
نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ انسانی زندگی کے لیے سب سے خوبصورت نمونہ ہے، اور اس نمونے کی پہلی جھلک آپ ﷺ کے اپنے گھر میں نظر آتی ہے۔ گھر وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچہ بولنا، مانگنا، کھانا اور دوسروں سے پیش آنا سیکھتا ہے، اس لیے آپ ﷺ نے بچوں کی تربیت کو کھیل تماشا نہیں سمجھا بلکہ اسے سب سے سنجیدہ کام جانا۔ آپ ﷺ کے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ بچہ ڈر کے نہیں، محبت کے ساتھ سیکھتا تھا — بات نرمی سے کہی جاتی، غلطی پر ڈانٹ کے بجائے سمجھایا جاتا، اور اچھی بات پر فوراً شاباش ملتی۔
ایک مرتبہ آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو، جو اس وقت کم عمر تھے، یہ نصیحت فرمائی کہ مانگو تو صرف اللہ تعالیٰ سے مانگو، اور زندگی میں جب بھی کوئی ضرورت پیش آئے تو مدد بھی صرف اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ یہ ایک جملہ بچے کے دل میں پوری زندگی کے لیے عقیدے کی بنیاد ڈال دیتا ہے: انسانوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے پہلے اللہ کے آگے ہاتھ اٹھانا سیکھو۔ اسی طرح آپ ﷺ نے اپنے سوتیلے بیٹے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کو کھانے کے آداب سکھائے — کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ چھوٹی چھوٹی باتیں، مگر انھی سے بچے میں نظم، شکر اور سلیقہ پیدا ہوتا ہے۔
آپ ﷺ بچوں کے ساتھ کھیلتے بھی تھے اور ان کی دلچسپی کا خیال بھی رکھتے تھے۔ نماز کی حالت میں بھی اگر کوئی بچہ آپ ﷺ کی گود میں آ کر بیٹھ جاتا تو آپ ﷺ اسے پیار سے سنبھال لیتے، نماز مختصر کر دیتے تاکہ بچہ اور اس کی ماں پریشان نہ ہوں۔ یہی وہ تربیت ہے جس میں سختی کی جگہ شفقت نے لے لی تھی — بچہ یہ سمجھتا تھا کہ دین اسے بوجھ نہیں دیتا، سہارا دیتا ہے۔
غم کے سال کی مثال بھی اسی باب کی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے چچا حضرت ابو طالب کی وفات کے سال کو ”عام الحزن“ یعنی غم کا سال قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاندان کے بڑوں کی قدر کرنا، ان کے جانے پر غم محسوس کرنا اور اس کا اظہار کرنا کمزوری نہیں، انسانیت ہے۔ جو گھر اپنے بڑوں کی عزت کرنا جانتا ہے، وہی گھر بچوں کو بھی عزت دینا سکھاتا ہے۔
The life of the Prophet ﷺ is the finest model for human life, and the first place that model shows itself is his own home. Home is a child's first school — the place where a child learns to speak, to ask, to eat and to behave with others. That is why he treated the upbringing of children as serious work, not as a side matter. His home was a place where a child learned through love, not fear: things were said gently, mistakes were explained rather than shouted at, and good behaviour was praised at once.
Once he advised the young Abdullah bin Abbas (RA): ask only from Allah, and whenever you need anything in life, seek help only from Allah. One sentence like that lays the foundation of faith in a child's heart for life — before stretching your hand to people, learn to raise it to Allah. In the same way he taught his stepson Umar bin Abi Salamah (RA) the manners of eating: say Bismillah before eating, eat with the right hand, and eat from what is in front of you. Small points, but they are exactly what build discipline, gratitude and good manners in a child.
He also played with children and cared about what interested them. Even during prayer, if a child came and sat in his lap, he held the child lovingly and shortened the prayer so that the child and its mother would not be troubled. That is upbringing in which affection replaced harshness — the child learned that religion is not a burden laid on him, but a support given to him.
The "Year of Sorrow" belongs to this same chapter. He named the year in which his uncle Abu Talib passed away as "Aam al-Huzn", the Year of Sorrow. It shows that valuing the elders of the family, feeling grief at their passing and expressing it, is not weakness — it is humanity. A home that knows how to honour its elders is the home that teaches its children honour too.
گھر کے سربراہ کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ وہ باہر کتنا بڑا آدمی ہے، بلکہ یہ ہے کہ گھر کے اندر اس کا رویہ کیسا ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ انتہائی شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي (جامع ترمذی: 3895) — ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوں۔“ یعنی مرد کی بھلائی کا پہلا پیمانہ اس کا گھر ہے، دفتر یا بازار نہیں۔ آپ ﷺ روزمرہ کے کاموں میں بھی ازواج کی مدد فرماتے، ان کی ضروریات کا خیال رکھتے اور ان سے مشورہ بھی کرتے — گھر میں عورت کی رائے کو بوجھ نہیں، نعمت سمجھا جاتا تھا۔
بیٹیوں کے ساتھ آپ ﷺ کا سلوک اس زمانے کے لیے ایک انقلاب تھا جب بیٹی کو بوجھ سمجھا جاتا تھا۔ آپ ﷺ اپنی بیٹیوں سے بے حد محبت فرماتے، ان کی ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے، اور جب وہ آپ ﷺ کے پاس آتیں تو ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے۔ بیٹی کی عزت کرنا آپ ﷺ کے نزدیک صرف جذبہ نہیں تھا، ایک عملی سبق تھا: جس گھر میں بیٹی کو عزت ملتی ہے، اس گھر کی بیٹیاں کل کی مائیں بن کر وہی عزت آگے منتقل کرتی ہیں۔
ایک واقعہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ہے۔ بچپن میں انھوں نے صدقے کی ایک کھجور منہ میں ڈال لی تو آپ ﷺ نے فوراً وہ کھجور ان کے منہ سے نکلوا دی اور فرمایا کہ ہم اہلِ بیت صدقہ نہیں کھاتے۔ بچے کو یہ سبق اسی وقت ملا کہ حلال و حرام کی حد بچپن سے ہی پہچانی جاتی ہے، اور چھوٹی سی چیز بھی اگر ناجائز ذریعے سے آئے تو اسے چھوڑ دینا ہی اصل تربیت ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے اپنی رضاعی بہن حضرت شیما کے ساتھ بھی بڑا احترام فرمایا — جب وہ آئیں تو آپ ﷺ نے اپنی چادر بچھا دی اور ان کی خدمت کی۔ رشتہ چاہے دودھ کا ہو یا خون کا، اس کا احترام آپ ﷺ کے نزدیک فرض کے درجے میں تھا۔
خاندان سے آگے بڑھ کر رشتہ داروں کے حقوق کا دروازہ ”صلہ رحمی“ سے کھلتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَأَنْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ (صحیح بخاری: 5985) — ”جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کی عمر میں برکت ہو، اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔“ یعنی رشتے جوڑنا صرف اخلاقی بات نہیں، رزق اور عمر کی برکت کا ذریعہ بھی ہے۔ غزوہ بدر کے موقع پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کی تیمارداری کے لیے مدینہ میں رہ گئے اور جنگ میں شریک نہ ہو سکے، مگر آپ ﷺ نے انھیں بدری صحابی کا درجہ اور مالِ غنیمت میں حصہ عطا فرمایا — گھر کی ذمہ داری نبھانا بھی جہاد سے کم نہیں سمجھا گیا۔
The real test of a head of family is not how great a man he is outside, but how he behaves inside his own home. The Prophet ﷺ treated his wives with great affection and kindness. He said: "The best of you is the best to his family, and I am the best of you to my family" (Jami al-Tirmidhi: 3895). In other words, the first measure of a man's goodness is his home, not his office or his shop. He helped with everyday household work, looked after his wives' needs, and consulted them too — a wife's opinion was treated in his home as a blessing, not a burden.
His treatment of daughters was a revolution in a time when a daughter was treated as a burden. He loved his daughters deeply, visited them, and when they came to him he would stand up out of respect for them. Honouring a daughter was not just a feeling for him, it was a practical lesson: a home where a daughter is honoured raises daughters who, as tomorrow's mothers, pass that same honour on.
There is the well-known incident of Hasan (RA). As a small child he put a date given in charity into his mouth, and the Prophet ﷺ at once had it taken out, explaining that the family of the Prophet does not eat charity. The child learned there and then that the line between lawful and unlawful is recognised from childhood, and that giving up even a small thing that came through a wrong channel is real upbringing. In the same way he honoured his foster sister Shaima (RA) — when she came, he spread his own cloak for her to sit on and served her. Whether a tie was of milk or of blood, respecting it was, for him, close to a duty.
Beyond the household, the door to relatives' rights opens through "silah-rehmi", keeping ties of kinship. He said: "Whoever wishes that his provision be widened for him and his life be lengthened, let him keep ties with his kin" (Sahih al-Bukhari: 5985). Keeping ties is not only good manners — it is also a means of blessing in provision and life. At Badr, Uthman (RA) stayed back in Madinah to nurse his wife and could not join the battle, yet the Prophet ﷺ gave him the rank of a Badri companion and a share of the spoils — looking after a duty at home was not counted as less than battle.
زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح سربراہِ ریاست کے طور پر بھی نبی کریم ﷺ کی زندگی ایک مثالی نمونہ ہے۔ مدینہ منورہ کی ریاست ایسی ریاست تھی جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے احکام پر رکھی گئی تھی، اور جس میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دوسری قوموں کے لوگ بھی آباد تھے۔ ایک نئی ریاست بنانا آسان نہیں ہوتا — لوگ مختلف قبیلوں، مذہبوں اور مفادوں سے آتے ہیں، اور ان سب کو ایک قانون کے نیچے لانا ہی اصل سیاست ہے۔ آپ ﷺ نے یہ کام تلوار سے نہیں، معاہدے سے شروع کیا۔
سب سے پہلا قدم ”میثاقِ مدینہ“ تھا — ایک تحریری معاہدہ جس میں مدینہ کے مسلمانوں، یہودیوں اور دوسرے قبیلوں کے حقوق اور فرائض طے کر دیے گئے۔ اس معاہدے کی رو سے سب شہری ایک دوسرے کے دفاع کے پابند تھے، اور کوئی قبیلہ باہر کے دشمن سے الگ معاہدہ نہیں کر سکتا تھا۔ آج کی زبان میں کہیں تو یہ دنیا کا پہلا تحریری دستور تھا جس نے مختلف مذہبوں کے لوگوں کو ایک سیاسی وحدت میں جوڑا۔ اس کے بعد ”مواخاتِ مدینہ“ آئی — مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا گیا، تاکہ مکہ سے آنے والا بے گھر مسلمان مدینہ میں اجنبی نہ رہے بلکہ اس کا ایک بھائی، ایک گھر اور ایک سہارا ہو۔
مسجدِ نبوی اس ریاست کا مرکز تھی۔ یہ صرف نماز کی جگہ نہیں تھی — یہیں فیصلے ہوتے، وفود آتے، تعلیم دی جاتی اور بیت المال کے معاملات طے پاتے۔ مسجد کے ایک چبوترے ”صفہ“ پر وہ طلبہ رہتے تھے جو دین سیکھنے کے لیے آئے تھے؛ یہ ریاست کا پہلا تعلیمی ادارہ تھا جہاں غریب اور امیر کا فرق مٹا کر صرف علم کی بنیاد پر جگہ ملتی تھی۔ گویا ریاست کی عمارت کی پہلی اینٹیں مسجد، معاہدہ اور بھائی چارہ تھیں — نہ کہ قلعہ یا خزانہ۔
ریاست چلانے کے لیے آپ ﷺ نے مختلف علاقوں میں گورنر اور قاضی مقرر فرمائے۔ اس سلسلے میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا گیا۔ انھیں یہ ہدایت دی گئی کہ پہلے قرآن، پھر سنت، پھر اپنی رائے سے فیصلہ کریں — یعنی گورنر کی آزادی بھی قانون کے اندر تھی، قانون سے باہر نہیں۔ یہی وہ نظم تھا جس نے ایک چھوٹے سے شہر کی ریاست کو چند برسوں میں پورے عرب کی امید بنا دیا۔
Just as in the other walks of life, the Prophet's ﷺ life is an ideal model as head of state too. The state of Madinah was founded on the commands of Allah, and people of other faiths lived in it alongside the Muslims. Founding a new state is never easy — people come from different tribes, faiths and interests, and bringing them all under one law is the real work of politics. He began that work not with the sword, but with a pact.
The first step was the "Meesaq-e-Madinah", a written pact that fixed the rights and duties of Madinah's Muslims, Jews and other tribes. Under it, all citizens were bound to defend one another, and no tribe could make a separate pact with an outside enemy. In today's language, it was the world's first written constitution binding people of different faiths into one political unity. Then came the "Muakhat-e-Madinah" — brotherhood between the Muhajireen and the Ansar — so that a homeless Muslim arriving from Makkah would not remain a stranger in Madinah, but would have a brother, a home and a support.
Masjid Nabawi was the centre of this state. It was not only a place of prayer — decisions were taken there, delegations were received, teaching was given, and the affairs of the public treasury were settled there. On a platform of the mosque called "Suffa" lived students who had come to learn the faith; it was the state's first school, where the difference between rich and poor vanished and a place was given on the basis of learning alone. In other words, the first bricks of the state were the mosque, the pact and brotherhood — not a fortress or a treasury.
To run the state, he appointed governors and judges over different regions. In this connection Muadh bin Jabal (RA) was sent as governor of Yemen, with the instruction to decide first by the Quran, then by the Sunnah, then by his own judgement — that is, a governor's freedom existed inside the law, not outside it. It was this order that turned a small city-state into the hope of all Arabia within a few years.
کتاب نے سربراہِ ریاست کے طور پر آپ ﷺ کی حکمتِ عملی کے بنیادی عناصر پانچ بتائے ہیں، اور انھیں سمجھنا آسان ہے اگر ہم انھیں ایک ایک کر کے دیکھیں۔ پہلا عنصر اشاعتِ اسلام ہے۔ ریاستِ مدینہ میں دین کی تعلیم و تبلیغ کا ایک مربوط نظام تھا جو اسلامی حکومت کا بنیادی فریضہ سمجھا جاتا تھا۔ مسجدِ نبوی میں باقاعدہ درس گاہ تھی، صفہ کے طلبہ وہاں تعلیم پاتے تھے، اور باہر کے علاقوں میں مبلغین بھیجے جاتے تھے — دین زبردستی نہیں، تعلیم اور کردار سے پھیلتا تھا۔
دوسرا عنصر احترامِ انسانیت ہے۔ مدینہ کی مثالی ریاست میں ایک اہم احترامِ انسانیت کا تھا — آپ ﷺ نے اس معاشرتی امن کے قیام کے لیے تشدد سے منع فرمایا اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کا درس دیا۔ کتاب میں درج ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے کنبے کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے (شعب الایمان: 2528)۔ اور غیر مسلم شہریوں کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی غیر مسلم پر ظلم کیا، یا اس کا حق مارا، یا اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا، یا اس کی دلی رضامندی کے بغیر اس کی کوئی چیز لی، تو میں قیامت کے دن اس مسلمان کے خلاف غیر مسلم کے حق میں وکیل ہوں گا (سنن ابی داؤد: 3052)۔ یہ وہ جملہ ہے جو اقلیتوں کے حقوق کی سب سے مضبوط ضمانت ہے۔
تیسرا عنصر ریاست کا دفاعی نظام ہے۔ اسلامی ریاست کو اپنے تحفظ اور استحکام کے لیے مسلسل تدابیر کی ضرورت تھی، اور آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کو اندرونی اور بیرونی طور پر محفوظ بنانے کے لیے معاہدے بھی کیے اور تیاری بھی رکھی — دفاع کا مطلب صرف لڑنا نہیں، دشمن کو حملے کا موقع ہی نہ دینا بھی ہے۔ چوتھا عنصر خارجہ پالیسی ہے: آپ ﷺ نے دوسری ریاستوں کو اسلام کی دعوت دینے اور ان سے بہتر تعلقات بنانے کی کوشش فرمائی، اور اس پالیسی کا شاہکار صلح حدیبیہ ہے — ایک ایسا معاہدہ جو بظاہر سخت لگا مگر جس نے اسلام کے لیے امن کا دروازہ کھول دیا اور مسلمانوں کی قوت میں اضافہ کیا۔
پانچواں عنصر بیت المال اور سرکاری ملازمین کا نظام ہے۔ آپ ﷺ نے سرکاری کام کرنے والوں کے لیے صرف اتنی تنخواہ مقرر فرمائی تھی جس سے ان کی ضرورت پوری ہو سکے، اور اس سے زیادہ کسی عہدے، منصب یا ذمہ داری کا فائدہ اٹھانا منع تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے، ہر ایک سے اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا (صحیح بخاری: 893)۔ یعنی عہدہ کمائی کا ذریعہ نہیں، جوابدہی کا نام ہے — یہی اصول آج کی کرپشن کا سب سے پرانا اور سب سے صاف جواب ہے۔
The book names five basic elements of his statecraft as head of state, and they are easy to grasp if we take them one by one. The first is the spread of Islam. In Madinah there was an organised system of teaching and preaching the faith, counted as a basic duty of the Islamic government. Masjid Nabawi had a regular school, the students of Suffa studied there, and preachers were sent to outside regions — the faith spread through teaching and character, not through force.
The second is respect for humanity. In the ideal state of Madinah, respect for humanity held an important place — he forbade violence in order to build social peace, and taught mutual respect. As recorded in the book, he said: creation is Allah's family, and the most beloved to Allah is the person who treats Allah's family well (Shuab al-Iman: 2528). And about non-Muslim citizens he said: whoever wrongs a non-Muslim, takes his right, burdens him beyond his strength, or takes anything of his without his willing consent — I will be an advocate for that non-Muslim against that Muslim on the Day of Judgement (Sunan Abi Dawud: 3052). That sentence is the strongest guarantee of minority rights.
The third element is the state's defence system. An Islamic state needed constant measures for its protection and stability, and he both made treaties and kept prepared, making Madinah safe from inside and outside — defence does not only mean fighting; it also means never giving the enemy a chance to attack. The fourth is foreign policy: he invited other states to Islam and worked to build better relations with them, and the masterpiece of that policy is the Treaty of Hudaibiyah — a pact that looked hard on the surface, but which opened the door of peace for Islam and increased the Muslims' strength.
The fifth is the public treasury and the system for state officials. He fixed for state workers only such a salary as would meet their needs, and taking any further benefit from an office, post or responsibility was forbidden. He said: every one of you is a guardian, and every one of you will be asked about those under his care (Sahih al-Bukhari: 893). An office, in other words, is not a source of income — it is a name for accountability. That principle is the oldest and clearest answer to corruption today.
نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی میں بہت سے غزوات و سرایا پیش آئے جن میں بطور سپہ سالار تقریباً اٹھائیس (28) غزوات میں آپ ﷺ نے اسلامی لشکر کی قیادت فرمائی۔ آپ ﷺ نے انتہائی قلتِ وسائل کے باوجود دشمن کے مقابلے میں کبھی ہمت نہیں ہاری، اور میدان میں ڈٹ کر لڑنے کی مثال قائم فرمائی۔ سپہ سالار کی پہلی خوبی یہی ہوتی ہے کہ وہ خود آگے ہو — آپ ﷺ سب سے آگے ہوتے، سب سے زیادہ خطرے والی جگہ پر ہوتے، اور اسی لیے سپاہیوں کا حوصلہ کبھی نہیں ٹوٹتا تھا۔ شجاعت کا مطلب آپ ﷺ کے نزدیک اندھا دلیری نہیں تھا، بلکہ حق پر ڈٹے رہنا تھا، چاہے تعداد کم ہو اور وسائل کم ہوں۔
دوسری خوبی منصوبہ بندی تھی۔ آپ ﷺ جنگ سے پہلے دشمن کی خبر رکھتے، راستوں کا جائزہ لیتے اور موقع کی مناسبت سے فیصلہ کرتے۔ غزوہ خندق میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے پر عمل کیا گیا — مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی، اور دشمن جو سامنے کی جنگ کے لیے آیا تھا، خندق دیکھ کر رک گیا۔ اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے دشمن کو اطلاع ملنے سے پہلے ہی مکہ کی طرف پیش قدمی فرمائی، تاکہ خونریزی کے بغیر شہر فتح ہو جائے۔ یہی فرق ہے سپہ سالار اور محض بہادر آدمی میں: بہادر آدمی لڑتا ہے، سپہ سالار لڑائی سے پہلے ہی جیت کی صورت بنا لیتا ہے۔
تیسری خوبی مشورہ تھی۔ آپ ﷺ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرتے، ان کی آراء سنتے اور درست رائے کو اپنا لیتے — خندق کا مشورہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ غزوہ بدر کے موقع پر بھی آپ ﷺ نے صحابہ سے مشورہ کر کے مدینہ سے باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا، اور غزوہ خندق کے موقع پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی رائے کو اہمیت دی گئی۔ مشورے سے فیصلہ کمزور نہیں ہوتا، مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ اس میں سب کی عقل اور سب کا دل شامل ہو جاتا ہے۔ صلح حدیبیہ میں بھی آپ ﷺ کا کردار یہی تھا: صبر، دور اندیشی اور امن کو ترجیح — آپ ﷺ نے ایک سخت معاہدہ قبول کر لیا کیونکہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ امن کے چند سال اسلام کو وہ طاقت دیں گے جو جنگ کے کئی سال نہیں دے سکتے۔
اس کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی حکمتِ عملی میں ایک بات ہمیشہ نمایاں رہی: لڑائی آخری راستہ تھی، پہلا نہیں۔ آپ ﷺ نے ہر موقع پر پہلے امن کا راستہ تلاش کیا، اور امن کا راستہ تلاش کرنا آپ ﷺ کی امن پسندی کا ثبوت تھا — نہ کہ کمزوری کا۔ طاقت کے باوجود معاہدہ کرنا، اور معاہدے پر قائم رہنا، یہی مثالی سپہ سالار کی پہچان ہے۔
In the blessed life of the Prophet ﷺ many battles and expeditions took place, and as commander he led the Islamic army in about twenty-eight (28) battles. Despite very limited resources, he never lost heart against the enemy, and he set the example of standing firm on the field. The first quality of a commander is that he himself goes forward — he was at the front, at the most dangerous place, and that is why his soldiers' courage never broke. For him, bravery did not mean blind daring; it meant standing firm on the truth, even when numbers were small and resources were few.
The second quality was planning. Before a battle he kept himself informed about the enemy, studied the routes, and decided according to the occasion. At the Battle of the Trench, the advice of Salman Farsi (RA) was followed — a trench was dug around Madinah, and the enemy, who had come for an open battle, stopped when it saw the trench. In the same way, at the Conquest of Makkah, he advanced on Makkah before news could reach the enemy, so that the city could be taken without bloodshed. That is the difference between a commander and a merely brave man: a brave man fights, but a commander creates the conditions of victory before the fight begins.
The third quality was consultation. He consulted his companions, listened to their views, and adopted the right view — the trench is the greatest example of this. At Badr too, he consulted the companions and decided to go out of Madinah to meet the enemy, and at the Trench the opinion of Salman Farsi (RA) was given weight. A decision made by consultation is not weaker, it is stronger, because it carries everyone's wisdom and everyone's heart. At Hudaibiyah his role was the same: patience, far-sightedness, and giving priority to peace — he accepted a hard treaty because he knew that a few years of peace would give Islam a strength that years of war could not.
Alongside all this, one thing always stood out in his strategy: fighting was the last resort, never the first. At every occasion he first sought the path of peace, and seeking peace was proof of his love of peace — not of weakness. Making a treaty despite having power, and then standing by that treaty, is the mark of an ideal commander.
جنگ کے آداب کے حوالے سے نبی کریم ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جو ہدایات جاری فرماتے تھے، وہ آج بھی دنیا کے فوجی قانون کی بنیاد سمجھی جا سکتی ہیں۔ سب سے پہلی ہدایت یہ تھی کہ جنگ کی خواہش نہ کرو — دشمن سے مقابلے کی تمنا مت کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو، اور جب مقابلہ ہو جائے تو پھر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرو۔ کتاب میں درج ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور دعا نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو، اور جب دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو پھر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرو، اور یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے (صحیح بخاری: 2966)۔ یعنی جنگ کا شوق نہیں، جنگ میں ثابت قدمی ہے۔
دوسری ہدایات ان لوگوں کے بارے میں تھیں جو لڑ نہیں رہے تھے۔ خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنے کا شمار آدابِ جہاد میں ہوتا ہے — یہ وہ اصول ہے جسے آج ”شہریوں کا تحفظ“ کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ نے دشمن کو آگ میں جلانے سے منع فرمایا، غیر متعلقہ لوگوں سے ناروا سلوک سے منع فرمایا، اور معاہدے کی پابندی کو لازم قرار دیا۔ جو قوم اپنے دشمن کے ساتھ بھی وعدہ نبھاتی ہے، وہی قوم امن کے قابل سمجھی جاتی ہے۔
تیسری بات صلح کی طرف جھکاؤ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ (سورۃ الانفال: 61) — ”اور اگر وہ (کفار) صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ (ﷺ) بھی اس کی طرف مائل ہو جائیے اور اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔“ آپ ﷺ نے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے صلح حدیبیہ میں صلح کو ترجیح دی، اور فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان فرمایا — جو لوگ برسوں دشمنی کرتے رہے تھے، انھیں بھی معاف کر دیا گیا۔ طاقت کے وقت معاف کرنا ہی اصل فتح ہے، کیونکہ اس سے دل جیتے جاتے ہیں، صرف شہر نہیں۔
قیدیوں کے بارے میں آپ ﷺ کی تعلیمات بھی اسی نرمی کی مثال ہیں۔ قیدیوں کو وہی کھانا اور کپڑا دیا جاتا جو مسلمان خود کھاتے اور پہنتے تھے، ان پر ظلم و تشدد کے بجائے ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جاتا، اور ان کی رہائی کے لیے معقول راستے رکھے جاتے تھے — مثلاً فدیہ، یا مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھا کر رہائی۔ قیدی دشمن ضرور تھا، مگر انسان بھی تھا، اور اس کی انسانیت جنگ کے بعد بھی محفوظ رہتی تھی۔ یہی وہ فرق ہے جس سے اسلام کے تصورِ جہاد اور دہشت گردی میں فرق واضح ہوتا ہے: جہاد کا اصل مقصد اللہ کے کلمے کی سربلندی، مظلوموں کا دفاع اور امن کا قیام ہے، جبکہ دہشت گردی بے گناہوں کو ڈرانے، مارنے اور معاشرے میں خوف پھیلانے کا نام ہے — دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے، اور کتاب اس فرق کو سمجھنے پر خاص زور دیتی ہے۔
The instructions the Prophet ﷺ issued to his companions about the etiquette of war could still serve as the basis of the world's military law today. The first instruction was: do not wish for war — do not long for a fight with the enemy; rather pray to Allah for peace and safety, and when the fight comes, then show patience and steadfastness. As recorded in the book, he said: do not wish to meet the enemy in battle, but ask Allah for safety; and when you do meet them, be patient and firm, and remember that Paradise lies under the shade of swords (Sahih al-Bukhari: 2966). In other words: no love of war, but firmness in war.
The second set of instructions concerned those who were not fighting. Not killing women, children and the old counts among the etiquette of jihad — the principle we today call "protection of civilians". Alongside it, he forbade burning the enemy in fire, forbade ill-treatment of uninvolved people, and made keeping treaties obligatory. A nation that keeps its word even with its enemy is the nation counted worthy of peace.
The third point was leaning towards peace. Allah said: "And if they incline towards peace, then incline towards it too, and put your trust in Allah" (Surah al-Anfal: 61). Acting on this command, he preferred peace at Hudaibiyah, and at the Conquest of Makkah he announced a general amnesty — even people who had been enemies for years were forgiven. Forgiving at the moment of power is the real victory, because it wins hearts, not only cities.
His teachings about prisoners are an example of the same gentleness. Prisoners were given the same food and clothing that Muslims themselves ate and wore; instead of cruelty, they were treated with kindness; and reasonable paths to freedom were kept open for them — for example, ransom, or freedom in return for teaching Muslims to read and write. A prisoner was certainly an enemy, but he was also a human being, and his humanity remained protected even after the war. This is exactly the difference that makes the Islamic concept of jihad distinct from terrorism: the real aim of jihad is raising Allah's word, defending the oppressed and establishing peace, while terrorism is the name for frightening and killing innocent people and spreading fear in society — the two differ as earth differs from sky, and the book lays special stress on understanding that difference.
اسلام جس طرح اخلاقی، معاشرتی اور روحانی معاملات میں رہنمائی کرتا ہے، اسی طرح معیشت سے متعلق بنیادی اصولوں کو بھی واضح کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی معاشی تعلیمات کا سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ ساری کائنات کا رازق اللہ تعالیٰ ہے — معاشرے کا ہر فرد یہ حق رکھتا ہے کہ وہ حلال طریقے سے رزق کما سکے، مگر اس کی کمائی شریعت کی مقرر کردہ حدود کے اندر ہو۔ اللہ کو رازق ماننے کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں، بلکہ یہ یقین ہے کہ محنت ہماری ذمہ داری ہے اور نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے ہاتھ کی کمائی کو سب سے بہتر کمائی قرار دیا، اور خود بھی اعلانِ نبوت سے پہلے تجارت کی — حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال سے تجارت کر کے آپ ﷺ نے دکھایا کہ نبی کا ہاتھ بھی محنت سے خالی نہیں تھا۔
اسلام کا معاشی نظام اخلاقی اقدار پر مبنی ہے، جو دولت کی تقسیم میں عدل اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی کی تعلیم دیتا ہے۔ انسان مال و دولت کمانے کی کوشش میں مشغول ہو کر آخرت کو فراموش کر دے، یہ وہ خطرہ ہے جس سے آپ ﷺ نے خبردار فرمایا۔ اس نظام میں دولت چند ہاتھوں میں سمٹنے کے بجائے گردش میں رہتی ہے — زکوٰۃ، صدقہ، وراثت اور انفاق کے ذریعے مال غریب تک پہنچتا ہے، اور یوں معاشرے میں امیر و غریب کا فاصلہ کم ہوتا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جو اسلام کی معاشی تعلیمات کا دل ہے۔
کھیتی باڑی سے متعلق اسلامی تعلیمات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ آپ ﷺ نے نہ صرف خود کھیتی باڑی کی ترغیب دی، بلکہ اس کی فضیلت بھی بیان فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کوئی کھیتی اگاتا ہے، اس سے کوئی پرندہ، انسان یا جانور کھائے تو وہ اس کا صدقہ ہو جاتا ہے، یعنی اس کے لیے اجر و ثواب کا باعث بنتا ہے (صحیح بخاری: 2320)۔ مدینہ کے انصار کی کثرت کا پیشہ زراعت تھا، اور آپ ﷺ نے ان کی محنت کو عزت دی — کسان کا کام چھوٹا کام نہیں، عبادت کے درجے کا کام ہے جب نیت درست ہو۔
تجارت کے بارے میں آپ ﷺ کی تعلیم سب سے زیادہ روشن ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: سچا اور دیانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا (جامع ترمذی: 1209)۔ سوچیے — ایک تاجر کا درجہ انبیاء کے ساتھ کیوں؟ اس لیے کہ سچا تاجر روزانہ درجنوں مرتبہ امتحان سے گزرتا ہے: ناپ میں کمی کرے یا نہ کرے، عیب چھپائے یا بتا دے، گاہک کو دھوکا دے یا سچ بولے۔ جو شخص ہر روز اس امتحان میں پاس ہوتا ہے، اس کا درجہ واقعی بلند ہے۔ اسی لیے حلال ذرائع سے رزق کمانا صرف معاشی مسئلہ نہیں، دینی مسئلہ بھی ہے۔
Just as Islam guides moral, social and spiritual matters, it also makes clear the basic principles of the economy. The most basic principle of the Prophet's ﷺ economic teachings is that Allah is the Provider of the whole universe — every member of society has the right to earn a living by lawful means, but his earning must stay within the limits fixed by the Shariah. Believing Allah to be the Provider does not mean sitting idle; it means this conviction: effort is our duty, and the result is in Allah's hands. That is why he called earning by one's own hands the best earning, and why he himself traded before his prophethood — trading with the goods of Khadijah (RA), he showed that even a prophet's hands were not empty of labour.
Islam's economic system rests on moral values, teaching justice in the distribution of wealth and sympathy for others. The danger he warned against is that a person, busy chasing wealth, forgets the Hereafter. In this system wealth does not pile up in a few hands but keeps moving — through zakat, charity, inheritance and spending in Allah's way, wealth reaches the poor, and so the gap between rich and poor in society narrows. That balance is the heart of Islam's economic teachings.
The Islamic teachings about farming belong to the same chain. He not only encouraged farming, but also described its excellence. He said: if a Muslim plants a tree or grows a crop, and any bird, human or animal eats from it, that becomes charity for him — a source of reward (Sahih al-Bukhari: 2320). Most of Madinah's Ansar were farmers, and he honoured their labour — a farmer's work is not small work; with the right intention, it is work of the rank of worship.
His teaching about trade is the brightest of all. He said: the truthful and trustworthy trader will be with the prophets, the truthful and the martyrs on the Day of Judgement (Jami al-Tirmidhi: 1209). Think about it — why should a trader's rank be with the prophets? Because a truthful trader passes a test dozens of times every day: whether to give short measure or not, whether to hide a defect or declare it, whether to deceive the customer or speak the truth. A person who passes that test every day truly holds a high rank. That is why earning through lawful means is not only an economic matter, but a religious one too.
نبی کریم ﷺ کی معاشی تعلیمات کا نمایاں ترین اصول ناجائز ذرائع سے اجتناب کرنا ہے، اور اس ضمن میں سب سے پہلے ذخیرہ اندوزی آتی ہے۔ ذخیرہ اندوزی کا مطلب ہے ضروری اشیاء کو اس لیے جمع کر کے رکھنا کہ بازار میں قلت پیدا ہو اور دام بڑھ جائیں۔ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا، کیونکہ اس کا نقصان براہِ راست غریب کو پہنچتا ہے — جس کے پاس جمع کرنے کی طاقت ہے وہی دام بڑھاتا ہے، اور جس کے پاس خریدنے کی طاقت نہیں وہی بھوکا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (سورۃ التوبہ: 34) — ”اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، تو آپ انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجیے۔“ دولت کو روک کر رکھنا، اسے گردش سے نکال دینا، یہی ارتکازِ دولت ہے — دولت کا چند ہاتھوں میں جمع ہونا، جو معاشی نظام میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔
دوسرا بند دروازہ سود ہے۔ قرآن مجید میں سود کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کھلی جنگ قرار دیا گیا ہے۔ سود کیوں اتنا بڑا جرم ہے؟ اس لیے کہ سودی نظام میں امیر کی دولت بیٹھے بٹھائے بڑھتی ہے اور غریب کا قرض بڑھتا ہے — محنت کرنے والا ہارتا ہے اور محنت سے بچنے والا جیتتا ہے۔ سود سے معاشرے میں عدم مساوات اور معاشی ظلم بڑھتا ہے، اور اسی لیے انسانیت کو معاشی استحصال سے بچانے کے لیے سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ملاوٹ اور خیانت سے بھی منع فرمایا — ملاوٹ دھوکے کی ایک شکل ہے جس سے خریدار کو نقصان پہنچتا ہے، اور جس نے ملاوٹ کی اس کا معاملہ اللہ کے ہاں جوابدہی کے قابل ہو جاتا ہے۔
ان تعلیمات پر عمل کے دو فائدے فوراً نظر آتے ہیں۔ پہلا، معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے — غریب کی ضرورت پوری ہوتی ہے اور امیر کی دولت بھی محفوظ رہتی ہے، کیونکہ وہ دولت نفرت کی نظر سے نہیں دیکھی جاتی۔ دوسرا، کاروبار میں اعتماد بحال ہوتا ہے — جب تاجر سچا ہو، ناپ پورا ہو اور دام مناسب ہو، تو گاہک بھی خوش ہوتا ہے اور بازار بھی آباد رہتا ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کی معاشی تعلیمات پر عمل سے ایک ایسا معاشرہ بنتا ہے جس میں نہ بھوک کی بے بسی ہو اور نہ دولت کی بے حسی — اور یہی اس باب کا سب سے بڑا سبق ہے۔
⚠️ نوٹ: اس حصے میں سود اور ذخیرہ اندوزی کے بارے میں جو تفصیل دی گئی ہے، وہ کتاب کے اسی باب کے مضامین کی وضاحت ہے؛ کسی بھی آیت یا حدیث کو اس کی کتابی عبارت سے آگے بڑھا کر پیش نہیں کیا گیا۔
The most prominent principle of the Prophet's ﷺ economic teachings is avoiding unlawful means, and the first of these is hoarding. Hoarding means collecting essential goods and keeping them back so that scarcity is created in the market and prices rise. He forbade it, because its harm falls directly on the poor — the one who has the power to hoard raises the price, and the one who has no power to buy goes hungry. Allah said: "And those who hoard gold and silver and do not spend them in the way of Allah — give them tidings of a painful punishment" (Surah al-Tawbah: 34). Keeping wealth back and taking it out of circulation is exactly "irtikaz-e-dolat" — wealth gathered in a few hands — which becomes a cause of corruption in the economic system.
The second closed door is interest. In the Quran, interest is declared open war against Allah and His Messenger ﷺ. Why is interest such a great crime? Because in an interest system the rich person's wealth grows while he sits idle, and the poor person's debt grows — the one who labours loses, and the one who avoids labour wins. Interest increases inequality and economic oppression in society, and that is why it was declared unlawful — to save humanity from economic exploitation. In the same way he forbade adulteration and dishonesty — adulteration is a form of deceit that harms the buyer, and the one who adulterates becomes answerable to Allah for his dealing.
Two benefits of acting on these teachings are visible at once. First, wealth is distributed fairly in society — the poor person's need is met, and the rich person's wealth also stays safe, because it is not looked at with hatred. Second, trust returns to business — when the trader is truthful, the measure is full and the price is fair, the customer is happy and the market stays lively. Acting on the economic teachings of his noble life builds a society with neither the helplessness of hunger nor the heartlessness of wealth — and that is the greatest lesson of this chapter.
⚠️ Note: the detail given here about interest and hoarding explains the contents of this very chapter of the book; no verse or hadith has been stretched beyond its wording in the book.
The book's exercise for this chapter (printed pp. 55–70) is in four separate parts — one Mashq at the end of each of the four sections (الف، ب، ج، د). Each part has the same pattern: Q1 — Durust jawab ka intikhab (5 MCQs); Q2 — Mukhtasar jawab (5 short questions); Q3 — Tafseeli jawab (1 long note). That makes 20 MCQs + 20 short + 4 long = 44 questions, and every one is answered below, part by part. The "Sargarmiyan baraye talaba" boxes printed with each part are classroom activities (discussions, observations and tables to fill in class), not exam questions, so they are not counted in the 44 — but the ideas in them are already covered in the sections above.
الف-1 (i). نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو نصیحت فرمائی:
درست جواب: صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کی — آپ ﷺ نے نوجوان عبداللہ بن عباس کو یہ نصیحت فرمائی کہ مانگو تو صرف اللہ تعالیٰ سے مانگو، اور جب بھی کوئی ضرورت پیش آئے تو مدد بھی صرف اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو بچے کے دل میں خودداری اور توکل دونوں پیدا کرتا ہے۔
الف-1 (ii). نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کو نصیحت فرمائی:
درست جواب: کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی — آپ ﷺ نے اپنے سوتیلے بیٹے عمر بن ابی سلمہ کو کھانے کے آداب سکھائے: کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔
الف-1 (iii). نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو طالب کی وفات کے سال کو قرار دیا:
درست جواب: عام الحزن — اپنے چچا حضرت ابو طالب کی وفات کے سال کو آپ ﷺ نے ”عام الحزن“ یعنی غم کا سال قرار دیا، کیونکہ اس سال آپ ﷺ کے دو بڑے سہارے دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔
الف-1 (iv). نبی کریم ﷺ نے صدقے کی کھجور کھانے سے منع فرمایا:
درست جواب: حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو — بچپن میں حضرت حسن نے صدقے کی ایک کھجور منہ میں ڈال لی تو آپ ﷺ نے فوراً وہ کھجور ان کے منہ سے نکلوا دی اور فرمایا کہ ہم اہلِ بیت صدقہ نہیں کھاتے۔
الف-1 (v). غزوہ بدر میں شمولیت کے بغیر بھی بدری صحابی کا درجہ دیا گیا:
درست جواب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو — حضرت عثمان اپنی اہلیہ کی تیمارداری کے لیے مدینہ میں رہ گئے اور بدر میں شریک نہ ہو سکے، مگر آپ ﷺ نے انھیں بدری صحابی کا درجہ اور مالِ غنیمت میں حصہ عطا فرمایا۔
آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس کی تربیت عقیدے کی بنیاد پر فرمائی: انھیں یہ سکھایا کہ مانگنا ہو تو صرف اللہ تعالیٰ سے مانگو، اور مدد چاہیے تو صرف اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ اس تربیت کا اثر یہ ہوا کہ بچہ بڑا ہو کر بھی کسی انسان کے آگے جھکنے کے بجائے اللہ کے آگے جھکنا سیکھ گیا۔ تربیت کا طریقہ بھی قابلِ غور ہے — نصیحت مختصر تھی، موقع مناسب تھا، اور بات دل میں اترنے والی تھی۔ بچوں کی تربیت میں لمبے لیکچر سے زیادہ ایک سچی، مختصر اور بروقت بات کام کرتی ہے۔
کھانے کے آداب جو آپ ﷺ نے سکھائے، وہ یہ ہیں: (1) کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھو — اس سے کھانے میں برکت آتی ہے اور اللہ کا شکر ادا ہوتا ہے۔ (2) دائیں ہاتھ سے کھاؤ — یہ سنت ہے اور نظم کی علامت ہے۔ (3) اپنے سامنے سے کھاؤ — دوسروں کے حصے کی طرف ہاتھ نہ بڑھاؤ، یہ تہذیب اور دوسروں کے حق کا احترام ہے۔ (4) کھانا ضائع نہ کرو اور کھانے کے بعد اللہ کا شکر ادا کرو۔ یہ آداب بچپن میں سیکھے جائیں تو بڑے ہو کر انسان کے کھانے، خرچ اور معاملے — تینوں میں سلیقہ آ جاتا ہے۔
سیرت طیبہ میں خاندان کے سربراہ کے لیے یہ رہنمائی ہے: (1) گھر والوں کی ضروریات پوری کرنا سربراہ کا پہلا فرض ہے — کھانا، کپڑا، رہائش اور تعلیم۔ (2) گھر میں نرمی اور محبت کا ماحول رکھنا، ڈر اور سختی کا نہیں۔ (3) بیوی سے مشورہ کرنا اور اس کی رائے کو اہمیت دینا۔ (4) بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت خود کرنا، نوکروں یا اسکول پر نہ چھوڑ دینا۔ (5) رشتہ داروں سے تعلق جوڑے رکھنا (صلہ رحمی) اور بڑوں کی عزت کرنا۔ (6) اپنے عمل سے نمونہ بننا — جو بات خود نہ کرے، بچوں سے اس کی توقع نہ رکھے۔ جو سربراہ ان باتوں پر عمل کرتا ہے، اس کا گھر مضبوط، پرامن اور آخرت و دنیا دونوں کے فوائد کا حامل ہوتا ہے۔
ایک واقعہ یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کی بیٹی آپ ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺ ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے، ان کا ہاتھ تھامتے اور انھیں اپنی جگہ بٹھاتے۔ اس زمانے میں بیٹی کو بوجھ سمجھا جاتا تھا، مگر آپ ﷺ نے اپنے عمل سے بتایا کہ بیٹی رحمت ہے، بوجھ نہیں۔ ایک اور واقعہ بچوں کے ساتھ نماز کا ہے: نماز کی حالت میں جب کوئی بچہ آپ ﷺ کی گود میں آ جاتا تو آپ ﷺ اسے پیار سے سنبھال لیتے اور نماز مختصر کر دیتے تاکہ بچے کی ماں کو پریشانی نہ ہو۔ یہ دونوں واقعے بتاتے ہیں کہ آپ ﷺ کی محبت صرف زبان کی نہیں، عمل کی محبت تھی۔
حضرت شیما رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی رضاعی بہن تھیں (حضرت حلیمہ سعدیہ کی بیٹی)۔ جب وہ آپ ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے ان کے احترام میں اپنی چادر بچھا دی، انھیں اس پر بٹھایا اور ان کی خدمت کی۔ یہ سلوک بتاتا ہے کہ آپ ﷺ کے نزدیک رشتہ دودھ کا ہو یا خون کا، اس کا احترام واجب ہے، اور جس نے بچپن میں آپ ﷺ کی خدمت کی ہو، بڑے ہو کر اس کی خدمت کرنا آپ ﷺ کا طریقہ تھا۔ شکرگزاری اور وفا — یہی گھر کی تربیت کا خلاصہ ہے۔
سربراہِ خاندان کی حیثیت سے نبی کریم ﷺ کا کردار سیرت طیبہ کا سب سے روشن باب ہے۔ آپ ﷺ نے گھر کو انسان کی پہلی درسگاہ سمجھا اور اس کی تربیت کو سب سے اہم کام جانا۔ بچوں کی تربیت میں آپ ﷺ کا طریقہ محبت، نرمی اور عملی نمونے پر مبنی تھا: عبداللہ بن عباس کو صرف اللہ سے مانگنے کی نصیحت، عمر بن ابی سلمہ کو کھانے کے آداب، اور حسن کو صدقے کی کھجور سے روک کر حلال و حرام کی پہچان — یہ سب چھوٹے واقعے ہیں مگر ان میں پوری تربیت کا نصاب چھپا ہے۔ بیویوں کے ساتھ آپ ﷺ کا سلوک شفقت اور مشورے پر مبنی تھا، اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو (جامع ترمذی: 3895)۔ بیٹیوں کی عزت، بڑوں کا احترام (عام الحزن کی مثال)، رضاعی بہن شیما کی خدمت، اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی (صحیح بخاری: 5985) — یہ سب مل کر ایک مکمل خاندانی نظام بناتے ہیں۔ غزوہ بدر کے موقع پر حضرت عثمان کو بدری درجہ دینا بھی اسی نظام کی کڑی ہے: گھر کی ذمہ داری نبھانا بھی عبادت ہے۔ خلاصہ یہ کہ سیرت طیبہ کی روشنی میں کامیاب گھر وہ ہے جس میں سربراہ محبت کرنے والا، انصاف کرنے والا، مشورہ لینے والا اور اپنے عمل سے نمونہ بننے والا ہو۔
ب-1 (i). ریاستی امور کی انجام دہی کے لیے مرکزی حیثیت حاصل تھی:
درست جواب: مسجد نبوی کو — مسجدِ نبوی ریاستِ مدینہ کا مرکز تھی؛ یہیں فیصلے ہوتے، وفود آتے، تعلیم دی جاتی اور بیت المال کے معاملات طے پاتے تھے۔
ب-1 (ii). ریاستِ مدینہ میں دین کی تعلیم کے لیے جو درس گاہ قائم کی گئی اس کا نام تھا:
درست جواب: صفہ — مسجدِ نبوی کے چبوترے ”صفہ“ پر دین سیکھنے والے طلبہ رہتے تھے؛ یہ ریاست کا پہلا تعلیمی ادارہ تھا۔ دار ارقم مکہ مکرمہ کی ابتدائی درس گاہ تھی، مدینہ کی نہیں۔
ب-1 (iii). حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو گورنر بنایا گیا:
درست جواب: یمن کا — آپ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا اور انھیں ہدایت دی کہ پہلے قرآن، پھر سنت، پھر اپنی رائے سے فیصلہ کریں۔
ب-1 (iv). نبی کریم ﷺ کی خارجہ پالیسی کا شاہکار ہے:
درست جواب: صلح حدیبیہ — صلح حدیبیہ آپ ﷺ کی خارجہ پالیسی کا شاہکار کہلاتی ہے، کیونکہ اس نے بظاہر سخت شرائط کے باوجود اسلام کے لیے امن کا دروازہ کھولا اور مسلمانوں کی قوت میں اضافہ کیا۔
ب-1 (v). مواخات مدینہ کا سب سے اہم مقصد تھا:
درست جواب: مہاجرین کی آبادکاری — مواخات کا سب سے اہم مقصد یہ تھا کہ مکہ سے آنے والے بے گھر مہاجرین مدینہ میں آباد ہو جائیں؛ انصار نے انھیں بھائی بنا کر گھر، مال اور سہارا دیا۔
⚠️ یہ جواب باب کے دفاعی نظام والے حصے کا خلاصہ ہے؛ کتاب میں اس کی تفصیل مختصر دی گئی ہے۔ آپ ﷺ دشمن کے حالات سے باخبر رہنے کے لیے خبریں رکھتے، معاہدوں کے ذریعے گرد و نواح کے قبیلوں سے رابطہ رکھتے، اور مدینہ کی حفاظت کے لیے پہرے اور تیاری کا انتظام فرماتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ دشمن کی حرکت کا علم حملے سے پہلے ہو جائے، تاکہ مدینہ کا دفاع وقت پر کیا جا سکے — دفاع کا پہلا قدم معلومات ہے، تلوار نہیں۔
گرد و نواح کے قبیلوں سے معاہدوں کے فوائد یہ ہوئے: (1) مدینہ کو بیرونی حملوں سے تحفظ ملا، کیونکہ پڑوسی قبیلے دفاع کے پابند ہو گئے۔ (2) تجارتی راستے محفوظ ہوئے اور معیشت مضبوط ہوئی۔ (3) غیر مسلم قبیلوں سے تعلقات بہتر ہوئے اور اسلام کی دعوت کے لیے پرامن ماحول بنا۔ (4) ریاست کی سیاسی حیثیت مستحکم ہوئی — مدینہ اب ایک شہر نہیں، ایک معاہداتی وحدت بن گیا تھا۔ یہی معاہدے بعد میں بڑی فتوحات کی بنیاد بنے۔
ریاستِ مدینہ کے تعلیمی نظام میں ہمارے لیے یہ رہنمائی ہے: (1) تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، صرف امیروں کا حق نہیں — صفہ میں غریب طلبہ بھی پڑھتے تھے۔ (2) تعلیم کی جگہ مسجد تھی، یعنی تعلیم اور کردار ایک ساتھ چلتے تھے۔ (3) استاد کا احترام اور علم کی قدر سب سے اوپر تھی۔ (4) تعلیم صرف کتابی نہیں تھی، عملی تربیت بھی اس کا حصہ تھی۔ آج کے لیے سبق یہ ہے کہ جس ریاست میں تعلیم عام، مفت اور کردار ساز ہو، وہی ریاست مضبوط ہوتی ہے۔
عہدِ نبوی میں سرکاری ملازمین کو بیت المال سے صرف اتنی تنخواہ ملتی تھی جس سے ان کی ضرورت پوری ہو سکے — اس سے زیادہ کسی عہدے، منصب یا ذمہ داری سے فائدہ اٹھانا منع تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے، ہر ایک سے اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا (صحیح بخاری: 893)۔ یعنی تنخواہ ضرورت کے مطابق تھی، لالچ کے مطابق نہیں — اور یہی اصول کرپشن کی روک تھام تھا۔
آپ ﷺ کی خارجہ پالیسی کے اثرات یہ مرتب ہوئے: (1) دوسری ریاستوں اور قبیلوں تک اسلام کی دعوت پہنچی۔ (2) صلح حدیبیہ جیسے معاہدوں سے امن کا دور آیا جس میں مسلمانوں کی تعداد اور قوت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ (3) مدینہ کی سیاسی حیثیت تسلیم کی گئی اور پڑوسی ریاستیں اسے ایک سنجیدہ ریاست سمجھنے لگیں۔ (4) دشمنی کے بجائے بات چیت کا راستہ کھلا، جس سے کئی قبیلے بغیر جنگ کے اسلام کی طرف مائل ہوئے۔ خلاصہ یہ کہ خارجہ پالیسی نے تلوار سے زیادہ کام امن اور دعوت سے لیا۔
سربراہِ ریاست کی حیثیت سے نبی کریم ﷺ کا کردار ایک مکمل ریاستی نظام کی بنیاد ہے۔ سب سے پہلے آپ ﷺ نے میثاقِ مدینہ کے ذریعے مختلف مذہبوں اور قبیلوں کو ایک تحریری دستور کے نیچے جوڑا، اور مواخات کے ذریعے مہاجرین و انصار کو بھائی بنا دیا۔ مسجدِ نبوی کو ریاست کا مرکز بنایا گیا جہاں فیصلے، تعلیم اور بیت المال کے معاملات چلتے تھے، اور صفہ کو پہلی درس گاہ بنایا گیا۔ ریاستی اصولوں میں اشاعتِ اسلام، احترامِ انسانیت (شعب الایمان: 2528؛ سنن ابی داؤد: 3052)، دفاعی نظام، خارجہ پالیسی (جس کا شاہکار صلح حدیبیہ ہے) اور بیت المال کا شفاف نظام شامل تھے۔ گورنروں کی تقرری، جیسے معاذ بن جبل کو یمن بھیجنا، اور سرکاری ملازمین کی تنخواہ صرف ضرورت کے مطابق رکھنا (صحیح بخاری: 893) — یہ سب بتاتے ہیں کہ آپ ﷺ کی ریاست میں قانون سب کے لیے برابر تھا، عہدہ جوابدہی کا نام تھا، اور ریاست کا مقصد عوام کی فلاح تھا، حکمران کی شان نہیں۔
ج-1 (i). حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے پر عمل کیا گیا:
درست جواب: غزوہ خندق میں — حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا مشورہ دیا، آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا، اور دشمن خندق دیکھ کر رک گیا۔
ج-1 (ii). نبی کریم ﷺ نے دشمن کو اطلاع ملنے سے پہلے کس موقع پر پیش قدمی فرمائی؟
درست جواب: فتح مکہ میں — آپ ﷺ نے دشمن کو اطلاع ملنے سے پہلے ہی مکہ کی طرف پیش قدمی فرمائی، تاکہ شہر بغیر خونریزی کے فتح ہو جائے، اور ایسا ہی ہوا۔
ج-1 (iii). نبی کریم ﷺ کے طاقت کے باوجود کفار کے ساتھ معاہدہ کرنے سے ہمیں سبق ملتا ہے:
درست جواب: امن پسندی کا — طاقت ہونے کے باوجود معاہدہ کرنا کمزوری نہیں، امن پسندی ہے۔ آپ ﷺ نے صلح حدیبیہ میں یہی سبق دیا کہ امن کا راستہ جنگ کے راستے سے بہتر ہے۔
ج-1 (iv). خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنے کا شمار ہوتا ہے:
درست جواب: آدابِ جہاد میں — جنگ کے آداب میں سب سے پہلا اصول یہی ہے کہ جو لوگ لڑ نہیں رہے — خواتین، بچے، بوڑھے — انھیں قتل نہ کیا جائے۔
ج-1 (v). اسوہ حسنہ کی روشنی میں جہاد کا اصل مقصد ہے:
درست جواب: اعلائے کلمۃ اللہ کا حصول — جہاد کا اصل مقصد اللہ کے کلمے کی سربلندی، مظلوموں کا دفاع اور امن کا قیام ہے؛ مالِ غنیمت، علاقے یا قیدی حاصل کرنا اس کا مقصد نہیں۔
(1) شجاعت: آپ ﷺ میدان میں سب سے آگے ہوتے، سب سے زیادہ خطرے والی جگہ پر ہوتے، اور کم وسائل کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہارتے تھے۔ (2) مشورہ: آپ ﷺ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرتے اور درست رائے کو اپنا لیتے — خندق کا مشورہ (حضرت سلمان فارسی) اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ان دو اوصاف نے آپ ﷺ کو ایسا سپہ سالار بنایا جس کے سپاہی اس پر جان نثار کرتے تھے۔
صلح حدیبیہ میں آپ ﷺ کا کردار صبر، دور اندیشی اور امن پسندی کا کردار تھا۔ آپ ﷺ عمرے کے لیے آئے تھے، مگر قریش نے روک دیا؛ اس کے باوجود آپ ﷺ نے جنگ کے بجائے صلح کا راستہ اختیار کیا اور سخت شرائط والا معاہدہ قبول کر لیا۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ امن کے چند سال اسلام کو پھیلنے کا وہ موقع دیں گے جو جنگ نہیں دے سکتی۔ اور ایسا ہی ہوا — صلح کے بعد اسلام تیزی سے پھیلا اور مسلمانوں کی قوت میں اضافہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ صلح حدیبیہ کو آپ ﷺ کی خارجہ پالیسی کا شاہکار کہا جاتا ہے۔
آپ ﷺ صحابہ کو یہ ہدایات جاری فرماتے تھے: (1) جنگ کی خواہش نہ کرو، اللہ سے امن و عافیت کی دعا کرو، اور جب مقابلہ ہو جائے تو صبر و استقامت دکھاؤ (صحیح بخاری: 2966)۔ (2) خواتین، بچوں، بوڑھوں اور غیر مسلح لوگوں کو قتل نہ کرو۔ (3) دشمن کو آگ میں نہ جلاؤ اور کسی پر ظلم نہ کرو۔ (4) معاہدے کی پابندی کرو، وعدہ خلافی نہ کرو۔ (5) درختوں اور فصلوں کو بلا ضرورت تباہ نہ کرو۔ (6) قیدیوں سے حسنِ سلوک کرو۔ یہ ہدایات بتاتی ہیں کہ اسلام میں جنگ بھی قانون اور اخلاق کے اندر رہ کر لڑی جاتی ہے۔
قیدیوں سے حسنِ سلوک کے بارے میں آپ ﷺ کی تعلیمات یہ ہیں: (1) قیدیوں کو وہی کھانا اور کپڑا دیا جائے جو مسلمان خود کھاتے اور پہنتے ہیں — انھیں بھوکا یا ننگا نہ رکھا جائے۔ (2) ان پر ظلم و تشدد نہ کیا جائے، ان کی انسانیت کا احترام کیا جائے۔ (3) ان کی رہائی کے معقول راستے رکھے جائیں — فدیہ، یا مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھا کر رہائی، جیسا کہ بدر کے قیدیوں کے ساتھ ہوا۔ (4) فتح کے بعد عام معافی کی مثال قائم کی جائے، جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر ہوا۔ قیدی دشمن ضرور تھا، مگر اس کی انسانیت جنگ کے بعد بھی محفوظ تھی — یہی اسلام کی تعلیم ہے۔
اسلام کے تصورِ جہاد اور دہشت گردی میں بنیادی فرق یہ ہے: جہاد کا مقصد اللہ کے کلمے کی سربلندی، مظلوموں کا دفاع اور امن کا قیام ہے، اور اس کے آداب مقرر ہیں — بے گناہوں کو قتل کرنا، وعدہ توڑنا اور ظلم کرنا اس میں حرام ہے۔ دہشت گردی اس کے برعکس ہے: اس کا مقصد بے گناہ لوگوں کو ڈرانا، مارنا اور معاشرے میں خوف و بدامنی پھیلانا ہے، اور اس میں کسی اصول کی پابندی نہیں ہوتی۔ جہاد ظلم کو روکنے کے لیے ہے، دہشت گردی خود ظلم ہے۔ اس لیے جو شخص بے گناہوں کو مارتا ہے، وہ جہاد نہیں کر رہا، وہ دہشت گردی کر رہا ہے — اور کتاب اس فرق کو سمجھنے پر خاص زور دیتی ہے۔
بطور سپہ سالار نبی کریم ﷺ کے اوصاف کئی ہیں، جن میں سب سے نمایاں شجاعت، منصوبہ بندی، مشورہ اور امن پسندی ہیں۔ آپ ﷺ نے تقریباً اٹھائیس (28) غزوات میں اسلامی لشکر کی قیادت فرمائی، اور کم وسائل کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہاری۔ شجاعت کا مطلب آپ ﷺ کے نزدیک میدان میں سب سے آگے ہونا تھا، اور منصوبہ بندی کا مطلب دشمن کی خبر رکھنا، راستوں کا جائزہ لینا اور موقع کے مطابق فیصلہ کرنا تھا — خندق میں سلمان فارسی کے مشورے پر عمل اور فتح مکہ میں دشمن کو اطلاع ملنے سے پہلے پیش قدمی اس کی مثالیں ہیں۔ مشورے کی عادت نے فیصلوں کو مضبوط بنایا، اور امن پسندی نے صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کی عام معافی جیسی مثالیں دیں۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں جنگ کے آداب سب سے اہم ہیں: جنگ کی خواہش نہ کرو، امن کی دعا کرو، مقابلہ ہو جائے تو صبر دکھاؤ (صحیح بخاری: 2966)؛ خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرو؛ دشمن کو آگ میں نہ جلاؤ؛ معاہدے کی پابندی کرو؛ اور اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو صلح کی طرف مائل ہو جاؤ (سورۃ الانفال: 61)۔ قیدیوں سے حسنِ سلوک، انھیں اچھا کھانا کپڑا دینا اور رہائی کے معقول راستے رکھنا بھی انہی تعلیمات کا حصہ ہے۔ خلاصہ یہ کہ آپ ﷺ کا سپہ سالار ہونا طاقت کا مظاہرہ نہیں تھا، بلکہ حکمت، رحم اور اصولوں کا مجموعہ تھا — اور اسی لیے آپ ﷺ کو مثالی سپہ سالار کہا جاتا ہے۔
د-1 (i). اسلام کے معاشی نظام کا بنیادی اصول ہے:
درست جواب: اللہ تعالیٰ کو رازق ماننا — اسلام کے معاشی نظام کا سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ ساری کائنات کا رازق اللہ تعالیٰ ہے؛ محنت انسان کی ذمہ داری ہے اور نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
د-1 (ii). انصارِ مدینہ کی کثرت کا پیشہ تھا:
درست جواب: زراعت — مدینہ کے انصار کی کثرت کا پیشہ زراعت (کھیتی باڑی) تھا، اور آپ ﷺ نے ان کی محنت کو عزت دی اور کھیتی باڑی کی فضیلت بیان فرمائی۔
د-1 (iii). اسلام نے منع کیا ہے:
درست جواب: ذخیرہ اندوزی سے — اسلام نے ضروری اشیاء کو جمع کر کے قلت پیدا کرنے اور دام بڑھانے سے منع کیا ہے، کیونکہ اس کا نقصان براہِ راست غریب کو پہنچتا ہے۔
د-1 (iv). ارتکازِ دولت سے مراد ہے:
درست جواب: دولت کا چند ہاتھوں میں جمع ہونا — ارتکازِ دولت کا مطلب ہے دولت کا چند ہاتھوں میں سمٹ جانا، جس سے معاشی نظام میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
د-1 (v). قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کھلی جنگ قرار دیا گیا ہے:
درست جواب: سود کو — قرآن مجید میں سود کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کھلی جنگ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ سودی نظام میں محنت کرنے والا ہارتا ہے اور بیٹھے بٹھائے دولت بڑھانے والا جیتتا ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ کو رازق ماننا: ساری کائنات کا رازق اللہ تعالیٰ ہے؛ انسان محنت کرے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔ (2) دولت کی گردش: دولت چند ہاتھوں میں سمٹنے کے بجائے معاشرے میں گردش کرے — زکوٰۃ، صدقہ، وراثت اور انفاق کے ذریعے مال غریب تک پہنچے۔ یہ دو اصول مل کر ایسا نظام بناتے ہیں جس میں نہ امیر کی دولت حرام طریقے سے بڑھتی ہے اور نہ غریب بھوکا رہتا ہے۔
کھیتی باڑی سے متعلق اسلامی تعلیمات یہ ہیں: (1) کھیتی باڑی کو عزت کا کام سمجھا جائے — مدینہ کے انصار کی کثرت کا پیشہ زراعت تھا اور آپ ﷺ نے ان کی محنت کو سراہا۔ (2) جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیتی اگاتا ہے، اس سے کوئی پرندہ، انسان یا جانور کھائے تو وہ اس کا صدقہ بن جاتا ہے (صحیح بخاری: 2320) — یعنی کسان کی محنت کا اجر موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ (3) زمین کو آباد رکھنا، اس کی دیکھ بھال کرنا اور پیداوار سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا بھی عبادت کے درجے میں ہے۔ کھیتی باڑی صرف روزی کا ذریعہ نہیں، صدقہ جاریہ کا ذریعہ بھی ہے۔
ارتکازِ دولت یعنی دولت کا چند ہاتھوں میں جمع ہو جانا معاشی نظام میں بگاڑ کا سبب اس لیے ہے کہ جب دولت چند لوگوں کے پاس سمٹ جاتی ہے تو بازار انھی کی مرضی سے چلتا ہے — وہی دام طے کرتے ہیں، وہی مال روکتے ہیں اور وہی نفع اٹھاتے ہیں۔ غریب کی قوتِ خرید ختم ہو جاتی ہے، اس کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں، اور معاشرے میں نفرت، حسد اور طبقاتی کشمکش پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سونا چاندی جمع کر کے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والوں کو دردناک عذاب کی خبر دی ہے (سورۃ التوبہ: 34) — کیونکہ دولت کو گردش سے نکال دینا پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسلام اس بگاڑ کا علاج زکوٰۃ، صدقہ، وراثت اور حلال تجارت سے کرتا ہے تاکہ دولت چلتی رہے، رکے نہیں۔
اسلام میں سود کی ممانعت بہت سخت الفاظ میں بیان کی گئی ہے: قرآن مجید میں سود کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کھلی جنگ قرار دیا گیا ہے۔ اس سختی کی وجہ یہ ہے کہ سودی نظام میں امیر کی دولت بیٹھے بٹھائے بڑھتی ہے اور غریب کا قرض بڑھتا جاتا ہے — محنت کرنے والا ہارتا ہے اور محنت سے بچنے والا جیتتا ہے۔ سود سے معاشرے میں عدم مساوات اور معاشی ظلم بڑھتا ہے، اور اسی لیے انسانیت کو معاشی استحصال سے بچانے کے لیے سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ سود سے بچنا صرف ایک حکم نہیں، پورے معاشی عدل کی بنیاد ہے۔
(1) دولت کی منصفانہ تقسیم: زکوٰۃ، صدقہ اور حلال کمائی سے غریب کی ضرورت پوری ہوتی ہے اور امیر کی دولت بھی نفرت کی نظر سے نہیں دیکھی جاتی — معاشرے میں امن اور بھائی چارہ بڑھتا ہے۔ (2) کاروبار میں اعتماد کی بحالی: جب تاجر سچا ہو، ناپ پورا ہو، دام مناسب ہو اور ملاوٹ نہ ہو، تو گاہک کا اعتماد بڑھتا ہے، بازار آباد رہتا ہے اور معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ یہ دونوں فائدے مل کر ایسا معاشرہ بناتے ہیں جس میں نہ بھوک کی بے بسی ہو اور نہ دولت کی بے حسی۔
نبی کریم ﷺ کی معاشی تعلیمات کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ساری کائنات کا رازق اللہ تعالیٰ ہے، اور ہر فرد کو حلال طریقے سے رزق کمانے کا حق ہے، مگر شریعت کی حدود کے اندر۔ اسلام کا معاشی نظام اخلاقی اقدار پر مبنی ہے جو دولت کی تقسیم میں عدل اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی کی تعلیم دیتا ہے؛ دولت چند ہاتھوں میں سمٹنے کے بجائے زکوٰۃ، صدقہ، وراثت اور انفاق کے ذریعے گردش میں رہتی ہے۔ حلال ذرائع میں تجارت، زراعت اور ہنر مند محنت شامل ہیں: آپ ﷺ نے خود تجارت کی، کھیتی باڑی کی فضیلت بیان فرمائی کہ درخت لگانے اور کھیتی اگانے والے کا اجر صدقہ بن جاتا ہے (صحیح بخاری: 2320)، اور سچے دیانت دار تاجر کو قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہونے کی بشارت دی (جامع ترمذی: 1209)۔ دوسری طرف ناجائز ذرائع سے سختی سے منع فرمایا: ذخیرہ اندوزی (ضروری اشیاء روک کر دام بڑھانا)، سود (جسے قرآن نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کھلی جنگ قرار دیا)، ملاوٹ اور دھوکا۔ سونا چاندی جمع کر کے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والوں کو دردناک عذاب کی خبر دی گئی ہے (سورۃ التوبہ: 34) — یہی ارتکازِ دولت ہے جو معاشی نظام میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ ان تعلیمات پر عمل کے فوائد واضح ہیں: دولت کی منصفانہ تقسیم، کاروبار میں اعتماد، اور ایسا معاشرہ جس میں نہ بھوک کی بے بسی ہو اور نہ دولت کی بے حسی۔ یہی نبی کریم ﷺ کی معاشی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔
یہ باب سیرتِ طیبہ کا مکمل رہنما ہے — نبی کریم ﷺ کی زندگی کو چار حیثیتوں سے دیکھا گیا ہے۔ پہلے سربراہِ خاندان کی حیثیت سے: بچوں کی تربیت، بیویوں اور بیٹیوں سے حسنِ سلوک، اور صلہ رحمی۔ پھر سربراہِ ریاست کی حیثیت سے: میثاقِ مدینہ، مواخات، مسجدِ نبوی، اور ریاست کے پانچ اصول۔ پھر مثالی سپہ سالار کی حیثیت سے: شجاعت، منصوبہ بندی، مشورہ، جنگ کے آداب اور قیدیوں سے سلوک۔ آخر میں معاشی تعلیمات: حلال کمائی، زراعت و تجارت کی فضیلت، اور سود و ذخیرہ اندوزی سے اجتناب۔ ہر حصے کے آخر میں اسی حصے کی کتابی مشق کے تمام سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے چار حیثیتیں یاد کرو — خاندان، ریاست، سپہ سالار، معاشی معلم۔ پھر ہر حیثیت کی دو دو مثالیں ذہن میں رکھو: خاندان میں ابنِ عباس کی نصیحت اور حسن کی کھجور؛ ریاست میں میثاق اور مواخات؛ سپہ سالار میں خندق اور فتح مکہ کی معافی؛ معیشت میں سچے تاجر کی حدیث اور سود کی حرمت۔ آخر میں چاروں مشقوں کے بیس معروضی سوالات کو ایک بار پھر دیکھو — امتحان میں یہی سوالات سب سے زیادہ آتے ہیں۔
This chapter is a complete guide to the Seerat-e-Tayyaba — the Prophet's ﷺ life seen in four roles. First, as head of the family: raising children, kindness to wives and daughters, and keeping ties of kinship. Then, as head of state: the Pact of Madinah, brotherhood, Masjid Nabawi, and the five principles of the state. Then, as ideal commander: courage, planning, consultation, the rules of war and kindness to captives. Finally, his economic teachings: lawful earning, the excellence of farming and trade, and avoiding interest and hoarding. At the end of each part, answers to that part's official exercise questions are given.
Revision guidance: first learn the four roles — family, state, commander, economic teacher. Then hold two examples for each role in mind: for family, the advice to Ibn Abbas and the date of Hasan; for state, the Pact and the brotherhood; for commander, the Trench and the amnesty at the Conquest of Makkah; for economics, the hadith of the truthful trader and the prohibition of interest. Finally, go through the twenty MCQs of the four exercises once more — those are the questions most likely to come in the exam.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Islamiat, Chapter 3 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu