): دوسرا درویش اپنے ملک فرس اور در-ال-حکومت اصفہان ('اصفہان نصفِ جہاں') کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہاں کی آبپاشی و ہوا خوشگوار ہے اور log روشن-طبع اور صاحبِ سلیقہ ہیں.
Passage 2: Hatim Tai Offering His Own Life for the Poor Woodcutter
اقتباس نمبر 2: حاتم طائی کا غریب لکڑہارے کی خاطر اپنی جان پیش کرنا
’’حاتم نے دل میں اپنے مردمی اور مروت سے بعید جانا کہ اپنے تئیں چھپائے اور جان کو بچائے اور ان دونوں بے چاروں کو مطلب تک نہ پہنچائے۔۔۔ تواضع و تعظیم کر کے پاس بٹھلایا اور حاتم کا ملک اور املاک اور مال و اسباب جو کچھ ضبط کیا تھا، وہیں چھوڑ دیا۔‘‘
🇬🇧 English Explanation & Literary Notes
Context & Explanation: Overhearing the poor woodcutter couple wishing to find Hatim for the 500-ashrafi reward, Hatim considered it beneath chivalry (muruwwat) to save his own skin while leaving the poor couple empty-handed. When King Naufal witnessed Hatim's extraordinary selflessness in court, his hostility melted into admiration: he honored Hatim, restored all his confiscated lands, and gave the woodcutter 500 gold coins.
🇵🇰 اردو مفہوم، سیاق و سباق اور تفصیلی تشریح
سیاق و سباق و تشریح: جب حاتم طائی نے غار کے باہر بوڑھے لکڑہارے اور اس کی بیوی کی غربت بھری گفتگو سنی کہ کاش حاتم ہاتھ آ جائے تو نوفل سے پانچ سو اشرفیاں مل جائیں، تو حاتم کی جواں مردی نے گوارا نہ کیا کہ وہ اپنی جان بچائے رکھے اور غریب میاں بیوی محروم لوٹ جائیں۔ وہ خود غار سے باہر آیا اور لکڑہارے کے ساتھ نوفل کے دربار میں جا حاضر ہوا۔ جب نوفل پر حاتم کی بے مثال قربانی اور سچائی کھلی تو اس کی دشمنی عقیدت میں بدل گئی؛ اس نے حاتم کو عزت سے پاس بٹھایا، اس کی ضبط شدہ ریاست واپس کر دی اور لکڑہارے کو پانچ سو اشرفیاں انعام عطا کیں۔
💡 آسان الفاظ میں (اردو): حاتم Tai نے غریب لکڑہارے اور اس کی بیوی کی مدد کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دی. جب بادشاہ نوفل نے حاتم کا یہ ایثار دیکھا تو اس نے حاتم سے معافی مانگی, اس کا ملک واپس کر دیا اور لکڑہارے کو 500 اشرفیاں ان'am دین.
Section A: Important Multiple Choice Questions (Interactive MCQs)
Click any option to verify your answer and view the explanation.
دوسرے درویش کے کہنے کی نوبت آئی تو وہ کس طرح بیٹھا؟
✅ درست جواب و وضاحت: سبق کے پہلے جملے کے مطابق: ’’جب دوسرے درویش کے کہنے کی نوبت پہنچی، وہ چار زانو ہو بیٹھا۔‘‘
ہفت اقلیم میں ملکِ فارس کا ستارہ کسے قرار دیا گیا ہے؟
✅ درست جواب و وضاحت: وہاں کا ستارہ آفتاب ہے اور وہ ساتوں کواکب میں نیرِ اعظم ہے۔
حاتم طائی کے وقت میں عرب کا بادشاہ کون تھا جس نے حاتم پر فوج کشی کی؟
✅ درست جواب و وضاحت: حاتم طائی کے وقت میں عرب کا بادشاہ ’’نوفل‘‘ تھا۔
بادشاہ نوفل نے حاتم طائی کو پکڑ کر لانے والے کے لیے کتنی اشرفیاں انعام مقرر کیا؟
✅ درست جواب و وضاحت: نوفل نے پانچ سو (500) اشرفیاں انعام مقرر کیا تھا۔
فارس کے شہزادے نے سخاوت کے لیے کتنے دروازوں والا مکان بنوایا تھا؟
✅ درست جواب و وضاحت: شہزادے نے میرِ عمارت کو حکم دے کر چالیس (40) دروازوں والا مکان بنوایا تھا۔
Section B: Important Short Questions & Answers (مختصر سوالات)
Includes all PECTAA textbook exercise short questions and high-priority board exam questions.
🇬🇧 English Guidance
The Second Dervish stated that Persia produces masters of every art, its capital Isfahan is famed as 'Half the World', its ruling star is the Sun, its climate is pleasant, and its people are intelligent and refined.
🇵🇰 اردو جواب
دوسرے درویش نے بتایا کہ وہ ملکِ فارس کا شہزادہ ہے جہاں ہر فن کے قابل لوگ پیدا ہوتے ہیں اور جس کا دارالحکومت اصفہان ’’نصفِ جہاں‘‘ مشہور ہے۔ ہفت اقلیم میں اس کے برابر کوئی ولایت نہیں کیونکہ وہاں کا ستارہ آفتاب ہے، آب و ہوا خوشگوار ہے اور لوگ روشن طبع اور صاحبِ سلیقہ ہیں۔
🇬🇧 English Guidance
From early boyhood, his father appointed expert tutors and mentors in every science and art of governance, making the prince proficient in all disciplines by the age of fourteen.
