FSc Part 1 Urdu Chapter 5 Complete Guide Book — Makateeb-e-Ghalib

FSc Part 1 Urdu Chapter 5 — Makateeb-e-Ghalib
Home > PunjabTest.com > FSc Part 1 > Urdu — all chapters > Chapter 5: Makateeb-e-Ghalib

اس chapter میں topics (Topics in this chapter)

  1. The Author — Asadullah Khan Ghalib (1797–1869)
  2. Makateeb-e-Ghalib — Do Khat, Aik Dars
  3. Pehla Khat — Alauddin Alai ke Naam: Do Aalam
  4. Doosra Khat — Mirza Hargopal Tafta ke Naam: Barsaat aur Toota Ghar
  5. Markazi Khayal aur Ghalib ka Usloob
  6. Mushkil Alfaaz — Glossary
  7. خط کے اجزا — Letter کیسے لکھا جاتا ہے
  8. 📝 Official Exercise Questions — with Answers
  9. 📌 Chapter Summary & Guidance
The Author — Asadullah Khan Ghalib (1797–1869)مصنف کا تعارف — اسد اللہ خاں غالب (۱۷۹۷ء–۱۸۶۹ء)
🏷 Tags: Ghalib, Asadullah Khan, Agra, Mirza Nausha, takhallus, Urdu-e-Mualla, Ood-e-Hindi
اردو

سبق شروع کرنے سے پہلے یہ جان لو کہ یہ خط کس نے لکھے۔ مصنف کا نام اسد اللہ خاں غالب ہے۔ وہ ۱۷۹۷ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں انہیں ”مرزا نوشہ“ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ پہلے انہوں نے ”اسد“ تخلص رکھا، پھر ”غالب“ اختیار کیا — اور اسی نام سے دنیا انہیں آج تک جانتی ہے۔

غالب کی زندگی بچپن ہی سے دکھوں سے بھری تھی۔ پانچ برس کے تھے کہ والد ایک معرکے میں مارے گئے۔ پرورش چچا نے سنبھالی، لیکن چار سال بعد وہ بھی وفات پا گئے، اور غالب اپنے نانا کی نگرانی میں آ گئے۔ کتاب بتاتی ہے کہ انہوں نے بظاہر کسی استاد سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی — شوق، مطالعہ اور اپنی محنت سے پڑھے۔ ابتدا میں فارسی میں لکھتے تھے، بعد میں اردو میں لکھنے لگے، اور پھر اردو ہی ان کی پہچان بن گئی۔

غالب صرف شاعر نہیں تھے، خط لکھنے کے بھی استاد تھے۔ ان کے خطوں کے دو مجموعے ان کی زندگی میں شائع ہوئے: ”عودِ ہندی“ اور ”اردوئے معلیٰ“۔ ان کے خطوں میں روزمرہ کی زندگی، مزاح، ظرافت اور خوش طبعی کے عناصر بھرے ہوئے ہیں — یعنی خط پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے غالب سامنے بیٹھے باتیں کر رہے ہوں۔

ENGLISH

Before the letters, meet the letter-writer. Asadullah Khan Ghalib (1797–1869) was born in Agra. As a child he was called Mirza Nausha; he first used the pen-name Asad and later adopted Ghalib — the name the world remembers.

His childhood was full of loss. His father died in a battle when Ghalib was only five; his uncle, who took charge of his upbringing, died four years later, and Ghalib then came under his grandfather's (nana's) care. The book notes that he had no regular formal teacher — he read through his own passion and hard work. He began writing in Persian and later turned to Urdu, which became his true identity.

Ghalib was not only a poet but a master letter-writer. Two collections of his letters appeared in his own lifetime: Ood-e-Hindi and Urdu-e-Mualla. His letters are full of daily life, wit and good humour — reading one feels like Ghalib himself is sitting in front of you, talking.

Ghalib ki zindagi ka timeline
Ghalib ki zindagi ka timeline samjho: ۱۷۹۷ء آگرہ میں پیدائش، بچپن میں مرزا نوشہ، پہلے اسد پھر غالب، ۱۸۲۹ء میں علائی کو خط، اور ۱۸۶۹ء میں وفات — یہ پانچ تاریخیں اور نام امتحان میں سب سے زیادہ پوچھے جاتے ہیں۔
Makateeb-e-Ghalib — Do Khat, Aik Darsمکاتیبِ غالب — دو خط، ایک سبق
🏷 Tags: maktoob, marasla, khat-nigari, tadreesi maqasid, Sarmaya-e-Urdu 11
اردو

”مکاتیب“ مکتوب کی جمع ہے، یعنی خطوط۔ اس سبق میں غالب کے دو خط شامل ہیں: ایک علاؤالدین احمد خاں علائی کے نام، دوسرا مرزا ہرگوپال تفتہ کے نام۔ دونوں خط کتاب ”خطوطِ غالب“ سے لیے گئے ہیں۔ پہلا خط فلسفہ اور زندگی کی سزا و جزا کی بات کرتا ہے، دوسرا خط بارش، ٹوٹے گھر اور دوستوں کی خیریت کی بات کرتا ہے — یعنی ایک ہی سبق میں غالب کے دو رنگ نظر آتے ہیں: سوچنے والا غالب اور گھر کی باتیں کرنے والا غالب۔

کتاب نے اس سبق کے لیے جو مقاصد بتائے ہیں، وہ سمجھ لو تو سبق کا رخ صاف ہو جاتا ہے: طلبہ کا لغوی اور ادبی ذوق نکھارنا؛ غالب کے خطوں میں انسان دوستی اور فنی خوبیوں کو پہچاننا؛ خطوں سے فائدہ اٹھا کر خط لکھنا سیکھنا؛ تحریری اور تقریری صلاحیت بڑھانا؛ اور یہ جاننا کہ غالب نے خط نویسی میں ایک منفرد اسلوب کی بنیاد رکھی۔

یاد رکھو: یہ سبق نثر کا سبق ہے، شاعری کا نہیں۔ یہاں غالب کا کمال یہ ہے کہ عام سی بات — بارش، مکان، بیماری، دوست کا خط — بھی ادب بن جاتی ہے۔ اسی لیے غالب کے خط اردو نثر کا سرمایہ کہلاتے ہیں۔

ENGLISH

Makateeb is the plural of maktoob — letters. This lesson contains two letters by Ghalib: one addressed to Alauddin Ahmad Khan Alai and one to Mirza Hargopal Tafta, both taken from the book Khutoot-e-Ghalib. The first letter talks about philosophy — punishment and reward in two worlds; the second talks about rain, a leaking house and friends' well-being. One lesson, two sides of Ghalib: the thinker and the man chatting about home.

The book's learning objectives are worth noting: to refine students' literary taste; to recognise the humanity and artistry in Ghalib's letters; to learn letter-writing from the letters themselves; to improve written and spoken skills; and to understand that Ghalib founded a unique style of letter-writing.

Remember: this is a prose lesson, not poetry. Ghalib's genius here is that ordinary things — rain, a house, illness, a friend's letter — become literature. That is why his letters are called a treasure of Urdu prose.

Khat ki banawat
Khat ki banawat samjho: ہر خط میں مخاطب کا نام، سلام یا پیار بھرا خطاب، اصل بات، اور آخر میں دستخط و تاریخ ہوتی ہے — غالب کے دونوں خطوں میں یہی ڈھانچہ نظر آئے گا، بس لہجہ دوستوں کے حساب سے بدلتا ہے۔
Pehla Khat — Alauddin Alai ke Naam: Do Aalamپہلا خط — علاؤالدین علائی کے نام: دو عالم
🏷 Tags: Alai, aalam-e-arwah, aalam-e-aab-o-gil, qafas, beeri, Rajab 1243, Zil-Hajj 1244
اردو

خط کا آغاز ہی محبت سے ہوتا ہے: ”جانِ غالب!“ غالب علائی کو اپنے دل کی جان کہہ کر پکارتے ہیں۔ پھر ایک خوبصورت تشبیہ آتی ہے — تم تو وہ نہال (ننھا پودا) ہو جس نے میری آنکھوں کے سامنے نشوونما پائی ہے، اور میں اس کا ہوا خواہ و سایہ نشین رہا ہوں۔ یعنی علائی غالب کے سامنے بچے سے جوان ہوا، اور غالب اس کی ترقی کے خواہش مند اور سائے کی طرح ساتھ رہے۔ اس کے بعد غالب ایک نرم سی معذرت کرتے ہیں: تم مجبور ہو، میں معذور — یعنی ملاقات نہ ہو سکنے کی دونوں طرف مجبوریاں ہیں، گلہ نہیں، محبت ہے۔

پھر خط کا اصل فلسفہ آتا ہے۔ غالب کہتے ہیں: عالم دو ہیں — ایک عالمِ ارواح، ایک عالمِ آب و گل۔ دونوں عالموں کا حاکم وہ ایک ہے جو خود فرماتا ہے: ”لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ“ (آج بادشاہت کس کی ہے؟) اور پھر آپ جواب دیتا ہے: ”لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ“ (اللہ واحد و قہار کی)۔ عام قاعدہ یہ ہے کہ عالمِ آب و گل (اس مادی دنیا) کے مجرم عالمِ ارواح میں سزا پاتے ہیں — مگر کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ارواح کے گناہ گار کو اسی دنیا میں سزا دے دی جاتی ہے۔

اس استثنا کی مثال کے طور پر خط میں ایک طویل قید کا واقعہ پہلے شخص کی زبانی بیان ہوا ہے: آٹھویں رجب ۱۲۴۳ھ میں کسی کام کے واسطے یہاں بھیجا گیا، تیرہ برس حوالات میں رہا، پھر ۱۲۴۵ھ میں حکمِ دوام صادر ہوا، پاؤں میں بیڑی ڈالی گئی، ایک شہر زندان مقرر کیا گیا اور اسی زندان میں ڈال دیا گیا۔ برسوں بعد جیل خانے سے بھاگا، تین برس بلادِ شرق میں پھر رہا، پھر ایک خط لکھنے پر پکڑا گیا اور اسی قفس میں بٹھا دیا گیا۔ پاؤں بیڑی سے رگڑا گیا، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں، مشقت مقرر ہو گئی — اور اسی حالت میں فکرِ نظم و نثر و خط تحریر آیا، یعنی شاعری، نثر اور خط لکھنے کا کام ہی سہارا بنا۔ آخر میں یہ عزم ہے کہ نجات کے بعد سیدھا عالمِ ارواح کو چلا جاؤں گا۔ ⚠️ نوٹ: خط میں یہ واقعہ پہلے شخص (”میں“) کی زبانی آیا ہے، اور اسکین میں واقعے کے کردار کا نام واضح نہیں — اس لیے اس صفحے پر کوئی نام نہیں لکھا گیا۔

یہ خط ذی الحجہ ۱۲۴۴ھ (جون ۱۸۲۹ء) کا ہے، اور اس کے نیچے دستخط میں صرف ”غالب“ لکھا ہے — جیسے دوست اپنے نام سے ہی پہچانا جاتا ہے۔

ENGLISH

The letter opens with love: "Jaan-e-Ghalib!" — Ghalib calls Alai the life of his heart. Then comes a beautiful simile: you are the young nihaal (sapling) that grew before my very eyes, and I have been its well-wisher, sitting in its shade. In other words, Alai grew from childhood to youth under Ghalib's gaze. Then a gentle excuse follows: you are constrained, I am helpless — both sides have their reasons for not meeting, so there is no complaint, only affection.

Then the letter's real philosophy arrives. Ghalib says: there are two worlds — the world of souls (aalam-e-arwah) and the world of water and clay (aalam-e-aab-o-gil), our material world. One Ruler governs both, who Himself asks: "Limanil mulku al-yawm" (Whose is the kingdom today?) and Himself answers: "Lillahil wahidil qahhar" (Allah's, the One, the Irresistible). The general rule is that criminals of this material world are punished in the world of souls — but sometimes it happens the other way: a sinner of the souls' world is punished right here in this world.

As an example of that exception, the letter tells a long imprisonment story in the first person: sent here on 8 Rajab 1243 Hijri, thirteen years in custody, then in 1245 an order of permanent imprisonment, a chain on the foot, a whole city declared a prison, escape after years, three years wandering in the lands of the East (bilad-e-sharq), then arrest again because of a letter written, and back into the same cage — feet rubbed raw by the chain, hands in handcuffs, hard labour fixed — and in that very condition came the thought of nazm-o-nasr-o-khat-tahreer: poetry, prose and letter-writing became the refuge. The resolve at the end is to go straight to the world of souls after deliverance. ⚠️ Note: the story is told in the first person and the person's name is not clear in the scan, so no name is given here.

The letter is dated Zil-Hajj 1244 Hijri (June 1829) and signed simply "Ghalib" — as a friend needs no fuller signature.

Do aalam ki tasveer
Do aalam samjho: اوپر روحوں کا عالم، نیچے آب و گل کی دنیا، اور بیچ میں ایک ہی حاکم کا سوال و جواب — یہی پہلے خط کا فلسفہ ہے، اور یہی مشق کے سوال (ب) اور MCQ (iv) کا جواب ہے۔
Doosra Khat — Mirza Hargopal Tafta ke Naam: Barsaat aur Toota Gharدوسرا خط — مرزا ہرگوپال تفتہ کے نام: برسات اور ٹوٹا گھر
🏷 Tags: Tafta, barsaat, bala-khana, gaggan, chhatni, aagal-daan, karahi, kothi, Nawab Mustafa Khan, Mir Badshah
اردو

دوسرا خط ”بھائی!“ کہہ کر شروع ہوتا ہے — پہلے خط کے ”جانِ غالب“ سے مختلف، مگر اتنا ہی بے تکلف۔ غالب تفتہ سے کہتے ہیں: تم سچ کہتے ہو کہ بہت سے مواضع و اصلاح کے واسطے ہم ہوئے ہیں، مگر یہ نہ سمجھنا کہ صرف تمھارے ہی قصائد پڑے ہیں — نواب صاحب کی غزلیں بھی اسی طرح ضروری ہوئی ہیں۔ یعنی اصلاح کا کام صرف تفتہ تک محدود نہیں، نواب صاحب کی غزلوں کی بھی اصلاح ہو رہی ہے۔ یہ جملہ امتحان میں MCQ (v) کی کنجی ہے۔

پھر برسات کا حال آتا ہے، اور یہ حال پڑھتے ہوئے لگتا ہے جیسے آنکھوں کے سامنے بارش ہو رہی ہو۔ برسات کا حال تمھیں بھی معلوم ہے — شہر میں سیکڑوں مکان گرے، دن اور رات میں دو چار بار برسا، اور ہر بار اس زور سے کہ ندی نالے بھر گئے۔ غالب بتاتے ہیں کہ ان کا اپنا مکان نہیں گرا — وہ کرائے کی حویلی میں رہتے ہیں — مگر ان کا بالا خانہ، جو ان کے اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے، جینے مرنے کا محل ہے، ٹپکتا ہے: چھت چلی ہوئی ہے، اور گھر کا سامان بکھرا پڑا ہے — کہیں گگن، کہیں چھتنی، کہیں آگل دان، کہیں کڑاہی، کہیں کوٹھی میں رکھ دیا گیا ہے۔ مالک مرمت کی طرف متوجہ نہیں۔ بارش ایسی تھی کہ گویا کشتیٔ نوح میں مینہ بھرنے کا اتفاق ہوا — اور اب نجات ہوئی ہے۔

خط کے آخر میں خبریں ہیں: نواب صاحب کی خواہش اور تفتہ کے خیر اندیشوں کی بات معلوم ہوئی؛ میر بادشاہ غالب کے پاس آئے تھے اور ان سے تفتہ کی خیر و عافیت معلوم ہوئی؛ نواب مصطفیٰ خاں صاحب یہاں آئے ہوئے ہیں، ان سے ایک ملاقات ہوئی ہے، اور وہ بیمار ہیں۔ اور غالب خود؟ وہ اتنے ناتواں ہو گئے ہیں کہ گویا صاحبِ فرش ہیں — پڑے رہتے ہیں، صرف اس وقت اٹھ بیٹھتے ہیں جب کوئی ملاقاتی آئے یا خط آئے، اور لیٹے لیٹے دکھ لکھتے ہیں۔ یہ خط صبح جمعہ ۱۲ ربیع الاول ۱۲۸۳ھ کا ہے۔

ENGLISH

The second letter opens with "Bhai!" (Brother!) — different from the first letter's "Jaan-e-Ghalib" but just as informal. Ghalib tells Tafta: you are right that many pieces came to us for correction, but do not think only your qasidas were read — the Nawab Sahib's ghazals were equally in need of it. So correction work was not limited to Tafta alone. This sentence is the key to MCQ (v) in the exercise.

Then comes the account of the rains, written so vividly that you can almost see it raining. You know the state of the rains too — hundreds of houses fell in the city, it rained two to four times a day and night, each time so hard that streams and drains filled up. Ghalib explains that his own house did not fall — he lives in a rented haveli — but his upper room, the place of his sitting and rising, sleeping and waking, living and dying, leaks: the roof is cracked, and household things lie scattered — a gaggan here, a chhatni there, an aagal-daan, a karahi, things put away in a kothi. The landlord pays no attention to repairs. The rain was such that it was as if Noah's Ark itself had filled with rain — and now there is deliverance.

The letter ends with news: the Nawab Sahib's wishes and Tafta's well-wishers are known; Mir Badshah visited Ghalib and through him Tafta's well-being became known; Nawab Mustafa Khan has arrived here, one meeting took place, and he is unwell. And Ghalib himself? He has grown so weak that he is like a man confined to his bed — he lies down, rising only when a visitor comes or a letter arrives, and writes his sorrows lying down. The letter is dated Friday morning, 12 Rabi-ul-Awwal 1283 Hijri.

پرانی دلی میں برسات
Barsaat ka manzar samjho: چھت سے ٹپکتا پانی، بکھرا ہوا سامان، اور نیچے بھیگا صحن — یہی تفتہ والے خط کا بالا خانہ ہے، اور اسی منظر سے مشق کے برتنوں والا سوال (ہ) بنتا ہے۔
Markazi Khayal aur Ghalib ka Usloobمرکزی خیال اور غالب کا اسلوب
🏷 Tags: markazi khayal, usloob, guftagu, zarafat, khush-tabai, insaan-dosti
اردو

دونوں خطوں کو ایک ساتھ پڑھو تو ایک بات صاف نظر آتی ہے: غالب کے نزدیک خط کوئی رسمی کاغذ نہیں، گفتگو ہے۔ پہلے خط میں وہ دوست سے فلسفے کی بات کرتے ہیں — دو عالم، سزا و جزا، قید و نجات — اور دوسرے خط میں وہی دوست سے بارش، مکان اور بیماری کی بات کرتے ہیں۔ موضوع بدلتا ہے، لہجہ نہیں بدلتا: ہر جگہ وہی بے تکلفی، وہی مزاح، وہی اپنے دکھ کو ہنسی میں لپیٹ کر کہنے کا ہنر۔

غالب کا اسلوب کیوں منفرد ہے؟ تین باتیں یاد رکھو۔ پہلی: روانی — زبان و بیان کی روانی بے مثال ہے، خط پڑھتے ہوئے رکاوٹ محسوس نہیں ہوتی۔ دوسری: ظرافت — مشکل سے مشکل بات بھی ہلکے پھلکے انداز میں کہہ دیتے ہیں، جیسے قید کی کہانی میں بھی نظم و نثر کا ذکر سہارا بن جاتا ہے۔ تیسری: انسان دوستی — ہر خط میں دوست کی خیریت، اس کے کام کی قدر، اور اپنی مجبوری کا اعتراف ہے۔ کبھی کبھی مشکل الفاظ اور فارسی و عربی تراکیب بھی آ جاتی ہیں، مگر وہ خط کی شان بڑھاتی ہیں، رکاوٹ نہیں بنتیں۔

مرکزی خیال ایک جملے میں: خط انسان کو انسان سے جوڑتا ہے — چاہے وہ دو عالموں کا فلسفہ ہو یا برسات میں ٹپکتا بالا خانہ، اصل بات دوست تک پہنچنا، اس کی خبر لینا، اور اپنے حال سے اسے آگاہ کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کے خط آج بھی پڑھے جاتے ہیں: ان میں آدمی بولتا ہوا محسوس ہوتا ہے، کتاب نہیں بولتی۔

ENGLISH

Read both letters together and one thing becomes clear: for Ghalib a letter is not a formal document, it is conversation. In the first letter he discusses philosophy with a friend — two worlds, punishment and reward, prison and deliverance — and in the second he discusses rain, a house and illness with a friend. The subject changes; the tone does not: everywhere the same informality, the same wit, the same art of wrapping one's own sorrow in a smile.

Why is Ghalib's style unique? Remember three things. First, flow — the language flows matchlessly; reading a letter never feels like an obstacle course. Second, wit — even the hardest subject is said lightly, as when the prison story turns to poetry and prose as a refuge. Third, humanity — every letter carries concern for the friend's well-being, appreciation of his work, and an honest admission of one's own constraints. Difficult words and Persian-Arabic phrases do appear sometimes, but they add dignity to the letter rather than blocking it.

The central idea in one sentence: a letter joins one human being to another — whether it is the philosophy of two worlds or a leaking upper room in the rains, the real point is reaching the friend, asking after him, and letting him know your own state. That is why Ghalib's letters are still read today: in them you feel a man speaking, not a book reciting.

Ghalib ki tehreer ki mez
Ghalib ka usloob samjho: روشنائی، قلم، کاغذ اور ایک پرانی کتاب — انہی سادہ چیزوں سے غالب نے خط کو ادب بنا دیا؛ نہ کوئی تکلف، نہ کوئی رسمی تقریر، بس دوست سے سیدھی بات۔
Mushkil Alfaaz — Glossaryمشکل الفاظ — لغت
🏷 Tags: glossary, marasla, nihaal, qafas, bilad-e-sharq, kashti-e-Nooh, bala-khana
اردو

یہ الفاظ خطوں میں آئے ہیں — انہیں رٹو نہیں، جملے میں سمجھو۔ مراسلہ خط کو کہتے ہیں۔ نہال ننھا پودا ہے، اور نشوونما اس کا بڑھنا۔ عالمِ ارواح روحوں کی دنیا ہے، عالمِ آب و گل یہ مادی دنیا ہے — آب یعنی پانی، گل یعنی مٹی۔ مسموع کا مطلب سنا ہوا ہے۔ قفس پنجرہ یا قید خانہ ہے۔ بیڑی پاؤں کی زنجیر ہے، ہتھکڑی ہاتھوں کی زنجیر۔ بلادِ شرق مشرق کے ملک و علاقے ہیں۔ کشتیٔ نوح حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ہے — یہاں سیلاب سے نجات کی علامت کے طور پر آئی ہے۔ بالا خانہ اوپر کا کمرہ ہے۔ گگن چھت کا ایک حصہ/ٹٹا ہوا سامان، چھتنی چھت کی جھالر یا ٹوٹی چیز، آگل دان آگ رکھنے کا برتن، کڑاہی پکانے کا کھلا برتن، کوٹھی سامان رکھنے کی کوٹھری ہے۔ وصال ملاپ ہے اور ہجر جدائی۔ زمزمہ گنگنانے کی آواز ہے۔ خیر و عافیت خیریت و سلامتی ہے۔ مسودہ تحریر کا پہلا خاکہ ہے۔ کوس فاصلے کی پرانی پیمائش ہے۔

ENGLISH

These words appear in the letters — learn them in sentences, not by rote. Marasla means a letter. Nihaal is a sapling; nashw-o-numa is its growth. Aalam-e-arwah is the world of souls; aalam-e-aab-o-gil is this material world — aab is water, gil is clay. Masmoo means heard. Qafas is a cage or prison. Beeri is a foot-chain; hathkari is a handcuff. Bilad-e-sharq means the lands of the East. Kashti-e-Nooh is Noah's Ark — used here as a symbol of deliverance from flood. Bala-khana is an upper room. Gaggan, chhatni, aagal-daan, karahi, kothi are household things scattered in that leaking room. Wisaal is union; hijr is separation. Zamzama is a humming sound. Khair-o-aafiyat is well-being and safety. Musawwada is a first draft. Kos is an old measure of distance.

Mushkil alfaaz ka naksha
Mushkil alfaaz samjho: مرکز میں ”مکاتیب“ ہے اور اس کے گرد وہ الفاظ ہیں جو خطوں میں بار بار آتے ہیں — مراسلہ، قفس، بیڑی، کشتیٔ نوح، بالا خانہ۔ ان کو جملوں کے ساتھ یاد کرو، اکیلے رٹ کر نہیں۔
خط کے اجزا — خط کیسے لکھا جاتا ہے
🏷 Tags: khat ke ajza, address, greeting, body, signature, email, aadaab
اردو

غالب کے دونوں خطوں سے خط کے اجزا خود سیکھ لو۔ پہلا جز: مخاطب کا نام — خط کے اوپر لکھا ہوتا ہے کہ خط کس کے نام ہے: ”بنام علاؤالدین علائی“، ”بنام مرزا ہرگوپال تفتہ“۔ دوسرا جز: خطاب — ”جانِ غالب!“ یا ”بھائی!“، یعنی رشتے کے حساب سے پیار بھرا پکارنا۔ تیسرا جز: اصل بات — جو کہنا ہے، صاف اور ترتیب سے: پہلے خط میں فلسفہ، دوسرے میں برسات اور خبریں۔ چوتھا جز: دستخط و تاریخ — آخر میں ”غالب“ اور تاریخ: ذی الحجہ ۱۲۴۴ھ، یا صبح جمعہ ۱۲ ربیع الاول ۱۲۸۳ھ۔

خط کے آداب بھی اتنے ہی اہم ہیں: دوست کی خیریت پوچھنا، اس کے کام کی قدر کرنا، اپنی مجبوری صاف بتانا، اور بات کو طول دے کر بوجھل نہ کرنا۔ غالب یہ سب کرتے ہیں — اسی لیے ان کے خط آج بھی خط لکھنے کی مثال ہیں۔ اور آج کی شکل؟ کتاب کی سرگرمی بتاتی ہے کہ خط کی جدید شکل ای میل ہے — اجزا وہی ہیں، ذریعہ بدل گیا ہے۔

ENGLISH

Learn the parts of a letter from Ghalib's own two letters. First part: the addressee's name — written at the top: "To Alauddin Alai", "To Mirza Hargopal Tafta". Second part: the address — "Jaan-e-Ghalib!" or "Bhai!", an affectionate call matching the relationship. Third part: the main message — what you want to say, clearly and in order: philosophy in the first letter, rains and news in the second. Fourth part: signature and date — "Ghalib" at the end, with the date: Zil-Hajj 1244 Hijri, or Friday morning, 12 Rabi-ul-Awwal 1283 Hijri.

The manners of letter-writing matter just as much: ask after the friend's well-being, value his work, state your own constraints plainly, and do not make the letter heavy by dragging it out. Ghalib does all of this — which is why his letters remain the model for letter-writing. And today's form? The book's activity notes that the modern form of a letter is email — the parts are the same, only the medium has changed.

Khat ke ajza ka diagram
Khat ke ajza samjho: اوپر مخاطب کا نام، پھر پیار بھرا خطاب، بیچ میں اصل بات، اور آخر میں دستخط و تاریخ — یہ چار سیڑھیاں ہر اچھے خط کی ہیں، چاہے وہ کاغذ پر ہو یا ای میل میں۔
📝 Official Exercise Questions — with Answers📝 کتابی مشق کے سوالات — جوابات کے ساتھ

کتاب کی مشق (صفحات ۳۲ تا ۳۵) کے تمام حصے یہاں حل کیے گئے ہیں — ۳۸ بلاکس: ۱۔ مختصر جواب (۶)، ۲۔ درست جواب کی نشان دہی (۵ MCQ)، ۳۔ الفاظ کے معانی (۷)، ۴۔ خالی جگہ (۵)، ۵۔ کالم ملائیں (۱)، ۶۔ صحیح/غلط (۴)، ۷۔ عبارت اور سوالات (۵)، ۸۔ گرامر: ندائیہ و تحسینیہ (۱)، ۹۔ خطوط پڑھنے کی سرگرمی (۱)، ۱۰۔ سیاق و سباق کی تشریح (۲)، ۱۱۔ سرگرمی برائے طلبہ و ہدایات برائے اساتذہ (۱)۔ ⚠️ نوٹ: اس مشق میں ”درست جواب کی نشان دہی“ کے ۵ سوالات بھی موجود ہیں — یہ کتاب کے اپنے سوالات ہیں، یہاں کوئی MCQ ایجاد نہیں کیا گیا۔ ⚠️ چند جوابات پر نشان لگایا گیا ہے جہاں اسکین جزوی طور پر واضح نہیں تھا یا جواب خط کے سیاق سے ماخوذ ہے — وہ نشانات متعلقہ جواب کے ساتھ ہی لکھے ہیں، تاکہ استاد یا طالب علم کو دھوکا نہ ہو۔

۱۔ مختصر جواب دیں

۱(الف)۔ علاؤالدین علائی کے نام خط میں غالب نے کس کام کا ذکر کیا ہے؟

غالب نے نظم و نثر اور خط تحریر کرنے کے کام کا ذکر کیا ہے۔ خط میں قید کی حالت میں یہی فکر آتی ہے — ”فکرِ نظم و نثر و خط تحریر آیا“ — یعنی شاعری لکھنا، نثر لکھنا اور خط لکھنا ہی وہ کام بن جاتا ہے جو قید کی سختی میں سہارا دیتا ہے۔

۱(ب)۔ غالب کے خیال میں عالمِ آب و گل کے مجرم کہاں سزا پاتے ہیں؟

عام قاعدے کے مطابق عالمِ ارواح میں سزا پاتے ہیں۔ غالب کہتے ہیں کہ یہی عام بات ہے کہ اس مادی دنیا (عالمِ آب و گل) کے مجرم روحوں کے عالم میں سزا پاتے ہیں — اگرچہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ گناہ گار کو اسی دنیا میں سزا دے دی جائے، اور خط میں قید کا واقعہ اسی استثنا کی مثال ہے۔

۱(ج)۔ بیڑی اور ہتھکڑیوں سے غالب کیا مراد لیتے ہیں؟ وضاحت کریں۔

بیڑی اور ہتھکڑیوں سے مراد قید کی اصل زنجیریں ہیں — یہ کوئی اشارہ یا علامت نہیں، خط میں بیان کردہ قیدی کی حقیقی حالت ہے۔ پاؤں میں بیڑی ڈالی گئی تو پاؤں بیڑی سے رگڑا گیا، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں آئیں، اور مشقت مقرر ہو گئی۔ یعنی یہ الفاظ قید کی سختی، بے بسی اور تکلیف کو ظاہر کرتے ہیں — کہ قیدی کا جسم بھی زنجیروں میں ہے اور اس کی آزادی بھی چھینی ہوئی ہے۔

۱(د)۔ ”میر بادشاہ میرے پاس آئے تھے، تمھاری خیر و عافیت ان سے معلوم ہوئی تھی“ — تفتہ کے نام خط میں ”میر بادشاہ“ سے کیا مراد ہے؟

”میر بادشاہ“ سے مراد ایک آنے والا ملاقاتی ہے جو غالب کے پاس آیا تھا، اور اسی کے ذریعے غالب کو تفتہ کی خیر و عافیت کی خبر ملی۔ یعنی میر بادشاہ کوئی عہدہ یا لقب نہیں، خط میں مذکور ایک شخص کا نام ہے جو خبر لانے کا واسطہ بنا۔ ⚠️ یہ جواب خط کے الفاظ سے ماخوذ ہے۔

۱(ہ)۔ مرزا ہرگوپال تفتہ کے نام لکھے گئے خط میں مرزا غالب نے کن برتنوں کا ذکر کیا ہے؟

غالب نے اپنے ٹپکتے بالا خانے میں بکھرے ہوئے برتنوں کا ذکر کیا ہے: گگن، چھتنی، آگل دان، کڑاہی، اور کوٹھی میں رکھا ہوا سامان۔ یعنی بارش سے بچانے کے لیے گھر کی چیزیں یہاں وہاں رکھ دی گئی تھیں — کہیں ایک چیز، کہیں دوسری — اور مالک مرمت کی طرف متوجہ نہیں تھا۔

۱(و)۔ نواب مصطفیٰ خاں کی بیماری کی کیا صورت حال بیان کی گئی ہے؟

خط کے آخر میں غالب بتاتے ہیں کہ نواب مصطفیٰ خاں صاحب یہاں آئے ہوئے ہیں، ان سے ایک ملاقات ہوئی ہے، اور وہ بیمار ہیں۔ اس سے زیادہ تفصیل — یعنی کون سی بیماری ہے — خط میں نہیں بتائی گئی۔ ⚠️ نوٹ: بیماری کی نوعیت خط میں مذکور نہیں، اس لیے یہاں صرف اتنا ہی لکھا گیا ہے جتنا خط کہتا ہے۔ اسی حصے میں غالب اپنی حالت بھی بتاتے ہیں کہ وہ خود بھی اتنے ناتواں ہیں کہ گویا صاحبِ فرش ہیں۔

۲۔ درست جواب کی نشان دہی کریں (MCQ)

۲(i)۔ خط کا متبادل لفظ ہے:

صحیح جواب: (الف) مراسلہ — مراسلہ خط ہی کو کہتے ہیں۔ نوٹ: خریطہ بھی قریب المعنی لفظ ہے، مگر اس سوال کا مطلوب جواب مراسلہ ہے۔

۲(ii)۔ ”جانِ غالب! تم تو مہرِ فروری ہو، اس نہال کے جس نے میری آنکھوں کے سامنے نشوونما پائی ہے“ — غالب نے یہ جملہ لکھا:

صحیح جواب: (ب) علاؤالدین علائی کے نام — یہ جملہ پہلے خط کے آغاز میں ہے، جو علائی کے نام ہے؛ تفتہ والا خط ”بھائی!“ سے شروع ہوتا ہے۔

۲(iii)۔ خط کے مطابق علاؤالدین علائی کا مسکن ہے:

صحیح جواب: (ب) لوہارو۔ ⚠️ یہ جواب ماخوذ ہے — اسکین میں اس سوال سے متعلق حاشیہ جزوی طور پر واضح نہیں تھا، اس لیے اگر آپ کے استاد کا نوٹ مختلف ہو تو اسی کو ترجیح دیں۔

۲(iv)۔ غالب نے اپنے آپ کو کس عالم کا باشندہ کہا ہے:

صحیح جواب: (ب) عالمِ آب و گل کا — خط کے سیاق سے یہی بنتا ہے: غالب اس مادی دنیا میں جی رہا ہے، اور نجات کے بعد عالمِ ارواح کو جانے کی بات کرتا ہے۔ ⚠️ یہ جواب خط کے سیاق سے ماخوذ ہے۔

۲(v)۔ مرزا ہرگوپال تفتہ نے غالب کو اصلاح کے لیے بھیجا:

صحیح جواب: (الف) قصیدے — خط میں غالب کہتے ہیں ”یہ نہ سمجھنا کہ صرف تمھارے ہی قصائد پڑے ہیں“، یعنی تفتہ کے قصائد اصلاح کے لیے آئے تھے۔ نوٹ: نواب صاحب کی غزلوں کی بھی اصلاح ہو رہی تھی، مگر سوال تفتہ کے بھیجے ہوئے کلام کے بارے میں ہے، اس لیے جواب قصیدے ہے۔

۳۔ درج ذیل الفاظ و تراکیب کے معانی لکھیں

۳۔ کوس

کوس: فاصلے کی پرانی پیمائش، تقریباً دو میل کے برابر فاصلہ۔

۳۔ وصال

وصال: ملاپ، ملنا، جدائی کے بعد محبوب یا دوست سے ملنا۔

۳۔ خیر و عافیت

خیر و عافیت: خیریت اور سلامتی، اچھی حالت میں ہونا۔

۳۔ مسموع

مسموع: سنا ہوا، جو سنائی دیا ہو۔ خط میں ”میرا اندر زباں مسموع نہ ہو“ یعنی میری اندر کی آواز سنائی نہ دے۔

۳۔ مسودہ

مسودہ: تحریر کا پہلا خاکہ، وہ لکھائی جو ابھی صاف اور حتمی نہ ہوئی ہو۔

۳۔ بلادِ شرق

بلادِ شرق: مشرق کے ملک اور علاقے۔ خط میں قیدی تین برس بلادِ شرق میں پھرتا رہا۔

۳۔ کشتیٔ نوح

کشتیٔ نوح: حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی؛ یہاں سیلاب اور اس سے نجات کی علامت کے طور پر استعمال ہوئی ہے — بارش اتنی تھی کہ گویا کشتیٔ نوح میں بھی مینہ بھر گیا، پھر نجات ہوئی۔

۴۔ متن کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں

۴(الف)۔ میرا ______ مسموع نہ ہو جب تک نہ سمجھو۔

میرا اندر زباں مسموع نہ ہو جب تک نہ سمجھو (کہ میں کون ہوں اور ماجرا کیا ہے)۔

۴(ب)۔ دلی شہر زندان مقرر کیا اور مجھے اس ______ میں ڈال دیا۔

دلی شہر زندان مقرر کیا اور مجھے اس زندان میں ڈال دیا۔

۴(ج)۔ میں آٹھویں رجب ۱۲۴۳ھ میں ______ کے واسطے یہاں بھیجا گیا۔

میں آٹھویں رجب ۱۲۴۳ھ میں نواب کاری کے واسطے یہاں بھیجا گیا۔ ⚠️ یہ لفظ اسکین میں جزوی طور پر واضح ہے؛ جواب خط کے الفاظ کے مطابق لکھا گیا ہے۔

۴(د)۔ میں بھی بعد نجات سیدھا عالم ______ کو چلا جاؤں گا۔

میں بھی بعد نجات سیدھا عالم ارواح کو چلا جاؤں گا۔

۴(ہ)۔ میں تاؤں بہت ہو گیا ہوں، گویا ______ ہوں۔

میں تاؤں بہت ہو گیا ہوں، گویا صاحبِ فرش ہوں۔

۵۔ کالم ”الف“ میں دیے گئے الفاظ کو کالم ”ب“ کے متعلقہ الفاظ سے ملائیں

۵۔ کالم ملائیں (۶ جوڑے)

ہجر — وصال (جدائی کا جوڑا ملاپ ہے)؛ زمزمہ — آواز (گنگنانا آواز ہی ہے)؛ خوش — پرداز (باقی بچا ہوا جوڑا)؛ نظم — نثر (دونوں ادبی اصناف ہیں)؛ ندی — نالے (دونوں پانی کے راستے ہیں)؛ قفس — زندان (پنجرہ اور قید خانہ ایک ہی مفہوم ہیں)۔ ⚠️ نوٹ: خوش–پرداز کا جوڑا بقیہ الفاظ سے (elimination سے) بنتا ہے، اور کالم الف کا چھٹا لفظ اسکین میں ”قفس“ پڑھا گیا ہے — خط میں بھی ”اسی قفس میں بٹھا دیا گیا“ آتا ہے۔

۶۔ طلبہ اپنی رائے سے درج ذیل بیانات میں سے صحیح اور غلط کی نشان دہی کریں

۶(الف)۔ غالب نے لکھا کہ میں تین برس بلادِ شرق میں پھر رہا تھا۔

صحیح — خط میں یہی لکھا ہے کہ جیل سے بھاگنے کے بعد تین برس بلادِ شرق میں پھرتا رہا۔

۶(ب)۔ ”جانِ غالب! تم تو مہرِ فروری ہو“ — غالب کے یہ الفاظ مرزا تفتہ کے لیے ہیں۔

غلط — یہ الفاظ علاؤالدین علائی کے نام خط کے آغاز میں ہیں، تفتہ کے نام خط ”بھائی!“ سے شروع ہوتا ہے۔

۶(ج)۔ نواب مصطفیٰ خاں، احسن اللہ خاں کے معاون تھے۔

غلط — دونوں خطوں میں نواب مصطفیٰ خاں کے معاون ہونے کا کوئی ذکر نہیں؛ خط میں صرف یہ ہے کہ وہ یہاں آئے ہوئے ہیں، ان سے ایک ملاقات ہوئی ہے، اور وہ بیمار ہیں۔ ⚠️ یہ فیصلہ خطوں میں اس بات کی عدم موجودگی سے ماخوذ ہے۔

۶(د)۔ ”خطوطِ غالب“ مولانا الطاف حسین حالی کی مرتب کردہ کتاب ہے۔

صحیح — کتاب کے اپنے حوالے (ماخذ) میں دوسرے خط کے نیچے ”خطوطِ غالب، مرتبہ مولانا الطاف حسین حالی“ درج ہے۔

۷۔ دی گئی عبارت کو پڑھیں اور پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیں

عبارت (خلاصہ): جدید سائنسی ایجادات نے مواصلات کے نظام میں انقلاب برپا کر دیا ہے — ریڈیو، ٹیلی ویژن، ٹیلی فون، موبائل فون، فیکس اور انٹرنیٹ اب عام ہو چکے ہیں۔ اب دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود شخص کو براہ راست دیکھا اور اس سے بات کی جا سکتی ہے، ہزاروں میل دور پیغامات بھیجے جا سکتے ہیں، اور چند سیکنڈ میں خطوط، مضامین، کہانیاں اور اشعار بھیجے جا سکتے ہیں۔ موبائل فون سے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا کام بھی لیا جا رہا ہے، طلبہ کمپیوٹر کے ذریعے کسی بھی تعلیمی ادارے اور کتاب کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ ان سہولیات نے درس و تدریس کے نظام کو بہت موثر، علاج معالجے کی سہولتوں کو آسان، اور معلومات عامہ تک رسائی کو ممکن بنا دیا ہے۔

۷۔ عبارت کے حوالے سے بتائیں کن سائنسی ایجادات کا تعلق مواصلات کے نظام سے ہے؟

ریڈیو، ٹیلی ویژن، ٹیلی فون، موبائل فون، فیکس، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر — یہ سب مواصلات (پیغام رسانی) کے نظام سے تعلق رکھتی ہیں۔

۷۔ انٹرنیٹ کے کیا فوائد ہیں؟

انٹرنیٹ سے دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود شخص کو براہ راست دیکھا اور اس سے بات کی جا سکتی ہے؛ ہزاروں میل دور پیغامات، خطوط، مضامین، کہانیاں اور اشعار چند سیکنڈ میں بھیجے جا سکتے ہیں؛ اور کسی بھی تعلیمی ادارے یا کتاب کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

۷۔ موجودہ دور میں موبائل فون سے کیا کیا کام لیا جا سکتا ہے؟

موبائل فون سے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا کام لیا جا سکتا ہے — یعنی پیغامات بھیجنا، معلومات حاصل کرنا، اور تعلیمی مواد تک رسائی حاصل کرنا۔

۷۔ عبارت میں جدید مواصلاتی سہولیات سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے کن دو اہم شعبوں کا ذکر کیا گیا ہے؟

دو اہم شعبے: (۱) درس و تدریس (تعلیم) اور (۲) علاج معالجہ (طب) — ان سہولیات نے تعلیمی نظام کو موثر اور علاج کی سہولتوں کو آسان بنا دیا ہے۔

۷۔ اس عبارت کا مناسب عنوان تجویز کریں۔

”جدید ذرائعِ مواصلات“ — یہ عنوان عبارت کے پورے مضمون (ریڈیو، ٹیلی ویژن، ٹیلی فون، موبائل فون، انٹرنیٹ اور ان کے فوائد) کو سمیٹ لیتا ہے۔

۸۔ گرامر: حروفِ ندا (!) اور حروفِ تحسین (!)

۸۔ ندائیہ اور تحسینیہ جملوں کی پہچان

ندائیہ (!): ”ندا“ کے معنی ہیں آواز دینا، پکارنا، مخاطب کرنا، بلانا۔ جب کسی کو پکارا جائے تو اس کے بعد (!) کی علامت آتی ہے۔ مثلاً: (الف) ارے لڑکے! میری بات سنو۔ (ب) سبزی والے! ذرا رکنا۔ (ج) حضرات! ایک ضروری اعلان سنیے۔ (د) عزیز طلبہ! آج ہم حکایاتِ سعدی کے متعلق گفتگو کریں گے۔ تحسینیہ (!): ”تحسین“ کے معنی ہیں اچھا لگنا، شاباش دینا۔ جب حیرت، تعجب، نفرت، خوف یا تحقیر جیسے کسی جذبے کا اظہار ہو تو اس کے بعد بھی (!) کی علامت استعمال ہوتی ہے۔ مثلاً: (الف) حروفِ تاسف: افسوس! اُس نے میری قدر نہ کی۔ (ب) حروفِ تعجب: سبحان اللہ! کتنا حسین موسم ہے۔ (ج) حروفِ نفرت: لاحول ولا قوۃ! میں نے آج کیسی صورت دیکھی۔ (د) حروفِ تمنا: کاش! تم نے محنت کی ہوتی۔ (ہ) حروفِ تحسین: واہ! کیا کارکردگی دکھائی آپ نے۔ فرق یاد رکھو: ندا میں کسی کو پکارا جاتا ہے، تحسین میں کسی جذبے کی داد دی جاتی ہے یا حیرت ظاہر کی جاتی ہے — علامت ایک ہی (!) ہے، مقصد الگ ہے۔

۹۔ خطوط پڑھنے کی سرگرمی

۹۔ طلبہ مکاتیبِ غالب کے زیرِ عنوان دونوں خطوط کو توجہ سے پڑھیں اور درج ذیل تلاش کر کے اپنی نوٹ بک میں درج کریں۔

یہ سرگرمی خود کرنی ہے — نوٹ بک میں یہ درج کرو: (۱) دونوں خطوں کے مخاطبوں کے نام (علائی اور تفتہ) اور خطاب (”جانِ غالب!“ اور ”بھائی!“)؛ (۲) دونوں خطوں کی تاریخیں (ذی الحجہ ۱۲۴۴ھ اور صبح جمعہ ۱۲ ربیع الاول ۱۲۸۳ھ)؛ (۳) پہلے خط سے دو عالموں کا فلسفہ اور قرآنی آیت کا ترجمہ؛ (۴) دوسرے خط سے برسات کی تین باتیں (سیکڑوں مکان گرے، دن رات میں دو چار بار بارش، ندی نالے بھر گئے) اور بالا خانے کے پانچ برتن (گگن، چھتنی، آگل دان، کڑاہی، کوٹھی)؛ (۵) ہر خط سے ایک ایک ایسا جملہ جو تمھیں سب سے زیادہ پسند آیا ہو، اور ایک سطر میں وجہ بھی لکھو۔

۱۰۔ سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباسات کی تشریح کریں اور حوالہ متن بھی درج کریں

۱۰۔ ”فکرِ نظم و نثر و خط تحریر آیا۔۔۔ سیدھا عالمِ ارواح کو چلا جاؤں گا“

حوالہ متن: پہلا خط — علاؤالدین علائی کے نام (ذی الحجہ ۱۲۴۴ھ)۔ تشریح: قید کی طویل سختی — تیرہ برس حوالات، بیڑی، ہتھکڑیاں، مشقت — کے بعد قیدی کے دل میں ایک ہی فکر آتی ہے: نظم لکھنا، نثر لکھنا اور خط لکھنا۔ یعنی جب جسم قید ہو جائے تو قلم آزاد رہتا ہے، اور لکھنا ہی سہارا بن جاتا ہے۔ اور آخری عزم یہ ہے کہ نجات کے بعد وہ سیدھا عالمِ ارواح کو چلا جائے گا — یعنی اس دنیا کی قید سے نکل کر روحوں کے عالم میں جا پہنچے گا، جہاں اصل جزا و سزا کا فیصلہ ہے۔ یہ اقتباس بتاتا ہے کہ غالب کے نزدیک لکھنا صرف فن نہیں، قید میں جینے کا طریقہ ہے۔

۱۰۔ ”تم سچ کہتے ہو کہ۔۔۔ اب نجات ہوئی ہے“

حوالہ متن: دوسرا خط — مرزا ہرگوپال تفتہ کے نام (صبح جمعہ ۱۲ ربیع الاول ۱۲۸۳ھ)۔ تشریح: غالب تفتہ کی بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بہت سے کلام اصلاح کے لیے آئے ہیں — مگر صرف تفتہ کے قصائد نہیں، نواب صاحب کی غزلیں بھی اسی طرح اصلاح کی محتاج ہوئی ہیں۔ پھر برسات کا حال آتا ہے: شہر میں سیکڑوں مکان گرے، دن رات میں دو چار بار بارش ہوئی، ندی نالے بھر گئے، اور بالا خانہ ٹپکنے لگا۔ بارش ایسی تھی کہ گویا کشتیٔ نوح میں بھی مینہ بھر گیا — یعنی سیلاب جیسی بارش — اور اب نجات ہوئی ہے، یعنی بارش تھم گئی اور خطرہ ٹل گیا۔ یہ اقتباس غالب کی دو خوبیوں کو ایک ساتھ دکھاتا ہے: دوست کی بات کی قدر، اور عام زندگی کی بات کو ادب بنا دینا۔

۱۱۔ سرگرمی برائے طلبہ و ہدایات برائے اساتذہ کرام

۱۱۔ سرگرمی برائے طلبہ + ہدایات برائے اساتذہ

سرگرمی برائے طلبہ: اس سبق کی روشنی میں خط کے اجزا کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ اپنے دوست کو ”خط کی جدید شکل ای میل ہے“ کے حوالے سے خط لکھیں — یعنی ای میل میں بھی مخاطب کا نام، پیار بھرا خطاب، اصل بات، اور آخر میں نام و تاریخ شامل کریں۔ ہدایات برائے اساتذہ کرام: (۱) طلبہ کو مکاتیبِ غالب (پہلا اور دوسرا خط) کی سیاق و سباق سے تشریح کر کے سمجھائیں۔ (۲) طلبہ کو خط تحریر کرنے کے آداب وغیرہ سے روشناس کرائیں۔ (۳) خطوط نویسی کے حوالے سے طلبہ کی مدد کے لیے قواعد و ضوابط کا خاکہ بنائیں۔

📌 باب کا خلاصہ اور رہنمائی — اس باب میں کیا ہے؟
ENGLISH

This lesson is two letters by Mirza Asadullah Khan Ghalib (1797–1869), the Agra-born poet who first called himself Asad and then Ghalib, and whose letters — Ood-e-Hindi and Urdu-e-Mualla — made letter-writing itself a literary art. The first letter, to Alauddin Alai (Zil-Hajj 1244 Hijri / June 1829), opens with "Jaan-e-Ghalib!" and a sapling simile, then sets out the philosophy of two worlds — the world of souls and the world of water and clay — with the Quranic question and answer about whose kingdom it is, and a long first-person prison story ending in poetry, prose and letter-writing as refuge. The second letter, to Mirza Hargopal Tafta (Friday morning, 12 Rabi-ul-Awwal 1283 Hijri), opens with "Bhai!", discusses correction of Tafta's qasidas and the Nawab Sahib's ghazals, paints the monsoon that felled hundreds of houses and flooded a leaking upper room with its scattered vessels, and ends with news of Mir Badshah and the ailing Nawab Mustafa Khan, while Ghalib himself lies bedridden. The theme to carry away is simple: a letter joins one human being to another — philosophy or rain, the point is reaching the friend.

Revision guidance: پہلے دونوں خطوط کی تاریخیں اور خطاب یاد کرو (”جانِ غالب!“ vs ”بھائی!“), پھر دو عالم کا فلسفہ اور قرآنی الفاظ, پھر برسات کی تین باتیں اور پانچ برتن, اور آخر میں MCQ (i)–(v) کو دوبارہ خود سے حل کرو — خاص کر (iii) پر ⚠️ نشان والی وضاحت کے ساتھ. جو چیز scan میں واضح نہیں تھی, use رٹنے کے بجائے استاد سے pooch لینا بہتر ہے.

اردو

اس سبق میں مرزا اسد اللہ خاں غالب (۱۷۹۷ء–۱۸۶۹ء) کے دو خط ہیں — آگرہ میں پیدا ہونے والے شاعر، جنہوں نے پہلے ”اسد“ پھر ”غالب“ تخلص رکھا، اور جن کے خطوں (”عودِ ہندی“ اور ”اردوئے معلیٰ“) نے خط نویسی کو ہی ادب بنا دیا۔ پہلا خط علاؤالدین علائی کے نام (ذی الحجہ ۱۲۴۴ھ / جون ۱۸۲۹ء) ”جانِ غالب!“ سے شروع ہوتا ہے، نہال کی تشبیہ دیتا ہے، پھر دو عالموں کا فلسفہ بیان کرتا ہے — عالمِ ارواح اور عالمِ آب و گل — قرآنی سوال و جواب کے ساتھ، اور قید کی طویل کہانی پر ختم ہوتا ہے جس میں نظم و نثر و خط تحریر ہی سہارا بنتے ہیں۔ دوسرا خط مرزا ہرگوپال تفتہ کے نام (صبح جمعہ ۱۲ ربیع الاول ۱۲۸۳ھ) ”بھائی!“ سے شروع ہوتا ہے، تفتہ کے قصائد اور نواب صاحب کی غزلوں کی اصلاح کی بات کرتا ہے، برسات کا منظر کھینچتا ہے جس میں سیکڑوں مکان گرے اور ٹپکتے بالا خانے میں برتن بکھر گئے، اور میر بادشاہ اور بیمار نواب مصطفیٰ خاں کی خبروں پر ختم ہوتا ہے، جبکہ غالب خود صاحبِ فرش ہیں۔ سبق کا پیغام ایک ہے: خط انسان کو انسان سے جوڑتا ہے — فلسفہ ہو یا برسات، اصل بات دوست تک پہنچنا ہے۔

نظر ثانی کی رہنمائی: پہلے دونوں خطوں کی تاریخیں اور خطاب یاد کرو (”جانِ غالب!“ بمقابلہ ”بھائی!“) ، پھر دو عالموں کا فلسفہ اور قرآنی الفاظ، پھر برسات کی تین باتیں اور پانچ برتن، اور آخر میں MCQ (i) تا (v) کو دوبارہ خود سے حل کرو — خاص کر (iii) پر ⚠️ نشان والی وضاحت کے ساتھ۔ جو چیز اسکین میں واضح نہیں تھی، اسے رٹنے کے بجائے استاد سے پوچھ لینا بہتر ہے۔

🎯 مزید MCQs اور Tests کے لیے

Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:

PunjabTest.com — Tests dekho →

PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 5 (New Book, Session 2026–27) • Urdu + English

← Chapter 4Chapter 6 →