
This revised chapter is built from the existing PunjabTest library chapter for Class 10 Urdu. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here. Exercise questions and answers are carried over from the library chapter; groups marked SLO-based in the library chapter stay marked so.
یہ نظر ثانی شدہ سبق جماعت دہم اردو کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ مشق کے سوالات و جوابات لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں، اور جن گروپوں پر لائبریری چیپٹر میں SLO-based لکھا تھا، وہ ویسے ہی نشان زد ہیں۔
مرزا اسد اللہ خاں غالب (۱۷۹۷–۱۸۶۹) کا اصل نام اسد اللہ خاں اور تخلص غالب ہے۔ آپ آگرہ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مرزا عبداللہ بیگ ہے۔ غالب کی عمر پانچ برس بھی نہ تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا؛ والد کے انتقال کے بعد مرزا کی پرورش ان کے چچا مرزا نصراللہ بیگ نے کی، اور بعد میں ان کی دادی نے۔
انھوں نے عبدالصمد سے فارسی میں مہارت حاصل کی۔ تیرہ برس کی عمر میں ان کی شادی ہو گئی۔ غالب نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کی، اور دونوں میں ان کا مقام بہت بلند ہے۔ ان کی شاعری کی خصوصیات: معنی آفرینی، تشبیہات و استعارات، نئے الفاظ و تراکیب، طنز و ظرافت، اور آفاقیت ہیں۔
Mirza Asadullah Khan Ghalib (1797–1869), whose real name was Asadullah Khan and pen name Ghalib, was born in Agra. His father's name was Mirza Abdullah Baig. Ghalib had not yet turned five when his father died; he was then brought up by his uncle Mirza Nasrullah Baig, and later by his grandmother.
He learned Persian from Abdul Samad and mastered it. He married at thirteen. He wrote poetry in both Urdu and Persian and holds a very high place in both. His poetry is marked by meaning-creation, similes and metaphors, new words and compounds, humour and universality.
مرکزی خیال: غزل «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے» میں غالب دنیا کو بچوں کا کھیل قرار دیتے ہیں — دنیا ان کے سامنے شب و روز کا تماشا ہے۔ غزل میں ایمان و کفر، کعبہ و کلیسا، اور دنیا کی ناپائیداری کے مضامین نہایت گہرے اور فکر انگیز انداز میں بیان ہوئے ہیں۔
مشہور اشعار: مطلع «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے / ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے» اور «ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر / کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے» — شاعر دو متضاد قوتوں کے درمیان کشمکش میں ہے۔
Central idea: In this ghazal Ghalib calls the world a children's plaything — before him it is a daily spectacle. The ghazal expresses, in deeply thoughtful language, the themes of faith and unbelief, Kaaba and church, and the transience of the world.
Famous verses: تھے مطلع «بازیچہِ اطفال ہے دنیا میرے آگے / ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے» and «ایمان مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر / کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے» — تھے poet caught between two opposing forces.
غزل: عربی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں غزل ایرانی ادب سے آئی۔ غزل شاعری کی وہ صنف ہے جس میں حسن و عشق کی کیفیات کے ساتھ دیگر موضوعات کو خوبصورت اور پراثر انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے، اور غزل کا ہر شعر ایک مکمل مضمون ہوتا ہے۔
مطلع: مطلع کے لغوی معنی «طلوع ہونے کی جگہ» کے ہیں۔ اصطلاح میں کسی غزل یا قصیدے کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں، جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں۔
فرہنگ: بازیچۂ اطفال = بچوں کا کھیل؛ تماشا = نظارہ؛ ایماں = ایمان؛ کفر = انکار؛ کلیسا = گرجا؛ انجمن = مجلس؛ صحرا = ریگستان؛ عالم = دنیا؛ وہم = گمان؛ مشرب = مزاج۔
Ghazal: an Arabic word; ghazal came into Urdu from Persian literature. It is the poetic form in which beauty, love and other themes are expressed beautifully and effectively. The first verse of a ghazal is called the matla, and every verse of a ghazal is a complete theme in itself.
Matla: literally «the place of rising». In terminology, the first verse of a ghazal or qasida, both of whose lines rhyme, is called the matla.
Glossary: bazicha-e-atfal = children's plaything; tamasha = spectacle; eemaan = faith; kufr = unbelief; kaleesa = church; anjuman = gathering; sahra = desert; aalam = world; wahm = delusion; mashrab = temperament.