🇵🇰 اردو جواب
درویش کے والد نے اس کے لڑکپن ہی سے سلطنت کے قاعدے قوانین اور آدابِ محفل سکھانے کے لیے ہر علم و ہنر کے دانا استاد اور اتالیق مقرر کیے، جس کی بدولت شہزادہ چودہ (14) برس کی عمر تک تمام علوم میں ماہر ہو گیا۔
🇬🇧 English Guidance
The old woman sighed that if fortune favored them and they found Hatim, they could hand him to Naufal for 500 gold coins and escape lifelong toil. The old man replied that their fate was only to chop wood daily.
🇵🇰 اردو جواب
بڑھیا نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا کہ اگر ہمارے طالع سنوریں اور کہیں حاتم ہمارے ہاتھ لگ جائے تو ہم اسے نوفل کے پاس لے جا کر پانچ سو اشرفیاں انعام پائیں اور اس روزمرہ کی محنت و مشقت سے چھوٹ جائیں۔ بوڑھے نے کہا کہ ہماری قسمت میں تو روز لکڑیاں کاٹ کر پیٹ پالنا ہی لکھا ہے، حاتم ہمارے ہاتھ کہاں آئے گا؟
🇬🇧 English Guidance
Faqr (F-Q-R): F = Faqa (fasting/hunger), Q = Qana'at (contentment), R = Riyazat (spiritual striving).Sakhi (S-Kh-Y): S = Sama'i (forbearance/capacity of heart), Kh = Khauf-e-Ilahi (fear of God), Y = Yaad (remembering one's birth and death).
🇵🇰 اردو جواب
فقر (ف، ق، ر): ’’ف‘‘ سے فاقہ (بھوک سہنا)، ’’ق‘‘ سے قناعت (تھوڑے پر راضی رہنا)، اور ’’ر‘‘ سے ریاضت (نفس کشی اور عبادت کرنا)۔سخی (س، خ، ی): ’’س‘‘ سے سمائی (دل میں حوصلہ اور برداشت رکھنا)، ’’خ‘‘ سے خوفِ الٰہی (رب سے ڈرنا)، اور ’’ی‘‘ سے یاد رکھنا اپنی پیدائش اور مرنے کے بعد کی عاقبت کو۔
Section C: Solved Textbook Exercise, Sentence Explanations & Grammar (مشقی سوالات و قواعد)
Complete step-by-step solutions to textbook exercises and Urdu grammar rules.
Exercise Q1: Explanation of Literary Allusions (Talmeehat)
مشقی سوال 1: تلمیحات کی وضاحت (صبرِ ایوب، گریۂ یعقوب، اورنگِ سلیمان، طائرِ سدرہ، چاہِ یوسف)
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Explanations of the five classical allusions in the textbook exercise: Sabr-e-Ayyub (AS), Girya-e-Yaqoob (AS), Aurang-e-Sulaiman (AS), Tair-e-Sidra (Angel Jibrail AS), and Chah-e-Yusuf (AS).
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
- صبرِ ایوبؑ: حضرت ایوب علیہ السلام کی طویل بیماری اور مال و اولاد کی آزمائش میں بے مثال صبر و شکر کی تلمیح۔
- گریۂ یعقوبؑ: حضرت یعقوب علیہ السلام کا اپنے بیٹے حضرت یوسفؑ کی جدائی میں مسلسل رونا یہاں تک کہ بینائی چلی گئی۔
- اورنگِ سلیمانؑ: حضرت سلیمان علیہ السلام کا معجزاتی تخت جسے ہوائیں اڑا کر لے جاتی تھیں۔
- طائرِ سدرہ: سدرۃ المنتہیٰ کے پرندے، مراد حضرت جبرائیلِ امین علیہ السلام۔
- چاہِ یوسفؑ: کنعان کا وہ کنواں جس میں حضرت یوسفؑ کو ان کے سوتیلے بھائیوں نے حسد کی بنا پر پھینک دیا تھا۔
Exercise Q2: Compound Phrases (Murakkabat) & True/False Statements
مشقی سوال 2: مرکبات و تراکیب (اضافی، توصیفی، عطفی) اور درست/غلط بیانات
🇬🇧 English Summary & Grammar Guide
Compound constructions (Murakkab-e-Tauseefi, Izafi, Atfi) and textbook True/False verification.
🇵🇰 حل شدہ مشق اور قواعد
اہم مرکبات: بادشاہ زادہ (شہزادہ)، نیرِ اعظم (سورج — مرکبِ توصیفی)، روشن طبع (ذہین — مرکبِ توصیفی)، صاحبِ سلیقہ (تہذیب یافتہ — مرکبِ اضافی)، نشست و برخاست (اٹھنے بیٹھنے کے آداب — مرکبِ عطفی)، داد و دہش (سخاوت و خیرات — مرکبِ عطفی)، میرِ عمارت (معمارِ اعلیٰ — مرکبِ اضافی)۔درست / غلط: (1) دلق پوشو! یہ عاجز بادشاہ زادہ چین کے ملک کا ہے (غلط — فارس کا تھا)؛ (2) اصفہان نصفِ جہاں مشہور ہے (درست)؛ (3) سچ ہے اگر آدمی میں رحم نہیں تو وہ انسان نہیں (درست)۔
