FSc Part 1 Urdu Chapter 6 Complete Guide Book — ایک استاد عدالت کے Katehrey میں

FSc Part 1 Urdu Chapter 6 — ایک استاد عدالت کے Katehrey میں
Home > PunjabTest.com > FSc Part 1 > Urdu — all chapters > Chapter 6: ایک استاد عدالت کے Katehrey میں

اس chapter میں topics (Topics in this chapter)

  1. Musannif ka Taaruf — Ashfaq Ahmad (1925–2004)
  2. Sabaq ka Markazi Khayal aur Tadreesi Maqasid
  3. Rome ki Dopahar — Qailula, Dhuli Sarkein aur Traffic Police
  4. Challan, Barah Aane aur Money Order ki Khirki
  5. Dr Baldi ka Mashwara aur Palace of Justice
  6. عدالت میں Elan — Teacher ان تھے Court, کرسی لاؤ
  7. Double جرمانہ اور عزت کے ساتھ رخصتی
  8. Sabaq ka Paigham — Pakistan, Rome aur Socrates ki Misaal
  9. 📝 Official Exercise Questions — with Answers
  10. 📌 Chapter Summary & Guidance
The Author — Ashfaq Ahmad (1925–2004)مصنف کا تعارف — اشفاق احمد (۱۹۲۵ء–۲۰۰۴ء)
🏷 Tags: Ashfaq Ahmad, Khanpur, Hoshiarpur, Zavia, Sitara-e-Imtiaz
اردو

سبق شروع کرنے سے پہلے یہ جان لو کہ یہ سچا واقعہ کس نے لکھا ہے۔ مصنف کا نام اشفاق احمد خان ہے۔ وہ مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں خان پور میں ۱۹۲۵ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد خان تھا، جو محکمہ لائیو سٹاک میں ڈاکٹر تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آ گیا، اور اشفاق احمد نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کیا۔

اشفاق احمد نے بحیثیت پروفیسر دیال سنگھ کالج لاہور، روم یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی لاہور میں خدمات انجام دیں۔ وہ بیسویں صدی کے ان ادیبوں میں سے تھے جو افسانہ نگار بھی تھے، ڈراما نویس بھی، سفر نامہ نگار بھی، مترجم بھی، شاعر بھی اور فلسفیانہ انداز کے دانشور بھی — یعنی ایک ہی شخص میں کئی فن جمع تھے۔ ان کی قصہ گوئی اور جادو بیانی کا مظہر ان کا مقبول ٹیلی ویژن پروگرام ”زاویہ“ تھا، جس میں وہ بصیرت افروز گفتگو کرتے اور نوجوانوں کی فکری رہنمائی کا فریضہ نبھاتے تھے۔

انہوں نے قریب پچاس کتابیں تصنیف کیں، جن کا انداز سہل، رواں اور بے تکلف ہے۔ ان کی معروف تصانیف میں ”ایک محبت سو افسانے“، ”سفر مینا“، ”اجلے پھول“، ”من چلے کا سودا“، ”حیرت کدہ“، ”ننگے پاؤں“، ”تلقین شاہ“، ”اپنے برج لاہور دے“، ”تو تا کہانی“، ”زاویہ“، ”کھیا ونیا“ اور ”سفر در سفر“ شامل ہیں۔ انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ”تمغہ برائے حسنِ کارکردگی“، ”ستارہ امتیاز“ اور ”ہلال امتیاز“ کے قومی اعزازات سے نوازا گیا۔ یہ سبق ان کی تحریر سے لیا گیا ہے، اور سبق کے آخر میں ”(زاویہ)“ کا حوالہ درج ہے۔

ENGLISH

Meet the writer before the story begins. The author is Ashfaq Ahmad Khan (1925–2004), born in the small village of Khanpur in Hoshiarpur district, East Punjab. His father, Muhammad Khan, was a doctor in the livestock department. After Partition the family migrated to Pakistan, and Ashfaq Ahmad did his MA in Urdu from Government College, Lahore.

As a professor he served at Dayal Singh College Lahore, the University of Rome and Punjab University, Lahore. He was at once a short-story writer, dramatist, travel writer, translator, poet and a thinker with a philosophical bent — many arts in one person. His storytelling gift found its most famous expression in the television programme Zavia, where he talked with insight and guided young people in their thinking.

He wrote nearly fifty books in a simple, flowing, informal style, and received Pakistan's national honours: the Pride of Performance, Sitara-e-Imtiaz and Hilal-e-Imtiaz. This lesson is taken from his writing, and the note “(Zavia)” at its end gives its source.

Ashfaq Ahmad ki zindagi
Ashfaq Ahmad ki zindagi samjho: یہ timeline دیکھو: 1925 میں خان پور میں پیدائش, پھر Lahore, Rome اور Punjab University میں professor, زاویہ کی shoh رٹ اور قومی aizazat — مصنف کو جانے بغیر سبق آدھا رہتا ہے.
The Central Idea and the Teaching Aimsسبق کا مرکزی خیال اور تدریسی مقاصد
🏷 Tags: ustad ki izzat, qanoon, tadreesi maqasid, Zavia
اردو

یہ سبق ایک سوال کے گرد گھومتا ہے: استاد کی عزت اصل میں کیا ہوتی ہے؟ جواب کہانی کے ذریعے دیا گیا ہے، نصیحت کے ذریعے نہیں۔ روم میں ایک استاد کا ٹریفک چالان ہوتا ہے، وہ عدالت جاتا ہے، اور عدالت اسے کرسی پیش کرتی ہے — مگر قانون پھر بھی اپنا راستہ لیتا ہے۔ یعنی عزت کا مطلب یہ نہیں کہ استاد قانون سے اوپر ہو جائے؛ عزت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے علم اور اس کے مرتبے کو پہچانا جائے، اور اس کے ساتھ شریفانہ سلوک کیا جائے۔

کتاب میں اس سبق کے تدریسی مقاصد درج ہیں: طلبہ میں ادب کے مختلف اور منفرد اسالیبِ بیان سے محظوظ ہونے کی صلاحیت پیدا کرنا؛ تشابہ الفاظ کی شناخت کرنا اور ان سے جملے بنانا؛ طلبہ کو تحریر کے ذریعے ان کی اپنی تخلیقات پیش کرنے کی ترغیب دینا؛ اور اس سبق کے ذریعے استاد کے احترام کا احساس پیدا کرنا۔ یہ سب مقاصد اسی ایک کہانی میں پورے ہو جاتے ہیں، کیونکہ کہانی پڑھتے ہوئے طالب علم خود فیصلہ کرتا ہے کہ استاد کا احترام کیوں واجب ہے۔

ایک بات شروع ہی میں سمجھ لو: یہ سبق آپ بیتی ہے — مصنف خود اس کا راوی ہے، اور واقعہ روم میں اس کے ساتھ پیش آیا۔ اس لیے اس کی زبان میں انگریزی الفاظ (Youngest، Fate، Face، Palace of Justice، Teacher in the Court، Trial) بھی آتے ہیں، اور روم کی زندگی کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات بھی — دوپہر کا قیلولہ، دھلی ہوئی سڑکیں، ڈاک خانے کی منی آرڈر کھڑکی۔ یہی تفصیلات کہانی کو سچا اور یادگار بناتی ہیں۔

ENGLISH

This lesson turns on one question: what does respecting a teacher really mean? The answer comes through a story, not a sermon. In Rome a teacher gets a traffic challan, goes to court, and the court offers him a chair — yet the law still takes its course. Respect, then, does not mean placing the teacher above the law; it means recognising his learning and his rank, and treating him with dignity.

The book lists the lesson's teaching aims: to build the students' enjoyment of varied and distinctive literary styles; to recognise tashabuh (look-alike) words and make sentences with them; to encourage students to present their own creative writing; and to awaken a sense of respect for the teacher. All of these are served by this one story, because the student decides for himself, while reading, why a teacher deserves respect.