Questions and answers below are carried over from the existing PunjabTest library chapter for this lesson. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here.
نیچے دیے گئے سوالات و جوابات اس سبق کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔
جواب: خلاصہ: غزل «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے» میں غالب دنیا کو بچوں کا کھیل قرار دیتے ہیں — دنیا ان کے سامنے شب و روز کا تماشا ہے۔ غزل میں ایمان و کفر، کعبہ و کلیسا، اور دنیا کی ناپائیداری کے مضامین نہایت گہرے اور فکر انگیز انداز میں بیان ہوئے ہیں۔
جواب: «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے / ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے» — تشریح: دنیا میرے سامنے بچوں کے کھیل کی مانند ہے؛ دن رات اس کا تماشا میرے سامنے ہوتا رہتا ہے۔ یعنی دنیا کی رونقیں، اس کے کھیل اور تماشے عارضی ہیں، اور شاعر انھیں ایک تماشائی کی طرح دیکھتا ہے۔
جواب: «ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر / کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے» — تشریح: ایک طرف ایمان مجھے روکتا ہے اور دوسری طرف کفر مجھے کھینچتا ہے؛ کعبہ میرے پیچھے ہے اور کلیسا میرے آگے — یعنی شاعر دو متضاد قوتوں کے درمیان کشمکش میں ہے، جو انسانی ذہن کی فکری الجھن کو ظاہر کرتی ہے۔
جواب: دونوں شعرا دنیا کی تبدیلی پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں — اقبال جدید سائنسی ترقی دیکھ کر حیران ہیں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی، اور غالب دنیا کو بچوں کا کھیل اور شب و روز کا تماشا قرار دیتے ہیں۔ دونوں میں حیرت اور دنیا کی ناپائیداری کا احساس مشترک ہے۔
جواب: بازیچہ، اَنجُمَن، صَحرا، عالَم، وَہم، مَشرَب — اعراب سے الفاظ کا درست تلفظ واضح ہوتا ہے۔
جواب: غزل: عربی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں غزل ایرانی ادب سے آئی۔ غزل شاعری کی وہ صنف ہے جس میں حسن و عشق کی کیفیات کے ساتھ دیگر موضوعات کو خوبصورت اور پراثر انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے، اور غزل کا ہر شعر ایک مکمل مضمون ہوتا ہے۔
جواب: مطلع کے لغوی معنی «طلوع ہونے کی جگہ» کے ہیں۔ اصطلاح میں کسی غزل یا قصیدے کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں، جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں۔ مثال: «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے / ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے» — دونوں مصرعوں کا قافیہ «مرے آگے» ہے۔
جواب: مرزا غالب کا اصل نام اسد اللہ خاں اور تخلص غالب ہے۔ وہ ۱۷۹۷ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مرزا عبداللہ بیگ تھا۔ غالب نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کی، اور دونوں میں ان کا مقام بہت بلند ہے۔ ان کی شاعری کی خصوصیات: معنی آفرینی، تشبیہات و استعارات، نئے الفاظ و تراکیب، طنز و ظرافت، اور آفاقیت ہیں۔
جواب: «کلیاتِ غالب» (اردو)، «دیوانِ غالب» (فارسی)، «گل رعنا»، «مہر نیم روز»، «دستنبو»، «قاطع برہان»، «عودِ ہندی»، «اردوئے معلیٰ»۔
یہ سبق «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے» کا مکمل رہنما ہے۔ اس میں شاعر کا تعارف، مرکزی خیال اور اشعار، غزل، مطلع اور مشکل الفاظ شامل ہیں۔ آخر میں مشق کے تمام 9 سوالات کے جوابات ہیں۔
نظر ثانی کی رہنمائی: پہلے سبق کا خلاصہ پڑھیں، پھر مشکل الفاظ یاد کریں، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملائیں۔
This chapter اس a complete guide تو بازیچہِ اطفال ہے دنیا میرے آگے by Mirza Asadullah Khan غالب. It covers Poet Introduction, Central Idea & Verses, غزل, مطلع & Difficult Words, and ends with all 9 exercise questions answered.
Revision guidance: read the summary first, learn the difficult words, then try the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 10 Urdu, Chapter 17 (بازیچہِ اطفال ہے دنیا میرے آگے) (Session 2026–27) • English + Urdu