FSc Part 1 Physics Chapter 3 Complete Guide Book — Circular and Rotational Motion

FSc Part 1 Physics Chapter 3 — Circular and Rotational Motion
Home > PunjabTest.com > FSc Part 1 > Physics — all chapters > Chapter 3: Circular and Rotational Motion

اس chapter میں topics (Topics in this chapter)

  1. 3.1 — Radian aur Angular Displacement
  2. Angular Velocity aur Angular Acceleration
  3. Angular aur Linear ka Rishta — Equations of Angular Motion
  4. 3.2 — Centripetal Force aur Acceleration
  5. Centripetal Force کہاں سے آتی ہے — Banked Roads
  6. Centrifuge, Washing-Machine Dryer aur Cream Separator
  7. 3.3 — Artificial Satellites aur Critical Velocity
  8. Orbital Velocity — v = √(GM / r)
  9. Weightlessness in Satellites aur Artificial Gravity
  10. 3.4 — Moment of Inertia aur Torque
  11. 3.5 — Angular Momentum
  12. 3.6 — Law of Conservation of Angular Momentum — Diver, Skater, Flywheel, Gyroscope
  13. 📝 Official Exercise Questions — with Answers
  14. 📌 Chapter Summary & Guidance
3.1 — Radian aur Angular Displacement۳.۱ — ریڈین اور زاویائی ہٹاؤ
🏷 Tags: radian, angular displacement, arc, radius, right-hand rule, revolution, degree
ENGLISH

سیدھا راستہ ناپنا آساں ہے — scale لگاؤ, لمبائی پڑھ لو. لیکن جب کوئی چیز گھوم رہی ہو, تو اسکا سفر سیدھا نہیں, گول ہوتا ہے. اس لیے ہمیں ایک ایسی اکائی چاہیے جو گھومنے کو ناپ سکے. وہ اکائی radian ہے. تصور کرو کہ ایک دائرے کا مرکز O ہے, اور اس کے گرد ایک چاپ (arc) AB کھنچی گئی ہے. اگر اس چاپ کی لمبائی S, دائرے کے radius r کے برابر ہو جائے, تو مرکز پر بننے والا زاویہ ek radian کہلاتا ہے. یہ زاویہ ناپنے کی SI اکائی ہے, اور اس کا نشان "rad" ہے.

اب سوال یہ ہے کہ چاپ اور زاویہ کا رشتہ کیا ہے? سیدھا سا formula ہے: θ = S / r, yaani S = rθ — لیکن شرط یہ ہے کہ θ radian میں ہو. ایک پورا چکر لگاؤ تو چاپ پوری circumference بن جاتی ہے, S = 2πr. Formula میں ڈالو تو θ = 2πr / r = 2π rad. اس لیے 1 revolution = 2π rad = 360°, aur 1 rad = 360° / 2π = 57.3°. زاویہ ناپنے کے تین طریقے عام ہیں: degree, revolution اور radian — اور physics میں radian اس لیے پسند ہے کہ اس سے آگے کے تمام formulas صاف بن جاتے ہیں.

اب ایک ذرا پیچیدہ بات, لیکن گھبرانا نہیں. جب کوئی radius والی لکیر OP وقت کے ساتھ گھومتی ہے, تو اسکی position بدلتی ہے. کسی لمحے اسکا زاویہ x-axis سے θ ہو, تھوڑی دائر بعد θ + Δθ ہو جائے, تو Δθ hi angular displacement ہے — مطلب زاویے میں تبدیلی. اگر Δθ بہت چھوٹا ہو, تو یہ ایک vector quantity بن جاتا ہے. اسکا positive sign تب ہوتا ہے جب گھومنا counter-clockwise ہو. اور اسکی direction? وہ گھومنے کے plane میں نہیں, بلکہ rotation کے axis کے ساتھ ہوتی ہے.

📌 Right-hand rule (کتاب کا note): اپنے دائیں ہاتھ سے rotation کا axis اس طرح پکڑو کے انگلیاں گھومنے کی direction میں مڑی ہوں — تو انگوٹھا angular displacement کی direction بتائے گا. یہ چھوٹا سا rule آگے angular velocity اور angular momentum کی direction کے لیے bar bar کام آئیگا, اس لیے اسے انگلیوں پر یاد کر لو, صرف آنکھوں سے نہیں.

اردو

سیدھا راستہ ناپنا آسان ہے — اسکیل لگاؤ، لمبائی پڑھ لو۔ لیکن جب کوئی چیز گھوم رہی ہو تو اس کا سفر سیدھا نہیں، گول ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں ایک ایسی اکائی چاہیے جو گھومنے کو ناپ سکے۔ وہ اکائی ریڈین ہے۔ تصور کرو کہ ایک دائرے کا مرکز O ہے، اور اس کے گرد ایک قوس AB کھینچی گئی ہے۔ اگر اس قوس کی لمبائی S، دائرے کے رداس r کے برابر ہو جائے تو مرکز پر بننے والا زاویہ ایک ریڈین کہلاتا ہے۔ یہ زاویہ ناپنے کی ایس آئی اکائی ہے، اور اس کا نشان "rad" ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ قوس اور زاویے کا رشتہ کیا ہے؟ سیدھا سا فارمولا ہے: θ = S / r یعنی S = rθ — لیکن شرط یہ ہے کہ θ ریڈین میں ہو۔ ایک پورا چکر لگاؤ تو قوس پوری محیط بن جاتی ہے، S = 2πr۔ فارمولے میں ڈالو تو θ = 2πr / r = 2π rad۔ اس لیے 1 revolution = 2π rad = 360°، اور 1 rad = 360° / 2π = 57.3°۔ زاویہ ناپنے کے تین طریقے عام ہیں: ڈگری، ریوولوشن اور ریڈین — اور فزکس میں ریڈین اس لیے پسند ہے کہ اس سے آگے کے تمام فارمولے صاف بن جاتے ہیں۔

جب کوئی رداس والی لکیر OP وقت کے ساتھ گھومتی ہے تو اس کی پوزیشن بدلتی ہے۔ کسی لمحے اس کا زاویہ x-axis سے θ ہو، تھوڑی دیر بعد θ + Δθ ہو جائے، تو Δθ ہی angular displacement ہے — مطلب زاویے میں تبدیلی۔ اگر Δθ بہت چھوٹا ہو تو یہ ایک ویکٹر مقدار بن جاتا ہے۔ اس کا مثبت نشان تب ہوتا ہے جب گھومنا counter-clockwise ہو۔ اور اس کی سمت؟ وہ گھومنے کے پلین میں نہیں، بلکہ گردش کے محور کے ساتھ ہوتی ہے۔

📌 دائیں ہاتھ کا اصول (کتاب کا نوٹ): اپنے دائیں ہاتھ سے گردش کا محور اس طرح پکڑو کہ انگلیاں گھومنے کی سمت میں مڑی ہوں — تو انگوٹھا angular displacement کی سمت بتائے گا۔ یہ چھوٹا سا اصول آگے angular velocity اور angular momentum کی سمت کے لیے بار بار کام آئے گا۔

OABθ = 1 radarc S = rJab chaap = radius, to zawiya = 1 radian
Radian ko samjho: چاپ کی لمبائی radius کے برابر ہو تو مرکز پر ایک radian بنتا ہے — اسی سے θ = S / r نکلتا ہے.
Angular Velocity aur Angular Accelerationزاویائی رفتار اور زاویائی اسراع
🏷 Tags: angular velocity, angular acceleration, radian per second, rpm, fan, rate of change
ENGLISH

یہ جاننا کے کوئی چیز کتنی دور گھومی, کبھی کبھی کافی نہیں ہوتا. اصل سوال یہ ہوتا ہے: وہ کتنی تیزی سے گھوم رہی ہے? اس کا جواب angular velocity دیتی ہے. اگر Δt وقت میں angular displacement Δθ ہو, تو average angular velocity ωav = Δθ / Δt ہے. اور جب Δt کو اتنا چھوٹا کر دیں کے وہ تقریبا zero ہو جائے, تو وہی ratio instantaneous angular velocity ω = LimΔt→0 Δθ / Δt بن جاتا ہے. اس کی SI اکائی radian per second (rad s−1) ہے, لیکن روزمرہ میں آپ اسے revolution per minute (rpm) میں بھی سنتے ہیں — جیسے پنکھا "1200 rpm" پر چلتا ہے.

اب پنکھے والی مثال کو آگے بڑھاؤ. جب آپ پنکھا on کرتے ہیں, تو وہ فوراً پوری رفتار پر نہیں آتا — اسکی angular velocity دھیرے دھیرے بڑھتی ہے, یہاں تک کے uniform ہو جاتی ہے. Velocity میں تبدیلی کی شرح کو angular acceleration کہتے ہیں. اگر ti par velocity ωi ho aur tf par ωf, to average angular acceleration αav = (ωf − ωi) / (tf − ti) = Δω / Δt, aur instantaneous value α = LimΔt→0 Δω / Δt ہے. اس کی اکائی rad s−2 ہے. Angular velocity کی طرح یہ بھی vector ہے, اور اس کی direction بھی rotation کے axis کے ساتھ ہوتی ہے.

ایک بات ذہن میں بٹھا لو: angular velocity بتاتی ہے کہ زاویہ کتنی جلدی بدل رہا ہے, angular acceleration بتاتی ہے کہ وہ رفتار خود کتنی جلدی بدل رہی ہے. دونوں کے درمیان وہی رشتہ ہے جو linear motion میں velocity اور acceleration کے درمیان ہوتا ہے — صرف فرق یہ ہے کہ یہاں سیدھی لکیر کی جگہ گھومنے والی لکیر ہے.

اردو

یہ جاننا کہ کوئی چیز کتنی دور گھومی، کبھی کبھی کافی نہیں ہوتا۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے: وہ کتنی تیزی سے گھوم رہی ہے؟ اس کا جواب angular velocity دیتی ہے۔ اگر Δt وقت میں angular displacement Δθ ہو تو اوسط زاویائی رفتار ωav = Δθ / Δt ہے۔ اور جب Δt کو اتنا چھوٹا کر دیں کہ وہ تقریباً صفر ہو جائے تو وہی نسبت فوری زاویائی رفتار ω = LimΔt→0 Δθ / Δt بن جاتی ہے۔ اس کی ایس آئی اکائی ریڈین فی سیکنڈ (rad s−1) ہے، لیکن روزمرہ میں آپ اسے ریوولوشن فی منٹ (rpm) میں بھی سنتے ہیں — جیسے پنکھا "1200 rpm" پر چلتا ہے۔

اب پنکھے والی مثال کو آگے بڑھاؤ۔ جب آپ پنکھا آن کرتے ہیں تو وہ فوراً پوری رفتار پر نہیں آتا — اس کی زاویائی رفتار دھیرے دھیرے بڑھتی ہے، یہاں تک کہ یکساں ہو جاتی ہے۔ رفتار میں تبدیلی کی شرح کو زاویائی اسراع کہتے ہیں۔ اگر ti پر رفتار ωi ہو اور tf پر ωf، تو اوسط زاویائی اسراع αav = (ωf − ωi) / (tf − ti) = Δω / Δt، اور فوری قیمت α = LimΔt→0 Δω / Δt ہے۔ اس کی اکائی rad s−2 ہے۔ زاویائی رفتار کی طرح یہ بھی ویکٹر ہے، اور اس کی سمت بھی گردش کے محور کے ساتھ ہوتی ہے۔

ایک بات ذہن میں بٹھا لو: زاویائی رفتار بتاتی ہے کہ زاویہ کتنی جلدی بدل رہا ہے، زاویائی اسراع بتاتی ہے کہ وہ رفتار خود کتنی جلدی بدل رہی ہے۔ دونوں کے درمیان وہی رشتہ ہے جو خطی حرکت میں رفتار اور اسراع کے درمیان ہوتا ہے — صرف فرق یہ ہے کہ یہاں سیدھی لکیر کی جگہ گھومنے والی لکیر ہے۔

Oω (tezi se ghoomna)ω بڑھے تو α موجود ہےω = Δθ / Δtα = Δω / Δtپنکھا on کرو: پہلے ω بڑھتی ہے, پھر uniform
Velocity aur acceleration ko samjho: ω بتاتا ہے کتنی تیزی سے گھوم رہا ہے, α بتاتا ہے وہ تیزی خود کتنی جلدی بدل رہی ہے.
Angular aur Linear ka Rishta — Equations of Angular Motionزاویائی اور خطی حرکت کا رشتہ — زاویائی حرکت کی مساواتیں
🏷 Tags: v = rω, tangential velocity, tangential acceleration, equations of angular motion, rigid body, fan example
ENGLISH

اب تک ہم نے صرف زاویوں کی بات کی. لیکن اصل دنیا میں کوئی point صرف زاویہ نہیں بدلتا — وہ دائرے پر کوئی فاصلہ بھی طے کرتا ہے. وہ فاصلہ اور زاویہ آپس میں جڑے ہوئے ہیں. اگر کوئی point P, axis سے r فاصلے پر ہو, اور Δt میں Δθ زاویہ گھومے جب کے اس نے ΔS فاصلہ طے کیا ہو, تو ΔS = rΔθ. دونوں طرف Δt سے تقسیم کرو اور limit لو, تو ملتا ہے v = rω. یہاں v اس point کی linear velocity ہے, لیکن اسکی direction ہمیشہ دائرے کو tangent ہوتی ہے — اس لیے اسے tangential velocity بھی کہتے ہیں. سوچو: دائرے پر چلنے والی گاڑی کا steering ہر لمحہ مڑ رہا ہے, اس لیے اسکی velocity کی direction بھی ہر لمحہ بدل رہی ہے.

Isi tarah, agar reference line ki angular acceleration α ho, to us point ki tangential acceleration at = rα ہوگی. اب ایک بہت کام کی بات سمجھ لو: گھومنے والی سخت (rigid) body کے مختلف points کی linear speed مختلف ہوتی ہے — جو point axis سے دور ہے, وہ تیز چلتا ہے — لیکن پوری body کی angular displacement, angular speed اور angular acceleration ہر لمحے ایک جیسی ہوتی ہے. اسی وجہ سے پوری body کی حرکت کو صرف angular variables سے bayaan کرنا اتنا آساں ہو جاتا ہے.

Linear motion کی equations آپ پہلے پڑھ چکے ہیں. Angular motion کی equations بالکل ان جیسی ہیں, بعث S کی جگہ θ, v کی جگہ ω, اور a کی جگہ α رکھ دو (یہ صرف تب جب axis fixed ہو اور تمام vectors ایک ہی direction میں ہوں): ωf = ωi + αt (3.9), 2αθ = ωf2 − ωi2 (3.10), aur θ = ωit + ½αt2 (3.11).

کتاب کی مثال 3.1 — پنکھا: ek electric fan 3 rev s−1 پر گھوم رہا تھا, switch off کرنے پر 18.0 s میں رک گیا. Uniform deceleration مانو. پہلے α: α = (0 − 3.0) / 18.0 = −0.167 rev s−2 (minus اس لیے کے رفتار کم ہو رہی ہے). پھر θ = 3.0 × 18.0 + ½(−0.167)(18.0)2 = 54 − 27 = 27 rev. مطلب رکنے سے پہلے پنکھا 27 چکر اور لگاتا ہے — یہ وہی چکر ہیں جو آپ پنکھا بند کرنے کے بعد گھومتے ہوئے دیکھتے ہیں.

اردو

اب تک ہم نے صرف زاویوں کی بات کی۔ لیکن اصل دنیا میں کوئی نقطہ صرف زاویہ نہیں بدلتا — وہ دائرے پر کوئی فاصلہ بھی طے کرتا ہے۔ وہ فاصلہ اور زاویہ آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی نقطہ P، محور سے r فاصلے پر ہو، اور Δt میں Δθ زاویہ گھومے جب کہ اس نے ΔS فاصلہ طے کیا ہو، تو ΔS = rΔθ۔ دونوں طرف Δt سے تقسیم کرو اور حد لو، تو ملتا ہے v = rω۔ یہاں v اس نقطے کی خطی رفتار ہے، لیکن اس کی سمت ہمیشہ دائرے کو ٹینجنٹ ہوتی ہے — اس لیے اسے ٹینجنٹیل رفتار بھی کہتے ہیں۔

اسی طرح، اگر حوالہ لکیر کی زاویائی اسراع α ہو تو اس نقطے کی ٹینجنٹیل اسراع at = rα ہوگی۔ اب ایک بہت کام کی بات سمجھ لو: گھومنے والی سخت جسم کے مختلف نقطوں کی خطی رفتار مختلف ہوتی ہے — جو نقطہ محور سے دور ہے، وہ تیز چلتا ہے — لیکن پوری جسم کی زاویائی ہٹاؤ، زاویائی رفتار اور زاویائی اسراع ہر لمحے ایک جیسی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے پوری جسم کی حرکت کو صرف زاویائی متغیرات سے بیان کرنا اتنا آسان ہو جاتا ہے۔

خطی حرکت کی مساواتیں آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔ زاویائی حرکت کی مساواتیں بالکل ان جیسی ہیں، بس S کی جگہ θ، v کی جگہ ω، اور a کی جگہ α رکھ دو (یہ صرف تب جب محور مقرر ہو): ωf = ωi + αt، 2αθ = ωf2 − ωi2، اور θ = ωit + ½αt2۔

کتاب کی مثال ۳.۱ — پنکھا: ایک الیکٹرک پنکھا 3 rev s−1 پر گھوم رہا تھا، سوئچ آف کرنے پر 18.0 s میں رک گیا۔ یکساں کمی مانو۔ پہلے α: α = (0 − 3.0) / 18.0 = −0.167 rev s−2۔ پھر θ = 3.0 × 18.0 + ½(−0.167)(18.0)2 = 54 − 27 = 27 rev۔ مطلب رکنے سے پہلے پنکھا 27 چکر اور لگاتا ہے۔

P (door): v baraQ (qareeb): v chhotaLekin ω dono ka ek jaisa!v = rω — jitna bara r, utni bari v
Ek jaisa ω, mukhtalif v ko samjho: گھومنے والی body کے سب points کا ω ایک ہے, لیکن axis سے دور point کی linear speed زیادہ ہوتی ہے.
3.2 — Centripetal Force aur Acceleration۳.۲ — مرکز مائل قوت اور اسراع
🏷 Tags: centripetal force, centripetal acceleration, tension, vertical circle, CD example, tangential direction
ENGLISH

Newton کا دوسرا قانون کہتا ہے: force جس direction میں لگے, acceleration بھی اسی direction میں ہوتی ہے. اگر force کسی جسم کی velocity کی direction میں لگے, تو صرف speed بدلتی ہے. لیکن اگر force velocity کے perpendicular لگے اور مسلسل لگی رہے, تو speed وہی رہتی ہے, صرف direction بدلتی رہتی ہے — اور وہی چیز جسم کو دائرے میں گھماتی ہے. ایسی force کو centripetal force کہتے ہیں, مطلب "markaz dhoondne wali" force. وہ ہمیشہ دائرے کے مرکز کی طرف کھینچتی ہے, اور ہر point پر tangential velocity کے perpendicular ہوتی ہے.

اس کا سب سے صاف ثبوت وہی ہے جو آپ نے بچپن میں کیا ہوگا: ڈوری سے بندھی ball کو گھماؤ. جب تک ڈوری پکڑی ہے, ball دائرے میں ہے. جس لمحے ڈوری ٹوٹ جائے, ball دائرے سے نکل کر اس point پر tangent ki seedhi lakeer پر چلی جاتی ہے. مطلب ڈوری کی tension ہی وہ centripetal force تھی جو ball کو مور رہی تھی — force ختم, مور ختم.

Formula بھی سیدھا ہے. Mass m, speed v, radius r والی body کے لیے Fc = mac = mv2 / r (3.12), jahan ac = v2 / r centripetal acceleration ہے, direction مرکز کی طرف. اور چونکہ v = rω, تو یہ بھی لکھ سکتے ہیں: Fc = mrω2 (3.13). غور کرو: speed دوگنی کرو تو force چار گنا چاہیے — اسی لیے تیز مور پر گاڑی کا control مشکل ہو جاتا ہے.

کتاب کی مثال 3.2 — CD: CD 210 rpm پر گھوم رہی ہے, diameter 12 cm ہے. پہلے frequency: f = 210 / 60 = 3.5 rev s−1 = 3.5 Hz. Har revolution 2π rad, to ω = 2πf = 2π × 3.5 = 7.0π rad s−1. Outer rim کا radius 0.06 m ہے, تو radial acceleration a = ω2r = (7.0π)2 × 0.06 ≈ 29 m s−2 — taqreeban gravity se teen guna!

کتاب کی مثال 3.3 — vertical circle: ball ڈوری سے vertical دائرے میں گھوم رہی ہے. اوپر والے point A پر دو forces لگتی ہیں: ڈوری کی tension T اور ball کا وزن w = mg, دونوں مرکز کی طرف. دونوں کا جور ہی centripetal force دیتا ہے: T + w = mv2 / r, اس لیے T = mv2 / r − mg = m(v2 / r − g). Agar v2 / r = g ہو جائے, تو T zero — مطلب اس speed پر ball صرف اپنے وزن سے ہی دائرے میں رہ سکتی ہے, ڈوری ڈھیلی پر جائے گی.

📌 Point تو ponder (کتاب): roller coaster کے اوپر والے point پر آپ کو در کیوں لگتا ہے, جب کے گاڑی کبھی نیچے نہیں گرتی? اس لیے کے اس speed پر gravity اور track کا normal reaction مل کر وہی centripetal force بنا رہے ہوتے ہیں جو گاڑی کو دائرے کے مور پر رکھتی ہے — گاڑی گر نہیں رہی, وہ دائرے کا حصہ بن کر گھوم رہی ہے. یہ تفصیل کتاب میں مکمل derivation کے ساتھ نہیں دی گئی, اس لیے اسے سمجھنے کے لیے اوپر والی tension والی مثال سے ملاؤ, نہ کے کوئی نیا formula یاد کرو.

اردو

نیوٹن کا دوسرا قانون کہتا ہے: قوت جس سمت میں لگے، اسراع بھی اسی سمت میں ہوتی ہے۔ اگر قوت کسی جسم کی رفتار کی سمت میں لگے تو صرف رفتار بدلتی ہے۔ لیکن اگر قوت رفتار کے عمود لگے اور مسلسل لگی رہے تو رفتار وہی رہتی ہے، صرف سمت بدلتی رہتی ہے — اور وہی چیز جسم کو دائرے میں گھماتی ہے۔ ایسی قوت کو مرکز مائل قوت کہتے ہیں، مطلب "مرکز ڈھونڈنے والی" قوت۔ وہ ہمیشہ دائرے کے مرکز کی طرف کھینچتی ہے، اور ہر نقطے پر ٹینجنٹیل رفتار کے عمود ہوتی ہے۔

اس کا سب سے صاف ثبوت وہی ہے جو آپ نے بچپن میں کیا ہوگا: ڈوری سے بندھی گیند کو گھماؤ۔ جب تک ڈوری پکڑی ہے، گیند دائرے میں ہے۔ جس لمحے ڈوری ٹوٹ جائے، گیند دائرے سے نکل کر اس نقطے پر ٹینجنٹ کی سیدھی لکیر پر چلی جاتی ہے۔ مطلب ڈوری کا تناؤ ہی وہ مرکز مائل قوت تھی جو گیند کو موڑ رہی تھی — قوت ختم، موڑ ختم۔

فارمولا بھی سیدھا ہے۔ کمیت m، رفتار v، رداس r والی جسم کے لیے Fc = mac = mv2 / r، جہاں ac = v2 / r مرکز مائل اسراع ہے، سمت مرکز کی طرف۔ اور چونکہ v = rω، تو یہ بھی لکھ سکتے ہیں: Fc = mrω2۔ غور کرو: رفتار دوگنی کرو تو قوت چار گنا چاہیے — اسی لیے تیز موڑ پر گاڑی کا کنٹرول مشکل ہو جاتا ہے۔

کتاب کی مثال ۳.۲ — سی ڈی: سی ڈی 210 rpm پر گھوم رہی ہے، قطر 12 cm ہے۔ پہلے فریکوئنسی: f = 210 / 60 = 3.5 Hz۔ ہر ریوولوشن 2π rad، تو ω = 2π × 3.5 = 7.0π rad s−1۔ بیرونی کنارے کا رداس 0.06 m ہے، تو شعاعی اسراع a = ω2r ≈ 29 m s−2 — تقریباً کشش ثقل سے تین گنا!

کتاب کی مثال ۳.۳ — عمودی دائرہ: گیند ڈوری سے عمودی دائرے میں گھوم رہی ہے۔ اوپر والے نقطے A پر دو قوتیں لگتی ہیں: ڈوری کا تناؤ T اور گیند کا وزن w = mg، دونوں مرکز کی طرف۔ دونوں کا جوڑ ہی مرکز مائل قوت دیتا ہے: T + w = mv2 / r، اس لیے T = mv2 / r − mg۔ اگر v2 / r = g ہو جائے تو T صفر — مطلب اس رفتار پر گیند صرف اپنے وزن سے ہی دائرے میں رہ سکتی ہے۔

OFc → markazv (tangent)Fc = mv² / r = mrω²Dori tootay to ball tangent par seedhi jayegi
Centripetal force ko samjho: force ہمیشہ مرکز کی طرف, velocity ہمیشہ tangent پر — اسی perpendicular کشش سے دائرہ بنتا ہے.
مرکز مائل قوت کہاں سے آتی ہے — بینکڈ سڑکیں
🏷 Tags: tension, friction, gravity, magnetic force, normal force, banked track, skidding
ENGLISH

Centripetal force کوئی نئی قسم کی force نہیں ہے, جسے آپ دکان سے خرید سکیں. یہ ایک role ہے — جو بھی force کسی جسم کو دائرے میں مور رہی ہو, وہی اس لمحے centripetal force بن جاتی ہے. کتاب پانچ مثالیں دیتی ہے, اور انھیں یاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہر مثال میں پوچھو: "مور کون رہا ہے?"

1) Ball کو horizontal دائرے میں ڈوری سے گھماؤ تو dori ki tension centripetal force دیتی ہے. 2) Turntable پر رکھی چیز کو friction مور دیتی ہے — friction ختم تو چیز سیدھی پھسل جائے گی. 3) زمین سورج کے گرد, چاند اور مصنوعی satellites زمین کے گرد, صرف gravitational force کی وجہ سے گھومتے ہیں. 4) سیدھی لکیر میں چلنے والے charge کو magnetic force (جو velocity کے perpendicular ہوتی ہے) دائرے میں مور دیتی ہے. 5) جب گاڑی مور لیتی ہے تو tyres aur sarak ke darmiyan friction ہی centripetal force دیتی ہے.

اب paanchwi مثال کا مسئلہ سمجھو. اگر سڑک phislan والی ہو, یا گاڑی بہت تیز ہو, تو friction اتنی centripetal force نہیں دے پتہ جتنی چاہیے — کیوں کے ضرورت v2 کے ساتھ بڑھتی ہے. پھر گاڑی مور نہیں pati, skid کر سکتی ہے, یا الٹ بھی سکتی ہے. اس کا حل engineers نے یہ نکالا: مور پر سڑک کو bank کر دو, مطلب track کا باہر والا کنارہ اندر والے کنارے سے تھوڑا اونچا رکھ دو. پھر normal force کا ایک حصہ بھی مرکز کی طرف کام آتا ہے, اور گاڑی کو صرف friction پر انحصار نہیں کرنا پڑتا. Race tracks پر banked مور اسی لیے ہوتے ہیں کہ تیز مور پر بھی friction اکیلا کافی نہ ہو تو گاڑی سنبھل جائے.

اردو

مرکز مائل قوت کوئی نئی قسم کی قوت نہیں ہے، جسے آپ دکان سے خرید سکیں۔ یہ ایک کردار ہے — جو بھی قوت کسی جسم کو دائرے میں موڑ رہی ہو، وہی اس لمحے مرکز مائل قوت بن جاتی ہے۔ کتاب پانچ مثالیں دیتی ہے، اور انہیں یاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہر مثال میں پوچھو: "موڑ کون رہا ہے؟"

۱) گیند کو افقی دائرے میں ڈوری سے گھماؤ تو ڈوری کا تناؤ مرکز مائل قوت دیتا ہے۔ ۲) ٹرن ٹیبل پر رکھی چیز کو رگڑ موڑ دیتی ہے — رگڑ ختم تو چیز سیدھی پھسل جائے گی۔ ۳) زمین سورج کے گرد، چاند اور مصنوعی سیٹلائٹس زمین کے گرد، صرف کشش ثقل کی وجہ سے گھومتے ہیں۔ ۴) سیدھی لکیر میں چلنے والے چارج کو مقناطیسی قوت (جو رفتار کے عمود ہوتی ہے) دائرے میں موڑ دیتی ہے۔ ۵) جب گاڑی موڑ لیتی ہے تو ٹائروں اور سڑک کے درمیان رگڑ ہی مرکز مائل قوت دیتی ہے۔

اب پانچویں مثال کا مسئلہ سمجھو۔ اگر سڑک پھسلن والی ہو، یا گاڑی بہت تیز ہو، تو رگڑ اتنی مرکز مائل قوت نہیں دے پاتا جتنی چاہیے — کیوں کہ ضرورت v2 کے ساتھ بڑھتی ہے۔ پھر گاڑی موڑ نہیں پاتی، سکڈ کر سکتی ہے، یا الٹ بھی سکتی ہے۔ اس کا حل انجینئروں نے یہ نکالا: موڑ پر سڑک کو بینک کر دو، مطلب ٹریک کا باہر والا کنارہ اندر والے کنارے سے تھوڑا اونچا رکھ دو۔ پھر نارمل قوت کا ایک حصہ بھی مرکز کی طرف کام آتا ہے، اور گاڑی کو صرف رگڑ پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔

OGariFriction → OFriction کم پرے تو skid — banked مور مدد کرتا ہے
Mor par friction ko samjho: tyres کی friction ہی گاڑی کو مرکز کی طرف کھینچتی ہے; تیز رفتار پر اس کی ضرورت v² کے ساتھ بڑھتی ہے.
Centrifuge, Washing-Machine Dryer aur Cream Separatorسینٹری فیوج، واشنگ مشین ڈرائر اور کریم سیپریٹر
🏷 Tags: centrifuge, dryer, cream separator, denser particles, separation, laboratory
ENGLISH

اب تک ہم نے دیکھا کے جب پوری centripetal force موجود ہو تو چیز دائرے میں رہتی ہے. الٹا سوچو: اگر لگی ہوئی force ضروری centripetal force سے kam پر جائے, تو چیز مرکز سے دور hatne لگتی ہے. اسی اصول پر centrifuge چلتی ہے — laboratory کی سب سے کام کی machines میں سے ایک.

Centrifuge میں mixture کو sample tubes میں ڈال کر تیز گھمایا جاتا ہے. گھومنے پر جو particles denser aur bhari ہوتے ہیں, وہ tubes کے نیچے (باہر کی طرف) بیٹھ جاتے ہیں, اور halkay particles oopar رہ جاتے ہیں. مطلب صرف گھمانے سے mixture کے اجزا الگ ہو جاتے ہیں, بنا کسی chemical کے. آپ کے گھر کی washing machine کا dryer بھی اسی اصول پر ہے: گیلے کپڑے سوراخوں والے لمبی cylinder میں ڈال کر تیز گھمائے جاتے ہیں, پانی cylinder کی دیواروں کی طرف جا کر سوراخوں سے نکل جاتا ہے, اور کپڑے جلدی سوکھ جاتے ہیں.

Cream separator بھی یہی کہانی ہے, بعث الٹا پہلو. دودھ کو تیز گھماؤ تو دودھ میں موجود ہلکے اور بھری particles الگ ہو جاتے ہیں: ہلکے particles rotation کے axis کے قریب جمع ہوتے ہیں, بھری particles باہر کی طرف چلے جاتے ہیں — اور اس طرح cream دودھ سے آسانی سے الگ کر لی جاتی ہے. تینوں machines میں formula ایک ہے, صرف مقصد الگ: کسی کو بھری چیز نیچے چاہیے, کسی کو پانی باہر, کسی کو cream الگ.

اردو

اب تک ہم نے دیکھا کہ جب پوری مرکز مائل قوت موجود ہو تو چیز دائرے میں رہتی ہے۔ الٹا سوچو: اگر لگی ہوئی قوت ضروری مرکز مائل قوت سے کم پڑ جائے، تو چیز مرکز سے دور ہٹنے لگتی ہے۔ اسی اصول پر سینٹری فیوج چلتی ہے — لیبارٹری کی سب سے کام کی مشینوں میں سے ایک۔

سینٹری فیوج میں مکسچر کو سیمپل ٹیوبوں میں ڈال کر تیز گھمایا جاتا ہے۔ گھومنے پر جو ذرات کثیف اور بھاری ہوتے ہیں، وہ ٹیوبوں کے نیچے (باہر کی طرف) بیٹھ جاتے ہیں، اور ہلکے ذرات اوپر رہ جاتے ہیں۔ مطلب صرف گھمانے سے مکسچر کے اجزا الگ ہو جاتے ہیں، بغیر کسی کیمیکل کے۔ آپ کے گھر کی واشنگ مشین کا ڈرائر بھی اسی اصول پر ہے: گیلے کپڑے سوراخوں والے لمبے سلنڈر میں ڈال کر تیز گھمائے جاتے ہیں، پانی سلنڈر کی دیواروں کی طرف جا کر سوراخوں سے نکل جاتا ہے، اور کپڑے جلدی سوکھ جاتے ہیں۔

کریم سیپریٹر بھی یہی کہانی ہے، بس الٹا پہلو۔ دودھ کو تیز گھماؤ تو دودھ میں موجود ہلکے اور بھاری ذرات الگ ہو جاتے ہیں: ہلکے ذرات گردش کے محور کے قریب جمع ہوتے ہیں، بھاری ذرات باہر کی طرف چلے جاتے ہیں — اور اس طرح کریم دودھ سے آسانی سے الگ کر لی جاتی ہے۔ تینوں مشینوں میں فارمولا ایک ہے، صرف مقصد الگ: کسی کو بھاری چیز نیچے چاہیے، کسی کو پانی باہر، کسی کو کریم الگ۔

Tez ghoomna → alag alagBhari: bahar / neechayHalka: axis ke qareebCentrifuge • Dryer • Cream separator — ek hi usool
Separation ko samjho: تیز گھومنے پر بھری ذرات باہر کی طرف اور ہلکے axis کے قریب جمع ہوتے ہیں.
3.3 — Artificial Satellites aur Critical Velocity۳.۳ — مصنوعی سیٹلائٹس اور کریٹیکل رفتار
🏷 Tags: artificial satellite, critical velocity, orbital period, gravity, low orbit, escape speed
ENGLISH

Satellite کوئی جادوئی چیز نہیں — وہ صرف ایک ایسی چیز ہے جو زمین کے گرد تقریبا گول راستہ پر گھوم رہی ہو, اور use orbit میں rocket کے ذریعے پہنچایا گیا ہو. لیکن وہ نیچے کیوں نہیں گرتا? اس لیے کے gravity use ہر لمحہ زمین کے مرکز کی طرف کھینچ رہی ہے, اور وہی کھینچنا اسکی centripetal acceleration بن جاتا ہے. اگر gravity نہ ہوتی, تو satellite سیدھا tangent پر ur جاتا.

Low-flying satellites ke liye centripetal acceleration taqreeban 9.8 m s−2 ہوتی ہے — وہی gravity جو آپ کے قدم زمین پر رکھتی ہے. Formula لگاؤ: g = v2 / R, جہاں R زمین کا radius (6400 km) ہے. تو v = √(gR) = √(9.8 × 6.4 × 106) = 7.9 × 103 m s−1 = 7.9 km s−1. Yahi critical velocity ہے — وہ کم سے کم speed جو satellite کو orbit میں ڈالنے کے لیے چاہیے. اس speed پر ایک چکر کا وقت T = 2πR / v = 2 × 3.14 × 6400 / 7.9 ≈ 5060 s ≈ 84 min بنتا ہے.

اب اگر satellite زمین کی سطح سے بہت اونچا ہو, جہاں h (height) R سے کہیں بڑا ہو, تو gravity کمزور پر جاتی ہے — کیوں کے gravity فاصلے کے square کے الٹ (inversely) گھٹ تھی ہے. نتیجہ یہ کے jitna ooncha satellite, utni kam uski zaroori speed, aur utna lamba uska ek chakkar. اس لیے geostationary satellites جو بہت دور ہیں, 24 گھنٹے میں ایک چکر لگاتے ہیں, جب کے قریبی satellites صرف 84 minute میں.

📌 دو you know? (کتاب): Newton نے اس بات کی پیش گوئی تقریبا 300 سال پہلے کر دی تھی. ان کی کتاب "Principia Mathematica" میں وہی تصویر ہے: اگر کسی چیز کو کافی اونچی جگہ سے کافی تیز horizontal پھینکا جائے, تو وہ گرنے کی بجائے زمین کے گرد گھومنے لگے گی. آج کے satellites اسی 300 سال پرانی سوچ کا عمل ہیں. کتاب کی side box میں speeds بھی دی گئی ہیں: circular orbit کے لیے تقریبا 27,000 km h−1, elliptical کے لیے 30,000 km h−1, اور escape کے لیے 40,000 km h−1 — یہ numbers صرف معلومات کے لیے ہیں, انہیں رٹنا نہیں.

اردو

سیٹلائٹ کوئی جادوئی چیز نہیں — وہ صرف ایک ایسی چیز ہے جو زمین کے گرد تقریباً گول راستے پر گھوم رہی ہو، اور اسے مدار میں راکٹ کے ذریعے پہنچایا گیا ہو۔ لیکن وہ نیچے کیوں نہیں گرتا؟ اس لیے کہ کشش ثقل اسے ہر لمحہ زمین کے مرکز کی طرف کھینچ رہی ہے، اور وہی کھینچنا اس کی مرکز مائل اسراع بن جاتا ہے۔ اگر کشش ثقل نہ ہوتی تو سیٹلائٹ سیدھا ٹینجنٹ پر اڑ جاتا۔

نیچے اڑنے والے سیٹلائٹس کے لیے مرکز مائل اسراع تقریباً 9.8 m s−2 ہوتی ہے — وہی کشش ثقل جو آپ کے قدم زمین پر رکھتی ہے۔ فارمولا لگاؤ: g = v2 / R، جہاں R زمین کا رداس (6400 km) ہے۔ تو v = √(gR) = √(9.8 × 6.4 × 106) = 7.9 × 103 m s−1 = 7.9 km s−1۔ یہی کریٹیکل رفتار ہے — وہ کم سے کم رفتار جو سیٹلائٹ کو مدار میں ڈالنے کے لیے چاہیے۔ اس رفتار پر ایک چکر کا وقت T = 2πR / v ≈ 5060 s ≈ 84 min بنتا ہے۔

اب اگر سیٹلائٹ زمین کی سطح سے بہت اونچا ہو تو کشش ثقل کمزور پڑ جاتی ہے — کیوں کہ کشش ثقل فاصلے کے مربع کے الٹ گھٹتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ جتنا اونچا سیٹلائٹ، اتنی کم اس کی ضروری رفتار، اور اتنا لمبا اس کا ایک چکر۔ اس لیے دور کے سیٹلائٹس 24 گھنٹے میں ایک چکر لگاتے ہیں، جب کہ قریبی سیٹلائٹس صرف 84 منٹ میں۔

📌 کیا آپ جانتے ہیں؟ (کتاب): نیوٹن نے اس بات کی پیش گوئی تقریباً 300 سال پہلے کر دی تھی۔ ان کی کتاب "Principia Mathematica" میں وہی تصویر ہے: اگر کسی چیز کو کافی اونچی جگہ سے کافی تیز افقی پھینکا جائے تو وہ گرنے کی بجائے زمین کے گرد گھومنے لگے گی۔ آج کے سیٹلائٹس اسی 300 سال پرانی سوچ کا عمل ہیں۔

Artificial satellite in circular orbit around Earth
Satellite ke orbit ko samjho: gravity satellite کو مرکز کی طرف کھینچتی ہے اور وہی کھینچنا use گول رستے پر رکھتی ہے — ورنہ وہ سیدھا tangent پر نکل جاتا.
Orbital Velocity — v = √(GM / r)مداری رفتار — v = √(GM / r)
🏷 Tags: orbital velocity, gravitational constant, mass of Earth, satellite mass cancels, Moon example
ENGLISH

Critical velocity والی بات صرف زمین کی سطح کے قریب کے لیے تھی. اب عام اصول نکالو: کسی بھی height پر satellite کی speed کیا ہوگی? مان لو satellite کا mass ms ہے, اسکی orbital speed v ہے, اور زمین کے مرکز سے اسکا فاصلہ r ہے. اسے orbit میں رکھنے کے لیے centripetal force msv2 / r چاہیے, اور وہ force gravity دیتی ہے: GmsM / r2, جہاں M زمین کا mass ہے اور G gravitational constant. دونوں کو برابر رکھو: GmsM / r2 = msv2 / r. Dono taraf se ms کٹ جاتا ہے — اور یہی سب سے دلچسپ بات ہے — اور رہ جاتا ہے v = √(GM / r) (3.15).

اس کا مطلب سمجھو: satellite کا اپنا mass اسکی orbital speed پر کوئی عصر نہیں ڈالتا. ایک چھوٹا CubeSat ہو یا بڑا space station, اگر دونوں ایک ہی height پر ہیں تو دونوں کی speed ایک جیسی ہوگی. اور کوئی بھی speed اس سے کم ہو تو satellite واپس زمین کی طرف آ گرے گا. Speed صرف دو چیزوں پر منحصر ہے: زمین کا mass M, اور مرکز سے فاصلہ r. فاصلہ بڑھے تو speed گٹھے — پہلے section والی بات کا یہی formula روپ ہے.

کتاب کی مثال 3.4 — چاند کا فاصلہ: ایک Earth satellite زمین کی سطح سے 384,000 km دور orbit میں ہے. اسکا ایک چکر کتنے دن میں پورا ہوگا? M = 6.0 × 1024 kg, R = 6400 km. Pehle r = R + h = 6400 + 384,000 = 390,400 km. Phir v = √(GM / r) = √(6.67 × 10−11 × 6.0 × 1024 / 390,400 km) ≈ 1.025 km s−1. پھر T = 2πr / v = 2 × 3.14 × 390,400 / 1.025 ≈ 2,392,000 s, اور دن میں بدلو تو ≈ 27.7 days — تقریبا چاند کے مہینے جتنا, جو بالکل ٹھیک لگتا ہے کیوں کے فاصلہ بھی وہی ہے.

📌 Tidbit (کتاب): جب آپ اپنا mobile on کرتے ہیں تو اسکی location فوراً GPS سے track ہو جاتی ہے — اور GPS بھی انہی orbiting satellites کا کام ہے. اور 1984 میں Bruce McCandless 100 km کی height پر, 29,000 km h−1 کی speed سے space shuttle سے باہر نکلے اور پہلے انسانی satellite بن گئے — مطلب وہ خود ایک orbit میں گھومنے والی چیز بن گئے تھے.

اردو

کریٹیکل رفتار والی بات صرف زمین کی سطح کے قریب کے لیے تھی۔ اب عام اصول نکالو: کسی بھی بلندی پر سیٹلائٹ کی رفتار کیا ہوگی؟ مان لو سیٹلائٹ کی کمیت ms ہے، اس کی مداری رفتار v ہے، اور زمین کے مرکز سے اس کا فاصلہ r ہے۔ اسے مدار میں رکھنے کے لیے مرکز مائل قوت msv2 / r چاہیے، اور وہ قوت کشش ثقل دیتی ہے: GmsM / r2، جہاں M زمین کی کمیت ہے اور G کشش ثقل کا مستقل۔ دونوں کو برابر رکھو: GmsM / r2 = msv2 / r۔ دونوں طرف سے ms کٹ جاتا ہے — اور یہی سب سے دلچسپ بات ہے — اور رہ جاتا ہے v = √(GM / r)۔

اس کا مطلب سمجھو: سیٹلائٹ کی اپنی کمیت اس کی مداری رفتار پر کوئی اثر نہیں ڈالتی۔ ایک چھوٹا سیٹلائٹ ہو یا بڑا خلائی اسٹیشن، اگر دونوں ایک ہی بلندی پر ہیں تو دونوں کی رفتار ایک جیسی ہوگی۔ اور کوئی بھی رفتار اس سے کم ہو تو سیٹلائٹ واپس زمین کی طرف آ گرے گا۔ رفتار صرف دو چیزوں پر منحصر ہے: زمین کی کمیت M، اور مرکز سے فاصلہ r۔ فاصلہ بڑھے تو رفتار گھٹے۔

کتاب کی مثال ۳.۴: ایک زمینی سیٹلائٹ زمین کی سطح سے 384,000 km دور مدار میں ہے۔ اس کا ایک چکر کتنے دن میں پورا ہوگا؟ M = 6.0 × 1024 kg، R = 6400 km۔ پہلے r = R + h = 6400 + 384,000 = 390,400 km۔ پھر v = √(GM / r) ≈ 1.025 km s−1۔ پھر T = 2πr / v ≈ 27.7 days — تقریباً چاند کے مہینے جتنا، جو بالکل ٹھیک لگتا ہے کیوں کہ فاصلہ بھی وہی ہے۔

EarthGravityv (tangent)v = √(GM / r) — satellite کا mass کٹ جاتا ہے
Orbital velocity ko samjho: gravity کو centripetal force کے برابر رکھو تو satellite کا mass دونوں طرف سے کٹ جاتا ہے, صرف M اور r رہ جاتے ہیں.
Weightlessness in Satellites aur Artificial Gravityسیٹلائٹس میں بے وزنی اور مصنوعی کشش ثقل
🏷 Tags: weightlessness, free fall, normal force, spring balance, artificial gravity, rotating spacecraft
ENGLISH

Satellite کے اندر بیٹھے astronaut کا وزن کیوں zero لگتا ہے, جب کے gravity وہاں ابھی بھی موجود ہے? جواب ایک لفظ میں ہے: free fall. Satellite خود زمین کی طرف مسلسل گر رہا ہے — لیکن وہ اتنا تیز آگے بڑھ رہا ہے کہ گرتے گرتے بھی زمین کے گرد گھومتا رہتا ہے. اس کے اندر ہر چیز بھی اسی رفتار سے گر رہی ہے, اس لیے کوئی چیز کسی دوسری پر زور نہیں ڈالتی.

کتاب اسے spring balance سے سمجھاتی ہے. Satellite کے اندر چھت سے لٹکی spring balance پر mass m لٹکا ہو. اس پر دو forces: نیچے وزن mg, اوپر supporting force (normal force) FN. دونوں کا فرق ہی centripetal force دیتا ہے: Fc = mg − FN, aur Fc = mv2 / r. لیکن satellite کے لیے Mg = Mv2 / r, yaani g = v2 / r. Isay daalo to mg = mg − FN, مطلب FN = 0. Supporting force zero, اس لیے balance zero پڑھتا ہے — اور astronaut کو لگتا ہے کہ اسکا وزن ہی ختم ہو گیا. یہ apparent weightlessness ہے: وزن ختم نہیں ہوا, صرف اسے محسوس کرنے والی force ختم ہوئی ہے.

📌 دو you know? (کتاب): lift میں بھی یہی ہوتا ہے, چھوٹی پیمانے پر — جب lift اوپر یا نیچے چلنا شروع کرتی ہے تو آپ کا وزن تھوڑا بدلتا ہوا محسوس ہوتا ہے, لیکن جب lift uniform velocity سے چل رہی ہو تو وزن normal لگتا ہے. Satellite والی weightlessness اسی effect کا انتہائی روپ ہے, جو مسلسل free fall میں رہتا ہے.

اب مسئلہ یہ ہے کہ لمبی مدت تک weightlessness میں رہنا astronauts کے جسم پر عصر ڈالتا ہے. حل: artificial gravity. Spacecraft کو اپنے axis کے گرد گھماؤ. Astronaut باہر والے rim کی طرف دبایا جائے گا, اور "floor" پر وہی زور محسوس کریگا جو زمین پر وزن محسوس ہوتا ہے. اگر spacecraft کا outer radius R ہو اور angular speed ω ہو, تو centripetal acceleration ac = Rω2 ہے. ω = 2π / t (t = period) رکھنے سے ac = R(4π2 / t2), aur frequency f = 1 / t se ac = R4π2f2. Ab ac = g چاہیے, تو f2 = g / (4π2R), yaani f = (1 / 2π)√(g / R) (3.17). اس frequency پر گھومنے سے spacecraft کے اندر زمین جیسی gravity محسوس ہوگی.

📌 Can you tell? (کتاب): پانی سے بھری بالٹی کو vertical دائرے میں تیز گھماؤ, تو اوپر الٹ جانے پر بھی پانی نیچے نہیں گرتا — کیوں? اس لیے کے اس لمحے پانی کو دائرے میں رہنے کے لیے centripetal force چاہیے, اور پانی کی inertia use بالٹی کی دیوار سے چپکائے رکھتی ہے; جب تک speed کافی ہو کے ضروری centripetal acceleration gravity سے زیادہ ہو, پانی بالٹی میں ہی رہتا ہے. یہ وہی اصول ہے جو roller coaster اور satellite دونوں میں کام کر رہا ہے.

اردو

سیٹلائٹ کے اندر بیٹھے خلاباز کا وزن کیوں صفر لگتا ہے، جب کہ کشش ثقل وہاں ابھی بھی موجود ہے؟ جواب ایک لفظ میں ہے: آزادانہ گرنا۔ سیٹلائٹ خود زمین کی طرف مسلسل گر رہا ہے — لیکن وہ اتنا تیز آگے بڑھ رہا ہے کہ گرتے گرتے بھی زمین کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ اس کے اندر ہر چیز بھی اسی رفتار سے گر رہی ہے، اس لیے کوئی چیز کسی دوسری پر زور نہیں ڈالتی۔

کتاب اسے اسپرنگ بیلنس سے سمجھاتی ہے۔ سیٹلائٹ کے اندر چھت سے لٹکی اسپرنگ بیلنس پر کمیت m لٹکی ہو۔ اس پر دو قوتیں: نیچے وزن mg، اوپر معاون قوت FN۔ دونوں کا فرق ہی مرکز مائل قوت دیتا ہے: Fc = mg − FN، اور Fc = mv2 / r۔ لیکن سیٹلائٹ کے لیے g = v2 / r۔ اسے ڈالو تو mg = mg − FN، مطلب FN = 0۔ معاون قوت صفر، اس لیے بیلنس صفر پڑھتا ہے — اور خلاباز کو لگتا ہے کہ اس کا وزن ہی ختم ہو گیا۔ یہ ظاہری بے وزنی ہے: وزن ختم نہیں ہوا، صرف اسے محسوس کرنے والی قوت ختم ہوئی ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ لمبی مدت تک بے وزنی میں رہنا خلابازوں کے جسم پر اثر ڈالتا ہے۔ حل: مصنوعی کشش ثقل۔ خلائی جہاز کو اپنے محور کے گرد گھماؤ۔ خلاباز باہر والے کنارے کی طرف دبایا جائے گا، اور "فرش" پر وہی زور محسوس کرے گا جو زمین پر وزن محسوس ہوتا ہے۔ اگر خلائی جہاز کا بیرونی رداس R ہو اور زاویائی رفتار ω ہو، تو مرکز مائل اسراع ac = Rω2 ہے۔ اسے g کے برابر رکھو تو فریکوئنسی f = (1 / 2π)√(g / R) ملتی ہے۔ اس فریکوئنسی پر گھومنے سے خلائی جہاز کے اندر زمین جیسی کشش ثقل محسوس ہوگی۔

Astronaut floating weightlessly inside a spacecraft cabin
Weightlessness ko samjho: astronaut اور اس کے cabin دونوں ایک ساتھ گر رہے ہیں, اس لیے کوئی چیز کسی پر زور نہیں ڈالتی اور balance zero دکھاتے ہے.
3.4 — Moment of Inertia aur Torque۳.۴ — لمحۂ جمود اور ٹارک
🏷 Tags: moment of inertia, torque, rigid body, mass distribution, rod, ring, disc, sphere
ENGLISH

Linear motion میں کسی چیز کو دھکیلنا مشکل ہو تو ہم کہتے ہیں کہ اسکا mass زیادہ ہے — mass ہی inertia ہے, یعنی تبدیلی کی مخالفت. Rotational motion میں بھی کوئی ایسی ہی quantity ہونی چاہیے, جو بتائے کے کسی body کو گھمانا کتنا مشکل ہے. وہ quantity moment of inertia ہے, اور اسے I سے لکھتے ہیں.

کتاب اسے بہت سیدھے طریقے سے نکلتی ہے. ایک mass m کو massless rod کے سرے پر لگاؤ, جو point O کے گرد گھوم سکتا ہے. اس پر rod کے perpendicular force F لگاؤ. Newton کے مطابق F = ma, اور tangential acceleration at = rα ہے, تو F = mrα. اب دونوں طرف r سے ضرب دو: rF = mr2α. Yahan rF hi torque τ ہے — ghomanay والا عصر — اور mr2 ہی moment of inertia ہے. تو rotational motion کا دوسرا قانون بن گیا: τ = Iα, bilkul F = ma ki tarah, bas F ki jagah τ, a ki jagah α, aur m ki jagah mr2.

ایک پوری rigid body تو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے بنی ہوتی ہے, ہر ٹکڑا mi axis se ri faaslay par. Har tukray ka torque miri2α ہوگا, اور سب ایک ہی α سے گھومتے ہیں کیوں کے body سخت ہے. Total torque τ = (m1r12 + m2r22 + …)α, yaani τ = Iα (3.18), jahan I = Σ miri2 (3.19). اس سے ایک بہت اہم بات سمجھ آتی ہے: moment of inertia صرف mass پر نہیں, بلکہ mass کی تقسیم پر بھی منحصر ہے — وہی mass axis سے دور ہو تو I بڑا, قریب ہو تو I چھوٹا. کتاب کی "Do you know?" box یہی کہتی ہے: برابر mass والے دو cylinders میں سے جس کا diameter بڑا ہے, اسکا rotational inertia زیادہ ہے.

کتاب کی "For your information" table کچھ مشہور shapes کے I دیتی ہے (axis AA' کے گرد): thin rod (centre se) I = (1/12)ML2; thin ring ya hoop I = Mr2; solid disc ya cylinder I = (1/2)Mr2; sphere I = (2/5)Mr2. انہیں دیکھ کر ایک pattern نظر آتا ہے: جتنا mass axis سے دور, اتنا بڑا I — ring کا mass سب باہر ہے اس لیے پورا Mr2, disc کا mass پھیلا ہوا ہے اس لیے آدھا.

اردو

خطی حرکت میں کسی چیز کو دھکیلنا مشکل ہو تو ہم کہتے ہیں کہ اس کی کمیت زیادہ ہے — کمیت ہی جمود ہے، یعنی تبدیلی کی مخالفت۔ گردشی حرکت میں بھی کوئی ایسی ہی مقدار ہونی چاہیے، جو بتائے کہ کسی جسم کو گھمانا کتنا مشکل ہے۔ وہ مقدار لمحۂ جمود ہے، اور اسے I سے لکھتے ہیں۔

کتاب اسے بہت سیدھے طریقے سے نکالتی ہے۔ ایک کمیت m کو بغیر کمیت والی راڈ کے سرے پر لگاؤ، جو نقطہ O کے گرد گھوم سکتا ہے۔ اس پر راڈ کے عمود قوت F لگاؤ۔ نیوٹن کے مطابق F = ma، اور ٹینجنٹیل اسراع at = rα ہے، تو F = mrα۔ اب دونوں طرف r سے ضرب دو: rF = mr2α۔ یہاں rF ہی ٹارک τ ہے — گھمانے والا اثر — اور mr2 ہی لمحۂ جمود ہے۔ تو گردشی حرکت کا دوسرا قانون بن گیا: τ = Iα، بالکل F = ma کی طرح، بس F کی جگہ τ، a کی جگہ α، اور m کی جگہ mr2۔

ایک پوری سخت جسم تو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے بنی ہوتی ہے، ہر ٹکڑا mi محور سے ri فاصلے پر۔ ہر ٹکڑے کا ٹارک miri2α ہوگا، اور سب ایک ہی α سے گھومتے ہیں کیوں کہ جسم سخت ہے۔ کل ٹارک τ = (m1r12 + m2r22 + …)α، یعنی τ = Iα، جہاں I = Σ miri2۔ اس سے ایک بہت اہم بات سمجھ آتی ہے: لمحۂ جمود صرف کمیت پر نہیں، بلکہ کمیت کی تقسیم پر بھی منحصر ہے — وہی کمیت محور سے دور ہو تو I بڑا، قریب ہو تو I چھوٹا۔

کتاب کی معلوماتی جدول کچھ مشہور شکلوں کے I دیتی ہے: پتلی راڈ (مرکز سے) I = (1/12)ML2؛ پتلی رنگ I = Mr2؛ ٹھوس ڈسک یا سلنڈر I = (1/2)Mr2؛ کرہ I = (2/5)Mr2۔ ان میں ایک نمونہ نظر آتا ہے: جتنی کمیت محور سے دور، اتنا بڑا I۔

OF (perpendicular)rτ = rF = mr²α, I = mr²Mass door ho to ghoomana mushkil — I bara
Torque aur I ko samjho: force کو radius سے ضرب دو تو torque بنتا ہے, اور mr² ہی وہ "rotational mass" ہے جو گھومنے کی مخالفت کرتا ہے.
3.5 — Angular Momentum۳.۵ — زاویائی مومنٹم
🏷 Tags: angular momentum, L = Iω, cross product, right-hand rule, Earth example, kg m²/s
ENGLISH

Linear motion میں momentum (p = mv) بتاتا ہے کہ کوئی چیز کتنی "zor" سے چل رہی ہے اور use روکنا کتنا مشکل ہے. Rotational motion میں اسی کا ہم-منزل angular momentum ہے. کتاب کی تعریف غور سے پڑھو: کوئی particle کسی reference axis کے گرد angular momentum رکھتا ہے, agar woh is tarah chalay ke uski angular position us axis ke hawale se badal rahi ho. سیدھی لکیر پر axis سے دور جانے والی چیز کا بھی angular momentum ہو سکتا ہے — شرط صرف زاویے کا بدلنا ہے.

Mass m, velocity v (momentum p) والے particle کے لیے, origin O کے حوالے سے angular momentum L = r × p (3.20) ہے — یہ cross product ہے, اس لیے L ایک vector ہے. اسکی magnitude L = rp sinθ = mrv sinθ ہے, جہاں θ r اور p کے درمیان زاویہ ہے. L کی direction r اور p والے plane کے perpendicular ہوتی ہے, اور اسکا sense vector product کے right-hand rule سے ملتا ہے. SI اکائی kg m2 s−1 (ya J s) ہے.

اب خاص صورت: particle radius r کے دائرے میں uniform angular velocity ω سے گھوم رہا ہو, تو r اور tangential velocity کے درمیان زاویہ 90° ہے, sin90° = 1, تو L = mrv. اور v = rω رکھ دو تو L = mr2ω. پوری symmetric rigid body کے لیے ہر particle کا L جور دو: L = (Σ miri2)ω, اور bracket میں وہی moment of inertia ہے, تو L = Iω. یہ formula linear momentum p = mv کا rotational ہم-منزل ہے — بعث m کی جگہ I, v کی جگہ ω.

کتاب کی مثال 3.5 — زمین کا orbital angular momentum: Zameen ka mass 6.00 × 1024 kg ہے, سورج سے فاصلہ r = 1.50 × 1011 m ہے, اور وہ North Star کی طرف سے دیکہنے پر counter-clockwise گھومتی ہے, سال میں ایک چکر (T = 3.16 × 107 s). Pehle orbital speed: vo = 2πr / T. Phir Lo = m vo r = 2π r2 m / T = 2π(1.50 × 1011)2 × (6.00 × 1024) / (3.16 × 107) = 2.67 × 1040 kg m2 s−1. Sign positive ہے کیوں کے revolution counter-clockwise ہے. Number اتنا بڑا ہے کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے — اور یہی وجہ ہے کہ زمین کا orbit اتنا stable ہے, use کوئی ہلکی سی force نہیں بدل سکتی.

اردو

خطی حرکت میں مومنٹم (p = mv) بتاتا ہے کہ کوئی چیز کتنی "زور" سے چل رہی ہے اور اسے روکنا کتنا مشکل ہے۔ گردشی حرکت میں اسی کا ہم منصب زاویائی مومنٹم ہے۔ کتاب کی تعریف غور سے پڑھو: کوئی ذرہ کسی حوالہ محور کے گرد زاویائی مومنٹم رکھتا ہے، اگر وہ اس طرح چلے کہ اس کی زاویائی پوزیشن اس محور کے حوالے سے بدل رہی ہو۔

کمیت m، رفتار v (مومنٹم p) والے ذرے کے لیے، مبدا O کے حوالے سے زاویائی مومنٹم L = r × p ہے — یہ کراس پراڈکٹ ہے، اس لیے L ایک ویکٹر ہے۔ اس کی مقدار L = rp sinθ = mrv sinθ ہے، جہاں θ r اور p کے درمیان زاویہ ہے۔ L کی سمت r اور p والے پلین کے عمود ہوتی ہے، اور اس کا رخ ویکٹر پراڈکٹ کے دائیں ہاتھ کے اصول سے ملتا ہے۔ ایس آئی اکائی kg m2 s−1 ہے۔

اب خاص صورت: ذرہ رداس r کے دائرے میں یکساں زاویائی رفتار ω سے گھوم رہا ہو، تو r اور ٹینجنٹیل رفتار کے درمیان زاویہ 90° ہے، sin90° = 1، تو L = mrv۔ اور v = rω رکھ دو تو L = mr2ω۔ پوری ہم آہنگ سخت جسم کے لیے ہر ذرے کا L جوڑ دو: L = (Σ miri2)ω، اور بریکٹ میں وہی لمحۂ جمود ہے، تو L = Iω۔ یہ فارمولا خطی مومنٹم p = mv کا گردشی ہم منصب ہے — بس m کی جگہ I، v کی جگہ ω۔

کتاب کی مثال ۳.۵ — زمین کا مداری زاویائی مومنٹم: زمین کی کمیت 6.00 × 1024 kg ہے، سورج سے فاصلہ r = 1.50 × 1011 m ہے، اور وہ شمالی ستارے کی طرف سے دیکھنے پر counter-clockwise گھومتی ہے، سال میں ایک چکر (T = 3.16 × 107 s)۔ پہلے مداری رفتار: vo = 2πr / T۔ پھر Lo = 2π r2 m / T = 2.67 × 1040 kg m2 s−1۔ نشان مثبت ہے کیوں کہ گردش counter-clockwise ہے۔

Orp = mvL = r × p, |L| = mrv sinθدائرے میں θ = 90°, تو L = mvr = Iω
Angular momentum ko samjho: r اور p کا cross product ہے — دائرے میں یہ سیدھا mr²ω بن جاتا ہے, جو L = Iω ہے.
3.6 — Law of Conservation of Angular Momentum — Diver, Skater, Flywheel, Gyroscope۳.۶ — زاویائی مومنٹم کی بقا کا قانون — غوطہ خور، اسکیٹر، فلائی وہیل، جائروسکوپ
🏷 Tags: conservation of angular momentum, diver, ice skater, turntable, flywheel, gyroscope, Iω constant
ENGLISH

Physics کے سب سے خوب صورت قانونوں میں سے ایک یہ ہے: اگر کسی system پر کوئی external torque نہ لگے, تو اسکا total angular momentum constant رہتا ہے — Ltotal = L1 + L2 + … = constant. یہ قانون cosmology سے لے کر microscopic level تک verify ہو چکا ہے. ایک اکیلی spinning body کے لیے اس کا مطلب بہت سیدھا ہے: اگر اسکا moment of inertia I1 se I2 ho jaye, to uski angular speed ω1 se ω2 is tarah badal jayegi ke I1ω1 = I2ω2 — L وہی, بعث I اور ω آپس میں ادی بدلی کر لیتے ہیں. اور چونکہ angular momentum vector ہے جسکی direction axis کے ساتھ ہے, تو rotation کا axis بھی اپنی direction تب تک نہیں بدلتا جب تک کوئی external torque use نہ moray.

Diver: springboard سے چھلانگ لگانے والا diver ہوا میں کچھ somersaults لگاتا ہے. Board چھوڑنے سے پہلے وہ ہاتھ پاؤں پھیلا کر رکھتا ہے, پھر ہوا میں اپنے آپ کو sikor لیتا ہے — I کم, تو ω بڑھ جاتا ہے, اور وہ تیز گھومتا ہے. پانی کے قریب آتے ہی وہ پھر پھیل جاتا ہے — I بڑھ, ω کم — اور نرمی سے پانی میں اتارتا ہے. Ice skater: وہی کہانی برف پر. بازو پھیلائے ہوں تو I بڑا, ω کم; بازو سمیت لو اور تنگ قریب کر لو تو I چھوٹا, ω بڑھ جاتا ہے. Turntable wala shakhs: دونوں ہاتھوں میں dumbbell پھیلائے کھڑا شخص جب ہاتھ اندر کھینچتا ہے تو I کم ہوتا ہے اور اسکی angular speed فوراً بڑھ جاتی ہے — کتاب کی Fig. 3.21 میں یہی دیکھایا گیا ہے.

Flywheel: ایک بھری پہیہ جو axle پر لگا ہوتا ہے. اس کا کام rotational energy store کرنا, output کے اتر چڑھاؤ کو smooth کرنا, اور stability دینا ہے — bicycles, industrial machinery, ships اور spacecrafts میں. جب flywheel گھوم رہا ہو تو اسکا angular momentum اسکی orientation بدلنے کی مخالفت کرتا ہے, اس لیے وہ system کو stable رکھتا ہے. کتاب کی "Do you know?" box بتاتی ہے کہ mechanical گھڑیوں میں balance wheel نام کا flywheel ہی time کو ٹھیک رکھتا ہے.

Gyroscope: supporting rings میں pivoted ایک flywheel — مطلب ایک ایسا پہیہ جو ہر direction میں گھوم سکتا ہے. وہ conservation کے اصول پر کام کرتا ہے: بڑا moment of inertia اور بڑی angular speed کا مطلب بڑا angular momentum, اور اسکی direction بدلنے کے لیے بڑا torque چاہیے. اس لیے gyroscope کو جھکاؤ بھی تو وہ گرتا نہیں, اپنی orientation قیام رکھتا ہے — اسی وجہ سے aeroplanes, submarines اور space vehicles کے guiding systems میں gyroscope استعمال ہوتا ہے, تاکہ وہ کسی خاص direction میں steady course رکھیں.

📌 For your information (کتاب): جب polar ice caps کی برف پگھل کر دریائوں کی شکل میں دور بہہ جاتی ہے, تو پانی کا moment of inertia زمین کے axis کے گرد بڑھ جاتا ہے. Conservation کے مطابق زمین کی angular velocity تھوڑی کم ہو جائے گی, اس لیے دن کی duration تھوڑی بڑھ جاتی ہے. یہ عصر بہت چھوٹا ہے, لیکن یہ قانون کی طاقت دکھاتے ہے کہ وہ پوری زمین پر بھی لگتا ہے.

📌 Point تو ponder (کتاب): planets سورج کے گرد elliptical orbits میں چلتے ہیں, سورج ایک focus پر ہے, اس لیے planet کا فاصلہ سورج سے constant نہیں رہتا. جب planet سورج کے قریب آتا ہے تو اسکی orbital speed خود بخود بڑھ جاتی ہے — کیوں? کیوں کے اسکا angular momentum conserve ہوتا ہے: r کم ہو تو v بڑھنا ہی ہے تاکہ L = mvr وہی رہے. یہی وجہ ہے کہ planets قریب آکر تیز اور دور جا کر سست ہو جاتے ہیں.

اردو

فزکس کے سب سے خوبصورت قانونوں میں سے ایک یہ ہے: اگر کسی نظام پر کوئی بیرونی ٹارک نہ لگے، تو اس کا کل زاویائی مومنٹم مستقل رہتا ہے — Ltotal = L1 + L2 + … = constant۔ یہ قانون کائنات سے لے کر خردبینی سطح تک ثابت ہو چکا ہے۔ ایک اکیلی گھومنے والی جسم کے لیے اس کا مطلب بہت سیدھا ہے: اگر اس کا لمحۂ جمود I1 سے I2 ہو جائے، تو اس کی زاویائی رفتار ω1 سے ω2 اس طرح بدل جائے گی کہ I1ω1 = I2ω2 — L وہی، بس I اور ω آپس میں ادلا بدلی کر لیتے ہیں۔ اور چونکہ زاویائی مومنٹم ویکٹر ہے جس کی سمت محور کے ساتھ ہے، تو گردش کا محور بھی اپنی سمت تب تک نہیں بدلتا جب تک کوئی بیرونی ٹارک اسے نہ موڑے۔

غوطہ خور: اسپرنگ بورڈ سے چھلانگ لگانے والا غوطہ خور ہوا میں کچھ سومرسالٹس لگاتا ہے۔ بورڈ چھوڑنے سے پہلے وہ ہاتھ پاؤں پھیلا کر رکھتا ہے، پھر ہوا میں اپنے آپ کو سکیڑ لیتا ہے — I کم، تو ω بڑھ جاتا ہے، اور وہ تیز گھومتا ہے۔ پانی کے قریب آتے ہی وہ پھر پھیل جاتا ہے — I بڑھ، ω کم — اور نرمی سے پانی میں اترتا ہے۔ آئس اسکیٹر: وہی کہانی برف پر۔ بازو پھیلے ہوں تو I بڑا، ω کم؛ بازو سمیٹ لو تو I چھوٹا، ω بڑھ جاتا ہے۔ ٹرن ٹیبل والا شخص: دونوں ہاتھوں میں ڈمبل پھیلائے کھڑا شخص جب ہاتھ اندر کھینچتا ہے تو I کم ہوتا ہے اور اس کی زاویائی رفتار فوراً بڑھ جاتی ہے۔

فلائی وہیل: ایک بھاری پہیا جو ایکسل پر لگا ہوتا ہے۔ اس کا کام گردشی توانائی ذخیرہ کرنا، آؤٹ پٹ کے اتار چڑھاؤ کو ہموار کرنا، اور استحکام دینا ہے — سائیکلوں، صنعتی مشینری، جہازوں اور خلائی جہازوں میں۔ جب فلائی وہیل گھوم رہا ہو تو اس کا زاویائی مومنٹم اس کی سمت بدلنے کی مخالفت کرتا ہے، اس لیے وہ نظام کو مستحکم رکھتا ہے۔

جائروسکوپ: معاون حلقوں میں محور پر لگا ایک فلائی وہیل۔ وہ بقا کے اصول پر کام کرتا ہے: بڑا لمحۂ جمود اور بڑی زاویائی رفتار کا مطلب بڑا زاویائی مومنٹم، اور اس کی سمت بدلنے کے لیے بڑا ٹارک چاہیے۔ اس لیے جائروسکوپ کو جھکاؤ بھی تو وہ گرتا نہیں، اپنی سمت قائم رکھتا ہے — اسی وجہ سے ہوائی جہازوں، آبدوزوں اور خلائی گاڑیوں کے رہنما نظاموں میں جائروسکوپ استعمال ہوتا ہے۔

Ice skater spinning fast with arms folded close to the body
Skater ko samjho: بازو سمیت لو تو I چھوٹا ہو جاتا ہے اور conservation کے مطابق ω بڑھ جاتا ہے — skater خود بخود تیز گھومنے لگتا ہے.
📝 Official Exercise Questions — with Answers📝 کتابی مشق کے سوالات — جوابات کے ساتھ

The book's exercise (printed pages 65–68) has five parts: Multiple Choice Questions 3.1–3.10 (10), Short Answer Questions 3.1–3.9 (9), Constructed Response Questions 3.1–3.10 (10), Comprehensive Questions 3.1–3.7 (7) and Numerical Problems 3.1–3.10 (10). There is no separate inquisitive or review section in this chapter's exercise, so none is invented here. Answers printed in the book for the numericals are quoted at the end of each numerical question; where a short or constructed answer has no dedicated book passage, it is labelled as derived below.

Multiple Choice Questions — Tick (✓) the correct answer

3.1. The ratio of angular speed of minute's hand and hour's hand of a watch is:

Answer / جواب

Answer: (d) 12 : 1 — Minute hand completes one revolution in 60 min, hour hand in 12 h = 720 min. Since ω = 2π / T, ωminute / ωhour = 720 / 60 = 12, so the ratio is 12 : 1. منٹ والی سوئی ایک چکر 60 منٹ میں اور گھنٹے والی 720 منٹ میں لگاتی ہے، اس لیے رفتاروں کا تناسب 720/60 یعنی 12:1 ہے۔

3.2. A body travelling in a circle at constant speed:

Answer / جواب

Answer: (b) has an inward radial acceleration — Speed is constant but velocity direction changes at every point, so there is a centripetal acceleration ac = v2 / r directed towards the centre. رفتار مستقل ہے مگر سمت ہر لمحہ بدلتی ہے، اس لیے مرکز کی طرف مرکز مائل اسراع موجود ہے۔

3.3. A stone at the end of long string is whirled in vertical circle at a constant speed. The tension in the string will be minimum when the stone is:

Answer / جواب

Answer: (a) at the top of the circle — At the top, T + mg = mv2 / r, so T = mv2 / r − mg; at the bottom, T = mv2 / r + mg. The top value is clearly the smaller one. اوپر والے نقطے پر T = mv²/r − mg اور نیچے والے پر T = mv²/r + mg ہے، اس لیے تناؤ اوپر کم سے کم ہے۔

3.4. Every point of rotating rigid body has:

Answer / جواب

Answer: (a) same angular velocity — All points of a rigid body share the same angular displacement, angular speed and angular acceleration at any instant; their linear speeds differ because v = rω depends on distance from the axis. سخت جسم کے سب نقطوں کی زاویائی رفتار ایک جیسی ہوتی ہے، جب کہ خطی رفتار فاصلے r پر منحصر ہوتی ہے۔

3.5. The minimum velocity necessary to put a satellite into the orbit is called:

Answer / جواب

Answer: (b) critical velocity — The book defines it directly: the minimum velocity needed to put a satellite into orbit, 7.9 km s−1 near the Earth's surface. کتاب کے مطابق سیٹلائٹ کو مدار میں ڈالنے کے لیے درکار کم سے کم رفتار کریٹیکل رفتار کہلاتی ہے، جو سطح کے قریب 7.9 km/s ہے۔

3.6. An astronaut is orbiting around the Earth in a large capsule. Then,

Answer / جواب

Answer: (d) all the above — The capsule and the astronaut are both in free fall around the Earth, so relative to the capsule he feels weightless; and in that freely falling frame no apparent gravity acts on a projected ball, so it moves in a straight line at constant velocity as he observes it. کیپسول اور خلاباز دونوں آزادانہ گر رہے ہیں، اس لیے کیپسول کے حوالے سے وہ بے وزن ہے، اور اس کے فریم میں پھینکی گئی گیند سیدھی لکیر میں چلے گی۔

3.7. An object in uniform circular motion makes 10 revolutions in 2 seconds. Which of the following statement is true?

Answer / جواب

Answer: (c) Its frequency is 5 Hz — Frequency f = revolutions / time = 10 / 2 = 5 Hz, and the period T = 1 / f = 0.2 s, so options (a), (b) and (d) are all wrong. فریکوئنسی = چکر / وقت = 10/2 = 5 Hz، اور دورانیہ T = 1/f = 0.2 s ہے، اس لیے باقی آپشن غلط ہیں۔

3.8. A man inside the artificial satellite feels weightlessness because the force of attraction due to the Earth is:

Answer / جواب

Answer: (c) equal to the centripetal force — Earth's gravity is entirely used up as the centripetal force holding the satellite in orbit, so no supporting (normal) force remains on a body inside — hence FN = 0 and apparent weightlessness. زمین کی کشش ثقل پوری کی پوری مرکز مائل قوت بن جاتی ہے، اس لیے اندر کسی جسم پر معاون قوت باقی نہیں رہتی اور بے وزنی محسوس ہوتی ہے۔

3.9. A bottle of soda water is grasped from the neck and swung briskly in a vertical circle. Near which portion of the bottle do the bubbles collect?

Answer / جواب

Answer: (d) Near the neck of the bottle — This is the centrifuge rule: the denser liquid is thrown outwards, towards the bottom of the bottle, while the lighter bubbles gather towards the axis of rotation, which is at the neck end where the bottle is held. سینٹری فیوج کے اصول سے کثیف مائع باہر یعنی بوتل کے پیندے کی طرف جاتا ہے، اور ہلکے بلبلے گردش کے محور یعنی گردن کی طرف جمع ہوتے ہیں۔

3.10. The moment of inertia of body depends upon:

Answer / جواب

Answer: (a) mass of the body and its distribution about axis of rotation — From I = Σ miri2: I grows with mass and with how far that mass sits from the axis. Volume or energy alone do not decide it. I = Σmiri² سے واضح ہے کہ لمحۂ جمود کمیت اور محور سے اس کی تقسیم دونوں پر منحصر ہے۔

Short Answer Questions

3.1. State second law of motion in case of rotation.

In rotation, Newton's second law takes the form τ = Iα: the torque τ acting on a body equals the product of its moment of inertia I and its angular acceleration α. It is the exact rotational analogue of F = ma — torque plays the role of force, I the role of mass, and α the role of linear acceleration. گردش میں نیوٹن کا دوسرا قانون τ = Iα ہے: ٹارک، لمحۂ جمود اور زاویائی اسراع کی ضرب کے برابر ہوتا ہے۔

3.2. What is the effect of changing the position of a diver while diving in the pool?

When the diver tucks his body in (arms and legs pulled close), his moment of inertia I decreases. Since no external torque acts in mid-air, his angular momentum L = Iω stays constant, so his angular velocity ω increases and he spins faster. Stretching out again increases I, so ω falls and he enters the water smoothly. غوطہ خور جسم سکیڑے تو I کم ہوتا ہے، اور مومنٹم قائم رہنے سے ω بڑھ جاتا ہے، یعنی وہ تیز گھومتا ہے؛ پھیلنے پر ω کم ہو جاتا ہے۔

3.3. How do we get butter from the milk by using centrifuge?

Milk is a mixture of light and heavy particles. When it is whirled rapidly in a centrifuge (cream separator), the heavier particles are thrown outwards, away from the axis, while the lighter particles gather near the axis. Cream, being the lighter part, is thus separated from the milk without any chemical treatment. دودھ کو تیز گھمانے پر بھاری ذرات باہر کی طرف اور ہلکے ذرات محور کے قریب جمع ہوتے ہیں، اس طرح کریم دودھ سے الگ ہو جاتی ہے۔

3.4. Mass is a measure of inertia in linear motion. What is its analogue in rotational motion? Describe briefly.

The analogue is the moment of inertia I = Σ miri2. Just as a larger mass resists a change in linear velocity, a larger moment of inertia resists a change in angular velocity: for the same torque, a body with larger I gains a smaller angular acceleration (τ = Iα). Unlike mass, I also depends on how the mass is distributed about the axis. گردشی حرکت میں کمیت کا ہم منصب لمحۂ جمود I = Σmiri² ہے؛ جتنا بڑا I، اتنی ہی زیادہ گردش میں تبدیلی کی مخالفت۔

3.5. Why is it harder for a car to take turn at higher speed than at lower speed?

The centripetal force needed for a turn is Fc = mv2 / r, so it grows with the square of the speed. Doubling the speed needs four times the force, but the friction between tyres and road can only supply a limited maximum. At high speed the required force exceeds what friction can give, so the car is liable to skid. موڑ کے لیے درکار قوت mv²/r ہے، یعنی رفتار دوگنی ہو تو قوت چار گنا چاہیے، جب کہ ٹائروں کی رگڑ محدود ہوتی ہے، اس لیے تیز رفتار پر موڑ مشکل ہو جاتا ہے۔

3.6. What are the benefits of using rear wheels of heavy vehicles consisted of double tyres?

Derived answer — the book has no dedicated passage on double tyres, so this is reasoned from the chapter's friction and load ideas, not quoted from the book. Double tyres spread the vehicle's heavy load over a larger contact area with the road, so each tyre carries less weight and wears less, and the total grip (friction) available for braking and for supplying the centripetal force on a turn is greater. They also give stability and a safety margin: if one tyre fails, the other still supports that side. دوہرے ٹائر بھاری بوجھ کو زیادہ رقبے پر بانٹتے ہیں، رگڑ اور گرفت بڑھاتے ہیں، اور ایک ٹائر خراب ہونے پر بھی سہارا باقی رہتا ہے۔

3.7. When a moving car turns around a corner to the left, in what direction do the occupants tend to fall? Explain briefly.

The occupants tend to fall (lean) towards the right, i.e. away from the centre of the turn. By inertia, their bodies try to continue in a straight line while the car turns left; relative to the car, that straight-line tendency appears as a push to the right. It is the same inertia effect that makes loose objects slide outwards on a turntable. گاڑی بائیں مڑے تو مسافر دائیں طرف جھکتے ہیں، کیوں کہ جمود کی وجہ سے ان کا جسم سیدھی لکیر میں چلنا چاہتا ہے جب کہ گاڑی مڑ جاتی ہے۔

3.8. Why is the acceleration of a body moving uniformly in a circle, directed towards the centre?

In uniform circular motion the speed is constant but the velocity vector keeps changing direction, always pointing along the tangent. Over a short interval the change in velocity Δv points towards the centre of the circle, and acceleration is Δv / Δt, so it too points towards the centre. Its magnitude is ac = v2 / r. یکساں دائروی حرکت میں رفتار مستقل مگر سمت بدلتی رہتی ہے، اور رفتار میں تبدیلی ہمیشہ مرکز کی طرف ہوتی ہے، اس لیے اسراع بھی مرکز کی طرف ہے۔

3.9. How does an astronaut feel weightlessness while orbiting from the Earth in a spaceship?

The spaceship and everything inside it are in continuous free fall around the Earth: gravity supplies exactly the centripetal force needed for the orbit. A body suspended from a spring balance inside therefore exerts no supporting force — the book's derivation gives FN = 0 — so the balance reads zero and the astronaut feels no weight, even though gravity is still acting. خلائی جہاز اور اس کے اندر ہر چیز مسلسل آزادانہ گر رہی ہے، اسپرنگ بیلنس پر معاون قوت صفر ہو جاتی ہے، اس لیے خلاباز کو وزن محسوس نہیں ہوتا۔

Constructed Response Questions

3.1. If angular velocity of different particles of a rigid body is constant, will the linear velocity of these particles be also constant?

No — not in general. Every particle does share the same angular velocity ω, but its linear speed is v = rω, which depends on its distance r from the axis. Particles farther from the axis move faster, and even for one particle the direction of its velocity keeps changing as it goes around the circle, so its velocity vector is never constant even when its speed is. نہیں — زاویائی رفتار سب کی ایک ہے مگر خطی رفتار v = rω فاصلے پر منحصر ہے، اور سمت بھی ہر لمحہ بدلتی ہے۔

3.2. A loaf of bread is lying on rotating plate. A crow takes away the loaf of bread and the rotation of the plate increases. Why?

Removing the loaf reduces the total moment of inertia I of the rotating system (mass farther from the axis is taken away). With no significant external torque, angular momentum L = Iω is conserved, so when I falls, ω must rise — the plate spins faster. روٹی اٹھانے سے نظام کا لمحۂ جمود کم ہو جاتا ہے، اور مومنٹم قائم رہنے سے زاویائی رفتار بڑھ جاتی ہے۔

3.3. Why do we tumble when we take the sharp turn with large speed?

A sharp turn means a small radius r, and a large speed means a large required centripetal force Fc = mv2 / r. The friction (and the grip of your feet) cannot supply that much force, so your lower body cannot follow the turn while your upper body, by inertia, continues straight — the mismatch topples you. At low speed or on a gentle turn the required force is within what friction can give. تیز رفتار اور چھوٹے رداس پر درکار مرکز مائل قوت بہت بڑھ جاتی ہے، رگڑ وہ قوت نہیں دے پاتی، اور جمود کی وجہ سے جسم کا اوپری حصہ سیدھا جانا چاہتا ہے، اس لیے انسان لڑکھڑا جاتا ہے۔

3.4. What will be time period of a simple pendulum in an artificial satellite at a certain height?

Derived answer — the book does not give a pendulum formula in this chapter. A pendulum's period is T = 2π√(l / geff), where geff is the effective gravity it feels. Inside an orbiting satellite the effective gravity is zero (weightlessness, FN = 0), so the denominator vanishes and T becomes infinite — in practice the pendulum does not oscillate at all; displaced, it simply stays where it is put. سیٹلائٹ کے اندر مؤثر کشش ثقل صفر ہوتی ہے، اس لیے پنڈولم کا دورانیہ لامحدود ہو جاتا ہے، یعنی وہ دولن ہی نہیں کرتا۔

3.5. Is the motion of a satellite in its orbit, uniform or accelerated?

It is accelerated motion, even though its speed may be uniform. Velocity is a vector: in orbit its direction changes continuously, and that change is produced by the centripetal acceleration ac = v2 / r directed towards the Earth. Uniform speed with changing direction is still acceleration. سیٹلائٹ کی حرکت اسراعی ہے، کیوں کہ رفتار مستقل ہونے کے باوجود سمت مسلسل بدلتی ہے، اور یہ تبدیلی مرکز مائل اسراع سے ہوتی ہے۔

3.6. What are the advantages that radian has been preferred as SI unit to degree?

Derived answer — the book defines the radian as the SI unit but does not list its advantages in a dedicated passage. A radian is defined naturally as arc / radius (S / r), so it is a pure ratio with no arbitrary division like 360. That makes the key relations come out clean — S = rθ, v = rω, a = rα — with no conversion factor, and it is the unit in which calculus relations for rotation work directly. Degrees would force an extra π / 180 factor into every formula. ریڈین قوس اور رداس کا قدرتی تناسب ہے، اس لیے S = rθ اور v = rω جیسے فارمولے بغیر کسی تبدیلی کے صاف بنتے ہیں، جب کہ ڈگری میں ہر فارمولے میں اضافی عنصر آتا۔

3.7. In uniform circular motion, what are the average velocity and average acceleration for one revolution? Explain.

Both are zero. Average velocity = total displacement / total time. After one full revolution the body returns to its starting point, so displacement is zero and average velocity is zero. Average acceleration = change in velocity / time; after one revolution the velocity vector is exactly what it was at the start, so the change is zero and average acceleration is zero. (Instantaneous velocity and acceleration are of course non-zero throughout.) ایک پورے چکر کے بعد ہٹاؤ صفر ہوتا ہے، اس لیے اوسط رفتار صفر؛ اور رفتار کا ویکٹر شروع جیسا ہو جاتا ہے، اس لیے اوسط اسراع بھی صفر ہے۔

3.8. In a rainstorm with a strong wind, what determines the best position to hold an umbrella?

Derived answer — reasoned from relative velocity, not a dedicated book passage. Rain reaches you with its relative velocity: the vector sum of the rain's downward velocity and the wind's horizontal velocity (with the opposite sign for your own motion). The best position is to tilt the umbrella along that resultant direction, so that its canopy faces the oncoming rain — tilted into the wind, not held vertically. In a strong wind that tilt is large. چھتری کو بارش کی نسبتی رفتار کی سمت میں جھکانا چاہیے، یعنی ہوا کی طرف ٹیڑھی کر کے پکڑنا چاہیے، نہ کہ سیدھی عمودی۔

3.9. A ball is just supported by a string without breaking. If it is whirled in a vertical circle, it breaks. Explain why.

Hanging at rest, the string only has to support the ball's weight mg, which it can just bear. Whirled in a vertical circle, the tension is no longer just mg: at the bottom of the circle it becomes T = mv2 / r + mg, which is greater than mg and exceeds the string's breaking strength, so the string snaps — most likely at the bottom, where tension is greatest. ساکن حالت میں ڈوری کو صرف وزن mg سہنا ہوتا ہے، مگر عمودی دائرے میں نیچے والے نقطے پر تناؤ T = mv²/r + mg ہو جاتا ہے، جو ڈوری کی برداشت سے زیادہ ہے، اس لیے وہ ٹوٹ جاتی ہے۔

3.10. How is the centripetal force supplied in the following cases: (a) a satellite orbiting around the Earth? (b) a car taking a turn on a level road?

(a) For a satellite, the centripetal force is supplied by the gravitational force of attraction between the Earth and the satellite (GmsM / r2). (b) For a car on a level road, it is supplied by the friction between the tyres and the road, acting towards the centre of the turn. (الف) سیٹلائٹ کے لیے مرکز مائل قوت زمین کی کشش ثقل دیتی ہے۔ (ب) ہموار سڑک پر موڑ لیتی گاڑی کے لیے یہ قوت ٹائروں اور سڑک کے درمیان رگڑ دیتی ہے۔

Comprehensive Questions (Long Questions)

3.1. What is meant by angular momentum? Explain the law of conservation of angular momentum with daily life examples.

Angular momentum is the rotational analogue of linear momentum. A particle of mass m moving with momentum p at position r from an origin has angular momentum L = r × p, with magnitude L = mrv sinθ, where θ is the angle between r and p. For a body rotating about a fixed axis it reduces to L = Iω, with SI unit kg m2 s−1. The law of conservation states: if no external torque acts on a system, its total angular momentum remains constant, Ltotal = constant, so for a single body I1ω1 = I2ω2. Daily examples: (1) A diver tucks in mid-air, I falls, so ω rises and he spins faster; stretching out slows him for a smooth entry. (2) An ice skater folds her arms, I falls, ω rises. (3) A person on a turntable holding dumbbells spins faster when he pulls his hands in. (4) A flywheel keeps its orientation because its large angular momentum resists change, which is why gyroscopes steady aeroplanes and ships. زاویائی مومنٹم L = r × p ہے، اور گھومتی جسم کے لیے L = Iω۔ بقا کا قانون کہتا ہے کہ بیرونی ٹارک نہ ہو تو کل مومنٹم مستقل رہتا ہے، جیسے غوطہ خور، اسکیٹر اور ٹرن ٹیبل والی مثالوں میں نظر آتا ہے۔

3.2. Show that orbital angular momentum is; L = Iω.

Step 1: For a particle of mass m moving in a circle of radius r with speed v, the angle between r and its tangential velocity is 90°, so the magnitude of its angular momentum is L = mrv sin90° = mrv. Step 2: Use v = rω, giving L = m r (rω) = mr2ω. Step 3: For a rigid body, every particle shares the same ω, so total L = Σ miri2ω = (Σ miri2)ω. Step 4: The bracket is exactly the moment of inertia I = Σ miri2, so L = Iω, as required. دائرے میں L = mrv، اور v = rω رکھنے سے L = mr²ω؛ پوری جسم کے لیے سب ذرات کا جوڑ I بناتا ہے، اس لیے L = Iω ثابت ہوتا ہے۔

3.3. Define moment of inertia. Prove that torque acting on rotating rigid body is equal to the product of its moment of inertia and angular acceleration.

Definition: The moment of inertia I of a body about an axis is I = Σ miri2, the sum over all its particles of mass times squared distance from the axis. It measures resistance to change in rotational motion, just as mass measures resistance to change in linear motion. Proof: Take one particle of mass mi at distance ri from the axis, acted on by a tangential force Fi. By Newton's second law Fi = miat, and at = riα, so Fi = miriα. Multiply by ri: the torque on that particle is τi = riFi = miri2α. Summing over all particles of the rigid body (all share the same α): τ = (Σ miri2)α = Iα. Hence proved. لمحۂ جمود I = Σmiri² ہے۔ ہر ذرے پر τi = miri²α، اور سب کا جوڑ τ = Iα دیتا ہے، یہی مطلوبہ ثبوت ہے۔

3.4. What are artificial satellites? Calculate the minimum time period necessary to put a satellite into the orbit near the surface of the Earth.

Artificial satellites are objects put into nearly circular orbits around the Earth by rockets; they are held in orbit by the Earth's gravitational pull, which supplies their centripetal force. The low-flying ones have an acceleration of 9.8 m s−2 towards the Earth's centre. Minimum time period near the surface: Near the surface, g = v2 / R gives the critical velocity v = √(gR) = √(9.8 × 6.4 × 106) = 7.9 × 103 m s−1. The period is T = 2πR / v = 2 × 3.14 × 6400 km / 7.9 km s−1 = 2 × 3.14 × 6400 / 7.9 s ≈ 5090 s, which the book rounds to 5060 s ≈ 84 min (the small difference is rounding of π and g in the book's working). This is the shortest possible orbital period; any higher orbit takes longer. مصنوعی سیٹلائٹ راکٹ سے مدار میں ڈالا گیا جسم ہے جسے کشش ثقل مدار میں رکھتی ہے۔ سطح کے قریب v = √(gR) = 7.9 km/s، اور دورانیہ T = 2πR/v ≈ 84 منٹ، جو کم سے کم ممکنہ دورانیہ ہے۔

3.5. Define orbital velocity and derive an expression for the same.

Definition: Orbital velocity is the velocity a satellite must have to stay in a stable circular orbit around a planet at a given distance from the planet's centre. Derivation: Let the satellite's mass be ms, its orbital speed v, the Earth's mass M, and the orbital radius r (distance from the Earth's centre). The centripetal force required is msv2 / r, and it is provided by gravity, GmsM / r2. Equating: GmsM / r2 = msv2 / r. Cancel ms from both sides and one factor of r: v2 = GM / r, so v = √(GM / r). Note that the satellite's own mass cancels — the orbital velocity depends only on the planet's mass and the orbital radius. مداری رفتار وہ رفتار ہے جو سیٹلائٹ کو مستحکم مدار میں رکھے۔ کشش ثقل کو مرکز مائل قوت کے برابر رکھنے سے v = √(GM/r) نکلتا ہے، جس میں سیٹلائٹ کی اپنی کمیت ختم ہو جاتی ہے۔

3.6. Write a note on artificial gravity. Derive an expression for frequency with which the spaceship rotates to provide artificial gravity.

Note: In gravity-free space nothing pushes a body to any side of a spacecraft, and long exposure to weightlessness harms astronauts' performance. Artificial gravity is created by rotating the spacecraft about its own axis: the astronaut is pressed towards the outer rim and exerts a force on the "floor" much as on Earth, because the rotating surface pushes on him and supplies the centripetal force for his circular path. Derivation: Let the spacecraft's outer radius be R and its angular speed ω. Its centripetal acceleration is ac = Rω2. With ω = 2π / t, where t is the period of rotation, ac = R(2π / t)2 = 4π2R / t2. Since frequency f = 1 / t, ac = 4π2Rf2. For Earth-like gravity set ac = g: g = 4π2Rf2, so f2 = g / (4π2R) and f = (1 / 2π)√(g / R). Rotating at this frequency gives the crew artificial gravity equal to Earth's. مصنوعی کشش ثقل خلائی جہاز کو اپنے محور پر گھما کر پیدا کی جاتی ہے، جس سے خلاباز بیرونی کنارے کی طرف دبتا ہے۔ ac = g رکھنے سے فریکوئنسی f = (1/2π)√(g/R) ملتی ہے۔

3.7. Prove that; (i) v = rω and (ii) at = rα.

(i) v = rω: Consider a point P in a rigid body at perpendicular distance r from the axis. In time Δt it moves through arc length ΔS while the reference line turns through Δθ; by the radian relation ΔS = rΔθ. Divide by Δt: ΔS / Δt = r (Δθ / Δt). In the limit Δt → 0, ΔS / Δt becomes the linear (tangential) speed v and Δθ / Δt becomes the angular velocity ω, so v = rω. (ii) at = rα: From v = rω, consider the change over Δt: Δv = rΔω (r is constant for the point). Divide by Δt: Δv / Δt = r (Δω / Δt). In the limit, Δv / Δt is the tangential acceleration at and Δω / Δt is the angular acceleration α, so at = rα. Hence proved. (i) ΔS = rΔθ کو Δt سے تقسیم کر کے حد لینے سے v = rω۔ (ii) v = rω میں تبدیلی لینے سے Δv = rΔω، اور Δt سے تقسیم کر کے at = rα ثابت ہوتا ہے۔

اردو — طویل سوالات کے جوابات

1۔ زاویائی مومنٹم L = r × p ہے، اور گھومتی جسم کے لیے L = Iω۔ بقا کا قانون کہتا ہے کہ بیرونی ٹارک نہ ہو تو کل مومنٹم مستقل رہتا ہے، اس لیے I1ω1 = I2ω2۔ روزمرہ مثالیں: غوطہ خور جسم سکیڑ کر تیز گھومتا ہے اور پھیل کر آہستہ ہو جاتا ہے؛ اسکیٹر بازو سمیٹ کر تیز گھومتی ہے؛ ٹرن ٹیبل پر ڈمبل والا شخص ہاتھ اندر کھینچ کر تیز گھومتا ہے؛ فلائی وہیل اور جائروسکوپ اپنی سمت قائم رکھتے ہیں۔

2۔ دائرے میں ذرے کے لیے L = mrv، کیوں کہ r اور رفتار کے درمیان زاویہ 90° ہے۔ v = rω رکھنے سے L = mr2ω۔ پوری جسم کے لیے سب ذرات کا جوڑ (Σmiri2)ω بنتا ہے، اور بریکٹ ہی I ہے، اس لیے L = Iω ثابت ہوتا ہے۔

3۔ لمحۂ جمود I = Σmiri2 ہے، یعنی گردش میں تبدیلی کی مخالفت کی پیمائش۔ ثبوت: ہر ذرے پر Fi = miriα، اسے ri سے ضرب دو تو ٹارک τi = miri2α، اور سب کا جوڑ τ = Iα دیتا ہے۔

4۔ مصنوعی سیٹلائٹ راکٹ سے مدار میں ڈالا گیا جسم ہے جسے زمین کی کشش ثقل مدار میں رکھتی ہے۔ سطح کے قریب کریٹیکل رفتار v = √(gR) = 7.9 km/s ہے، اور کم سے کم دورانیہ T = 2πR/v ≈ 5060 s یعنی تقریباً 84 منٹ ہے۔

5۔ مداری رفتار وہ رفتار ہے جو سیٹلائٹ کو مستحکم دائروی مدار میں رکھے۔ کشش ثقل GmsM/r2 کو مرکز مائل قوت msv2/r کے برابر رکھو، سیٹلائٹ کی کمیت ختم ہو جاتی ہے، اور v = √(GM/r) ملتا ہے۔

6۔ مصنوعی کشش ثقل خلائی جہاز کو اپنے محور پر گھما کر پیدا کی جاتی ہے تاکہ خلاباز بیرونی کنارے پر زمین جیسا دباؤ محسوس کرے۔ ac = Rω2 اور ω = 2πf سے ac = 4π2Rf2، اور ac = g رکھنے سے f = (1/2π)√(g/R) ملتا ہے۔

7۔ (i) نقطے کا قوس ΔS = rΔθ ہے؛ Δt سے تقسیم کر کے حد لینے سے v = rω۔ (ii) اسی رشتے میں تبدیلی Δv = rΔω ہے؛ Δt سے تقسیم کر کے حد لینے سے at = rα ثابت ہوتا ہے۔

Numerical Problems

3.1. A laser beam is directed from the Earth to the moon. The beam spreads over a diameter of 2.50 m at the moon surface. What is the divergence angle of the beam? The distance from the moon from the Earth is 3.8 × 108 m. (Ans: 6.6 × 10−9 rad)

Step 1: The spread diameter is the arc length S = 2.50 m, and the Earth–Moon distance is the radius r = 3.8 × 108 m. Step 2: Use θ = S / r. Step 3: θ = 2.50 / (3.8 × 108) = 0.6579 × 10−8 = 6.6 × 10−9 rad, matching the book's answer. The angle is absurdly tiny — that is why a laser can stay so narrow over such a huge distance. قوس S = 2.50 m اور رداس r = 3.8×108 m ہے، θ = S/r = 6.6×10−9 rad، جو کتاب کے جواب سے ملتا ہے۔

3.2. A car is moving with a speed of 108 km h−1. If its wheel has a diameter of 60 cm, find its angular speed in rad s−1 and rev s−1. (Ans: 100 rad s−1, 16 rev s−1)

Step 1: Convert speed: 108 km h−1 = 108 × 1000 / 3600 = 30 m s−1. Step 2: Wheel radius r = diameter / 2 = 60 / 2 = 30 cm = 0.30 m. Step 3: ω = v / r = 30 / 0.30 = 100 rad s−1. Step 4: Revolutions per second f = ω / 2π = 100 / (2 × 3.14) = 15.9 ≈ 16 rev s−1, matching the book. رفتار 30 m/s اور رداس 0.30 m ہے، ω = v/r = 100 rad/s، اور چکر فی سیکنڈ 100/2π ≈ 16 rev/s ہے۔

3.3. An electric motor is running at 1800 rev min−1. On switching off, it comes to rest in 20 s. If angular retardation is uniform, find the number of revolutions it makes before stopping. (Ans: 300 rev)

Step 1: Initial angular speed ωi = 1800 rev min−1 = 1800 / 60 = 30 rev s−1; final ωf = 0; time t = 20 s. Step 2: Angular acceleration α = (ωf − ωi) / t = (0 − 30) / 20 = −1.5 rev s−2 (negative = retardation). Step 3: θ = ωit + ½αt2 = 30 × 20 + ½(−1.5)(20)2 = 600 − 300 = 300 rev, matching the book. ابتدائی رفتار 30 rev/s اور اسراع −1.5 rev/s² ہے، θ = 30×20 − ½×1.5×400 = 300 rev، جو کتاب کے جواب سے ملتا ہے۔

3.4. A string 0.5 m long holding a stone can withstand maximum tension of 35.6 N. Find the maximum speed at which a stone of 0.5 kg mass can be whirled with it in a vertical circle. (Ans: 5.5 m s−1)

Step 1: Tension is greatest at the bottom of the vertical circle, where T = mv2 / r + mg. Step 2: Set T to its maximum, 35.6 N, with m = 0.5 kg, r = 0.5 m, g = 9.8 m s−2: 35.6 = (0.5 × v2 / 0.5) + (0.5 × 9.8) = v2 + 4.9. Step 3: v2 = 35.6 − 4.9 = 30.7, so v = √30.7 = 5.54 ≈ 5.5 m s−1, matching the book. Any faster and the string breaks at the bottom. نیچے والے نقطے پر تناؤ سب سے زیادہ T = mv²/r + mg ہے؛ زیادہ سے زیادہ تناؤ رکھنے سے v² = 30.7، یعنی v ≈ 5.5 m/s ملتا ہے۔

3.5. The flywheel of an engine is rotating at 2100 rev min−1 when the power source is shut off. What torque is required to stop it in 3 minutes? The moment of inertia of the flywheel is 36 kg m2. (Ans: 44 N m)

Step 1: Initial speed ωi = 2100 rev min−1 = 2100 / 60 = 35 rev s−1 = 35 × 2π = 219.9 rad s−1. Step 2: Time to stop t = 3 min = 180 s, final ωf = 0. Step 3: α = (0 − 219.9) / 180 = −1.222 rad s−2. Step 4: Magnitude of torque τ = I|α| = 36 × 1.222 = 43.98 ≈ 44 N m, matching the book. ابتدائی رفتار 35 rev/s یعنی 219.9 rad/s ہے، 180 s میں رکنے پر α = −1.222 rad/s²، اور ٹارک τ = 36×1.222 ≈ 44 N m ہے۔

3.6. What is the moment of inertia of a 200 kg sphere whose diameter is 60 cm? (Ans: 7.2 kg m2)

Step 1: Radius r = diameter / 2 = 60 / 2 = 30 cm = 0.30 m. Step 2: For a sphere, I = (2/5)Mr2 from the book's table. Step 3: I = 0.4 × 200 × (0.30)2 = 0.4 × 200 × 0.09 = 80 × 0.09 = 7.2 kg m2, matching the book. رداس 0.30 m ہے، کرے کے لیے I = (2/5)Mr² = 0.4×200×0.09 = 7.2 kg m²، جو کتاب کے جواب سے ملتا ہے۔

3.7. A satellite is orbiting the Earth at an altitude of 200 km. Assuming the Earth's radius is 6400 km, calculate the orbital speed of the satellite. (Ans: 7.77 km s−1)

Step 1: Orbital radius r = R + h = 6400 + 200 = 6600 km = 6.6 × 106 m. Step 2: v = √(GM / r) with G = 6.67 × 10−11 N m2 kg−2 and M = 6.0 × 1024 kg: GM = 4.002 × 1014. Step 3: v = √(4.002 × 1014 / 6.6 × 106) = √(6.064 × 107) ≈ 7.79 × 103 m s−1 ≈ 7.8 km s−1, which agrees with the book's 7.77 km s−1 within rounding of G and M. مداری رداس 6600 km ہے، v = √(GM/r) سے تقریباً 7.8 km/s ملتا ہے، جو کتاب کے 7.77 km/s سے راؤنڈنگ کے اندر ملتا ہے۔

3.8. A space station has a radius of 20 m and rotates at an angular velocity of 0.5 rad s−1. What is the radial gravity experienced by the astronauts on the space station? (Ans: 5 m s−2)

Step 1: The artificial (radial) gravity is the centripetal acceleration ac = Rω2. Step 2: R = 20 m, ω = 0.5 rad s−1, so ω2 = 0.25. Step 3: ac = 20 × 0.25 = 5 m s−2, matching the book — about half of Earth's gravity, so astronauts would feel roughly half their normal weight. مصنوعی کشش ثقل ac = Rω² = 20×0.25 = 5 m/s² ہے، یعنی زمین کی کشش ثقل کا تقریباً آدھا۔

3.9. A bicycle wheel has an angular momentum of 10 kg m2 s−1 and angular velocity of 2 rad s−1. Find the value of its moment of inertia. (Ans: 5 kg m2)

Step 1: Use L = Iω. Step 2: Rearrange: I = L / ω = 10 / 2 = 5 kg m2, matching the book. One step is all it needs — the trick is only to remember which formula links the two quantities. L = Iω سے I = L/ω = 10/2 = 5 kg m²، جو کتاب کے جواب سے ملتا ہے۔

3.10. A diver comes off a board with arms straight up and legs straight down, giving him a moment of inertia of 18 kg m2 about his rotation axis. Then tucks into a small ball, decreasing his moment of inertia to 3.6 kg m2. While tucked, he makes two complete rotations in 1.0 second. If he had not tucked at all, how many revolutions would he have made in 1.5 s from board to water? (Ans: 0.6 rev)

Step 1: While tucked, he makes 2 rev in 1.0 s, so ω2 = 2 rev s−1. Step 2: Conservation: I1ω1 = I2ω2, so ω1 = ω2 × (I2 / I1) = 2 × (3.6 / 18) = 2 × 0.2 = 0.4 rev s−1 — his untucked spin rate. Step 3: In 1.5 s at that rate he makes 0.4 × 1.5 = 0.6 rev, matching the book. Tucking is what turns a lazy half-turn into two fast spins. سکڑی حالت میں ω2 = 2 rev/s ہے، بقا سے ω1 = 2×(3.6/18) = 0.4 rev/s، اور 1.5 s میں 0.4×1.5 = 0.6 rev بنتے ہیں۔

📌 باب کا خلاصہ اور رہنمائی — اس باب میں کیا ہے؟
ENGLISH

This chapter starts with a new way of measuring: the radian, where θ = S / r, 1 revolution = 2π rad = 360°, and 1 rad = 57.3°. From there it builds the rotating vocabulary — angular displacement, angular velocity ω = Δθ / Δt, angular acceleration α = Δω / Δt — and then ties rotation to ordinary motion with v = rω and at = rα, plus the three equations of angular motion that mirror the linear ones. The middle of the chapter is the idea that changes everything else: a perpendicular force changes direction, not speed, and that is the centripetal force Fc = mv2 / r = mrω2. The same idea explains why a string snaps to a tangent, why a car needs friction (or a banked road) on a turn, and why centrifuges, dryers and cream separators can separate mixtures just by spinning. Then the chapter lifts off: gravity itself becomes the centripetal force, giving the critical velocity 7.9 km s−1 and the 84-minute low orbit, the general orbital velocity v = √(GM / r) in which the satellite's own mass cancels, weightlessness as continuous free fall with FN = 0, and artificial gravity from a rotating spacecraft at f = (1 / 2π)√(g / R). Finally it introduces rotation's own inertia and momentum — torque τ = Iα with I = Σmr2, angular momentum L = Iω, and the conservation law I1ω1 = I2ω2 that a diver, a skater, a turntable, a flywheel and a gyroscope all obey. Revision guidance: first master the five formulas (θ = S / r, v = rω, Fc = mv2 / r, v = √(GM / r), L = Iω) by writing each one from memory, then redo numericals 3.2, 3.3 and 3.10 by hand — they test unit conversion, uniform retardation and conservation in one go — and finally explain the diver and the satellite in your own words to someone else; if you can say why the astronaut feels nothing while gravity is still there, this chapter is yours.

اردو

یہ باب ناپنے کے ایک نئے طریقے سے شروع ہوتا ہے: ریڈین، جہاں θ = S / r، ایک چکر = 2π rad = 360°، اور 1 rad = 57.3°۔ پھر گردش کی اصطلاحات بنتی ہیں — زاویائی ہٹاؤ، زاویائی رفتار ω، زاویائی اسراع α — اور پھر گردش کو عام حرکت سے جوڑا جاتا ہے: v = rω اور at = rα، نیز زاویائی حرکت کی تین مساواتیں۔ باب کے درمیان وہ خیال ہے جو سب کچھ بدل دیتا ہے: عمودی قوت رفتار نہیں، سمت بدلتی ہے، اور وہی مرکز مائل قوت Fc = mv2/r ہے۔ یہی خیال بتاتا ہے کہ ڈوری ٹوٹ کر ٹینجنٹ پر کیوں جاتی ہے، موڑ پر گاڑی کو رگڑ یا بینکڈ سڑک کیوں چاہیے، اور سینٹری فیوج، ڈرائر اور کریم سیپریٹر صرف گھما کر مکسچر کیوں الگ کر لیتے ہیں۔ پھر باب خلاء میں جاتا ہے: کشش ثقل خود مرکز مائل قوت بن جاتی ہے، جس سے کریٹیکل رفتار 7.9 km/s اور 84 منٹ کا نچلا مدار، عام مداری رفتار v = √(GM/r)، مسلسل آزادانہ گرنے سے بے وزنی، اور گھومتے خلائی جہاز سے مصنوعی کشش ثقل ملتی ہے۔ آخر میں گردش کا اپنا جمود اور مومنٹم آتا ہے — ٹارک τ = Iα، زاویائی مومنٹم L = Iω، اور بقا کا قانون I1ω1 = I2ω2 جس پر غوطہ خور، اسکیٹر، ٹرن ٹیبل، فلائی وہیل اور جائروسکوپ سب عمل کرتے ہیں۔ نظرثانی کی رہنمائی: پہلے پانچ فارمولے یادداشت سے لکھ کر پکے کرو، پھر عددی سوالات ۳.۲، ۳.۳ اور ۳.۱۰ ہاتھ سے حل کرو، اور آخر میں غوطہ خور اور سیٹلائٹ کی کہانی اپنے الفاظ میں کسی کو سناؤ؛ اگر تم بتا سکو کہ کشش ثقل کے باوجود خلاباز کو وزن کیوں محسوس نہیں ہوتا، تو یہ باب تمہارا ہے۔

🎯 مزید MCQs اور Tests کے لیے

Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:

PunjabTest.com — Tests →

PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Physics, Chapter 3 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu

← Chapter 2Chapter 4 →