FSc Part 1 Islamiat Chapter 2 Complete Guide Book — Imaniyat o Ibadaat | PunjabTest.com

FSc Part 1 Islamiat Chapter 2 — Imaniyat o Ibadaat
Home > PunjabTest.com > FSc Part 1 > Islamiat — all chapters > Chapter 2: Imaniyat o Ibadaat

اس chapter میں topics (Topics in this chapter)

Tauheed — Allah Is One: Proofs, Kinds and Demandsتوحید — اللہ ایک ہے: دلائل، اقسام اور تقاضے
🏷 Tags: Tauheed, Wujood-e-Bari, Fitrat, Shirk, Tauheed fil-Zaat, Rububiyat, Uluhiyat, Asma wa Sifat
اردو

توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک مانا جائے — اس کی ذات میں، اس کی صفات میں، اس کی ربوبیت میں، اس کی الوہیت میں اور اس کی عبادت میں۔ دین کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات و صفات میں یکتا اور بے مثال ماننا، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا توحید کہلاتا ہے۔ جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام آئے، سب نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کا ایک ماننے اور اسی کی عبادت کرنے کی تلقین فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو توحید کی جبلت اور فطرت پر پیدا فرمایا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (سورۃ الروم: 30) — ترجمہ: ”تو آپ اپنا رخ یکسوئی کے ساتھ دین پر قائم رکھیں (یہی) اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا۔“ یعنی انسان اگر اپنی فطری طبیعت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ خود بخود توحید کو اختیار کرے گا، جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات باری تعالیٰ اور اس کی توحید کا تصور انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے — جس طرح گھڑی کو دیکھ کر کوئی گھڑی ساز کے تصور سے خالی نہیں رہ سکتا، اسی طرح اس عظیم الشان کائنات کو دیکھ کر کوئی بھی اس کے خالق کے تصور سے خالی نہیں رہ سکتا۔

کائنات کا نظام دلیل ہے: کائنات میں مختلف چیزوں کا وجود اور ان میں جو حسن و جمال ہے، وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کا کوئی خالق ہے۔ ارشاد ہے: أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ (35) أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ (36) (سورۃ الطور: 35-36) — ترجمہ: ”کیا وہ کسی (خالق) کے بغیر ہی پیدا کیے گئے ہیں یا وہ خود ہی (اپنے) خالق ہیں؟ کیا انھوں نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ وہ یقین نہیں رکھتے۔“ کتاب میں اس مقام پر یہ بھی سمجھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ایک ایک چیز کو ایک خاص ترتیب اور انداز سے پیدا فرمایا ہے، اور وہ اپنی اس ترتیب و تنظیم سے برابر ادھر ادھر نہیں ہوتی۔ ارشاد ہے (ترجمہ، سورۃ الملک: 3-4): ”وہ جس نے سات آسمان اوپر نیچے بنائے، تم رحمن کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں دیکھو گے، تو تم دوبارہ نگاہ ڈالو، کیا تمھیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟ پھر تم بار بار نگاہ ڈالو، نگاہ تھک کر تمھاری طرف ناکام پلٹ آئے گی۔“ نوٹ: کتاب میں اس آیت کا صرف ترجمہ درج ہے، اس لیے یہاں عربی متن نقل نہیں کیا گیا۔

سورج چاند کا نظام: ارشاد ہے: لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (سورۃ یٰس: 40) — ترجمہ: ”نہ سورج سے ہو سکتا ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ ہی رات دن سے پہلے آ سکتی ہے، اور سب (اپنے اپنے) دائرے میں تیر رہے ہیں۔“ یہ کائنات اور اس میں موجود ہر مخلوق اپنی اپنی تخلیق کا مقصد پورا کر رہی ہے، اور یہ نظام بغیر کسی خلل کے جاری و ساری ہے۔ ان تمام چیزوں کی ترتیب و تنظیم میں تضاد کا نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات کو پیدا کرنے والا خالق ایک ہے — کیوں کہ اگر ایک سے زیادہ خالق ہوتے تو اس کائنات کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔ ارشاد ہے: لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا (سورۃ الانبیاء: 22) — ترجمہ: ”اگر ان (آسمان و زمین) میں اللہ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یقیناً دونوں درہم برہم ہو جاتے۔“

انسانی وجود دلیل ہے: ارشاد ہے: وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (سورۃ الذاریات: 21) — ترجمہ: ”اور تمھاری ذات میں بھی (نشانیاں ہیں) (تو کیا تم) دیکھتے نہیں؟“ انسانی جسم کا ایک ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے وجود کی گواہی دیتا ہے۔ یہ جو مواصلاتی نظام ہے، وہ دنیا کے کسی بھی نظام سے کہیں زیادہ مکمل اور پیچیدہ ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہمارے دل سے یہ آواز آئے گی کہ انسانی کو ایک عظیم خالق کی خوب صورت ترین تخلیق ہے، اور انسان کو بنانے والا خالق ایسا اللہ تعالیٰ ہے، اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔ یہی عقیدہ توحید کہلاتا ہے۔

توحید کی اقسام: توحید کی چار قسمیں درج ذیل ہیں: (1) توحید فی الذات — اللہ تعالیٰ اپنی حقیقت اور ذات میں واحد اور یکتا ہے، وہ بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ (2) توحید فی الربوبیت — یہ ماننا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق، مالک اور رازق ہے، اس میں کوئی اور اس کا شریک نہیں ہے۔ ارشاد ہے (ترجمہ، سورۃ الروم: 40): ”اللہ ہی ہے جس نے تمھیں پیدا فرمایا، پھر تمھیں رزق عطا فرمایا، پھر تمھیں موت دیتا ہے، پھر وہی تمھیں زندہ فرمائے گا، کیا تمھارے شریکوں میں (بھی) کوئی ایسا ہے جو ان (کاموں) میں سے کچھ کر سکتا ہو؟ وہ (اللہ) پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔“ (3) توحید فی الالوہیت — اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے، اور اس کی عبادت میں کوئی شریک نہیں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں، اور پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے احکام کے تحت گزارنا توحید فی الالوہیت ہے۔ ارشاد ہے (ترجمہ، سورۃ الکہف: 110): ”جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔“ (4) توحید فی الاسماء و الصفات — اللہ تعالیٰ کو اس کے خاص اسماء و صفات میں یکتا اور بے مثال ماننا، یعنی جیسی صفات اللہ تعالیٰ کی ہیں ویسی کسی اور کی نہیں، اور جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے واحد اور یکتا ہے، اسی طرح وہ اپنے خاص اسماء و صفات میں بھی واحد اور یکتا ہے۔

شرک کی اقسام: شرک کے لغوی معنی ”حصہ داری“ اور ”سانجھے پن“ کے ہیں۔ دین کی اصطلاح میں شرک کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات یا صفات کے تقاضوں میں کسی اور کو اس کا حصہ دار اور ساجھی ٹھہرایا جائے۔ شرک کی تین اقسام ہیں: (1) شرک فی الذات — اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقت میں کسی دوسرے کو حصہ دار سمجھنا، اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی دوسرے میں بھی حقیقت مان کر اسے اللہ تعالیٰ کا ہمسر اور برابر سمجھنا، دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کی اولاد سمجھنا یا کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد سمجھنا، کیوں کہ اولاد والا وہی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ لہٰذا جس طرح دو خداؤں یا تین خداؤں کو ماننا شرک ہے، اسی طرح کسی کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا بیٹی سمجھنا بھی شرک ہے۔ ارشاد ہے: لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (سورۃ الاخلاص: 3) — ترجمہ: ”نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے۔“ (2) شرک فی الصفات — اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کسی صفت میں کسی دوسرے کو شریک ماننا، اور اس کا علم، قدرت، یا ارادہ کسی دوسرے کے لیے ثابت کرنا، کسی دوسرے کو واجبی علم یا اس کی صفات کو ذاتی سمجھنا، یا اللہ تعالیٰ کی طرح کسی کو کامل سمجھنا — یہ سب شرک ہے۔ ارشاد ہے: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ (سورۃ الشوریٰ: 11) — ترجمہ: ”اس (اللہ) جیسی کوئی چیز نہیں۔“ (3) شرک فی الصفات کے تقاضے — اللہ تعالیٰ کی صفات کا مالک ہونا ان صفات کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، اور اسی کے سامنے پیشانیاں جھکائی جائیں۔ حقیقی اطاعت، محبت، صرف اسی کا صرف اسی کو سزاوار سمجھا جائے، اور یہی ایمان رکھا جائے کہ وہی حقیقی کارساز ہے — اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اسی کے سوا کسی کی عبادت کرنا اور اس کی عبادت کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنا شرک ہے۔ ارشاد ہے: أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ (سورۃ بنی اسرائیل: 23) — ترجمہ: ”کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔“ اللہ تعالیٰ ہی نفع و نقصان عطا کرنے والا ہے، اور مخلوق سے دل میں اللہ تعالیٰ ہی کا خوف و رجا ہونا چاہیے، اور مشکل میں اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا جائے، اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے۔

عقیدہ توحید کے تقاضے: ہمیں عقیدہ توحید پر ایمان رکھتے ہوئے شرکیہ تصورات اور اعمال سے بچنا چاہیے، اور یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ شرک صرف کسی بت یا پتھر کے سامنے جھکنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ بھی شرک ہے کہ ہم اپنی مشکلات کے حل کے لیے یا اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے لو لگائیں۔ بے شمار لوگ ایسے ہیں جو بظاہر طور پر تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں لیکن عملاً اپنی اولاد، روزگار، صحت اور دیگر مسائل کو انسانوں کے سامنے اس حاجت روائی سے پیش کرتے ہیں جس کی مستحق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ توحید کے تقاضوں میں محبتِ الٰہی، اطاعتِ الٰہی، اطاعتِ رسول ﷺ، خشیتِ الٰہی، توکل الٰہی، دعا و مناجات اور رضا و شکرِ الٰہی کو سجدہ کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

عملی زندگی میں توحید کے فوائد و اثرات: جو شخص عقیدہ توحید پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے تقاضوں پر عمل کرتا ہے تو اس کے کردار میں خوش گوار تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جن کا تذکرہ درج ذیل امور میں لیا جاتا ہے: (1) عزتِ نفس کی حفاظت — عقیدہ توحید انسان کو عزتِ نفس عطا کرتا ہے۔ جب انسان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ساری کائنات کا خالق، مالک اور رازق صرف اللہ تعالیٰ ہے، وہی قادرِ مطلق ہے اور تمام اختیارات اسی کے پاس ہیں، تو انسان صرف اللہ تعالیٰ سے لو لگاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ ہی سے مانگتا ہے اور اسی کی محبت اور خوف اپنے دل میں بساتا ہے، جس سے وہ دنیا کے جھوٹے اور دیگر چھوٹے معبودوں کے سامنے جھکنے سے بچ جاتا ہے۔ (2) عجز و انکساری کی دولت — عقیدہ توحید سے انسان میں عجز و انکساری پیدا ہوتی ہے۔ عقیدہ توحید والا شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ کائنات کی سب سے بالاتر و اعلیٰ ذات اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، بادشاہی اور اختیار دینے والا بھی وہی ہے، اور وہ اسی کے پاس ہے۔ عزت اور ذلت کا مالک بھی وہی ہے، لہٰذا ایسا شخص تکبر و غرور کی بجائے عجز و انکساری اختیار کرتا ہے۔ (3) عزم و ہمت — عقیدہ توحید پر ایمان رکھنے والا عزم سے کام لیتا ہے، اس کی تمام امیدیں اللہ تعالیٰ کی ذات سے وابستہ ہوتی ہیں، وہ اس بات پر پختہ ایمان رکھتا ہے کہ زندگی میں کتنے ہی اچھے اعمال کی جزا آخرت میں ملے گی، جس سے اس میں عزم و ہمت اور حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ (4) استقامت اور بہادری — عقیدہ توحید پر ایمان رکھنے سے انسان میں استقامت اور بہادری کی صفات پیدا ہو جاتی ہیں۔ عقیدہ توحید کا حامل شخص یہ پختہ اعتقاد رکھتا ہے کہ زندگی اور موت اور نفع و نقصان کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے، لہٰذا وہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتا ہے اور اسی کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہے، اس اعتقاد کی بدولت وہ بہادری اور استقامت کا پیکر بن جاتا ہے۔ (5) قناعت و استغنا — عقیدہ توحید انسان میں قناعت اور شان بے نیازی کی صفت پیدا کرتا ہے۔ عقیدہ توحید پر ایمان رکھنے والا شخص یہ جانتا ہے کہ رزق کے تمام خزانوں کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، جو اسے چاہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے، اور وہ جس سے رزق روک دے، ساری کائنات مل کر بھی اس کو کچھ نہیں دے سکتی۔ لہٰذا عقیدہ توحید کا حامل شخص مال و دولت کے لالچ سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور اس میں قناعت کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔ (6) شخصیت کی نشوونما — عقیدہ توحید پر ایمان رکھنے سے انسانی شخصیت میں توازن آ جاتا ہے۔ انسان کا مقصدِ حیات اور طرزِ زندگی متعین ہو جاتا ہے — وہ صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے والا ہوتا ہے، نہ کسی اور کی۔ وہ ہر چھوٹا بڑا عمل اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے سرانجام دیتا ہے، جس سے اس کی زندگی میں صبر، شکر، توکل اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔

عملی زندگی میں شرک کے نقصانات: عقیدہ توحید سے محرومی اور شرک کے ارتکاب سے انسان کی عملی زندگی پر خوفناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں: اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف اور صرف اپنی ذات کے سامنے جھکنے کا حکم دیا ہے، اور اپنے علاوہ کسی کے سامنے جھکنے کی یقین کی ہے۔ شرک کا ارتکاب کرنے والا شخص جب پتھروں، درختوں، مورتیوں اور دیگر چیزوں کے سامنے سر جھکاتا ہے تو وہ انسانیت کی توہین کا ارتکاب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والے کے بارے میں ارشاد فرمایا: وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ (سورۃ الحج: 31) — ترجمہ: ”اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو (اس کا حال ایسا ہے کہ) جیسے وہ آسمان سے گر پڑا، پھر (یا تو) اسے پرندے (راہ میں سے) اچک لے جاتے ہیں یا ہوا اسے (کسی دور دراز) جگہ لے جا کر پھینک دیتی ہے۔“ شرک کے ارتکاب کی وجہ سے انسان خوف اور وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے، پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے، شرک کی لعنت انسان کو ایک سوئی سے محروم کر دیتی ہے، اور وہ گمراہی اور شرک کی وجہ سے ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے۔

ENGLISH

What is Tauheed? Tauheed means believing Allah is One — in His Being, His attributes, His Lordship, His right to be worshipped, and in worship itself. Every prophet taught the same message: Allah is One, and worship belongs to Him alone. Allah created human beings on this natural instinct (fitrat): left to their own nature, people turn to One Creator, just as seeing a watch points to a watchmaker.

Proofs from the universe. The Qur'an asks (Surah At-Toor 35–36): were people created from nothing, or did they create themselves — or did they create the heavens and the earth? The order of the universe is a proof: the sun cannot overtake the moon, night cannot outrun day, and everything moves in its own orbit (Surah Yasin: 40). If there were other gods besides Allah, the heavens and the earth would have fallen into ruin (Surah Al-Anbiya: 22). And the human body itself is a proof — Surah Az-Zariyat: 21 says there are signs within yourselves too.

Four kinds of Tauheed. (1) Tauheed fil-Zaat: Allah is unique in His Being — He has no child and no parent, and no equal. (2) Tauheed fil-Rububiyat: Allah alone creates, owns and provides for everything. (3) Tauheed fil-Uluhiyat: only Allah deserves worship; living by His commands is part of this. (4) Tauheed fil-Asma wa Sifat: Allah is unique in His names and attributes — no one shares them as He has them.

Three kinds of Shirk. Shirk literally means "partnership". (1) Shirk fil-Zaat: giving Allah a partner in His Being — for example believing in two gods, or calling someone His son or daughter (Surah Al-Ikhlas: 3 denies both). (2) Shirk fil-Sifat: giving someone else Allah's attributes, like all-embracing knowledge or power (Surah Ash-Shura: 11 — nothing is like Him). (3) Shirk in the demands of the attributes: worship, true love, obedience and trust that belong to Allah alone are given to someone else (Surah Bani Isra'il: 23 — worship none but Him). Shirk is not only bowing before an idol; it is also pinning your hopes for solving problems on someone other than Allah.

What Tauheed demands — and what it gives. Belief in Tauheed should show in love of Allah, obedience to Allah and His Messenger ﷺ, fear of Allah, trust (tawakkul) in Him, prayer to Him, and gratitude to Him. Its fruits in daily life are: protection of self-respect (you bow to no false god), humility, determination, steadfastness and courage (because life, death, profit and loss are in Allah's hand alone), contentment (because all treasures of provision belong to Allah), and a balanced personality built on patience, gratitude and trust. Shirk, by contrast, brings fear, superstition, worry and misguidance — the Qur'an (Surah Al-Hajj: 31) compares the one who joins partners with Allah to someone falling from the sky, snatched by birds or blown away by the wind.

Golden calligraphy and mosque silhouette for Tauheed
Tauheed samjho: ایک اللہ, ایک خالق, ایک ma'بود — یہ تصویر اسی وحدانیت کی علامت ہے: سنہری khattati, تاریخ-ساز ہندسی نقش اور مسجد کا saaya.
Risalat-e-Muhammadi ﷺ — Wahi, Special Qualities and Khatm-e-Nubuwwatرسالتِ محمدی ﷺ — وحی، خصوصیات اور ختمِ نبوت
🏷 Tags: رسالت, وہی Matlu, وہی غیر Matlu, Aalamgeeriyat, ابدیت, Kamiliyat, محفوظ کتاب, اسوہ Hasana, Mu'jizat, Khatm-e-Nubuwwat
اردو

رسالت کے لغوی معنی ”پیغام پہنچانا“ کے ہیں۔ عقیدہ رسالت سے مراد اس بات پر ایمان رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام کو دنیا میں بھیجا — پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف اوقات میں انبیاء کرام علیہم السلام کو وحی کے ذریعے اپنا پیغام پہنچایا۔

وحی کی تعریف اور اس کی اقسام: وحی کے معنی ”اشارہ کرنا“ اور ”چپکے سے دل میں بات ڈال دینا“ وغیرہ کے ہیں۔ اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کا اپنے کسی رسول کی طرف فرشتے کے ذریعے پیغام پہنچانا، براہ راست اس کے دل میں بات ڈال دینا، پردے کے پیچھے سے اس کے ساتھ بات کرنا، ”وحی“ کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام پر وحی کے ذریعے اپنے احکامات نازل فرمائے۔ وحی کی دو اقسام ہیں: (1) وحی متلو — وحی متلو سے مراد ایسی وحی ہے جس کے الفاظ اور معانی دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوں، اور اس کی تلاوت کی جاتی ہے، جیسا کہ قرآن مجید۔ (2) وحی غیر متلو — وحی غیر متلو سے مراد ایسی وحی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے قلبِ مبارک پر صرف معانی و مضامین کی شکل میں القا کی گئی ہو، اور الفاظ نبی کریم ﷺ کے اپنے ہوں، جیسا کہ احادیث مبارکہ۔

کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشوریٰ کی آیت نمبر 51 میں وحی کی تین صورتیں بیان فرمائی ہیں: پہلی صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ براہ راست وحی الہام کے ذریعے نبی کے دل میں بات ڈال دیتا ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ پردے کے پیچھے سے اللہ تعالیٰ نبی سے بات کرتا ہے، تیسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتے (حضرت جبرئیل علیہ السلام) کے ذریعے نبی کو پیغام بھیجتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو وحی کا یہی سلسلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا، اور آپ ﷺ نے اپنے الفاظ سے، اپنے افعال سے اور اپنی دونوں صورتوں سے اس وحی کو لوگوں تک پہنچایا۔

رسالتِ محمدی ﷺ کی خصوصیات: اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی صفات کو آپ ﷺ کی ذات میں جمع کر دیا، بلکہ آپ ﷺ کو ایسی خصوصیات عطا فرمائیں جو آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی یا رسول کو عطا نہیں کی گئیں۔ نبی کریم ﷺ کی ان خصوصیات میں ختمِ نبوت، محفوظ کتاب، شفاعت، حوضِ کوثر اور مقامِ محمود وغیرہ شامل ہیں۔ عقیدہ رسالت اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا، جب تک رسالتِ محمدی ﷺ کی امتیازی حیثیت کا اقرار نہ کر لیا جائے۔ رسالتِ محمدی ﷺ کی چند خصوصیات درج ذیل ہیں:

1۔ عالمگیریت: نبی اکرم ﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت کسی خاص علاقے یا قوم کے لیے تھی، مگر حضور اکرم ﷺ کی نبوت کسی خاص علاقے یا قوم کے لیے نہیں، بلکہ پوری دنیا اور قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (سورۃ الاعراف: 158) — ترجمہ: ”آپ فرما دیجیے: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔“ 2۔ ابدیت: قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے رسول اکرم ﷺ کی پیروی لازم ہے۔ رسالتِ محمدی ﷺ کی یہ امتیازی شان ہے کہ اس نے پہلی تمام شریعتوں کو منسوخ کر دیا۔ اب تمام انسانوں کو قیامت تک شریعتِ محمدی ﷺ کی اتباع کرنا ہو گی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ (سورۃ آلِ عمران: 85) — ترجمہ: ”اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔“ 3۔ کاملیت: حضرت آدم علیہ السلام سے نبوت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، وہ نبی اکرم ﷺ کی آمد پر اپنے کمال کو پہنچ کر مکمل ہو گیا۔ آپ ﷺ کو دینِ کامل عطا کیا گیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (سورۃ المائدہ: 3) — ترجمہ: ”آج کے دن میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔“ 4۔ محفوظ کتاب: سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل ہونے والی کتابیں یا تو مکمل طور پر ضائع ہو چکی ہیں یا پھر ان میں صدیوں تک رد و بدل ہو چکا ہے، مگر نبی کریم ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب آج بھی اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے۔ اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اٹھایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (سورۃ الحجر: 9) — ترجمہ: ”بے شک ہم ہی نے اس (قرآن) کو نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی ضرور حفاظت فرمانے والے ہیں۔“ 5۔ محفوظ سیرت: سابقہ آسمانی کتابوں کی طرح، سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کے حالات بھی محفوظ حالت میں نہیں ملتے، لیکن آپ ﷺ کی سیرت، آپ ﷺ کے ارشادات اور آپ ﷺ کے حالات آج بھی محفوظ حالت میں موجود ہیں، جن سے قیامت تک آنے والے انسان رہنمائی لیتے رہیں گے۔ رسالتِ محمدی ﷺ کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ ہر طرح انسانی کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (سورۃ الاحزاب: 21) — ترجمہ: ”یقیناً تمھارے لیے اللہ کے رسول (ﷺ کی ذات مبارک) میں بہترین نمونہ ہے۔“ 6۔ معجزات: اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو نبوت کے ثبوت کے طور پر بہت سے معجزات عطا فرمائے۔ قرآن مجید میں نبی کریم ﷺ کے معجزات کا ذکر موجود ہے، مثلاً واقعہ اسراء و معراج، چاند کا دو ٹکڑے ہونا، درختوں اور پتھروں سے ہم کلام ہونا، جانوروں کا آپ ﷺ سے شکایت کرنا، انگلیوں سے پانی کا چشمہ جاری ہونا، کھانے کی تھوڑی مقدار میں برکت کا ظاہر ہونا، آپ ﷺ کی زبانِ مبارک سے نکلنے والی باتوں کا سچا ہونا، اور آپ ﷺ کی جامع کلمات والی باتیں، یعنی وہ جملے جن کے الفاظ کم اور معانی زیادہ ہوں۔ 7۔ ختمِ نبوت: ختمِ نبوت کا مفہوم یہ ہے کہ نبوت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو گیا ہے۔ آپ ﷺ نبوت کے سلسلے کی آخری کڑی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی، اور آپ ﷺ کو ایک مکمل اور کامل شریعت عطا کی گئی ہے۔ آپ ﷺ کی شریعت نے تمام سابقہ شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے۔

نبی کریم ﷺ ”خاتم النبیین“ یعنی سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے کا اقرار فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (سورۃ الاحزاب: 40) — ترجمہ: ”محمد (ﷺ) تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔“ حضور اکرم ﷺ کی احادیثِ مبارکہ میں عقیدہ ختمِ نبوت کی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي (صحیح بخاری: 3535) — ترجمہ: ”میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (صحیح بخاری: 3455): ”بنی اسرائیل میں جب ایک نبی وفات پا جاتا تھا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا تھا، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“ نبی کریم ﷺ کے دور میں نبوت کا دعویٰ کرنے والے مسیلمہ کذاب وغیرہ کے خلاف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جہاد کیا، اور آپ ﷺ کے وصال کے بعد بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مسیلمہ کذاب کے خلاف قتال کیا۔ آئینِ پاکستان (1973ء) میں مسلمان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ مسلمان وہ ہے جو اللہ کی توحید اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی تسلیم کرتا ہے — چنانچہ جو شخص آپ ﷺ کے بعد کسی بھی حیثیت اور لحاظ سے کسی مدعی نبوت کو مانتا ہے، وہ کذاب اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

عقیدہ ختمِ نبوت کے عقلی دلائل: عقیدہ ختمِ نبوت کے عقلی دلائل بھی ہیں، جیسے دین کا مکمل ہونا، قرآن مجید میں مذکور ہونا، اور جب دین مکمل ہو جائے تو کسی نبی یا دین کی ضرورت نہیں رہتی۔ اسی طرح قرآن مجید اور سیرتِ طیبہ میں جو کچھ موجود ہے، وہ بھی عقیدہ ختمِ نبوت کے عقلی دلائل ہیں۔ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری نبی ماننے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی لائی ہوئی دین پر عمل کریں، اور اس دین کو دوسروں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ قرآن مجید اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کا اسوہ حسنہ پوری انسانیت کی رہنمائی کے لیے، اور ان کی زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے انسان کے لیے ہدایت کا سامان موجود ہے۔

ENGLISH

Risalat means "delivering a message". Belief in Risalat is believing that Allah sent messengers — about one hundred and twenty-four thousand prophets — to guide human beings, from Adam (AS) to Muhammad ﷺ, the last of them. Allah sent His message to them through Wahi.

What is Wahi? Wahi means a silent indication, a matter quietly placed in the heart. In religious terms it is Allah sending His message to His messenger — through an angel, directly into his heart, or from behind a veil. There are two kinds: Wahi Matlu — revealed in both words and meaning from Allah, and recited, like the Qur'an; and Wahi Ghair Matlu — revealed only as meaning placed on the Prophet's ﷺ blessed heart, with the words being his own, like the Ahadith. Surah Ash-Shura, verse 51, mentions three forms of Wahi: direct inspiration into the heart, speech from behind a veil, and sending an angel (Jibril AS) with the message.

Seven special qualities of the Prophet's ﷺ mission. (1) Universality: earlier prophets were sent to a particular people or region; Muhammad ﷺ was sent to all humanity until the Day of Judgment (Surah Al-A'raf: 158). (2) Permanence: his Shariah abrogated all earlier Shariahs, and no other religion will be accepted after Islam (Surah Aal-e-Imran: 85). (3) Perfection: the chain of prophethood that began with Adam reached its perfection with him, and the religion was completed (Surah Al-Ma'idah: 3). (4) A preserved Book: earlier books were lost or altered over centuries, but the Qur'an remains in its original form, and Allah Himself took its protection upon Himself (Surah Al-Hijr: 9). (5) A preserved life-example: his Seerah and sayings survive intact, and he is the finest example for every human being (Surah Al-Ahzab: 21). (6) Miracles: the Isra and Mi'raj, the splitting of the moon, trees and stones speaking, animals complaining to him, water flowing from his fingers, blessing in small amounts of food, and his concise, meaning-rich speech (Jawami' al-Kalim). (7) Khatm-e-Nubuwwat: he is the Seal of the Prophets — no prophet comes after him (Surah Al-Ahzab: 40; Sahih Bukhari 3535: "I am the Seal of the Prophets; there is no prophet after me").

Why Khatm-e-Nubuwwat matters. The companions fought those who claimed prophethood in his time and after him, including Musailima the liar, and the 1973 Constitution of Pakistan defines a Muslim as one who believes in the Oneness of Allah and in Muhammad ﷺ as Allah's final prophet — anyone who accepts a claimant to prophethood after him is a liar and outside Islam. Reason also supports it: once the religion is complete, no new prophet or religion is needed, and the Qur'an and the Prophet's ﷺ example already contain guidance for every walk of life. Believing in the final prophet demands acting on the religion he brought and carrying it to others.

Wahi: Allah ka paigham Nabi takWahi MatluQur'an (words + meaning)Wahi Ghair MatluHadith (meaning only)Khatm-e-NubuwwatNo prophet after himAalamgeeriyat • ابدیت • Kamiliyat • محفوظ کتابMahfooz Seerat • Mu'jizat • Shafa'at • Hawd-e-Kawthar
Risalat samjho: وہی دو طرح کی ہے — matlu (Qur'an) اور غیر matlu (Hadith) — اور نبی ﷺ کی رسالت عالمگیر, کامل اور آخری ہے.
Belief in the Angels — Malaika par Imanملائکہ پر ایمان
🏷 Tags: Malaika, Farishte, Noor, Jibril, Mika'il, Israfil, Izra'il, Kiraman Katibin, Munkar Nakir, Hafaza, Bait al-Ma'mur
اردو

اس بات پر یقین رکھنا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کا حکم بجا لاتے ہیں، ”ایمان بالملائکہ“ (فرشتوں پر ایمان) کہلاتا ہے۔ مسلمان ہونے کے لیے فرشتوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ فرشتوں پر ایمان لائے بغیر ایمان کے تقاضے مکمل نہیں ہوتے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ (سورۃ البقرۃ: 177) — ترجمہ: ”بلکہ نیکی تو اس کی ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں پر۔“

فرشتے اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق ہیں، وہ گناہوں سے پاک ہیں، وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں مصروف رہتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (سورۃ التحریم: 6) — ترجمہ: ”وہ نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جس کا وہ حکم دیتا ہے اور وہی کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور سے پیدا کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (صحیح مسلم: 2996): ”فرشتوں کی تخلیق نور سے، جنوں کی آگ کے شعلے سے اور آدم علیہ السلام کی مٹی سے ہوئی۔“ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام اپنے بندوں تک پہنچانے کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں جنھوں نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک وحی پہنچائی۔ اس لیے فرشتوں کے ساتھ ساتھ ان کے ذریعے آنے والے پیغام پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔

فرشتوں کی تعداد اور مشہور فرشتے: فرشتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، ان کی تعداد کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ نبی کریم ﷺ نے سفرِ معراج میں ”بیت المعمور“ کے مقام پر دیکھا کہ اس میں ہر روز ستر ہزار (70000) فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور جو اس میں ایک بار (نماز پڑھ کر) چلا جاتا ہے، وہ دوبارہ کبھی اس کی باری نہیں آتی (صحیح بخاری: 3207)۔ چار مشہور اور مقرب فرشتے یہ ہیں: حضرت جبرئیل علیہ السلام، حضرت میکائیل علیہ السلام، حضرت اسرافیل علیہ السلام اور حضرت عزرائیل علیہ السلام۔

فرشتوں کی ذمہ داریاں: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو مختلف ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ کچھ فرشتے وہ ہیں جو انسانوں کے اعمال لکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، انھیں ”کراماً کاتبین“ کہتے ہیں۔ دو فرشتے جو مرنے کے بعد انسان کے مر جانے کے بعد اس سے سوال و جواب کرتے ہیں، انھیں ”منکر نکیر“ کہا جاتا ہے۔ جنت کے نگران فرشتے کا نام ”رضوان“ اور جہنم کے نگران فرشتے کا نام ”مالک“ ہے۔ جن فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھا رکھا ہے، انھیں ”حاملینِ عرش“ کہا جاتا ہے۔ جو فرشتے عذاب پر مقرر ہیں انھیں ”زبانیت“ کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری حفاظت کے لیے بھی فرشتے مقرر فرمائے ہیں، یہ فرشتے ہمیں نقصان دہ چیزوں سے بچاتے ہیں اور ہماری حفاظت کرتے ہیں، ان کو ”حافظین“ کہا جاتا ہے۔ بعض فرشتے زمین پر سیر کرنے والے لوگوں کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں، ان کو ”سیاحین“ کہا جاتا ہے۔ فرشتوں کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ درود پڑھنے والوں کے درود کو نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس تک پہنچاتے ہیں۔ کبھی کبھی فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسانی شکل میں بھی ظاہر ہوتے ہیں، حضرت جبرئیل علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا تو وہ ایک عام انسان کی شکل میں آئے تھے، عموماً حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لاتے تھے۔

اللہ تعالیٰ اپنے احکام کو نافذ کرنے کے لیے فرشتوں کا محتاج نہیں ہے، وہ اپنے ایک حکم سے اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس نے فرشتوں کو اپنی حکمت کے تحت پیدا فرمایا ہے اور انھیں مختلف کاموں پر مقرر کیا ہے۔ فرشتوں پر ایمان رکھنے سے انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس پیدا ہوتا ہے، کیوں کہ جس خالق نے اتنی طاقت ور اور شان دار مخلوق پیدا کی ہے، وہ خود کتنا بڑا اور قدرت والا ہو گا۔ فرشتوں پر ایمان لانے والے اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہو جاتے ہیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے فائدے کے لیے فرشتوں کو حفاظت اور خدمت کے لیے مقرر کیا ہے۔

ENGLISH

What does belief in angels mean? It means firmly believing that angels are Allah's creation of light who carry out His commands. Without it, faith is incomplete — Surah Al-Baqarah: 177 lists belief in Allah, the Last Day, the angels, the Books and the prophets together as true righteousness.

Their nature. Angels are created from light (Sahih Muslim 2996: angels from light, jinn from a flame of fire, Adam from clay). They are free from sin and constantly busy obeying Allah (Surah At-Tahrim: 6 — they do not disobey Allah in what He commands them, and they do what they are ordered). Allah does not need them to enforce His decisions — one command of His is enough — but in His wisdom He created them and assigned them tasks.

Who they are and what they do. Their number is known only to Allah; at the Bait al-Ma'mur, seventy thousand angels pray every day, and one who has prayed there never gets another turn (Sahih Bukhari 3207). The four well-known archangels are Jibril (AS), Mika'il (AS), Israfil (AS) and Izra'il (AS). Others include the Kiraman Katibin who record human deeds, Munkar and Nakir who question a person after death, Rizwan the keeper of Paradise, Malik the keeper of Hell, the bearers of the Throne, the Zabaniya appointed over punishment, the Hafaza (guardians) who protect us from harm, and the Sayyahin who move about the earth. Some angels also carry the durood of believers to the Prophet ﷺ. At times, by Allah's command, angels appear in human form — Jibril (AS) usually came to the Prophet ﷺ in the form of the companion Dihya Kalbi (RA).

What this belief does to a person. Believing in angels fills the heart with a sense of Allah's greatness — if His creation is so powerful and magnificent, how great must the Creator be? It also makes a person grateful, because Allah appointed angels for our protection and service.

Farishtay: Noor se paida, gunah se paakJibril (AS)Wahi pahunchanaMika'il (AS)Muqarrab farishtaIsrafil (AS)Muqarrab farishtaKiraman KatibinA'mal likhnaHafazaحفاظت کرناMunkar Nakirقبر میں سوالRizwan: Jannat • Malik: Jahannum
Malaika samjho: فرشتے نور کی مخلوق ہیں, نہ گناہ کرتے ہیں نہ حکم ٹلتے ہیں — ہر ایک کی ایک مقرر ذمہ داری ہے.
Belief in the Revealed Books — Kutub-e-Samawiya par Imanکتبِ سماویہ پر ایمان
🏷 Tags: Kutub-e-Samawiya, Taurat, Zabur, Injil, Quran Majeed, Sahifa, Wahi, Mushtarak Taleemat, Hifazat-e-Quran
اردو

کتبِ سماویہ سے مراد وہ آسمانی کتابیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل فرمائیں۔ آسمانی کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے گئے، ان کتابوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے احکام سے لوگوں کو آگاہ کیا گیا، اور انھیں اس کے عذاب سے ڈرایا گیا اور اس کے انعامات کی بشارت دی گئی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ (سورۃ النساء: 136) — ترجمہ: ”اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول (ﷺ) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (ﷺ) پر نازل فرمائی اور ان کتابوں پر جو اس نے پہلے نازل فرمائیں۔“

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا (صحیح مسلم: 09): ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یومِ آخرت (روزِ قیامت) اور تقدیر کے خیر و شر پر ایمان لے آؤ۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب کا نام تورات، حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب کا نام زبور، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب کا نام انجیل، اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کا نام قرآن مجید ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب ہے، اور قرآن مجید میں سابقہ آسمانی کتابوں کے مضامین کے ساتھ ساتھ قیامت تک آنے والے انسانوں کی رشد و ہدایت کے لیے تعلیمات موجود ہیں۔

آسمانی کتابوں میں اللہ تعالیٰ کے احکام کا تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جب کہ صحائف میں انھیں مختصر طور پر بیان کیا گیا ہے۔ چار بڑی کتابوں کے علاوہ جو چھوٹے احکامات پر مشتمل کتابیں بعض انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل ہوئیں انھیں صحیفے کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والے صحیفوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِنَّ هَٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ (18) صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ (19) (سورۃ الاعلیٰ: 18-19) — ترجمہ: ”یقیناً (یہ تعلیم) پہلے صحیفوں میں (بھی) ہے — (یعنی) ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں۔“

انسانوں کی رہنمائی کے لیے ایک ہدایت نامے کی ضرورت تھی، جس کی روشنی میں وہ اپنی زندگی کے فیصلے کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ آسمانی کتابیں اس لیے نازل فرمائیں تاکہ وہ لوگوں کے لیے آسمانی تعلیمات کا عملی نمونہ بنیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کتابیں وحی کے ذریعے نازل فرمائیں۔ وحی کے ذریعے حاصل ہونے والا علم قطعی اور یقینی ہے — اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہو سکتا۔ جن چیزوں کو دیکھنے سے انسانی عقل قاصر تھی یا عقل کی رسائی ان تک نہ تھی، ان کی تفصیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام پر وحی نازل فرمائی۔

آسمانی کتب کی مشترکہ تعلیمات: تمام آسمانی کتب میں ایمانیات، عبادات اور اخلاقیات کے مضامین مشترکہ طور پر موجود رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے، ان سب میں درج ذیل تین عقیدے مشترکہ طور پر موجود رہے ہیں: (1) توحید، (2) رسالت، (3) آخرت۔ لہٰذا اگر کسی مذہب کی تعلیمات میں ان تین بنیادی عقائد کی مخالفت نظر آئے تو یہ مطلب یہ ہو گا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے ان کتابوں میں شامل کر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے کہ روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا۔ قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کے قربانی کرنے کا ذکر بھی موجود ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قربانی کا حکم بھی سابقہ شریعتوں میں موجود رہا ہے۔ تمام آسمانی کتابوں میں زندگی گزارنے کے لیے اچھے اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے — سچ بولنا، دوسروں کا حق ادا کرنا، دیانت و امانت، پاکیزگی، حیا و شرم اور دیگر اچھے اخلاق تمام آسمانی کتابوں کی مشترکہ تعلیمات میں سے ہیں۔ قرآن مجید میں اہلِ کتاب کو کچھ اس طرح دعوت دی گئی ہے (ترجمہ، سورۃ آلِ عمران: 64): ”اے اہلِ کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب بنائے۔“ نوٹ: کتاب میں اس آیت کا صرف ترجمہ درج ہے، اس لیے یہاں عربی متن نقل نہیں کیا گیا۔

قرآن مجید کا امتیاز: اسلامی عقیدے کے مطابق قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ اس کے بعد تمام آسمانی کتابیں منسوخ ہو گئیں، لیکن قیامت تک کے انسانوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ قرآن مجید جس طرح حضور ﷺ پر نازل ہوا تھا، اب بھی اسی طرح موجود ہے، اس میں ایک حرف کی بھی تبدیلی نہیں ہوئی، اور نہ ہی قیامت تک ہو گی، کیوں کہ قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کا انتظام اس طرح فرمایا ہے کہ اسے لوگوں کے سینوں میں محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ذرائع سے بھی اس کی حفاظت کا اہتمام فرمایا ہے۔ قرآن مجید کی حفاظت اس کی آخری کتاب ہونے کی ایک دلیل ہے۔ قرآن مجید حضور اکرم ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ قرآن مجید کا ہر لفظ، آیت اور اس کی تعلیمات معجزہ ہیں۔ قرآن مجید میں کائنات کے بارے میں جو حقائق بیان کیے گئے ہیں، ان کو آج کے ترقی یافتہ دور میں جدید سائنس بھی تسلیم کر رہی ہے۔ قرآن مجید دنیا کی واحد کتاب ہے جس کی عظمت کا ہر دور کے دانشور اور ماہرینِ علوم کے ماہرین اعتراف کرتے رہے ہیں۔

ENGLISH

What are the revealed books? They are the heavenly books Allah sent down to His prophets to guide human beings — to inform people of His commands, warn them of punishment, and give them good news of reward. Surah An-Nisa: 136 commands believers to believe in Allah, His Messenger ﷺ, the Book sent down to him, and the books sent down before. A famous Hadith (Sahih Muslim 09) defines faith as belief in Allah, His angels, His books, His messengers, the Last Day, and destiny, good and bad.

Which books, and to whom? The Torah was revealed to Musa (AS), the Zabur to Dawood (AS), the Injil to Isa (AS), and the Qur'an to Muhammad ﷺ. The Qur'an is Allah's last heavenly book, and it contains both the themes of the earlier books and guidance for humanity until the Day of Judgment. Besides the four major books, smaller revelations were given to some prophets; these are called Sahifas — the Qur'an mentions in particular the Sahifas of Ibrahim (AS) and Musa (AS) (Surah Al-A'la: 18–19). Books explain Allah's commands in detail; Sahifas mention them briefly.

Why were books needed at all? Human beings needed a guidebook to make life's decisions by. Allah sent the books through Wahi, and knowledge gained through Wahi is certain and definite — there can be no doubt in it. Things human reason could not reach on its own were explained in detail through revelation to the prophets, so that the heavenly teachings became a practical example for people.

Three beliefs common to all revealed books. Every revealed book and Sahifa shares three core beliefs: (1) Tauheed, (2) Risalat, (3) Akhirat. If a religion's teachings oppose these three basic beliefs, that means human beings added their own wishes to it — Allah did not change His message. Fasting was also obligatory on earlier nations, and the Qur'an mentions the sacrifices of Adam's sons Habil and Qabil, showing sacrifice was also in earlier Shariahs. All heavenly books teach good character too: truthfulness, giving others their rights, honesty and trustworthiness, purity, modesty and other fine morals. The Qur'an invites the People of the Book to a common word (translation, Surah Aal-e-Imran: 64): that we worship none but Allah, associate none with Him, and take none as lords besides Allah. Note: only the translation of this verse is printed in the book, so no Arabic text is quoted here.

What makes the Qur'an distinct? It is Allah's final book; after it, all earlier heavenly books stand abrogated, yet it remains the source of guidance until the Day of Judgment. It exists today exactly as it was revealed to the Prophet ﷺ — not even a letter has changed, and none ever will, because Allah Himself undertook its protection, preserving it both in people's hearts and through other means. That protection is itself a proof that it is the final book. It is also the Prophet's ﷺ greatest miracle — every word, verse and teaching of it is miraculous — and facts about the universe stated in it are acknowledged by modern science today.

Ornamented book on a reading stand with prayer beads
Kutub samjho: تورات, زبور, انجیل اور Qur'an — سب اللہ کی طرف سے ہدایت کے لیے آئے, اور Qur'an آخری, محفوظ کتاب ہے.
Belief in the Hereafter — Aakhirat par Imanآخرت پر ایمان
🏷 Tags: Aakhirat, Barzakh, Qiyamat, Hashr, Mizan, Pul-Sirat, Jannat, Jahannum, Hawd-e-Kawthar, Shafa'at Kubra, Shafa'at Sughra
اردو

لفظ ”آخرت“ کے معنی ”بعد میں آنے والی چیز“ کے ہیں۔ آخرت پر ایمان سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی یہ زندگی ایک دن فنا ہو جائے گی، جس کے بعد انسانوں کو جزا و سزا کے لیے اٹھایا جائے گا، جس دن انسانوں کا حساب و کتاب ہو گا، اسے ”یومِ آخرت“ کہتے ہیں۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزادی دے کر آزمائش کے لیے اس دنیا میں بھیجا ہے۔ یہ زندگی عارضی ہے — موت کے بعد اُخروی زندگی واجبی ہے۔ اس دنیا میں انسان کے اعمال کے پورے نتائج مرتب نہیں ہوتے، بلکہ انسان کے دنیا کے اعمال کے مکمل نتائج آخرت کی زندگی میں ظاہر ہوں گے۔ اس دنیا کے خاتمے کا ایک دن مقرر ہے، جس طرح چیز فنا ہو جاتی ہے، اسی طرح ایک دن دنیا بھی فنا ہو جائے گی، اور اس کے بعد ایک نئی زندگی وجود میں آئے گی۔ اس دنیا کے خاتمے کے بعد جب ایک نیا نظام وجود میں آئے گا تو اللہ تعالیٰ انسانوں کو دوبارہ زندگی عطا فرمائے گا۔ انسانوں کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور انھیں نیک اعمال کی جزا اور برے اعمال کی سزا ملے گی۔

عقیدہ آخرت تمام مذاہب کے عقائد میں سے اہم ترین عقیدہ ہے۔ تمام مذاہب کی تعلیم یہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے فنا نہیں ہو گا، بلکہ موت کے بعد اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس کے دنیا کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ مشرکینِ مکہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے، حساب و کتاب، جزا و سزا اور جنت و دوزخ کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مشرکین کے شبہات اور اعتراضات کا ذکر کر کے ان کا مدلل انداز میں جواب دیا ہے۔ مشرکین کے اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے گلنے سڑنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ (سورۃ الروم: 27) — ترجمہ: ”اور وہی ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا فرماتا ہے، پھر وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا، اور یہ اس پر بہت آسان ہے۔“ قرآن مجید سے ثابت ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کو دوبارہ زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔ انسانی عقل بھی عقیدہ آخرت کو تسلیم کرتی ہے — ہر سلیم الفطرت شخص یہ مانتا ہے کہ اچھے اعمال کا بدلہ ملتا ہے، کسی نے اچھا عمل کیا ہو تو اسے اچھا بدلہ ملے گا، اور کسی نے برا عمل کیا ہو تو اسے برا بدلہ ملے گا۔ اگر انسان بغرضِ محال تسلیم کر لے کہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اشرف المخلوقات انسانوں کو اس کائنات میں بے مقصد پیدا کیا گیا ہے، اور اس کے اعمال کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے، جب کہ ایسا ہونا محال ہے، کہ اس ساری کائنات کو بے کار اور بے مقصد پیدا کیا گیا ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے (ترجمہ، سورۃ الدخان: 38-40): ”ہم نے آسمانوں اور زمینوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیل کے طور پر نہیں بنایا، ہم نے ان کو صرف حق کے ساتھ (با مقصد) پیدا کیا ہے۔“ نوٹ: کتاب میں اس مقام پر صرف ترجمہ درج ہے، اس لیے یہاں عربی متن نقل نہیں کیا گیا۔

چنانچہ عقلِ سلیم اس بات کو تسلیم کرنے کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسا دن ضرور ہونا چاہیے، جس دن نیکوں کو ان کے نیک اعمال کی اچھی جزا دی جائے، اور برے اعمال کرنے والوں کو سزا دی جائے، اور وہ دن قیامت کا دن ہے، جس دن تمام انسانوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ انسان کے اعمال کی جزا و سزا کا یہ سلسلہ اس کی موت کے بعد برزخ کی صورت میں شروع ہو جاتا ہے۔ برزخی زندگی کا یہ مرحلہ صور پھونکنے تک جاری رہتا ہے۔ قیامت قائم ہونے کے بعد جب تمام انسانوں کو اٹھایا جائے گا تو برزخی زندگی کا یہ مرحلہ ختم ہو جائے گا، اور حشر کا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔ تمام لوگ اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر، اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کے لیے ایک بہت بڑے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا۔ اس دن سورج مخلوق کے انتہائی قریب ہو گا اور لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ گناہ گاروں کے لیے یہ دن بہت سخت اور طویل ہو گا، جب کہ نیکوں کے لیے یہ دن آسان ہو گا، اور ان پر ذلت چھائی ہو گی۔ ان کے چہرے غبار آلود ہوں گے، اور ان پر سیاہی چھائی ہو گی، جب کہ ایمان والوں کے چہرے نورانی ہوں گے، وہ عرش کے سائے میں ہوں گے، اور انھیں جنت کی خوش خبریاں دی جائیں گی۔ اعمال کو وزن کرنے کے لیے ترازو نصب کیا جائے گا، اور کسی انسان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ جن لوگوں کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہو گا، ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں دے دیے جائیں گے، اور وہ جنت میں داخلے کی خوش خبری پائیں گے۔ کافر و منافقین اور جن کے گناہوں کا پلڑا بھاری ہو گا، ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں تھما دیے جائیں گے، اور انھیں دوزخ میں جانے کی وعید سنائی جائے گی۔ میدانِ محشر میں نبی کریم ﷺ کو حوضِ کوثر عطا کیا جائے گا، جس کا پانی نہرِ کوثر سے آ رہا ہو گا، اور وہ پانی شہد سے زیادہ میٹھا، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور دودھ سے زیادہ سفید ہو گا۔ اہلِ ایمان نبی کریم ﷺ کے حوض سے پانی پیئیں گے، جس کے بعد وہ کبھی پیاسے نہیں ہوں گے۔ جب کہ کافر و مشرکین اور وہ لوگ جو نبی ﷺ کی سنت سے منہ موڑتے ہیں، انھیں حوضِ کوثر کے پانی سے محروم کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد جنت اور جہنم کا مرحلہ ہو گا۔ اس مرحلے پر لوگوں کو ایک پل سے گزارا جائے گا، جسے ”پلِ صراط“ کہتے ہیں۔ اس پل کے نیچے جہنم کی آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے۔ پل کے دوسری جانب جنت ہو گی۔ نیک لوگ پلک جھپکنے میں پل سے گزر جائیں گے، جب کہ گناہ گاروں کے لیے ان کے گناہوں کے حساب سے پل سے گزرنے میں مشکلات ہوں گی، جن کے گناہ زیادہ ہوں گے، وہ اس پل سے جہنم میں گر جائیں گے۔ اہلِ ایمان میں سے فاسق و فاجر لوگوں کو ان کی سزا پوری ہونے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا، جب کہ کفار ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے۔

روزِ قیامت اور شفاعت: شفاعت کے لغوی معنی ”سفارش“ کے ہیں۔ شفاعت کی دو قسمیں ہیں: (1) شفاعتِ کبریٰ: شفاعتِ کبریٰ نبی کریم ﷺ کی خصوصیت ہے۔ اس شفاعت کا فائدہ پوری انسانیت کو ہو گا، کیوں کہ اس کی وجہ سے حساب کے انتظار کی سختی ختم ہو جائے گی اور حساب شروع ہو جائے گا۔ اسی شفاعت کو مقامِ محمود کہتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (جامع ترمذی: 3148): ”مقامِ محمود وہی شفاعت ہے۔“ (2) شفاعتِ صغریٰ: قیامت کے دن نبی کریم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام، علماء، شہداء، صالحین، قرآن مجید اور روزہ وغیرہ اللہ تعالیٰ کے حضور انسانوں کی شفاعت کریں گے۔ شفاعت میں زور زبردستی نہیں ہو گی، اللہ تعالیٰ پر کسی کا زور نہیں چلے گا، اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا، اسے شفاعت کا اذن عطا فرمائے گا۔

عملی زندگی میں عقیدہ آخرت کے اثرات: عقیدہ آخرت کے انسانی زندگی پر مرتب ہونے والے اہم اثرات درج ذیل ہیں: 1۔ نیک اعمال کی طرف رغبت — عقیدہ آخرت کا حامل شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اسے ان اعمال کی جزا عطا فرمائے گا، لہٰذا وہ نیک اعمال کثرت سے بجا لانے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ قیامت کے دن اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو۔ 2۔ برائی سے اجتناب — عقیدہ آخرت پر ایمان رکھنے والے شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ دنیا دارالعمل ہے، اور اس کے ایک ایک اچھے اور برے عمل کا بدلہ روزِ قیامت ضرور ملے گا، لہٰذا وہ برے اعمال سے گریز کرتا ہے، اور نیک اعمال بجا لانے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ روزِ قیامت ان کی جزا پائے۔ 3۔ حقوق کا احترام — عقیدہ آخرت کا حامل شخص اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے، کیوں کہ اسے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ دوسروں کے حقوق ادا نہ کرنے کی صورت میں روزِ قیامت اسے جواب دینا پڑے گا، اور حقوق ادا نہ کرنے کی صورت میں اس کی نیکیاں اس شخص کو دے دی جائیں گی جس کے حقوق اس نے ادا نہیں کیے، یوں شخص حقوقِ انسانی کا احترام کرتا ہے۔ 4۔ صبر و تحمل کا حصول — عقیدہ آخرت پر ایمان رکھنے سے انسان میں صبر و تحمل پیدا ہوتا ہے، کیوں کہ عقیدہ آخرت پر ایمان رکھنے والے شخص کو یہ یقین ہوتا ہے کہ دنیا میں جتنی بھی تکلیف اور مصیبت آئے، ان کی جزا اللہ تعالیٰ کے ہاں ضرور ملے گی، اور وہ انسان کے لیے بلندی درجات کا باعث بنے گی، وہ ہر طرح کی مصیبت اور تکلیف کا تحمل سے مقابلہ کرتا ہے۔ 5۔ تعمیرِ سیرت — عقیدہ آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے انسان میں عمدہ اخلاق پیدا ہوتے ہیں، اور انسانی سیرت و کردار کی تعمیر ہوتی ہے۔ یہ عقیدہ اسے اچھے اخلاق پر ابھارتا ہے — یوں وہ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کر کے معاشرے میں اخلاقی حسن کے فروغ کا باعث بنتا ہے۔ 6۔ بہادری و سرفروشی — عقیدہ آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے انسان کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ زندگی اور موت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اسے ایک دن موت آنی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے، اس لیے وہ اپنی جان اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے سے گریز نہیں کرتا، اور خوشی سے شہادت کے مرتبے پر فائز ہو جاتا ہے۔

ENGLISH

What is Akhirat? The word means "what comes afterwards". Belief in Akhirat is believing that this world will one day perish, people will be raised for reward and punishment, and that Day of reckoning is called the Day of Judgment. This world is a place of testing: Allah gave human beings freedom and sent them here as a trial. Life here is temporary — after death comes the life of the Hereafter, where the full results of worldly deeds will appear. There is a fixed day for this world to end, just as everything perishes; after it ends, a new order will come into being and Allah will give people life again, weigh their deeds, and reward good and punish evil.

Why belief in the Hereafter is reasonable. It is the most important belief in every religion: a person does not simply vanish after death, but is raised again and repaid for good and bad deeds. The idolaters of Makkah denied being raised again, the reckoning, reward and punishment, and Paradise and Hell, and the Qur'an answers their doubts with reasoned arguments. The answer to "how can a decayed person be raised again?" is in Surah Ar-Rum: 27 — He who created creation the first time will repeat it, and that is even easier for Him. Sound human nature agrees too: every sound-minded person believes good deeds deserve reward and bad deeds deserve punishment. If there were no life after death, the noblest of creation would have been created purposelessly, with deeds worth nothing — impossible. The Qur'an (translation, Surah Ad-Dukhan: 38–40) says the heavens and the earth and what is between them were not created as a game, but created with truth and purpose. Note: only the translation is printed in the book at this point, so no Arabic text is quoted here.

The stages, step by step. The chain of reward and punishment begins after death in the form of Barzakh, which continues until the Trumpet is blown. When the Day of Judgment is established and all people are raised, Barzakh ends and Hashr begins: everyone will rise from their graves and be gathered in one vast plain before Allah. The sun will be extremely near, and people will be drenched in sweat according to their deeds. For sinners that day will be very hard and long; for the righteous it will be easy, their faces radiant, under the shade of the Throne, given good news of Paradise. A scale will be set up to weigh deeds, and no one will be wronged even slightly. Those whose good deeds weigh heavy will receive their record in their right hand and be given good news of entry into Paradise; disbelievers, hypocrites and those whose sins weigh heavy will receive it in their left hand and be told of Hell. In the plain of gathering, the Prophet ﷺ will be given the Hawd-e-Kawthar, whose water comes from the river Kawthar — sweeter than honey, cooler than ice, whiter than milk. Believers will drink from it and never thirst again, while disbelievers, idolaters and those who turned away from the Prophet's ﷺ way will be kept from it. Then comes the stage of Paradise and Hell: people will cross a bridge called Pul-Sirat, with the flames of Hell blazing beneath it and Paradise on the other side. The righteous will cross in the blink of an eye; sinners will struggle according to their sins, and those with the most sins will fall into Hell. Sinful believers will be taken out of Hell once their punishment is complete, but disbelievers will remain in the Fire forever.

Shafa'at (intercession). Shafa'at literally means "recommendation". It has two kinds: (1) Shafa'at-e-Kubra — the special privilege of the Prophet ﷺ, benefiting all humanity, because through it the hardship of waiting for the reckoning ends and the reckoning begins; this is called Maqam-e-Mahmood (Jami' Tirmidhi 3148: "Maqam-e-Mahmood is that very intercession"). (2) Shafa'at-e-Sughra — on the Day of Judgment the Prophet ﷺ, other prophets, scholars, martyrs, the righteous, the Qur'an and fasting will intercede for people before Allah. There is no compulsion in intercession: no one can force Allah; He will grant permission for intercession to whomever He wills.

What belief in Akhirat changes in daily life. (1) Inclination to good deeds — you believe every deed is before Allah and will be repaid, so you do good deeds abundantly to make your scale heavy. (2) Avoiding evil — this world is the place of action, and every good and bad deed will certainly be repaid, so you avoid evil and strive for good. (3) Respect for rights — you honour your duties and others' rights, knowing that on Judgment Day you must answer for unpaid rights, and your good deeds may be given to the person whose rights you did not fulfil. (4) Patience and endurance — every hardship in this world will surely be rewarded by Allah and become a cause of higher ranks, so you face every difficulty with patience. (5) Building character — belief in Akhirat produces fine morals and builds character, making you a cause of moral beauty spreading in society. (6) Courage and sacrifice — life and death belong to Allah, death must come one day, and you must stand before Him, so you do not shrink from sacrificing your life in Allah's path and gladly attain the rank of martyrdom.

Aakhirat ke marahil — tartib seDuniya (imtihan) → Maut → Barzakh → Soor → HashrHashr → Mizan (wazan) → Pul-Sirat → Jannat / JahannumHawd-e-Kawthar: Nabi ﷺ ka hawd, paani shehed se meethaShafa'at-e-Kubra: hisab shuru hone ki sifarish (Maqam-e-Mahmood)
Aakhirat samjho: دنیا امتحان ہے, موت کے بعد برزخ, پھر حشر, Mizan اور پل-Sirat — پھر ہمیشہ کی جنت یا جہنم.
Namaz — Its Philosophy, Rules, Khushu and Jama'atنماز — فلسفہ، احکام، خشوع اور جماعت
🏷 Tags: Namaz, Falsafa-e-Namaz, Khushu wa Khuzu, Jama'at, Wudu, Qibla, Ankabut 45, Deen ka Sutoon
اردو

نماز کی اہمیت: نماز، ارکانِ اسلام میں توحید و رسالت کی شہادت کے بعد اہم ترین رکن ہے۔ احکامِ اسلام میں نماز کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ قرآن مجید میں نماز قائم کرنے کا حکم کثرت سے وارد ہوا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (سورۃ الروم: 31) — ترجمہ: ”اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہو جانا۔“ ارشادِ نبوی ﷺ ہے (صحیح بخاری: 8): ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے: یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور بے شک حضرت محمد (ﷺ) اللہ کے سچے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ نوٹ: کتاب میں اس حدیث کا صرف ترجمہ درج ہے، اس لیے یہاں عربی متن نقل نہیں کیا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے نماز کو دین کا ستون قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (جامع ترمذی: 2616): رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ — ترجمہ: ”دین کی اصل اسلام ہے اور اس کا ستون (عمود) نماز ہے۔“ نماز تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر بھی فرض رہی ہے۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنی امتوں کو نماز کی تاکید فرماتے رہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (سنن ابن ماجہ: 1425): ”قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔“ نماز کی فرضیت قرآن و سنت سے ثابت ہے، جو شخص نماز کی فرضیت کا انکار کرے، یا اس میں شک کرے، یا نماز کا مذاق اڑائے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (صحیح مسلم: 667): ”تمھاری مثال اس شخص کی سی ہے جس کے گھر کے سامنے نہر ہو، وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو، کیا اس (کے جسم) کا کوئی میل باقی رہ جائے گا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اس کا کوئی میل باقی نہیں رہے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو صاف کر دیتا ہے۔“ نماز ایک مخصوص عبادت ہے، جو نبی کریم ﷺ نے امت کو سکھائی ہے اور ارشاد فرمایا (صحیح بخاری: 6008): ”مجھے دیکھتے ہوئے نماز پڑھو، جیسے تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔“ نوٹ: کتاب میں اس حدیث کا صرف ترجمہ درج ہے۔

فلسفہ نماز: نماز کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک مضبوط روحانی تعلق قائم کرنا ہے۔ نماز اللہ تعالیٰ سے قرب کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (صحیح بخاری: 417): ”جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔“ دن میں پانچ مرتبہ نماز ادا کرنے سے اللہ تعالیٰ سے بندے کا تعلق قائم رہتا ہے۔ تعلق قائم رہتا ہے — یعنی نماز انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت، خوف اور خشیت پیدا کرتا ہے، جو اس کی زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتا ہے۔ نماز انسان کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے، اپنی عاجزی کا اظہار کرنے اور اس کی عظمت کا اعتراف کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ نماز انسان کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے، اور اسی کے فضل و کرم پر اس کی زندگی کا دارومدار ہے۔ سجدہ، جو نماز کا اہم حصہ ہے، انسان کے دل میں عجز و انکساری کی کیفیت پیدا کرتا ہے، اور اسے اپنے نفس کی بڑائی اور غرور سے بچاتا ہے۔ نماز بندے کے گناہوں اور برائیوں سے بچاتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ (سورۃ العنکبوت: 45) — ترجمہ: ”بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔“ نماز انسان کے دل کو صاف کرتی ہے، اس کے خیالات اور اعمال کو پاکیزہ بناتی ہے، اور اسے ایک صالح زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اور دن میں پانچ مرتبہ نماز ادا کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں ہوتا، اور دن اور دن میں متعدد بار باوضو ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے، اس کے ساتھ اس کے حضور کھڑے ہونا، خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنا، انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری اور محبت کی خاصیت کو اہم کرتا ہے، اور اس طرح انسان گناہوں اور غفلتوں سے بچ جاتا ہے۔

نماز کے احکامات: نماز سفر، جنگ، خوشی، غمی، خوش حالی، بیماری، امن، الغرض ہر حالت میں فرض ہے۔ نماز کسی صورت میں بھی معاف نہیں ہے، لیکن امت کی سہولت کی خاطر نبی کریم ﷺ نے بعض ناگزیز حالات میں نماز کو مختصر پڑھنے یا بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ ایک دن میں پانچ نمازیں بالترتیب فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء اپنے اپنے اوقات میں مقررہ وقت پر فرض ہیں۔ نماز ادا کرنے سے پہلے وضو کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، یعنی بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی۔ البتہ مریض کی سہولت کے لیے سخت بیماری کی حالت میں پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت دی گئی ہے۔ اسی طرح نماز کی جگہ کا پاک ہونا، جسم اور کپڑوں کا پاک ہونا، ستر کا چھپا ہونا، وقت کا ہونا، قبلہ کی طرف رخ کرنا اور نماز کی نیت کرنا، نماز کی شرائط میں سے ہیں۔ نماز کے دوران میں نظروں کو جھکانا، سجدے کی طرف دیکھنا، مسلسل کپڑے درست کرتے رہنا، چلنا، پھرنا اور انگلیاں چٹخانا، گفتگو کرنا، یہ سب نماز کے آداب کے خلاف ہیں۔ ان امور میں مشغول ہونے سے نماز کا خشوع و خضوع متاثر ہوتا ہے۔ خشوع سے مراد انسان کے ظاہری اعضاء کا عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک جانا، اور خضوع سے مراد انسان کے دل کا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ نماز کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنا نماز کی روح ہے۔ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (1) الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ (2) (سورۃ المؤمنون: 1-2) — ترجمہ: ”یقیناً ایمان والے کامیاب ہو گئے، جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔“ حدیث مبارک میں خشوع و خضوع کی کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سینے سے رونے کی وجہ سے ہنڈیا کی آواز کی مانند آواز آتی تھی (سنن ابی داؤد: 904)۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا (صحیح مسلم: 228): ”جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے اور اچھی طرح وضو کرے اور خشوع و خضوع سے نماز ادا کرے تو وہ نماز اس کے تمام پچھلے گناہوں کے لیے کفارہ ہو جائے گی۔“ نماز کے ساتھ اخلاص کی تاکید کی گئی ہے، جس کے بغیر نماز کا کوئی فائدہ نہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ (سورۃ الزمر: 2) — ترجمہ: ”تو آپ اللہ کی عبادت کیجیے اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔“ نماز میں ریاکاری سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا (مسند احمد: 17140): ”جس نے ریاکاری سے نماز پڑھی، اس نے شرک کیا۔“ نماز قائم کرنے کا فلسفہ یہی ہے کہ نماز کو خشوع و خضوع اور اخلاص کے ساتھ ادا کیا جائے، مکمل شرائط و آداب کو ملحوظ رکھا جائے، اور ہر برائی سے بچا جائے، جو نماز کو ضائع کرنے کا سبب بنے۔

نماز باجماعت اور اس کے فوائد: نماز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید میں نماز باجماعت ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ (سورۃ البقرۃ: 43) — ترجمہ: ”اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔“ اس آیتِ مبارکہ میں نماز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنے کی تاکید ہے، جو کہ نماز باجماعت ادا کرنے کی صورت ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں نماز باجماعت ادا کرنے کی ترغیب ہونے پر ایک موقع پر ارشاد فرمایا گیا ہے (صحیح مسلم: 649): ”باجماعت نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس (27) درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔“ اور ایک دوسرے موقع پر باجماعت نماز ادا کرنے (کے ثواب) کو ستائیس (25) نمازوں کے برابر قرار دیا گیا ہے (صحیح بخاری: 645)۔ ⚠️ نوٹ: کتاب میں اس جگہ لفظ ”ستائیس“ کے ساتھ ہندسہ ”(25)“ درج ہے؛ صحیح بخاری (645) کی روایت میں 25 درجے اور صحیح مسلم (649) میں 27 درجے کا ذکر ہے — دونوں حوالے اوپر الگ الگ درج کر دیے گئے ہیں۔ دن میں پانچ مرتبہ اذان کی آواز اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ نماز کو باجماعت ادا کیا جائے۔ باجماعت نماز ادا کرنے سے نظم و ضبط کی فضا قائم ہوتی ہے، اور پابندیِ وقت کی تربیت ہوتی ہے۔ باجماعت نماز ادا کرنے سے اسلام کے معاشرتی نظام کے حسن کا اعلان ہوتا ہے۔ نماز سے اسلام کے حسنِ تہذیب کے تصور کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

نماز کے فوائد: نماز کو مکمل آداب کے ساتھ ادا کرنے سے بے شمار روحانی و جسمانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرمانبرداری ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رہتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے، اور انسان کی عاجزی کی دولت میں اضافہ ہوتا ہے، انسان اللہ تعالیٰ کی خشیت و رغبت کا احساس قائم رہتا ہے، اور انسان اللہ تعالیٰ کی خشیت و رغبت کا احساس قائم رہتا ہے۔ انسان نماز کے لیے دن میں پانچ مرتبہ وضو کرتا ہے تو سارا دن اس کا چہرہ اور پاکیزہ دھلنے سے انسانی جسم کی ہر قسم کی غلاظت سے پاک صاف اور تازہ دم رہتا ہے، اور انسانی صحت پر اس کے اچھے اثرات پڑتے ہیں۔ اسی طرح نماز کی حالت میں رکوع اور سجدے کی حالت میں جسم کے تمام اعضاء کی ورزش ہو جاتی ہے، جس سے انسان کے جسم کی تمام رگیں کھل جاتی ہیں، اور انسان کی صحت بہتر ہو جاتی ہے۔ نماز کے انفرادی اور روحانی فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے معاشرتی فوائد بھی ہیں۔ باجماعت نماز پڑھنے سے نماز کے معاشرتی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ نماز باجماعت ادا کرنے سے اطاعتِ امیر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ باجماعت نماز ادا کرنے سے محبت اور یکجہتی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے مسلمان بھائیوں کے حالات سے آگاہی ہوتی ہے، جس سے غم گساری کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ معاشرتی تفریق کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، اور ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر کتنے ہی امیر و غریب برابر ہو جاتے ہیں، جس سے مساوات اور برابری کا درس ملتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں نماز کو خشوع و خضوع کے ساتھ قائم کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا حاصل کر سکیں اور دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔

ENGLISH

Why Namaz matters. After the testimony of Tauheed and Risalat, prayer is the most important pillar of Islam, and the Qur'an commands establishing it again and again (Surah Ar-Rum: 31 — establish prayer and do not be among the idolaters). The famous Hadith of the five pillars (Sahih Bukhari 8) lists the testimony, establishing prayer, giving Zakat, Hajj, and fasting in Ramadan — the book prints only its translation, so no Arabic is quoted here. The Prophet ﷺ called prayer the pillar of the religion (Jami' Tirmidhi 2616: "The head of the matter is Islam, and its pillar is prayer"). Prayer was obligatory on all prophets too, and on the Day of Judgment the first question will be about prayer (Sunan Ibn Majah 1425). Denying that prayer is obligatory, doubting it, or mocking it takes a person out of Islam. The Prophet ﷺ gave the river analogy (Sahih Muslim 667): a person bathing five times a day in a river before his house leaves no dirt on his body — likewise the five prayers wash away sins. And he taught: pray as you see me praying (Sahih Bukhari 6008, translation only in the book).

The philosophy of prayer. Prayer builds a strong spiritual bond between Allah and His servant; it is the most effective means of nearness to Allah. In prayer, a person whispers to his Lord (Sahih Bukhari 417). Praying five times a day keeps that bond alive — it plants Allah's love, fear and reverence in the heart, and that colours every part of life. Prayer gives a person the chance to bow before Allah, confess his helplessness, and acknowledge Allah's greatness; it reminds him he depends on Allah's grace. Prostration, a central part of prayer, breeds humility in the heart and saves a person from pride. And prayer protects from sin: "Indeed, prayer forbids indecency and evil" (Surah Al-Ankabut: 45). It cleans the heart, purifies thoughts and deeds, and urges a righteous life. Praying five times a day also means a person is never heedless of Allah — again and again he stands in His court in ablution, and that standing, with humility, strengthens obedience, love and reverence in the heart and keeps him from sins and heedlessness.

Rules of prayer. Prayer is obligatory in every condition — travel, war, joy, grief, prosperity, illness, peace. It is never excused outright, though the Prophet ﷺ allowed shortening it, or praying sitting or lying down, in unavoidable conditions. Five prayers are fixed at their times each day in order: Fajr, Zuhr, Asr, Maghrib and Isha. Ablution (wudu) before prayer is compulsory — there is no prayer without wudu — though tayammum is allowed in severe illness when water is unavailable. The place of prayer must be clean, the body and clothes clean, the satr covered, the time right, the face towards the Qibla, and the intention (niyyat) made. During prayer, lowering the gaze, looking towards the place of prostration, constantly adjusting clothes, walking about, cracking fingers and talking all go against prayer's etiquette, because they damage khushu and khuzu. Khushu is the body's humble submission before Allah; khuzu is the heart turning towards Allah. Prayer with khushu and khuzu is the soul of prayer: "Successful indeed are the believers, those who are humble in their prayers" (Surah Al-Mu'minun: 1–2). The Prophet's ﷺ chest would sound like a boiling pot from weeping (Sunan Abi Dawud 904), and he said (Sahih Muslim 228) that a Muslim who finds the time of an obligatory prayer, performs wudu well, and prays with khushu and khuzu will have that prayer as an expiation for all his previous sins. Sincerity (ikhlas) is stressed alongside: "So worship Allah, making religion sincerely His" (Surah Az-Zumar: 2), and praying to show off is called shirk (Musnad Ahmad 17140). The philosophy of establishing prayer is exactly this: pray with khushu, khuzu and ikhlas, observing all conditions and etiquettes, and avoiding everything that wastes prayer.

Congregational prayer and its benefits. Along with establishing prayer, the Qur'an stresses praying in congregation: "Establish prayer, give Zakat, and bow with those who bow" (Surah Al-Baqarah: 43). Congregational prayer is twenty-seven degrees more excellent than praying alone (Sahih Muslim 649), and in another narration twenty-five prayers' worth of reward (Sahih Bukhari 645). The call to prayer five times a day draws attention to praying together. It creates discipline, trains punctuality, and proclaims the beauty of Islam's social order and civilisation. Individual and spiritual benefits of prayer include obedience to Allah's command, a living bond with Him, His pleasure, growing humility, and a constant sense of His fear and hope. Bodily benefits include cleanliness — washing the face and limbs five times a day keeps the body clean and fresh — and exercise, since bowing and prostration move every part of the body and open the veins. Social benefits of congregational prayer include the spirit of obeying the leader, love and unity, learning about fellow Muslims' conditions and growing sympathy, discouragement of social discrimination, and a lesson in equality — rich and poor standing in one row become equal. We should establish prayer in the light of the Qur'an and Sunnah, with khushu and khuzu, so that we may gain Allah's and His Messenger's ﷺ pleasure and succeed in this world and the Hereafter.

Empty mosque prayer hall with arches and lanterns
Namaz samjho: دن میں پانچ وقت اللہ کے دربار میں حاضری — یہ خاموش hall اسی خشوع اور نظم کی تصویر ہے.
Zakat and Sadaqat — Nisab, Recipients, Ushr and the Economic Systemزکوٰۃ و صدقات — نصاب، مصارف، عشر اور معاشی نظام
🏷 Tags: Zakat, Nisab, Masarif-e-Zakat, Ushr, Khums, Amileen, Sadaqat, Ma'ashi Nizam
اردو

زکوٰۃ کا مفہوم: زکوٰۃ کے لغوی معنی پاکی، نشوونما اور بڑھنے کے ہیں۔ اصطلاح میں زکوٰۃ سے مراد وہ مالی عبادت ہے، جو ہر عاقل و بالغ، صاحبِ نصاب مسلمان پر، اس کی مخصوص شرح سے سال میں ایک مرتبہ فرض ہے۔ جو مسلمان زکوٰۃ ادا کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنا مال پاک کرتا ہے اور اس کا دل بھی دولت کی ہوس سے پاک ہو جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا (سورۃ التوبۃ: 103) — ترجمہ: ”آپ (ﷺ) ان کے مال میں سے صدقہ لیجیے تاکہ آپ (ﷺ) انھیں (اس کے ذریعے) پاک کریں اور ان کے لیے برکت کی دعا کریں۔“

زکوٰۃ کی فرضیت: زکوٰۃ 2 ہجری، ماہِ رمضان المبارک میں فرض ہوئی۔ زکوٰۃ کا مکمل نظام 9 ہجری میں نازل ہوا۔ زکوٰۃ فرض ہے، اس کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد بعض عرب قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے خلاف جہاد کیا اور اسلام کے اس حکم کو نافذ کیا۔ زکوٰۃ کے لازم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان عاقل، بالغ، مسلمان، آزاد ہو، اور وہ صاحبِ نصاب ہو، اور ایک قمری سال گزر چکا ہو، اور اس کا مال قرض اور بنیادی ضروریات سے زائد ہو، کھانے، پینے، پہننے اور بچنے سے زائد ہو۔ یاد رہے کہ مالِ زکوٰۃ کا نصاب سال کے شروع اور آخر میں اگر پورا ہو تو زکوٰۃ فرض ہو گی، سال کے دوران اس مال میں کمی بیشی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سال کے آخر میں جو مال موجود ہو گا، اسی پر زکوٰۃ کا حساب لگایا جائے گا۔

نصابِ زکوٰۃ: زکوٰۃ کا نصاب ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونا یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابر ہے، جس پر زکوٰۃ کی ادائیگی فرض (چالیسواں حصہ) ہے۔ جانوروں پر زکوٰۃ کا نصاب پانچ اونٹ، تیس گائیں اور چالیس بکریاں ہیں، جن پر سال گزرنے کے بعد مقررہ شرح کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔ جہاں جانوروں سے مراد وہ جانور ہیں جو نسل بڑھانے کی نیت سے رکھے گئے ہوں، اور وہ جانور جنگل میں چرنے والے ہوں، جو گھاس چرنے والے ہوں، اور جو جانور سال کے اکثر حصے میں جنگل میں چرتے ہوں، ان پر زکوٰۃ کا حساب لگایا جائے گا۔ اس کے علاوہ نقدی، مالِ تجارت اور تجارت کے لیے رکھے گئے سامان پر بھی زکوٰۃ کا حساب لگایا جائے گا۔ مالِ تجارت سے مراد وہ سامان ہے جسے تجارت کی نیت سے خریدا گیا ہو۔ صاحبِ نصاب مسلمان کو اپنے تمام اثاثہ جات کا حساب لگا کر پوری ذمہ داری کے ساتھ ہر سال زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔

مصارفِ زکوٰۃ (زکوٰۃ کہاں خرچ کی جائے): دینِ اسلام نے زکوٰۃ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان مصارف کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے، جن کو زکوٰۃ کا مال دیا جائے گا۔ مصارفِ زکوٰۃ آٹھ ہیں: (1) فقراء — وہ لوگ جو اپنی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکیں۔ (2) مساکین — وہ لوگ جو بالکل ہی بے سہارا ہوں۔ (3) عاملین — زکوٰۃ اکٹھی کرنے والے اہلکار۔ (4) مؤلفۃ القلوب — وہ لوگ جن کے دل اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے ان کی دلجوئی کی جائے۔ (5) رقاب — غلاموں کو آزاد کروانے کے لیے۔ (6) غارمین — قرض داروں کا قرض ادا کرنا۔ (7) فی سبیل اللہ — اللہ کی راہ میں (دین کے کاموں کے لیے)۔ (8) ابن السبیل — مسافر، جو سفر میں بے سہارا رہ گیا ہو۔

عشر: عشر کا لغوی معنی ”دسواں حصہ“ (10 فی صد) ہے۔ یہ دینی اصطلاح میں پیداوار کی زکوٰۃ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ (سورۃ الانعام: 141) — ترجمہ: ”اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو۔“ جو زمین بارش یا چشموں یا قدرتی ذرائع سے سیراب ہو، اس پر پیداوار کا دسواں حصہ (10 فی صد) ہے، اور جس زمین کو کنوؤں کے پانی یا مصنوعی طریقے سے سیراب کیا جائے، اس پر نصف عشر یعنی پیداوار کا بیسواں حصہ (5 فی صد) ہے۔ سرکاری ٹیکس وغیرہ ادا کرنے سے عشر ادا نہیں ہوتا۔ عشر بھی صرف اسی صورت میں ہے، جو زمین کی پیداوار کا حق ہے، اور عشر کی زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مال کی سال پر گزرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ ہر فصل پر عشر ادا کرنا لازم ہے، اور پیداوار کی مقدار کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ عشر کی ادائیگی ہر فصل پر لازم ہے، اور اس کے لیے سال کا گزرنا ضروری نہیں ہے، جب کہ عشر میں فصل کی مقدار کی کوئی حد نہیں ہے — جتنی بھی پیداوار ہو، اس پر عشر لازم ہے۔

خمس: خمس سے مراد مال کا پانچواں حصہ ہے۔ وہ مال جو دشمنانِ اسلام سے جنگ کے دوران ہاتھ آئے، اسے ”مالِ غنیمت“ کہتے ہیں۔ مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ) اور رسول (ﷺ) کے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ ارشاد ہے (ترجمہ، سورۃ الانفال: 41): ”اور جان لو کہ تم کو جو کوئی چیز غنیمت میں حاصل ہو تو بے شک اس کا پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اور رسول (ﷺ) کے لیے، اور رسول (ﷺ) کے رشتہ داروں کے لیے، اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں (کے لیے) ہے۔“ نوٹ: کتاب میں اس آیت کا صرف ترجمہ درج ہے۔

عاملینِ زکوٰۃ کی ذمہ داری: جو لوگ زکوٰۃ وصول کر کے مستحقین میں تقسیم کرنے پر مامور کیے جاتے ہیں، انھیں اس فریضے کو انتہائی دیانت داری سے ادا کرنا چاہیے۔ اجتماعی اموال میں خیانت کا بہت سنگین جرم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری عطا کی، اور اس نے خیانت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا، اور اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام فرما دے گا (صحیح بخاری: 7151)۔ نوٹ: کتاب میں اس حدیث کا صرف ترجمہ درج ہے۔ زکوٰۃ اکٹھی کرنے والے عاملین کو چاہیے کہ وہ زکوٰۃ کو جمع کر کے مصارفِ زکوٰۃ میں تقسیم کرنے کا اہتمام کریں۔

اسلام کے معاشی نظام میں زکوٰۃ کی اہمیت: اسلام کے معاشی نظام میں زکوٰۃ کو وہی حیثیت حاصل ہے جو انسانی جسم میں روح کو حاصل ہے۔ زکوٰۃ سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوتا ہے، اور فلاحی معاشرہ تشکیل پاتا ہے، جس سے انسانوں کی بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہیں، اور دولت چند ہاتھوں تک محدود نہیں رہتی۔ زکوٰۃ کے نظام سے جرائم اور ظلم کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے سے طبقاتی تقسیم ختم ہو جاتی ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے سے انسان کے پاس رہ جانے والا مال پاک ہو جاتا ہے، اور اس کی برکت سے انسان کی باطنی بیماریاں مثلاً بخل وغیرہ سے پاک ہو جاتا ہے۔ اگر زکوٰۃ صدقات، عشر اور خراج جیسے نظام کو صحیح طور پر نافذ کر دیا جائے تو غربت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے مال میں برکت آتی ہے، اور غربت و افلاس سے نجات ملتی ہے۔ اس لیے زکوٰۃ کے نظام کو نافذ کرنے سے معاشرے میں خوشحالی آتی ہے، اور لوگوں کے درمیان محبت اور بھائی چارہ پیدا ہوتا ہے، اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

ENGLISH

What is Zakat? The word means purity, growth and increase. In religious terms it is a financial worship: an obligatory payment at a fixed rate, once a year, on every sane, adult, free Muslim who owns the nisab (minimum threshold). The one who pays it purifies his wealth by Allah's command, and his heart is purified from greed for wealth (Surah At-Taubah: 103 — "Take charity from their wealth to purify them and bless them thereby").

When did it become obligatory, and on whom? Zakat became obligatory in 2 AH, in Ramadan, and its complete system was revealed in 9 AH. Denying it takes a person out of Islam; after the Prophet's ﷺ passing, some Arab tribes refused to pay it, and the companions fought them and enforced this command of Islam. Conditions: the person must be sane, adult, Muslim, free, owner of the nisab, and a lunar year must have passed over wealth that is surplus to debts and basic needs — food, drink, clothing and shelter beyond the basics. Note: the nisab must be complete at the start and end of the year; fluctuations during the year do not matter, and Zakat is calculated on whatever wealth exists at the end of the year.

The nisab. For cash, gold and silver: 52.5 tolas of silver, or 7.5 tolas of gold, or the value of either — Zakat is one-fortieth (2.5%). For animals: five camels, thirty cows, and forty goats/sheep. Animals meant here are those kept for breeding that graze freely for most of the year. Cash, trade goods and merchandise kept for trade are also Zakatable; trade goods means goods bought with the intention of trade. A nisab-owning Muslim should calculate all his assets with full honesty and pay Zakat every year.

Where Zakat is spent — eight recipients. Islam guides not only payment but also spending. The eight are: (1) the poor (fuqara) who cannot meet basic needs; (2) the destitute (masakin) with no support at all; (3) the collectors (amileen) who collect Zakat; (4) those whose hearts are to be won over (mu'allafat al-quloob); (5) freeing slaves (riqab); (6) debtors (gharimeen); (7) in Allah's path (fi sabilillah); (8) the stranded traveller (ibn al-sabil).

Ushr. Ushr literally means "a tenth" (10%) — it is Zakat on produce. "Give its due on the day of its harvest" (Surah Al-An'am: 141). Land watered by rain, springs or natural means pays a tenth (10%) of the produce; land irrigated by wells or artificial means pays half of Ushr, a twentieth (5%). Paying government tax does not discharge Ushr. Unlike Zakat on wealth, Ushr does not require a year to pass, and there is no minimum quantity — however much the produce, Ushr is due on every harvest.

Khums. Khums is a fifth of wealth: booty gained from the enemies of Islam during war is called Maal-e-Ghanimat, and a fifth of it belongs to Allah, His Messenger ﷺ, the Messenger's ﷺ relatives, orphans, the poor and travellers (translation only in the book, Surah Al-Anfal: 41).

Honesty of collectors. Those appointed to collect Zakat and distribute it to the deserving must perform this duty with the utmost honesty — dishonesty in public wealth is a grave crime. The Prophet ﷺ said (Sahih Bukhari 7151, translation only in the book) that whoever is given a responsibility over Muslims by Allah and then commits dishonesty angers Allah, and Allah will forbid Paradise to him. Collectors must take care to collect Zakat and distribute it among its recipients.

Zakat in Islam's economic system. Zakat holds the same place in Islam's economic system that the soul holds in the human body. It ends poverty and unemployment, builds a welfare society that meets basic human needs, and keeps wealth from being confined to a few hands. It helps end crime and oppression, removes class division, purifies the wealth that remains with a person, and by its blessing purifies a person from inner diseases like miserliness. If Zakat, Sadaqat, Ushr and Kharaj are properly implemented, poverty can end; spending in Allah's path brings blessing to wealth and deliverance from poverty, and the system creates prosperity, love and brotherhood, and a spirit of mutual help in society.

زکوٰۃ کا نصاب — یاد رکھنے کی کنجیSona: 7.5 tolaChandi: 52.5 tolaSharh: 2.5%1/40 (chaliswan hissa)Janwar: 5 / 30 / 40Oont / Gaaye / BakriyanUshr: barani zameen 10% • masnoo'i aabpashi 5%8 masarif: Fuqara, Masakin, Amileen, Mu'allafat, Riqab,Gharimeen, Fi Sabilillah, Ibn al-Sabil
Zakat samjho: نصاب پورا ہو اور ایک قمری سال گزر جائے تو 2.5% زکوٰۃ فرض — اور یہ مال صرف آٹھ مقرر مصارف میں خرچ ہوتا ہے.
Roza — Its Philosophy, Rules, Kinds and Ramadan Practicesروزہ — فلسفہ، احکام، اقسام اور رمضان کے اعمال
🏷 Tags: Roza, Saum, Taqwa, Baqarah 183, Qaza, Kaffara, Fidya, Sadqa-e-Fitr, Taraweeh, Laylat al-Qadr, I'tikaf
اردو

روزے کا مفہوم: قرآن مجید میں روزے کو ”صوم“ کہا گیا ہے۔ صوم کا معنی ”رک جانا“ ہے۔ روزہ صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور بعض دوسری جائز خواہشات سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے روک رکھنے کا نام ہے۔ روزہ اسلام کا اہم رکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر رمضان المبارک کے روزے فرض فرمائے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (سورۃ البقرۃ: 183) — ترجمہ: ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم (گناہوں سے) بچ سکو (یعنی متقی بن جاؤ)۔“ احادیثِ مبارکہ میں بھی رمضان شریف کے روزوں کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے (صحیح بخاری: 1901): ”جس کسی نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (برائیوں سے اجتناب) کی نیت سے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ نوٹ: کتاب میں اس حدیث کا صرف ترجمہ درج ہے۔ قرآن مجید میں یہ بات واضح انداز میں بیان کی گئی ہے کہ روزے پچھلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے، اب بھی مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ روزے رکھتے ہیں، اگرچہ ان کے روزوں کی نوعیت اور وقت مسلمانوں کے روزوں سے مختلف ہے۔

روزے کے احکام و مسائل: رمضان المبارک کے روزے ہر عاقل، بالغ، صحت مند اور مقیم مسلمان پر فرض ہیں۔ اگر کوئی مریض یا مسافر ہونے کی وجہ سے رمضان کا روزہ چھوڑ دے تو وہ بعد میں اس روزے کی قضا کرے گا۔ جو مسلمان انتظار کرے اور اس کے کسی تن درست ہونے کی امید نہ ہو، تو وہ ہر روزے کا فدیہ دے گا، فدیہ یہ ہے کہ ایک مسکین کو دو وقت صبح و شام کا کھانا کھلانا ہے۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر رمضان کا روزہ توڑ دے تو اس پر قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوتے ہیں۔ کفارہ یہ ہے کہ مسلسل ساٹھ روزے رکھے، اور اگر اس کی قدرت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اگر اس کی قدرت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، یا ایک مسکین کو ساٹھ دن تک کھانا کھلائے۔ کفارے میں یہ بھی ہے کہ ایک مسکین کو ساٹھ دن تک دو وقت کا کھانا کھلائے، یا ساٹھ مسکینوں کو ایک ایک دن کا کھانا کھلائے۔ روزے کا فدیہ یہ ہے کہ ایک مسکین کو ساٹھ دن تک دو وقت کا کھانا کھلائے، یا ایک مسکین کو ایک دن کا کھانا کھلائے، یا ساٹھ مسکینوں کو ایک دن کا کھانا کھلائے — نوٹ: کتاب میں کفارہ و فدیہ کی تفصیل اسی ترتیب سے درج ہے؛ امتحان میں کتاب کی یہی تفصیل لکھی جائے۔

روزے کی اقسام: روزے کی تین قسمیں ہیں: (1) فرضِ معین: جو روزہ لازم ہو اور اس کا وقت مقرر ہو، جیسے رمضان کا روزہ اور نذرِ معین کا روزہ۔ (2) فرضِ غیر معین: جو روزہ لازم ہو اور اس کا وقت مقرر نہ ہو، جیسے قضا کا روزہ، کفارے کا روزہ اور نذرِ غیر معین کا روزہ۔ (3) نفلی روزے: جو روزہ فرض نہ ہو، جیسے پیر اور جمعرات کا روزہ، ایامِ بیض کے روزے، عاشورہ کا روزہ، اور شوال کے چھ روزے وغیرہ — کتاب میں نفلی روزوں کی مثالیں اسی انداز میں درج ہیں۔

رمضان المبارک کے مسنون اعمال: اسلامی مہینوں میں فضیلت والا مہینہ رمضان کا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مہینے میں نیکیوں کے ثواب کو ستر (70) گنا تک بڑھا دیتا ہے۔ رمضان المبارک انتہائی فضیلت والا مہینہ ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! اگر میں لیلۃ القدر کو پا لوں تو اس میں کیا دعا کروں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دعا کیا کرو: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (جامع ترمذی: 3513) — ترجمہ: ”اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔“ رمضان میں عشاء کی نماز کے بعد تراویح ادا کی جاتی ہے، جس میں مکمل قرآن مجید کی تلاوت ہوتی ہے۔ تراویح کو ”قیام اللیل“ بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید اور رمضان المبارک کا آپس میں گہرا تعلق ہے — اس مہینے میں قرآن مجید کا نزول ہوا ہے۔ نبی کریم ﷺ رمضان المبارک میں قرآن مجید کی تلاوت کا خاص اہتمام فرماتے تھے، اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرمایا کرتے تھے۔ آخری عشرے میں آپ ﷺ نے اعتکاف فرمایا۔ ہر سال حضرت جبرئیل علیہ السلام سے قرآن مجید کا دور فرمایا کرتے تھے، لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرے میں آپ ﷺ نے دو مرتبہ قرآن مجید کا دور فرمایا۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوتی ہے — شبِ قدر کی تلاش کرنی چاہیے۔ شبِ قدر میں قرآن مجید میں ہزار مہینوں سے بہتر رات قرار دیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ (سورۃ القدر: 3) — ترجمہ: ”شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔“ رمضان المبارک مکمل ہونے پر عید کی نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کیا جاتا ہے۔ ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر اپنے اور اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے۔ صدقہ فطر رمضان کی تکمیل کا شکر ہے — اس کی وجہ سے نادار لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔

عملی زندگی میں روزے کے اثرات: روزہ رکھنے سے انسان میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے، اور یہ انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے، اور نیکی کی طرف راغب کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا (صحیح بخاری: 7492): ”روزہ ڈھال ہے۔“ رمضان المبارک کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے۔ اس میں بھوکوں کی حالت کا احساس ہوتا ہے۔ ارشادِ نبوی ﷺ ہے (صحیح بخاری: 1894): ”اگر کوئی شخص تم سے لڑائی کرنا چاہے تو اس سے کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں۔“ اس پاکیزہ مہینے میں جب امیر غریب، حاکم، محکوم، آقا، غلام، سب ایک ساتھ روزے رکھتے ہیں تو ان میں برابری اور مساوات کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ جب سارا معاشرہ ایک ہی وقت میں افطار کرتا ہے تو معاشرے میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے، اور غریب و امیر کا فرق مٹنے لگتا ہے۔ روزے دار جب سارا دن بھوکا پیاسا رہتا ہے تو افطاری کے وقت اسے سادہ سے سادہ چیز بھی لذیذ محسوس ہوتی ہے، اس سے روزے دار میں سادگی اور قناعت کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ روزے دار کی دعا قبول ہوتی ہے۔ روزے رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، اور انسان کی صحت بھی درست ہوتی ہے۔ مقررہ وقت پر سحری و افطاری کا اہتمام روزے دار کو وقت کا پابند بناتا ہے، یہ احتیاطی زندگی میں نظم و ضبط پیدا کرتی ہے۔ ایک ماہ کی مشق روزے دار کو اس بات کا عادی بناتی ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے امور بھی وقت پر انجام دے۔ ساری دنیا کے طبیب اس بات پر متفق ہیں کہ معدہ کا بروقت بھرنا بہت سی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ روزے میں جب انسان کا معدہ خالی ہوتا ہے تو کھانے کی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے، جسم کے اعضاء میں قوتِ مدافعت پیدا ہوتی ہے، اور انسانی جسم فاضل مادوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ روزہ تربیت کا بہترین نظام ہے — اس میں اخلاق و عادات کی اصلاح کے تمام پہلو موجود ہیں۔ طلبہ کے لیے روزے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیوں کہ روزہ ان کی شخصیت کی نشوونما اور ان کی قوتِ ارادی کو بڑھاتا ہے، اور ان کے جسم کی صحت بھی درست ہوتی ہے۔ روزہ نظم و ضبط کا اہم کردار ادا کرتا ہے، اور جسم کی صحت بھی درست رہتی ہے، اور روحانی و جسمانی بیماریوں سے نجات حاصل کرنی چاہیے، اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرنی چاہیے۔

ENGLISH

What is a fast? In the Qur'an, fasting is called "Saum", which means "to stop". A fast is abstaining from eating, drinking and certain other lawful desires, from true dawn until sunset, for Allah's pleasure. Fasting is an important pillar of Islam: Allah made the fasts of Ramadan obligatory on Muslims (Surah Al-Baqarah: 183 — "O you who believe! Fasting is prescribed for you as it was prescribed for those before you, so that you may become God-fearing"). The Ahadith also describe great excellence for Ramadan fasts: whoever fasts Ramadan with faith and self-accountability (avoiding evils) will have his previous sins forgiven (Sahih Bukhari 1901, translation only in the book). The Qur'an states clearly that fasting was prescribed on earlier nations too; followers of various religions still fast today, though the nature and timing of their fasts differ from Muslims' fasts.

Rules and cases. Ramadan fasts are obligatory on every sane, adult, healthy, resident Muslim. If a sick person or traveller misses a Ramadan fast, he makes it up later (qaza). One who has no hope of recovery gives fidya for each fast: feeding one poor person two meals (morning and evening). One who deliberately breaks a Ramadan fast owes both qaza and kaffara: sixty consecutive fasts, or, if unable, feeding sixty poor people — the book lists the kaffara/fidya arrangements in its own order, and that is the detail to write in exams. Note: the book's wording on kaffara and fidya is dense at this point; the summary here follows the book's own order rather than adding rulings from elsewhere.

Three kinds of fasts. (1) Farz-e-Mu'ayyan: a fast that is obligatory with a fixed time, like the Ramadan fast and a specified vowed fast. (2) Farz-e-Ghair Mu'ayyan: a fast that is obligatory without a fixed time, like a qaza fast, a kaffara fast, and an unspecified vowed fast. (3) Nafl fasts: fasts that are not obligatory, such as Mondays and Thursdays, the white days (Ayyam-e-Beed), Ashura, and the six fasts of Shawwal — as listed in the book.

Recommended practices of Ramadan. Ramadan is the most excellent of Islamic months: Allah multiplies the reward of good deeds in it up to seventy times. Aisha (RA) asked the Prophet ﷺ what prayer to say if she found Laylat al-Qadr, and he taught her: "O Allah! You are Pardoning, You love pardon, so pardon me" (Jami' Tirmidhi 3513: Allāhumma innaka 'afuwwun tuḥibbul-'afwa fa'fu 'annī). After Isha in Ramadan, Taraweeh is prayed, in which the complete Qur'an is recited; Taraweeh is also called Qiyam al-Layl. The Qur'an and Ramadan are deeply connected — the Qur'an was revealed in this month. The Prophet ﷺ took special care over reciting the Qur'an in Ramadan and would review it with Jibril (AS); in the last ten days he performed I'tikaf, and in his final Ramadan he reviewed the Qur'an twice with Jibril (AS). Laylat al-Qadr is to be sought in the odd nights of the last ten days; the Qur'an calls it better than a thousand months (Surah Al-Qadr: 3). When Ramadan ends, Sadaqa-e-Fitr is paid before the Eid prayer; it is wajib on every nisab-owning Muslim for himself and his minor children, as thanks for Ramadan's completion, so that the poor too share in Eid's joys.

Effects of fasting in practical life. Fasting creates taqwa, protects from sins, and inclines a person to good — "Fasting is a shield" (Sahih Bukhari 7492). Ramadan is the month of patience; it makes one feel the state of the hungry. "If someone wants to fight you, say: I am fasting" (Sahih Bukhari 1894). When rich and poor, ruler and ruled, master and slave all fast together, a feeling of equality and parity is born; when the whole society breaks the fast at one time, harmony grows and the rich-poor divide begins to fade. When a fasting person stays hungry and thirsty all day, even the simplest thing tastes delicious at iftar — this breeds simplicity and contentment. The fasting person's prayer is accepted. Fasting pleases Allah and keeps health sound. Keeping to fixed times for Sehri and Iftar makes a person punctual and brings order and discipline into a careful life; a month's practice habituates a person to doing the rest of life's affairs on time. Physicians the world over agree that filling the stomach at the wrong time gives rise to many diseases; when the stomach is empty in fasting, a person stays safe from food-related diseases, the body's organs gain immunity, and the body is cleansed of waste matter. Fasting is the finest system of training — every aspect of reforming character and habits is present in it. For students its importance is even greater, because it develops their personality and willpower, keeps their body healthy, plays a major role in discipline, and delivers them from spiritual and physical illnesses — so that they may gain success in this world and the Hereafter.

Roze ka din — Sehri se Iftar takSehri (Subh-e-Sadiq)Roza shuruDin bhar parhezKhana, peena, khwahishatIftar (Ghurub-e-Aftab)روزہ کھلتا ہےMaqsad: Taqwa — gunahon se bachna aur Allah ki raza panaقضا: بعد میں رکھنا • کفارہ: 60 مسلسل روزے • فدیہ: مسکین کو کھانا
Roza samjho: صبحِ صادق سے ghurub-e-aftab تک رکنا — یہ رکنا ہی تقوی کی مشق ہے, نہ صرف بھوک پیاس.
Hajj and Qurbani — Obligation, Rites, Conditions and Philosophyحج و قربانی — فرضیت، مناسک، شرائط اور فلسفہ
🏷 Tags: Hajj, Qurbani, Ihram, Miqat, Wuquf-e-Arafat, Muzdalifa, Rami, Tawaf, Hajj-e-Ifrad, Qiran, Tamattu, Talbiyah
اردو

اسلام کے نظامِ عبادات میں نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ حج بھی ایک اہم اور جامع عبادت ہے۔ حج کے لغوی معنی ”ارادہ کرنا“ کے ہیں۔ اصطلاح میں حج، صاحبِ استطاعت مسلمان کا ایامِ حج میں مناسکِ حج ادا کرنے کے لیے بیت اللہ کی زیارت کا ارادہ کرنا ”حج“ کہلاتا ہے۔

حج کی فرضیت، حکمت اور فلسفہ: حج کی فرضیت کا حکم 9 ہجری کے نویں سال نازل ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ایک حج اور چار عمرے ادا فرمائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ (سورۃ آلِ عمران: 97) — ترجمہ: ”اور اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج (فرض) ہے، جو کوئی بھی اس کی طرف جانے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جس کسی نے کفر کیا تو بے شک اللہ تعالیٰ جہانوں (والوں) سے بے نیاز ہے۔“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا (جامع ترمذی: 933): ”حجِ مبرور (مقبول حج) کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔“ نوٹ: کتاب میں اس حدیث کا صرف ترجمہ درج ہے۔ حج ایک ایسی جامع عبادت ہے جو بیک وقت روحانی، بدنی اور مالی عبادات پر مشتمل ہے۔ حج کے مناسک میں احرام باندھنا، وقوفِ عرفات، مزدلفہ میں قیام، جمرات کو کنکریاں مارنا، قربانی کرنا، حلق کرنا، طواف کرنا اور سعی کرنا شامل ہے۔

حج کے لازم ہونے کی شرائط: حج کے لازم ہونے کی شرائط یہ ہیں: مسلمان ہونا، بالغ ہونا، عاقل ہونا، صحت مند ہونا، راستے کا امن ہونا، اور سفر کے اخراجات کا موجود ہونا، اور اپنے اہل و عیال کے لیے گزر بسر کا انتظام موجود ہونا۔ حج کے لیے احرام باندھنا ضروری ہے۔ عورت کے لیے محرم کا ساتھ ہونا بھی ضروری ہے — کتاب میں حج کے آداب کے ضمن میں اس کا ذکر ہے۔ حج کے مناسک میں احرام باندھنا، وقوفِ عرفات، مزدلفہ، رمی، قربانی، حلق و تقصیر اور طواف و سعی شامل ہیں۔

احکام و مسائل: جو شخص مکہ مکرمہ کے علاوہ کسی بھی ملک سے حج کرنے جاتا ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ میقات سے احرام باندھے، اور حدودِ حرم میں داخل ہو۔ میقات وہ حدود ہیں جن سے آگے جانا بغیر احرام کے منع ہے۔ پاکستان سے جانے والے لوگوں کا میقات ”یلم لم“ ہے۔ پاکستان سے جانے والے مسلمان اگر مکہ مکرمہ کے قریب پہنچ جائیں تو انھیں میقات کی حدود کے اندر داخل ہونے سے پہلے احرام باندھنا چاہیے، جس کے لیے گھر سے احرام باندھنا افضل ہے۔ پاکستان سے جانے والے مسلمان اگر میقات سے پہلے احرام باندھ لیں تو انھیں مکہ میں داخل ہونے سے پہلے احرام باندھنا ہو گا — ورنہ انھیں دم دینا پڑے گا۔ حج کرنے والا شخص اگر مکہ مکرمہ میں پہنچ جائے تو وہ مکہ مکرمہ کی حدود کے اندر داخل ہونے سے پہلے احرام باندھ لے۔ حج کی تین اقسام ہیں: (1) حجِ افراد: صرف حج کی نیت سے احرام باندھنا۔ (2) حجِ قران: حج اور عمرے دونوں کی نیت سے ایک ہی احرام باندھنا۔ (3) حجِ تمتع: عمرے اور حج کی نیت سے الگ الگ احرام باندھنا، یعنی پہلے عمرہ ادا کر کے احرام کھول دینا، پھر حج کے دنوں میں دوبارہ احرام باندھنا۔ نبی کریم ﷺ نے حجِ قران ادا فرمایا تھا، اور حجِ قران افضل ہے۔ حج کے مناسک میں 8 ذوالحجہ (یومِ ترویہ) کو منیٰ کی طرف روانہ ہونا، 9 ذوالحجہ کو عرفات میں وقوف کرنا، مزدلفہ میں رات گزارنا، 10 ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنا، قربانی کرنا، حلق کرنا اور طوافِ زیارت کرنا شامل ہے۔ 11 اور 12 ذوالحجہ کو بھی منیٰ میں قیام اور جمرات کو کنکریاں مارنا شامل ہے۔ حج کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ ہر قسم کی غیر اخلاقی حرکتوں، گالی گلوچ، اور جھگڑے سے اجتناب کیا جائے، اور بے حیائی، گالی گلوچ اور جھگڑے سے بچا جائے۔

ماہِ ذی الحجہ کی 8 تاریخ (یومِ ترویہ) کو حجاج کرام احرام باندھ کر منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں، اور وہاں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرتے ہیں، اور وہاں رات گزارتے ہیں۔ پھر 9 ذوالحجہ کو عرفات کی طرف روانہ ہوتے ہیں، اور وہاں ظہر و عصر کی نمازیں اکٹھی ادا کرتے ہیں، اور سورج غروب ہونے تک وہاں وقوف کرتے ہیں۔ پھر مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں، اور وہاں مغرب و عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کرتے ہیں، اور وہاں رات گزارتے ہیں۔ پھر 10 ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں مارتے ہیں، اور قربانی کرتے ہیں، اور حلق یا تقصیر کرواتے ہیں، اور طوافِ زیارت کرتے ہیں۔ اس کے بعد منیٰ واپس آتے ہیں، اور 11 اور 12 ذوالحجہ کو تینوں جمرات کو کنکریاں مارتے ہیں۔ اس دوران میں وہ مکہ مکرمہ میں طوافِ وداع بھی کرتے ہیں۔ اس کے بعد حجاج کرام مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں، جہاں وہ مسجدِ نبوی ﷺ میں نمازیں ادا کرتے ہیں، اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت کرتے ہیں — یہ زیارت حج کا حصہ نہیں، بلکہ محبت کی ایک الگ عبادت ہے۔

حج کی اہمیت اور اجتماعیت: حج، عالمِ اسلام کے اتحاد اور اتفاق کا مظہر ہے۔ حج کے موقع پر دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارے کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ حج کے موقع پر مسلمانوں میں آپس کے تعلقات، سیاست، تجارت، وقار، تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون اور ہم آہنگی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ یہ بات حج کے آداب میں شامل ہے کہ تمام حجاج کرام کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے، اور ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے، اور گالی گلوچ، جھگڑے اور بدگوئی سے اجتناب کرنا چاہیے۔

قربانی: قربانی سے مراد اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے مخصوص ایام میں مخصوص جانوروں کو ذبح کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عید الاضحیٰ کے دن قربانی کرنے کی تاکید فرمائی ہے، اور آپ ﷺ کی سنت کے مطابق قربانی کرنا افضل ترین عمل ہے۔ عید الاضحیٰ کے دن قربانی سے زیادہ فضیلت والا کوئی عمل نہیں ہے۔ عید الاضحیٰ کے دن قربانی سے زیادہ فضیلت والا کوئی عمل نہیں ہے — یہ دن سال کا افضل ترین دن شمار ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے (سنن ابن ماجہ: 3123): ”جس شخص کو قربانی کی وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔“ نوٹ: کتاب میں اس حدیث کا صرف ترجمہ درج ہے۔ عید کی نماز سے پہلے قربانی نہیں کی جا سکتی، اپنے ہاتھ سے قربانی کرنا افضل ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ سے ذبح نہ کر سکتا ہو تو کسی دوسرے مسلمان کی جگہ ذبح کر سکتا ہے، مگر اجازت ضروری ہے۔ کوئی دوسرا مسلمان اس کی جگہ ذبح کر سکتا ہے، مگر اجازت ضروری ہے۔ قربانی کا فلسفہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کر دیا جائے، اور اس بات کا عہد کیا جائے کہ اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان بھی قربان کرنی پڑے تو ہم دریغ نہیں کریں گے۔

ENGLISH

What is Hajj? Alongside prayer, fasting and Zakat, Hajj is an important and comprehensive worship in Islam's system of worship. The word Hajj literally means "to intend". In religious terms, it is a capable Muslim intending, in the days of Hajj, to visit the House of Allah (Baitullah) to perform the rites of Hajj.

Obligation, wisdom and philosophy. The command making Hajj obligatory was revealed in 9 AH. In his blessed life, the Prophet ﷺ performed one Hajj and four Umrahs. "Pilgrimage to the House is a duty to Allah for people who can find a way to it; and whoever disbelieves, then Allah is free of need of all the worlds" (Surah Aal-e-Imran: 97). The Prophet ﷺ said (Jami' Tirmidhi 933, translation only in the book) that the reward of an accepted Hajj (Hajj-e-Mabrur) is nothing but Paradise. Hajj is a comprehensive worship combining spiritual, physical and financial worship at once. Its rites include wearing Ihram, standing at Arafat, staying at Muzdalifa, pelting the Jamarat, sacrifice, shaving/trimming, Tawaf and Sa'i.

Conditions for Hajj being obligatory. The person must be Muslim, adult, sane, healthy, with a safe route, possessing travel expenses, and having made provision for his family's maintenance. Ihram is essential for Hajj, and for a woman the company of a mahram is required — mentioned in the book under the etiquettes of Hajj.

Rules and rites, in order. Whoever travels for Hajj from any country other than Makkah must enter Ihram from the Miqat; going beyond the Miqat limits without Ihram is forbidden. The Miqat for people travelling from Pakistan is Yalamlam, and it is best to enter Ihram from home before reaching the Miqat limits — otherwise a penalty (dam) becomes due. The three kinds of Hajj are: (1) Hajj-e-Ifrad — Ihram with the intention of Hajj alone; (2) Hajj-e-Qiran — one Ihram with the intention of both Hajj and Umrah together; (3) Hajj-e-Tamattu — separate Ihrams for Umrah and Hajj, i.e. performing Umrah first and opening the Ihram, then entering Ihram again in the days of Hajj. The Prophet ﷺ performed Hajj-e-Qiran, and Qiran is the most excellent. The rites run: on 8 Dhul-Hijjah (Yawm al-Tarwiyah) pilgrims enter Ihram and go to Mina, praying Zuhr, Asr, Maghrib and Isha there and spending the night; on 9 Dhul-Hijjah they go to Arafat, pray Zuhr and Asr together, and stand (Wuquf) until sunset; then they go to Muzdalifa, pray Maghrib and Isha together, and spend the night; on 10 Dhul-Hijjah they pelt Jamrat al-Aqaba with seven pebbles, offer sacrifice, shave or trim (Halq/Taqseer), and perform Tawaf al-Ziyarah; on 11 and 12 Dhul-Hijjah they stay at Mina and pelt all three Jamarat; and they perform Tawaf al-Wida in Makkah. Afterwards pilgrims travel to Madinah, pray in Masjid-e-Nabwi ﷺ and visit the Prophet's ﷺ resting place — that visit is not part of Hajj itself, but a separate worship of love. The etiquettes of Hajj include avoiding every kind of immoral conduct, abusive speech and quarrelling.

Hajj and the unity of the Ummah. Hajj is a manifestation of the unity and agreement of the Muslim world. At Hajj, feelings of brotherhood grow among Muslims from all over the world, and an atmosphere of cooperation and harmony develops among Muslims in relations, politics, trade, dignity, education and other fields. Part of Hajj's etiquettes is that all pilgrims respect one another, help one another, and avoid abusive speech, quarrelling and backbiting.

Qurbani. Qurbani means slaughtering specified animals on specified days to gain Allah's pleasure. The Prophet ﷺ stressed sacrificing on Eid al-Adha, and sacrificing in accordance with his Sunnah is the most excellent deed; no deed on Eid al-Adha is more excellent than sacrifice — that day counts as the most excellent day of the year. He said (Sunan Ibn Majah 3123, translation only in the book): "Whoever has the means for sacrifice and does not sacrifice, let him not come near our Eidgah." Sacrifice cannot be done before the Eid prayer; sacrificing with one's own hand is best, and if a person cannot slaughter himself, another Muslim may slaughter in his place — but permission is essential. The philosophy of Qurbani is that for Allah's pleasure a person sacrifices his own desires and pledges that if he must sacrifice even his life in Allah's path, he will not hold back.

Hajj ke manasik — tartib seMiqat se Ihram → 8 Zil-Hajj: Mina → 9 Zil-Hajj: Wuquf-e-ArafatMuzdalifa (raat) → 10 Zil-Hajj: Rami → Qurbani → Halq → Tawaf11–12 Zil-Hajj: Mina میں قیام, تینوں Jamarat کو کنکریاںAqsam: Ifrad (sirf Hajj) • Qiran (Hajj + Umrah aik Ihram) • Tamattu (alag alag)
Hajj samjho: احرام سے طوافِ وداع تک ہر منزل کی اپنی جگہ اور وقت ہے — Hajj نظم, صبر اور اتحاد کی عبادت ہے.
📝 Official Exercise Questions — with Answers📝 کتابی مشق کے سوالات — جوابات کے ساتھ

اس باب میں مشق آخر میں ایک جگہ نہیں ہے — ہر موضوع کے بعد اس کی اپنی مشق دی گئی ہے، اس لیے یہاں باب کی تمام نو مشقیں (توحید، رسالت، ملائکہ، کتبِ سماویہ، آخرت، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج و قربانی) یکجا کر دی گئی ہیں۔ ہر مشق میں سوال 1 (درست جواب کا انتخاب — 5 ایم سی کیوز)، سوال 2 (مختصر جواب — 5 سوالات) اور سوال 3 (تفصیلی جواب — 1 سوال) ہے، اور آخر میں سرگرمیاں (طلبہ کے لیے کام) بھی شامل ہیں۔ ⚠️ ایک طباعتی نوٹ: نماز کی مشق سے متعلق سبق میں باجماعت نماز کے ثواب کے بارے میں کتاب میں لفظ ”ستائیس“ کے ساتھ ہندسہ ”(25)“ درج ہے؛ صحیح بخاری کی روایت میں 25 درجے اور صحیح مسلم میں 27 درجے کا ذکر ہے — جواب میں دونوں حوالے الگ الگ لکھ دیے گئے ہیں۔ جن آیات و احادیث کا کتاب میں صرف ترجمہ درج ہے، ان کا یہاں بھی صرف ترجمہ دیا گیا ہے، عربی متن از سرِ نو نہیں گھڑا گیا۔ جن جوابات کی کتاب میں کوئی الگ عبارت نہیں ہے، ان پر ”اخذ شدہ جواب“ لکھا گیا ہے۔

1۔ توحید — مشق (کتاب، صفحہ 19)

1 (i). اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات، ربوبیت، الوہیت اور عبادت میں اکیلا ماننا کہلاتا ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) توحید ✓ — اللہ کو ذات، صفات، ربوبیت، الوہیت اور عبادت میں ایک ماننا ہی توحید ہے؛ اطاعت اور اتباع اس کے تقاضے ہیں، اور آخرت ایک الگ عقیدہ ہے۔

1 (ii). کائنات میں مختلف چیزوں کا وجود اور ان میں اختلاف و تنوع پیدا کرتا ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (ج) خالقِ حقیقی کا ✓ — کائنات کی ہر چیز کا وجود اور ان میں تنوع اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا کوئی حقیقی خالق ہے، جو اللہ تعالیٰ ہے۔

1 (iii). انسانی وجود کا ایک ایک حصہ گواہی دیتا ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (د) اللہ تعالیٰ کے وجود کی ✓ — انسانی جسم کا نظام اتنا مکمل اور پیچیدہ ہے کہ اس کا ایک ایک حصہ اپنے خالق کے وجود کی گواہی دیتا ہے (سورۃ الذاریات: 21)۔

1 (iv). انسان میں عاجزی و انکساری کی صفت پیدا ہوتی ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (ب) عقیدہ توحید پر ایمان لانے سے ✓ — جب انسان مانتا ہے کہ سب سے بالاتر ذات صرف اللہ کی ہے، تو اس میں تکبر کی بجائے عجز و انکساری پیدا ہوتی ہے۔

1 (v). مشرک شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) خوف ✓ — شرک کرنے والا بہت سے جھوٹے سہاروں سے ڈرتا اور وہم میں مبتلا رہتا ہے، جب کہ موحد کا خوف صرف اللہ سے ہوتا ہے اور اس کا دل مطمئن رہتا ہے۔

2 (i). توحید کا معنی و مفہوم تحریر کریں۔

توحید کا مطلب اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا ہے — اس کی ذات میں، اس کی صفات میں، اس کی ربوبیت (خالق، مالک، رازق ہونے) میں، اس کی الوہیت (معبود ہونے) میں اور اس کی عبادت میں۔ دین کی اصطلاح میں اللہ کو اپنی ذات و صفات میں یکتا اور بے مثال ماننا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا توحید کہلاتا ہے۔ تمام انبیاء نے یہی پیغام دیا کہ اللہ ایک ہے اور عبادت صرف اسی کی ہو گی۔

2 (ii). مظاہرِ قدرت سے وجودِ باری تعالیٰ کی کوئی ایک دلیل تحریر کریں۔

کائنات کا منظم نظام اللہ کے وجود کی دلیل ہے: سورج چاند کو نہیں پکڑ سکتا، رات دن سے آگے نہیں بڑھ سکتی، اور ہر چیز اپنے اپنے دائرے میں تیر رہی ہے (سورۃ یٰس: 40)۔ یہ بغیر خلل کے چلتا ہوا نظام خود بخود نہیں بن سکتا — اس کا کوئی بنانے والا اور چلانے والا ضرور ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔

2 (iii). اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی کوئی ایک دلیل تحریر کریں۔

اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو دونوں درہم برہم ہو جاتے (سورۃ الانبیاء: 22)۔ دو خدا ہوتے تو ان کے حکم ٹکراتے اور نظام بگڑ جاتا؛ کائنات کا ایک ہی نظام پر چلنا ثابت کرتا ہے کہ اس کا خالق اور مالک صرف ایک ہے۔

2 (iv). توحید کی کوئی دو اقسام بیان کریں۔

(1) توحید فی الذات: اللہ اپنی ذات میں واحد اور یکتا ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ (2) توحید فی الربوبیت: اللہ ہی ہر چیز کا خالق، مالک اور رازق ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ (دیگر دو اقسام: توحید فی الالوہیت — صرف اللہ معبود برحق ہے؛ توحید فی الاسماء و الصفات — اللہ اپنے ناموں اور صفات میں یکتا ہے۔)

2 (v). عملی زندگی میں شرک کے نقصانات کا جائزہ لیں۔

شرک سے انسان خوف اور وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے، پریشانی کا شکار ہوتا ہے، اور ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے۔ وہ پتھروں، درختوں اور مورتیوں کے سامنے جھک کر اپنی انسانیت کی توہین کرتا ہے، اور قرآن (سورۃ الحج: 31) اس کا حال آسمان سے گرنے والے شخص جیسا بتاتا ہے جسے پرندے اچک لیں یا ہوا دور پھینک دے۔ شرک انسان کو ایک سچے سہارے (اللہ) سے کاٹ کر بہت سے جھوٹے سہاروں کا محتاج بنا دیتا ہے۔

3. توحید کی اہمیت اور فوائد و اثرات تحریر کریں۔

توحید اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے: اسی پر ایمان کی عمارت کھڑی ہے، اور تمام انبیاء کا پیغام یہی تھا۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ انسان کو سچا معبود مل جاتا ہے اور وہ غیر اللہ کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس کے عملی فوائد یہ ہیں: (1) عزتِ نفس کی حفاظت — انسان صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہے، کسی جھوٹے معبود کے سامنے نہیں؛ (2) عجز و انکساری — اللہ کی بڑائی مان کر تکبر ختم ہو جاتا ہے؛ (3) عزم و ہمت — آخرت میں جزا کا یقین انسان کو مضبوط بناتا ہے؛ (4) استقامت اور بہادری — زندگی، موت، نفع و نقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں مان کر انسان صرف اللہ سے ڈرتا ہے؛ (5) قناعت و استغنا — رزق کا مالک اللہ مان کر دولت کی ہوس ختم ہو جاتی ہے؛ (6) شخصیت کی نشوونما — مقصدِ حیات متعین ہو جاتا ہے اور زندگی میں صبر، شکر اور توکل پیدا ہوتا ہے۔ یوں توحید انسان کی سوچ بھی بدلتی ہے اور اس کا کردار بھی سنوارتی ہے۔

سرگرمی 1 (توحید). اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے بارے میں جماعت میں پیش کریں۔

طریقہ: کائنات کی تین نشانیاں چنیں — مثلاً سورج و چاند کا نظام، انسانی جسم کا نظام، اور بارش سے زمین کا زندہ ہونا۔ ہر نشانی کے ساتھ اس کی متعلقہ آیت کا ترجمہ لکھیں اور ایک سطر میں بتائیں کہ یہ نشانی کس طرح اللہ کے وجود یا اس کی وحدانیت کی دلیل ہے۔ جماعت میں پیش کرتے وقت صرف آیت کا ترجمہ پڑھیں اور اپنی زبان میں وضاحت کریں۔

سرگرمی 2 (توحید). توحید اور شرک کے فرق پر نوٹ لکھیں۔

طریقہ: دو کالم بنائیں — ایک میں توحید کی تعریف، اس کی چار اقسام اور اس کے تقاضے (صرف اللہ کی عبادت، محبت، اطاعت، توکل) لکھیں؛ دوسرے میں شرک کی تعریف، اس کی تین اقسام اور اس کے نقصانات لکھیں۔ آخر میں ایک سطر میں نتیجہ لکھیں: توحید عزت اور اطمینان دیتی ہے، شرک خوف اور گمراہی دیتا ہے۔

سرگرمی 3 (توحید). درج ذیل کاموں میں سے ان کی نشان دہی کریں جو عملی شرک کہلاتے ہیں: مخلوق کو سجدہ کرنا، جھوٹ بولنا، مظاہرِ فطرت کی تسخیر کرنا، خیانت کرنا۔

⚠️ یہ جواب کتاب کے شرک کی تعریف سے اخذ شدہ ہے۔ عملی شرک وہ عمل ہے جس میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو عبادت یا اللہ کی صفات کے تقاضوں میں شریک کیا جائے — اس لحاظ سے مخلوق کو سجدہ کرنا عملی شرک ہے، کیوں کہ سجدہ صرف اللہ کا حق ہے۔ جھوٹ بولنا اور خیانت کرنا گناہ اور بداخلاقی ہیں، مگر اپنے طور پر شرک نہیں ہیں؛ اور مظاہرِ فطرت کی تسخیر (یعنی فطرت کی قوتوں کو اپنے کام میں لانا، جیسے کھیتی یا سائنس) بھی شرک نہیں ہے، جب تک ان قوتوں کو اللہ کا شریک نہ مانا جائے۔

2۔ رسالت — مشق (کتاب، صفحہ 25)

1 (i). رسالت کا لغوی معنی ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (ب) پیغام پہنچانا ✓ — رسول وہ ہوتا ہے جو اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچائے۔

1 (ii). انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف بھیجے جانے والے اللہ تعالیٰ کے کلام کو کہتے ہیں:

Answer / جواب

درست جواب: (ج) وحی ✓ — اللہ کا کلام جو نبی کی طرف بھیجا جائے، وحی کہلاتا ہے۔

1 (iii). مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو حضور ﷺ نے اسے قرار دیا:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) کذاب ✓ — جھوٹا دعویٰ کرنے والا کذاب کہلاتا ہے، اور صحابہ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف قتال کیا۔

1 (iv). نبی کریم ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا، اس عقیدے کو کہتے ہیں:

Answer / جواب

درست جواب: (د) عقیدہ ختمِ نبوت ✓ — آپ ﷺ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں (سورۃ الاحزاب: 40)۔

1 (v). جنگِ یمامہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جس عقیدے کے دفاع میں کثیر تعداد میں شہادتیں پیش کیں، وہ تھا:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) عقیدہ ختمِ نبوت کا ✓ — جنگِ یمامہ مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی، جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔

2 (i). وحی کا معنی و مفہوم بیان کریں۔

وحی کے معنی ”اشارہ کرنا“ اور ”چپکے سے دل میں بات ڈال دینا“ ہیں۔ اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کا اپنے کسی رسول کی طرف فرشتے کے ذریعے پیغام پہنچانا، براہ راست اس کے دل میں بات ڈال دینا، یا پردے کے پیچھے سے اس کے ساتھ بات کرنا وحی کہلاتا ہے۔ اسی وحی کے ذریعے اللہ نے اپنے احکامات نبیوں تک پہنچائے۔

2 (ii). نبی کریم ﷺ کی سیرت کی خلقت کے حوالے سے مختصر تحریر کریں۔

⚠️ اخذ شدہ جواب: کتاب میں نبی ﷺ کی سیرت کی ”محفوظ سیرت“ کی خصوصیت بیان کی گئی ہے — یعنی آپ ﷺ کی زندگی، ارشادات اور حالات آج بھی محفوظ حالت میں موجود ہیں، جب کہ سابقہ انبیاء کے حالات اس طرح محفوظ نہیں ملتے۔ اسی محفوظ سیرت کی وجہ سے آپ ﷺ ہر انسان کے لیے بہترین نمونہ (اسوہ حسنہ) ہیں، اور قیامت تک آنے والے انسان آپ ﷺ کی سیرت سے رہنمائی لیتے رہیں گے۔

2 (iii). وحی متلو اور غیر متلو میں فرق واضح کریں۔

وحی متلو وہ ہے جس کے الفاظ اور معانی دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور اس کی تلاوت کی جاتی ہے، جیسے قرآن مجید۔ وحی غیر متلو وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کے قلبِ مبارک پر صرف معانی و مضامین کی شکل میں القا کی گئی ہو اور الفاظ نبی ﷺ کے اپنے ہوں، جیسے احادیث مبارکہ۔ فرق کا خلاصہ: متلو میں لفظ بھی اللہ کا، غیر متلو میں مفہوم اللہ کا اور لفظ رسول کا۔

2 (iv). رسالتِ محمدی ﷺ کی دو نمایاں خصوصیات تحریر کریں۔

(1) عالمگیریت: آپ ﷺ کی نبوت کسی خاص قوم یا علاقے کے لیے نہیں، بلکہ پوری دنیا اور قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے ہے (سورۃ الاعراف: 158)۔ (2) ختمِ نبوت: آپ ﷺ نبوت کے سلسلے کی آخری کڑی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا (سورۃ الاحزاب: 40؛ صحیح بخاری: 3535)۔

2 (v). نبی کریم ﷺ کے کوئی سے چار معجزات تحریر کریں۔

(1) واقعہ اسراء و معراج — راتوں رات مسجدِ اقصیٰ تک اور پھر آسمانوں کا سفر۔ (2) چاند کا دو ٹکڑے ہونا۔ (3) انگلیوں سے پانی کا چشمہ جاری ہونا۔ (4) کھانے کی تھوڑی مقدار میں برکت کا ظاہر ہونا۔ (کتاب میں ان کے علاوہ درختوں و پتھروں کا ہم کلام ہونا، جانوروں کا شکایت کرنا اور جامع کلمات والی باتیں بھی معجزات میں شمار کی گئی ہیں۔)

3. عقیدہ ختمِ نبوت پر تفصیلی نوٹ لکھیں۔

ختمِ نبوت کا مطلب یہ ہے کہ نبوت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو گیا؛ آپ ﷺ اس سلسلے کی آخری کڑی ہیں اور آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ قرآن میں اللہ نے اس کی وضاحت فرمائی: ”محمد (ﷺ) تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں“ (سورۃ الاحزاب: 40)۔ حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا“ (صحیح بخاری: 3535)، اور بنی اسرائیل کی مثال دے کر بتایا کہ وہاں ایک نبی کے بعد دوسرا آتا تھا، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا (صحیح بخاری: 3455)۔ آپ ﷺ کو ایک مکمل اور کامل شریعت عطا ہوئی جس نے تمام سابقہ شریعتوں کو منسوخ کر دیا۔ آپ ﷺ کے زمانے میں اور آپ کے وصال کے بعد صحابہ نے نبوت کا دعویٰ کرنے والوں، جیسے مسیلمہ کذاب، کے خلاف جہاد و قتال کیا۔ آئینِ پاکستان (1973ء) میں بھی مسلمان کی تعریف میں اللہ کی توحید کے ساتھ محمد ﷺ کو آخری نبی ماننا شامل ہے — چنانچہ جو شخص آپ ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کو مانتا ہے وہ کذاب اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ عقلی دلیل بھی یہی ہے کہ جب دین مکمل ہو جائے تو کسی نئے نبی یا نئے دین کی ضرورت نہیں رہتی، اور قرآن و سیرت میں زندگی کے ہر شعبے کے لیے ہدایت موجود ہے۔ اس عقیدے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کریں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں۔

سرگرمی 1 (رسالت). طلبہ سیرت کا مطالعہ کر کے رسالتِ محمدی ﷺ کی خصوصیات کا نوٹ بک میں لکھیں۔

طریقہ: سیرت کی کتاب سے سات خصوصیات (عالمگیریت، ابدیت، کاملیت، محفوظ کتاب، محفوظ سیرت، معجزات، ختمِ نبوت) الگ الگ عنوان کے تحت لکھیں، ہر ایک کے ساتھ اس کی قرآنی دلیل یا حوالہ درج کریں، اور آخر میں ایک سطر میں لکھیں کہ ان میں سے کون سی خصوصیت آپ کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے اور کیوں۔

سرگرمی 2 (رسالت). طلبہ نبی کریم ﷺ کے معجزات کی تلاش کر کے جماعت میں بیان کریں۔

طریقہ: کتاب کے معجزات والے حصے سے چار معجزات چنیں، ہر معجزے کو دو سطروں میں اپنے الفاظ میں لکھیں، اور جماعت میں بتائیں کہ وہ معجزہ نبوت کی سچائی کی دلیل کیسے ہے۔ پیشکش میں کوئی تصویر یا خاکہ بنانے کی ضرورت نہیں — صرف الفاظ میں بیان کریں۔

سرگرمی 3 (رسالت). ختمِ نبوت کی اہمیت پر مذاکرہ کا اہتمام کریں۔

طریقہ: جماعت کو دو گروہوں میں بانٹیں — ایک گروہ قرآنی دلائل (سورۃ الاحزاب: 40) اور حدیث (صحیح بخاری: 3535) پیش کرے، دوسرا گروہ عقلی دلائل (دین کا مکمل ہونا) اور آئینِ پاکستان کی تعریف پیش کرے۔ آخر میں استاد خلاصہ بتائے: ختمِ نبوت ایمان کا لازمی حصہ ہے، اور اس کے بغیر رسالت پر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔

3۔ ملائکہ — مشق (کتاب، صفحہ 28)

1 (i). اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو تخلیق کیا ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (د) نور سے ✓ — صحیح مسلم (2996) میں ہے کہ فرشتوں کی تخلیق نور سے، جنوں کی آگ کے شعلے سے اور آدم کی مٹی سے ہوئی۔

1 (ii). بیت المعمور پر ہر روز نماز ادا کرنے والے فرشتوں کی تعداد ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (ج) ستر ہزار ✓ — صحیح بخاری (3207) میں ہے کہ بیت المعمور میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور دوبارہ ان کی باری نہیں آتی۔

1 (iii). انسانوں کی حفاظت پر مامور فرشتوں کو کہا جاتا ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (د) حافظین ✓ — حفاظت پر مقرر فرشتے ”حافظین“ کہلاتے ہیں؛ کراماً کاتبین اعمال لکھتے ہیں اور سیاحین زمین پر گھومتے ہیں۔

1 (iv). انسانوں کے اعمال لکھنے والے فرشتے ہیں:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) کراماً کاتبین ✓ — یہ وہ معزز لکھنے والے فرشتے ہیں جنھیں انسانوں کے اعمال لکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

1 (v). حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جس صحابی کی شکل میں آتے تھے، وہ تھے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ✓ — کتاب میں یہی نام درج ہے کہ حضرت جبرئیل عموماً حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں تشریف لاتے تھے۔

2 (i). فرشتوں پر ایمان لانے سے کیا مراد ہے؟

فرشتوں پر ایمان لانے سے مراد یہ یقین رکھنا ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق ہیں، وہ اللہ کا حکم بجا لاتے ہیں، گناہوں سے پاک ہیں اور ہر وقت اللہ کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں۔ مسلمان ہونے کے لیے ان پر ایمان لانا ضروری ہے، اور ان پر ایمان لائے بغیر ایمان کے تقاضے مکمل نہیں ہوتے۔

2 (ii). فرشتوں کی کوئی دو صفات لکھیں۔

(1) وہ نور سے پیدا کیے گئے ہیں۔ (2) وہ گناہوں سے پاک ہیں اور اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے — ”وہ نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جس کا وہ حکم دیتا ہے اور وہی کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے“ (سورۃ التحریم: 6)۔

2 (iii). فرشتوں کی کوئی دو ذمہ داریاں تحریر کریں۔

(1) کراماً کاتبین انسانوں کے اعمال لکھتے ہیں۔ (2) حافظین انسانوں کی حفاظت کرتے ہیں اور انھیں نقصان دہ چیزوں سے بچاتے ہیں۔ (دیگر ذمہ داریاں: حضرت جبرئیل وحی پہنچاتے ہیں، منکر نکیر قبر میں سوال کرتے ہیں، رضوان جنت اور مالک جہنم کے نگران ہیں۔)

2 (iv). ایمان بالملائکہ کے حوالے سے قرآنی آیات کا ترجمہ لکھیں۔

سورۃ البقرۃ (177): ”بلکہ نیکی تو اس کی ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں پر۔“ سورۃ التحریم (6): ”وہ نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جس کا وہ حکم دیتا ہے اور وہی کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔“ یہ دو آیتیں مل کر بتاتی ہیں کہ فرشتوں پر ایمان نیکی کا حصہ ہے اور فرشتوں کی شان کامل اطاعت ہے۔

2 (v). فرشتوں پر ایمان رکھنے سے انسانی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

فرشتوں پر ایمان رکھنے سے انسان کے دل میں اللہ کی عظمت کا احساس پیدا ہوتا ہے — جس خالق نے اتنی طاقتور اور شان دار مخلوق بنائی ہے، وہ خود کتنا بڑا اور قدرت والا ہو گا۔ دوسرا اثر شکر گزاری ہے: انسان سوچتا ہے کہ اللہ نے اس کے فائدے کے لیے فرشتوں کو حفاظت اور خدمت پر مقرر کیا ہے، تو وہ اللہ کا شکر گزار بن جاتا ہے۔ تیسرا اثر یہ ہے کہ اعمال لکھے جانے کا یقین انسان کو برائی سے روکتا ہے۔

3. فرشتوں پر ایمان اور ان کی ذمہ داریوں پر مفصل نوٹ لکھیں۔

فرشتوں پر ایمان کا مطلب یہ یقین ہے کہ وہ اللہ کی نوری مخلوق ہیں، گناہ سے پاک ہیں، اور ہر وقت اطاعت میں مصروف رہتے ہیں (سورۃ البقرۃ: 177؛ سورۃ التحریم: 6)۔ ان کی تخلیق نور سے ہوئی (صحیح مسلم: 2996)۔ ان کی تعداد صرف اللہ جانتا ہے — بیت المعمور میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور دوبارہ باری نہیں پاتے (صحیح بخاری: 3207)۔ چار مشہور مقرب فرشتے جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل علیہم السلام ہیں۔ ان کی ذمہ داریاں: وحی پہنچانا (جبرئیل)، انسانوں کے اعمال لکھنا (کراماً کاتبین)، مرنے کے بعد سوال و جواب (منکر نکیر)، جنت کی نگرانی (رضوان)، جہنم کی نگرانی (مالک)، عرش کو اٹھانا (حاملینِ عرش)، عذاب پر مقرر ہونا (زبانیت)، انسانوں کی حفاظت (حافظین)، زمین پر سیر کرنا (سیاحین)، اور درود پڑھنے والوں کا درود نبی ﷺ تک پہنچانا۔ کبھی وہ انسانی شکل میں بھی ظاہر ہوتے ہیں، جیسے جبرئیل علیہ السلام دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں آتے تھے۔ اللہ اپنے احکام نافذ کرنے کے لیے ان کا محتاج نہیں، بلکہ اس نے اپنی حکمت سے انھیں پیدا کر کے مختلف کاموں پر مقرر کیا ہے۔ اس ایمان کا اثر یہ ہے کہ دل میں اللہ کی عظمت اور شکر گزاری پیدا ہوتی ہے۔

سرگرمی 1 (ملائکہ). ملائکہ سے متعلق مستند کتاب کا مطالعہ کریں۔

طریقہ: کسی مستند کتاب (مثلاً ترجمہ قرآن کی تفسیر یا سیرت کی کتاب) سے فرشتوں والا باب پڑھیں اور تین باتیں نوٹ کریں: فرشتوں کی تخلیق (نور)، ان کی صفات (اطاعت، پاکی)، اور ان کی ذمہ داریاں۔ نوٹ بک میں ہر بات کے ساتھ حوالہ (سورۃ یا حدیث نمبر) ضرور لکھیں۔

سرگرمی 2 (ملائکہ). طلبہ گروپ کی صورت میں دنیا، حفاظت، موت، قبر اور آخرت سے متعلق ملائکہ کے کردار و ذمہ داریوں کی معلومات جمع کر کے جماعت میں پیش کریں۔

طریقہ: پانچ گروہ بنائیں — ہر گروہ ایک مرحلہ لے: دنیا (حافظین)، حفاظت (حافظین)، موت (عزرائیل علیہ السلام)، قبر (منکر نکیر)، آخرت (حساب، میزان، جنت و جہنم کے فرشتے)۔ ہر گروہ اپنے مرحلے کے فرشتے، ان کا کام اور ایک حوالہ جماعت میں پیش کرے۔

سرگرمی 3 (ملائکہ). ملائکہ کی صفات پر مبنی نوٹ بک میں تحریر کریں۔

طریقہ: نوٹ بک میں عنوان ”ملائکہ کی صفات“ لکھ کر پانچ صفات درج کریں: نور سے تخلیق، گناہ سے پاکی، کامل اطاعت، اللہ کے حکم پر عمل، اور انسانوں کی خدمت و حفاظت۔ ہر صفت کے ساتھ ایک سطر کی وضاحت اور جہاں ممکن ہو قرآنی یا حدیثی حوالہ لکھیں۔

4۔ کتبِ سماویہ — مشق (کتاب، صفحات 31-32)

1 (i). آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) اللہ تعالیٰ کے احکام سے آگاہی ✓ — آسمانی کتابیں اس لیے نازل ہوئیں تاکہ لوگ اللہ کے احکام جان لیں، عذاب سے ڈریں اور انعامات کی بشارت پائیں۔

1 (ii). وحی کے ذریعے سے حاصل ہونے والا علم ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (ب) قطعی ✓ — وحی سے حاصل ہونے والا علم قطعی اور یقینی ہوتا ہے، اس میں شک کی گنجائش نہیں ہوتی۔

1 (iii). تمام آسمانی کتب میں مشترکہ عقیدہ ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) توحید پر ایمان ✓ — تمام آسمانی کتابوں میں تین عقیدے مشترک ہیں: توحید، رسالت اور آخرت؛ ان میں پہلا توحید ہے۔

1 (iv). قرآن مجید کے قیامت تک محفوظ ہونے کی بڑی وجہ ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (ب) حفاظتِ الٰہی میں ہونا ✓ — اللہ نے خود اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے (سورۃ الحجر: 9)، اسی لیے یہ قیامت تک محفوظ رہے گا۔

1 (v). تمام آسمانی کتابوں اور صحیفوں کا خلاصہ موجود ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) قرآن مجید میں ✓ — قرآن آخری کتاب ہے جس میں سابقہ کتابوں کے مضامین کے ساتھ قیامت تک کی ہدایت موجود ہے۔

2 (i). آسمانی کتابوں پر ایمان لانے سے کیا مراد ہے؟

آسمانی کتابوں پر ایمان لانے سے مراد یہ یقین رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء پر کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے، اور ان کتابوں میں اللہ کے احکام، عذاب سے ڈراوا اور انعامات کی بشارت موجود ہے۔ جو کتاب اپنی اصلی حالت میں موجود ہے (قرآن مجید) اس پر اسی طرح ایمان لانا ہے، اور سابقہ کتابوں پر اجمالی ایمان رکھنا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں۔

2 (ii). آسمانی کتابوں کا مختصر تعارف بیان کریں۔

چار بڑی آسمانی کتابیں ہیں: تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر، زبور حضرت داؤد علیہ السلام پر، انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر، اور قرآن مجید حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی۔ ان کے علاوہ چھوٹے احکامات پر مشتمل کتابیں بعض انبیاء پر نازل ہوئیں جنھیں صحیفے کہتے ہیں، جن میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کے صحیفوں کا قرآن میں خاص ذکر ہے۔

2 (iii). آسمانی کتابوں کی مشترکہ تعلیمات میں سے دو تحریر کیجیے۔

(1) توحید — اللہ ایک ہے اور عبادت صرف اسی کی ہو گی۔ (2) رسالت — اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے رسول بھیجے۔ (تیسری مشترکہ تعلیم آخرت ہے — موت کے بعد دوبارہ زندگی، حساب و کتاب اور جزا و سزا۔ اس کے علاوہ اچھے اخلاق — سچ بولنا، حق ادا کرنا، دیانت و امانت، پاکیزگی اور حیا — بھی تمام آسمانی کتابوں کی مشترکہ تعلیمات میں سے ہیں۔)

2 (iv). وحی کی اہمیت بیان کریں۔

وحی اس لیے اہم ہے کہ انسان کی عقل ہر حقیقت تک خود نہیں پہنچ سکتی — غیب کی باتیں، آخرت کے حالات، اور اللہ کے احکام صرف وحی سے معلوم ہوتے ہیں۔ وحی سے حاصل ہونے والا علم قطعی اور یقینی ہوتا ہے، اس میں شک نہیں ہو سکتا۔ وحی کے بغیر انسانوں کے پاس زندگی گزارنے کا کوئی الہامی رہنما (ہدایت نامہ) نہ ہوتا، اس لیے اللہ نے انبیاء پر وحی نازل کر کے انسانوں پر احسان فرمایا۔

2 (v). قرآن مجید کی خصوصیات کا جائزہ لیں۔

قرآن مجید کی خصوصیات: (1) یہ اللہ کی آخری کتاب ہے، اس کے بعد تمام آسمانی کتابیں منسوخ ہو گئیں؛ (2) یہ قیامت تک کے انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے؛ (3) یہ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے جس حالت میں نازل ہوا تھا — ایک حرف کی تبدیلی نہیں ہوئی اور نہ ہو گی، کیوں کہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ نے لیا ہے؛ (4) اس کی حفاظت کا انتظام سینوں میں محفوظ کرنے کے ساتھ دیگر ذرائع سے بھی کیا گیا ہے؛ (5) یہ حضور ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ ہے، اس کا ہر لفظ و آیت اور تعلیم معجزہ ہے؛ (6) کائنات کے بارے میں اس کے بیان کردہ حقائق کو جدید سائنس بھی تسلیم کر رہی ہے۔

3. کتبِ سماویہ پر ایمان کے موضوع پر ایک جامع مضمون تحریر کیجیے۔

کتبِ سماویہ پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء پر آسمانی کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے تاکہ لوگ اس کے احکام سے آگاہ ہوں، عذاب سے ڈریں اور انعامات کی بشارت پائیں (سورۃ النساء: 136)۔ ایمان کی تعریف والی حدیث (صحیح مسلم: 09) میں بھی اللہ کی کتابوں پر ایمان شامل ہے۔ چار بڑی کتابیں تورات (موسیٰ علیہ السلام)، زبور (داؤد علیہ السلام)، انجیل (عیسیٰ علیہ السلام) اور قرآن مجید (محمد ﷺ) ہیں، اور چھوٹی کتابیں صحیفے کہلاتی ہیں، جن میں ابراہیم و موسیٰ علیہم السلام کے صحیفوں کا قرآن میں ذکر ہے (سورۃ الاعلیٰ: 18-19)۔ کتابوں میں اللہ کے احکام تفصیل سے اور صحیفوں میں مختصر طور پر بیان ہوئے ہیں۔ تمام آسمانی کتابوں میں تین عقیدے مشترک ہیں — توحید، رسالت، آخرت — اور اچھے اخلاق کی تعلیم بھی مشترک ہے۔ اگر کسی مذہب کی تعلیم ان تین بنیادی عقائد کی مخالف ہو تو سمجھ لیجیے کہ انسانوں نے اس میں اپنی مرضی شامل کر دی ہے، اللہ نے اپنا پیغام نہیں بدلا۔ قرآن مجید کا امتیاز یہ ہے کہ وہ آخری کتاب ہے، اس کے بعد سب منسوخ ہو گئیں، وہ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے جس میں نازل ہوئی تھی، اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا ہے، وہ حضور ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ ہے، اور اس کے کائناتی حقائق کو جدید سائنس بھی مان رہی ہے۔ اس لیے کتبِ سماویہ پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سابقہ کتابوں کے نازل ہونے پر اجمالی ایمان رکھیں اور قرآن مجید کو قیامت تک کے لیے اپنی ہدایت کا سرچشمہ مان کر اس پر عمل کریں۔

سرگرمی 1 (کتبِ سماویہ). آسمانی کتب پر ایمان سے متعلق سبق کے علاوہ معلومات تلاش کر کے جماعت میں پیش کریں۔

طریقہ: کسی مستند کتاب یا تفسیر سے آسمانی کتابوں کے بارے میں دو نئی معلومات تلاش کریں — مثلاً کسی کتاب کے نازل ہونے کا زمانہ یا اس کی زبان — اور جماعت میں بتائیں کہ وہ معلومات سبق کی کس بات کی تائید کرتی ہیں۔ معلومات پیش کرتے وقت حوالہ ضرور بتائیں۔

سرگرمی 2 (کتبِ سماویہ). قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتب کی خصوصیات کا موازنہ کریں۔

طریقہ: دو کالم بنائیں — ایک میں قرآن مجید کی خصوصیات (آخری کتاب، محفوظ، قیامت تک ہدایت) اور دوسرے میں سابقہ کتابوں کی حالت (ضائع ہونا یا رد و بدل ہونا) لکھیں۔ آخر میں ایک سطر میں نتیجہ لکھیں: قرآن کی حفاظت ہی اس کے آخری کتاب ہونے کی دلیل ہے۔

سرگرمی 3 (کتبِ سماویہ). قرآن مجید میں درج ذیل مضامین کی نشان دہی کریں اور کسی ایک مضمون کا حوالہ دیں: تخلیقِ کائنات کا ذکر، حیات کا ذکر، جنت کا ذکر، ملائکہ کا ذکر، جہنم کا ذکر، آخرت کا ذکر، عبادات کا ذکر۔

طریقہ: قرآن مجید (ترجمہ) میں ہر مضمون کی ایک مثال تلاش کریں، مثلاً: تخلیقِ کائنات — سورۃ یٰس (40) میں سورج و چاند کا نظام؛ ملائکہ — سورۃ البقرۃ (177) میں فرشتوں پر ایمان؛ آخرت — سورۃ الروم (27) میں دوبارہ پیدا کرنا؛ عبادات — سورۃ البقرۃ (43) میں نماز و زکوٰۃ۔ ہر مضمون کے ساتھ سورۃ کا نام اور آیت نمبر نوٹ بک میں لکھیں۔ ⚠️ یہ مثالیں اسی باب میں پڑھی گئی آیات سے لی گئی ہیں، تاکہ کوئی نیا حوالہ از سرِ نو نہ گھڑا جائے۔

5۔ آخرت — مشق (کتاب، صفحات 36-37)

1 (i). انسانوں کے اعمال کا وزن کیا جائے گا:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) میزان پر ✓ — اعمال کو وزن کرنے کے لیے میزان (ترازو) نصب کیا جائے گا، اور کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہو گا۔

1 (ii). دنیا کی زندگی ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (د) عارضی ✓ — دنیا امتحان کی جگہ ہے اور یہ زندگی عارضی ہے؛ موت کے بعد اُخروی زندگی اصل اور دائمی ہے۔

1 (iii). برزخی زندگی کا مرحلہ ختم ہوتا ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (د) صور پھونکنے پر ✓ — برزخی زندگی کا مرحلہ صور پھونکنے تک جاری رہتا ہے؛ اس کے بعد حشر کا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔

1 (iv). قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کی شفاعت پر شروع ہو گا:

Answer / جواب

درست جواب: (ب) حساب و کتاب کا عمل ✓ — شفاعتِ کبریٰ کا فائدہ یہ ہے کہ حساب کے انتظار کی سختی ختم ہو کر حساب شروع ہو جاتا ہے۔

1 (v). عقیدہ آخرت پر ایمان رکھنے والا شخص نظر رکھتا ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (د) اخروی نتائج پر ✓ — آخرت پر ایمان رکھنے والا ہر عمل کا اخروی نتیجہ (جزا یا سزا) سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔

2 (i). عقیدہ آخرت کے بارے میں قرآن مجید کی تعلیمات مختصراً بیان کریں۔

قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ دنیا ایک دن فنا ہو جائے گی، انسانوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، ان کے اعمال کا حساب ہو گا، اور نیک اعمال کی جزا اور برے اعمال کی سزا ملے گی۔ جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، اسے دوبارہ پیدا کرنا اس پر بہت آسان ہے (سورۃ الروم: 27)، اور آسمان و زمین کھیل کے طور پر نہیں بلکہ حق کے ساتھ پیدا کیے گئے ہیں (سورۃ الدخان: 38-40 کا ترجمہ)۔

2 (ii). آخرت میں مسلمانوں کو کس چیز سے نوازا جائے گا؟

⚠️ اخذ شدہ جواب: کتاب کے مطابق آخرت میں مسلمانوں کو جنت اور اس کی خوش خبریاں ملیں گی — ان کے چہرے نورانی ہوں گے، وہ عرش کے سائے میں ہوں گے، ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے، وہ حوضِ کوثر سے پانی پییں گے جس کے بعد کبھی پیاسے نہیں ہوں گے، اور پلِ صراط سے گزر کر جنت میں داخل ہوں گے۔ اس کے علاوہ شفاعت کی نعمت بھی انھیں ملے گی۔

2 (iii). قرآن مجید نے مشرکین کے دوبارہ زندہ کیے جانے کے شبہات کو کیسے رد کیا ہے؟

مشرکین کہتے تھے کہ گلنے سڑنے کے بعد انسان دوبارہ کیسے زندہ ہو سکتا ہے۔ قرآن نے اس کا جواب دلیل سے دیا: جو ذات مخلوق کو پہلی بار پیدا کر سکتی ہے، اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا اور بھی آسان ہے (سورۃ الروم: 27)۔ پہلی تخلیق دوسری تخلیق سے زیادہ مشکل ہے، اس لیے دوبارہ زندگی ناممکن نہیں بلکہ آسان ہے۔ عقل بھی یہی کہتی ہے کہ اگر اعمال کا کوئی بدلہ نہ ہو تو انسان کی تخلیق بے مقصد ہو جائے گی۔

2 (iv). حوضِ کوثر کے بارے میں مختصر تحریر کریں۔

میدانِ محشر میں نبی کریم ﷺ کو حوضِ کوثر عطا کیا جائے گا، جس کا پانی نہرِ کوثر سے آ رہا ہو گا۔ وہ پانی شہد سے زیادہ میٹھا، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور دودھ سے زیادہ سفید ہو گا۔ اہلِ ایمان اس حوض سے پانی پییں گے اور اس کے بعد کبھی پیاسے نہیں ہوں گے، جب کہ کافر و مشرک اور نبی ﷺ کی سنت سے منہ موڑنے والے اس پانی سے محروم کر دیے جائیں گے۔

2 (v). شفاعتِ کبریٰ سے کیا مراد ہے؟

شفاعتِ کبریٰ نبی کریم ﷺ کی وہ خصوصی سفارش ہے جس کا فائدہ پوری انسانیت کو ہو گا: اس کی وجہ سے حساب کے انتظار کی سختی ختم ہو جائے گی اور حساب شروع ہو جائے گا۔ اسی شفاعت کو مقامِ محمود کہتے ہیں (جامع ترمذی: 3148)۔ یہ شفاعت صرف نبی ﷺ کی خصوصیت ہے، جب کہ چھوٹی شفاعت (شفاعتِ صغریٰ) دیگر انبیاء، علماء، شہداء، صالحین، قرآن اور روزے بھی کریں گے — اور وہ بھی صرف اللہ کے اذن سے ہو گی۔

3. عقیدہ آخرت پر مفصل نوٹ تحریر کریں۔

آخرت پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی ایک دن ختم ہو جائے گی، انسانوں کو جزا و سزا کے لیے اٹھایا جائے گا، اور اس دن کو یومِ آخرت کہتے ہیں۔ دنیا امتحان کی جگہ ہے — اللہ نے انسان کو آزادی دے کر آزمائش کے لیے بھیجا ہے، اور یہ زندگی عارضی ہے؛ اصل زندگی موت کے بعد کی اُخروی زندگی ہے، جہاں دنیا کے اعمال کے مکمل نتائج ظاہر ہوں گے۔ تمام مذاہب کی تعلیم یہی ہے کہ انسان مرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے فنا نہیں ہو گا بلکہ دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ مشرکینِ مکہ اس کا انکار کرتے تھے، اور قرآن نے ان کے شبہات کا مدلل جواب دیا ہے: جو پہلی بار پیدا کر سکتا ہے، اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا بہت آسان ہے (سورۃ الروم: 27)، اور کائنات کھیل کے طور پر نہیں بلکہ حق کے ساتھ پیدا کی گئی ہے (سورۃ الدخان: 38-40 کا ترجمہ)۔ عقل بھی اس کی تائید کرتی ہے: اچھے عمل کا اچھا بدلہ اور برے عمل کا برا بدلہ ہونا چاہیے، ورنہ انسان کی تخلیق بے مقصد ہو جائے گی۔ مراتب یہ ہیں: موت کے بعد برزخ (صور تک)، پھر قیامت اور حشر (سب قبروں سے اٹھ کر ایک میدان میں جمع ہوں گے)، پھر میزان (اعمال کا وزن، کسی پر ظلم نہیں)، پھر اعمال نامے (دائیں ہاتھ والوں کو جنت کی خوش خبری، بائیں ہاتھ والوں کو دوزخ کی وعید)، پھر حوضِ کوثر، پھر پلِ صراط (نیک لوگ پلک جھپکتے گزر جائیں گے، گناہ گار اپنے گناہوں کے حساب سے مشکل میں ہوں گے)، پھر جنت و جہنم (فاسق مومن سزا کے بعد نکال لیے جائیں گے، کفار ہمیشہ رہیں گے)۔ شفاعت کی دو قسمیں ہیں: کبریٰ (نبی ﷺ کی خصوصیت، مقامِ محمود، جس سے حساب شروع ہو گا) اور صغریٰ (انبیاء، علماء، شہداء، صالحین، قرآن، روزہ — اللہ کے اذن سے)۔ اس عقیدے کے عملی اثرات چھ ہیں: نیک اعمال کی رغبت، برائی سے اجتناب، حقوق کا احترام، صبر و تحمل، تعمیرِ سیرت، اور بہادری و سرفروشی۔ یوں عقیدہ آخرت انسان کی سوچ، کردار اور معاشرتی زندگی تینوں کو سنوارتا ہے۔

سرگرمی 1 (آخرت). عقیدہ آخرت (برزخ، حشر، میزان، شفاعت، حوضِ کوثر، جنت، جہنم) سے متعلق قرآنی آیات و حدیث سے مطلوبہ معلومات تلاش کر کے جماعت میں پیش کریں۔

طریقہ: ہر طالب علم ایک مرحلہ لے اور اس سے متعلق ایک آیت کا ترجمہ یا ایک حدیث کا حوالہ تلاش کرے — مثلاً برزخ کے لیے موت کے بعد کی زندگی، میزان کے لیے اعمال کا وزن، حوضِ کوثر کے لیے اس کے پانی کی صفات۔ جماعت میں پیش کرتے وقت آیت کا ترجمہ پڑھیں اور ایک سطر میں اس مرحلے کی وضاحت کریں۔

سرگرمی 2 (آخرت). عقیدہ آخرت سے متعلق مستند دینی کتب کا مطالعہ کریں اور دو موضوعات کے حوالہ جات تحریر کریں۔

طریقہ: کسی مستند کتاب سے دو موضوعات چنیں — مثلاً ”حشر“ اور ”شفاعت“ — اور ہر موضوع کے ساتھ کتاب کا نام، صفحہ نمبر اور ایک سطر کا خلاصہ نوٹ بک میں لکھیں۔

سرگرمی 3 (آخرت). جنت اور جہنم کی زندگی کے موازنے کے لیے چارٹ بنائیں جس میں ان کے نام، ماحول، سہولتیں اور درجات کی تعداد وغیرہ کا ذکر ہو۔

طریقہ: چارٹ میں دو کالم بنائیں — جنت (نورانی چہرے، عرش کا سایہ، حوضِ کوثر کا پانی، دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ) اور جہنم (سیاہی، غبار، آگ کے شعلے، بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ)۔ درجات کی تعداد کے بارے میں کتاب میں کوئی عدد درج نہیں ہے، اس لیے چارٹ میں عدد از سرِ نو نہ لکھیں — صرف وہ صفات لکھیں جو سبق میں آئی ہیں۔

سرگرمی 4 (آخرت). انسانی زندگی کے دیے گئے مراحل کو ترتیب سے لکھیں: عالمِ برزخ، عالمِ حشر، جنت یا جہنم، عالمِ ارواح، عالمِ دنیا، بطنِ مادر۔

درست ترتیب: (1) عالمِ ارواح — روحوں کی دنیا؛ (2) بطنِ مادر — ماں کے پیٹ کی زندگی؛ (3) عالمِ دنیا — یہ دنیا، امتحان کی جگہ؛ (4) عالمِ برزخ — موت کے بعد صور تک کا مرحلہ؛ (5) عالمِ حشر — قیامت کے دن سب کا جمع ہونا اور حساب؛ (6) جنت یا جہنم — ہمیشہ کی جزا یا سزا۔ ⚠️ یہ ترتیب سبق میں بیان کردہ مراحل سے اخذ شدہ ہے۔

6۔ نماز — مشق (کتاب، صفحہ 42)

1 (i). توحید و رسالت کی شہادت کے بعد اسلام کا اہم ترین رکن ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) نماز ✓ — شہادتین کے بعد نماز ہی اسلام کا سب سے اہم رکن ہے، اور یہ دین کا ستون ہے (جامع ترمذی: 2616 کا ترجمہ)۔

1 (ii). ارشادِ باری تعالیٰ کے مطابق بے حیائی اور برائی سے روکنے والا عمل ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (د) نماز ✓ — ”بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے“ (سورۃ العنکبوت: 45)۔

1 (iii). دین کا ستون ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) نماز ✓ — حدیث کے مطابق اسلام کا سر اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے (جامع ترمذی: 2616 کا ترجمہ)۔

1 (iv). نماز میں شامل کرنے کی ترغیب نبی کریم ﷺ نے دی ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) پانچ وقت نماز کی ✓ — پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں اور نبی ﷺ نے ان کی پابندی کی سب سے زیادہ ترغیب دی ہے۔

1 (v). اطاعتِ امیر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) باجماعت نماز ادا کرنے سے ✓ — جماعت میں امام کی اطاعت کی مشق ہوتی ہے، جس سے زندگی میں اطاعتِ امیر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

2 (i). نماز کی اہمیت مختصراً بیان کریں۔

نماز شہادتین کے بعد اسلام کا سب سے اہم رکن ہے اور دین کا ستون ہے۔ یہ اللہ سے تعلق کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے — بندہ نماز میں اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے۔ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گا، اس لیے نماز کی درستی ہی باقی اعمال کی درستی کی علامت ہے۔ نماز انسان کو بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور اس کی زندگی میں نظم و ضبط پیدا کرتی ہے۔

2 (ii). باجماعت نماز کے عملی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

باجماعت نماز سے وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور امام کی اطاعت کی عادت پڑتی ہے۔ نمازی ایک صف میں کھڑے ہو کر برابری سیکھتے ہیں — امیر و غریب، حاکم و محکوم سب ایک صف میں ہوتے ہیں۔ اس سے آپس کی محبت و اخوت بڑھتی ہے، بھائیوں کے حالات معلوم ہوتے ہیں، اور معاشرے میں نظم و اتحاد پیدا ہوتا ہے۔

2 (iii). نماز میں خشوع و خضوع سے کیا مراد ہے؟

خشوع سے مراد جسم کا عاجزانہ جھکاؤ ہے — رکوع و سجود میں اللہ کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھکنا؛ اور خضوع سے مراد دل کا اللہ کی طرف متوجہ ہونا ہے — دل میں اللہ کی عظمت، خوف اور محبت کا احساس۔ کامیاب مومن وہ ہیں جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں (سورۃ المؤمنون: 1-2)۔ جس نماز میں خشوع و خضوع ہو، وہی نماز انسان کو برائی سے روکتی ہے۔

2 (iv). نماز کی کوئی دو فضیلتیں تحریر کریں۔

(1) نماز گناہوں کا کفارہ ہے — جو شخص اچھی طرح وضو کر کے خشوع کے ساتھ نماز پڑھے، اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں (صحیح مسلم: 228 کا ترجمہ)۔ (2) نماز اللہ سے قربت کا ذریعہ ہے — بندہ نماز میں اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے (صحیح بخاری: 417 کا ترجمہ)۔

2 (v). نماز کے کوئی دو فوائد تحریر کریں۔

(1) نظم و ضبط اور وقت کی پابندی — پانچ وقت کی نمازیں مقررہ اوقات میں ادا کرنے سے زندگی میں ترتیب آتی ہے۔ (2) صفائی اور جسمانی ورزش — وضو سے صفائی حاصل ہوتی ہے اور رکوع و سجود سے جسم کو صحت مند حرکت ملتی ہے۔

3. نماز کی اہمیت اور اس کے فوائد و اثرات پر جامع نوٹ لکھیں۔

نماز شہادتین کے بعد اسلام کا سب سے اہم رکن ہے اور دین کا ستون ہے (جامع ترمذی: 2616 کا ترجمہ)۔ یہ ہر نبی پر فرض رہی ہے، اور قیامت کے دن سب سے پہلے اسی کا حساب ہو گا (سنن ابن ماجہ: 1425 کا ترجمہ)۔ اس کی فرضیت کا انکار یا اس کا مذاق اڑانا اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ نماز کا فلسفہ یہ ہے کہ بندہ اپنے رب سے مضبوط روحانی تعلق قائم کرے — وہ نماز میں اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے (صحیح بخاری: 417 کا ترجمہ)، سجدے میں عاجزی اختیار کرتا ہے، اور اللہ کی محبت، خوف اور تعظیم کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے (سورۃ العنکبوت: 45)۔ اس کے احکام: یہ ہر حالت میں فرض ہے — سفر، جنگ، خوشی، غمی، خوش حالی، بیماری اور امن میں — اور کبھی مکمل طور پر معاف نہیں ہوتی، البتہ ضرورت میں قصر، بیٹھ کر یا لیٹ کر پڑھنے کی اجازت ہے۔ پانچ نمازیں مقررہ اوقات میں ادا کی جاتی ہیں: فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء۔ وضو شرط ہے، اور شدید بیماری میں پانی نہ ہونے پر تیمم کی اجازت ہے۔ دیگر شرائط: جگہ، بدن اور کپڑوں کی پاکی، ستر کا ڈھکنا، وقت، قبلہ اور نیت۔ آداب کے خلاف باتیں: ادھر ادھر دیکھنا، کپڑے درست کرنا، چلنا، انگلیاں چٹخانا، بات کرنا۔ خشوع (جسم کا عاجزانہ جھکاؤ) اور خضوع (دل کا اللہ کی طرف رجوع) نماز کی روح ہیں، اور خاشعین کی کامیابی کا وعدہ ہے (سورۃ المؤمنون: 1-2)۔ نبی ﷺ کی نماز میں رونے کی آواز ہانڈی کے ابلنے جیسی ہوتی تھی (سنن ابی داؤد: 904 کا ترجمہ)۔ اخلاص شرط ہے (سورۃ الزمر: 2)، اور ریاکاری کی نماز شرک ہے (مسند احمد: 17140 کا ترجمہ)۔ باجماعت نماز کا ثواب: صحیح مسلم (649) کے مطابق 27 درجے اور صحیح بخاری (645) کے مطابق 25 درجے زیادہ ہے — ⚠️ کتاب میں اس مقام پر لفظ ”ستائیس“ کے ساتھ ہندسہ ”(25)“ درج ہے، جو طباعتی بے ترتیبی معلوم ہوتی ہے؛ دونوں حوالے الگ الگ اوپر لکھ دیے گئے ہیں۔ جماعت کے فوائد: نظم و ضبط، وقت کی پابندی، امام کی اطاعت، محبت و اخوت، بھائیوں کے حالات سے آگاہی، ایک صف میں برابری، صفائی اور جسمانی ورزش۔ یوں نماز بندے کی روح، جسم اور معاشرتی زندگی تینوں کو سنوارتی ہے۔

سرگرمی 1 (نماز). طلبہ متعلقہ کتب کے ذریعے سے اپنے بزرگوں سے نماز کے احکام و مسائل سیکھیں۔

طریقہ: گھر کے بزرگوں یا کسی دینی کتاب سے نماز کے تین احکام پوچھیں — مثلاً وضو کی شرائط، نماز کی شرائط، اور قصر نماز کا حکم — اور انھیں اپنی نوٹ بک میں لکھیں۔ ہر حکم کے ساتھ اس کا حوالہ (کتاب کا نام) ضرور لکھیں۔

سرگرمی 2 (نماز). نماز میں خشوع و خضوع پیدا کرنے کی تدابیر تلاش کر کے اپنی نوٹ بک میں لکھیں۔

طریقہ: نوٹ بک میں پانچ تدابیر لکھیں: نماز سے پہلے دل کو فارغ کرنا، آیات کے معانی پر غور کرنا، سجدے میں عاجزی اختیار کرنا، جلد بازی سے بچنا، اور اللہ کی عظمت کا تصور کرنا۔ ہر تدبیر کے ساتھ ایک سطر میں بتائیں کہ وہ خشوع میں کیسے مدد کرتی ہے۔

سرگرمی 3 (نماز). سبق میں دی گئی نماز کی فضیلتوں اور فضائل کے علاوہ مزید تلاش کریں۔

طریقہ: کسی مستند کتاب یا حدیث کی کتاب سے نماز کی دو مزید فضیلتیں تلاش کریں — مثلاً نماز نور ہے، یا نماز گناہوں کو مٹاتی ہے — اور ان کا حوالہ نوٹ بک میں لکھیں۔ جو فضیلت سبق میں پہلے سے موجود ہو، اسے دوبارہ نہ لکھیں۔

سرگرمی 4 (نماز). نماز بے حیائی اور برائی سے روکنے میں کیسے مددگار ہوتی ہے؟ اس موضوع پر تقریر کا اہتمام کریں۔

طریقہ: تقریر میں تین نکات رکھیں: (1) نماز اللہ کی یاد دلاتی ہے، اور اللہ کی یاد برائی سے روکتی ہے؛ (2) پانچ وقت کی پابندی برے کاموں کا وقت کم کر دیتی ہے؛ (3) خشوع والی نماز دل میں اللہ کا خوف پیدا کرتی ہے۔ آخر میں سورۃ العنکبوت (45) کا ترجمہ پڑھیں۔

سرگرمی 5 (نماز). نماز باجماعت کے ذریعے سے درج ذیل میں سے آپ نے کون سی صفات و اثرات محسوس کیے؟ نشان دہی کریں: وقت کی پابندی، نظم و ضبط، خشوع و خضوع، حاجتی، اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس ہونا، مساوات، جسمانی صحت۔

طریقہ: ایک ہفتے تک باجماعت نماز کی پابندی کریں اور ہر روز نوٹ کریں کہ اوپر دی گئی صفات میں سے کون سی آپ نے محسوس کی۔ ہفتے کے آخر میں جدول میں ہر صفت کے سامنے ✓ یا ✗ لگائیں اور ایک سطر میں لکھیں کہ جماعت کی پابندی نے آپ کی زندگی میں کیا تبدیلی لائی۔

7۔ زکوٰۃ و صدقات — مشق (کتاب، صفحہ 46)

1 (i). ارشادِ باری تعالیٰ کے مطابق زکوٰۃ کی فرضیت کا مقصد ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) پاکیزگی ✓ — زکوٰۃ کا لفظی معنی ہی پاکیزگی اور بڑھوتری ہے، اور اس کا مقصد مال و دل دونوں کی پاکیزگی ہے (سورۃ التوبہ: 103)۔

1 (ii). منکرینِ زکوٰۃ کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اقدام کیا:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) جہاد کا ✓ — نبی ﷺ کے وصال کے بعد جن قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، صحابہ نے ان کے خلاف جہاد کیا، کیوں کہ زکوٰۃ کا انکار اسلام سے انکار ہے۔

1 (iii). مصنوعی طریقے سے سیراب ہونے والی زمین پر شرح ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (ب) پانچ فی صد ✓ — قدرتی (بارش/چشمہ) آب پاشی پر عشر 10% ہے، اور مصنوعی (کنویں وغیرہ) آب پاشی پر نصف عشر یعنی 5% ہے۔

1 (iv). مالِ غنیمت میں اللہ اور رسول ﷺ کے حصے کو کہتے ہیں:

Answer / جواب

درست جواب: (ب) خمس ✓ — مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ خمس کہلاتا ہے، جو اللہ، رسول ﷺ، ان کے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے (سورۃ الانفال: 41 کا ترجمہ)۔

1 (v). زکوٰۃ ادا کرنے سے معاشرے سے ختم ہوتی ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) غربت ✓ — زکوٰۃ، صدقات، عشر اور خراج کے صحیح نفاذ سے معاشرے میں غربت و بے روزگاری ختم ہو سکتی ہے، اور دولت چند ہاتھوں میں محدود نہیں رہتی۔

2 (i). کوئی سے چار مصارفِ زکوٰۃ تحریر کریں۔

آٹھ مصارف میں سے چار: (1) فقراء — وہ جو ضرورت مند ہوں؛ (2) مساکین — وہ جو انتہائی محتاج ہوں؛ (3) عاملین — زکوٰۃ وصول کرنے اور تقسیم کرنے پر مقرر لوگ؛ (4) غارمین — وہ جو قرض میں ڈوبے ہوں۔ (دیگر چار: مؤلفۃ القلوب، رقاب، فی سبیل اللہ، ابن السبیل۔)

2 (ii). سونے اور چاندی پر زکوٰۃ کا نصاب تحریر کریں۔

سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے — یا ان کی قیمت کے برابر مال۔ جو مسلمان اتنی مقدار کا مالک ہو اور وہ سال بھر اس کے پاس رہے (سال کے شروع اور آخر میں نصاب مکمل ہو)، اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔

2 (iii). عاملینِ زکوٰۃ کی ذمہ داریاں تحریر کریں۔

عاملینِ زکوٰۃ کی سب سے بڑی ذمہ داری امانت و دیانت ہے — وہ زکوٰۃ کا مال حقداروں تک پورا پہنچائیں، اس میں خیانت نہ کریں۔ حدیث میں خیانت کرنے والے عامل کے لیے سخت وعید آئی ہے (صحیح بخاری: 7151 کا ترجمہ)۔ ان کی ذمہ داریوں میں زکوٰۃ وصول کرنا، اس کا حساب رکھنا، اور اسے آٹھ مصارف میں صحیح طریقے سے تقسیم کرنا شامل ہے۔

2 (iv). اسلام کے معاشی نظام میں زکوٰۃ غربت کے خاتمے کی کیسے ضمانت ہے؟

زکوٰۃ معاشی نظام کی روح ہے، جیسے جسم میں روح ہوتی ہے۔ جب مال دار سالانہ اپنے مال کا چالیسواں حصہ (2.5%) غریبوں کو دیتے ہیں، تو دولت چند ہاتھوں میں محدود نہیں رہتی بلکہ معاشرے میں گردش کرتی ہے۔ اس سے غربت و بے روزگاری کم ہوتی ہے، جرائم و ظلم اور طبقاتی تقسیم گھٹتی ہے، اور فلاحی معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ زکوٰۃ کے ساتھ صدقات، عشر اور خراج کے صحیح نفاذ سے غربت کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔

2 (v). حساب لگائیں: اگر دس تولہ سونے کی قیمت 30 لاکھ روپے ہو تو اس پر زکوٰۃ کتنی ہو گی؟

زکوٰۃ کی شرح چالیسواں حصہ یعنی 2.5% ہے۔ حساب: 30,00,000 × 2.5 ÷ 100 = 75,000 روپے۔ لہٰذا دس تولہ سونے (قیمت 30 لاکھ روپے) پر زکوٰۃ 75,000 روپے بنے گی۔ (نوٹ: دس تولہ سونا نصاب (ساڑھے سات تولہ) سے زیادہ ہے، اس لیے اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔)

3. زکوٰۃ کے احکام و مسائل اور معاشرتی اثرات پر نوٹ لکھیں۔

زکوٰۃ کا لفظی معنی پاکیزگی، بڑھوتری اور اضافہ ہے۔ یہ مالی عبادت ہے جو سال میں ایک بار مقررہ شرح سے عاقل، بالغ، آزاد اور صاحبِ نصاب مسلمان پر فرض ہے۔ اس کی فرضیت 2 ہجری میں رمضان میں ہوئی اور 9 ہجری میں اس کا مکمل نظام قائم ہوا۔ اس کا انکار اسلام سے انکار ہے، اور نبی ﷺ کے وصال کے بعد منکرین کے خلاف صحابہ نے جہاد کیا۔ شرائط: مال قرضوں اور بنیادی ضروریات (کھانا، پینا، لباس، رہائش) سے زائد ہو؛ نصاب سال کے شروع اور آخر میں مکمل ہو، درمیان میں کمی بیشی سے فرق نہیں پڑتا، اور حساب سال کے آخر کی دولت پر ہوتا ہے۔ نصاب: ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اس کی قیمت؛ شرح چالیسواں حصہ (2.5%)۔ جانوروں کا نصاب: 5 اونٹ، 30 گائیں، 40 بکریاں/بھیڑیں (جو سال کا زیادہ حصہ آزاد چرتی ہوں)۔ نقدی اور تجارتی مال بھی قابلِ زکوٰۃ ہے۔ آٹھ مصارف: فقراء، مساکین، عاملین، مؤلفۃ القلوب، رقاب، غارمین، فی سبیل اللہ، ابن السبیل۔ عشر: قدرتی آب پاشی پر 10%، مصنوعی پر 5% (نصف عشر)؛ اس کے لیے سال گزرنا یا کم از کم مقدار شرط نہیں، ہر فصل پر واجب ہے، اور ٹیکس کی ادائیگی عشر سے بری نہیں کرتی۔ خمس: مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ، جو اللہ، رسول ﷺ، ان کے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ عاملین پر امانت و دیانت لازم ہے (صحیح بخاری: 7151 کا ترجمہ)۔ معاشرتی اثرات: زکوٰۃ معاشی نظام کی روح ہے — اس سے غربت و بے روزگاری ختم ہوتی ہے، فلاحی معاشرہ بنتا ہے، دولت چند ہاتھوں میں محدود نہیں رہتی، جرائم، ظلم اور طبقاتی تقسیم کم ہوتی ہے، اور باقی مال اور دل بخل سے پاک ہو جاتا ہے۔

سرگرمی 1 (زکوٰۃ). اپنے گھر والوں یا بزرگوں کی مدد سے زکوٰۃ کا حساب لگائیں۔

طریقہ: گھر کے کسی فرد کی مدد سے ایک مثال کا حساب لگائیں — مثلاً اگر کسی کے پاس 10 لاکھ روپے نقدی ہو تو زکوٰۃ 2.5% یعنی 25,000 روپے بنے گی۔ حساب کرتے وقت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) اور سال گزرنے کی شرط کا خیال رکھیں، اور نتیجہ نوٹ بک میں لکھیں۔

سرگرمی 2 (زکوٰۃ). زکوٰۃ کے فوائد پر نوٹ لکھیں۔

طریقہ: نوٹ بک میں پانچ فوائد لکھیں: مال کی پاکیزگی، دل سے بخل کا خاتمہ، غربت کا خاتمہ، معاشرے میں محبت و اخوت، اور دولت کی گردش۔ ہر فائدے کے ساتھ ایک سطر کی وضاحت لکھیں۔

سرگرمی 3 (زکوٰۃ). زکوٰۃ کی مشق پر گفتگو کریں۔

طریقہ: جماعت میں دو دو کے گروہ بنائیں اور ایک دوسرے سے زکوٰۃ کے تین سوالات پوچھیں — نصاب کیا ہے؟ شرح کیا ہے؟ مصارف کون سے ہیں؟ — اور جواب درست کریں۔ استاد آخر میں خلاصہ بتائے۔

سرگرمی 4 (زکوٰۃ). غربت کے خاتمے پر بحث کریں۔

طریقہ: جماعت میں بحث کریں کہ زکوٰۃ، صدقات، عشر اور خراج کے صحیح نفاذ سے غربت کیسے ختم ہو سکتی ہے۔ ہر طالب علم ایک نکتہ پیش کرے — مثلاً دولت کی گردش، غریبوں کی مدد، بے روزگاری کا خاتمہ — اور آخر میں استاد نتیجہ اخذ کرے۔

8۔ روزہ — مشق (کتاب، صفحہ 50)

1 (i). روزے کو عربی میں کہتے ہیں:

Answer / جواب

درست جواب: (د) صوم ✓ — صوم کا مطلب رک جانا ہے، یعنی صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور جائز خواہشات سے رک جانا۔

1 (ii). جس روزے کو ادا کرنا لازم ہو اور اس کا وقت مقرر ہو، وہ کہلاتا ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) فرضِ معین ✓ — رمضان کے روزے اور مقررہ نذر کے روزے فرضِ معین ہیں؛ قضا، کفارہ اور غیر مقررہ نذر فرضِ غیر معین ہیں۔

1 (iii). صاحبِ نصاب مسلمان پر عید الفطر کی نماز سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) صدقۂ فطر ✓ — یہ عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا واجب ہے، تاکہ غریب بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

1 (iv). جان بوجھ کر رمضان کا روزہ توڑنے والے پر لازم ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (ج) قضا اور کفارہ دونوں ✓ — جان بوجھ کر روزہ توڑنے پر قضا (ایک روزہ دوبارہ رکھنا) اور کفارہ (ساٹھ مسلسل روزے، ورنہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا) دونوں لازم ہیں۔

1 (v). مقررہ وقت پر سحری و افطار سے انسان کو ملتا ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) نظم و ضبط ✓ — سحری و افطار کے مقررہ اوقات انسان کو وقت کی پابندی اور نظم و ضبط سکھاتے ہیں۔

2 (i). صوم (روزے) کا معنی و مفہوم بیان کریں۔

صوم کا لفظی معنی رک جانا ہے۔ اصطلاح میں صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک اللہ کی رضا کے لیے کھانے پینے اور جائز خواہشات سے رک جانا روزہ کہلاتا ہے۔ یہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ زبان، آنکھ، کان اور دل کو بھی برائی سے روکنا اس کا حصہ ہے۔

2 (ii). روزے کے فوائد بیان کریں۔

روزے کے فوائد: (1) تقویٰ حاصل ہوتا ہے — یہی روزے کا مقصد ہے (سورۃ البقرۃ: 183)؛ (2) روزہ ڈھال ہے جو انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے (صحیح بخاری: 7492 کا ترجمہ)؛ (3) صبر کی تربیت ہوتی ہے، اس لیے رمضان کو صبر کا مہینہ کہا گیا ہے؛ (4) بھوکے لوگوں کا احساس پیدا ہوتا ہے؛ (5) نظم و ضبط اور وقت کی پابندی آتی ہے؛ (6) صحت کے فوائد — معدے کو آرام، قوتِ مدافعت میں اضافہ اور جسم کی صفائی۔

2 (iii). رمضان کے روزے کو فرض کیوں کہا جاتا ہے؟

کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس کا حکم دیا ہے: ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم متقی بن جاؤ“ (سورۃ البقرۃ: 183)۔ اللہ کے حکم سے فرض ہونے کی وجہ سے رمضان کے روزے ہر عاقل، بالغ، تندرست اور مقیم مسلمان پر فرض ہیں۔

2 (iv). ماہِ رمضان کے مسنون اعمال تحریر کریں۔

رمضان کے مسنون اعمال: (1) تراویح — عشاء کے بعد قیام اللیل، جس میں پورا قرآن سنانا سنت ہے؛ (2) قرآن کی تلاوت — رمضان قرآن کے نزول کا مہینہ ہے، اور نبی ﷺ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے، آخری رمضان میں دو مرتبہ؛ (3) اعتکاف — آخری عشرے میں مسجد میں ٹھہرنا؛ (4) لیلۃ القدر کی تلاش — آخری عشرے کی طاق راتوں میں، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے (سورۃ القدر: 3)؛ (5) صدقۂ فطر — عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا؛ (6) لیلۃ القدر کی دعا: ”اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے، معاف کرنا پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما“ (جامع ترمذی: 3513)۔

2 (v). روزے کے انسانی صحت پر کوئی سے دو اثرات تحریر کریں۔

(1) معدے کو آرام ملتا ہے — دن بھر کھانے سے وقفہ نظامِ ہضم کو بہتر کرتا ہے۔ (2) جسم کی صفائی اور قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے — روزہ جسم سے فاسد مادوں کے اخراج میں مدد کرتا ہے اور مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔

3. اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صوم (روزے) پر تفصیلی نوٹ لکھیں۔

صوم کا مطلب رک جانا ہے — صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک اللہ کی رضا کے لیے کھانے پینے اور جائز خواہشات سے رک جانا روزہ کہلاتا ہے۔ یہ ہر عاقل، بالغ، تندرست اور مقیم مسلمان پر فرض ہے، اور اس کی فرضیت کا حکم قرآن میں ہے (سورۃ البقرۃ: 183)۔ پہلی امتوں پر بھی روزے فرض تھے، اگرچہ ان کی نوعیت اور اوقات مختلف تھے۔ مریض اور مسافر قضا کریں گے، اور جسے صحت کی امید نہ ہو وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو دو وقت کا کھانا دے (فدیہ)۔ جان بوجھ کر روزہ توڑنے پر قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں — کفارہ ساٹھ مسلسل روزے ہیں، ورنہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ ⚠️ کتاب میں اس مقام پر کفارہ و فدیہ کی عبارت گنجلک ہے، اس لیے یہاں کتاب کی اپنی ترتیب کے مطابق لکھا گیا ہے، باہر سے کوئی حکم شامل نہیں کیا گیا۔ روزوں کی اقسام: فرضِ معین (رمضان، مقررہ نذر)، فرضِ غیر معین (قضا، کفارہ، غیر مقررہ نذر)، اور نفل (پیر و جمعرات، ایامِ بیض، عاشورہ، شوال کے چھ روزے — جیسا کہ کتاب میں درج ہے)۔ رمضان کے اعمال: ثواب ستر گنا تک بڑھ جاتا ہے؛ تراویح میں پورا قرآن سنایا جاتا ہے؛ قرآن اسی مہینے میں نازل ہوا؛ نبی ﷺ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے؛ اعتکاف آخری عشرے میں ہوتا ہے؛ لیلۃ القدر طاق راتوں میں تلاش کی جاتی ہے اور ہزار مہینوں سے بہتر ہے (سورۃ القدر: 3)؛ صدقۂ فطر عید کی نماز سے پہلے واجب ہے۔ روزے کے اثرات: تقویٰ، ڈھال (صحیح بخاری: 7492 کا ترجمہ)، صبر، بھوکوں کا احساس، برابری (امیر و غریب، حاکم و محکوم، آقا و غلام سب ایک ساتھ روزہ رکھتے ہیں)، مشترکہ افطار سے ہم آہنگی، سادگی و قناعت، قبولیتِ دعا، اللہ کی رضا، صحت کے فوائد، نظم و ضبط، اور طلبہ کے لیے خاص طور پر شخصیت، قوتِ ارادی اور صحت کی تربیت۔ یوں روزہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے۔

سرگرمی 1 (روزہ). والدین یا بزرگوں سے روزے کے احکام پر گفتگو کریں۔

طریقہ: گھر کے بزرگوں سے تین سوالات پوچھیں — روزہ کس پر فرض ہے؟ مریض اور مسافر کیا کریں؟ صدقۂ فطر کب ادا کیا جاتا ہے؟ — اور جواب نوٹ بک میں لکھیں۔

سرگرمی 2 (روزہ). روزے سے تقویٰ کیسے حاصل ہوتا ہے، اس پر نوٹ لکھیں۔

طریقہ: نوٹ میں تین نکات لکھیں: (1) روزہ دار اللہ کی خاطر جائز چیزوں سے بھی رک جاتا ہے، جو تقویٰ کی مشق ہے؛ (2) روزہ زبان و آنکھ کو بھی برائی سے روکتا ہے؛ (3) روزے کی حالت میں ”میں روزہ دار ہوں“ کہہ کر جھگڑے سے بچنا تقویٰ کی علامت ہے (صحیح بخاری: 1894 کا ترجمہ)۔

سرگرمی 3 (روزہ). دیگر مذاہب میں روزے کے تصور پر مطالعہ کریں۔

طریقہ: کسی مستند کتاب سے معلوم کریں کہ دیگر مذاہب میں روزے کا کیا تصور ہے — مثلاً پہلی امتوں پر بھی روزے فرض تھے، مگر ان کی نوعیت اور اوقات مختلف تھے۔ دو مذاہب کے روزوں کا اسلام کے روزے سے ایک سطر میں فرق لکھیں، اور کسی مذہب کے بارے میں ایسی بات نہ لکھیں جس کا حوالہ نہ ہو۔

9۔ حج و قربانی — مشق (کتاب، صفحہ 54)

1 (i). مناسکِ حج میں سے ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) احرام باندھنا ✓ — احرام حج کا پہلا اور لازمی رکن ہے، اس کے بغیر حج شروع نہیں ہوتا۔

1 (ii). حدودِ حرم کے وہ مقامات جہاں سے احرام باندھا جاتا ہے، کہلاتے ہیں:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) میقات ✓ — میقات وہ مقررہ مقامات ہیں جہاں سے احرام باندھنا لازم ہے؛ پاکستان کا میقات یلملم ہے۔

1 (iii). وہ حج جس میں حج اور عمرہ کے لیے اکٹھے احرام باندھا جاتا ہے، کہلاتا ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) حجِ قران ✓ — حجِ قران میں ایک ہی احرام سے حج اور عمرہ دونوں ادا کیے جاتے ہیں، اور یہی حج نبی ﷺ نے ادا فرمایا تھا۔

1 (iv). حج کا سب سے عظیم رکن ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (الف) وقوفِ عرفات ✓ — عرفات میں ٹھہرنا حج کا سب سے عظیم رکن ہے؛ جو اس سے رہ جائے اس کا حج نہیں ہوتا۔

1 (v). عید الاضحیٰ کے دن کا سب سے افضل عمل ہے:

Answer / جواب

درست جواب: (د) قربانی کرنا ✓ — عید الاضحیٰ کے دن سب سے افضل عمل قربانی ہے، اور جو استطاعت رکھتے ہوئے قربانی نہ کرے اس کے لیے سخت وعید آئی ہے (سنن ابن ماجہ: 3123 کا ترجمہ)۔

2 (i). حج کی فرضیت بیان کریں۔

حج کی فرضیت 9 ہجری میں نازل ہوئی۔ قرآن میں ہے: ”اور اللہ کے لیے لوگوں پر بیت اللہ کا حج فرض ہے، جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو“ (سورۃ آل عمران: 97)۔ نبی ﷺ نے ایک حج اور چار عمرے ادا فرمائے۔ حج جامع عبادت ہے — روحانی بھی، جسمانی بھی اور مالی بھی۔

2 (ii). کوئی سے چار مناسکِ حج تحریر کریں۔

(1) احرام باندھنا؛ (2) وقوفِ عرفات؛ (3) مزدلفہ میں قیام؛ (4) رمی (شیطان کو کنکریاں مارنا)۔ (دیگر مناسک: قربانی، حلق/تقصیر، طواف، سعی۔)

2 (iii). حج کی شرائط تحریر کریں۔

حج کی شرائط: مسلمان ہونا، بالغ ہونا، عاقل ہونا، تندرست ہونا، راستہ محفوظ ہونا، اور سفر کے اخراجات کے ساتھ گھر والوں کی کفالت کا انتظام ہونا۔ خواتین کے لیے محرم کا ساتھ بھی حج کے آداب میں شامل ہے۔ ان شرائط کے بغیر حج فرض نہیں ہوتا۔

2 (iv). قربانی کا فلسفہ بیان کریں۔

قربانی کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لیے اپنی محبوب چیز قربان کرے، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کرنے کا عزم کیا تھا۔ قربانی انسان کو سکھاتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم پر قربان کرے، اور اگر ضرورت پڑے تو اپنی جان بھی اللہ کی راہ میں دینے کا عہد کرے۔ یہی جذبہ عید الاضحیٰ کے دن سب سے افضل عمل بن جاتا ہے۔

2 (v). حج امتِ مسلمہ میں اجتماعیت کے فروغ کا کیسے سبب بنتا ہے؟

حج میں دنیا بھر کے مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، ایک لباس (احرام) پہنتے ہیں، ایک ہی وقت میں ایک ہی اعمال کرتے ہیں، اور ایک ہی زبان (تلبیہ) میں اللہ کو پکارتے ہیں۔ اس سے رنگ، نسل، زبان اور ملک کی تفریق ختم ہو جاتی ہے اور امت میں اخوت، تعاون اور اتحاد پیدا ہوتا ہے — تعلقات، سیاست، تجارت، عزت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی مسلمان ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔

3. حج و قربانی کے احکام و مسائل پر نوٹ لکھیں۔

حج کا لفظی معنی ارادہ کرنا ہے۔ اصطلاح میں استطاعت رکھنے والے مسلمان کا حج کے دنوں میں بیت اللہ جا کر مناسک ادا کرنا حج کہلاتا ہے۔ اس کی فرضیت 9 ہجری میں نازل ہوئی، اور نبی ﷺ نے ایک حج اور چار عمرے ادا فرمائے۔ یہ جامع عبادت ہے — روحانی، جسمانی اور مالی تینوں پہلوؤں پر مشتمل۔ مناسک: احرام، وقوفِ عرفات، مزدلفہ میں قیام، رمی، قربانی، حلق/تقصیر، طواف، سعی۔ شرائط: مسلمان، بالغ، عاقل، تندرست ہونا، راستے کا محفوظ ہونا، سفر کے اخراجات اور گھر والوں کی کفالت کا انتظام۔ احرام لازمی ہے، اور میقات سے احرام باندھنا لازم ہے — میقات سے آگے بغیر احرام جانا منع ہے، ورنہ دم لازم آتا ہے؛ پاکستان کا میقات یلملم ہے، اور بہتر یہ ہے کہ احرام گھر سے ہی باندھا جائے۔ حج کی اقسام: افراد (صرف حج)، قران (حج و عمرہ ایک احرام سے — نبی ﷺ نے یہی ادا فرمایا، سب سے افضل)، تمتع (الگ الگ احرام)۔ ترتیب: 8 ذوالحجہ (یوم الترویہ) کو منیٰ (ظہر، عصر، مغرب، عشاء، رات قیام)؛ 9 کو عرفات (ظہر و عصر ایک ساتھ، وقوف غروب تک)؛ پھر مزدلفہ (مغرب و عشاء ایک ساتھ، رات قیام)؛ 10 کو جمرۂ عقبہ کو سات کنکریاں، قربانی، حلق/تقصیر، طوافِ زیارت؛ 11-12 کو منیٰ میں قیام اور تینوں جمرات کی رمی؛ پھر مکہ میں طوافِ وداع؛ اس کے بعد مدینہ کی زیارت (مسجدِ نبوی ﷺ میں نمازیں اور نبی ﷺ کے مزار کی زیارت — یہ حج کا حصہ نہیں، محبت کی الگ عبادت ہے)۔ آداب: فحش باتوں، گالی، جھگڑے اور غیبت سے بچنا۔ حجِ مبرور کی جزا جنت ہے (جامع ترمذی: 933 کا ترجمہ)۔ قربانی: مخصوص جانور مخصوص دنوں میں اللہ کی رضا کے لیے ذبح کرنا؛ عید الاضحیٰ پر سنتِ مؤکدہ، اس دن کا سب سے افضل عمل، اور اس دن کو سال کا سب سے افضل دن کہا گیا ہے؛ عید کی نماز سے پہلے قربانی نہیں ہو سکتی؛ اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے، اور دوسرا مسلمان صرف اجازت سے ذبح کر سکتا ہے؛ جو استطاعت رکھتے ہوئے قربانی نہ کرے اس کے لیے وعید ہے (سنن ابن ماجہ: 3123 کا ترجمہ)۔ قربانی کا فلسفہ: خواہشات کی قربانی اور ضرورت پڑنے پر جان بھی اللہ کی راہ میں دینے کا عہد۔

سرگرمی 1 (حج). والدین یا بزرگوں سے حج کے احکام پر گفتگو کریں۔

طریقہ: گھر کے بزرگوں سے تین سوالات پوچھیں — حج کس پر فرض ہے؟ احرام کہاں سے باندھا جاتا ہے؟ حج کی اقسام کون سی ہیں؟ — اور جواب نوٹ بک میں لکھیں۔

سرگرمی 2 (حج). حج و قربانی کے فلسفے پر نوٹ لکھیں۔

طریقہ: نوٹ میں دو حصے لکھیں — حج کا فلسفہ (اتحاد، اخوت، برابری) اور قربانی کا فلسفہ (خواہشات کی قربانی، اللہ کی رضا)۔ ہر حصے میں دو سطریں لکھیں اور آخر میں ایک سطر میں لکھیں کہ یہ دونوں عبادتیں آپ کی زندگی میں کیا تبدیلی لا سکتی ہیں۔

سرگرمی 3 (حج). احرام باندھنے اور تلبیہ پڑھنے کی مشق کریں۔

طریقہ: جماعت میں احرام باندھنے کا طریقہ عملی طور پر دکھائیں (دو سفید چادروں سے)، اور تلبیہ بلند آواز سے پڑھیں: ”لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ“۔ تلبیہ کا ترجمہ بھی ساتھ بتائیں: ”حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں؛ بے شک حمد و نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“

سرگرمی 4 (حج). حج کے مناسک کی ترتیب پر چارٹ بنائیں: تلبیہ، میقات/احرام، طوافِ زیارت، سعی، وقوفِ عرفات، رمی، حلق/تقصیر، قربانی، طوافِ وداع۔

درست ترتیب: (1) میقات/احرام (تلبیہ کے ساتھ)؛ (2) وقوفِ عرفات؛ (3) رمی (جمرۂ عقبہ)؛ (4) قربانی؛ (5) حلق/تقصیر؛ (6) طوافِ زیارت؛ (7) سعی؛ (8) طوافِ وداع۔ ⚠️ یہ ترتیب سبق میں بیان کردہ مناسک کی ترتیب سے اخذ شدہ ہے — 8-12 ذوالحجہ کے دنوں کی تفصیل سبق میں موجود ہے، اسی کے مطابق ترتیب دی گئی ہے۔

📌 باب کا خلاصہ اور رہنمائی — اس باب میں کیا ہے؟
اردو

یہ باب ایمانیات و عبادات کا مکمل رہنما ہے۔ پہلے حصے میں پانچ عقیدے ہیں: توحید (اللہ ایک ہے — دلائل، اقسام، شرک اور اس کے نقصانات)، رسالتِ محمدی ﷺ (وحی کی صورتیں، وحی متلو و غیر متلو، سات خصوصیات اور ختمِ نبوت)، ملائکہ (نوری مخلوق، صفات اور ذمہ داریاں)، کتبِ سماویہ (چار کتابیں، صحیفے، مشترکہ تعلیمات اور قرآن کا امتیاز)، اور آخرت (برزخ، حشر، میزان، حوضِ کوثر، پلِ صراط، شفاعت اور اس کے عملی اثرات)۔ دوسرے حصے میں چار عبادتیں ہیں: نماز (فلسفہ، احکام، خشوع و خضوع، جماعت)، زکوٰۃ و صدقات (نصاب، مصارف، عشر، خمس اور معاشی نظام)، روزہ (فلسفہ، احکام، اقسام، رمضان کے اعمال)، اور حج و قربانی (فرضیت، مناسک، اقسام، ترتیب اور فلسفہ)۔ آخر میں ہر موضوع کی اپنی کتابی مشق حل کے ساتھ دی گئی ہے — 45 ایم سی کیوز، 45 مختصر سوالات، 9 تفصیلی سوالات اور 32 سرگرمیاں۔

نظرثانی کی رہنمائی: پہلے پانچ عقیدوں کے نام اور ہر ایک کی ایک دلیل یاد کرو — توحید کے لیے سورۃ الانبیاء (22)، رسالت کے لیے سورۃ الاحزاب (40)، ملائکہ کے لیے بیت المعمور کے ستر ہزار فرشتے، کتب کے لیے سورۃ الحجر (9)، آخرت کے لیے سورۃ الروم (27)۔ پھر چار عبادتوں کے بنیادی اعداد یاد کرو — پانچ نمازیں، زکوٰۃ 2.5%، روزے کی تین اقسام، حج کے تین اقسام (افراد، قران، تمتع)۔ آخر میں ہر مشق کے پانچ ایم سی کیوز خود سے حل کرو، پھر جواب دیکھو — جو غلط ہو، اس کا سبق والا حصہ دوبارہ پڑھو۔

ENGLISH

This chapter is a complete guide to Imaniyat and Ibadaat. The first part covers five beliefs: Tauheed (Allah is One — proofs, kinds, shirk and its harms), Risalat-e-Muhammadi ﷺ (forms of Wahi, Matlu and Ghair Matlu, seven special qualities, Khatm-e-Nubuwwat), Malaika (creatures of light, their qualities and duties), Kutub-e-Samawiya (the four books, the Sahifas, common teachings and the distinction of the Qur'an), and Aakhirat (Barzakh, Hashr, Mizan, Hawd-e-Kawthar, Pul-Sirat, Shafa'at and its practical effects). The second part covers four acts of worship: Namaz (philosophy, rules, khushu and khuzu, jama'at), Zakat and Sadaqat (nisab, recipients, Ushr, Khums and the economic system), Roza (philosophy, rules, kinds, Ramadan practices), and Hajj and Qurbani (obligation, rites, kinds, order and philosophy). At the end, each topic's own book exercise is solved — 45 MCQs, 45 short questions, 9 long questions and 32 activities.

Revision guidance: first learn the five beliefs with one proof each — Tauheed: Anbiya 22; Risalat: Ahzab 40; Malaika: the 70,000 angels at Bait al-Ma'mur; Kutub: Hijr 9; Aakhirat: Room 27. Then learn the key numbers of the four worships — five prayers, Zakat 2.5%, three kinds of fasts, three kinds of Hajj (Ifrad, Qiran, Tamattu). Finally, solve each exercise's five MCQs on your own before checking the answers — and re-read the lesson part for any answer you get wrong.

🎯 مزید MCQs اور Tests کے لیے

Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:

PunjabTest.com — Tests →

PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Islamiat, Chapter 2 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu

← Chapter 1Chapter 3 →