One thing to grasp at the start: this is an autobiographical account — the author himself is the narrator, and the incident happened to him in Rome. That is why English words appear in it (Youngest, Fate, Face, Palace of Justice, Teacher in the Court, Trial), along with small true details of life in Rome — the midday siesta, washed streets, the post office money-order window. Those details are what make the story feel real and memorable.

Sabaq ka markazi khayal
Sabaq ka markazi khayal samjho: یہ diagram یاد رکھو: استاد کی عزت, قانون کی برابری اور غربت کے باوجود بلند رتبہ — تینوں باتیں اسی ایک کہانی میں چھپی ہیں.
A Summer Noon in Rome — Siesta, Washed Streets and the Traffic Policeروم کی دوپہر — قیلولہ، دھلی سڑکیں اور ٹریفک پولیس
🏷 Tags: Rome, qailula, traffic police, Youngest professor
اردو

جس زمانے میں مصنف روم میں لیکچرر تھا، وہ روم یونیورسٹی میں سب سے Youngest پروفیسر تھا۔ گرمیوں کا زمانہ تھا، اور دوپہر کے وقت روم میں ایک عجیب سکون چھا جاتا تھا: سب لوگ قیلولہ کرتے تھے، چار بجے تک سوتے تھے، اور روم کی سڑکیں تقریباً خالی ہوتی تھیں۔ کارپوریشن نے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ وہ وہاں پر پانی کے حوض لگا کر سڑکیں دھوتے تھے — اسی لیے گرمی کی دوپہر میں بھی سڑکیں ٹھنڈی اور صاف نظر آتی تھیں۔ شام تک سڑکیں پھر سے آباد ہو جاتی تھیں: سڑکوں پر شور، خوش گوار ہواؤں کی آمد، اور لوگوں کی چہل پہل۔

ایک دن مصنف اپنی گاڑی چلاتا ہوا جا رہا تھا۔ ساتھ ایک دیسی مزاج کا انسان بھی تھا — کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کہیں بھی چلائے، اس کا اپنا مزاج ساتھ چلتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ گولی (ٹریفک پولیس کا اہلکار) کھڑا ہے، اور اس کے اوپر سے چکر کاٹ کر آگے نکل گیا۔ پھر اس نے اپنی گاڑی روکی اور سوچا کہ اب کیا ہو گا۔ اس لمحے کی بے فکری، اور پھر اچانک پکڑے جانے کا احساس، یہی وہ موڑ ہے جہاں سے کہانی کا مزہ شروع ہوتا ہے۔

یہ حصہ اس لیے اہم ہے کہ اس میں روم کی زندگی کا پورا ماحول ایک ہی جھلک میں آ جاتا ہے: سب سے کم عمر پروفیسر ہونے کا فخر، گرمی کی دوپہر کا سناٹا، دھلی ہوئی سڑکیں، اور پھر ٹریفک پولیس کا سامنا۔ طالب علم کو یہاں روم کا نقشہ ذہن میں بنا لینا چاہیے، کیونکہ آگے کا سارا واقعہ اسی ماحول میں پیش آئے گا۔

ENGLISH

When the author was a lecturer in Rome, he was the youngest professor at Rome University. It was summer, and midday in Rome brought a strange quiet: everyone took a siesta, sleeping until four o'clock, and the streets of Rome were almost empty. The corporation had arranged for the streets to be washed with water from tanks — which is why, even on a hot afternoon, the roads looked cool and clean. By evening the streets came alive again, with noise, pleasant breezes and people moving about.

One day the author was driving his car along. A man of a familiar, local temperament was with him — the point being that wherever a man drives, his own temperament drives with him. He saw the traffic policeman standing there, circled past him, and then stopped his car, wondering what would happen next. That carefree moment, followed by the sudden sense of being caught, is the turn where the story's enjoyment begins.

This part matters because it gives the whole atmosphere of Rome in a single glimpse: the pride of being the youngest professor, the silence of a hot afternoon, washed streets, and then the encounter with the traffic police. The student should picture Rome in his mind here, because the entire incident that follows takes place in this setting.

Rome ki dopahar ka manzar
Rome ki dopahar ka manzar samjho: Rome کی دوپہر سمجھو: قیلولہ, خالی دھلی سڑکیں, پھر traffic police کا سامنا — اسی ماحول میں چالان کا واقعہ پیش آتا ہے.
The Challan, Twelve Annas and the Money-Order Windowچالان، بارہ آنے اور منی آرڈر کی کھڑکی
🏷 Tags: challan, barah aane, money order, dak-khana
اردو

ٹریفک پولیس نے مصنف کو روکا۔ مصنف نے کہا، مجھ سے غلطی ہو گئی — اس نے اپنی غلطی مان لی، کوئی بہانہ نہیں بنایا۔ پولیس والے نے مسکراتے ہوئے کہا کہ غلطی ہو گئی تو چلتے جاتے، مگر اس نے بغیر پوچھے کاپی نکالی اور چالان کر دیا — اور چالان بھی بڑا سخت، بارہ آنے جرمانہ۔ مصنف نے پرچی لے لی اور پوچھا، میں اس کا کیا کروں؟ پولیس والے نے کہا، اپنے کسی قریبی ڈاک خانے میں منی آرڈر کی کھڑکی پر جمع کروا دیں۔ بس، کچہری نہیں جانا پڑتا، دھکے نہیں کھانے پڑتے — جرمانہ ہو گیا، ڈاک خانے میں دے دیں گے تو بس۔

مصنف نے خوشی منانے کے لیے ایک مسکراہٹ کا پھول اس کی طرف پھینکا — یعنی مسکرا کر بات ٹال دی — مگر جب پولیس والے نے یہ دیکھا کہ اس نے اس کی عزت کی ہے، تو اس نے سٹی بجا کر اسے روک لیا۔ یہ چھوٹا سا جملہ کہانی کا لطیفہ ہے: عزت دینے والا خود پکڑا جاتا ہے۔ پھر مصنف گھر آ گیا اور اپنی لیڈی (اہلیہ) سے کہا، میرا چالان ہو گیا ہے۔ وہ کہنے لگی، آپ کا؟ مصنف نے کہا، میں کیا کروں؟ اسے ایسے لگا کہ جیسے ان کے گھر میں ایک بڑا مجرم رہتا ہے۔ اس نے اپنی بیٹی کو بتایا کہ پروفیسر کا چالان ہو گیا ہے — بڑی مائی تھی ان کی — اور ساس کو بھی بتایا، سارے روتے ہوئے مصنف کے پاس آ گئے۔ مصنف بڑا ڈرا کہ یا اللہ! یہ کیا؟ کہنے لگے، تو شریف آدمی لگتا تھا، اچھے آدمی لگتے تھے۔

یہاں دو باتیں سمجھنے کی ہیں۔ پہلی: روم میں چھوٹے جرمانے کا طریقہ کتنا سادہ تھا — ڈاک خانے کی کھڑکی، نہ کچہری، نہ دھکے۔ دوسری: گھر والوں کا ردِ عمل بتاتا ہے کہ اس زمانے میں چالان ہونا کتنی بڑی بات سمجھی جاتی تھی — جیسے کوئی جرم ہو گیا ہو۔ مصنف نے اپنی فیٹ (Fate) پر، اور کچھ اپنی کامیابی پر مسکرا کر یہ سب برداشت کیا۔ نوٹ: سوال نمبر ۳(د) میں ”روپے“ لکھا ہے، مگر متن میں جرمانہ ”بارہ آنے“ بتایا گیا ہے — اسی لیے جواب میں متن کی اصل رقم دی گئی ہے، اور یہ فرق یہیں واضح کر دیا گیا ہے۔

ENGLISH

The traffic policeman stopped the author. The author said, I made a mistake — he owned his fault and made no excuse. Smiling, the policeman said that if a mistake had been made, one simply moved on — but without asking him anything he took out his book and issued the challan, a stiff one at that: a fine of twelve annas. The author took the slip and asked, what do I do with this? The policeman said, deposit it at the money-order window of your nearest post office. That was all — no going to court, no running around; the fine was imposed, and paying it at the post office would settle it.

To celebrate, as it were, the author tossed a flower of a smile in his direction — he smiled the matter away — but when the policeman saw that he had been shown respect, he blew his whistle and stopped him. That small sentence is the story's joke: the man who shows respect gets caught himself. Then the author went home and told his lady (his wife), I have been challaned. She said, you? He said, what can I do? She felt as if a great criminal lived in their house. She told her daughter that the professor had been challaned — she was an elderly lady — and told her mother-in-law too, and they all came to the author in tears. He was quite frightened — O God, what is this? They said, you seemed such a respectable man, such a good man.

Two things are worth grasping here. First, how simple the method of paying a small fine in Rome was — a post-office window, no court, no running around. Second, the family's reaction shows how serious being challaned was considered in those days — as if a crime had been committed. The author bore it all with a smile at his own Fate, and partly at his own success. Note: question 3(د) says “rupees”, but the text gives the fine as twelve annas — so the answer keeps the text's own figure, and this difference is flagged here openly.

Challan aur money order ka silsila
Challan aur money order ka silsila samjho: یہ سلسلۂ یاد رکھو: roka گیا, براہ آنے کا چالان کاتا, money-order کھڑکی پر ادائیگی کا راستہ بتایا گیا, اور گھر میں ہنگامہ mach گیا.
Dr Baldi's Advice and the Palace of Justiceڈاکٹر بالدی کا مشورہ اور پیلس آف جسٹس
🏷 Tags: Dr Baldi, wakeel, Palace of Justice, Rome court
اردو

مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ مصنف نے چالان کے پیسے وقت پر جمع نہیں کروائے تھے — یا جمع کروانے میں دیر ہو گئی تھی — اور اب معاملہ عدالت تک جا پہنچا۔ مصنف پریشان ہوا کہ اب کیا کرے؟ اس کا ڈاکٹر تھا، ڈاکٹر بالدی، نوجوان تھا۔ مصنف نے اس سے کہا، مجھے وکیل کر دو۔ اس نے کہا، میرا ایک دوست ہے، اس کے پاس چلے جائیں۔ پھر اس نے سمجھایا کہ اگر میں گیا تو معاملہ تھوڑا سا پیچیدہ ہو جائے گا؛ بہتر یہی ہے کہ پروفیسر صاحب خود عدالت جائیں، اور جا کر خود Face کریں — یعنی خود عدالت کا سامنا کریں۔ عدالت کی خدمت میں عرض کریں کہ میں بچوں کو اس قانون کو ٹھیک طرح سے نہیں جانتا تھا، میں یہاں ایک غیر ملکی ہوں، مجھے معافی دی جائے، میں آئندہ نہیں کروں گا۔ مصنف نے کہا، ٹھیک ہے۔

یہ مشورہ کہانی کا اخلاقی مرکز ہے: بہانہ نہیں، وکیل کے پیچھے چھپنا نہیں، بلکہ خود جا کر اپنی غلطی ماننا۔ پھر مصنف نے اپنے جج صاحب کو تلاش کرنا شروع کیا۔ روم میں ”پیلس آف جسٹس“ (Palace of Justice) ایک بہت بڑا اور شاندار محل تھا — عدالت کی عمارت ہی اتنی عظیم تھی کہ آدمی اس کے سامنے خود کو چھوٹا محسوس کرے۔ مصنف اپنے جج کی تلاش میں وہاں پہنچا، اور جج صاحب کے ساتھ ترتیب کے مطابق بلایا گیا۔ یہاں تک کہانی ایک عام چالان کی کہانی لگتی ہے — مگر عدالت کے اندر جو ہوا، وہ اس سبق کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیتا ہے۔

طالب علم یہاں یہ سوال اپنے آپ سے پوچھے: اگر میں مصنف کی جگہ ہوتا تو کیا کرتا — وکیل کرتا، یا خود جا کر معافی مانگتا؟ ڈاکٹر بالدی کا مشورہ اس لیے درست تھا کہ سچائی اور سادگی ہی سب سے مضبوط وکیل ہوتی ہے، اور یہی بات اگلے حصے میں عدالت کے رویے سے ثابت ہو جائے گی۔

ENGLISH

But the story did not end there. The author had not deposited the challan money in time — or there had been a delay in depositing it — and now the matter had reached the court. Worried about what to do, he turned to his doctor, Dr Baldi, a young man. He said to him, get me a lawyer. Dr Baldi said, I have a friend, go to him. Then he explained that if he (the lawyer) went, the matter would become a little complicated; it would be better for the professor himself to go to court and Face it himself — to face the court in person. He should submit to the court that he did not know this law properly, that he was a foreigner here, that he should be forgiven, and that he would not do it again. The author said, very well.

This advice is the moral centre of the story: no excuse, no hiding behind a lawyer, but going oneself and owning one's mistake. Then the author began searching for his judge. In Rome the Palace of Justice was a very grand and magnificent building — the court building itself was so great that a man felt small before it. The author reached there in search of his judge, and was called in his turn with the judge. Up to this point the story looks like an ordinary challan story — but what happened inside the court makes this lesson memorable for ever.

Here the student should ask himself: if I were in the author's place, what would I do — hire a lawyer, or go myself and ask forgiveness? Dr Baldi's advice was right because truth and simplicity are the strongest advocates of all, and the court's behaviour in the next part will prove exactly that.

Dr Baldi ka mashwara
Dr Baldi ka mashwara samjho: Dr Baldi کا مشورہ سمجھو: وکیل کے peechhe chhupna نہیں, خود جا کر Face کرنا اور اپنی غلطی مان کر معافی مانگنا — یہی سیدھا راستہ تھا.
The Announcement in Court — Teacher in the Court, Bring a Chairعدالت میں اعلان — ٹیچر ان دی کورٹ، کرسی لاؤ
🏷 Tags: Teacher in the Court, judge, kursi, izzat
اردو

عدالت میں جب مصنف کی باری آئی تو ایک اعلان ہوا جو اس سبق کا سب سے مشہور جملہ ہے: ”Teacher in the Court, Teacher in the Court“ — یعنی عدالت میں ایک استاد آیا ہے۔ پھر دوسرا اعلان ہوا: ”A teacher has come to the court, Chair should be brought for the teacher“ — استاد عدالت میں آیا ہے، استاد کے لیے کرسی لائی جائے۔ یہ محض رسمی جملے نہیں تھے؛ یہ اس معاشرے کی سوچ کا اعلان تھا جس میں استاد کو عام ملزم کی طرح کھڑا نہیں کیا جا سکتا تھا۔

پھر جج نے اپنی تقریر شروع کی۔ اس نے کہا: اے معزز استاد! اے دنیا کو علم عطا کرنے والے استاد! اے محترم ترین انسان! اے محترم انسانیت! آپ نے ہی ہم کو عدالت کا اور عدل کا حکم دیا ہے، اور آپ نے ہی ہم کو یہ علم پڑھایا ہے، اور آپ ہی کی بدولت ہم اس جگہ پر براجمان ہیں۔ اس لیے ہم آپ کے فرمان کے مطابق مجبور ہیں — عدالت نے جو ضابطہ قائم کیا ہے، اس کے تحت آپ کو چیک کریں، باوجود اس کے کہ ہمیں اس بات کی شرمندگی ہے، اور ہمیں یہ حد درجہ افسوس ہے کہ ہم ایک استاد کو جس سے محترم اور کوئی نہیں ہوتا، اپنی عدالت میں Trial کے لیے کھڑا کر رہے ہیں، اور یہ کسی بھی جج کے لیے انتہائی تکلیف دہ موقع ہے کہ وہ کمرے میں ایک استاد کو کھڑا کر کے اس سے Trial کیا جائے۔

مصنف اب شرمندہ اپنی جگہ پر تھا — یا اللہ! یہ کیا شروع ہو رہا ہے؟ اس نے کہا، حضور! جو بھی آپ کا قانون ہے، علم یہ ہے کہ آپ کا ضابطہ ہے، اس کے مطابق کریں، میں حاضر ہوں۔ یہ جملہ بہت اہم ہے: مصنف نے عزت کو قانون سے بچنے کا بہانہ نہیں بنایا، بلکہ کہا کہ قانون جو کہتا ہے، وہی کریں۔ استاد کی اصل عزت یہی ہے — کہ وہ قانون کے سامنے بھی سر جھکا کر کھڑا ہو، نہ کہ قانون سے بھاگے۔

ENGLISH

When the author's turn came in court, an announcement was made that is this lesson's most famous sentence: “Teacher in the Court, Teacher in the Court” — a teacher has come to the court. Then came a second announcement: “A teacher has come to the court, Chair should be brought for the teacher” — a chair must be brought for the teacher. These were not mere formal words; they were the announcement of a society's thinking, in which a teacher could not be made to stand like an ordinary accused person.

Then the judge began his speech. He said: O respected teacher! O teacher who bestows knowledge upon the world! O most respected human being! O respected humanity! It is you who gave us the command of the court and of justice, and it is you who taught us this knowledge, and it is by your blessing that we sit in this place. Therefore we are bound by your command — under the procedure the court has laid down, we must examine you, despite our embarrassment at this, and despite our extreme regret that we are making a teacher, than whom no one is more respected, stand in our court for Trial, and that for any judge this is an extremely painful occasion, to stand a teacher in the chamber and hold his Trial.

Now the author was embarrassed in his own place — O God, what is beginning here? He said, Sir, whatever your law is, the fact is that it is your procedure; act according to it, I am present. This sentence is very important: the author did not use respect as an excuse to escape the law; he said, do whatever the law says. That is a teacher's true honour — to stand before the law with bowed head, not to run away from it.

عدالت میں elan اور کرسی
عدالت میں elan اور کرسی سمجھو: عدالت کا elan سمجھو: 'Teacher ان تھے Court' کہہ کر کرسی mangwai gai, judge نے استاد کو علم دینے والا اور محترم-ترین انسان کہا — عزت کا یہ منظر یاد رکھو.
The Double Fine and a Farewell Full of Respectڈبل جرمانہ اور عزت کے ساتھ رخصتی
🏷 Tags: double jurmana, rukhsat, motor, amala
اردو

پھر جج نے نہایت شرمندگی کے ساتھ، اور نہایت دکھ کے ساتھ، اور گرم علم کے ساتھ (یعنی پورے ادب کے ساتھ) اپنا فیصلہ سنایا: آپ کو ڈبل جرمانہ کرتے ہیں — یعنی جرمانہ دوگنا کر دیا گیا۔ یہ سبق کا سب سے حیران کن موڑ ہے، اور اسی لیے مشق کے سوال نمبر ۳(ہ) میں یہی جملہ خالی جگہ کے طور پر دیا گیا ہے۔ بات سمجھنے کی یہ ہے: عزت ملی، کرسی ملی، تعریف ملی — مگر قانون نے اپنا کام پھر بھی کیا، اور استاد ہونے کی وجہ سے جرمانہ کم نہیں ہوا بلکہ دوگنا ہوا، کیونکہ استاد سے غلطی کی توقع کم ہوتی ہے۔ یہی اس سبق کا گہرا پیغام ہے: عزت، قانون سے چھوٹ نہیں دیتی۔

اب جب مصنف اٹھ کر اس کرسی میں سے نکل کر شرمندہ باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا، تو وہ جو جج، اس کا عملہ تھا، اس کے منشی تھے، وہ سارے مصنف کے پیچھے پیچھے ”(A teacher in the court)“ کہہ رہے تھے کہ ہم احتراماً آگے کے ساتھ آپ کو رخصت کرتے ہیں۔ مصنف کہنے لگا، میری جان چھوڑیں — یہ باہر نکل کر میرے ساتھ کیا کریں گے؟ مگر وہ آگے تک اس کی موٹر تک اسے چھوڑنے آئے۔ جب تک مصنف وہاں سے سٹارٹ نہیں ہو گیا، وہ عملہ وہاں پر ایسے ہی کھڑا تھا۔ یعنی سزا اپنی جگہ، اور احترام اپنی جگہ — دونوں ساتھ ساتھ چلے۔

نوٹ: اسکین میں جج کے آخری جملے کے بعد ایک لفظ دھندلا ہے، اس لیے اس صفحے میں فیصلے کا خلاصہ اگلے جملوں سے لیا گیا ہے — عملے کی رخصتی اور مشق کے سوال ۳(ہ) سے ”ڈبل“ ہونا یقینی ہے۔ کسی بھی صورت میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جرمانہ معاف ہو گیا تھا؛ متن اور مشق دونوں ”ڈبل جرمانہ“ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ENGLISH

Then the judge, with extreme embarrassment, and with extreme sorrow, and with full regard, announced his decision: we fine you double — the fine was doubled. This is the story's most surprising turn, and that is why exercise question 3(ہ) gives this very sentence as a fill-in-the-blank. The point to understand is this: honour was given, a chair was given, praise was given — but the law still did its work, and because he was a teacher the fine was not reduced but doubled, because less of a mistake is expected from a teacher. That is this lesson's deep message: respect does not grant exemption from the law.

Now, as the author rose from that chair and, embarrassed, tried to step outside, the judge's staff, his clerks, all followed behind him, saying “(A teacher in the court)”, that with respect they were seeing him off ahead. The author said, leave me alone — what will they do with me once outside? But they came right up to his motor to see him off. Until the author had started his vehicle from there, the staff stood there just like that. In other words, punishment in its place, and respect in its place — both went together.

Note: one word after the judge's final sentence is blurred in the scan, so this page takes the summary of the decision from the sentences that follow — the staff's farewell and exercise question 3(ہ) make “double” certain. In no case can it be said that the fine was waived; both the text and the exercise point to a “double fine”.

Double jurmana aur rukhsat
Double jurmana aur rukhsat samjho: فیصلے کا توازن سمجھو: عزت اپنی جگہ, قانون اپنا کام — double جرمانہ بھی ہوا اور رخصت بھی motor تک احترام سے ہوئی.
The Lesson's Message — Pakistan, Rome and the Example of Socratesسبق کا پیغام — پاکستان، روم اور سقراط کی مثال
🏷 Tags: Socrates, Pakistan, Rome, ustad ka rutba, mushkil alfaaz
اردو

اب مصنف لوٹ کے آیا تو سمجھا، یا اللہ! میں بڑا معزز آدمی ہوں، اور ملک والوں کو بھی آ کر بتایا کہ ایسے ہی گیا تھا، اور وہاں پر یہ ہوا۔ وہ بھی جناب، اور اس کی جو لیڈی تھی، وہ بھی بڑی خوشی کے ساتھ ملنے میں گھوم رہی تھی کہ دیکھو ہمارا یہ ٹیچر گیا، اور کورٹ نے اتنی عزت کی۔ اس عزت افزائی تو مصنف یہ نہیں سمجھا کہ اس کے ساتھ ساتھ اس کی تنخواہ میں بھی اضافہ ہو گا — یعنی عزت کا مطلب تنخواہ نہیں، مرتبہ ہے۔

پھر مصنف نے روم اور پاکستان کا موازنہ کیا: ویسی آدمی جو ہے نا، وہ جو ہے ٹیچر بھی ہے، وہ جو ہے… — یعنی استاد چاہے کہیں کا ہو، اس کا مرتبہ ایک سا ہے۔ اس نے کہا کہ پاکستان میں بھی استاد کی عزت اتنی ہی ہے جتنی روم میں ہے، مگر فرق یہ ہے کہ پاکستان میں استاد مالی طور پر اتنے بڑے نہیں ہیں، لیکن عزت کے اعتبار سے بہت بڑے ہیں۔ ان کا رتبہ بہت زیادہ ہے، اور کوئی شخص — یہاں کوئی بیوروکریٹ ہو، یہاں کوئی جج ہو، یہاں کا تاجر ہو، یہاں کا فیوڈل لارڈ ہو — وہ استاد کے رہتے ہوئے اس طرح چلتا ہے، جیسے روم میں دونوں میں غلام اپنے آقا کے پیچھے چلتے تھے۔ مالی طور پر وہ بھی بے چارے ہیں — یہی ان کا کمال ہے کہ مالی طور پر کم تر ہیں لیکن رتبے کے اعتبار سے بہت اونچے ہیں، جیسے سقراط جو تھا، وہ اپنے کندھوں میں، اور روم میں کھڑا ہو کے ننگے پاؤں بات کرتا تھا، لیکن اس کا احترام تھا۔

یہی اس سبق کا آخری پیغام ہے: استاد کی دولت اس کی تنخواہ نہیں، اس کا علم اور اس کا کردار ہے۔ مشکل الفاظ: قیلولہ (دوپہر کا آرام)، کارپوریشن (بلدیہ)، چالان (جرمانے کی پرچی)، منی آرڈر (ڈاک کے ذریعے رقم بھیجنا)، لیڈی (اہلیہ، بیوی)، فیٹ (قسمت، تقدیر)، Face کرنا (سامنا کرنا)، پیلس آف جسٹس (عدالتِ عظمیٰ کی عمارت)، Trial (مقدمے کی سماعت)، براجمان (بیٹھا ہوا، مسند نشین)، رخصت کرنا (وداع کرنا)۔ ان الفاظ کو یاد رکھو، کیونکہ مشق کے سوال نمبر ۴ میں انگریزی الفاظ کا مفہوم ہی پوچھا گیا ہے۔

ENGLISH

Now, when the author returned, he thought, O God, I am a greatly respected man, and he told the people of his country too that he had gone just like that, and this is what happened there. And his lady too went about with great joy meeting people, saying, look, our teacher went, and the court gave him such honour. From this encouragement the author did not understand that his salary would also increase along with it — that is, honour does not mean salary; it means rank.

Then the author compared Rome and Pakistan: such a man, you see, who is also a teacher… — a teacher, wherever he is from, holds the same rank. He said that in Pakistan too a teacher's respect is just as great as in Rome, but the difference is that in Pakistan a teacher is not so great financially, yet is very great in terms of respect. His rank is very high, and any person — whether a bureaucrat here, a judge here, a trader here, a feudal lord here — in the presence of a teacher walks the way slaves in Rome walked behind their masters. Financially they too are poor — this is their excellence, that they are lesser financially but very high in rank, like Socrates, who stood in Rome with his shoulders bare, speaking barefoot, yet he was respected.

That is this lesson's final message: a teacher's wealth is not his salary, but his knowledge and his character. Difficult words: qailula (midday rest), corporation (municipality), challan (fine slip), money order (sending money by post), lady (wife), Fate (destiny), to Face (to confront), Palace of Justice (the supreme court's building), Trial (hearing of a case), barajman (seated, enthroned), rukhsat (farewell). Remember these words, because exercise question 4 asks precisely for the meanings of the English words in the lesson.

Ustad ka rutba aur Socrates
Ustad ka rutba aur Socrates samjho: آخری پیغام سمجھو: Socrates کی طرح استاد کی دولت تنخواہ نہیں, علم اور کردار ہے — غربت رتبہ نہیں چھین سکتی.
📝 Official Exercise Questions — with Answers📝 کتابی مشق کے سوالات — جوابات کے ساتھ

کتاب کی مشق (مطبوعہ صفحات ۴۰ تا ۴۳) کے تمام حصے یہاں حل کیے گئے ہیں — ۳۷ بلاکس: ۱۔ مختصر جواب (۵)، ۲۔ درست جواب کی نشان دہی (۵)، ۳۔ خالی جگہ (۵)، ۴۔ انگریزی الفاظ (۱)، ۵۔ گفتگو (۱)، ۶۔ عبارت اور سوالات (۵)، ۷۔ جملوں کی درستی (۶)، ۸۔ محاورات (۵)، ۹۔ تشابہ الفاظ (۱)، ۱۰۔ اقتباس کی تشریح (۱)، سرگرمیاں (۱)، اضافی مطالعہ (۱)۔ ⚠️ جہاں جواب متن سے براہِ راست نہیں ملتا، وہاں صاف لکھ دیا گیا ہے کہ جواب اخذ شدہ ہے یا مشق کی رہنمائی ہے — کوئی جواب گھڑا نہیں گیا۔

۱۔ مختصر جواب دیجیے

۱(الف)۔ اشفاق احمد کی کتاب ”زاویہ“ کن موضوعات پر مشتمل ہے؟

”زاویہ“ اشفاق احمد کے ٹیلی ویژن پروگرام کی تحریری صورت ہے — اس میں زندگی، انسان، اخلاق، روحانیت اور روزمرہ کے مسائل پر بصیرت افروز گفتگو ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کی فکری رہنمائی کرنا ہے۔ ⚠️ نوٹ: تعارفی صفحے میں ”زاویہ“ کے موضوعات کی کوئی الگ فہرست نہیں چھپی؛ یہ جواب تعارف میں دی گئی وضاحت (بصیرت افروز گفتگو اور نوجوانوں کی فکری رہنمائی) سے اخذ کیا گیا ہے۔

۱(ب)۔ اشفاق احمد روم میں کون سے فرائض انجام دیتے تھے؟

روم میں اشفاق احمد روم یونیورسٹی میں لیکچرر (پروفیسر) تھے — بلکہ وہاں سب سے کم عمر (Youngest) پروفیسر تھے۔ یعنی ان کا فرض پڑھانا تھا، اور اسی حیثیت سے وہ روم میں مقیم تھے۔

۱(ج)۔ روم میں اکثر لوگ دوپہر کا وقت کیسے گزارتے ہیں؟

روم میں دوپہر کے وقت اکثر لوگ قیلولہ کرتے ہیں — چار بجے تک سوتے ہیں — اور اس دوران روم کی سڑکیں تقریباً خالی ہوتی ہیں۔ کارپوریشن اس وقت پانی کے حوض لگا کر سڑکیں دھوتا ہے، اور شام کو سڑکیں پھر آباد ہو جاتی ہیں۔

۱(د)۔ مصنف کا چالان کیوں ہوا؟

مصنف گاڑی چلاتا ہوا جا رہا تھا اور ٹریفک کے قانون کی خلاف ورزی کر بیٹھا، جس پر ٹریفک پولیس نے اسے روکا اور چالان کر دیا۔ مصنف نے خود اپنی غلطی تسلیم کی (”مجھ سے غلطی ہو گئی“)۔ ⚠️ نوٹ: متن میں غلطی کا اعتراف تو واضح ہے، مگر خلاف ورزی کی بالکل مخصوص صورت (مثلاً کون سا اشارہ یا کون سی حد) اسکین میں واضح طور پر نہیں پڑھی جا سکی، اس لیے یہاں صرف وہی لکھا گیا ہے جو متن میں یقینی ہے — کوئی مخصوص خلاف ورزی گھڑی نہیں گئی۔

۱(ہ)۔ جج نے مصنف کو بطور استاد کیسے مخاطب کیا؟

جج نے پہلے اعلان کروایا: ”Teacher in the Court, Teacher in the Court“ اور ”A teacher has come to the court, Chair should be brought for the teacher“ — استاد کے لیے کرسی لائی جائے۔ پھر جج نے خطاب میں کہا: ”اے معزز استاد! اے دنیا کو علم عطا کرنے والے استاد! اے محترم ترین انسان! اے محترم انسانیت!“ اور بتایا کہ عدالت اور عدل کا حکم بھی استاد ہی نے دیا ہے، اور اسی کی بدولت جج اس جگہ پر براجمان ہیں۔

۲۔ درست جواب کی نشان دہی کریں

۲(i)۔ سبق کے متن کے مطابق روم کی سڑکیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں:

Answer / جواب

جواب: (ب) دھونے سے۔ متن میں ہے کہ کارپوریشن پانی کے حوض لگا کر سڑکیں دھوتا تھا، اسی لیے دوپہر میں بھی سڑکیں ٹھنڈی نظر آتی تھیں۔

۲(ii)۔ ”میں فطرتاً مسکرایا، کچھ اپنی فیٹ (Fate) کے اوپر، کچھ اپنی کامیابی کے اوپر“ — جملے میں ”فیٹ“ سے مراد ہے:

Answer / جواب

جواب: (الف) قسمت۔ Fate کا مطلب قسمت یا تقدیر ہے — مصنف اپنی قسمت پر مسکرایا کہ چالان جیسی چھوٹی بات بھی اتنا بڑا قصہ بن گئی۔

۲(iii)۔ روم میں چالان کے جرمانے کی رقم جمع کرانے کا عام ذریعہ تھا:

Answer / جواب

جواب: (ب) منی آرڈر۔ پولیس والے نے کہا تھا کہ قریبی ڈاک خانے میں منی آرڈر کی کھڑکی پر جمع کروا دیں؛ کچہری جانے اور دھکے کھانے کی ضرورت نہیں تھی۔

۲(iv)۔ متن کے مطابق اس وقت مصنف کی عمر تھی:

Answer / جواب

جواب: (ج) چھبیس سال۔ ⚠️ نوٹ: متن میں عمر کا عدد براہِ راست نہیں لکھا؛ مصنف خود کو روم یونیورسٹی کا سب سے کم عمر پروفیسر بتاتا ہے، اور اس زمانے کے حساب سے مشق کا مطلوب جواب چھبیس سال ہے۔ یہ جواب اخذ شدہ ہے — اگر آپ کے استاد کوئی اور عدد بتائیں تو امتحان میں ان کی بات کو ترجیح دیں۔

۲(v)۔ جج کا ”Teacher in the Court“ کہہ کر کھڑے ہونے کا سبب تھا:

Answer / جواب

جواب: (الف) احترام۔ جج نے استاد کے علم اور مرتبے کے احترام میں کرسی منگوائی اور اسے دنیا کو علم عطا کرنے والا، محترم ترین انسان کہا — خوف، پریشانی یا غصے کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔

۳۔ متن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مناسب لفظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں

۳(الف)۔ فرض کریں کہ جس کے پاس اس کا ۔۔۔ نہ ہو تو پھر وہ کیا کرے؟

فرض کریں کہ جس کے پاس اس کا لائسنس نہ ہو تو پھر وہ کیا کرے؟ — مصنف نے پولیس والے سے یہی سوال کیا تھا، جس پر اس نے کہا، کوئی بات نہیں۔

۳(ب)۔ میں نے خوشی منانے کے لیے ایک ۔۔۔ کا پھول اس کی طرف پھینکا۔

میں نے خوشی منانے کے لیے ایک مسکراہٹ کا پھول اس کی طرف پھینکا۔ — یعنی مصنف نے مسکرا کر بات کو خوش گوار بنانے کی کوشش کی۔

۳(ج)۔ بس وہاں ۔۔۔ نہیں جانا پڑتا، دھکے نہیں کھانے پڑتے۔

بس وہاں کچہری نہیں جانا پڑتا، دھکے نہیں کھانے پڑتے۔ — منی آرڈر سے جرمانہ جمع کرانے کا یہی فائدہ تھا۔

۳(د)۔ تقریباً ۔۔۔ روپے کا تاوان تھا۔

متن میں جرمانہ بارہ آنے بتایا گیا ہے (”اور چالان بھی بڑا سخت، بارہ آنے جرمانہ“)۔ ⚠️ نوٹ: سوال میں ”روپے“ لکھا ہے، مگر متن میں رقم آنوں میں ہے، اس لیے یہاں متن کی اصل رقم دی گئی ہے؛ امتحان سے پہلے اپنے استاد سے اس فرق کی وضاحت ضرور لے لیں۔

۳(ہ)۔ ہم نہایت شرمندگی کے ساتھ، اور نہایت دکھ کے ساتھ آپ کو ۔۔۔ جرمانہ کرتے ہیں۔

ہم نہایت شرمندگی کے ساتھ، اور نہایت دکھ کے ساتھ آپ کو ڈبل جرمانہ کرتے ہیں۔ — یہی جج کا فیصلہ تھا: عزت کے ساتھ جرمانہ دوگنا۔

۴۔ اس سبق میں سے انگریزی کے الفاظ تلاش کر کے ان کا مفہوم بتائیں

۴۔ سبق میں آئے ہوئے انگریزی الفاظ اور ان کے معانی

Youngest — سب سے کم عمر؛ Fate — قسمت، تقدیر؛ Face (کرنا) — سامنا کرنا؛ Palace of Justice — عدالتِ عظمیٰ کی عمارت، روم کی بڑی عدالت؛ Teacher in the Court — عدالت میں استاد آیا ہے (اعلان)؛ Trial — مقدمے کی سماعت۔ ان کے علاوہ ”لیڈی“ (اہلیہ) اور ”منی آرڈر“ بھی سبق میں اسی طرح استعمال ہوئے ہیں۔

۵۔ استاد کے احترام کے متعلق ایک دوسرے سے گفتگو کریں اور بتائیں کہ مذہبی اور اخلاقی لحاظ سے استاد کا احترام کیسے کیا جاتا ہے؟

۵۔ گفتگو کے لیے نکات (ماڈل جواب)

مذہبی لحاظ سے استاد کا احترام اس لیے واجب ہے کہ علم خود ایک امانت ہے، اور استاد وہ شخص ہے جو یہ امانت اگلی نسل تک پہنچاتا ہے — اسی لیے ہمارے دین میں معلم کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے۔ اخلاقی لحاظ سے احترام کا مطلب ہے: استاد کے سامنے ادب سے بیٹھنا، اس کی بات غور سے سننا، اس سے بدتمیزی نہ کرنا، اس کی غلطی پر بھی نرم لہجے میں بات کرنا، اور اس کی خدمت و دعا کو اپنی کامیابی کا حصہ سمجھنا۔ سبق کی روشنی میں ایک اور نکتہ بھی شامل کریں: استاد کا احترام صرف زبانی تعریف نہیں — قانون اور اصول کے سامنے بھی استاد کا مرتبہ پہچاننا ہی اصل احترام ہے، جیسے روم کی عدالت نے کرسی پیش کر کے دکھایا۔ ⚠️ نوٹ: یہ گفتگو کا ماڈل جواب ہے، کتاب میں اس کی کوئی مقررہ کلید نہیں چھپی۔

۶۔ دی گئی عبارت کو پڑھیں اور پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیں

عبارت کا خلاصہ: پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور دیگر ذرائع سے آئے روز بچوں سے بدسلوکی، ان کے اغوا اور قتل کی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ اس کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں: بچوں کو ہوشیار کیا جائے کہ اجنبی کی دی ہوئی کوئی چیز نہ کھائیں، کسی کے لالچ، غلط حرکت، بہانے یا ساتھ لے جانے کی کوشش پر ہرگز اس کے ساتھ نہ جائیں بلکہ شور مچائیں اور ہر بات والدین کو بتائیں، اور والدین کو بتائے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں۔ والدین اور بڑے بہن بھائیوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے؛ بچوں کو سکول میں وقت سے پہلے نہ بھیجا جائے اور چھٹی کے بعد تنہا نہ چھوڑا جائے؛ آمد و رفت کا محفوظ انتظام کیا جائے؛ بچوں کے دوستوں پر نظر رکھی جائے؛ اور کسی پر اندھا اعتماد نہ کیا جائے — چاہے وہ دوست، رشتے دار یا استاد ہی کیوں نہ ہو، اگر کوئی ضرورت سے زیادہ رعایت یا بلا وجہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے تو اسے شک کی نظر سے دیکھا جائے۔ بچوں کو یہ اعتماد بھی دیا جائے کہ ان کی ہر بات غور سے سنی جائے گی اور اس کا یقین کیا جائے گا۔ اسکول انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے باقاعدہ اور منظم پروگرام ترتیب دے اور ہر صورت ان کی حفاظت یقینی بنائے۔

۶(i)۔ بچے خود اپنی حفاظت کیسے کریں؟

بچے اجنبی کی دی ہوئی کوئی چیز نہ کھائیں؛ اگر کوئی لالچ دے، غلط حرکت کرے، بہانے سے ورغلائے یا اپنے ساتھ لے جانا چاہے تو ہرگز اس کے ساتھ نہ جائیں، شور مچائیں اور اپنی ہر بات والدین کو بتائیں؛ اور والدین کو بتائے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں۔

۶(ii)۔ بچوں کی حفاظت کے سلسلے میں والدین کی کیا ذمہ داری ہے؟

والدین بچوں کو ہوشیار کریں، ان کی ہر بات غور سے سنیں اور اس کا یقین کریں، انہیں سکول میں وقت سے پہلے نہ بھیجیں اور چھٹی کے بعد تنہا نہ چھوڑیں، ان کی آمد و رفت کا محفوظ انتظام کریں، اور ان کے دوستوں پر نظر رکھیں۔

۶(iii)۔ آپ کسی بچے کے بڑے بہن بھائی ہیں تو اس کی حفاظت کیسے کریں گے؟

ماڈل جواب: میں چھوٹے بہن بھائی کو اکیلا باہر نہیں جانے دوں گا، اسے سمجھاؤں گا کہ اجنبی سے کوئی چیز نہ لے اور کسی کے ساتھ نہ جائے، اسکول آتے جاتے اس کا ساتھ دوں گا، اور اگر کوئی اسے ڈرائے یا لالچ دے تو فوراً والدین کو بتاؤں گا۔ ⚠️ نوٹ: یہ ذاتی نوعیت کا سوال ہے، اس کا جواب ہر طالب علم کا اپنا ہو سکتا ہے — یہاں ایک نمونہ دیا گیا ہے۔

۶(iv)۔ بچوں کی حفاظت کے لیے اسکول انتظامیہ کی کیا ذمہ داری ہے؟

اسکول انتظامیہ کی بھرپور ذمہ داری ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے باقاعدہ اور منظم پروگرام ترتیب دے، اور ہر صورت میں ان کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

۶(v)۔ اس اقتباس کا مناسب عنوان تجویز کریں۔

مناسب عنوان: ”بچوں کی حفاظت — ہم سب کی ذمہ داری“۔ (دیگر مناسب عنوان: ”بچوں کا تحفظ“ یا ”محفوظ بچپن“ بھی درست مانے جا سکتے ہیں — عنوان تجویز کرنا طالب علم کی اپنی صوابدید ہے۔)

۷۔ درج ذیل جملوں کی درستی کریں

۷(الف)۔ اس جملے کی درستی کرو۔

یہ جملہ پہلے سے درست ہے — اس میں کوئی صرفی یا نحوی غلطی نہیں ہے۔ ⚠️ نوٹ: کتاب میں یہ جملہ اسی صورت میں درج ہے؛ اسے مشق کی ہدایت کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے، اس لیے یہاں اسے درست قرار دیا گیا ہے۔

۷(ب)۔ عارف نے دو من گیہوں خریدی۔

درست جملہ: عارف نے دو من گیہوں خریدے۔ — ”گیہوں“ مذکر ہے، اس لیے فعل بھی مذکر (خریدے) آئے گا، نہ کہ مؤنث (خریدی)۔

۷(ج)۔ علی نے اخبار پڑھ لی ہے۔

درست جملہ: علی نے اخبار پڑھ لیا ہے۔ — ”اخبار“ مذکر ہے، اس لیے ”پڑھ لیا“ درست ہے۔

۷(د)۔ میں آپ کی خیریت نیک مطلوب چاہتا ہوں۔

درست جملہ: میں آپ کی خیریت چاہتا ہوں۔ — ”نیک مطلوب“ کا اضافہ بے معنی اور زائد ہے، اسے حذف کر دیا گیا ہے۔

۷(ہ)۔ یہ داستاں عام نہیں ہے۔

درست جملہ: یہ داستان عام نہیں ہے۔ — درست املا ”داستان“ ہے۔

۷(و)۔ دونوں بچوں کے قد میں اشارہ میں فرق ہے۔

درست جملہ: دونوں بچوں کے قد میں فرق ہے۔ — ”اشارہ میں“ کا ٹکڑا زائد اور بے محل ہے، اسے حذف کر دیا گیا ہے۔ ⚠️ نوٹ: ان جملوں کی درستی قواعد کی رو سے کی گئی ہے، کتاب میں ان کی کوئی مقررہ کلید نہیں چھپی۔

۸۔ درج ذیل محاورات کو اپنے جملوں میں اس طرح استعمال کریں کہ ان کا مفہوم واضح ہو جائے

محاورہ کیا ہے؟ محاورہ اہلِ زبان کی بول چال سے رواج پاتا ہے — محاورہ اپنے حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ محاورہ دو یا دو سے زیادہ الفاظ کا مرکب ہوتا ہے، مثلاً: نیند حرام ہونا، نو دو گیارہ ہونا، تارے گننا، غم کھانا، غصہ پینا وغیرہ۔

۸(۱)۔ اپنا سا منہ لے کر رہ جانا (شرمندہ ہو کر خاموش ہو جانا)

جب استاد نے اس کی غلطی سب کے سامنے بتا دی تو وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا اور کچھ نہ بول سکا۔

۸(۲)۔ آسمان سر پر اٹھانا (بہت شور مچانا، ہنگامہ کرنا)

چھوٹی سی بات پر اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور سارے محلے کو اکٹھا کر لیا۔

۸(۳)۔ ہوش کے ناخن لینا (عقل سے کام لینا، ہوشیار ہو جانا)

چالان ہونے کے بعد اس نے ہوش کے ناخن لیے اور آئندہ ٹریفک کے قانون کی پابندی کرنے لگا۔

۸(۴)۔ عقل پر پتھر پڑنا (عقل کام نہ کرنا، بے وقوفی کرنا)

اس کی عقل پر پتھر پڑ گئے تھے کہ اس نے اجنبی کی باتوں میں آ کر اپنا قیمتی سامان اسے دے دیا۔

۸(۵)۔ اوسان خطا ہونا (حواس باختہ ہو جانا، گھبرا جانا)

عدالت میں اپنا نام سنتے ہی اس کے اوسان خطا ہو گئے اور وہ کچھ دیر تک بول ہی نہ سکا۔

۹۔ سبق متن کو غور سے پڑھیں اور تشابہ الفاظ تلاش کر کے ان کی فہرست بنائیں

۹۔ تشابہ الفاظ — تعریف، اقسام اور سبق سے فہرست

تشابہ الفاظ وہ الفاظ ہیں جو اپنی صورت یا شکل کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بہت مشابہت رکھتے ہیں، لیکن اعراب، املا اور معنی کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی دو صورتیں ہیں: (الف) وہ الفاظ جن کا مادہ ایک جیسا ہو لیکن اعراب کی تبدیلی کی وجہ سے ان کے معانی میں فرق ہو، مثلاً: زَر، زِر، زُبر، منگ، مثل وغیرہ؛ (ب) وہ الفاظ جن کی آواز تو بظاہر ایک جیسی ہو لیکن ان کا املا اور معانی مختلف ہوں، مثلاً: راضی، رازی، سفر، صفر، تاب، تاب وغیرہ۔ ⚠️ نوٹ: سبق کے متن میں تشابہ الفاظ کی کوئی مقررہ فہرست کتاب نے نہیں دی — یہ تلاش کی مشق ہے۔ طالب علم متن پڑھ کر ہم آواز الفاظ چنے (مثلاً ”قانون“ اور ”قانونی“ جیسے ہم مادہ الفاظ میں فرق، یا ”کورٹ“ اور ”کچہری“ کے استعمال میں فرق) اور ان کی فہرست اپنے استاد کو دکھا کر تصدیق کرائے۔ اسکین میں (الف) کی مثالوں کا ایک لفظ دھندلا ہے، اس لیے وہ مثالیں کتاب کی عبارت کے مطابق درج کی گئی ہیں۔

۱۰۔ سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں اور حوالہ متن بھی درج کریں

۱۰۔ ”ویسی آدمی جو ہے نا، وہ جو ہے ٹیچر بھی ہو… لیکن اس کا احترام تھا“ — تشریح

حوالہ متن: یہ اقتباس اشفاق احمد کے سبق ”ایک استاد عدالت کے کٹہرے میں“ (کتاب: سرمایہ اردو 11، سبق کے آخری حصے) سے لیا گیا ہے، جہاں مصنف روم اور پاکستان کے استاد کا موازنہ کرتا ہے اور سقراط کی مثال دیتا ہے۔ تشریح: مصنف کہتا ہے کہ استاد چاہے روم کا ہو یا پاکستان کا، اس کی پہچان اس کی تنخواہ یا دولت سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے علم اور کردار سے ہوتی ہے۔ سقراط کے پاس دولت نہیں تھی، وہ ننگے پاؤں، کھلے کندھوں کے ساتھ کھڑا ہو کر بات کرتا تھا، مگر اس کا احترام سب کرتے تھے۔ اسی طرح پاکستان کا استاد مالی طور پر کمزور ہو سکتا ہے، مگر رتبے کے اعتبار سے وہ بیوروکریٹ، جج، تاجر اور فیوڈل لارڈ سے بھی اونچا ہے۔ ⚠️ نوٹ: کتاب میں اقتباس کے درمیان کچھ الفاظ نقطوں (۔۔۔) سے چھوڑے گئے ہیں؛ یہاں ان کی جگہ سبق کے آخری حصے کی عبارت سے مکمل مفہوم دیا گیا ہے۔

سرگرمیاں برائے طلبہ اور ہدایات برائے اساتذہ

سرگرمیاں — طلبہ کے لیے (رہنمائی)

• اشفاق احمد کی کتاب ”زاویہ“ پڑھ کر جو بات آپ کے ذہن میں آئی، اس کی روشنی میں ان کا خاکہ تحریر کریں — یعنی زاویہ کی کوئی ایک بات چنیں، اس سے اشفاق احمد کی شخصیت کیسی نظر آتی ہے، یہ لکھیں۔ • ”سقراط“ کا خاکہ لکھیں اور اس میں اشفاق احمد کے اسلوب اور طرزِ بیان پر تبصرہ کریں — یعنی سقراط کی سادگی اور استاد کی عزت کا موازنہ کریں، اور بتائیں کہ اشفاق احمد بات کو کہانی اور مکالمے سے کیسے دلچسپ بناتے ہیں۔ ہدایات برائے اساتذہ: طلبہ کو بتائیں کہ اردو اور دوسری زبانوں کے الفاظ کیسے ملتے ہیں، طلبہ کو اشفاق احمد کے اسلوب سے متعارف کرائیں، اور مشق کے سوالات و سرگرمیوں میں ان کی رہنمائی فرمائیں۔ ⚠️ نوٹ: یہ سرگرمیاں تحریری مشقیں ہیں، ان کی کوئی واحد درست کلید نہیں ہوتی — اوپر رہنمائی کے نکات دیے گئے ہیں۔

برائے اضافی مطالعہ — ”ماں خدا کی نعمت ہے“ (خلاصہ)

کتاب کے آخر میں اشفاق احمد کی ایک اضافی تحریر دی گئی ہے، جس کا موضوع ماں کی محبت ہے: ماں خدا کی نعمت ہے اور اس کے پیار کا انداز سب سے الگ ہوتا ہے۔ اس میں ایک بچے اور اس کی ماں کا مکالمہ ہے — بچہ پانی مانگتا ہے، ماں روشنی کر کے پانی پلاتی ہے، اور بچہ ماں کے سینے سے لگ کر سو جاتا ہے۔ اس تحریر کا پیغام یہ ہے کہ ماں کی محبت اور دعا ہی بچے کی اصل حفاظت ہے، اور اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ⚠️ نوٹ: یہ اضافی مطالعہ ہے، اس کا پورا متن یہاں نقل نہیں کیا گیا — اوپر صرف اس کا خلاصہ اور پیغام دیا گیا ہے، تاکہ طالب علم اصل کتاب سے اسے مکمل پڑھ سکے۔

📌 باب کا خلاصہ اور رہنمائی — اس باب میں کیا ہے؟
اردو

یہ سبق اشفاق احمد کی آپ بیتی ہے: روم کا سب سے کم عمر پروفیسر، گرمی کی دوپہر، دھلی ہوئی سڑکیں، ٹریفک پولیس کا چالان، بارہ آنے کا جرمانہ، ڈاک خانے کی منی آرڈر کھڑکی، گھر والوں کی پریشانی، ڈاکٹر بالدی کا مشورہ، پیلس آف جسٹس، عدالت میں ”Teacher in the Court“ کا اعلان، استاد کے لیے کرسی، جج کی تقریر، ڈبل جرمانہ، اور پھر عزت کے ساتھ موٹر تک رخصتی — اور آخر میں پاکستان اور روم کے استاد کا موازنہ اور سقراط کی مثال۔ ساتھ لے جانے والا پیغام یہ ہے کہ استاد کی عزت اس کی تنخواہ نہیں، اس کا علم اور کردار ہے، اور عزت قانون سے چھوٹ نہیں دیتی۔

امتحان کی تیاری کے لیے یہ یاد رکھو: مختصر جواب (زاویہ، روم میں فرائض، قیلولہ، چالان کی وجہ، جج کا خطاب)، درست جواب (دھونے سے، قسمت، منی آرڈر، چھبیس سال، احترام)، خالی جگہ (لائسنس، مسکراہٹ، کچہری، بارہ آنے، ڈبل)، انگریزی الفاظ کے معانی، بچوں کی حفاظت والی عبارت کے پانچ سوالات، جملوں کی درستی، پانچ محاورات، تشابہ الفاظ، اور سقراط والی اقتباس کی تشریح — یہی وہ حصے ہیں جو سب سے زیادہ پوچھے جاتے ہیں۔

ENGLISH

This lesson is Ashfaq Ahmad's own true story: Rome's youngest professor, a hot afternoon, washed streets, a traffic policeman's challan, a fine of twelve annas, the post-office money-order window, the family's alarm, Dr Baldi's advice, the Palace of Justice, the court's announcement “Teacher in the Court”, a chair for the teacher, the judge's speech, the double fine, and then a farewell full of respect right up to his motor — and finally a comparison of teachers in Pakistan and Rome, with the example of Socrates. The message to carry away is that a teacher's honour is not his salary but his knowledge and character, and respect does not exempt anyone from the law.

For exam preparation, remember these: the short answers (Zavia, duties in Rome, siesta, reason for the challan, the judge's address), the correct choices (washing, fate, money order, twenty-six years, respect), the fill-ins (licence, smile, court, twelve annas, double), the meanings of the English words, the five questions on the child-safety passage, sentence corrections, five idioms, look-alike words, and the explanation of the Socrates quotation — these are the parts most often asked.

🎯 مزید MCQs اور Tests کے لیے

Chapter-wise tests, fresh random papers اور instant score کے لیے PunjabTest.com کا میں test section دیکھو:

PunjabTest.com — Tests dekho →

PunjabTest.com — Complete Guide Book • FSc Part 1 Urdu, Chapter 6 (New Book, Session 2026–27) • Urdu + English

← Chapter 5Chapter 7 →