
⚠️ اہم اطلاع — اس غزل کا تعارف، متن اور کتابی مشق (کتاب کے صفحات 130 تا 134) دستیاب نقل میں موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس صفحے میں صرف تصدیق شدہ مواد دیا گیا ہے: فہرست سے سبق کا نام اور شاعر کا نام، اور فرہنگ (صفحہ 148) سے اس غزل کے مشکل الفاظ — اور ساتھ میں واضح طور پر SLO طرز کے مطالعاتی سوالات، جو کتاب کی سرکاری مشق نہیں ہیں۔ سرکاری مشق کے لیے اصل کتاب کا متن ضرور دیکھیں۔
⚠️ Important notice — This ghazal's introduction, text and official exercise (book pages 130–134) were missing from the available copy. This page therefore contains only verified material — the lesson title and poet's name from the fehrist (contents), and this ghazal's difficult words from the Farhang (p. 148) — plus clearly-labelled SLO-style study questions. These are NOT the book's official exercise; students should consult the original book text for the official exercise.
یہ سبق ”سرمایہ اردو 11“ (PECTAA، NCP 2022) کا سبق نمبر 20 ہے۔ کتاب کی فہرست میں اس کا نام ”غزل — منیر نیازی“ درج ہے، اور فہرست کے مطابق یہ سبق کتاب کے صفحہ 131 سے شروع ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ اس سبق کے بارے میں اس صفحے پر کوئی دعویٰ نہیں کیا جا رہا، کیونکہ شاعر کا تعارف، غزل کا متن اور کتابی مشق — کتاب کے صفحات 130 تا 134 — دستیاب نقل میں موجود نہیں تھے۔
جو کچھ تصدیق شدہ طور پر ملا ہے، وہ صرف دو چیزیں ہیں: (1) فہرست سے سبق کا نام اور شاعر کا نام، اور (2) فرہنگ (صفحہ 148) میں اس غزل کی اندراج ”(۲۰) غزل: منیر نیازی“ کے تحت پانچ مشکل الفاظ اور ان کے معانی۔ اس صفحے کا باقی حصہ انہی دو تصدیق شدہ چیزوں اور غزل کی صنف کی عام معلومات پر مبنی مطالعاتی رہنمائی ہے۔
یاد رکھیں: شاعر کی زندگی، غزل کے اشعار یا مشق کے جوابات کے بارے میں یہاں کچھ بھی اپنی طرف سے نہیں لکھا گیا۔ جو بات کتاب میں نہیں ملی، اسے خالی چھوڑ کر صاف بتا دیا گیا ہے — یہی ایمانداری اس صفحے کی بنیاد ہے۔
This is Lesson 20 of “Sarmaya-e-Urdu 11” (PECTAA, NCP 2022). The book's fehrist (contents) lists it as “Ghazal — Munir Niazi”, beginning on printed page 131. Nothing more about this lesson is claimed on this page, because the poet's introduction, the ghazal text and the official exercise — printed pages 130–134 — were not present in the available copy.
Only two things could be verified: (1) the lesson title and the poet's name from the fehrist, and (2) five difficult words with their meanings under the entry “(20) Ghazal: Munir Niazi” in the Farhang (printed page 148). Everything else on this page is study guidance built on those two verified items and on general knowledge of the ghazal form.
Remember: no poet biography, no ghazal verses and no exercise answers have been invented here. Where the book was missing, this page says so plainly instead of filling the gap with guesses.
غزل اردو شاعری کی ایک مشہور صنف ہے۔ یہ کئی اشعار پر مشتمل ہوتی ہے، اور ہر شعر کے دو مصرعے ہوتے ہیں۔ ہر شعر عام طور پر اپنا ایک مکمل خیال پیش کرتا ہے، اس لیے غزل کا ہر شعر الگ سے بھی سمجھا جا سکتا ہے — یہی بات غزل کو نظم سے مختلف بناتی ہے، جہاں خیال مسلسل چلتا ہے۔
غزل کی چند پہچانیں یاد رکھیں: پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے، جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف آتے ہیں۔ آخری شعر مقطع کہلاتا ہے، جس میں شاعر اکثر اپنا تخلص (شاعرانہ نام) استعمال کرتا ہے۔ قافیہ وہ ہم آواز الفاظ ہیں جو ہر شعر کے آخر میں آتے ہیں، اور ردیف وہ لفظ یا الفاظ ہیں جو قافیے کے بعد ہر شعر میں دہرائے جاتے ہیں۔
اہم وضاحت: یہ غزل کی صنف کی عام معلومات ہے، اس خاص غزل کے کسی شعر کی تشریح نہیں۔ منیر نیازی کی اس غزل کے اشعار دستیاب نہیں ہوئے، اس لیے یہاں کسی شعر کا حوالہ، تشریح یا خلاصہ نہیں دیا جا رہا۔ جب اصل متن مل جائے تو اسی علم سے ہر شعر کو پرکھیں: پہلے مطلع پہچانیں، پھر ہر شعر کا الگ خیال سمجھیں، آخر میں مقطع دیکھیں۔
A ghazal is a famous form of Urdu poetry. It is made of several couplets (ash'aar), and each couplet has two lines (misray). Each couplet usually carries one complete thought of its own, so a ghazal's couplets can be understood separately — that is what sets a ghazal apart from a nazm, where the thought runs continuously.
Remember a few landmarks of the form: the first couplet is the matla, in which both lines carry the rhyme (qafiya) and refrain (radeef). The last couplet is the maqta, in which the poet often uses his takhallus (pen-name). The qafiya is the rhyming word at the end of each couplet, and the radeef is the word or phrase repeated after the qafiya in every couplet.
Important clarification: this is general knowledge about the ghazal form, not a commentary on any couplet of this particular ghazal. Munir Niazi's ghazal text was not available, so no couplet is quoted, explained or summarised here. When you get the original text, use this same knowledge: first find the matla, then take each couplet's separate thought, and finally look at the maqta.
یہ الفاظ کتاب کی فرہنگ (صفحہ 148) سے لیے گئے ہیں، اندراج ”(۲۰) غزل: منیر نیازی“ کے تحت۔ ان کے معانی بھی وہی ہیں جو فرہنگ میں درج ہیں — اپنی طرف سے کوئی لفظ یا معنی نہیں بڑھایا گیا:
| لفظ | معنی (فرہنگ کے مطابق) |
|---|---|
| اکتانا | بیزار ہونا |
| بے چین | بے قرار |
| دہکانا | آگ بھڑکانا |
| شیوہ | دستور |
| لبِ لعلیں | لعل جیسے ہونٹ، سرخ ہونٹ |
ان پانچ لفظوں کو رٹنے کے بجائے ان کی صورت سمجھیں: ”اکتانا“ دل کا بھر جانا ہے، ”بے چین“ دل کا قرار نہ پانا ہے، ”دہکانا“ آگ کو بھڑکانا ہے، ”شیوہ“ کسی کا دستور یا طریقہ ہے، اور ”لبِ لعلیں“ میں ہونٹوں کو لعل (سرخ قیمتی پتھر) سے تشبیہ دی گئی ہے۔
These words are taken from the book's Farhang (printed page 148), under the entry “(20) Ghazal: Munir Niazi”. Their meanings are exactly as given in the Farhang — no word or meaning has been added from elsewhere:
| Word | Meaning (as in the Farhang) |
|---|---|
| Aktana | To grow weary, to become fed up |
| Be-chain | Restless, without peace |
| Dehkana | To kindle a fire, to make flames flare up |
| Shewa | Custom, manner, way (dastoor) |
| Lab-e-laleen | Lips like a ruby — red lips |
Do not just memorise these five words — picture each one: aktana is the heart growing tired of something, be-chain is the heart finding no rest, dehkana is setting a fire blazing, shewa is someone's settled way or custom, and lab-e-laleen compares lips to a ruby, a precious red stone.
لفظ تب یاد رہتا ہے جب آپ اسے خود استعمال کریں۔ نیچے دیے گئے جملے مطالعے کی مثالیں ہیں — یہ کتاب کے جملے نہیں ہیں، بلکہ اس لیے لکھے گئے ہیں تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ ہر لفظ عام بات چیت میں کیسے آتا ہے۔ ان کو پڑھنے کے بعد اپنے پانچ جملے خود بنائیں:
مشق کا طریقہ یہ ہے: پہلے لفظ اور معنی زبان سے کہیں، پھر آنکھیں بند کر کے اپنا جملہ بنائیں، پھر اسے کاپی میں لکھیں۔ جو لفظ آپ کے اپنے جملے میں آ جائے، وہ امتحان میں بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔
A word stays with you only when you use it yourself. The sentences below are study examples — they are not sentences from the book. They are written here so you can see how each word works in ordinary speech. After reading them, make five sentences of your own:
The practice method is simple: say the word and its meaning aloud, then close your eyes and make your own sentence, then write it in your notebook. A word that appears in your own sentence will not desert you in the exam either.
جب آپ کو اصل کتاب یا کسی استاد سے اس غزل کا متن مل جائے تو اسے اس ترتیب سے پڑھیں — یہ ترتیب کسی بھی غزل کے لیے کام آتی ہے:
اور ایک بات پکی کر لیں: جب تک متن نہ ملے، کسی بھی ویب سائٹ یا نوٹس سے اس غزل کے ”اشعار“ نقل کر کے یاد نہ کریں۔ غلط شعر یاد کرنا، شعر نہ یاد کرنے سے زیادہ نقصان دہ ہے، کیونکہ غلطی امتحان میں بھی ساتھ چلتی ہے۔
When you get the ghazal text from the original book or your teacher, read it in this order — this order works for any ghazal:
And settle one thing firmly: until you have the text, do not copy so-called “verses” of this ghazal from any website or notes and memorise them. Memorising a wrong couplet harms you more than memorising none, because the mistake travels with you into the exam.
Clear warning: the questions below are SLO-style study questions made for practice on the verified material of this page. They are NOT the book's official exercise, and their answers are study guidance, not official answers. The book's official exercise (printed pp. 130–134) was missing from the available copy — for that, consult the original book text. واضح تنبیہ: نیچے دیے گئے سوالات SLO طرز کے مطالعاتی سوالات ہیں، کتابی مشق نہیں۔ ان کے جوابات مطالعاتی رہنمائی ہیں، سرکاری جوابات نہیں۔
غزل کئی اشعار کی شاعری ہے، ہر شعر دو مصرعوں کا ہوتا ہے اور ہر شعر اپنا الگ خیال رکھتا ہے۔ مطلع غزل کا پہلا شعر ہے جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف آتے ہیں؛ مقطع آخری شعر ہے جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔ یہ فرق پہچاننا ہی غزل پڑھنے کی پہلی سیڑھی ہے۔
اکتانا — بیزار ہونا؛ بے چین — بے قرار۔ جملے اپنے بنائیں، مثلاً: ”ایک ہی خبر بار بار سن کر میں اکتا گیا۔“ اور ”امتحان کے نتیجے کا انتظار مجھے بے چین کر رہا تھا۔“ جو جملہ آپ کا اپنا ہو، وہی یاد رہتا ہے — کتابی جملہ نقل کرنے سے لفظ پکا نہیں ہوتا۔
دہکانا — آگ بھڑکانا؛ شیوہ — دستور، طریقہ۔ روزمرہ میں ہم کہتے ہیں: ”سچ بولنا اس خاندان کا شیوہ ہے“ — یعنی یہ ان کا پکا دستور اور عادت ہے۔ لفظ کا معنی جاننے کے ساتھ اس کا استعمال بھی سیکھنا ہی اصل مہارت ہے۔
اس میں ہونٹوں کو لعل سے تشبیہ دی گئی ہے: لعل ایک سرخ قیمتی پتھر ہے، اس لیے ”لبِ لعلیں“ کا مطلب ہے لعل جیسے، یعنی سرخ ہونٹ۔ یہ سیدھا بیان نہیں بلکہ تشبیہ ہے — شاعر رنگ کی خوبصورتی کو پتھر کی قیمت سے جوڑ رہا ہے۔
پہلے لفظوں کے معانی دیکھیں، پھر تشریح لکھیں۔ وجہ صاف ہے: جب تک لفظ سمجھ نہ آئے، شعر کا خیال سمجھ نہیں آتا، اور بغیر سمجھے لکھی ہوئی تشریح رٹی ہوئی بات بن جاتی ہے۔ اسی لیے اس صفحے پر پہلے فرہنگ دی گئی ہے، تشریح بعد میں آتی ہے۔
پہلی: اس غزل کے اشعار کیا ہیں۔ دوسری: کسی خاص شعر کی تشریح کیا ہے۔ تیسری: کتابی مشق کے سوالات اور ان کے جوابات کیا ہیں۔ یہ تینوں باتیں متن کے بغیر کہنا اندازہ ہوگا، علم نہیں — اور اس صفحے پر اندازے سے پرہیز کیا گیا ہے۔
اچھی تشریح کی تین نشانیاں ہیں: (1) وہ شعر کے مرکزی خیال کو اپنے الفاظ میں بیان کرے، (2) مشکل لفظوں کے معانی درست ہوں، (3) وہ شعر کی بات سے آگے اپنی طرف سے نئی کہانی نہ گھڑے۔ جو تشریح شعر سے زیادہ لمبی اور شعر سے دور ہو جائے، وہ اچھی تشریح نہیں۔
چار چیزیں پکی کریں: سبق کا نام اور شاعر کا نام (غزل — منیر نیازی)، فرہنگ کے پانچ الفاظ اور ان کے معانی، غزل کی صنف کی پہچانیں (مطلع، مقطع، قافیہ، ردیف)، اور یہ حقیقت کہ اصل متن ملتے ہی اس ترتیب سے پڑھنا ہے: پوری غزل، پھر الفاظ، پھر ہر شعر کا خیال، پھر کتابی مشق۔
اس باب میں آپ نے صرف وہی پڑھا جو تصدیق شدہ تھا: کتاب ”سرمایہ اردو 11“ کا سبق نمبر 20، ”غزل — منیر نیازی“۔ آپ نے غزل کی صنف کو سمجھا — اشعار، مطلع، مقطع، قافیہ اور ردیف — اور فرہنگ (صفحہ 148) سے اس غزل کے پانچ مشکل الفاظ سیکھے: اکتانا، بے چین، دہکانا، شیوہ اور لبِ لعلیں۔ پھر آپ نے ان لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کرنے کی مشق کی، اور SLO طرز کے 8 مطالعاتی سوالات کے جوابات سمجھے۔
موضوعات کی فہرست:
نظرثانی کی رہنمائی: پہلے پانچ فرہنگ الفاظ زبانی سنائیں اور ہر ایک کا اپنا جملہ لکھیں۔ پھر مطلع اور مقطع کا فرق کسی ساتھی کو سمجھا کر دیکھیں — جو بات آپ سکھا سکیں، وہی آپ کو یاد ہے۔ اور جیسے ہی اصل کتاب کا متن (صفحات 130–134) ملے، اس صفحے کی ترتیب سے پوری غزل پڑھیں اور پھر کتابی مشق کریں؛ تب یہ سبق مکمل ہوگا۔
In this chapter you read only what could be verified: Lesson 20 of “Sarmaya-e-Urdu 11”, “Ghazal — Munir Niazi”. You learned the ghazal form — couplets, matla, maqta, qafiya and radeef — and five difficult words from the Farhang (page 148): aktana, be-chain, dehkana, shewa and lab-e-laleen. Then you practised using those words in your own sentences, and worked through 8 SLO-style study questions with guidance.
List of topics:
Revision guidance: first recite the five Farhang words and write a sentence of your own for each. Then explain the difference between matla and maqta to a classmate — what you can teach is what you truly remember. And as soon as the original book text (pages 130–134) reaches you, read the whole ghazal in this page's order and then do the book's exercise; only then will this lesson be complete.
Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:
PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 20 (New Book, Session 2026–27) • English + Urdu