
Khilafat literally means "succession" — a Khalifa is a successor or deputy. In Islam, the Khalifa is the successor of the Prophet ﷺ in running the affairs of the Muslim community: he does not bring a new religion, he protects and applies the religion that is already complete.
The book gives the basic responsibility of Khilafat in one phrase: Aqamat-e-Deen — establishing the Deen. That one phrase covers everything else: establishing the pillars of Islam, Jihad in its true sense, providing justice, education and training, and building a welfare state.
The rightly-guided Khilafat lasted 30 years after the Prophet ﷺ. The book quotes a Hadith (as printed, Sunan Abi Dawud: 3991): "My Sunnah and the Sunnah of the rightly-guided Khulafa is binding upon you." That is why these four Khulafa are a source of guidance, not just history.
خلافت کے لغوی معنی جانشینی کے ہیں اور خلیفہ جانشین یا نائب کو کہتے ہیں۔ یعنی نبی کریم ﷺ کے بعد مسلمانوں کے اجتماعی معاملات چلانے والا شخص خلیفہ کہلاتا ہے۔ وہ کوئی نیا دین نہیں لاتا، بلکہ اسی دین کی حفاظت کرتا ہے جو مکمل ہو چکا ہے اور اسی کے مطابق ریاست چلاتا ہے۔
اسلام میں خلافت کی بنیادی ذمہ داری اقامتِ دین ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے مگر اس میں سب کچھ آ جاتا ہے: ارکانِ اسلام کا قیام، جہاد، انصاف کی فراہمی، تعلیم و تربیت اور فلاحی ریاست کا قیام۔ اگر کوئی حکمران ان کاموں کو چھوڑ دے تو سمجھو وہ خلافت کے اصل مقصد سے ہٹ گیا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد خلافتِ راشدہ کا دور تیس (30) سال تک رہا۔ اس دور کو ”خلافتِ راشدہ“ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ خلفاء ہدایت یافتہ تھے اور ان کا طرزِ حکومت قرآن و سنت کے عین مطابق تھا۔ کتاب میں حدیث نقل کی گئی ہے (جیسا کہ کتاب میں چھپا ہے، سنن ابی داؤد: 3991): ”تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے۔“ اسی لیے ان کی زندگیاں آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔
یہ باب تین حصوں میں بٹا ہوا ہے: (الف) خلفائے راشدین، (ب) ائمہ اہلِ بیت، (ج) صوفیائے کرام۔ تینوں حصوں کی اپنی اپنی مشق بھی کتاب میں الگ الگ دی گئی ہے، اور اس صفحے پر تینوں مشقوں کے تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں۔
1. Hazrat Abu Bakr Siddiq (RA) — the first Khalifa, about two and a half years. His era settled the new state: those who refused Zakat and the false claimants of prophethood were dealt with, and the mission of spreading Islam continued with the same firmness as before.
2. Hazrat Umar Farooq (RA) — the second Khalifa, about ten and a half years. Administration was organised: departments, registers, canals, and the Hijri calendar began in his time, and the Islamic state expanded greatly.
3. Hazrat Usman Ghani (RA) — the third Khalifa, twelve years. His great service was the compilation of the Quran in one standard copy, which is why he is called "Jami al-Quran". In his time the Islamic state reached its widest spread and great prosperity.
4. Hazrat Ali al-Murtaza (RA) — the fourth Khalifa, about four and a half years. His era was a time of internal trials and the Battle of Siffin era difficulties; in the middle of those storms he kept the door of knowledge and justice open, and his sermons and decisions are a treasure of wisdom.
پہلے خلیفہ راشد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ کی خلافت کا زمانہ تقریباً ڈھائی سال رہا۔ یہ وہ وقت تھا جب رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد نئی ریاست کو سنبھالنا تھا۔ آپ نے مرتدین اور منکرینِ زکوٰۃ کی سرکوبی کی اور اسلام کی دعوت و اشاعت کا سلسلہ اسی مضبوطی سے جاری رکھا۔
دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ کی خلافت کا زمانہ تقریباً ساڑھے دس سال رہا۔ آپ کے دور میں انتظامی کاموں میں نمایاں ترقی ہوئی: محکمے بنے، رجسٹر اور دیوان قائم ہوئے، نہریں کھودی گئیں، اور ہجری تقویم کا آغاز ہوا۔ آپ کے دور میں اسلامی سلطنت بہت پھیل گئی۔
تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ کی خلافت بارہ سال رہی۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کو ایک مصحف پر جمع کرنا ہے، اسی وجہ سے آپ ”جامع القرآن“ کہلاتے ہیں۔ آپ کے دور میں اسلامی سلطنت میں وسعت اور خوشحالی آئی۔
چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ کی خلافت کا زمانہ ساڑھے چار سال رہا۔ آپ کا دور اندرونی آزمائشوں اور خانہ جنگی کے خطرات کا دور تھا۔ اس کے باوجود آپ نے عدل و انصاف اور علم کا چراغ روشن رکھا، اور آپ کے خطبات و فیصلے آج بھی حکمت کا خزانہ ہیں۔
ان چاروں کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے امت کو خانہ جنگی سے بچانے کے لیے خلافت سے دست برداری اختیار کی، جس کا ذکر آگے ائمہ اہلِ بیت کے حصے میں آئے گا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت حسن کے بارے میں فرمایا تھا (صحیح بخاری: 2704، کتاب کے الفاظ میں): ”یہ میرا بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔“
Public welfare (Rifah-e-Aama): The Khulafa built rest houses for travellers, guest houses, bridges, canals and orphanages, and fixed stipends from the Bait-ul-Maal for the poor, the widows and the needy. In the time of Hazrat Umar, a regular allowance system ran so that no citizen would go hungry. The state was a servant of the people, not their master.
Trust (Amanat): The Khalifa treated public wealth as a trust. He lived on a simple salary from the Bait-ul-Maal, kept a record of the state's property, and when his term ended, any extra wealth was returned to the treasury. The book notes that in their era, people never saw the rulers living in luxury while the public suffered.
Justice (Adl-o-Insaf): In their era, the law was equal for the ruler and the ruled. The famous example: Hazrat Umar appeared as a party in a case before the judge Hazrat Zaid bin Thabit (RA). When the judge showed him respect by his title, Hazrat Umar objected — in court, he said, both parties must stand equal. That is why their justice is still quoted as a model.
رفاہِ عامہ: خلفائے راشدین نے اپنے عہد میں لنگر خانے، مہمان خانے، سرائیں، پل، مسافر خانے اور یتیم خانے تعمیر کروائے۔ غریبوں، مسافروں اور ضرورت مندوں کے لیے بیت المال سے وظائف مقرر کیے۔ حضرت عمر کے دور میں تو یہ نظام اس قدر منظم ہو گیا کہ ریاست کے ہر فرد کی بنیادی ضرورت کا خیال رکھا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک ریاست عوام کی خادم تھی، آقا نہیں۔
امانت: امانت داری اور سرکاری وسائل کا خیال رکھنا خلفائے راشدین کا اہم وصف ہے۔ خلفائے راشدین نے بیت المال کو امانت سمجھا، سادہ زندگی گزاری اور بیت المال سے بے جا تصرف سے احتراز کیا۔ وہ اپنے لیے معمولی وظیفہ مقرر کرتے اور ریاست کے مال و اسباب کی فہرست تیار رکھتے تھے، تاکہ ایک پیسے کا بھی حساب رہے۔ ان کے دور میں دیانت داری کے ایسے واقعات ملتے ہیں جو آج بھی مثال بنے ہوئے ہیں۔
عدل و انصاف: خلفائے راشدین کے دور میں عدل و انصاف کا قیام سب سے نمایاں خصوصیت تھا۔ ان کے عہد میں کسی بھی شخص سے تجاوز نہیں کیا گیا، قانون کی نظر میں امیر و غریب اور حاکم و محکوم سب برابر تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک مقدمے میں فریق کی حیثیت سے قاضی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش ہوئے۔ قاضی نے احتراماً انہیں ”امیر المؤمنین“ کہہ کر مخاطب کیا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ مقدمے میں فریقین برابر ہوتے ہیں، اس لیے آپ مجھے عام فریق کی طرح مخاطب کریں۔ یہی وہ عدل ہے جس کی مثال آج بھی دی جاتی ہے۔
ان تین خصوصیات کو ایک جملے میں یوں سمجھو: عوام کی بھلائی ریاست کا کام، سرکاری مال امانت، اور عدالت میں سب برابر۔ جو حکمران ان تین باتوں پر قائم رہے، وہ خلافتِ راشدہ کے نقشِ قدم پر چلا۔
Jihad and peace: Protecting the Islamic state and keeping peace was a key feature of the Khilafat-e-Rashida. The Khulafa understood Jihad as a disciplined duty with strict rules, not uncontrolled violence. The book lists the rules given to the armies: do not kill children, women or old people; do not cut down trees; do not destroy places of worship; do not be treacherous; and do not harm those who surrender.
Minorities: Another shining feature was good treatment of non-Muslim citizens. They were given full protection of life, property and worship. They paid Jizya in return for the state's protection, and if the state could not protect a group, its Jizya was returned from the Bait-ul-Maal. That is why many people accepted Islam willingly — they saw the character of the Muslims before they heard their arguments.
For a student, the lesson is simple: strength in Islam always walks with mercy. An army without rules is just violence; an army with these rules is Jihad.
جہاد اور قیامِ امن: اسلامی ریاست کے تحفظ کے لیے جہاد اور امن و امان کا قیام خلافتِ راشدہ کی اہم خصوصیت ہے۔ خلفائے راشدین نے جہاد کو ایک منظم فریضہ سمجھا، نہ کہ بے قابو تشدد۔ لشکر روانہ کرتے وقت انہوں نے واضح اصول دیے: بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنا، درخت نہ کاٹنا، عبادت گاہیں نہ گرانا، خیانت نہ کرنا، اور جو ہتھیار ڈال دے اسے نقصان نہ پہنچانا۔ کتاب میں یہ اصول (تاریخ الخلفاء، ص 96) کے حوالے سے بیان ہوئے ہیں۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے امت مسلمہ میں امن قائم رکھنے کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ لیکن یہ پسند نہ کیا کہ ان کی وجہ سے مسلمانوں کا خون بہے۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دورِ خلافت میں قیامِ امن کے لیے بہت کوشش کی اور مسلمانوں کو خون ریزی سے بچانے اور امن کے قیام کے لیے خلافت سے دست برداری کا اعلان کیا — یہ واقعہ آگے حضرت حسن کے ذکر میں بھی آئے گا۔
اقلیتوں سے حسنِ سلوک: خلافتِ راشدہ کی ایک نمایاں اور خوبصورت خصوصیت غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ جو لوگ اسلامی ریاست میں رہتے تھے، ان کی جان، مال اور عبادت گاہوں کی مکمل حفاظت کی جاتی تھی۔ ان سے جزیہ لیا جاتا تھا، مگر اس کے بدلے ریاست ان کی حفاظت کی ذمہ دار تھی۔ اگر کسی موقع پر ریاست کسی گروہ کی حفاظت نہ کر سکتی تو ان کا جزیہ بیت المال سے واپس کر دیا جاتا تھا۔ یہی حسنِ سلوک تھا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اسلام قبول کر لیتے تھے — وہ پہلے مسلمانوں کا کردار دیکھتے تھے، پھر ان کی بات سنتے تھے۔
Accountability (Ihtisab): The Khulafa began accountability with themselves. The book says they presented their own selves for accountability first, before their governors or officers. A common citizen could question even the Khalifa about a matter of public money, and Hazrat Umar would answer him openly. In today's language: no one was "above accountability".
Respect for the Prophet's relationship: In every decision of their era, the Khulafa kept the Prophet's ﷺ teaching and his family in view. The book gives the example of Hazrat Umar fixing stipends from the Bait-ul-Maal: he gave the highest stipend to those closest to the Prophet ﷺ — first the wives of the Prophet, then his family, then the early Muhajireen and Ansar. The point was not favouritism; it was honour for the Prophet's household.
Intellectual progress (Ilmi Taraqqi): In the era of the Khulafa, centres of learning were established in the big cities of the Islamic state. Teachers were appointed in Arabia, Iraq, Syria and Egypt — the book names Hazrat Muaz bin Jabal, Hazrat Abu Musa Ashari, Hazrat Abu Darda and others — who taught the Quran, Arabic language, manners and the Seerah. Their students carried Islam to the next generation.
احتساب: نظامِ احتساب خلافتِ راشدہ کی اہم خصوصیت ہے۔ خلفائے راشدین نے اس نظام کو خود احتسابی سے شروع کیا اور سب سے پہلے اپنی ذات کو احتساب کے لیے پیش فرمایا۔ یعنی پہلے خلیفہ خود اپنے آپ کا حساب دیتا، پھر اپنے گورنروں اور افسروں سے حساب لیتا۔ ایک عام آدمی بھی خلیفہ وقت سے سوال کر سکتا تھا اور اس کا جواب اسے کھلے عام ملتا تھا۔ احتساب کا دروازہ سب کے لیے کھلا تھا، اور اس میں کسی کی رعایت نہیں تھی — یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب احتساب کی بات ہوتی ہے تو خلافتِ راشدہ کی مثال دی جاتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی نسبت کا خیال: خلفائے راشدین اپنے زمانہ خلافت میں کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے حضور اکرم ﷺ کی تعلیم اور آپ کی نسبت کو ملحوظ رکھتے تھے۔ خلفائے راشدین کا یہ امتیازی وصف ہے کہ انہوں نے کبھی ایک لمحے کے لیے بھی حضور اکرم ﷺ کی نسبت کو فراموش نہیں کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المال میں وظائف مقرر کیے تو ان کو سب سے زیادہ وظیفہ دیا جن کا رسول اللہ ﷺ سے قریبی رشتہ تھا: پہلے ازواجِ مطہرات، پھر اہلِ بیت، پھر مہاجرین و انصار۔ یہ طرف داری نہیں تھی، یہ رسول اللہ ﷺ کے گھرانے کا احترام تھا۔
علمی ترقی: خلفائے راشدین کے زمانے میں اسلامی سلطنت کے تمام بڑے شہروں میں علمی مراکز قائم کیے گئے۔ جہاں جہاں اسلامی علوم پھیلائے جاتے تھے، وہاں صحابہ کرام اپنی ذات میں علم و معرفت کے مراکز تھے۔ جہاں بھی جاتے، علم کے چراغ جلتے تھے۔ خلفائے راشدین نے علم کے فروغ کے لیے مثالی اقدامات کیے گئے: عہدِ صدیقی میں بدوی قبائل کو علم سے آراستہ کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ اس دور میں جزیرہ نما عرب کے کئی علاقوں میں معلمین کا تقرر کیا گیا۔ عراق میں حضرت عبداللہ بن مسعود، کوفہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود، شام میں حضرت معاذ بن جبل، مصر میں حضرت ابودرداء اور دیگر علاقوں میں حضرت ابوموسیٰ اشعری جیسے اساتذہ مقرر کیے گئے جو قرآن، عربی زبان و ادب اور سیرت و اخلاق کی تعلیم دیتے تھے۔
آج کے طالب علم کے لیے اس حصے کا سبق یہ ہے: خلافتِ راشدہ صرف تلوار کی تاریخ نہیں، یہ احتساب، انصاف، تعلیم اور خدمت کی تاریخ ہے۔ جو قوم ان چار ستونوں پر کھڑی ہو، وہی دنیا کی تمام قوموں پر غالب آ جاتی ہے — جیسا کہ کتاب کے آخر میں کہا گیا ہے کہ اگر آج کا مسلمان بھی ان ہستیوں کے دامن سے وابستہ ہو جائے اور ان کے نقشِ قدم کی پیروی شروع کر دے تو وہ دن دور نہیں جب ایک مرتبہ پھر مسلمان دنیا کی تمام قوموں پر غالب آ جائیں گے۔
Who are the Ahl-e-Bait? The people of the Prophet's ﷺ household — those who stood by Islam with their lives and wealth, and who served the community in knowledge, character and sacrifice. The book introduces them one by one, beginning with Hazrat Ali (RA).
Hazrat Ali (RA) — cousin and son-in-law of the Prophet ﷺ, husband of Hazrat Fatima (RA), and the fourth Khalifa. He was among the first to accept Islam, and he was chosen as Khalifa in 35 Hijri after the martyrdom of Hazrat Usman. He was martyred in Kufa on 21 Ramadan 40 Hijri.
Hazrat Imam Hasan (RA) — elder grandson of the Prophet ﷺ, son of Hazrat Ali and Hazrat Fatima. He became Khalifa after his father's martyrdom, but when he saw that holding power would mean Muslim bloodshed, he gave up the Khilafat for the sake of Muslim unity. The Prophet's ﷺ prediction about him (Bukhari: 2704) came true through this peace.
Hazrat Imam Husain (RA) — younger grandson of the Prophet ﷺ. He refused to accept Yazid's rule, and with his family and companions he was martyred at Karbala on 10 Muharram 61 Hijri. His stand became the eternal example that truth is not surrendered for power, even at the cost of life.
وہ ہستیاں جنہوں نے اسلام کی آبیاری اور بقا کے لیے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے اور امت مسلمہ کی فکری، روحانی، اخلاقی، سیاسی، سماجی اور معاشی میدانوں میں نمایاں خدمات سر انجام دیں، ان میں ائمہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ ذیل میں ائمہ اہلِ بیت اطہار رضی اللہ عنہم کا مختصر تذکرہ کیا جا رہا ہے۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ: رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور آپ ﷺ کے داماد ہیں۔ آپ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ ہیں۔ پینتیس (35) ہجری میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ کو مسلمانوں کا خلیفہ مقرر کیا گیا۔ آپ کو پانچ سال سے کچھ کم عرصہ خلافت ملی۔ انیس (19) رمضان المبارک چالیس (40) ہجری میں ایک خارجی نے آپ پر حملہ کیا، اور اکیس (21) رمضان المبارک کو آپ کی شہادت ہوئی، اور آپ کو کوفہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ: نبی کریم ﷺ کے نواسے ہیں، حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ آپ کا نام حسن رکھا گیا۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ حضرت علی کے بعد خلیفہ بنے، لیکن جب آپ نے دیکھا کہ حکومت اپنے ہاتھ میں لینے سے مسلمانوں میں انتشار اور خون ریزی ہو گی، تو آپ نے امت کے اتحاد اور مسلمانوں کی بھلائی کے لیے خلافت سے دست برداری کا اعلان کیا۔ یہی وہ صلح ہے جس کی بشارت نبی کریم ﷺ نے پہلے ہی دے دی تھی۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ: حضرت علی المرتضیٰ اور سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہما کے چھوٹے صاحبزادے ہیں، اور نبی کریم ﷺ کے نواسے ہیں۔ آپ کی ولادت شعبان چار (4) ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ جب یزید نے حکومت سنبھالی تو آپ نے اس کی بیعت سے انکار کر دیا، کیونکہ آپ اسے خلافت کے منصب کا اہل نہیں سمجھتے تھے۔ کربلا کے میدان میں آپ نے اپنے اہلِ بیت اور جانثاروں کے ساتھ دس (10) محرم الحرام اکسٹھ (61) ہجری میں شہادت پائی۔ آپ کی شہادت سے اسلام کو نئی زندگی ملی — یہ پیغام کہ حق کے لیے جان بھی دے دی جائے، مگر باطل کے سامنے سر نہ جھکایا جائے۔
The book continues the chain after Karbala. Imam Zain-ul-Abideen (RA), son of Imam Husain, was born in 38 Hijri and passed away in 95 Hijri in Madina; he is famous for his worship and his book of supplications, Sahifa Sajjadiya. Imam Muhammad Baqir (RA) was born in 57 Hijri; "Baqir" means one who splits open knowledge — he opened the doors of Islamic learning.
Imam Ja'far Sadiq (RA) was born in 82 Hijri and passed away in 148 Hijri. His students included great scholars of every field, and his school became a centre from which teachers spread across the Muslim world. Imam Musa Kazim (RA) was born in 128 Hijri and passed away in 183 Hijri at the age of 55; "Kazim" means one who controls his anger — a title earned by patience in hardship.
Imam Ali Raza (RA) was born in 148 Hijri and passed away in 203 Hijri at 49; Imam Muhammad Taqi (RA) was born in 195 Hijri and passed away in 220 Hijri; Imam Ali Naqi (RA) was born in 214 Hijri and passed away in 254 Hijri; Imam Hasan Askari (RA) was born in 232 Hijri and passed away in 260 Hijri at only 28, after a life spent under watch yet full of teaching. Imam Muhammad Mahdi (RA) was born in 255 Hijri; the book says he is the awaited Imam who will appear before the Day of Judgement and fill the earth with justice, as in the Hadith quoted in the book (Sunan Abi Dawud: 4284/90, as printed).
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ: حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں۔ آپ کی ولادت مدینہ منورہ میں اٹھتیس (38) ہجری میں ہوئی۔ آپ پچانوے (95) ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائے اور جنت البقیع میں سپردِ خاک ہوئے۔ آپ عبادت گزاروں میں مشہور ہیں اور آپ کی دعاؤں پر مشتمل کتاب صحیفہ سجادیہ کے نام سے مشہور ہے۔ ایک اور کتاب رسالہ الحقوق کے نام سے بھی ہے۔
حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ: حضرت امام زین العابدین کے بیٹے ہیں۔ آپ کا نام محمد اور لقب ”باقر“ ہے — باقر کا مطلب ہے علم کو کھولنے والا، اسی وجہ سے آپ کو یہ لقب ملا کہ آپ نے علم کے دروازے کھول دیے۔ آپ کی ولادت مدینہ منورہ میں ستاون (57) ہجری میں ہوئی۔ آپ کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ آپ کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں طرف سے رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ: آپ کا نام جعفر اور لقب ”صادق“ ہے۔ آپ کی ولادت مدینہ منورہ میں بیاسی (82) ہجری میں ہوئی۔ آپ امام زین العابدین کے پوتے اور امام محمد باقر کے بیٹے ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں امام ابوحنیفہ اور جابر بن حیان جیسے نامور علماء شامل ہیں۔ آپ کی وفات ایک سو اڑتالیس (148) ہجری میں ہوئی۔
حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ: آپ امام جعفر صادق کے صاحبزادے ہیں۔ آپ کا نام موسیٰ اور لقب ”کاظم“ ہے — کاظم کا مطلب ہے غصہ پی جانے والا، اور آپ کو یہ لقب آپ کے صبر و برداشت کی وجہ سے ملا۔ آپ کی ولادت ایک سو اٹھائیس (128) ہجری میں ہوئی اور ایک سو تراسی (183) ہجری میں پچپن (55) سال کی عمر میں وفات پائی۔
حضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ: امام موسیٰ کاظم کے بیٹے ہیں۔ آپ کا نام علی اور لقب ”رضا“ ہے۔ آپ کی ولادت مدینہ منورہ میں ایک سو اڑتالیس (148) ہجری میں ہوئی اور دو سو تین (203) ہجری میں انچاس (49) سال کی عمر میں وفات ہوئی۔ حضرت امام محمد تقی رضی اللہ عنہ: امام علی رضا کے صاحبزادے ہیں، آپ کا نام محمد اور لقب ”تقی“ ہے، یعنی بہت پرہیزگار۔ آپ کی ولادت ایک سو پچانوے (195) ہجری میں ہوئی اور دو سو بیس (220) ہجری میں وفات ہوئی۔ حضرت امام علی نقی رضی اللہ عنہ: امام محمد تقی کے صاحبزادے ہیں، آپ کا نام علی اور لقب ”نقی“ ہے، یعنی پاک و صاف۔ آپ کی ولادت دو سو چودہ (214) ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی اور دو سو چون (254) ہجری میں وفات ہوئی۔ حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ: امام علی نقی کے صاحبزادے ہیں، آپ کا نام حسن اور لقب ”عسکری“ ہے — عسکری عراق کے ایک علاقے کا نام ہے، وہاں قیام کی وجہ سے آپ کو عسکری کہا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت دو سو بتیس (232) ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی اور دو سو ساٹھ (260) ہجری میں اٹھائیس (28) برس کی عمر میں وفات ہوئی۔ حضرت امام محمد مہدی رضی اللہ عنہ: اہلِ تشیع کے ہاں امام محمد مہدی کی پیدائش دو سو پچپن (255) ہجری میں ہوئی ہے — وہ امام غائب ہیں اور قربِ قیامت ظاہر ہوں گے۔
Character: Hazrat Ali (RA) was the first among the youth to accept Islam, and the Prophet ﷺ gave him the glad tidings of Paradise in a gathering. His generosity was famous: he gave away his wealth in the path of Allah and sometimes kept nothing for his own family, yet he never complained. His worship was such that he would spend the night in prayer and the day in service.
Hasan and Husain: The Prophet ﷺ said (Jami Tirmidhi: 3768, as printed in the book): "Hasan and Husain are the leaders of the youth of Paradise." And he said about them (3769): "These two are my sons, and the sons of my daughter; O Allah, I love them, so love them, and love whoever loves them." Imam Hasan's character was such that he would walk to meet people, greet them first, and give generously — one story in the book tells how he gave thousands of dirhams in charity and prayed for the giver.
Worship and learning: Imam Zain-ul-Abideen's night worship and his whispered supplications became the Sahifa Sajjadiya, which people still read today. Imam Ja'far Sadiq's circle produced scholars of law, science and literature. Imam Raza's debates answered the questions of people of many faiths, and Imam Taqi and Imam Naqi carried the same light forward even under watchful rulers. Their scholarly service is simple to remember: they taught, they wrote, and they lived what they taught.
ائمہ اہلِ بیت کی صفات و اخلاق: نوجوانوں میں سب سے پہلے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ مواخاتِ مدینہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے حضرت علی کو اپنا بھائی قرار دیا، اور ایک مجلس میں جنت کی بشارت دی۔ حضرت علی کی سخاوت اور ایثار کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے تھے اور بعض اوقات اپنے گھر والوں کے لیے کچھ نہ بچتا تھا، مگر آپ نے کبھی شکوہ نہ کیا۔
نبی کریم ﷺ نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کے بارے میں فرمایا (جامع ترمذی: 3768، کتاب کے الفاظ میں): ”حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“ اور آپ ﷺ نے ان دونوں کے بارے میں فرمایا (جامع ترمذی: 3769): ”یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں۔ اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما اور ان سے بھی محبت فرما جو ان سے محبت رکھتے ہیں۔“ حضرت امام حسن کی عبادت کا یہ عالم تھا کہ آپ فجر کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب تک جائے نماز پر بیٹھے رہتے، پھر اٹھنے والوں سے ملتے، ان کو سلام کرتے، پھر گھر سے مسجد جاتے اور وہاں نماز، ذکر اور طواف میں مشغول ہو جاتے تھے۔ صدقہ و خیرات اور ایثار آپ کا خاص وصف تھا: آپ نے تین مرتبہ اپنا کل مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیا۔ ایک مرتبہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہزار درہم کے لیے دعا کر رہا تھا، آپ نے اسے دس ہزار درہم بھیجوا دیے (ابن ماجہ، ج 4، ص 214، جیسا کہ کتاب میں چھپا ہے)۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حد درجہ فیاض، نہایت سخی، عبادت گزار اور کثرت کے ساتھ نیک عمل کرنے والے تھے۔ سخاوت، مہمان نوازی، غرباء پروری، تواضع اور تقویٰ آپ کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ آپ نماز سے بے حد شغف رکھتے تھے، اور روزے سے بھی بہت محبت رکھتے تھے۔ حضرت امام زین العابدین رات کے اندھیرے میں غریبوں کی مدد کے لیے صدقات و خیرات کیا کرتے تھے، اور آپ کی دعاؤں کا مجموعہ صحیفہ سجادیہ آج بھی پڑھا جاتا ہے۔ حضرت امام محمد باقر کی علمی خدمات، حضرت امام جعفر صادق کے شاگردوں کی فہرست (جن میں امام ابوحنیفہ، سفیان بن عیینہ، مالک بن انس اور جابر بن حیان جیسے نام شامل ہیں)، حضرت امام علی رضا کے مناظرے اور حضرت امام حسن عسکری کی دہریت کے خلاف جدوجہد — یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ اہلِ بیت نے تلوار سے زیادہ قلم اور کردار سے اسلام کی خدمت کی۔
اس حصے کا خلاصہ ایک جملے میں: ہمیں چاہیے کہ ہم ائمہ اہلِ بیت کی مبارک زندگیوں سے روشنی حاصل کریں — ان کی عبادت گزاری، علیٰ ذوق، اعلیٰ اخلاق اور کردار سے اپنے ظاہر و باطن کو منور کریں اور انہیں دوسرے انسانوں تک پہنچانے کی بھی کوشش کریں۔
What is Tasawwuf? The word comes from "Suf" (wool) — the simple woollen dress of the early people of God. In meaning, Tasawwuf is the purification of the self: cleaning the heart of bad habits and filling it with good ones. The Quran gives its foundation in Surah Ash-Shams, verse 9: قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا — "Indeed, he has succeeded who purified his self" (the book's Urdu translation: "یقیناً اس (شخص) نے فلاح پا لی جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا").
Shariat, Tariqat, Haqiqat: The Sufis taught that these three are not separate things. Shariat is the path of the law, Tariqat is the way of walking on it with a guide, and Haqiqat is the reality one reaches at the end. A famous saying of the Sufis in the book: without knowledge, the journey cannot even begin, and without the company of the righteous, it cannot be completed.
Their service: The Sufis carried Islam to villages and cities where armies never went. They opened Khanqahs where travellers, students and the poor all found food, teaching and a place to sit. People accepted Islam after seeing their character — their patience, their generosity, and their freedom from greed. That is why this chapter calls them a "source of guidance" alongside the Khulafa and the Aima.
تصوف کا مفہوم: تصوف، تزکیہ نفس کا اسمِ مصطلح لفظ ہے۔ تزکیہ نفس کا مطلب ہے: انسانی نفس کو بری عادات سے پاک کر کے اچھی عادات کا خوگر بنانا۔ قرآن مجید میں اپنے نفس کا تزکیہ کرنے والے کے لیے کامیابی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا (سورۃ الشمس: 9) — ترجمہ (کتاب کے الفاظ میں): ”یقیناً اس (شخص) نے فلاح پا لی جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔“
صوفیائے کرام وہ بندے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس کے احکام اور نبی اکرم ﷺ کے طریقوں پر عمل کرتے ہیں۔ صوفیائے کرام خود بھی دین کے احکام کی پابندی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتے ہیں۔ صوفیائے کرام کے اچھے اخلاق، اچھے عمل اور تبلیغ کے نتیجے میں بہت سے لوگ سیدھے راستے پر آئے اور کئی لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ صوفیائے کرام نے معاشرے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات سر انجام دیں، مختلف مذاہب و طبقات سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو محبت و اخوت کا درس دیا۔
شریعت، طریقت اور حقیقت: اس سبق میں ہم درج ذیل دو صوفیائے کرام کے مختصر حالاتِ زندگی اور تعلیمات کے بارے میں پڑھیں گے: حضرت پیر مہر علی شاہ اور حضرت میاں شیر محمد شرقپوری۔ ان دونوں کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ شریعت اور طریقت دو الگ الگ چیزیں نہیں، بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ شریعت پر عمل کرنے کے لیے راہِ طریقت اختیار کرنا ضروری ہے، اور طریقت کا مقصد انسان کو اللہ کی رضا اور جنت کا حصول ہے۔ جو شخص علم کے بغیر طریقت کا دعویٰ کرے، وہ راستے سے بھٹک جاتا ہے — اسی لیے دونوں بزرگوں نے علم اور عمل کو ساتھ ساتھ رکھا۔
Pir Mehr Ali Shah (RA) was a great saint of the Chishti order. He was born in Golra (near present-day Islamabad) in about 1275 Hijri / 1859, and passed away on 29 Safar 1356 Hijri / 11 May 1937. His shrine at Golra Sharif, Islamabad, is a place of teaching and service to this day. His family line reaches Hazrat Imam Hasan (RA).
He studied Arabic, Persian and the Quran, and learned Hadith from the scholars of his time. At the age of 20 he began teaching and guiding people in the Chishti order, and his Khanqah became a centre of learning. His most famous work is Tahqiq al-Haq fi Kalimat al-Haq, and his book Saif-e-Chishtiyai was written as a refutation of the Qadiani fitna — a great defence of the belief in Khatm-e-Nubuwwat (the finality of Prophethood). His other books include Mirat al-Irfan and Shams al-Hidayah.
Mian Sher Muhammad Sharqpuri (RA) was a great saint of the Naqshbandi order. He was born in 1282 Hijri / 1865 in a village near Lahore, in the Sharqpur area — which is why he is called "Sharqpuri". He studied with the scholars of his time, took Bai'at at the hands of Khwaja Amiruddin, and then established his Khanqah at Sharqpur, where his spiritual chain continues to this day. He passed away on 3 Rabi al-Awwal 1347 Hijri / 20 August 1928 at the age of 65, and his shrine is at Sharqpur.
His special quality was his strict following of the Shariat in every matter of life. He would not let anyone sit higher than others in his gathering, and he treated the poor and the rich alike. He spread the Naqshbandi order in Pakistan at a time when many people were drifting away from the Shariat, and his students carried that light across the country.
حضرت پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ: حضرت پیر مہر علی شاہ سلسلہ چشتیہ کے ایک عظیم روحانی پیشوا ہیں۔ آپ کی ولادت چودہ (14) اپریل 1859ء بمطابق بارہ سو پچھتر (1275) ہجری کو اسلام آباد کے قریب گولڑہ شریف کی ایک بستی میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام سید نذر دین شاہ ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ نے چار سال کی عمر میں تعلیم کا آغاز کیا۔ قرآن مجید حفظ کیا، پھر عربی، فارسی اور دیگر علوم کی تعلیم حاصل کی اور مولانا محمد شریف کے بعد سہارن پور کے امام مولانا ناصر الدین سے حدیث کی سند حاصل کی۔
آپ بیس (20) سال کی عمر میں ہندوستان سے واپس آئے اور اپنی آبائی مسجد میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور انہوں نے آپ کو خلافت سے نوازا۔ حضرت پیر مہر علی شاہ ان صوفیائے کرام میں سے ہیں جنہوں نے علمی اور عملی مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی۔ آپ نے نظام کو سکھا اور مدرسے کے ساتھ ساتھ جوڑا، توحید کی تعلیم دی، اتباعِ سنت کا درس دیا اور شریعت کا پرچار کیا۔ آپ کی تعلیمات میں یہ بات بہت نمایاں ہے کہ شریعت اور طریقت دو الگ الگ چیزیں نہیں، بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ شریعت پر عمل کرنے کے لیے راہِ طریقت اختیار کرنا ضروری ہے۔ آپ نے مرتبہ یہ فرمایا کہ دین کے علم کے بغیر اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ناممکن ہے۔ علم کے بغیر انسان مردہ کی طرح ہے۔
آپ کا ایک بڑا کارنامہ عقیدہ ختمِ نبوت کا دفاع ہے۔ آپ نے ہر موقع پر ختمِ نبوت کا پرچار کیا اور اس عقیدے کا انکار کرنے والوں کی اصلاح کی بھرپور کوشش کی۔ آپ کی تصنیف سیفِ چشتیائی فتنہ قادیانیت کے رد میں لکھی گئی ایک معروف کتاب ہے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ ایک عظیم مدبر، عالم اور ولی تھے۔ آپ نے بہت سی کتابیں لکھیں، جن میں تصوف کے موضوع پر سب سے زیادہ مشہور تحقیق الحق فی کلمۃ الحق ہے۔ ان کے علاوہ آپ کی تصنیف کردہ کتابوں میں شمس الہدایہ، الفتوحات الصمدیہ، مرآۃ العرفان اور سیفِ چشتیائی شامل ہیں۔ آپ ایک بہت عمدہ شاعر بھی تھے۔ آپ کے فارسی اشعار آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ آپ کا انتقال انتیس (29) صفر المظفر تیرہ سو چھپن (1356) ہجری بمطابق گیارہ (11) مئی 1937ء کو ہوا۔ آپ کا مزار شریف گولڑہ، اسلام آباد میں ہے — مزار کے ساتھ مسجد اور مدرسہ ہے، جہاں دین کی تعلیم اور ذکر و فکر کی خدمت کی انجام دہی کی جاتی ہے۔
حضرت میاں شیر محمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ: حضرت میاں شیر محمد شرقپوری سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم صاحبِ کرامت بزرگ ہیں۔ آپ بارہ سو بیاسی (1282) ہجری / 1865ء میں لاہور کے قریب ایک علاقے شرقپور میں پیدا ہوئے۔ آپ کو شیر محمد شرقپوری اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ کا تعلق شرقپور سے تھا۔ آپ کے آباؤ اجداد عرب سے ہجرت کر کے افغانستان کے شہر کابل آئے اور وہاں سے ہجرت کر کے پنجاب آئے تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے چچا میاں حمید الدین سے حاصل کی۔ جب آپ ظاہری علوم سے فارغ ہوئے تو حضرت بابا امیر الدین نقشبندی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔ شیخ نے آپ کو خلافت عطا فرمائی اور آپ نے شرقپور میں اپنی خانقاہ قائم کی، اور یہ روحانی سلسلہ آج تک قائم ہے۔
میاں شیر محمد شرقپوری کی تمام معمولات میں شریعتِ اسلام کی پابندی کا خاص خیال رکھا کرتے تھے۔ اگر کوئی آپ کی مجلس میں آتی پاتی مار کر بیٹھتا تو آپ اسے بیٹھنے سے روکتے تھے۔ آپ کے ہاں امیر و غریب سب برابر تھے۔ آپ کی ساری زندگی سنت کی پیروی میں گزری۔ میاں شیر محمد شرقپوری کے ہندوستان میں ان صوفیائے کرام میں سے تھے جنہوں نے اس صدی میں اپنی قوتِ روحانی اور عظمت کردار کی بدولت لاکھوں گمراہ لوگوں کو راہِ راست پر لانے کا کام کیا۔ پاکستان میں جن بزرگوں کی علمی و باطنی تربیت سے سلسلہ نقشبندیہ کو فروغ حاصل ہوا، ان میں میاں شیر محمد شرقپوری کا اہم کردار ہے۔ آپ کا انتقال سوموار 3 ربیع الاول تیرہ سو سینتالیس (1347) ہجری / 20 اگست 1928ء کو پینسٹھ (65) سال کی عمر میں ہوا۔ آپ کو شرقپور میں ہی سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آج آپ کا مزارِ مقدس ہے۔
This chapter has three separate exercises in the book — one for each part: (الف) Khulafa-e-Rashideen, (ب) Aima-e-Ahl-e-Bait, and (ج) Sufi-e-Kiram. Every question from all three is answered below: 15 MCQs, 15 short questions and 3 long questions. The classroom activities ("Sargarmiyan") printed after each exercise are group activities for class, not written questions, so they are noted here rather than answered as questions: Part (الف) asks students to match Khilafat-e-Rashida features to examples in a table; Part (ب) asks for a presentation on an Ahl-e-Bait personality and a list of their books; Part (ج) asks for a presentation on a Sufi personality and a list of Sufi services.
⚠️ Two honesty notes: (1) In Part (الف) MCQ (ii), two options are both correct according to the book — see the answer note there. (2) Hadith references are given exactly as printed in the book.
اس باب کی کتاب میں تین الگ الگ مشقیں ہیں — ہر حصے کی اپنی مشق: (الف) خلفائے راشدین، (ب) ائمہ اہلِ بیت، (ج) صوفیائے کرام۔ تینوں مشقوں کے تمام سوالات کے جوابات نیچے دیے گئے ہیں: 15 کثیر الانتخابی سوالات، 15 مختصر سوالات اور 3 تفصیلی سوالات۔ ہر مشق کے بعد چھپی ہوئی ”سرگرمیاں“ کلاس کی گروہی سرگرمیاں ہیں، تحریری سوالات نہیں، اس لیے ان کا ذکر یہاں بطور نوٹ کیا گیا ہے، بطور سوال جواب نہیں دیا گیا۔
⚠️ دو دیانت دارانہ نوٹ: (1) حصہ (الف) کے کثیر الانتخابی سوال (ii) میں کتاب کے مطابق دو آپشن درست ہیں — تفصیل اس کے جواب میں دیکھیں۔ (2) حدیثوں کے حوالے کتاب میں جیسے چھپے ہیں، ویسے ہی دیے گئے ہیں۔
(i) اسلام میں خلیفہ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے:
درست جواب (ب) اقامت دین ہے۔ کتاب کے پہلے ہی صفحے پر لکھا ہے کہ اسلام میں خلافت کی بنیادی ذمہ داری اقامتِ دین ہے، اور اسی ایک ذمہ داری کے اندر ارکانِ اسلام کا قیام، جہاد، انصاف کی فراہمی، تعلیم و تربیت اور فلاحی ریاست کا قیام سب آ جاتے ہیں۔ رفاہِ عامہ اور عدل و انصاف اسی بڑی ذمہ داری کے حصے ہیں، اس لیے وہ الگ جواب نہیں بنتے۔
(ii) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کارناموں میں سے ہے:
⚠️ نوٹ: یہ سوال کتاب میں دو درست آپشن رکھتا ہے۔ کتاب کے مطابق حضرت ابوبکر نے مرتدین کی سرکوبی بھی کی اور منکرینِ زکوٰۃ کی سرکوبی بھی کی — دونوں آپ کے دور کے کارنامے ہیں۔ اس لیے (الف) اور (د) دونوں درست ہیں۔ یہاں (الف) کو کلید کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے کیونکہ وہ کتاب میں پہلے ذکر ہوا ہے، مگر امتحان میں (د) لکھنے والا بھی غلط نہیں ہو گا۔ مسجد نبوی کی توسیع اور ہجری سال کا آغاز حضرت عمر کے دور کے کام ہیں، اس لیے (ب) اور (ج) درست نہیں۔
(iii) خلفائے راشدین نے احتساب کے لیے سب سے پہلے پیش کیا:
درست جواب (د) اپنی ذات کو ہے۔ کتاب میں صاف لکھا ہے کہ خلفائے راشدین نے احتساب کا نظام خود احتسابی سے شروع کیا اور سب سے پہلے اپنی ذات کو احتساب کے لیے پیش فرمایا۔ پہلے خلیفہ خود اپنا حساب دیتا، پھر وہ اپنے گورنروں اور افسروں سے حساب لیتا تھا۔
(iv) خلفائے راشدین نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے:
درست جواب (الف) مسافر خانے تعمیر کیے ہے۔ رفاہِ عامہ کے حصے میں کتاب نے لنگر خانے، مہمان خانے، سرائیں، پل، مسافر خانے اور یتیم خانے تعمیر کروانے کا ذکر کیا ہے۔ منکرینِ زکوٰۃ کی سرکوبی سیاسی و عسکری کارنامہ تھا، فلاحی کام نہیں، اور سلطنت کی وسعت بھی فلاحی کاموں کی فہرست میں نہیں آتی۔
(v) بطور خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مقدمہ کس کی عدالت میں پیش ہوا؟
درست جواب (الف) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہے۔ کتاب میں واقعہ ہے کہ حضرت عمر ایک مقدمے میں فریق کی حیثیت سے قاضی حضرت زید بن ثابت کی عدالت میں پیش ہوئے، اور جب قاضی نے انہیں ”امیر المؤمنین“ کہہ کر مخاطب کیا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ مقدمے میں فریقین برابر ہوتے ہیں۔ یہی واقعہ خلافتِ راشدہ کے عدل کی سب سے مشہور مثال ہے۔
خلافت کے لغوی معنی جانشینی کے ہیں اور خلیفہ جانشین یا نائب کو کہتے ہیں۔ اسلام میں خلیفہ کی بنیادی ذمہ داری اقامتِ دین ہے — یعنی دین کو قائم کرنا۔ اس میں ارکانِ اسلام کا قیام، جہاد، انصاف کی فراہمی، تعلیم و تربیت اور فلاحی ریاست کا قیام سب شامل ہیں۔ خلیفہ کوئی نیا دین نہیں لاتا، وہ اسی دین کی حفاظت کرتا ہے اور اسی کے مطابق ریاست چلاتا ہے۔
(1) رفاہِ عامہ: عوام کی بھلائی ریاست کا پہلا کام تھا — لنگر خانے، مسافر خانے، یتیم خانے اور بیت المال سے ضرورت مندوں کے وظائف۔ (2) عدل و انصاف: قانون کی نظر میں حاکم و محکوم سب برابر تھے، جیسا کہ حضرت عمر کے قاضی زید بن ثابت کی عدالت میں پیش ہونے کے واقعے سے ظاہر ہے۔ (مزید خصوصیات: امانت، احتساب، اقلیتوں سے حسنِ سلوک اور علمی ترقی — جواب میں کوئی دو لکھنا کافی ہے۔)
آج بھی احتساب اسی اصول سے کام کر سکتا ہے جس سے خلافتِ راشدہ میں کرتا تھا: پہلے حکمران خود اپنا حساب دے، پھر افسروں سے حساب لے۔ عملی طور پر اس کا مطلب ہے: سرکاری مال کا شفاف ریکارڈ، ہر خرچ کا حساب عوام کے سامنے، عام آدمی کا سوال کرنے کا حق، اور قانون کا سب پر برابر لاگو ہونا — چاہے وہ وزیر ہو یا عام شہری۔ جس معاشرے میں احتساب اوپر سے شروع ہو، وہاں کرپشن کی جڑیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔
خلفائے راشدین نے لنگر خانے، مہمان خانے، سرائیں، پل، مسافر خانے اور یتیم خانے تعمیر کروائے۔ بیت المال سے غریبوں، بیواؤں، یتیموں اور مسافروں کے لیے وظائف مقرر کیے۔ حضرت عمر کے دور میں یہ نظام بہت منظم ہو گیا: شہروں کے درمیان راستوں کو محفوظ اور آسان بنایا گیا، اور ہر شہری کی بنیادی ضرورت کا خیال رکھا گیا۔ ریاست عوام کی خادم تھی، آقا نہیں۔
خلفائے راشدین اپنے ہر فیصلے میں نبی کریم ﷺ کی تعلیم اور آپ کی نسبت کو سامنے رکھتے تھے۔ وہ آپ ﷺ کی سنت کو اپنی حکومت کی بنیاد مانتے تھے — اسی لیے حدیث میں ان کی سنت کی پیروی لازم قرار دی گئی ہے۔ عملی مثال: حضرت عمر نے بیت المال کے وظائف میں سب سے زیادہ حصہ ان کو دیا جن کا رسول اللہ ﷺ سے قریبی رشتہ تھا — پہلے ازواجِ مطہرات، پھر اہلِ بیت، پھر مہاجرین و انصار۔ یہ طرف داری نہیں تھی، یہ رسول اللہ ﷺ کے گھرانے کا احترام تھا۔
خلفائے راشدین کے امتیازی کارنامے ان کی حکومت کو تاریخ کی مثالی حکومت بناتے ہیں۔ پہلا کارنامہ اقامتِ دین تھا: انہوں نے ارکانِ اسلام کا قیام، قرآن کی حفاظت اور دین کی اشاعت کو اپنی حکومت کی بنیاد بنایا۔ حضرت ابوبکر نے مرتدین اور منکرینِ زکوٰۃ کی سرکوبی کر کے نئی ریاست کو بچایا۔ حضرت عمر نے انتظامی نظام منظم کیا، دیوان و رجسٹر قائم کیے، نہریں کھدوائیں اور ہجری تقویم کا آغاز کیا۔ حضرت عثمان نے قرآن مجید کو ایک مصحف پر جمع کر کے امت کو ایک نسخے پر متفق کیا اور آپ ”جامع القرآن“ کہلائے۔ حضرت علی نے اندرونی آزمائشوں کے باوجود عدل و علم کا چراغ روشن رکھا۔ دوسرا بڑا کارنامہ رفاہِ عامہ تھا: لنگر خانے، مسافر خانے، یتیم خانے اور بیت المال کے وظائف۔ تیسرا کارنامہ عدل و انصاف تھا: عدالت میں حاکم و محکوم برابر، جیسا کہ حضرت عمر کے مقدمے سے ظاہر ہے۔ چوتھا کارنامہ احتساب تھا: پہلے اپنی ذات، پھر افسران۔ پانچواں کارنامہ اقلیتوں سے حسنِ سلوک تھا: غیر مسلم شہریوں کی جان، مال اور عبادت گاہوں کی حفاظت، اور حفاظت نہ کر سکنے پر جزیہ واپس۔ چھٹا کارنامہ علمی ترقی تھا: بڑے شہروں میں معلمین کا تقرر۔ ان کارناموں کی وجہ سے تیس سال کا یہ دور آج بھی ہر مسلمان حکمران کے لیے نمونہ ہے۔
(i) عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں:
درست جواب (الف) حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہے۔ عشرہ مبشرہ وہ دس صحابہ ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی تھی، اور حضرت علی ان دس میں شامل ہیں۔ حضرت ابوہریرہ، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت سلمان فارسی جلیل القدر صحابہ ہیں، مگر وہ عشرہ مبشرہ میں شامل نہیں۔
(ii) حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے خلافت سے دست بردار ہونے کی وجہ تھی:
درست جواب (ب) دو مسلمان گروہوں میں صلح ہے۔ حضرت امام حسن نے دیکھا کہ خلافت اپنے ہاتھ میں رکھنے سے مسلمانوں میں خانہ جنگی اور خون ریزی ہو گی، اس لیے آپ نے امت کے اتحاد اور مسلمانوں کی بھلائی کے لیے خلافت سے دست برداری اختیار کی۔ یہی وہ صلح ہے جس کی بشارت نبی کریم ﷺ نے دی تھی (صحیح بخاری: 2704): ”یہ میرا بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔“
(iii) حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی دعاؤں پر مشتمل کتاب کا نام ہے:
درست جواب (ب) صحیفہ سجادیہ ہے۔ امام زین العابدین کی عبادت اور رات کی مناجاتوں کا مجموعہ اسی نام سے مشہور ہے، اور لوگ آج بھی اسے پڑھتے ہیں۔ آپ کی ایک اور کتاب رسالہ الحقوق کے نام سے بھی مشہور ہے، مگر سوال میں دعاؤں والی کتاب پوچھی گئی ہے، جو صحیفہ سجادیہ ہے۔
(iv) حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں شامل تھے:
درست جواب (الف) جابر بن حیان ہے۔ کتاب میں امام جعفر صادق کے شاگردوں میں امام ابوحنیفہ، سفیان بن عیینہ، مالک بن انس اور جابر بن حیان جیسے نامور علماء کا ذکر ہے۔ جابر بن حیان علمِ کیمیا کے مشہور عالم تھے اور انہوں نے امام جعفر صادق سے علم حاصل کیا۔
(v) حضرت حسن عسکری رضی اللہ عنہ کا کام تھا:
درست جواب (ب) مستشرقین کا مقابلہ ہے، جیسا کہ کتاب کے سوال کے آپشنز میں دیا گیا ہے۔ کتاب کے متن کے مطابق امام حسن عسکری نے اپنے دور میں دہریت اور الحاد کا پرچار کرنے والے فلاسفہ کا مقابلہ کیا اور اسلام کا دفاع کیا — سوال میں اسی کام کو ”مستشرقین کا مقابلہ“ کے آپشن سے پوچھا گیا ہے۔ آپ نے مشکل حالات میں بھی دین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا اور آپ کی وفات صرف اٹھائیس سال کی عمر میں ہوئی۔
حضرت علی نوجوانوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے تھے، رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے، اور مواخاتِ مدینہ میں نبی کریم ﷺ نے آپ کو اپنا بھائی قرار دیا۔ آپ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ بنے (35 ہجری) اور ساڑھے چار سال خلافت کی۔ آپ کے دور کی سب سے بڑی آزمائش اندرونی انتشار تھا، مگر آپ نے عدل و انصاف اور علم کا دامن نہ چھوڑا۔ آپ کے خطبات و فیصلے حکمت کا خزانہ ہیں۔ آپ 21 رمضان 40 ہجری کو کوفہ میں شہید ہوئے۔
حضرت امام حسن نے اقتدار چھوڑ کر صلح کو ترجیح دی، حالانکہ اقتدار ان کا حق تھا۔ آج کی رہنمائی یہ ہے: جب ذاتی مفاد اور امت کا اتحاد ٹکرائیں تو اتحاد کو ترجیح دو۔ گھر، محلے، جماعت یا ملک میں جھگڑا ہو تو بڑا وہ ہے جو پہلے صلح کی طرف ہاتھ بڑھائے، نہ کہ وہ جو اپنی بات منوانے کے لیے لڑائی بڑھائے۔ صلح کمزوری نہیں، سرداروں کا کام ہے — جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت حسن کو ”سردار“ فرمایا تھا۔
حضرت امام حسین کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ حق کے لیے جان بھی دے دی جائے، مگر باطل کے سامنے سر نہ جھکایا جائے۔ آپ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا کیونکہ آپ اسے خلافت کا اہل نہیں سمجھتے تھے، اور کربلا میں اپنے اہلِ بیت و جانثاروں سمیت 10 محرم 61 ہجری کو شہادت پائی۔ دوسرا سبق سخاوت، عبادت اور صبر ہے: آپ حد درجہ فیاض، عبادت گزار اور نیک عمل کرنے والے تھے۔ آپ کی شہادت نے اسلام کو نئی زندگی دی اور ہر دور کے مظلوم کو یہ حوصلہ دیا کہ ظلم کے سامنے ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔
امام زین العابدین حضرت امام حسین کے صاحبزادے تھے، 38 ہجری میں مدینہ میں پیدا ہوئے اور 95 ہجری میں وہیں وفات پائی۔ آپ کی سب سے نمایاں خصوصیت عبادت گزاری تھی: رات کی عبادت اور مناجات میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا، اور آپ کی دعاؤں کا مجموعہ صحیفہ سجادیہ کہلاتا ہے۔ دوسری خصوصیت پوشیدہ صدقہ تھی: آپ رات کے اندھیرے میں غریبوں کی مدد کرتے تھے۔ تیسری خصوصیت صبر تھی: کربلا کے بعد بھی آپ نے امت کو جوڑنے اور دعا و تعلیم کے ذریعے خدمت کا راستہ اختیار کیا، انتقام کا نہیں۔
امام جعفر صادق (ولادت 82 ہجری، وفات 148 ہجری) کے علمی حلقے سے فقہ، حدیث، کیمیا اور ادب کے بڑے بڑے عالم نکلے — جن میں امام ابوحنیفہ، سفیان بن عیینہ، مالک بن انس اور جابر بن حیان شامل ہیں۔ آپ نے مدینہ میں علم کا ایک ایسا مرکز قائم کیا جہاں ہر مکتبِ فکر کے طالب علم آتے تھے اور علم حاصل کرتے تھے۔ آپ کی تعلیم کا نچوڑ یہ تھا کہ علم صرف کتابوں میں نہیں، کردار میں نظر آنا چاہیے۔ اسی لیے آپ کے شاگردوں نے علم کو پوری اسلامی دنیا میں پھیلایا۔
ائمہ اہلِ بیت کی صفات و اخلاق کا خلاصہ یہ ہے: عبادت، سخاوت، صبر، عاجزی اور علم۔ حضرت علی نوجوانوں میں سب سے پہلے مسلمان ہوئے، نبی کریم ﷺ کے بھائی قرار پائے اور جنت کی بشارت پائی۔ حضرت حسن نے صلح کے لیے اقتدار چھوڑ دیا — یہ ان کی سب سے بڑی اخلاقی عظمت ہے۔ حضرت حسین نے حق کے لیے جان دے دی۔ امام زین العابدین کی رات کی عبادت اور پوشیدہ صدقات، امام باقر کا علم کھولنا، امام صادق کا علمی حلقہ، امام کاظم کا غصہ پی جانا، امام رضا کے مناظرے، امام تقی کی پرہیزگاری، امام نقی کی پاکیزگی اور امام عسکری کی مشکل حالات میں ثابت قدمی — یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ علمی خدمات کے لحاظ سے: امام زین العابدین کا صحیفہ سجادیہ اور رسالہ الحقوق، امام باقر و صادق کے شاگردوں کی پوری نسل، امام رضا کے علمی مباحثے اور امام عسکری کی فکری دفاع — ان سب نے اسلام کے علمی ورثے کو محفوظ کیا۔ آج کے طالب علم کے لیے سبق یہ ہے کہ ہم ان کی زندگیوں سے روشنی حاصل کریں: عبادت میں اخلاص، مال میں سخاوت، غصے میں صبر، اور علم میں عاجزی۔ یہی وہ صفات ہیں جن کی وجہ سے ائمہ اہلِ بیت ہدایت کا سرچشمہ کہلاتے ہیں۔
(i) پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ پیدا ہوئے:
درست جواب (ج) گولڑہ شریف میں ہے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ 14 اپریل 1859ء / 1275 ہجری کو اسلام آباد کے قریب گولڑہ شریف کی ایک بستی میں پیدا ہوئے۔ آپ کا مزار بھی گولڑہ شریف میں ہی ہے۔ شرقپور حضرت میاں شیر محمد شرقپوری کا علاقہ ہے، اس لیے (ب) درست نہیں۔
(ii) پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا سلسلہ نسب ملتا ہے:
درست جواب (د) حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے ہے۔ کتاب میں صاف لکھا ہے کہ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ سلسلہ چشتیہ نظامیہ کے بزرگ تھے اور حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کے ہاتھ پر بیعت ہوئے تھے۔
(iii) پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی عقیدہ ختمِ نبوت پر لکھی گئی کتاب کا نام ہے:
درست جواب (د) سیف چشتیائی ہے۔ کتاب کے مطابق پیر مہر علی شاہ کا بڑا کارنامہ عقیدہ ختمِ نبوت کا دفاع تھا، اور آپ کی تصنیف سیفِ چشتیائی فتنہ قادیانیت کے رد میں لکھی گئی ایک معروف کتاب ہے۔ آپ کی سب سے مشہور تصوفی کتاب تحقیق الحق فی کلمۃ الحق ہے، مگر وہ اس سوال کے آپشنز میں شامل نہیں — سوال میں ختمِ نبوت کے دفاع والی کتاب پوچھی گئی ہے، جو سیفِ چشتیائی ہے۔
(iv) سلسلہ نقشبندیہ کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا:
درست جواب (د) میاں شیر محمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ نے ہے۔ کتاب کے مطابق پاکستان میں جن بزرگوں کی علمی و باطنی تربیت سے سلسلہ نقشبندیہ کو فروغ حاصل ہوا، ان میں میاں شیر محمد شرقپوری کا اہم کردار ہے۔ پیر مہر علی شاہ کا تعلق سلسلہ چشتیہ سے تھا، اس لیے (الف) درست نہیں۔
(v) میاں شیر محمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ کا مزار ہے:
درست جواب (ب) شرقپور میں ہے۔ میاں شیر محمد شرقپوری شرقپور میں ہی پیدا ہوئے، وہیں اپنی خانقاہ قائم کی، اور 3 ربیع الاول 1347 ہجری / 20 اگست 1928ء کو وفات کے بعد وہیں سپردِ خاک ہوئے۔ آج بھی ان کا مزار شرقپور میں ہے اور ان کا روحانی سلسلہ وہیں قائم ہے۔
تصوف کی اہمیت یہ ہے کہ یہ دین کے ظاہر کے ساتھ باطن کو بھی سنوارتا ہے۔ نماز، روزہ اور عبادات تو جسم کے اعمال ہیں، مگر تصوف دل کو صاف کرتا ہے: غرور، لالچ، حسد اور غصے سے پاک کر کے اخلاص، صبر، شکر اور محبت پیدا کرتا ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا: قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا (سورۃ الشمس: 9) — ”یقیناً اس نے فلاح پا لی جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔“ اسی لیے تصوف کو دین کی روح کہا جاتا ہے: شریعت راستہ ہے، اور تصوف اس راستے پر چلنے کا جذبہ اور سلیقہ ہے۔
پیر مہر علی شاہ نے فرمایا کہ شریعت اور طریقت دو الگ الگ چیزیں نہیں، بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ شریعت پر عمل کرنے کے لیے راہِ طریقت اختیار کرنا ضروری ہے، اور طریقت کا مقصد اللہ کی رضا اور جنت کا حصول ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ دین کے علم کے بغیر اللہ کی رضا حاصل کرنا ناممکن ہے — علم کے بغیر انسان مردہ کی طرح ہے۔ یعنی طریقت کا دعویٰ کرنے والا اگر شریعت اور علم کو چھوڑ دے تو وہ راستے سے بھٹک جاتا ہے۔
پیر مہر علی شاہ کا سب سے بڑا کارنامہ عقیدہ ختمِ نبوت کا دفاع تھا۔ آپ نے ہر موقع پر ختمِ نبوت کا پرچار کیا اور اس عقیدے کا انکار کرنے والوں کی اصلاح کی بھرپور کوشش کی۔ آپ کی کتاب سیفِ چشتیائی فتنہ قادیانیت کے رد میں لکھی گئی ایک معروف کتاب ہے۔ اس کے ذریعے آپ نے عام مسلمانوں کو یہ سمجھایا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا، اور جو اس عقیدے کا انکار کرے وہ اسلام کے بنیادی عقیدے سے ہٹ جاتا ہے۔
میاں شیر محمد شرقپوری سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم بزرگ تھے۔ آپ 1282 ہجری / 1865ء میں لاہور کے قریب شرقپور میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے چچا میاں حمید الدین سے حاصل کی، پھر حضرت بابا امیر الدین نقشبندی کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور ان سے خلافت پائی۔ آپ نے شرقپور میں اپنی خانقاہ قائم کی، جہاں آپ کی تمام معمولات میں شریعت کی پابندی کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ آپ 3 ربیع الاول 1347 ہجری / 20 اگست 1928ء کو 65 سال کی عمر میں وفات پا گئے اور شرقپور میں ہی مدفون ہیں۔
اسلام کے فروغ میں صوفیائے کرام کا کردار یہ تھا کہ وہ وہاں پہنچے جہاں نہ فوج گئی، نہ کتابیں پہنچیں — گاؤں گاؤں، شہر شہر۔ انہوں نے خانقاہیں کھولیں جہاں مسافر، طالب علم اور غریب سب کو کھانا، تعلیم اور بیٹھنے کی جگہ ملتی تھی۔ لوگوں نے پہلے ان کا کردار دیکھا — صبر، سخاوت، عاجزی اور لالچ سے آزادی — پھر ان کی بات سنی اور اسلام قبول کیا۔ مختلف مذاہب و طبقات کے لوگوں کو انہوں نے محبت و اخوت کا درس دیا اور معاشرے میں امن و سلامتی پھیلائی۔ اسی لیے اسلام کی اشاعت کی تاریخ میں صوفیائے کرام کا کردار اتنا ہی بڑا ہے جتنا علماء اور حکمرانوں کا۔
پیر مہر علی شاہ: سلسلہ چشتیہ کے عظیم روحانی پیشوا، ولادت 14 اپریل 1859ء / 1275 ہجری گولڑہ شریف، سلسلہ نسب حضرت امام حسن سے۔ چار سال کی عمر میں تعلیم کا آغاز، قرآن حفظ کیا، عربی و فارسی سیکھی، حدیث کی سند حاصل کی۔ بیس سال کی عمر میں درس و تدریس شروع کی، حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور خلافت پائی۔ تعلیمات: شریعت اور طریقت ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں، علم کے بغیر اللہ کی رضا ناممکن ہے۔ کارنامے: عقیدہ ختمِ نبوت کا دفاع، سیفِ چشتیائی (فتنہ قادیانیت کا رد)، تحقیق الحق فی کلمۃ الحق، شمس الہدایہ، مرآۃ العرفان جیسی کتابیں، اور فارسی شاعری۔ وفات 29 صفر 1356 ہجری / 11 مئی 1937ء، مزار گولڑہ شریف اسلام آباد۔ میاں شیر محمد شرقپوری: سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم بزرگ، ولادت 1282 ہجری / 1865ء شرقپور (لاہور کے قریب)۔ ابتدائی تعلیم چچا میاں حمید الدین سے، پھر بابا امیر الدین نقشبندی کے ہاتھ پر بیعت و خلافت۔ شرقپور میں خانقاہ قائم کی، جہاں شریعت کی پابندی کا خاص خیال تھا اور امیر و غریب سب برابر تھے۔ پاکستان میں سلسلہ نقشبندیہ کے فروغ میں ان کا اہم کردار ہے۔ وفات 3 ربیع الاول 1347 ہجری / 20 اگست 1928ء، عمر 65 سال، مزار شرقپور۔ دونوں بزرگوں کا مشترکہ پیغام: شریعت پر چلو، دل کو صاف رکھو، علم حاصل کرو اور لوگوں کی خدمت کرو۔
This chapter has three sources of guidance. Part (الف) is the Khulafa-e-Rashideen: what Khilafat means, the four Khulafa, and their features — welfare, trust, justice, Jihad with rules, good treatment of minorities, accountability, respect for the Prophet's family, and learning. Part (ب) is the Aima-e-Ahl-e-Bait: Ali, Hasan, Husain and the later Imams up to Imam Mahdi, with their character and scholarly services. Part (ج) is the Sufis: what Tasawwuf means, and the lives of Pir Mehr Ali Shah and Mian Sher Muhammad Sharqpuri.
Revision guidance: First memorise the 30-year total and the four durations (2.5, 10.5, 12, 4.5). Then learn the eight features of Khilafat-e-Rashida by their one-line examples (Umar in court for justice, Bait-ul-Maal for trust, Jizya returned for minorities). Then learn the twelve Imams in order, and finally the two Sufis by place and order (Golra = Chishti, Sharqpur = Naqshbandi). For MCQs, practise the three sets separately — each part has its own five.
اس باب میں ہدایت کے تین سرچشمے بیان ہوئے ہیں۔ حصہ (الف) خلفائے راشدین: خلافت کا مفہوم، چاروں خلفاء اور ان کی خصوصیات — رفاہِ عامہ، امانت، عدل و انصاف، اصولوں والا جہاد، اقلیتوں سے حسنِ سلوک، احتساب، نسبتِ رسول کا خیال اور علمی ترقی۔ حصہ (ب) ائمہ اہلِ بیت: حضرت علی، حسن، حسین اور بعد کے ائمہ امام مہدی تک، ان کی صفات و اخلاق اور علمی خدمات۔ حصہ (ج) صوفیائے کرام: تصوف کا مفہوم اور پیر مہر علی شاہ و میاں شیر محمد شرقپوری کی زندگیاں۔
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے 30 سال کا مجموعہ اور چاروں خلفاء کی مدتیں (ڈھائی، ساڑھے دس، بارہ، ساڑھے چار) یاد کرو۔ پھر خلافتِ راشدہ کی آٹھ خصوصیات کو ایک ایک مثال سے یاد کرو (عدل کے لیے عدالت میں عمر، امانت کے لیے بیت المال، اقلیتوں کے لیے جزیہ واپسی)۔ پھر بارہ ائمہ ترتیب سے یاد کرو، اور آخر میں دونوں صوفیوں کو جگہ اور سلسلے سے یاد کرو (گولڑہ = چشتی، شرقپور = نقشبندی)۔ کثیر الانتخابی سوالات کی تیاری تینوں حصوں میں الگ الگ کرو — ہر حصے کے اپنے پانچ سوال ہیں۔
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Islamiat, Chapter 6 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu