
This revised chapter is built from the existing PunjabTest library chapter for Class 10 Urdu. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here. Exercise questions and answers are carried over from the library chapter; groups marked SLO-based in the library chapter stay marked so.
یہ نظر ثانی شدہ سبق جماعت دہم اردو کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے بنایا گیا ہے۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ مشق کے سوالات و جوابات لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں، اور جن گروپوں پر لائبریری چیپٹر میں SLO-based لکھا تھا، وہ ویسے ہی نشان زد ہیں۔
منشی پریم چند (۱۸۸۰–۱۹۳۶) کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ وہ ۱۸۸۰ء میں لمہی (بنارس) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ڈاک خانے میں ملازم تھے۔ ۱۹۱۹ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد وہ استاد اور ڈپٹی انسپکٹر رہے، اور ۱۹۲۱ء میں سرکاری ملازمت چھوڑ کر قلمی کام میں مصروف ہو گئے۔
ان کے افسانوی مجموعوں میں «سوزِ وطن»، «پریم پچیسی»، «پریم چالیسی» اور «زادِ راہ» شامل ہیں، اور ناولوں میں «میدانِ عمل»، «بازارِ حسن»، «گودان» اور «نرملا» مشہور ہیں۔ ان کی زبان سادہ ہے، اور ان کی کہانیوں میں معاشرتی مسائل اور کسانوں کی زندگی حقیقت نگاری اور اصلاحی جذبے کے ساتھ بیان ہوتی ہے۔
Munshi Premchand (1880–1936), whose real name was Dhanpat Rai, was born in 1880 in Lamhi (Banaras). His father was a post-office clerk. After his BA from Allahabad University in 1919, he worked as a teacher and deputy inspector, and in 1921 he left government service to devote himself to writing.
His story collections include «Soz-e-Watan», «Prem Pachisi», «Prem Chalisi» and «Zad-e-Rah», and his novels include «Maidan-e-Amal», «Bazar-e-Husn», «Godan» and «Nirmala». His language is simple, and his stories portray the social problems and the life of farmers with realism and a reformist spirit.
خلاصہ: «کفارہ» میں ہماری لال کا کردار مرکزی ہے — ایک ایسا شخص جس کے دل میں اپنے کیے پر پچھتاوا اور گناہ کا احساس کانٹے کی طرح چبھتا ہے، یہاں تک کہ اسے لگتا ہے جیسے کوئی اس کے دل پر کوئی تیز چیز چلا رہا ہے۔ ضمیر کی یہ آواز اسے کفارے کی تلاش میں لے جاتی ہے۔ پریم چند نے اس اندرونی کشمکش کو کہانی کی بنیاد بنایا ہے۔
موضوع: کہانی بتاتی ہے کہ انسانی ضمیر گناہ گار کو کبھی سکون سے نہیں رہنے دیتا، اور سچا کفارہ اپنی غلطی ماننے اور اس کی تلافی کی کوشش میں ہے۔
Summary: «Kaffara» (Atonement) centres on Hamari Lal, a man whose heart is pierced by the feeling of a wrong he has done. The prick of conscience — as if something sharp were being drawn across his heart — drives him to seek atonement. Premchand builds the story around this inner struggle between guilt and the desire to make amends.
Theme: The story shows that the human conscience never leaves a wrongdoer in peace, and that true atonement lies in accepting one's fault and trying to set it right.
ہماری لال: ایک عام انسان جس کا ضمیر اسے پریشان کرتا ہے — کہانی کا اخلاقی مرکز۔
فرہنگ: کفارہ = تلافی، گناہ کا ازالہ؛ ستیا ناس کرنا = تباہ کرنا؛ نالہ و فریاد = رونا دھونا؛ چشم پوشی = نظر انداز کرنا؛ دل جوئی = تسلی دینا؛ ارمان = خواہش؛ اہتمام = انتظام۔
Hamari Lal: an ordinary man whose conscience torments him — the story's moral centre.
Glossary: kaffara = atonement; satya naas karna = to destroy; naala-o-faryaad = weeping and wailing; chashm poshi = overlooking; dil joi = consoling; armaan = desire; ehtimam = arrangement.
Questions and answers below are carried over from the existing PunjabTest library chapter for this lesson. The official book was not available on disk for re-checking, so no book page numbers are claimed here. Of the 2 choice-form questions, 0 have a marked correct answer; 2 are left unmarked because the library chapter does not state their answers clearly — solve those yourself and check with your teacher.
نیچے دیے گئے سوالات و جوابات اس سبق کے موجودہ پنجاب ٹیسٹ لائبریری چیپٹر سے لیے گئے ہیں۔ سرکاری کتاب ڈسک پر موجود نہ تھی، اس لیے یہاں کتاب کے صفحہ نمبر کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ choice سوالات میں سے جن کے درست جوابات لائبریری چیپٹر میں واضح نہیں، ان پر ✓ نہیں لگایا گیا — انھیں خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: خلاصہ: افسانے میں ہماری لال کا کردار مرکزی ہے — ایک ایسا شخص جس کے دل میں اپنے کیے پر پچھتاوا اور گناہ کا احساس پیدا ہوتا ہے، اور وہ اس احساس سے نجات کی تلاش میں رہتا ہے۔ کہانی میں انسانی ضمیر کی آواز اور گناہ کے بعد کفارے کی تڑپ کو دکھایا گیا ہے۔ پریم چند نے اس موضوع کو حقیقت نگاری کے انداز میں پیش کیا ہے، جس سے کہانی عام زندگی کی سچی تصویر معلوم ہوتی ہے۔
جواب: عنوان «کفارہ» کہانی کے موضوع سے اس لیے ہم آہنگ ہے کہ پوری کہانی گناہ کے احساس اور اس کے کفارے (تلافی) کے گرد گھومتی ہے — کردار اپنے کیے کی تلافی کرنا چاہتا ہے، اور اسی کوشش میں کہانی آگے بڑھتی ہے۔
جواب: پریم چند حقیقت نگار تھے — ان کے افسانوں میں عام لوگوں کی زندگی، ان کے دکھ، ان کی مجبوریاں اور ان کے ضمیر کی کشمکش سچی تصویر کی طرح نظر آتی ہے۔ «کفارہ» میں بھی کرداروں کے جذبات اور سماجی حالات کو بنا بناوٹ کے بیان کیا گیا ہے۔
جواب: ہماری لال ایک عام انسان ہے جس کے دل میں گناہ کا احساس کانٹے کی طرح چبھتا ہے — یہاں تک کہ اسے ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اس کے دل پر کوئی تیز چیز چلا رہا ہے۔ یہی احساس اسے کفارے کی طرف لے جاتا ہے۔
جواب: ستیا ناس کرنا = تباہ کرنا (اس نے اپنی دولت کا ستیا ناس کر دیا)؛ نالہ و فریاد = رونا دھونا (اس نے نالہ و فریاد شروع کر دی)؛ چشم پوشی کرنا = نظر انداز کرنا (اس کی غلطی سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی)؛ دل جوئی کرنا = دل رکھنا، تسلی دینا (اس نے غریب کی دل جوئی کی)؛ ارمان سچا ہونا = خواہش پوری ہونا (آخر اس کا ارمان سچا ہوا)؛ اہتمام لگانا = انتظام کرنا (شادی کا اہتمام لگایا گیا)۔
i. «اپنے جوان بیٹے کی قسم کھاتا ہوں جس نے…» — یہ جملہ کس نے کہا؟
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
ii. ہماری لال کو ایسا معلوم ہوا کہ کوئی ان کے دل پر کیا چلا رہا ہے؟
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
خود آزمائی: اس سوال کا جواب کتاب کی مشق میں واضح طور پر درج نہیں — خود حل کریں اور استاد سے جانچ کروائیں۔
جواب: پریم چند کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ وہ ۱۸۸۰ء میں لمہی (بنارس) میں پیدا ہوئے۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں «سوزِ وطن»، «پریم پچیسی»، «پریم چالیسی» اور «زادِ راہ» شامل ہیں، اور ناولوں میں «میدانِ عمل»، «بازارِ حسن»، «گودان» اور «نرملا» مشہور ہیں۔
جواب: پریم چند کی زبان سادہ ہے، اور ان کی تحریروں میں معاشرتی مسائل، کسانوں کی زندگی اور ان کے مسائل بیان ہوتے ہیں۔ ان کا انداز اصلاحی اور حقیقت نگارانہ ہے۔
یہ سبق «کفارہ» کا مکمل رہنما ہے۔ اس میں مصنف کا تعارف، خلاصہ و موضوع، کردار اور مشکل الفاظ شامل ہیں۔ آخر میں مشق کے تمام 10 سوالات کے جوابات ہیں۔ choice سوالات میں سے 2 پر ✓ نہیں لگایا گیا کیونکہ لائبریری چیپٹر میں ان کے جوابات واضح نہیں۔
نظر ثانی کی رہنمائی: پہلے سبق کا خلاصہ پڑھیں، پھر مشکل الفاظ یاد کریں، آخر میں مشق کے سوالات خود حل کر کے جوابات سے ملائیں۔
This chapter is a complete guide to Kaffara by Munshi Premchand. It covers Author Introduction, Summary & Theme, Character & Difficult Words, and ends with all 10 exercise questions answered. 2 choice questions are left unmarked because the library chapter does not state their answers.
Revision guidance: read the summary first, learn the difficult words, then try the exercise questions yourself before checking the answers.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • Class 10 Urdu, Chapter 6 (Kaffara) (Session 2026–27) • English + Urdu