
علوم القرآن ان علوم کو کہتے ہیں جو قرآن مجید سے متعلق ہیں — اس کے نزول، اس کی ترتیب، اس کی سورتوں اور آیتوں، اور اس کی تشریح سے بحث کرتے ہیں۔ بات یوں سمجھو: جس طرح کسی مضمون کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے اس کی تاریخ اور اس کے اصول جاننا ضروری ہوتا ہے، اسی طرح قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے علوم القرآن کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ باب اسی علم کی پہلی سیڑھی ہے۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے، جو اس نے اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر تقریباً 23 سال کے عرصے میں نازل فرمایا۔ یہ وہ کتاب ہے جو قیامت تک محفوظ رہے گی — اس میں کمی یا زیادتی کا کوئی امکان نہیں، کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔ قرآن مجید تیس پاروں اور ایک سو چودہ سورتوں پر مشتمل ہے۔
یہ کتاب انسانیت کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے۔ عقیدہ ہو یا عبادت، اخلاق ہو یا لین دین، گھر ہو یا ریاست — زندگی کے ہر شعبے میں سیدھی راہ اسی سے ملتی ہے۔ اسی لیے اس باب کے دو حصے ہیں: پہلا حصہ (الف) علوم القرآن، جس میں قرآن کی خصوصیات، اس کے نام، مکی و مدنی سورتیں اور آیات احکام آتے ہیں؛ اور دوسرا حصہ (ب) علوم الحدیث، جس میں حدیث کا تعارف، اس کی تدوین اور منتخب احادیث آتی ہیں۔
اس باب کے بعد طالب علم یہ کر سکے گا: قرآن مجید کے فضائل اور خصوصیات (عالمگیریت، جامعیت وغیرہ) بیان کر سکے گا؛ قرآن مجید کے اسماء مبارکہ اور ان کی معنویت سے آگاہ ہو سکے گا؛ مکی و مدنی سورتوں کی تعریف اور خصوصیات جانتے ہوئے آیات احکام کے بنیادی تصور سے آگاہ ہو سکے گا؛ اس بات پر ایمان پختہ کر سکے گا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری اور محفوظ کلام ہے؛ اور قرآن مجید کے تحفظ اور ترویج میں اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش کر سکے گا۔
Uloom al-Quran means the sciences connected with the Holy Quran — its revelation, arrangement, Surahs, verses, and interpretation. Just as you need the background of a subject to understand it properly, you need Uloom al-Quran to understand the Quran properly. This chapter is the first step into that science.
The Holy Quran is Allah's final revealed Book, sent down to His final Prophet Muhammad ﷺ over about 23 years. It will stay preserved till the Day of Judgement, because Allah Himself has taken its protection upon Himself. It has 30 Paras and 114 Surahs.
It is a complete code of life: belief, worship, character, dealings, home, or state — every field of life finds its guidance here. The chapter has two parts: (A) Uloom al-Quran — the Quran's qualities, its blessed names, Makki and Madani Surahs, and Ayat-e-Ahkam; and (B) Uloom al-Hadith — what Hadith is, how it was compiled, and selected Ahadith.
Key points: Quran = Allah's last, preserved Book • Revealed over 23 years • 30 Paras, 114 Surahs • Complete guidance for all of life • Learning outcomes: state the Quran's qualities, know its names and their meanings, tell Makki from Madani Surahs, grasp Ayat-e-Ahkam, and take a share in protecting and spreading the Quran.
کتاب نے قرآن مجید کی چار بڑی خصوصیات بیان کی ہیں۔ انھیں الگ الگ سمجھو، کیونکہ ہر ایک کا اپنا مطلب ہے اور امتحان میں ہر ایک الگ سوال بن سکتا ہے۔
1۔ عالمگیریت: عالمگیر ہونے کا مطلب ہے کہ قرآن مجید کسی ایک قوم، کسی ایک علاقے یا کسی ایک زمانے کے لیے نہیں — یہ تمام انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے۔ پہلی آسمانی کتابیں خاص قوموں کے لیے آئی تھیں، مگر قرآن سب کے لیے ہے، اور اس کی تعلیمات ہر دور اور ہر نسل کے لیے ہیں۔ دلیل یہ آیت ہے: ﴿ھٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ﴾ (سورۃ ابراہیم: 52) — ترجمہ: یہ (قرآن) انسانوں کے لیے (اللہ تعالیٰ کا) پیغام ہے۔ غور کرو: آیت میں "للناس" کہا گیا ہے، یعنی سب لوگ — کوئی قوم، کوئی رنگ، کوئی زبان اس سے باہر نہیں۔
2۔ کاملیت: کاملیت کا مطلب ہے مکمل ہونا۔ قرآن مجید کی ہدایات کامل ہیں — دین کا کام حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور نبی کریم ﷺ پر اس کی تکمیل ہوئی۔ قرآن کی تعلیمات میں کوئی کمی نہیں رہ گئی کہ انسان کو ہدایت کے لیے باہر سے کچھ اور ڈھونڈنا پڑے۔ جو چیز انسان کو اللہ تک پہنچانے کے لیے چاہیے تھی، وہ اس کتاب میں پوری ہو گئی۔
3۔ جامعیت: جامعیت کا مطلب ہے سب کچھ سمیٹ لینا۔ قرآن مجید میں تمام شعبوں کے لیے مکمل رہنمائی ہے۔ پہلی آسمانی کتابوں میں سے بعض میں صرف عقائد کا بیان تھا، بعض میں صرف اخلاقیات کا، اور بعض میں صرف قانونی مسائل کا ذکر تھا — لیکن قرآن مجید ایک ایسی جامع کتاب ہے جس میں عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاقیات اور قانون، سب کچھ موجود ہے۔ اس کی دو دلیلیں کتاب نے دی ہیں: ﴿اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ﴾ (سورۃ التکویر: 27) — ترجمہ: (یہ قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ اور ﴿وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ﴾ (سورۃ النحل: 89) — ترجمہ: اور ہم نے آپ ﷺ پر ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے۔
4۔ ابدیت: ابدیت سے مراد ہے ہمیشہ رہنا۔ قرآن مجید کی تعلیمات ہمیشہ کے لیے ہیں — یہ کسی ایک زمانے کی کتاب نہیں۔ دین و دنیا کی ضرورتوں کے لیے یہ ہر دور میں قابل عمل ہے، اور اسی لیے اس کی تازگی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ہر دور کے لوگ اس سے اپنے مسائل کا حل پاتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ قرآن قیامت تک کے انسانوں کے لیے یکساں رہنما ہے۔
The book gives four great qualities of the Holy Quran. Learn each one separately — each can become its own exam question.
1. Aalamgiriyat (Universality): The Quran is not for one nation, region, or age — it is Allah's message for all human beings. Earlier scriptures came for particular peoples; the Quran came for everyone, for every age. Proof: "Haaza balaaghun lin-naas" (Surah Ibrahim: 52) — "This (Quran) is a message for mankind." Note the word lin-naas — all people, no exception.
2. Kamiliyat (Perfection): Its guidance is complete. The work of religion began with Adam (AS) and reached completion with the Prophet ﷺ. Nothing needed for man's guidance to Allah is missing from this Book.
3. Jamiyat (Comprehensiveness): It gathers every field. Some earlier books covered beliefs only, some morals only, some laws only — but the Quran holds beliefs, worship, dealings, social life, morals, and law together. Proofs: "In huwa illa zikrun lil-'aalameen" (Surah Takwir: 27) — "It is but a reminder for all the worlds"; and "Wa nazzalna 'alaikal-kitaaba tibyaanan likulli shay'" (Surah Nahl: 89) — "We sent down to you a Book as a clear exposition of all things."
4. Abdiyat (Eternity): Its teachings are for all time. It is not a book of one age — it stays workable for the needs of religion and worldly life in every era, so its freshness never ends.
Key points: Aalamgiriyat = for all people • Kamiliyat = complete • Jamiyat = covers every field • Abdiyat = for all time.
قرآن مجید کے بہت سے نام ہیں، اور ہر نام اس کی کسی صفت کو ظاہر کرتا ہے۔ بات یوں سمجھو: جس طرح کسی اچھے انسان کو لوگ کئی اچھے ناموں سے پکارتے ہیں، ویسے ہی قرآن کے نام اس کی عظمت بتاتے ہیں۔ کتاب نے سولہ نام گنائے ہیں، یہ رہے:
| نام | معنی |
|---|---|
| ۱۔ القرآن | سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب |
| ۲۔ الذکر | وعظ و نصیحت پر مبنی کتاب |
| ۳۔ الفرقان | حق اور باطل میں امتیاز کرنے والی کتاب |
| ۴۔ الکتاب | اللہ تعالیٰ کی خاص کتاب |
| ۵۔ التنزیل | اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ کتاب |
| ۶۔ النور | روشنی دکھانے والی کتاب |
| ۷۔ البرہان | واضح دلیل |
| ۸۔ المبین | کھلی اور واضح راہنمائی |
| ۹۔ العزیز | زبردست کتاب |
| ۱۰۔ الکریم | عزت والی کتاب |
| ۱۱۔ الشفاء | شفاء دینے والی کتاب |
| ۱۲۔ العلم | علم و معرفت کا خزانہ |
| ۱۳۔ الحکیم | حکمت و دانائی سے بھرپور کتاب |
| ۱۴۔ المجید | بزرگی والی کتاب |
| ۱۵۔ المبارک | بابرکت کتاب |
| ۱۶۔ الحق | حق و صداقت کا بیان |
نام یاد رکھنے کا آسان طریقہ: پہلے دو نام قرآن کی شہرت بتاتے ہیں (سب سے زیادہ پڑھا جانے والا، نصیحت والا)، درمیان کے نام اس کے کام بتاتے ہیں (فرق کرنا، روشنی دینا، شفاء دینا، دلیل بننا)، اور آخری نام اس کی شان بتاتے ہیں (بزرگی، برکت، حق)۔ یوں سولہ نام تین ٹولیوں میں بٹ جاتے ہیں اور یاد کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
The Holy Quran has many names, and each name shows one of its attributes — just as a good person is called by many good names. The book lists sixteen:
1. Al-Quran — the most-read Book • 2. Az-Zikr — the Book of reminder and advice • 3. Al-Furqan — the Criterion between truth and falsehood • 4. Al-کتاب — اللہ's own special Book • 5. At-Tanzil — the Book sent down by Allah • 6. An-Noor — the Book that shows light • 7. Al-Burhan — the clear proof • 8. Al-Mubeen — open, clear guidance • 9. Al-Aziz — the mighty Book • 10. Al-Kareem — the honoured Book • 11. Ash-Shifa — the Book that heals • 12. Al-Ilm — the treasure of knowledge • 13. Al-Hakeem — full of wisdom • 14. Al-Majeed — the glorious Book • 15. Al-Mubarak — the blessed Book • 16. Al-Haq — the statement of truth.
Memory trick: group them in three sets — the first two show its fame, the middle ones show its work (separating truth, giving light, healing, proving), and the last ones show its glory (grandeur, blessing, truth).
Key points: 16 names in the book • Every name = one attribute • Furqan = criterion, Noor = light, Shifa = healing.
قرآن مجید تیس پاروں اور ایک سو چودہ سورتوں پر مشتمل ہے۔ جو سورتیں ہجرت مدینہ سے پہلے نازل ہوئیں وہ مکی کہلاتی ہیں، اور جو ہجرت کے بعد نازل ہوئیں وہ مدنی کہلاتی ہیں۔ تو پہچان کا پیمانہ جگہ نہیں، وقت ہے — ہجرت سے پہلے یا بعد۔
مکی سورتوں کی خصوصیات: مکہ میں نبی کریم ﷺ کے مخاطب مشرکین تھے، چنانچہ مکی سورتوں میں توحید، رسالت اور آخرت کے مباحث بیان ہوئے؛ شرک کی تردید کی گئی؛ گزشتہ اقوام کے واقعات بیان کیے گئے تاکہ لوگ عبرت پکڑیں؛ اور مسلمانوں کو صبر و استقامت کی تلقین کی گئی۔ ان کا انداز نصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بہت بلند اور جوشیلا ہے — مختصر، زوردار آیتیں جو دل پر چوٹ کریں۔
مدنی سورتوں کی خصوصیات: مدینہ میں اب ایک معاشرہ اور ریاست بن رہی تھی، اس لیے مدنی سورتوں میں بنیادی طور پر اسلامی ریاست کی بنیاد، احکام (جیسے جہاد، حدود، فرائض) بیان ہوئے؛ "یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا" کے الفاظ سے اہل ایمان سے خطاب کیا گیا ہے؛ منافقین کا ذکر بھی مدنی سورتوں میں ملتا ہے، کیونکہ منافقت مدینے میں ظاہر ہوئی؛ اور ان کا انداز سادہ اور سلسلہ وار ہے، کیونکہ اب قانون اور نظام کی تفصیل بیان ہو رہی تھی۔
فرق یاد رکھنے کا آسان طریقہ: مکہ میں عقیدہ بن رہا تھا، اس لیے مکی سورتوں میں عقیدہ؛ مدینہ میں ریاست بن رہی تھی، اس لیے مدنی سورتوں میں قانون۔ بس یہ ایک جملہ دونوں کی پہچان کافی ہے — عقیدہ مکہ، قانون مدینہ۔
The Quran has 30 Paras and 114 Surahs. Surahs revealed before the Hijrah (migration to Madinah) are called Makki; those revealed after it are Madani. So the test is time, not place.
Makki Surahs: In Makkah the audience was the idol-worshippers, so these Surahs discuss Tauhid, Risalah, and the Hereafter; refute shirk; tell the stories of past nations as lessons; and urge the Muslims to patience and steadfastness. Their style is highly eloquent and forceful — short, striking verses that hit the heart.
Madani Surahs: In Madinah a society and state were being built, so these Surahs lay the foundations of the Islamic state and give laws (Jihad, Hudood, duties). They address the believers with "Ya Ayyuhallazina Amanu" (O you who believe); they mention the Munafiqeen (hypocrites), who appeared in Madinah; and their style is simple and systematic, because laws and systems were now being explained in detail.
Memory trick: Makkah was building belief, so Makki = beliefs; Madinah was building a state, so Madani = laws. One line, both recognised.
Key points: Makki = before Hijrah • Madani = after Hijrah • Makki: Tauhid/Risalat/Akhirat, refutation of shirk • Madani: laws, "Ya Ayyuhallazina Amanu", Munafiqeen.
آیات احکام سے مراد قرآن مجید کی وہ آیات ہیں جن میں اسلامی شریعت کے احکام اور قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ یوں سمجھو کہ قرآن کی ہر آیت کا موضوع ایک نہیں: بعض آیتیں عقیدہ بتاتی ہیں، بعض قصے سناتی ہیں، اور بعض آیتیں سیدھا حکم دیتی ہیں — یہ کرو، یہ نہ کرو۔ یہ حکم والی آیتیں ہی آیات احکام کہلاتی ہیں۔
ان آیات میں عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاقیات، حدود وغیرہ جیسے موضوعات شامل ہیں۔ یعنی نماز روزے کا حکم بھی اسی میں ہے، خرید و فروخت کا اصول بھی، گھر اور رشتوں کا سلیقہ بھی، اور جرم کی سزا بھی۔ آیات احکام کو فقہاء نے اسلامی قانون کے اصولوں کی بنیاد پر استعمال کیا ہے — فقہ کا پورا ڈھانچہ انھی آیات پر کھڑا ہے، اور اسی سے مسلمانوں کے عملی مسائل کا حل نکلتا ہے۔
اب عملی بات سنو، جو کتاب کے آخر میں زور دے کر کہی گئی ہے: ہمیں چاہیے کہ قرآن مجید کی عالمگیر تعلیمات، جامعیت، ابدیت اور حجیت کو نہ صرف سمجھیں بلکہ اس پر عمل بھی کریں، کیونکہ قرآن مجید ایک دستور حیات ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ قوموں کو عروج و زوال سے ہم کنار کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے قرآن مجید کے احکام پر عمل کیا انھیں دین و دنیا میں کامیابیاں حاصل ہوئیں، اور جو اس سے دور ہوئے وہ پیچھے رہ گئے۔ مسلمانوں کو قرآن مجید سے راہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کے تمام شعبوں میں قرآن کی روشنی میں زندگی بسر کرنی چاہیے۔ پڑھنا کافی نہیں، چلنا بھی اسی روشنی میں ہے۔
Ayat-e-Ahkam are those verses of the Holy Quran in which the commands and laws of Islamic Shariah are stated. Not every verse has the same job: some verses teach belief, some tell stories, and some give direct orders — do this, do not do that. The order-giving verses are Ayat-e-Ahkam.
They cover worship (Ibadat), dealings (Muamilat), social life (Muashrat), morals (Akhlaqiyat), and prescribed punishments (Hudood). The Fuqaha (jurists) used these verses as the foundation of Islamic law — the whole structure of Fiqh stands on them, and from them come the practical rulings for Muslims' daily problems.
The practical lesson the book stresses at the end: we must not only understand the Quran's universal teachings, comprehensiveness, eternity, and authority — we must act on them, because the Quran is a constitution of life (Dastoor-e-Hayat) through which Allah raises nations and brings others down. History bears witness: those who acted on the Quran's commands succeeded in religion and the world, and those who turned away fell behind. Muslims should take guidance from the Quran and live every field of life in its light. Reading is not enough — walking in its light is the point.
Key points: Ayat-e-Ahkam = verses of command and law • Fields: Ibadat, Muamilat, Muashrat, Akhlaqiyat, Hudood • Basis of Fiqh • Quran = Dastoor-e-Hayat, to be followed, not just read.
قرآن مجید دین اور شریعت کی اساس اور بنیاد ہے۔ یہ وہ آسمانی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمائی، اور نبی کریم ﷺ کو اس کی تشریح و توضیح کی ذمہ داری عطا فرمائی۔ یعنی قرآن حکم ہے اور حدیث اس حکم کی وضاحت ہے — دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے رہ جاتے ہیں۔
حدیث کسے کہتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا صفت کو حدیث کہتے ہیں۔ ان چار لفظوں کو الگ الگ سمجھو: قول یعنی آپ ﷺ نے جو کچھ فرمایا؛ فعل یعنی آپ ﷺ نے جو کچھ کر کے دکھایا؛ تقریر یعنی وہ عمل جو آپ ﷺ کے سامنے کیا گیا اور آپ ﷺ نے اس سے منع نہ فرمایا — آپ ﷺ کی خاموشی اس عمل کو برقرار رکھنے کی علامت بنی؛ اور صفت یعنی آپ ﷺ کی عادات، اخلاق اور اوصاف۔ یوں حدیث صرف باتوں کا نام نہیں، پوری سیرت کا نام ہے۔
اہمیت: جس طرح قرآن مجید پر ایمان رکھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا بنیادی فریضہ ہے، اسی طرح احادیث مبارکہ پر ایمان رکھنا اور ان پر عمل کرنا بھی بنیادی فریضہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کے فرامین ہی اصل میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کی وضاحت ہیں اور قرآن مجید کی آیات کے علم اور عمل کا راستہ ہیں۔ امت مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اقوال و افعال کے بغیر نہ قرآن کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی تعلیمات پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی ذات کو اہل ایمان کے لیے اسوہ حسنہ (بہترین نمونہ) قرار دیا ہے۔
دلیل یہ آیت ہے: ﴿وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا﴾ (سورۃ الحشر: 7) — ترجمہ: اور جو کچھ رسول ﷺ تمھیں عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے تمھیں منع فرمائیں اس سے رک جاؤ۔ یہ آیت سیدھا اصول بتاتی ہے: رسول ﷺ کا دینا لینا ہے، اور ان کا روکنا رکنا ہے۔
اس حصے کے بعد طالب علم یہ کر سکے گا: حدیث اور سنت کے فرق اور حدیث کی اہمیت سے آگاہ ہو سکے گا؛ تدوین حدیث کے ادوار اور اس میں حدیث کی حفاظت کے طریقوں کے بارے میں جان سکے گا؛ کتب حدیث، صحاح ستہ اور اصول اربعہ کی اہمیت سے آگاہی حاصل کر سکے گا؛ منتخب احادیث کو اپنی عملی زندگی سے جوڑ سکے گا؛ اس بات پر ایمان پختہ کر سکے گا کہ احادیث مبارکہ کی حفاظت اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری ہے اور ان کا احترام لازم ہے؛ محدثین کرام کی خدمات سے متعارف ہو سکے گا؛ اور احادیث کی اقسام اور ان کے اصولوں سے آگاہی حاصل کر سکے گا۔
The Holy Quran is the foundation of religion and Shariah. It is the heavenly Book Allah sent down to His final Prophet Muhammad ﷺ, and the Prophet ﷺ was given the duty of explaining it. In short: the Quran is the command, and Hadith is the explanation of the command — neither stands complete without the other.
What is Hadith? The Prophet's ﷺ saying, action, tacit approval, or attribute is called Hadith. Four words, four meanings: Qaul — what he said; Fail — what he did and showed; Taqreer — an act done before him which he did not forbid, so his silence kept it in place; and Sifat — his habits, character, and qualities. So Hadith is not just a collection of sayings — it is the whole Seerah in words.
Importance: Just as believing in the Quran and acting on it is a basic duty, believing in the blessed Ahadith and acting on them is equally a basic duty. The Prophet's ﷺ commands are in reality the explanation of Allah's will and the road to knowing and practising the Quran's verses. The whole Muslim Ummah agrees: without the Prophet's ﷺ sayings and actions, the Quran can neither be understood nor practised. Allah made the Prophet's ﷺ person the Uswa-e-Hasna — the finest model — for the believers.
Proof: "Wa ma aataakumur-Rasoolu fakhuzoohu wa ma nahaakum 'anhu fantahoo" (Surah Hashr: 7) — "Whatever the Messenger gives you, take it, and whatever he forbids you, refrain from it." A straight rule: his giving is to be taken, his forbidding is to be obeyed.
Key points: Hadith = Qaul, Fail, Taqreer, Sifat • Quran = command, Hadith = explanation • Without Hadith, Quran cannot be understood or practised • Prophet ﷺ = Uswa-e-Hasna • Hashr: 7 is the governing verse.
تدوین حدیث کا پہلا دور: احادیث مبارکہ کی اہمیت کے پیش نظر قرآن مجید کی طرح احادیث نبوی کی حفاظت کا بھی باقاعدہ اہتمام کیا گیا۔ صحابہ کرامؓ نے نہ صرف احادیث کو یاد کیا، انھیں لکھ کر محفوظ کیا بلکہ اسے اگلی نسلوں تک منتقل کیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عہد رسالت اور عہد صحابہ کرام میں مختلف لوگوں کے پاس احادیث مبارکہ کے مجموعے موجود تھے — حضرت علیؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت جابر بن عبداللہؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کے پاس احادیث مبارکہ کے مجموعے موجود تھے۔
تابعین کے دور میں جمع و تدوین کی کوششیں ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئیں۔ حضرت سعید بن مسیبؒ، حضرت حسن بصریؒ اور محمد بن سیرینؒ جیسے نامور تابعین نے احادیث کی جمع و تدوین میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تابعین کے دور میں احادیث مبارکہ کی جمع و ترتیب کے ساتھ ساتھ ان کی تحقیق کا بھی اہتمام کیا گیا — یعنی صرف جمع کرنا کافی نہیں سمجھا گیا، جانچنا بھی شروع ہو گیا۔
تدوین حدیث کا دوسرا دور: حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور (99 ہجری) میں تدوین حدیث کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ یہ وہ موڑ ہے جہاں انفرادی کوشش سرکاری اور منظم شکل اختیار کر گئی — خلیفہ وقت نے خود محدثین کو حدیثیں جمع کرنے کا حکم دیا۔ اس دور میں امام شعبی، امام جعفر صادق، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام سفیان ثوری، امام ابن شہاب زہری، امام عبدالرزاق اور امام شافعی رحمہم اللہ جیسے محدثین نے خدمات انجام دیں۔
اس دور میں تابعین کی آراء اور اقوال کی جمع و ترتیب کا کام بھی کیا گیا۔ تدوین حدیث کے اس دور میں احادیث نبوی کو مختلف ابواب میں تقسیم کیا گیا اور موطا، مسند، سنن، مصنف اور جامع کے ناموں سے حدیث کی کتب کی ترتیب دی گئیں — جیسے موطا امام مالک، مسند امام احمد بن حنبل، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ۔ یہ نام کتابوں کی ترتیب کے طریقے بتاتے ہیں: موطا میں آسانی سے پڑھنے کا اہتمام، مسند میں راوی کے نام سے ترتیب، اور سنن میں فقہی ابواب سے ترتیب۔
First period: Because of the Ahadith's importance, their protection was arranged as carefully as the Quran's. The Sahaba (RA) did not only memorise the Ahadith — they wrote them down, preserved them, and passed them to the next generations. This proves that in the Prophet's ﷺ time and the Sahaba's time, different people already held collections of Ahadith: Ali (RA), Abu Hurairah (RA), Jabir bin Abdullah (RA), and Abdullah bin Amr bin al-Aas (RA) all had collections.
In the Tabieen's era, collecting and compiling became a movement. Famous Tabieen like Saeed bin al-Musayyib, Hasan Basri, and Muhammad bin Seereen played leading roles. Along with collecting and arranging, their era also began the work of verification — gathering alone was no longer considered enough; checking began too.
Second period: In the reign of Umar bin Abdul Aziz (99 Hijri), the compilation of Hadith formally began. This is the turning point where individual effort took official, organised shape — the Khalifah himself ordered the Muhadditheen to collect the Ahadith. Scholars of this era included Imam Shabi, Imam Jafar Sadiq, Imam Abu Hanifa, Imam Malik, Imam Sufyan Thawri, Imam Ibn Shihab Zuhri, Imam Abdur Razzaq, and Imam Shafii (may Allah have mercy on them).
This era also collected and arranged the opinions of the Tabieen. Ahadith were divided into chapters, and books were arranged as Muwatta, Musnad, Sunan, Musannaf, and Jami — for example, Muwatta of Imam Malik, Musnad of Imam Ahmad bin Hanbal, Musannaf of Abdur Razzaq, and Musannaf of Ibn Abi Shaybah. These names tell you the arrangement: Muwatta for easy reading, Musnad by narrator's name, Sunan by chapters of Fiqh.
Key points: First period = Sahaba's written collections + Tabieen's movement • Second period = 99 Hijri, Umar bin Abdul Aziz, formal start • Book styles: Muwatta, Musnad, Sunan, Musannaf, Jami.
تدوین حدیث کا تیسرا دور: تدوین حدیث کے تیسرے دور یعنی تیسری صدی ہجری میں تدوین حدیث کا کام اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ یہاں ایک غلط فہمی دور کرنی ضروری ہے: مستشرقین کا یہ نقطہ نظر کہ تیسری صدی ہجری صرف جمع و تدوین کا دور ہے، درست نہیں — بلکہ یہ علم حدیث کی ترویج و اشاعت کا دور ہے۔ یعنی اس دور میں کام صرف جمع کرنا نہیں تھا، پھیلانا اور پرکھنا بھی تھا۔
محدثین کرام نے دنیا بھر سے ایک ایک حدیث جمع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی صحت و ضعف جانچنے کا بھی اہتمام کیا۔ اس سلسلے میں اسناد کی جانچ پڑتال کی گئی۔ راویوں کی تحقیق کے لیے "علم اسماء الرجال" اور "جرح و تعدیل" کا فن وجود میں آیا — اسماء الرجال میں راویوں کے حالات جانچے جاتے ہیں کہ کون سچا اور مضبوط حافظے والا تھا، اور جرح و تعدیل میں راویوں پر جرح (اعتراض) یا تعدیل (توثیق) کی جاتی ہے۔ صحیح احادیث کو ضعیف احادیث سے الگ کر کے جمع کیا گیا۔ تدوین حدیث کے اس مرحلے میں کتب احادیث کو نئے انداز سے ترتیب دیا گیا۔ چنانچہ اس دور میں معتبر کتب احادیث وجود میں آئیں۔ ان میں سے مشہور آفاقی کتب صحاح ستہ ہیں۔
صحاح ستہ کیا ہے؟ "صحاح" صحیح کی جمع ہے اور "ستہ" چھ کو کہتے ہیں — یعنی چھ صحیح و معتبر کتابیں۔ یہ چھ کتابیں اور ان کے مؤلف یہ ہیں:
| کتاب | مؤلف |
|---|---|
| ۱۔ صحیح بخاری | محمد بن اسماعیل البخاری |
| ۲۔ صحیح مسلم | مسلم بن حجاج القشیری |
| ۳۔ سنن ابی داؤد | سلیمان بن اشعث السجستانی |
| ۴۔ جامع ترمذی | محمد بن عیسیٰ الترمذی |
| ۵۔ سنن نسائی | احمد بن شعیب النسائی |
| ۶۔ سنن ابن ماجہ | محمد بن یزید ابن ماجہ |
ان چھ کتابوں کو صحاح ستہ اس لیے کہتے ہیں کہ ان میں صحیح احادیث کو خاص اہتمام سے جمع کیا گیا ہے، اور امت نے انھیں قبولیت بخشی ہے۔ ان میں سے پہلی دو — بخاری اور مسلم — کو "صحیحین" بھی کہا جاتا ہے۔
Third period: In the third period — the third century Hijri — the compilation of Hadith reached its peak. One misunderstanding must be cleared here: the Orientalists' view that the third century was only a period of collecting is not correct — it was the period of spreading and promoting the science of Hadith. The work was not just gathering; it was spreading and testing.
The Muhadditheen gathered every single Hadith from across the world and, alongside that, arranged for testing its authenticity. Chains of narration (Asnad) were examined. For checking narrators, two sciences came into being: Ilm Asma ur-Rijal (studying the narrators' lives — who was truthful and strong of memory) and Jarh o Tadeel (criticising or authenticating narrators). Sound (Sahih) Ahadith were separated from weak (Zaeef) ones and collected apart. Books of Hadith were arranged in new styles. So this era produced the authoritative books of Hadith — among them the world-famous Sihah Sitta.
What is Sihah Sitta? Sihah is the plural of Sahih, and Sitta means six — six sound, authoritative books: 1. Sahih Bukhari — Muhammad bin Ismail al-Bukhari • 2. Sahih Muslim — Muslim bin al-Hajjaj al-Qushayri • 3. Sunan Abi Dawud — Sulayman bin Ashath al-Sijistani • 4. Jami Tirmidhi — Muhammad bin Isa al-Tirmidhi • 5. Sunan Nasai — Ahmad bin Shuayb al-Nasai • 6. Sunan Ibn Majah — Muhammad bin Yazid Ibn Majah.
Key points: Third period = third century Hijri, peak (urooj) • Not mere collection — promotion + verification • Asma ur-Rijal + Jarh o Tadeel = narrator sciences • Sihah Sitta = six authoritative books; Bukhari + Muslim = Sahihain.
اصول اربعہ (چار اصول): اصول اربعہ سے مراد چار بنیادی کتابیں ہیں۔ یہ چار کتابیں اور ان کے مؤلف یہ ہیں:
| کتاب | مؤلف |
|---|---|
| ۱۔ الکافی | ابو جعفر محمد بن یعقوب الکلینی |
| ۲۔ من لا یحضرہ الفقیہ | ابو جعفر محمد بن علی بن بابویہ القمی |
| ۳۔ الاستبصار | ابو جعفر محمد بن حسن الطوسی |
| ۴۔ تہذیب الاحکام | ابو جعفر محمد بن حسن الطوسی |
دھیان رہے: آخری دو کتابوں کا مؤلف ایک ہی ہے — ابو جعفر محمد بن حسن الطوسی۔ امتحان میں یہ نکتہ اکثر پوچھا جاتا ہے کہ الاستبصار اور تہذیب الاحکام کس کی ہیں، تو جواب ایک ہی نام ہے۔
حدیث کی اقسام: تدوین حدیث کے دوران حدیث کی فنی حیثیت متعین کرنے کے لیے اور صحت کی جانچ پڑتال کے لیے باقاعدہ اصطلاحات بھی وضع کی گئیں۔ نبی کریم ﷺ کے اقوال و افعال کے لیے "مرفوع حدیث" کی اصطلاح استعمال کی گئی، جب کہ صحابہ کرامؓ کے اقوال و افعال کو "موقوف حدیث" کا نام دیا گیا۔ یوں سمجھو: بات نبی ﷺ تک پہنچے تو مرفوع، صحابی پر رک جائے تو موقوف۔ محدثین نے حدیث کی صحت و ضعف کے حوالے سے جن اقسام کا تذکرہ کیا ہے ان میں صحیح اور ضعیف کی اقسام خاص طور پر قابل ذکر ہیں — صحیح وہ حدیث ہے جو ہر لحاظ سے درست ثابت ہو، اور ضعیف وہ جس میں کوئی کمزوری پائی جائے۔
مستشرقین: مستشرقین وہ غیر مسلم ہیں جنھوں نے مشرقی علوم (اسلامی علوم) پر تحقیق کی نیت سے مہارت حاصل کی اور اسلام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے احادیث مبارکہ پر مختلف اعتراضات کیے ہیں، جن کے جوابات علما نے دیے ہیں۔ اس باب میں ان کے ایک دعوے کی تصحیح تم پڑھ چکے ہو: تیسری صدی ہجری کو صرف جمع و تدوین کا دور کہنا درست نہیں، وہ ترویج و اشاعت کا دور تھا۔
Usool-e-Arba (the Four Principles): These are four foundational books: 1. Al-Kafi — Abu Jafar Muhammad bin Yaqub al-Kulayni • 2. Man La Yahduruhu al-Faqih — Abu Jafar Muhammad bin Ali bin Babawayh al-Qummi • 3. Al-Istibsar — Abu Jafar Muhammad bin Hasan al-Tusi • 4. Tahzib al-Ahkam — Abu Jafar Muhammad bin Hasan al-Tusi.
Note carefully: the last two books share one author — al-Tusi. Exams often ask who wrote Al-Istibsar and Tahzib al-Ahkam, and the answer is a single name.
Types of Hadith: During compilation, proper terms were fixed to define a Hadith's technical status and to test its soundness. Sayings and actions of the Prophet ﷺ are called Marfoo Hadith, while sayings and actions of the Sahaba (RA) are called Mauqoof Hadith. Simple rule: if the chain reaches the Prophet ﷺ, it is Marfoo; if it stops at a Sahabi, it is Mauqoof. For soundness, the two types the Muhadditheen stress most are Sahih (proven sound in every respect) and Zaeef (in which some weakness is found).
Mustashriqeen (Orientalists): These are non-Muslims who gained expertise in Eastern (Islamic) sciences with the aim of research, and then used it to criticise Islam. They raised various objections against the blessed Ahadith, which the scholars answered. You have already read one correction of their claim in this chapter: calling the third century Hijri a mere period of collection is wrong — it was a period of promotion and spread.
Key points: Usool-e-Arba = 4 books; last two by al-Tusi • Marfoo = Prophet's ﷺ, Mauqoof = Sahabi's • Sahih = sound, Zaeef = weak • Mustashriqeen = non-Muslim Orientalists, critics of Islam, answered by scholars.
کتاب میں پندرہ منتخب احادیث دی گئی ہیں۔ پہلی آٹھ یہ ہیں — ہر حدیث کا عربی متن، اس کا حوالہ، کتاب کا ترجمہ اور ایک چھوٹا سبق ساتھ ساتھ پڑھو، تاکہ متن بھی یاد رہے اور عمل بھی سمجھ آئے۔
۱۔ مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ (صحیح بخاری: 71) — ترجمہ: جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ سبق: دین کی سمجھ کوئی عام بات نہیں، اللہ کی خاص نعمت ہے — جو اسے پائے، سمجھے کہ اللہ اس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے۔
۲۔ مَا مِنْ شَیْءٍ أَثْقَلُ فِیْ مِیْزَانِ الْمُؤْمِنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللّٰہَ لَیُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِیْءَ (جامع ترمذی: 2002) — ترجمہ: قیامت کے دن مومن کے میزان میں اخلاق حسنہ سے بھاری کوئی چیز نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو بے حیا اور بدزبان ہو۔ سبق: قیامت کے ترازو میں سب سے وزنی چیز اچھا اخلاق ہے — اور گندی زبان والا اللہ کو ناپسند ہے۔
۳۔ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ یَسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ یَسَّرَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ، وَاللّٰہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ أَخِیْہِ (صحیح مسلم: 2699) — ترجمہ: جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا؛ جس نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا و آخرت میں آسانی کرے گا؛ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا؛ اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ سبق: جیسی مدد تم کرو گے، ویسی مدد تمھیں ملے گی — دنیا میں بھی، آخرت میں بھی۔
۴۔ لَا تَزُوْلُ قَدَمَا عَبْدٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُسْئَلَ عَنْ عُمُرِہٖ فِیْمَا أَفْنَاہُ وَعَنْ عِلْمِہٖ فِیْمَا فَعَلَ وَعَنْ مَالِہٖ مِنْ أَیْنَ اکْتَسَبَہٗ وَفِیْمَا أَنْفَقَہٗ وَعَنْ جِسْمِہٖ فِیْمَا أَبْلَاہُ (جامع ترمذی: 2416) — ترجمہ: قیامت کے دن بندے کے دونوں پاؤں نہیں ہلیں گے یہاں تک کہ اس سے یہ پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں گزاری، اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کیا عمل کیا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کہاں بوسیدہ کیا۔ سبق: چار سوالوں کی تیاری آج ہی کرنی ہے — عمر، علم، مال اور جسم، چاروں کا حساب ہوگا۔
۵۔ اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا ہُنَّ؟ قَالَ: اَلشِّرْکُ بِاللّٰہِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَکْلُ الرِّبٰوا، وَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ، وَالتَّوَلِّیْ یَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ (صحیح بخاری: 2766) — ترجمہ: سات ہلاک کر دینے والے گناہوں سے بچو۔ صحابہؓ نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کون سے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، اس جان کو قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک دامن مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔ سبق: یہ سات گناہ "موبقات" ہیں، یعنی ہلاک کرنے والے — ان سے بچنا نجات کی پہلی شرط ہے۔
۶۔ مَنْ رَاٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ، فَإِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ، فَإِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ، وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْإِیْمَانِ (صحیح مسلم: 177) — ترجمہ: تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے روک دے، اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل سے (اسے برا سمجھے) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ سبق: برائی پر خاموشی ایمان نہیں — روکنے کے تین درجے ہیں، اور سب سے نیچلا درجہ بھی دل میں برا سمجھنا ہے، نہ کہ راضی ہو جانا۔
۷۔ نِعْمَتَانِ مَغْبُوْنٌ فِیْہِمَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ: اَلصِّحَّۃُ وَالْفَرَاغُ (صحیح بخاری: 6412) — ترجمہ: دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے: صحت اور فراغت۔ سبق: صحت اور خالی وقت وہ دو دولتیں ہیں جن کا نقصان اس وقت سمجھ آتا ہے جب وہ ہاتھ سے نکل جائیں — ان کی قدر ان کے ہوتے ہوئے کرو۔
۸۔ اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ، وَبَیْنَہُمَا مُشْتَبِہَاتٌ لَا یَعْلَمُہُنَّ کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُہَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَعِرْضِہٖ، وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبُہَاتِ وَقَعَ فِی الْحَرَامِ، کَالرَّاعِیْ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ أَنْ یَّقَعَ فِیْہِ، أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی، أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہٗ، أَلَا وَإِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ، أَلَا وَہِیَ الْقَلْبُ (صحیح بخاری: 52) — ترجمہ: حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان بعض مشتبہ چیزیں ہیں جنھیں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پھر جو شخص شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا، اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا، اس چرواہے کی طرح جو کسی بادشاہ کی محفوظ چراگاہ کے آس پاس اپنے جانور چراتا ہے، قریب ہے کہ اس کے جانور اس چراگاہ میں چلے جائیں۔ خبردار! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراگاہ ہوتی ہے، اور خبردار! اللہ کی محفوظ چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ خبردار! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور جب وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، خبردار! وہ دل ہے۔ سبق: مشکوک چیزوں سے بچنا دین کی حفاظت ہے، اور دل کی اصلاح پورے جسم کی اصلاح ہے — سب کچھ دل سے شروع ہوتا ہے۔
The book gives fifteen selected Ahadith. The first eight, with their lessons:
1. "Whoever Allah wishes good for, He grants him understanding of the religion." (Bukhari: 71) — Lesson: understanding of Deen is itself a sign of Allah's favour.
2. "Nothing will be heavier on the believer's scale on the Day of Judgement than good character, and Allah dislikes the shameless, foul-mouthed person." (Tirmidhi: 2002) — Lesson: good manners outweigh everything on the scale.
3. "Whoever removes a worldly hardship from a believer, Allah will remove a hardship of the Day of Judgement from him; whoever eases a person in difficulty, Allah will ease him in this world and the next; whoever covers a Muslim, Allah will cover him in this world and the next; and Allah keeps helping His servant as long as the servant keeps helping his brother." (Muslim: 2699) — Lesson: the help you give is the help you get.
4. "The feet of a servant will not move on the Day of Judgement until he is asked about his life — where he spent it; his knowledge — what he did with it; his wealth — where he earned it and where he spent it; and his body — where he wore it out." (Tirmidhi: 2416) — Lesson: four questions to prepare for today: life, knowledge, wealth, body.
5. "Avoid the seven destructive sins." The Sahaba (RA) asked which they were, and he ﷺ said: associating partners with Allah, magic, killing a soul Allah forbade except by right, devouring interest, devouring an orphan's wealth, fleeing on the day of battle, and slandering chaste, believing, unaware women. (Bukhari: 2766) — Lesson: these seven destroy — avoiding them is the first condition of salvation.
6. "Whoever among you sees an evil, let him change it with his hand; if he cannot, then with his tongue; if he cannot, then with his heart — and that is the weakest of faith." (Muslim: 177) — Lesson: silence before evil is not faith; even the lowest level is hating it in the heart, never accepting it.
7. "Two blessings in which many people are deceived: health and free time." (Bukhari: 6412) — Lesson: health and spare time are two fortunes whose loss is felt only after they are gone — value them while you have them.
8. "The lawful is clear and the unlawful is clear, and between them are doubtful matters unknown to many people. Whoever avoids the doubtful has protected his religion and his honour; whoever falls into the doubtful falls into the unlawful — like a shepherd grazing near a king's private pasture, close to straying into it. Beware! Every king has a private pasture, and Allah's private pasture is His prohibitions. Beware! In the body there is a piece of flesh: when it is sound, the whole body is sound, and when it is corrupt, the whole body is corrupt — beware, it is the heart." (Bukhari: 52) — Lesson: avoiding doubtful things protects faith, and reforming the heart reforms the whole body.
Key points: 1 = دین کی سمجھ • 2 = اخلاق سب سے بھری • 3 = مدد کا بدلہ مدد • 4 = چار سوال • 5 = سات موبقات • 6 = برائی روکنے کے تین درجے • 7 = صحت اور فراغت • 8 = ہلال/حرم واضح, دل کی اصلاح.
۹۔ لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّہِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَائِ وَالْمُتَشَبِّہَاتِ مِنَ النِّسَائِ بِالرِّجَالِ (صحیح بخاری: 5885) — ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کریں اور ان عورتوں پر بھی لعنت کی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔ سبق: مرد اور عورت کی اپنی اپنی پہچان اللہ کی بنائی ہوئی ہے — اسے بدلنا یا دوسرے کی نقل کرنا سخت منع ہے۔
۱۰۔ إِنَّ مِنْ أَکْبَرِ الْکَبَائِرِ أَنْ یَّلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ، قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ یَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ؟ قَالَ: یَسُبُّ الرَّجُلُ أَبَا الرَّجُلِ فَیَسُبُّ أَبَاہُ وَیَسُبُّ أُمَّہٗ (صحیح بخاری: 5973) — ترجمہ: یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت بھیجے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنے والدین پر کیسے لعنت بھیجتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص کسی دوسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ جواب میں اس کے باپ کو گالی دیتا ہے اور اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔ سبق: دوسرے کے ماں باپ کو گالی دینا دراصل اپنے ماں باپ کو گالی دلوانا ہے — زبان سنبھالو، والدین کی عزت بچاؤ۔
۱۱۔ اِتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ، فَإِنَّہَا لَیْسَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ (صحیح بخاری: 2448) — ترجمہ: مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا، کیونکہ اس کی بددعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ سبق: کسی پر ظلم کرنے سے پہلے سوچ لو — مظلوم کی آہ سیدھی اللہ تک پہنچتی ہے، درمیان میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
۱۲۔ یُوْشِکُ الرَّجُلُ مُتَّکِئًا عَلٰی أَرِیْکَتِہٖ یُحَدِّثُ بِحَدِیْثٍ مِنْ حَدِیْثِیْ فَیَقُوْلُ: بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ کِتَابُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَا وَجَدْنَا فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاہُ وَمَا وَجَدْنَا فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاہُ، أَلَا وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ (سنن ابن ماجہ: 12) — ترجمہ: قریب ہے کہ (ایسا زمانہ آئے کہ) ایک آدمی اپنی مسند پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوگا اور میری حدیث بیان کی جائے گی تو وہ کہے گا: ہمارے اور تمھارے درمیان اللہ کی کتاب ہے، پس اس میں جو حلال پائیں گے اسے حلال سمجھیں گے اور جو حرام پائیں گے اسے حرام سمجھیں گے۔ خبردار! جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے حرام کیا ہے وہ اسی طرح حرام ہے جیسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ سبق: یہ حدیث خود حدیث کی حجیت کی دلیل ہے — جو شخص صرف قرآن کو مانے اور حدیث کو چھوڑ دے، وہ قرآن کو بھی پورا نہیں سمجھ سکتا، کیونکہ رسول ﷺ کا حرام کرنا اللہ کا حرام کرنا ہے۔
۱۳۔ دَعْ مَا یَرِیْبُکَ إِلٰی مَا لَا یَرِیْبُکَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِیْنَۃٌ وَإِنَّ الْکَذِبَ رِیْبَۃٌ (جامع ترمذی: 2518) — ترجمہ: اس چیز کو چھوڑ دو جو تمھیں شک میں ڈالے، اس چیز کی طرف جو تمھیں شک میں نہ ڈالے۔ بے شک سچائی اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ شک کا باعث ہے۔ سبق: دل کا اطمینان ہی سچ کی پہچان ہے — جس بات میں دل کھٹکے، اسے چھوڑ دو۔
۱۴۔ لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ (صحیح بخاری و مسلم: 15) — ترجمہ: تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ سبق: ایمان کا معیار رسول ﷺ کی محبت ہے — سب سے بڑھ کر، سب سے پہلے، سب سے زیادہ۔
۱۵۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ؟ قَالَ: اَلصَّلٰوۃُ عَلٰی وَقْتِہَا، قَالَ: ثُمَّ أَیٌّ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَیْنِ، قَالَ: ثُمَّ أَیٌّ؟ قَالَ: اَلْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (صحیح بخاری و مسلم: 527) — ترجمہ: حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ سبق: تین محبوب عمل یاد رکھو — وقت پر نماز، والدین کی خدمت، اور اللہ کے راستے میں کوشش۔
⚠️ نوٹ: کتاب میں ہر حدیث کے ساتھ ایک دوسرا حوالہ بھی گلابی رنگ میں چھپا ہے (مثلاً جلد و صفحہ نمبر)۔ اس صفحے پر صرف مرکزی حوالہ (کتاب و حدیث نمبر) دیا گیا ہے، کیونکہ اسکین میں وہ دوسرے حوالے ہر جگہ پوری طرح واضح نہیں تھے — اندازے سے کوئی جلد یا صفحہ نمبر گھڑا نہیں گیا۔
The remaining seven Ahadith, with their lessons:
9. "The Messenger of Allah ﷺ cursed men who imitate women and women who imitate men." (Bukhari: 5885) — Lesson: each sex has its own God-given identity — copying the other is strictly forbidden.
10. "Among the greatest of major sins is that a man curses his parents." It was asked: "O Messenger of Allah, how does a man curse his parents?" He ﷺ said: "He abuses another man's father, who in return abuses his father and his mother." (Bukhari: 5973) — Lesson: abusing someone else's parents is a way of getting your own parents abused — guard your tongue, protect your parents' honour.
11. "Fear the prayer of the oppressed, for there is no barrier between it and Allah." (Bukhari: 2448) — Lesson: before oppressing anyone, remember — the oppressed person's cry reaches Allah directly, with nothing in between.
12. "Soon there will come a time when a man, reclining on his couch, will be told one of my Ahadith and will say: 'Between us and you is the Book of Allah; whatever we find lawful in it we will treat as lawful, and whatever we find unlawful in it we will treat as unlawful.' Beware! Whatever the Messenger of Allah ﷺ forbade is just as forbidden as what Allah forbade." (Ibn Majah: 12) — Lesson: this Hadith itself proves the authority of Hadith — whoever accepts only the Quran and drops the Hadith cannot even understand the Quran fully, because the Messenger's ﷺ forbidding is Allah's forbidding.
13. "Leave what puts you in doubt for what does not put you in doubt. Truth brings peace of mind, and falsehood brings doubt." (Tirmidhi: 2518) — Lesson: peace of heart is the mark of truth — if your heart pricks at something, leave it.
14. "None of you truly believes until I am dearer to him than his father, his children, and all people." (Bukhari and Muslim: 15) — Lesson: the measure of faith is love for the Messenger ﷺ — above all, before all, more than all.
15. Abdullah (RA) narrated: I asked the Prophet ﷺ, "Which deed is most beloved to Allah?" He ﷺ said: "Prayer at its proper time." I asked: "Then which?" He ﷺ said: "Kindness to parents." I asked: "Then which?" He ﷺ said: "Striving in the way of Allah." (Bukhari and Muslim: 527) — Lesson: remember three beloved deeds — prayer on time, serving parents, and striving in Allah's way.
Key points: 9 = Tashabbuh mana • 10 = Waldein ki izzat • 11 = Mazloom ki dua • 12 = Hadith ki hujjiyat • 13 = Sach = itminan • 14 = Rasool ﷺ ki mohabbat = iman ki kasoti • 15 = Teen mehboob amal.
The book gives two exercises in this chapter — one at the end of each part, and both are solved below. Part (A) Uloom al-Quran (printed p. 4): Q1 — choose the correct answer (5 MCQs); Q2 — short answers (5); Q3 — detailed answer (1). Part (B) Uloom al-Hadith (printed pp. 11–12): Q1 — choose the correct answer (5 MCQs); Q2 — short answers (5); Q3 — detailed answer (1). Plus the book's student/teacher activities at the end. Total: 22 questions + activities, none skipped.
الف 1 (i). نبی کریم ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ ہے:
درست جواب: (الف) قرآن مجید — نبی کریم ﷺ کے سب سے بڑے معجزے کے طور پر قرآن مجید کو مانا جاتا ہے، کیونکہ دوسرے معجزے ایک وقت اور ایک جگہ تک محدود تھے، جب کہ قرآن کا معجزہ ہر دور میں زندہ ہے: اس کی فصاحت و بلاغت کا جواب آج تک کوئی نہ دے سکا، اور یہ قیامت تک باقی رہے گا۔ اسراء و معراج، شق القمر اور رد الشمس بھی آپ ﷺ کے معجزات ہیں، مگر "سب سے بڑا" ہونے کا درجہ قرآن کو حاصل ہے۔
الف 1 (ii). قرآن مجید سابقہ آسمانی کتب کے لیے ہے:
درست جواب: (ب) نگران — قرآن مجید سابقہ آسمانی کتب پر نگران (مہیمن) ہے، یعنی وہ ان کی تصدیق بھی کرتا ہے اور ان پر نگاہ بھی رکھتا ہے: جو بات ان کتابوں میں اصل تھی، قرآن اسے برقرار رکھتا ہے، اور جو بات لوگوں نے بدل دی، قرآن اس کی اصلاح کرتا ہے۔ اس لیے قرآن کو ترجمہ یا دیباچہ نہیں، نگران کہا جاتا ہے۔
الف 1 (iii). قیامت تک پیش آنے والے مسائل کا مکمل اور حتمی حل موجود ہے:
درست جواب: (د) قرآن مجید میں — یہ قرآن کی جامعیت اور ابدیت کا نتیجہ ہے: تورات، انجیل اور زبور خاص قوموں اور خاص زمانوں کے لیے تھیں، جب کہ قرآن قیامت تک کے انسانوں کے لیے ہے، اس لیے قیامت تک پیش آنے والے ہر مسئلے کا اصولی اور حتمی حل اسی میں ملتا ہے۔
الف 1 (iv). عقائد، عبادات، معاشرت اور اخلاقیات کے جامع بیان کی حامل کتاب ہے:
درست جواب: (الف) قرآن مجید — یہی قرآن کی جامعیت ہے: پہلی کتابوں میں سے ہر ایک کا دائرہ محدود تھا، مگر قرآن میں عقیدہ بھی ہے، عبادت بھی، معاشرت بھی اور اخلاق بھی — چاروں شعبے ایک ہی کتاب میں جمع ہیں، اس لیے جامع بیان کی حامل کتاب قرآن مجید ہے۔
الف 1 (v). مکی سورتوں میں بیان ہے:
درست جواب: (د) توحید و رسالت کا — مکی سورتوں کا بنیادی موضوع عقیدہ ہے: توحید، رسالت اور آخرت۔ خاندانی قوانین، ریاستی امور اور جہاد و قتال کے احکام مدنی دور میں آئے، جب مدینہ میں معاشرہ اور ریاست بن رہی تھی۔ اس لیے مکی سورتوں میں توحید و رسالت کا بیان ہے۔
قرآن مجید عالمگیر کتاب اس لیے ہے کہ یہ کسی ایک قوم، علاقے یا زمانے کے لیے نہیں، بلکہ تمام انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے: ﴿ھٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ﴾ (سورۃ ابراہیم: 52) — "یہ (قرآن) انسانوں کے لیے (اللہ تعالیٰ کا) پیغام ہے۔" پہلی آسمانی کتابیں خاص قوموں کے لیے تھیں، مگر قرآن کی دعوت ہر انسان سے ہے، اس کی تعلیمات ہر دور اور ہر نسل کے لیے ہیں، اور اسی عالمگیریت کی وجہ سے یہ قیامت تک کے لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔
ابدیت کا مطلب ہے ہمیشہ رہنا۔ قرآن مجید کی تعلیمات ہمیشہ کے لیے ہیں — یہ کسی ایک زمانے کی کتاب نہیں۔ دین و دنیا کی ضرورتوں کے لیے یہ ہر دور میں قابل عمل ہے: جو اصول قرآن نے چودہ سو سال پہلے دیے، وہ آج بھی اتنے ہی کارآمد ہیں، اور قیامت تک رہیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن انسان کی فطرت سے بات کرتا ہے، اور فطرت بدلتی نہیں — اس لیے اس کی تازگی کبھی ختم نہیں ہوتی اور ہر دور کے لوگ اس سے اپنے مسائل کا حل پاتے ہیں۔
قرآن مجید کے بہت سے نام ہیں، ان میں سے چار یہ ہیں: ۱۔ القرآن — سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب، کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ یہی کتاب پڑھی جاتی ہے۔ ۲۔ الفرقان — حق اور باطل میں امتیاز کرنے والی کتاب، کیونکہ یہ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق واضح کر دیتی ہے۔ ۳۔ النور — روشنی دکھانے والی کتاب، کیونکہ یہ اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے۔ ۴۔ الشفاء — شفاء دینے والی کتاب، کیونکہ یہ دلوں کی بیماریوں کا علاج ہے۔ ہر نام قرآن کی ایک صفت بتاتا ہے، اسی لیے اس کے نام بھی اس کی شان کی گواہی ہیں۔
پہلا فرق — زمانہ: جو سورتیں ہجرت مدینہ سے پہلے نازل ہوئیں وہ مکی ہیں، اور جو ہجرت کے بعد نازل ہوئیں وہ مدنی ہیں۔ دوسرا فرق — موضوع: مکی سورتوں میں بنیادی طور پر عقیدہ بیان ہوا ہے — توحید، رسالت، آخرت اور شرک کی تردید؛ جب کہ مدنی سورتوں میں بنیادی طور پر قانون اور نظام بیان ہوا ہے — احکام، جہاد، حدود، فرائض اور "یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا" سے اہل ایمان سے خطاب۔ یوں ایک جملے میں: مکہ میں عقیدہ، مدینہ میں قانون۔
آیات احکام سے مراد قرآن مجید کی وہ آیات ہیں جن میں اسلامی شریعت کے احکام اور قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ ان آیات میں عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاقیات، حدود وغیرہ جیسے موضوعات شامل ہیں۔ آیات احکام کو فقہاء نے اسلامی قانون کے اصولوں کی بنیاد پر استعمال کیا ہے — یعنی فقہ کا ڈھانچہ انھی آیات پر کھڑا ہے، اور مسلمانوں کے عملی مسائل کا حل انھی سے نکلتا ہے۔ اس لیے آیات احکام کو سمجھنا صرف علم نہیں، عمل کی بنیاد ہے۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے جو اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر تقریباً 23 سال میں نازل ہوا، اور اس کی چار بڑی خصوصیات کتاب نے بیان کی ہیں۔ ۱۔ عالمگیریت: یہ کسی ایک قوم یا زمانے کے لیے نہیں، تمام انسانوں کے لیے اللہ کا پیغام ہے — دلیل: ﴿ھٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ﴾ (سورۃ ابراہیم: 52)۔ ۲۔ کاملیت: اس کی ہدایات مکمل ہیں؛ دین کا کام حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور نبی کریم ﷺ پر اس کی تکمیل ہوئی، اس میں کوئی کمی نہیں۔ ۳۔ جامعیت: یہ ہر شعبے کی رہنمائی رکھتی ہے — عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاقیات اور قانون سب اس میں ہیں، جب کہ پہلی کتابیں کسی ایک شعبے تک محدود تھیں — دلیل: ﴿اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ﴾ (سورۃ التکویر: 27) اور ﴿وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ﴾ (سورۃ النحل: 89)۔ ۴۔ ابدیت: اس کی تعلیمات ہمیشہ کے لیے ہیں اور ہر دور میں قابل عمل ہیں۔ ان خصوصیات کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان قرآن کو صرف پڑھے نہیں، اس پر عمل بھی کرے، کیونکہ یہ دستور حیات ہے جس سے قومیں عروج پاتی ہیں اور اس سے دور ہو کر زوال کا شکار ہوتی ہیں۔
ب 1 (i). نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا صفت کو اصطلاحاً کہتے ہیں:
درست جواب: (الف) حدیث — نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا صفت کو اصطلاحاً حدیث کہتے ہیں۔ "خبر" عام بات کو کہتے ہیں، "روایت" حدیث پہنچانے کے عمل کو کہتے ہیں، اور "سنت" آپ ﷺ کے طریقے اور عمل کو کہتے ہیں — مگر سوال میں دی گئی چاروں چیزوں کی اصطلاح "حدیث" ہے۔
ب 1 (ii). تدوین حدیث کے پہلے دور میں احادیث مبارکہ موجود تھیں:
درست جواب: (الف) حضرت علیؓ کے پاس — پہلے دور میں احادیث مبارکہ صحابہ کرامؓ کے پاس موجود تھیں، اور ان میں حضرت علیؓ کا مجموعہ کتاب میں خاص طور پر نام لے کر بیان ہوا ہے۔ سعید بن مسیبؒ تابعین میں سے ہیں، اور امام شعبی و امام عبدالرزاقؒ دوسرے دور کے محدثین ہیں — اس لیے پہلے دور کے سوال کا جواب حضرت علیؓ ہے۔
ب 1 (iii). مشہور و مستند کتب کی تدوین کا دور ہے:
درست جواب: (ج) ثالث — مشہور و مستند کتب، یعنی صحاح ستہ، تیسرے دور (تیسری صدی ہجری) میں وجود میں آئیں۔ پہلے دور میں صحابہ کے انفرادی مجموعے تھے، دوسرے دور میں باقاعدہ آغاز ہوا، اور تیسرے دور میں معتبر کتابیں مرتب ہوئیں — اس لیے یہ تیسرا دور ہے۔
ب 1 (iv). تدوین حدیث کے عروج کا دور ہے:
درست جواب: (ج) تیسرا دور — کتاب کے الفاظ میں: "تدوین حدیث کے تیسرے دور یعنی تیسری صدی ہجری میں تدوین حدیث کا کام اپنے عروج کو پہنچ گیا۔" اس دور میں حدیث کی ترویج و اشاعت ہوئی، اسناد کی جانچ ہوئی، اور علم اسماء الرجال و جرح و تعدیل وجود میں آیا — اس لیے عروج کا دور تیسرا دور ہے۔
ب 1 (v). صحاح ستہ کی تدوین ہوئی:
درست جواب: (ج) تیسرے دور میں — صحاح ستہ (بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) تیسرے دور میں مرتب ہوئیں، جب تدوین حدیث اپنے عروج پر تھی اور معتبر کتب احادیث وجود میں آئیں۔
حدیث کی اہمیت یہ ہے کہ قرآن مجید دین کی بنیاد ہے اور حدیث اس کی تشریح ہے — نبی کریم ﷺ کو قرآن کی تشریح و توضیح کی ذمہ داری عطا ہوئی تھی۔ جس طرح قرآن پر ایمان اور اس پر عمل بنیادی فریضہ ہے، اسی طرح احادیث پر ایمان اور ان پر عمل بھی بنیادی فریضہ ہے۔ امت کا اتفاق ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اقوال و افعال کے بغیر نہ قرآن کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ اس کی تعلیمات پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ اللہ نے نبی کریم ﷺ کی ذات کو اہل ایمان کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے، اور قرآن نے حکم دیا ہے: ﴿وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا﴾ (سورۃ الحشر: 7) — جو رسول ﷺ دیں اسے لے لو، جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔
عہد رسالت اور عہد صحابہ میں مختلف صحابہ کرامؓ کے پاس احادیث مبارکہ کے مجموعے موجود تھے۔ ان میں سے چار یہ ہیں: ۱۔ حضرت علیؓ — جن کے پاس احادیث کا مجموعہ تھا۔ ۲۔ حضرت ابوہریرہؓ — جو سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے صحابی ہیں۔ ۳۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ — جن کے پاس بھی احادیث کا مجموعہ تھا۔ ۴۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ — جو احادیث لکھ کر محفوظ کرنے کے لیے مشہور تھے۔ ان مجموعوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حدیث کی حفاظت نبی کریم ﷺ کے زمانے سے ہی شروع ہو گئی تھی، یہ بعد کی ایجاد نہیں۔
صحابہ کرامؓ نے احادیث مبارکہ کا تین طرح سے اہتمام کیا: پہلا، یاد کرنا — انھوں نے احادیث کو زبانی یاد کیا، کیونکہ اس دور میں یادداشت ہی سب سے بڑا خزانہ تھی۔ دوسرا، لکھ کر محفوظ کرنا — انھوں نے احادیث کو لکھ لیا تاکہ الفاظ بدل نہ جائیں۔ تیسرا، اگلی نسلوں تک منتقل کرنا — انھوں نے احادیث کو اپنے بعد آنے والوں تک پہنچایا، تاکہ یہ امانت آگے چلتی رہے۔ اسی اہتمام کی وجہ سے آج ہمارے پاس صحیح احادیث موجود ہیں — یہ سلسلہ ایک دن کا نہیں، نسل در نسل کی محنت کا نتیجہ ہے۔
دوسرے دور (99 ہجری، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور) کی دو اہم شخصیات یہ ہیں: ۱۔ امام ابن شہاب زہریؒ — وہ محدث جنھیں خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ نے حدیثیں جمع کرنے کا حکم دیا تھا، اور جن کی خدمات تدوین حدیث کے باقاعدہ آغاز میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ ۲۔ امام مالکؒ — جن کی کتاب "موطا امام مالک" اس دور کی مشہور ترین کتابوں میں سے ہے، جس میں احادیث کو فقہی ترتیب سے جمع کیا گیا۔ ان کے علاوہ اس دور میں امام ابو حنیفہ، امام سفیان ثوری، امام عبدالرزاق اور امام شافعی رحمہم اللہ جیسے محدثین نے بھی خدمات انجام دیں۔
صحاح ستہ میں سے دو کتابیں مع مؤلف یہ ہیں: ۱۔ صحیح بخاری — مؤلف: محمد بن اسماعیل البخاری۔ یہ صحاح ستہ کی سب سے مشہور اور معتبر کتاب ہے، جس میں صرف صحیح احادیث جمع کی گئی ہیں۔ ۲۔ صحیح مسلم — مؤلف: مسلم بن حجاج القشیری۔ بخاری اور مسلم کو ملا کر "صحیحین" کہا جاتا ہے، اور یہ دونوں کتابیں امت میں سب سے زیادہ قبولیت رکھتی ہیں۔
تدوین سے مراد کسی چیز کو جمع کر کے کتابی شکل دینا ہے، اور تدوین حدیث سے مراد احادیث مبارکہ کو جمع کر کے کتابوں میں محفوظ کرنا ہے۔ اس کے تین ادوار ہیں۔ پہلا دور: احادیث کی حفاظت کا اہتمام قرآن کی طرح کیا گیا — صحابہ کرامؓ نے احادیث کو یاد کیا، لکھ کر محفوظ کیا اور اگلی نسلوں تک منتقل کیا۔ حضرت علیؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت جابر بن عبداللہؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کے پاس احادیث کے مجموعے تھے۔ تابعین کے دور میں یہ کوشش ایک تحریک بن گئی — حضرت سعید بن مسیبؒ، حضرت حسن بصریؒ اور محمد بن سیرینؒ نے نمایاں کردار ادا کیا، اور جمع و ترتیب کے ساتھ تحقیق کا بھی اہتمام ہوا۔ دوسرا دور: حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور (99 ہجری) میں تدوین حدیث کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس دور میں امام شعبی، امام جعفر صادق، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام سفیان ثوری، امام ابن شہاب زہری، امام عبدالرزاق اور امام شافعی رحمہم اللہ نے خدمات انجام دیں، اور احادیث کو موطا، مسند، سنن، مصنف اور جامع کی صورت میں ترتیب دیا گیا۔ تیسرا دور: تیسری صدی ہجری میں تدوین حدیث اپنے عروج کو پہنچ گئی۔ یہ صرف جمع کرنے کا دور نہیں تھا بلکہ ترویج و اشاعت کا دور تھا — اسناد کی جانچ ہوئی، علم اسماء الرجال اور جرح و تعدیل وجود میں آئے، صحیح کو ضعیف سے الگ کیا گیا، اور معتبر کتابیں وجود میں آئیں، جن میں سب سے مشہور صحاح ستہ ہیں: صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ۔ اس کے ساتھ اصول اربعہ (الکافی، من لا یحضرہ الفقیہ، الاستبصار، تہذیب الاحکام) بھی حدیثی ادب کا اہم حصہ ہیں۔
حصہ (الف) کی سرگرمیاں: طلبہ سے موضوعات پر پوسٹر بنوا کر پیش کروائیں، اور قرآن مجید کے اسماء مبارکہ اور خصوصیات کے عنوان پر کمرہ جماعت میں لکھوائیں — یعنی جو کچھ پڑھا ہے، اسے چارٹ کی صورت میں سب کے سامنے لگائیں۔ حصہ (ب) کی سرگرمیاں: (۱) منتخب احادیث سے حاصل ہونے والے اسلامی احکام کا انفرادی خاکہ بنائیں۔ (۲) طلبہ اپنا جائزہ لیں کہ وہ منتخب احادیث میں سے کن پر عمل کرتے ہیں اور کن پر نہیں۔ (۳) مختلف ادوار میں تدوین حدیث کے لیے کیے گئے اقدامات کی فہرست بنائیں۔ (۴) دو گروہ بنائیں اور ان کے درمیان حدیث کتب کے موضوع پر مقابلہ کروائیں۔ یہ سرگرمیاں کلاس میں کرنے کی ہیں، اس لیے ان کا کوئی ایک تحریری جواب نہیں — کرنے کا طریقہ یہی جواب ہے۔
یہ باب دو حصوں میں بٹا ہے۔ پہلا حصہ علوم القرآن ہے: قرآن کا تعارف، اس کی چار خصوصیات (عالمگیریت، کاملیت، جامعیت، ابدیت)، اس کے سولہ اسماء مبارکہ، مکی و مدنی سورتوں کا فرق، اور آیات احکام کا تصور۔ دوسرا حصہ علوم الحدیث ہے: حدیث کی تعریف (قول، فعل، تقریر، صفت) اور اہمیت، تدوین حدیث کے تین ادوار، صحاح ستہ اور اصول اربعہ، حدیث کی اقسام، مستشرقین کا تعارف، اور آخر میں پندرہ منتخب احادیث مع ترجمہ۔ آخر میں دونوں حصوں کی کتابی مشق کے تمام سوالات کے جوابات ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے چار خصوصیات کے نام اور ان کے ایک ایک لفظی معنی یاد کرو — عالمگیریت (سب کے لیے)، کاملیت (مکمل)، جامعیت (ہر شعبہ)، ابدیت (ہمیشہ)۔ پھر مکی و مدنی کا ایک جملہ دہراؤ: مکہ میں عقیدہ، مدینہ میں قانون۔ پھر تین ادوار یاد کرو — پہلا صحابہ کے مجموعے، دوسرا 99 ہجری کا باقاعدہ آغاز، تیسرا عروج اور صحاح ستہ۔ آخر میں صحاح ستہ کے چھ نام اور پندرہ احادیث کے سبق ایک نظر میں دہراؤ — ہر حدیث کا ایک سبق ذہن میں رکھو (اخلاق، مدد، چار سوال، سات گناہ، برائی روکنا، صحت و فراغت، دل کی اصلاح، والدین، مظلوم کی دعا، حدیث کی حجیت، سچ، محبت رسول ﷺ، تین محبوب عمل)۔
This chapter falls into two parts. Part (A) Uloom al-Quran: the Quran's introduction, its four qualities (universality, perfection, comprehensiveness, eternity), its sixteen blessed names, the Makki–Madani difference, and the idea of Ayat-e-Ahkam. Part (B) Uloom al-Hadith: the definition of Hadith (saying, action, approval, attribute) and its importance, the three periods of compilation, Sihah Sitta and Usool-e-Arba, types of Hadith, the Orientalists, and finally fifteen selected Ahadith with translation. It ends with answers to every official exercise question from both parts.
Revision guidance: first learn the four qualities with one word each — universality (for all), perfection (complete), comprehensiveness (every field), eternity (for all time). Then repeat the one-line Makki–Madani rule: Makkah = beliefs, Madinah = laws. Then the three periods — first: Sahaba's collections; second: formal start in 99 Hijri; third: peak and Sihah Sitta. Finally run through the six books of Sihah Sitta and one lesson per Hadith (manners, help, four questions, seven sins, stopping evil, health and time, reforming the heart, parents, the oppressed one's prayer, authority of Hadith, truth, love of the Messenger ﷺ, three beloved deeds).
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Islamiat, Chapter 1 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu